Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan NovelR50715 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 17,18
Rate this Novel
Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 01 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 02 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 03 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 04 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 05,06 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 07 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 08 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 09 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 10 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 11,12 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 13 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 14 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 15 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 16 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 17,18 (Watching)Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 19 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 20 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 21 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 22 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Last Episode
Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 17,18
وہ گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگاۓ کھڑا سگریٹ کے گہرے کش لے رہا تھا تھوڑی دیر پہلے اسے عدیل خانزادہ کی کال موصول ہوئی تھی جس کے بعد سے وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا اس کے ساتھ کھڑا تیمور اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر جھکا ہوا تھا “نمبر کہاں سے ملا تمہیں ؟؟”انوشے کا میسج آیا تھا “نمبر کو چھوڑو یہ بتاؤ ..جو گفٹ میں نے بھیجا تھا وہ مل گیا تمہیں ؟” اس کی انگلیاں تیزی سے کیپیڈ پر حرکت کر رہی تھی “ہاں مل گیا تھا ..اور ابھی وہ میرے گھر کے باہر ڈسٹ بن میں پڑا ہے …ہمت کیسے ہوئی تمہاری مجھے گفٹ بھیجنے کی ؟” اس کا غصے سے بھرا میسج آیا تھا “تمہیں قدر نہیں ہے میری اور میرے گفٹ کی ..خیر دیکھ لوں گا میں تمہیں ..” اس نے ساتھ میں آنکھوں میں دل والے اموجی بھی بھیجے تھے
ا”اب میسج نہیں کرنا ..”
“ہزار دفع کروں گا ..”
“میں بلوک کر دوں گی تمہیں ..”
“میں دوسرے نمبر سے کر لوں گا ..”
“میں اسے بھی بلوک کر دونگی ..”
“اپنی زندگی سے کیسے کرو گی ؟”
“اف ..بھاڑ میں جاؤ ..”
اس نے بہت سارے دانت پیسنے والے اور غصّے والے اموجی بھیجے تھے تیمور ہنس پڑا تھا وہ اتنی آسانی سے اس کا پیچھا چھوڑنے والا نہیں تھا اور اب تو نمبر بھی اس کے ہاتھ لگ چکا تھا ..انتظامیہ کے ورکرز حیدر کو بول بول کر تھک چکے تھے کے “دیکھو بھائی ..اب پٹاخے پھاڑنا بند کر دو ہمیں صفائی بھی کروانی ہے روڈ کی ریس بھی شروع کروانی ہے ..”لیکن حیدر کسی کی سن لے ..ہو ہی نہیں سکتا ان لوگوں کے خریدے گئے پٹاخے تو کب کے ختم ہو چکے تھے ..یہ والے تو حیدر نہ جانے کس کس سے چھین چھین کر لایا تھا ..مانگنے کی تو اس کی عادت تھی ہی نہیں اور جس نے دینے سے انکار کیا ..اس کے تو وہ دو چار لگا بھی آیا تھا اور ساتھ میں رعب بھی جھاڑ آیا تھا اور ابھی ابھی اس کا دل نہیں بھر رہا تھا انتظامیہ کی بس ہاتھ جوڑنے کی کسر رہ گئی تھی اس کے سامنے ..”یار تم لوگوں کو تو نۓ سال کی خوشی ہی نہیں ہوئی ہے ..بس چار پٹاخے پھاڑ کر کیسے سائیڈ میں جا کر بیٹھ گئے ہو ” حیدر نے شیشے کی خالی بوتل میں راکٹ لگاتے ہوئے ان کو کہا تھا جو ہاتھ باندھ کر اس کے ساتھ کھڑے تھے اور وہ اکیلا پٹاخے پھاڑے جا رہا تھا “تو یار تم کیا چاہ رہے ہو ؟ کیا کام دھندے چھوڑ کر بس خوشی ہی مناتے رہے ؟” “اور نہیں تو کیا ..پورے ایک سال بعد نیا سال لگتا ہے کم از کم پورا ایک گھنٹہ تو خوشی مناؤ ….خیر کر لو بھئی تم لوگ صفائی جا رہا ہوں میں ..” “ارے ارے ..بھائی تم تو ناراض ہی ہو گئے ..ہم تو ایسے ہی کہ رہے تھے تم پھاڑو پٹاخے ..جتنے دل کرے اتنے پھاڑو ..”وہ لوگ جلدی سے بولے تھے کے کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے ..کیوں کے وہاں کھڑے سب لوگ جانتے تھے کے وہ کس کا بیٹا ہے ؟ “بس اب میرا موڈ بدل گیا ..تم لوگ لے لو یہ پٹاخے “وہ بے نیازی سے کہنے کے بعد سائیڈ پر ہو گیا تھا ور وہ سب حیرت سے اس کو دیکھ رہے تھے کیوں کے اس نے شروع میں ہی کہ دیا تھا کے”جتنے بھی پٹاخے اس کے پاس ہیں وہ یہ سب پھاڑ کر ہی گھر جائے گا چاہے سے پوری رات کیوں نہ گزر جائے ..اور ابھی تو پورا آدھا شاپر بھرا ہوا تھا (چھینے گئے پٹاخوں کا ) حیدر وہاں سے اب میوزک ٹرک کے پاس آیا تھا “اوے ..ڈی جے بابو ..”حیدر نے چیخ کر اس کہا تھا لیکن ایک تو شور اتنا زیادہ تھا اور اوپر سے اس نے ہیڈز فون لگا رکھے تھے اور گانوں پر جھومتا ہوا وہ پورے ٹرک میں گھوم رہا تھا “اوے جنگلی ڈی جے …اوے بہرے …تجھے آواز آ رہی ہے میری ؟” حیدر حلق کے بل بول رہا تھا لیکن اتنے شور میں اس تک آواز پہنچنا نہ ممکن تھا اس نے نیچے پڑا ہوا ایک پتھر اٹھایا تھا اور کھنچ کر اس کے سر پر مارا تھا جو ٹھیک نشانے پر لگا تھا لیکن اس کے چڑیا کے گھونسلے جیسے بالوں سے بھرے سر پر پتھر ہلکا سا ٹچ ہو کر نیچے گر گیا تھا اس پر تو کچھ اثر ہی نہیں ہوا تھا وہ بدستور ناچ رہا تھا تب حیدر نے غصے سے تھوڑے بڑے سائز کے پانچ چھ پتھر تاک تاک کر اس کے مارے تھے تب اس بے چارے نے ہڑبڑا کر یہاں وہاں دیکھا تھا کے یہ کون اس پر پتھر برسا رہا ہے جب ہی اس کی نظر نیچے کھڑے حیدر پر پڑی تھی “وہاٹ ؟؟ ” اس نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا تھا حیدر نے بھی اشارے سے ہی اس کو اپنے پاس آنے کو کہا تھا وہ ہیڈز فون اتار کر اس کے پاس آیا تھا “اتنی دیر سے میں تجھے آوازیں دے رہا تھا سنائی نہیں دیتا تجھے ..بہرے ..چل ہاتھ دے اپنا .مجھے اوپر آنا ہے .”حیدر نے جھکے کھڑے ڈی جے کے منہ پر پہلے ایک زور دار گھونسا مارا اور پھر بولا ” مارنے کی کیا ضرورت تھی ؟ سیدھے بول نہیں سکتا تھا ؟” وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھے غصے سے بولا تھا “ابے او ..زیادہ غصّہ مت دکھا مجھے ..ایم این اے کا بیٹا ہوں میں ایم این اے کا ..تو جانتا نہیں ہے مجھے ..ابھی کے ابھی تجھے اور تیرے اس گھٹیا ٹرک کو اٹھا کر جیل میں پٹخ دوں گا ..” حیدر بھی غصّے سے بولا تھا “اچھا اچھا غصہ کیوں کر رہے ہو ؟ آجاؤ آجاؤ ..اوپر آجاؤ ..”اس نے جلدی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا جس کا سہارا لے کر وہ اوپر چڑھ گیا تھا “جیزی رؤف اور ارمان خانزادہ .سٹارٹنگ لائن کے پاس آجائیں “جبھی آناؤنسمنٹ ہوئی تھی “حارث اپنی جیکٹ دے مجھے ..” احمد نے اشعر سے بات کرتے حارث سے کہا تھا “یار یہ حیدر کہاں چلا گیا ؟ابھی تھوڑی دیر پہلے تو یہیں تھا ..” اس نے جیکٹ اتارتے ہوئے کہا تھا “وہ دیکھ ٹرک میں ..”ریاض نے ہنستے ہوئے کہا تھا ان سب نے ٹرک میں دیکھا تھا جہاں حیدر ہیڈز فون چڑھاۓ میوزک سسٹم کے پاس کھڑا نہ جانے کیا کیا سیٹنگ کر رہا تھا اور ڈی جے بیچارہ ایک کونے میں فارغ کھڑا اس کو شدید ناراضگی سے گھور رہا تھا جو اس کے پورے ٹرک پر قبضہ کئیے کھڑا تھا احمد نے سگریٹ منہ میں دبا کر جیکٹ پہنی تھی “یہ لے احمد ..” ریاض نے اس کی طرف بائیک کی چابی اچھالی تھی کیوں کے احمد اپنی سپورٹس کار لایا تھا اس لئے اب ریاض کی بائیک لے کر ریس کر رہا تھا “کب سے ریس کر رہا ہے یہ ؟” احمد نے سامنے دو چار لڑکوں کے جھرمٹ میں تن کر کھڑے جیز ی کو دیکھ کر ریاض سے پوچھا تھا “اتنا کوئی پکّا کھلاڑی نہیں ہے یہ ..مشکل سے ہی کوئی چھ سات ریس کی ہو گی اس نے اور اتفاق سے سب میں یہ جیت چکا ہے اس لئے اس کا دماغ آسمان پر چڑھ گیا ہے ..”ریاض نے منہ بنا کر کہا تھا “حد ہے یار …تو اس سے ڈر گیا ..” احمد نے ہنستے ہوئے کہا تھا اور ساتھ ہی بائیک کا لاک کھول کرا سیدھی کی تھی “یار وہ سات میں سے ایک بھی ریس نہیں ہآرا ..یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ..؟” ریاض نے حیرت سے بے تحاشا ہنستے ہوئے احمد کو دیکھا تھا “ہاں یہ میرے لئے واقعی میں تعجب کی بات نہیں ہے ..”اس نے سگریٹ کا گہرا کش لر نیچے پھینک کر اپنے بوٹ تلے مسلی تھی “یار احمد میں کہ رہا ہوں تجھے ..تو اس کو ہلکا مت لے ..” ریاض نے ایک دفع اور اسکو سمجھانا چاہا تھا ” “بے فکر ہو جا ریاض ..”احمد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور پھر بائیک پر بیٹھ کر ایک کک ماری تھی اور ایکسیلیٹر پر دباؤ ڈالتا وہ ایک جھٹکے سے وہاں سے گیا تھا “ٹینشن مت لے یار ..یہ کوئی چار سال سے ریس کر رہا ہے اور تجھے پتا ہے یہاں رات کے دو بجتے ہیں اور وہاں اٹلی کی سڑک پر لوگوں کا ایک ہجوم لگ جاتا ہے اور ہر طرف صرف ارمان کے نام کے نعرے لگ رہے ہوتے ہیں ..چار سال میں کتنے دن ہوتے ہیں …یہ تجھے اچھی طرح پتا ہوگا اور مجھے نہیں یاد کے یہ کسی دن ہارا ہو “حارث فخر سے بول رہا تھا اور وہ لوگ حیرت سے منہ کھولے اس کو سن رہے تھے
________________________
سڑک کے دونوں اطراف شائقین کا ایک ہجوم تھا اور بیچ میں صاف ستھری سڑک خالی پڑی تھی احمد بائیک پر بیٹھے دونوں پیر زمین پر رکھے ہاتھوں میں بینڈز چڑھا رہا تھا اس کا ہیلمٹ آگے رکھا تھاجیزی نے ترچھی نظروں سے اپنے ساتھ کھڑے اس بے فکرے شخص کو دیکھا تھا اسے آج اپنا جتنا مشکل لگ رہا تھا اشعر نے کولا کا ایک کین احمد کی طرف اچھالا تھا جو اس نے ہاتھ اونچا کر کے کینچ کر لیا تھا ریاض بھی مطمئن سا کھڑا تھا کے ..ہاں اب اسے جیکی کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا ..کیوں کے اس نے ریس کے لئے صیح بندے کو چنا تھا احمد کا فون وقفے وقفے سے بج رہا تھا “ادھر آ حارث ..” “ہاں بول کیا ہوا ؟” اس نے احمد کے پاس آ کر کہا تھا “ڈیڈ کا فون آ رہا ہے ..تو انھیں اپنے سیل سے کال کر کے پوچھ لے کوئی مسلئہ تو نہیں ہے ؟” “ٹھیک ہے پوچھ لیتا ہوں ..لیکن ایک بات بتا دوں میں تجھے ..تو فضول میں ان سے ناراض ہو رہا ہے ..اب یہ حقیقت کبھی نہ کبھی تو کھلنی تھی ہی نہ ؟” “لیکن یہ جو کچھ بھی ہوا ہے میں ایسا نہیں چاہ رہا تھا ..”اس نے کین سے گھونٹ بھرتے ہوئے کہا تھا “میں تو کہتا ہوں کے جو ہوا .اچھا ہی ہوا ..اگر تو خود اسے اپنے منہ سے حقیقت بتاتا نہ تو ..مجھے پکّا یقین ہے وہ تیرا سر پھاڑ چکی ہوتی اب تک اور ہم تیرے قل پڑھ کر بریانی بھی کھا چکے ہوتے ..” حارث نے ہنستے ہوئے کہا تھا “مجھے ایسا نہیں لگتا ..کیوں کے جو آپ سے نظریں ملا کر بات نہیں کر سکتا ..وہ پھر سر بھی نہیں پھاڑ سکتا ..” “ہاہا ..رہنے دے بیٹا ..پھاڑیں گی ..سب پھاڑیں گی .جس کے ساتھ بھی یہ سچویشن ہوتی نہ تو ..وہ تو بس تیرا سر ہی پھاڑتی لیکن یہ تیرا سر بھی پھاڑے گی گولی بھی مارے گی اور تیرا قتل کر کے تیری لاش کو پنکھےسے بھی لٹکاۓ گی ..اور رہی بات نظریں ملا کر بات کرنے کی تو ..تجھے کیا لگتا ہے کیا وہ ڈرتی ہے تجھ سے ؟؟ وہ تو بس تو دیکھتا ہی اس طرح سے ہے کے بچی کو گھبرانے پر مجبور کر دیتا ہے ..” وہ ہنستے ہوئے کہے جا رہا تھا احمد بھی ہنس پڑا تھا “ویسے میں کل ایمبولینس لے کر تیرے گھر کے باہر کھڑا رہوں گا ..کیوں کے وہ بچی …کل بھوکی شیرنی بنی ضرور تجھے توڑ پھوڑ ڈالے گی ..” “مجھے نہیں لگتا کے اس کی ضرورت پڑے گی ..کیوں کے میرا منانے کا الگ طریقہ ہے ..”اس نے اپنے گردن کے گرد لپٹے مفلر کو نکال کر کانوں کے گرد لپیٹا تھا اس کے بعد سر کو دائیں بائیں ہلا کر بال پیچھے کرتے ہوئے ہیلمٹ پہنا تھا “بیوقوف آدمی ..مناۓ گا تو تب نہ ..جب زندہ بچے گا ..”حارث ہنسے ہوئے کہ کر پیچھے ہو گیا تھا جہاں ریاض اور جیکی کی مکالمہ بازی جاری تھی “دیکھ لینا ریاض ..میرا بھائی اس فارنر کو بھی ہرا دیگا ..”جیکی فخر سے بولا تھا “اتنے بڑے بول نہیں بولنے چاہیے بیٹا ..ورنہ منہ کی کھانی پڑتی ہے ..اور یہ کوئی فارنر نہیں ہے پاکستانی ہے اب ..اور میرا دوست ہے .جو تیرے بھائی کو ابھی کے ابھی ہر ا کر دکھاۓ گا ..” ریاض بھی فخر سے بولا تھا “ہاں ہاں دیکھ لیں گے ..” اس نے ہاتھ جھلایا تھا “کیا دونوں تیار ہو ؟” اس دونوں سے پوچھا گیا “ہاں میں ریڈی ہوں ..”جیزی نے کہا تھا لیکن احمد نے کچھ نہیں کہا ..اس نے بس تھمد اپ کا اشارہ کیا تھا “تین ..دو …ایک …ٹھاہ “ایک پسٹل سے فائر داغ کر ریس شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا فائر ہوتے ہی پہلے سے سٹارٹ کی ہوئی بائیک کو جیزی نے آگے بڑھایا تھا ..لیکن احمد نے نہیں بڑھائی .دونوں ہاتھ ہینڈل پر رکھے ایک پیر زمین پر رکھے اور دوسرا فوٹ ریس پر جماۓ ..وہ وہیں کھڑا تھا ..سب تعجب سے اس کو دیکھ رہے تھے جو وہیں جما کھڑا تھا ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا تھا “ابے بھائی جاؤ نہ ..کیا ایسے کھڑے ریس ہی دیتے رہو گے ..؟” شائقین میں سے کوئی نہ کوئی جملے اچھال رہا تھا تھوڑی دور گئے جیزی نے بھی گردن موڑ کر وہیں جمے کھڑے احمد کو دیکھا تھا جو ابھی تک سٹارٹنگ لائن پے ہی تھا اس نے سے بریک لگاۓ تھے اور اچھنبے سے وہ اس کو دیکھ رہا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا ..احمد نے پھرتی سے اپنے ہیلمٹ کا شیشہ گرایا اور پہلے سے سٹارٹ کی ہوئی بائیک کو تھوڑی دور لے جاکر دوسو کی سپیڈ سے بائیک اڑاتا ہوا وہاں سے نکلا یہ سب اتنا اچانک ہوا کے سب سمجھ ہی نہ سکے تھے دب بخود کھڑے تھے “اوے پاگل تونے کیوں بریک لگاۓ ہیں ؟؟”جیکی غصے سے چیخ کر بولا تھا وہ تیر کی تیزی سے جیزی کے پاس سے نکلا تھا جب کے وہ ساکن کھڑا تھا اور پھر ہڑبڑا کر دوبارہ ہوش میں آ کر بائیک سٹارٹ کی اور آگے بڑھائی احمد نے بیچ راستے میں پہنچ کر بریک لگا دئے تھے اور دونو ہاتھ سینے پر باندھ لئے تھے تقریباً پندرہ منٹ بعد جیزی اس تک پہنچا تھا “بیٹا اتنا پاگل نہیں ہو میں ..جو دوبارہ سے وہی غلطی کروں گا ..”وہ اس کے پاس سے گزرتے زور سے بولتے ہوئے آگے نکلا تھا ..اور سب حق دق کھڑے حیرت سے احمد کو دیکھ رہے تھے “یہ کرنا کیا چاہ رہا ہے آخر ..”حارث نے نفی میں سرہلایا تھا “اس کی ڈرامے بازی نہیں ختم ہو گی ..” جب وہ تھوڑی آگے نکل گیا تو احمد نے پھر سے بائیک سٹارٹ کی تھی اور تھوڑی ہی دیر میں وہ پھر سے اس کے آگے تھا تقریباً تین چار بار احمد نے وہی حرکت کی تھی اپنی بائیک روک کر پہلے اس کو آگے جانے دیتا اور پھر خودفل سپیڈ سے بائیک اڑاتا آگے نکل جاتا جیزی بیچارے کا سر گھوم گیا تھا کے یہ ہو کیا رہا ہے اس کے ساتھ ؟ وہ اس کی سپیڈ تک پہنچنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا حیدر نے نہ جانے کیا سیٹنگ کی تھی جو بارہ سے صرف دو ایکو میں گانے بج رہے تھے اور باقی دس میں سے ایسا شور نکل رہا تھا جیسے ہزاروں لوگ مل کر صرف ارمان ارمان کے نعرے لگا رہے ہو ..اور یہ کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کے یہ آواز ان ایکو میں سے آ رہی ہے کیوں کے وہاں موجود لوگ بھی اب صرف ایک ہی نام کے نعرے لگا رہے تھے اور پھر صرف بیس منٹ میں ہی احمد نے فنش لائن کراس کر لی تھی اشعر .حارث .تیمور اور ریاض خوشی سے بھنگڑے ڈال رہے تھے
________________________
“احمد میرے بھائی ..کمال کر دیا تونے تو ..” ریاض نے خوشی سے اس کو گلے لگایا تھا “میں نے تو تجھے پہلے ہی کہا تھا کے ٹینشن مت لے ..”احمد نے مسکراتے ہوئے کہا ..”اب تو ہمیں “آواری” میں زبردست سا ڈنر چاہیے بھئی .” احمد کو جیتنے پر ساٹھ ہزار کی انعامی رقم ملی تھی جس پر حیدر نے کہا “ٹھیک ہے یار ..لیکن سچ بتاؤ تو ..مجھے بلکل بھی مزہ نہیں آیا ریس میں..کیوں کے اگر حریف آپ کی ٹکر کا نہ ہو تو جیتنے کا وو مزہ نہیں آتا پھر ..جو لڑ کر جیتنے میں آتا ہے ” “لیکن ہمیں تو بہت مزہ آیا کیوں کے جیزی اور اس کی پلٹن کی شکل دیکھنے والی تھی ” تیمور نے محفوظ ہوتے ہوئے کہا ” ہاں یہ تو ہے ..” احمد وہاں سے تھوڑی دور کھڑے حارث کے پاس آیا تھا جو فون پر بات کر رہا تھا لیکن پریشان نظر آ رہا تھا “چلیں ٹھیک ہے انکل ..میں بتا دوں گا اسے ..” حارث نے فون بند کر دیا تھا “کیا ہوا خیریت تو ہے نہ ؟” “نہیں یار وہ زرنور ..” “کیا ہوا ہے اسے ؟” احمد اس کی بات کاٹ کر جلدی سے بولا “یار طبیعت خراب ہو گئی ہے اس کی ہاسپٹل لے کر گئے ہیں اسے ..دیکھ احمد میری بات سن ..”حارث نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا لیکن اس نے ہٹا دیا تھا دل ایک دم ہی مٹھی میں آ گیا تھا وہ جلدی سے گاڑی کے پاس آیا تھا اپنی اس کا زہن ماؤف ہو رہا تھا “تو ساتھ بیٹھ میں کرو لوں گا ڈرائیو ..”حارث نے اس کی حالت کے پیش نظر کہا تھا احمد نے آثبات میں سر ہلایا اور گھوم کر دوسری سیٹ پر بیٹھ گیا
________________________
“ابے حیدر اتنی دیر سے تو اپنی عجیب عجیب سی تصویریں لئے جا رہا ہے ہماری بھی لے لے یار ..”اشعر نے حیدر کو کہا تھا جو پسٹل ہاتھ میں لئے خود کی سیلفی لے رہا تھا “اچھا چلو .سامنے آجاؤ میں تم لوگوں کی بھی لے لیتا ہوں ..” حیدر نے ان سب سے کہا تھا اور خود تھوڑی دور جا کر کھڑا ہو گیا وہ سب بھی اپنے حلیے ٹھیک کرنے لگے .. “یار ..کیا زبردست گاڑی ہے ..چل آجا اسی کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں .”ریاض نے سامنے کھڑی کار کو دیکھ کر کہا تھا جو کالے رنگ کی بڑی سی نیو ماڈل زیرو میٹر گاڑی تھی ریاض کا تو دل ہی آ گیا تھا اس گاڑی پر وہ بھاگ کر اس کے بونٹ پر چڑھ کر بیٹھ گیا “چل حیدر ..کھینچ میری فوٹو ..” “اوے میری بھی ..” اشعر بھی جا کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا ..”اوے میرے لئے رک ..” تیمور اپنے بال ٹھیک کرتا ان کے ساتھ جا کر کھڑا ہو گیا تھا “ہاں تو بھئی ..سب ریڈی ؟” حیدر نے ان سے پوچھا تھا “ہاں ہاں ریڈی ..” “اوکے ..” حیدر نے مسکراہٹ دبائی تھی “ٹھیک ہے اب دوسرا پوز دو ..” وہ سب جگہ بدل بدل کر تصویریں بنوا رہے تھے کبھی تینوں ساتھ کھڑے ہو جاتے اور کبھی ایک کو پیچھے کر کے دونوں آگے بیٹھ جاتے اور کبھی دور آسمان میں دیکھتے کے جیسے کچھ ڈھونڈ رہے ہو اور کبھی ایک انگلی ماتھے پر رکھتے جیسے کچھ سوچ رہے ہوں ..”اب صرف میری ..” ریاض دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا ان لوگوں کی بہت سی تصویریں لینے کے بعد حیدر نے اپنا فون ان کو دے دیا تھا کے “دیکھ لو کیسی آئی ہیں تصویریں ؟” وہ سب موبائل پر جھکے کھڑے ایک کے بعد ایک تصویر دیکھ رہے تھے “ابے حیدر …ہم کہاں ہیں اس میں ؟ ساری تیری ہی تصویریں ہیں ..” ریاض نے اچھنبے سے کہا تھا ” ٹھیک سے دیکھو بھائی لوگ ” “ابے نہیں ہے یار ..ساری تیری ہی سیلفیز ہیں .” اشعر نے اس کو کہا تھا جو سختی سے دانت پر دانت جما کر قہقہ روکنے کی کوشش کر رہا تھا “ابے ڈھکن ..ہماری تصویریں لینے کا کہ کر تونے خود کی سیلفیز لے لی ؟؟” تیمور غصّے سے بولا “رک بیٹا تجھے تو میں بتاتا ہوں ..” سب سے زیادہ غصہ تو ریاض کو تھا آخر کو سب سے زیادہ اسٹائل بھی تو اس نے ہی مارے تھے
________________________
وہ دونوں کوریڈور میں آۓ تھے جہاں پہلے سے عدیل خانزادہ عباد اور زارا بخاری پریشان سے بیٹھے تھے “السلام و علیکم… آ نٹی اب کیسی طبیعت ہے زرنور کی ؟” حارث نے ہی زارا بخاری سے پوچھا تھا احمد بلکل چپ تھا “اب بہتر ہے ..ڈاکٹر نے کہا ہے کے کسی گہرے صدمے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی تھی ..سب میری ہی غلطی ہے ..سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی میں نے اپنی بچی کو سٹریس میں رکھا ..” وہ پھر سے رونے لگی تھی “پریشان نہ ہو زارا ..ہماری بیٹی اب ٹھیک ہے ..” عباد بخاری نے ان کو دلاسا دیا تھا عدیل خانزادہ نے ملامتی نظروں سے احمد کو دیکھا تھا جسے گہری چپ لگی ہوئی تھی “عباد تم زارا کو لے کر گھر چلے جاؤ ..رات بہت ہو گئی ہے ڈاکٹر نے پوری رات زرنور کو انڈر آبزرویشن رکھنے کے لئے کہا ہے اور پھر بازل بھی اکیلا ہے “عدیل خانزادہ نے ان سے کہا “نہیں بھائی صاحب ..مجھے گھر نہیں جانا میں یہیں رہوں گی “وہ بھیگی آواز میں بولی تھی “ضد نہیں کرو زارا ..ایسے کرو گی تو پھر تمہاری خود کی طبیعت خراب ہو جائے گی ..” “عدیل انکل آپ بھی عباد انکل اور آنٹی کے ساتھ گھر چلیں جائے ..کب سے ہیں آپ لوگ یہاں پر .گھر جا کر آرام کر لیں میں اور احمد رک جاتے ہیں ..”حارث نے ان سے کہا تھا “چلو زارا ..” “ایک منٹ عباد میں زری سے مل لوں ..”وہ کہ کر روم میں چلی گئی تھیں .”احمد ..پریشان نہ ہو بیٹا ..سب ٹھیک ہو جائے گا ..” عباد بخاری نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا جس سے شرمندگی کی وجہ سے سر ہی نہیں اٹھایا جا رہا تھا آخر کو اسی کی وجہ سے ان کی بیٹی اس حال میں پہنچی تھی
________________________
رات کافی زیادہ ہو چکی تھی لیکن وہ لوگ اور ان کے جیسے بہت سے مستانے وہیں پر تھے گانے بھی زور و شور سے بج رہے تھے حیدر گاڑی سے ٹیک لگاۓ پیر لمبے کیے کھڑا تھا اور موبائل پر فیس بک کھولے وہ کومنٹس پڑھ رہا تھا جو اس کی تھوڑی دیر پہلے پوسٹ کی گئی تصویروں پر آۓ تھے اور وہ اتنا مگن تھا کے اسے یہ بھی آواز نہ سنائی دی کے کوئی اسے پیچھے ہونے کے لئے کہ رہا ہے نتیجآ اس کی چیخ بلند ہوئی تھی موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا ایک ہیلمٹ پہنے بائیک سوار اس کے پیر پر بائیک چڑھاتا آگے نکل گیا تھا “ابے اندھے ..آنکھیں نہیں ہے تیرے پاس ؟ دیکھ کر نہیں چلا سکتا ؟ پیر کچل دیا میرا ..” وہ غصّے سے چیخ کر بولا تھا اس بائیک سوار نے گردن موڑ کر اس کو دیکھا تھا اور ریورس کر کے اس کے پاس بائیک لا کر روک کر نیچے اترا تھا ایک تو حیدر اتنی زور سے چیخا تھا وہاں موجود سب اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے ہیلمٹ اتارنے کے بعد اس شخص کو دیکھ کر سب کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے تھے آنکھیں گویا باہر نکل آئی تھی کیوں کے اب وہ بائیک سوار ہیلمٹ اتار نے کے بعد اپنے سر کو دائیں بائیں ہلا رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی گہری براؤن کرلی زلفیں بکھر گئی تھی ٹائٹ بلو جینز پر بلیک ٹی شرٹ اور اس کے اوپر جینز کے کپڑے کی ہی چھوٹی جیکٹ اور سپورٹس شوز پہنے ناک میں ڈائمنڈ کی نوز پن ہاتھوں میں بہت سارے بینڈز اور انگوٹھیاں لائنر اور مسکارے سے سجی آنکھیں اور ہونٹوں پر لائٹ پنک لپ اسٹک لگاۓ یہ بائیک سوار وہاں کھڑے سب لوگوں کو شاک میں مبتلا کر گیا تھا “ابے او ..یہ اندھا کس کو بول ڑہا ہے ہاں ؟ کتنی آوازیں دی تھی میں نے تجھے کے ہٹ جا ..پیچھے ہو جا ..وڑنہ ماڑا جائے گا ..کچلا جاۓ گا لیکن تونے ..میری ایک نہیں سنی ..بہڑہ تو ‘ تو خود ہے .مجھ پر کیوں چیخ ڑہا ہے اب ؟” وہ بھی غصّے سے بولی تھی “اب ایسے گھوڑ کر کیا دیکھ رہا ہے ؟ کھاۓ گا کیا مجھے ؟” یشفہ چلو یہاں سے .” جبھی راحم اس کے پاس آ کر بولا تھا “اس نے مجھے اندھا بولا حائم ..” یشفہ زور دے کر بولی تھی ” میں کیا کہ رہا ہوں تم سے یشفہ ؟ “راحم بھی اسی کے انداز میں بولا تھا “ابے یہ تو وہی چاچی ہے ” ریاض حیرت سے بولا تھا “اچھا ہوا کے تم خود ہی یہاں آ گئی .. اے لڑکی نوے لاکھ نکالو میرے ..” حیدر سرد لہجے میں بولا تھا “کون سے نوے لاکھ ؟” وہ حیرت سے بولی تھی “تم نے اس دن میری گاڑی خراب کی تھی ..اس کے پیسے نکالو ..” وہ چبا کر بولا تھا ” اوہ واؤ ..تمہیں نوے لاکھ چاہیے ؟ ہمم .” وہ طنزیہ ہنسی ہنس دی تھی “میں کیا تجھے وڑلڈ بینک نظر آ ڑہی ہوں ..کے جیتنے پیسے تو بولے گا میں نکال کڑ تیڑے ہاتھ پر ڑکھ دوں گی ؟” وہ گھور کر بولی تھی “اگر تونے میرے پیسے نہیں دئے نہ تو …جیل کے اندر کروا دوں گا میں تجھے ..جانتی نہیں ہے تو مجھے ایم ….!!” “ابے او چپ کر ..پتا ہےمجھے .کے ایم این اے کا بیٹا ہے تو اوڑ حمزہ حیدڑ علی نام ہے تیڑ ا ..اگڑ ہے تو کیا ..؟؟ سر پر بٹھا لوں میں تجھے ؟ہاں ” ” دیکھ میں کہ رہا ہوں کے شرافت سے میرے پیسے نکال دے ورنہ …!!” ” کیاوڑنہ ؟ ہاں کیا وڑنہ دھمکی دے رہا ہے مجھے ؟ اوڑ یہ پسٹل دکھا کر کس کو ڈڑا رہا ہے ..؟ اندر رکھ اس کو ..وڑنہ اسی کی ساری گولیاں تیڑے سڑ میں اتاڑ دوں گی ..” اس کا اشارہ حیدر کے ہاتھ میں پکڑی پسٹل کی طرف تھا جس سے وہ ہوائی فائرنگ کر رہا تھا “توبہ توبہ کتنی لمبی زبان ہے ” ریاض نے کہتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگاۓ تھے اور اس سے پہلے کے وہ ریاض کو کچھ کہتی راحم نے اس کا بازو پکڑ لیا تھا “انف یشفہ بہت ڈرامے کر لئے تم نے اب ..چلو یہاں سے ..” “لیکن حائم ..!!” وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی لیکن راحم اس کی سن ہی نہیں رہا تھا جبھی حیدر پیچھے سے بولا تھا
“ہاں ..ہاں لے جاؤ اس پاگل کو ..اور لے جا کر کسی پاگل خانے میں پھینک آؤ ..” یشفہ کی آنکھیں ایک دم ہی لال ہوئی تھی اس نے ایک جھٹکے سے راحم کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑوایا تھا اور مڑ کر آستینیں چڑھاتی وہ پھر سے حیدر کے سامنے آئی تھی .”اوے ..یہ پاگل کس کو بول ڑہا ہے تو ؟ ہاں ..ہمت کیسے ہوئی تیڑی مجھے پاگل بولنے کی ؟ “وہ غصے سے بولی تھی “ابے چل ..پہلے “ر “کو ” ر” بولنا سیکھ کر آ .پھر مجھ سے بات کرنا ..” حیدر نے کہتے ہوئے ہاتھ جھلایاوہاں موجود سب لوگوں کے چہروں پر دبی دبی سے مسکراہٹ تھی یشفہ کی غصّے سے مٹھیاں بھینچ گئی دو قدم چل کر وہ ٹھیک اس کے سامنے آئی وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا تھا اور ایک جھٹکے سے یشفہ نے اس کی شرٹ کا کالر پکڑ کر کھنچا اور بغیر اس کو سمبھلنے کا موقع دئے ایک زور دار مکا اس کی ناک پر مارا تھا وہاں کھڑے سب لوگوں کو گویا سانپ سونگھ گیا تھا “مل گئے تجھے نوے لاکھ ؟” وہ آگ برساتی نظرو سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی اور جھٹکے سے ہی اس کا کالر چھوڑ کر پیچھے ہوئی تھی کچھ لوگ تو آنکھیں مسل مسل کر یہ یقین کرنے کی کوشش کر رہے تھے کے جو انہوں نے دیکھا ہے وہ سچ ہے واقعی یشفہ نے حیدر کے منہ پر مکّا مارا ہے حیدر کی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا اس نے شدید غصے میں اپنے ہاتھ میں پکڑی پسٹل لوڈ کی تھی …اور اس سے پہلے کے وہ فائر کر دیتا تیمور نے اس کے ہاتھ سے پسٹل چھینی تھی”پاگل ہو گیا ہے حیدر ؟ کیا کر رہا ہے یہ ؟” اشعر اور ریاض نے اس کو پکڑلیا تھا جو بے قابو ہوتا جا رہا تھا “یار لے کر جاؤ اسے یہاں سے ..” ریاض نے راحم سے کہا تھا وہ یشفہ کا ہاتھ پکڑ کر فورآ وہاں سے نکلا تھا “چھوڑو مجھے چھوڑو ..” وہ غصّے سے دھاڑ رہا تھا
________________________ حارث دو کافی کے بھا پ اڑاتے کپ لئے بینچ کے پاس آیا “جہاں احمد سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھا تھا اس نے ایک کپ احمد کی طرف بڑھایا تھا جو اس نے لے لیا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا “اس طرح سے بیٹھے رہے گا تو کچھ نہیں ہوگا ..” “تو ہی بتا دے پھر کیا کروں ؟” وہ کپ میں اٹھتی بھاپ کو دیکھ رہا تھا “اس کے پاس جا یار بات تو کر کے دیکھ ..” وہ نرمی سے سمجھا رہا تھا اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ڈاکٹر نے اسے ٹینشن سے دور رہنے کے لئے کہاہے ..مجھے دیکھ کر تو ویسے ہی اس کا پارہ چڑھ جائے گا ” “تو پھر ؟؟” “پہلے تھوڑی طبیعت سیٹ ہو جائے اس کی پھر بات کروں گا ..” وہ کافی کے کپ کو ہاتھ میں پکڑے اس کی گرمائش کو محسوس کر رہا تھا
________________________
“وہ شدید غصّے میں یہاں سے وہاں چکر کاٹتا سگریٹ کے گہرے کش لے رہا تھا “زندہ نہیں چھوڑوں گا میں اسے ..مجھ پر ہاتھ اٹھایا اس نے ..مجھ پر ؟؟..حمزہ حیدر علی پر ؟” اس کا بس نہیں چل رہا تھا کے کیا کر بیٹھے “ابے حیدر ..ہاتھ نہیں اٹھایا اس نے ..مکّا مارا ہے مکّا ..وہ بھی ناک پر ” تیمور نے مسکراہٹ دباتے ہوئے مصنوئی سنجیدگی سے کہا تھا حیدر نے رک کر اس کو گھورا تھا اور پھر سے چکر کاٹنے لگا “لکھ لو تم لوگ ..میں چھوڑنے والا نہیں ہوں اس کو ” ” قتل کرے گا کیا پھر ؟ ” ” قتل نہیں کروں گا ..لیکن وہ حال کروں گا نہ اس کا ..موت کے لئے تڑپے گی اپنی ..” وہ زہر خند لہجے میں بولا تھا اشعر نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی لی تھی “ابے حیدر ..اتنی دیر سے تو بس پکاۓ جا رہا ہے کے ..یہ کروں گا میں اس کے ساتھ وہ کروں گا ..بھائی تو کچھ نہیں کر سکتا ..مان لے میری بات …ہر دفع وہ لڑکی تیری اینٹ سے اینٹ بجا جاتی ہے اور تو بس اس کا منہ ہی دیکھتا رہ جاتا ہے “ریاض نے بور انداز میں کہا تھا “بکواس نہیں کر رہا میں ..تم لوگ دیکھ لینا ..میں کروں گا کیا اس کے ساتھ ..پتا نہیں ہے ابھی اس کو ..کے پنگا کس سے لیا ہے اس نے ” حیدر نے کہتے ہوئے سگریٹ پھینک کر اپنے جوتے تلے مسلی تھی جیسے سگریٹ نہ ہو یشفہ ہی ہو ..”یار حیدر …میری طرف سے تجھے اجازت ہے ..تجھے جو کرنا ہے تو کر اس کے ساتھ ..اور ہمیں بھی تو کرنے کے بعد ہی بتا دیو ..ابھی جانے دے یار بہت نیند آ رہی ہے قسم سے بھائی ..میری تو اب آنکھیں بھی نہیں کھل رہی .. “تیمور نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئے تھے کیوں کے وہ لوگ صبح کے چار بجے فوٹ پارتھ پر بیٹھے تھے پہلے وہ لوگ حیدر کو کہیں جانے نہیں دے رہے تھے کے کہیں وہ غصّے میں کچھ غلط نہ کردے اور اب ایک گھنٹے سے حیدر ان لوگوں کو کہیں جانے نہیں دے رہا تھا مسلسل ان کو اپنے منصوبوں سے آگاہ کر رہا تھا پہلے تو وہ لوگ بھی سر جھکا کر اس کی سنتے رہے کیوں کے ایک تو اس کو غصّہ نہیں آتا تھا اور جب آتا تھا تو غصّے میں تو وہ بلکل ہی پاگل ہو جاتا تھا لیکن اب وہ لوگ بھی بور ہو چکے تھے اشعر نے تو ریاض کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں ہی موندلی تھی “بس ایک دفع وہ میرے ہاتھ لگ جائے ..پھر دیکھنا “حیدر نے دانت کچکچاۓ تھے “اگر ہمّت ہوتی نہ اس میں ..تو ایسے منہ چھپا کر نہیں بھاگتی ..کھڑی رہتی وہیں اور میں اسی وقت اپنی پسٹل کی گولیاں اس کے اندر اتار دیتا ..تم لوگ بیچ میں نہیں آتے تو …اب تک مر بھی چکی ہوتی ..کتنے سارے لوگوں کے سامنے اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ..سب نے دیکھا تھا ..آخر کو ایم این اے کا بیٹا ہوں ..کیا نیوز چینل پر یہ خبر نہیں آۓ گی کے ..زوہیب دلاور کے بیٹےحمزہ حیدر علی پر ایک لڑکی نے سرعام ہاتھ اٹھایا ..کیا عزت رہ جائے گی میری ؟..ہاں ..” وہ مسلسل بول کر اپنے اندر کی فرسٹریشن نکال رہا تھا لیکن جب اس نے مڑ کر دیکھا تو پھر سے اسے تپ چڑھی کیوں کے وہ تینوں بیٹھے اونگھ رہے تھے “اشعر ….!!!” وہ چیخا تھا اشعر بیچارہ ہڑبڑا کر اٹھا تھا ” کک کیا ہوا ؟؟ ..کیا ہوا بھائی ؟ ..ہاں کیا ہوا ؟ مل گئی وہ لڑکی ؟ گولی مار دی تونے اس کو ؟ قتل کر دیا نہ ؟ شاباش ..مجھے فخر ہے تجھ پر ..اب میں سکون سے سوؤں گا ..” وہ آنکھیں مسلتا ہوا بول رہا تھا اور حیدر کی تیوریاں چڑھتی جا رہی تھی “سب سے پہلے تو میں تم لوگوں کو گولی ماروں گا …اتنی دیر سے میں بکواس کر رہا ہوں ..تم لوگ سیرئس ہی نہیں ہو رہے .. ..جا رہا ہوں میں .” وہ شدید ناراضگی سے بولا ” شکر ہے اللہ کا ..اوے اشعر چل شاباش ہوش میں آجا ..وہ جا رہا ہے ..اب گھر چل کر سوئیں گے ہم ..” ریاض نے کہتے ہوئے اشعر کے گال زور زور سے تھپ تھپاۓ تھے اس کو ہوش میں لانے کے لئے ..حیدر غصّے سے ان کو گھور رہا تھا..
Episode 18
“صبح عباد بخاری اور عدیل خانزادہ کے آنے کے بعد وہ دونوں گھر چلے گئے تھے چیک اپ کے بعد زرنور کو بھی ڈسچارج کر دیا گیا تھا لیکن پرسکون رہنے اور آرام کی ہدایت کی گئی تھی اس کے گھر انے کے تھوڑی دیر بعد مناہل اور لائبہ بھی آ گئی تھی اس کے منہ سے حقیقت جان کر وہ دونوں بھی شاکڈ رہ گئی تھی “مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کے یہ احمد اتنا بڑا پلینر بھی ہو سکتا ہے “لائبہ
نے حیرت سے کہا تھا “اس کا مطلب تو یہ ہوا زر کے تمہارا نکاح ارمان یعنی احمد سے ہی ہوا ہے ؟” “بد قسمتی سے ” مناہل کے پوچھنے پر وہ زہر خند لہجے میں بولی تھی “توبہ کتنا تیز ہے یہ احمد ..ہمارے سامنے تو اتنا شریف اور سنجیدہ سا رہتا تھا بھنک بھی نہیں لگنے دی اسنے اپنے کارنامے کی .لیکن یار اس نے یہ بات چھپائی کیوں ؟” لائبہ نے نہ سمجھی سے کہا تھا “تماشہ جو بنوانا چاہتا تھا میرا ..” وہ اسی انداز میں بولی “تمہیں تو شکر کرنا چاہیے زرنور ..کے جس سے تمہیں محبّت ہوئی وہ کوئی اور نہیں بلکے تمہارا شوہر ہے پہلے سے ..”مناہل کی کہی گئی بات لائبہ کے لئے حیران کن تھی
لیکن زرنور کے منہ میں کڑواہٹ سی گھل گئی “میں اس سے محبّت نہیں کرتی مناہل ..عشق کرتی تھی..!! ..میں نے اسے ہر چیز س بڑھ کر چاہا تھا اپنے دل میں اسے وہ مقام دیا تھا جو آج تک کسی کو بھی نہیں دیا ..لیکن مجھے نہیں پتا تھا کے وہ ایسا کرے گا میرے ساتھ ..اس کے لئے میرا عشق اب نفرت میں بدل چکا ہے ..” وہ خود کو رونے سے باز رکھ رہی تھی لیکن آنسو تھے کے اس کے گالوں پر بہے جا رہے تھے خود کے اتنی آسانی سے بیوقوف بن جانے کا دکھ اسے شدّت سے ہو رہا تھا “زری ..اس طرح مت روؤ یار ..پھر طبیعت خراب ہو جائے گی تمہاری ..” لائبہ نے نرمی سے کہا تھا ” سہی کہ رہی ہو لائبہ میں کیوں ایسے شخص کے لئے آنسو بہاؤں ..جو میرا کچھ لگتا ہی نہیں ہے ..اور مناہل تم نے کیوں نہیں بتایا مجھے ؟ حارث نے تو تمہیں کچھ بتایا ہوگا نہ ؟” “حارث مجھ سے اپنے پرسنلز شئیر نہیں کرتا زری ..اور جہاں تک میرا خیال ہے تو اسے اس بارے میں نہیں پتا ہوگا کچھ ..” “تم کہاں جا رہی ہو لائبہ ؟” مناہل نے اسے اٹھتے دیکھ کر کہا ” میں کچھ بنا کر لے آؤں زرنور کے لئے ..پھر میڈیسن بھی تو دینی ہے نہ ؟ ” “کچھ مت بناؤ لائبہ ..میرا بلکل موڈ نہیں کچھ کھانے کا ..بس چاۓ بنا دو ” وہ بیڈ کی بیک سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی “مجھے تو لگتا ہے کے تمہارے اندر خون نہیں بلکے چاۓ دوڑتی ہے ..لیکن جب تک تم کھانا کھا کر دوا نہیں لوگی ..تمہیں چاۓ بھی نہیں ملے گی “وہ دھمکاتے ہوئے بولی تھی “اسلام و علیکم ..” دروازے پر دستک ہوئی تھی ان تینوں نے ہی چونک کر دیکھا تھا جہاں انوشے ہاتھ میں ایک خوبصورت سی باسکٹ لئے کھڑی تھی “وعلیکم سلام بھئی …آج تو تم نے بھی ہمّت کر ہی لی آنے کی ” لائبہ اور مناہل اٹھ کر اس سے ملنے لگی “جو کام میں نہ کر سکی وہ میری بیماری نے کر دیا انوشے ..”زرنور نے مسکرا کر کر کہا وہ ہنس دی تھی “اب کیسی طبیعت ہے تمہاری .؟ “اس نے باسکیٹ اسے پکڑا کر وہیں بیٹھتے ہوئے کہا “اب بہتر ہے ..ارے یہ کیا ہے ؟” زرنور نے وہ باسکیٹ دیکھتے ہوئے پوچھا تھا جو چاکلیٹ اور کینڈیز سے بھری ہی تھی .جسے کافی خوبصورتی سے سجآیا ہوا تھا “یار میری تو سمجھ نہیں آتا کے جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو اس کے لئے صرف فروٹس ہی کیوں لے کر جاتے ہیں ؟جب کے بیماری میں تو فروٹ کھانے کا دل ہی نہیں کرتا ..اسی لئے میں نے سوچا کے کیوں نہ کچھ اور ٹرائی کرو ” “بلکل ٹھیک کہا انوشے .بیماری میں تو مجھے سب سے زیادہ برے فروٹس ہی لگتے ہیں لیکن پھر بھی کھانے پڑتے ہے “لائبہ منہ بنا کر بولی “انوشے تم نے یہ خود بنائی ہے ؟” مناہل نے اس سے پوچھا تھا “ہاں میں نے بنائی ہے ..” “بہت خوب یار ..سچ میں بہت پیاری لگ رہی ہے ..میرا تو اس میں سے کچھ نکالنے کا بھی دل نہیں کر رہا ..کے کہیں یہ خراب نہ ہو جائے..تھینک یو سو مچ انوشے ” زرنور نے پیار سے کہا تھا لائبہ اور مناہل مطمئن تھی کے چلو اس کا زہن احمد کی طرف سے تو ہٹا “لیکن انوشے ..اگر اس باسکیٹ میں چاکلیٹس کی جگہ چاۓ کے بہت سارے کپ ہوتے نہ تو ..پھر تو اس نے کچھ دیکھنا ہی نہیں تھا کے کون سی سجاوٹ کہاں کی سجاوٹ …منٹوں میں سارے کپ خالی کر دیتی یہ ” لائبہ ہنستے ہوئے کہ رہی تھی زرنور جھینپ گئی تھی وہ سب ہنسنے لگی “مناہل بجو ..ماہین آپی کہ رہی ہیں کے تھوڑی دیر کے لئے رضا کو لے لیں ..وہ کچن میں کام کر رہی ہیں ..” جبھی بازل رضا کو گود میں لئے اندر آیا تھا مناہل نے آگے جا کر اسکو گود میں لیا تھا اور چٹاچٹ اس کے گال چومے تھے اس کو دیکھ کر بازل نے برا سا منہ بنایا تھا “تمہیں کیا ہوا بھئی ؟ ایسے منہ کیوں بنا رہے ہو ؟” مناہل نے رضاکو پیار کرتے ہوئے کہا “مجھے تو سمجھ نہی آتا کے آپ سب لڑکیاں ..بچوں کو اتنا چومتی کیوں ہیں ؟” “ہاہا ..یہ تو ہمارا پیار ہے بازل میاں اور تم تو ابھی بڑے ہوئے ہو تمہیں پتا ہے جب تم بچے تھے تو ہم تمہیں بھی ایسے ہی پیار کرتے تھے ..لیکن اب تم بڑے ہو گے ہو اس لئے تمہاری جگہ رضا نے لے لی ..”لائبہ نے ہنستے ہوئے کہ کر مناہل سے رضا کو لیا تھا بازل تو اس کی بات سن کر بری طرح جھینپا تھا اور کمرے سے ہی چلا گیا تھا پیچھے پورا کمرہ ان چاروں کی کھلکھلاہٹو سے گونج رہا تھا “میں تو پہلے ہی کہ رہا تھا کے کوئی تعویز وغیرہ اپنے ساتھ رکھ لو ..آخر کو چڑیلوں کے اڈے پر جا رہے ہیں ..دیکھو ذرا کیسے قہقے لگا رہی ہیں ..ضرور ہمارا خون پینے کے منصوبے بنا رہی ہو گی ..چلو جلدی سے آیتہ الکرسی پڑھو ..”حیدر کہتے ہوئے کمرے میں آیا تھا اس کے پیچھے وہ سب بھی تھے “بے فکر رہو حیدر ہم تمہارا خون نہیں پیے گی ..کیوں کے چڑیلیں کبھی بھوتوں کا خون نہیں پیتی ..” لائبہ نے بےنیازی سے کہا ” واہ بھابی کیا بات کہی ہے ..اسی بات پر تالیاں تو بنتی ہے آپ کے لیے ..” حیدر کہتے ہوئے تالیاں بھی بجائی تھی جبھی اس کی نظر بیڈ پر زرنور کے ساتھ بیٹھی انوشے پر پڑی تھی اس کا رخ زرنور کی طرف تھا لیکن حیدر پھر بھی اسے پہچان گیا تھا کیوں کے اس نے سر پر دوپٹہ لیا ہوا تھا اس نے پلٹ کر تیمور کو دیکھا جو موبائل پر مصروف تھا حیدر کے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ مچلی تھی “ہاں بھائی تیمور ..کہاں تک پہنچی تیری کہانی ؟..ہماری بھابھی مانی یا نہیں ؟؟” وہ جان بوجھ کر تیمور کے سامنے جا کر کھڑا ہوا تھا تاکے وہ انوشے کو دیکھ نہ سکے “ابے کہاں یار ..اتنی آسانی سے ماننے والی نہیں ہے ..نہ جانے کیسی پتھر دل لڑکی ہے کسی چیز کا اثر ہی نہیں ہوتا اس پر ..” وہ موبائل پر جھکے ٹائپنگ کرتے ہوئے بولا حیدر کا دل زور زور سے قہقے لگانے کو چاہ رہا تھا “اگر اس نے شادی سے انکار کر دیا تو ؟؟” وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا “کر کے تو دکھاۓ “ریاض اور اشعر کی نظر بھی پڑ گئی تھی انوشے پر اس سے پہلے کے وہ تیمور کو کچھ کہتے حیدر نے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا “انوشے کا بس نہیں چل رہا تھا کے اٹھ کر اس کی گردن مروڑ دے ..” اچھا تیمور یہ تو بتا تجھے بھابھی لگی کیسی ..آئی مین اچھی لگی یا بہت اچھی ؟” “ہاں ہاں بتا بتا ..” وہ دونوں بھی حیدر کی ہاں میں ہاں ملانے لگے تھے “خیر لڑکی تو اچھی خاصی ہے ٹھیک ہے ..لیکن ایک تو اس کی آنکھیں اتنی بڑی بڑی ہے اوپر سے اس کا چشمہ ..اور جب وہ گھورتی ہے تو اف ..مت پوچھ کیا حال ہوتا ہے تیرے بھائی کا ویسے ایک بات …!!” “ارے انوشے جی ..آپ بھی ہیں یہاں پر ..کیسی ہیں آپ ؟” حیدر کی آواز پر تیمور کی حرکت کرتی انگلیاں تھمی تھی وقت اس کے لئے جیسے رک سا گیا تھا اس نے چونک کر سر اٹھا کر سامنے دیکھا تھا جہاں زرنور کے بیڈ کے پاس واقعی میں انوشے غصّے سے لال ہوتی کھڑی تھی اس کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا تھا ” ان انوشے ..تت تم بھی ہو یہاں.. پر ..”وہ حواس باختہ انداز میں بولا “یہ کیا چکر ہے بھئی ؟” وہ تینوں حیرت سے ان کا ڈرامہ دیکھ رہی تھی “مناہل ..یہ تیمور والی ہے “حیدر نے رازداری سے کہا تھا لیکن اتنی آواز سے ضرور کہا تھا کے وہاں موجود سب نے باآسانی سن لیا تھا “کمینے بتا نہیں سکتا تھا ؟” تیمور نے دانت کچکچاۓ تھے جب کے وہ تینوں ہنسی سے بےحال ہو رہے تھے “رک تجھے تو میں بتاتا ہوں ..” تیمور حیدر کو مارنے لپکا تھا اور وہ ایک ہی جست میں وہاں سے باہر بھاگا تھا “مناہل رضا کو لو .. میں کچن میں جا رہی ہوں .. چا ۓ وغیرہ کا دیکھوں ” لائبہ نے کہتے ہوئے رضا کو مناہل کو دیا تھا “رکو لائبہ ..میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں ..” انوشے نے کہا .” ارے بیٹھو بھئی تم کہاں جا رہی ہو ..پہلی دفع تو آئی ہو” وہ تینوں اسے منع کرنے لگی تھی “یار میں مہمان تھوڑی ہوں ..” وہ ناراضگی سے بولی “اچھا ٹھیک ہے آجاؤ ..واقعی میں تم “اب” مہمان نہیں ہو ..” لائبہ نے شرارت سے اب پر زور دیتے ہوئے کہا اور اسے لئے کچن کی جانب بڑھ گئی ..
________________________
“گل زرین ..کافی بنا دو یار سر میں درد ہو رہا ہے ..پھر میرے کپڑےبھی پریس کر دینا ..” وہ دوپہر کے تین بجے سو کر اٹھی تھی ابھی بھی لاؤنج میں پڑے صوفے پر آ کر لیٹ گئی تھی “کیا ہوا بھئی ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ؟” اس نے سر کے نیچے کشن ٹھیک کرتے ہوئے خود کو حیرت سے تکتی گل زرین سے کہا “وہ جی مجھے لگا تھا کے آپ کہو گی “گل زڑین .. کافی بنا دو یاڑ ..سڑ میں دڑد ہو ڑہا ہے پھڑ میڑے کپڑے بھی پڑیس کڑ دینا ..لیکن آپ نے تو ان میں سے کسی میں بھی “ڑ “نہیں لگایا …” وہ اتنی سادگی سے بولی کے یشفہ ہنس پڑی کیوں کے پیچھلے ایک ہفتے سے وہ ہر بات میں” ڑ “لگا رہی تھی جس کی وجہ ہر کوئی ہی اس سے تنگ آیا ہوا تھا “خیریت ہے بھئی ؟ یہ صبح ہی صبح اتنی کھلکھلاہٹیں کیوں پھیلائی جا رہی ہے ؟” نک سک سے تیار راحم نے لاؤنج میں آتے ہوئے پوچھا تھا اس کو دیکھ کر یشفہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی “صاحب جی ..تین بج رہے ہیں ..اور آپ کہ رہے ہو صبح ہی صبح ..” گل زرین نے حیرانی سے کہا ” ہاہا اس ملکہ کے لئے تو صبح ہی ہے ..ویسے کافی تو پلاؤ گل ..” وہ کہتے ہوئے سنگل صوفے پر بیٹھ گیا تھا “تمہاری پینلٹی میں نے پوری کر دی ہے حائم ..اور میں توبہ کرتی ہوں جو آیندہ تمہارے ساتھ کوئی بیٹ لگاؤں ..”اس نےہنستے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگاے “میں نے تو تم سے پہلے ہی کہا تھا یشفہ کے تم کبھی جیت نہی سکتی مجھ سے ..لیکن تم ہر دفع مجھ سے بیٹ لگاتی ہو اور ہر دفع ہار جاتی ہو ” “پینلٹی بھی تو پوری کرتی ہوں نہ پھر ..”وہ دوبدو بولی ” ہاں یہ تو ہے لیکن کل جو کچھ بھی ہوا ..بلکل بھی اچھا نہیں ہوا “وہ سنجیدہ ہوا ” “وہ تمہاری وجہ سے ہی ہوا ” “میری وجہ سے ؟؟” وہ حیرانی سے بولا “ہاں تمہاری وجہ سے ..نہ تم مجھ سے بیٹ لگاتے ..نہ میں ہارتی ..نہ تم مجھے وہ فضول سے پینلٹی دیتے ..اور نہ ہی اس بیچارے کو مکّا کھانا پڑتا ..” “میں نے تمہیں پینلٹی دی تھی کے تم نے ایک ہفتے تک ہر بات میں ر کی جگہ ڑ لگانا ہے یہ تھوڑی کہا تھا کے مار پیٹ ہی شروع کر دو ..” “وہ میرا مذاق اڑا رہا تھا حائم ..اور تمہیں تو پتا ہے کے مجھے غصّہ کتنی جلدی آتا ہے ..بس ہاتھ اٹھ گیا میرا ..” وہ لاپروائی سے بولی “ہاتھ اٹھ گیا کی بچی ..اگر ماموں کو پتا چل گیا تو ؟؟”اس نے ڈرانہ چاہا ” نہیں پتا چلے گا..تم بے فکر رہو ” “وہ لڑکا تم سے پیسے کیوں مانگ رہا تھا ؟ وہ بھی اتنی بڑی رقم ؟” وہ یاد آنے پر بولا تھا تب یشفہ نے اسے اس دن والی ساری بات بتا دی تھی راحم نے اپنا سر تھام لیا تھا “مجھے نہیں پتا تھا یشفہ..کے تم نے یہ حرکتیں بھی شروع کر دی ہے ..اور ماموں کہتے ہیں کے میں نے تمہیں بگاڑا ہے ..” وہ تاسف سے بولا “تم نے ہی تو بگاڑا ہے ” اس نے مزے سے کہا ” کیا کہا ..میں نے بگاڑا ہے ؟” وہ اسے گھورنے لگا تھا وہ ہنسنے لگی “ویسے تم نے اچھا نہیں کیا ..پہلے اس لڑکے کی گاڑی خراب کر دی .اور اب اس پر ہاتھ بھی اٹھایا …اگر اس نے تمہیں کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ؟”راحم نے فکرمندی سے کہا ” “تم ڈر گئے حائم ؟” “ڈرنے کی بات نہیں ہے ..وہ واقعی میں کوئی چھوٹا موٹا انسان نہیں ہے ..آسانی سے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ..” “تو کیا ہوا اگر اوہ ایم این اے کا بیٹا ہے تو ..میں بھی تو پاکستان کے سب سے بڑے بزنس ٹائیکون کی بیٹی ہوں “وہ فخر سے بولی ” واؤ ..وہاٹ آ پرفیکٹ میچ ..کیا خیال ہے بات چلائیں آگے ؟” اسنے شرارت سے کہا تھا اور یشفہ نے اسے غصّے سے کشن کھنیچ کر مارا “تم کیا آج صرف اس کی وکالت کرنے آے ہو ؟ہاں …اور پلیز اب بند کر دو یہ حیدر نامہ بور ہو چکی ہوں میں ..” اس نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا “واہ بھئی ..نام بھی یاد کر لیا تم نے تو ” وہ اسے چھیڑ رہا تھا “فضول نہیں بولو حائم ..ورنہ یہ کپ میں تمہارے اوپر گرا دوں گی ..” وہ دھمکاتے ہوئے بولی ..” اچھا ٹھیک ہے ..نہیں بول رہا فضول ..یہ بتاؤ لنچ کر لیا تم نے ؟” “ابھی تو اٹھی ہوں ” “چلو پھر دس منٹ ہے تمہارے پاس جلدی سے ریڈی ہو جاؤ باہر سے لنچ کریں گے ” “ہیں سچی ؟؟” وہ خوشی سے بولی “بس ابھی آئی .” وہ کافی کا بھرا ہوا مگ رکھ کر اٹھ کر تیار ہونے بھاگی راحم اس کے بچپنے پر ہنس دیا تھا اور کپ اٹھا کر کافی کے سپ لینے لگا ..
________________________
“ارے میری بھابھیوں ..کچھ کھانے کو دے دو مجھے ..بھوک سے برا حال ہو رہا ہے یہ نہ ہو کے میں یہی گر جاؤں ..” حیدر ہاۓ واۓ کرتا ہوا آیا تھا اور ڈائینگ ٹیبل کر گرد رکھی کرسی پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھا تھا “کھانا تو تمہیں مل جائے گا حیدر ..لیکن پہلے یہ بتاؤ کے تم نے بھابھیوں کسے کہا ہے ؟” ماہین نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا حیدر نے چونک کر سر اٹھایا جہاں مناہل اور انوشے اس کو گھور رہی تھی “ہاہا میں نے تو آپ کو کہا ہے بھابھی ” وہ کھسیاہٹ سے بولا “میں تو صرف بھابھی ہوں ..لیکن تم نے بھابھیوں کہا ہے ” وہ زور دے کر بولی “اچھا ..تو لائبہ ..ہاں لائبہ کہاں ہے ؟ میں نے اسے بھی تو کہا ہے ..ہاں لائبہ کو کہا ہے ” وہ سکون سے بولا شکر کے بروقت بہانہ سوجھ گیا “لیکن لائبہ تو یہاں نہیں ہے ” ماہین بھی اطمینان سے بولی ” حیدر کی مسکراہٹ سمٹی “کیا؟ …وہ یہاں نہیں ہے ؟” ” نہیں …” ” یار ماہین بھابھی ..کیوں صبح ہی صبح آپ نے میری گردن اڑوانے کا ٹھیکہ لے لیا ہے ؟ ” وہ چہرے پر مسکینیت طاری کرتے ہوئے بولا جس پر وہ ہنس پڑی .” “تین بج رہے ہیں ..وہ بھی دوپہر کے ..اور تمہیں صبح لگ رہی ہے ” اس کے ساتھ بیٹھی انوشے نے ٹرے میں کباب کا مصالہ رکھے ٹکیاں بناتے ہوئے حیرت سے کہا “جس وقت میری آنکھ کھلتی ہے وہ ہی میرے لئے صبح کا وقت ہوتا ہے ..اور آج میں دو بجے اٹھا ہوں اسی لئے ابھی میری صبح ہی چل رہی ہے “وہ اطمینان سے بولا ” تم دو بجے اٹھے ہو حیدر ..رات کے سوئے ہوئے ؟” مناہل نے بریانی کو دم دیتے ہوئے حیرت سے کہا “رات کو کہاں مناہل ..میں تو صبح کے دس بجے سویا ہوں ..ایک تو ساری رات نہیں سویا ..اور جب سویا تو صرف چار گھنٹے .اس لئے سر میں درد شروع ہو گیا میرے تو ..” اس نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا “اتنی دیر سے ٹھیک بیٹھا تھا لیکن آپ لوگوں نے یاد دلا دیا اس لئے پھر سے درد شروع ہو گیا ..” “اچھا بتاؤ پھر کھانا کھاؤ گے یا ناشتہ بنا دوں ؟” ماہین نے اس سے پوچھا ..” ناشتہ ہی بنا دیں بھابھی …اس کے بغیر تو مجھ سے چلا بھی نہیں جاتا “ویسے یہ تو بتاؤ کے تم ساری رات کر کیا رہے تھے جو صبح دس بجے سوۓ ہو ؟” مناہل اپنا کام ختم کر کے سبزیوں کی ٹوکری چھری اور ٹرے اٹھا کر اس کے پاس آ بیٹھی تھی ” میں نہیں بتا سکتا مناہل .مت پوچھو ..” “ارے نہیں بتاؤ نہ کیا ہوا ” “چھوڑو یار پھر کبھی بتاؤں گا .” اس نے ٹالنا چاہا “نہیں تم ابھی بتاؤ ..” ” میں نہیں بتا سکتا یار تمہاری برداشت سے باہر ہے ” ” کسی کا مرڈر ہو گیا کیا ؟” ” کسی کے مرڈر کا میری نیند سے کیا تعلق ؟” ” تو کیا اس سے بھی زیادہ خوفناک بات ہے ؟؟” ” ہاں انو شے جی ..اس سے بھی زیادہ خوفناک بات ہے اگر آپ سن لیں تو آپ کی نیند بھی اڑ جائے ..” وہ گہری سنجیدگی سے بول رہا تھا “کسی کی گاڑی واڑی تو نہیں چھین گئی پھر ؟” “افوہ مناہل ..تھوڑا بڑا سوچو ..بڑا ” ” کیا بڑا سوچوں حیدر ؟ نہ کسی کی گاڑی چھینی ہے نہ کسی کا مرڈر ہوا ہے ..پھر تمہاری نیند کیوں اڑ گئی ؟” وہ جھنجھلا کر بولی “آپ لوگوں کی سوچ بس یہی تک ہے …پتا ہے کل کیا تھا ؟؟” وہ پراسرار انداز میں بولا ” کیا تھا ؟؟” وہ تینوں اپنا کام روکے اس کو سن رہی تھی ” اف ..اپ لوگوں کو یہ ہی نہیں پتا کے کل کیا تھا ؟” وہ حیرت سے بولا ” ہاں تو بتاؤ نہ کے کل کیا تھا ؟” “یا اللہ بھابھی کس دنیا میں جی رہے ہیں آپ لوگ …یہ ہی نہیں پتا کے کل کتنا بڑا دن تھا ” وہ افسوس سے بولا”اب بتا بھی دو حیدر ..” “ارے بھئی کل نیوائیر نائٹ تھی نہ ..بہت سارے پٹاخے پھاڑے تھے میں نے …خواب میں بھی ان کو آوازیں آ رہی تھی ..ٹھاہ ٹھاہ ..ڈھز ڈھز ..اسی لئے نیند نہیں آئی مجھے “وہ سر کھجاتے ہوئے بولا انوشے جو کوکنگ رینج کے سامنے کھڑی اس کو سن رہی تھی کے نجانے کیا بولنے والا ہے یہ نفی میں سر ہلاتی پھر سے کباب فرائی کرنے لگی “تمہارے ڈرامے ختم کیوں نہیں ہوتے حیدر ؟” مناہل نے تپ کر کہا تھا “ارے میں ڈرامے کہاں کر کر رہا ہوں ؟ میں تو بس آپ لوگوں کو ہنسانے کی کوشش کر رہا تھا..” “تم کسی کامیڈی شو کی میزبانی کیوں نہیں کر لیتے ؟ ..اگر اسی طرح تم سب کو ہنساتے رہے نہ حیدر ..تو اور کچھ ہو نہ ہو ..میرے ہاتھوں ضرور قتل ہو جاؤ گے تم ؟” “یار انوشے بھابھی ..میری تو کوئی عزت ہی نہیں ہے اب تو لڑکیاں بھی مجھے قتل کی دھمکیاں دینے لگی ہے کل رات بھی ایک لڑکی نے مجھے گولیوں سے اڑنے کی دھمکی دی تھی .اور آج یہ مناہل دے رہی ہے ..اب آپ ہی بتاۓ قتل کی دھمکیآں ملنا وہ بھی لڑکیوں کی طرف سے یہ کوئی اچھی بات ہے انوشے بھابھی ؟؟” وہ معصومیت سے پوچھ رہا تھا ” تم ایک کام کرو حیدر ..” وہ آنچ کم کرتے ہوئے بولی “جی جی بھابھی بتاۓ ..” “جو جو دھمکی دیتا ہے نہ تمہیں قتل کی ..” ” ہاں ہاں کیا کروں ان کا ؟” حیدر کو لگا کے وہ کوئی مشورہ دینے لگی ہے “ان کی لسٹ میں تم میرا بھی نام ایڈ کر لو ..” وہ بظاہر مسکرا کر مگر چبا کر بولی تھی ماہین اور مناہل ہنسنے لگی “معاف کیجیے گا بھابی سوری انوشے جی ..لیکن اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے میں تو آپ کو دل سے بہن صرف کہتا ہی نہیں مانتا بھی ہوں ..لیکن اس تیمور نے ہی ہمارے دماغ میں یہ سب بھرا ہے کے جب بھی آپ کا نام لیں تو ساتھ میں بھابھی ضرور لگایا کریں …”اس نے سارا ملبہ تیمور پر گرایا تھا “ارے واہ ..تم تو بڑے فرمابردار ہو ” وہ طنز سے بولی “جی جی راہ چلتے لوگ تعریف کرتے ہیں .” “جس کی تمہیں فرمابرداری کرنا ہے کرو لیکن اب بہن کہا ہے تو بہن ہی کہو میرے نام کے ساتھ یہ فضول کے الفاظ لگانے کی ضرورت نہیں ہے “اس نے پلیٹ میں کباب نکال کر اس کے سامنے رکھتے ہوئے اس پر واضح کیا تھا کے اسے حیدر کی یہ شوخیاں قطآ نہیں پسند “ارے آپ فکر ہی مت کریں اب بہن کہا ہے نہ تو بھائی بن کر دکھاؤں گا میں آپ کو ..اگر اس تیمور نے آپ کو تنگ کیا ہے تو بتاۓ ابھی جا کر اس کی گردن پکڑتا ہوں ..” “بس بس پہلے ناشتہ کر لو ..” ماہین نے جلدی سے اس کے سامنے ناشتے کی ٹرے رکھی تھی کے کہیں وہ واقعی میں اپنے کہے پر عمل نہ کر دے “مناہل تم تو بہت ہی سست ہو بھئی ..ادھے گھنٹے سے بیٹھی ہو اور بھی تک تمہاری سلاد نہیں بنی ..کیا بنے گا تمہارا ..ناک ہی کٹواؤ گی سسرال جا کر ..” وہ پلیٹ میں سے کھیرا اٹھا کر کباب کے ساتھ کھاتے ہو افسوس سے بولا وہ اس کو تیز نظروں سے گھورنے لگی “اگر تم یہ سبزیاں کھانا بند کر دو نہ تو آرام سے بن جائے میری سلاد ..” اس نے کہتے ہوئے پلیٹ ہی اس کے پاس سے اٹھا لی تھی “ماشاءاللہ.. آج تو کچن میں رونق لگائی ہوئی ہے میری بھابھیوں نے ..” جبھی اشعر بلند آواز میں کہتا ہوا اندر آیا تھا ” اشعر اب تم نے کسے کہا ہے یہ بھابھیوں ؟؟” ماہین نے شرارت سے کہا تھا ساتھ ہی انوشے اور مناہل کے تپے ہوئے چہرے بھی دیکھے “آپ تینوں خواتین کو ہی کہا ہے ” وہ بےفکری سے کہتا ہوا حیدر کر ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گیا تھا ساتھ ہی مناہل کے آگے رکھی پلیٹ میں سے کھیرے کا ٹکڑا اچک لیا ” اشعر ….واپس رکھو اسے ..” وہ غصّے سے بولی ” کیا ہو گیا ہے یار کھیرا ہی تو ہے کون سا میں نے تم سے کشمیر چھین لیا جو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو ” اس نے ہنستے ہوئے کہ کر اب گاجر کا پیس اٹھا کر منہ میں رکھا “ارے اب گھور کیوں رہی ہو ؟ اچھا لاؤ میں بنا دیتا ہوں تمہاری سلاد ..” “مہربانی تمہاری ..” اس نے فورآ سے باسکٹ ٹرے اور چھری اشعر کے سامنے رکھی “ہاں تو ماہین بھابھی ..آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہی تھی ؟” “بات یہ ہے کے اشعر …مجھے تو کوئی اعترض نہیں ہے تمہارے بھابھی کہنے سےلیکن …ان دونوں کو ہے ” اس نے چاۓ کپوں میں ڈالتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا اشعر نے مناہل اور انوشے کو دیکھا تھا جو خطرناک تیوروں سے گھور رہی تھی حیدر تو چپ چاپ بیٹھا ایسے ناشتہ کر رہا تھا جیسے وہاں ہو ہی نہیں نہ جانے کس گہری سوچ میں گم تھا اشعر نے تھوک نگلا تھا “جان بوجھ کر نہیں کہتا بس …منہ سے نکل جاتا ہے ..” اس نے عذر تراشا تھا “اپنے منہ کو تم کنٹرول میں رکھا کرو ..” مناہل نے اسے گھورتے ہوئے کہا ” اہاں …کافی دیر سے ایک کشش مجھے کچن کی جانب کھینچ رہی تھی اب پتا چلا یہ تو کبابوں کی خوشبو ہے جو مجھے یہاں کھینچ لائی ..”تیمور نے کوکنگ رینج کے سامنے کھڑی انوشے کو دیکھ کربلند آواز سے کہا تھا ” آجاؤ آجاؤ ..تمہاری ہی کمی تھی “مناہل نے دانت پیسے تھے اور کپوں کی ٹرے اٹھا کر باہر چلی گئی تھی “اسے کیا ہوا ؟” تیمور نے حیرت سے پوچھا “کہتی ہے کے مجھے بھابھی مت کہو …” اشعر نے نفاست سے کھیرے کے سلائس کاٹتے ہوئے کہا “اس میں ناراض ہونے والی کون سی بات ہے ؟..خیر تم لوگ بھائی کس کے ہو ؟ ہمارے نہ ؟ اسی لئے جو میں نے اور حارث نے تم سے کرنے کے لئے کہا ہے وو ہی کرنا ..” تیمور نے ایک نظر انوشے کو دیکھنے کے بعد کہا تھا ” دیکھ لیں انوشے جی یہ آپ کے سامنے ہی ہمیں بھابھی بولنے کے لیے کہ رہا ہے اور جب ہم بولتے ہیں تو آپ کو اعترض ہوتا ہے “اشعر نے انوشے سے کہا جو کبابوں کو ٹرے میں سجا رہی تھی “کیوں بھئی تم نے انہیں منع کیا ہے ؟” انوشے کے ہاتھ ساکت ہوئے تھے اسے بلکل بھی توقع نہیں تھی کے وہ ان سب کے سامنے اتنی بے باکی سے اس سے یہ پوچھے گا اس نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا تھا جو پہلے سے ہی اس کو دیکھ رہا تھا وہ اس کے ساتھ ہی تو کھڑا تھا کباب لینے کے بہانے آیا اور پھر اس کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا اس نے مشکل سے اپنے اندر اٹھتی غصّے کی لہر کو دبایا تھا ورنہ دل تو کر رہا تھا کے اس کا منہ ہی نوچ لے “تیمور ..میری بہن کو تنگ مت کر ..ہٹ وہاں سے یہاں آ کر بیٹھ ..” حیدر کے سنجیدگی سے کہنے پر وہ چونکا تھا ” تجھے کیا ہوا حیدر ؟” اس نے کباب کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے حیدر سے کہا “آج سے انوشے میری بہن ہے اسی لئے میں برداشت نہیں کروں گا کوئی میری بہن کو تنگ کریں اس لئے چپ چاپ یہاں آ کر بیٹھ جا ..” “اچھا بھئی سالے صاحب ..مان لی آپ کی بات ..اور کچھ ؟؟” وہ حیدر کی ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا “انوشے …یہ زرنور کے لئے سوپ لے جاؤ ..” ماہین نے اس کا گریز سمجھ لیا تھا اسی لئے ٹرے میں سوپ کا پیالہ رکھ کر اس کو پکڑایا تھا “جی آپی ..” وہ ٹرے لے کر وہاں سے نکل گئی تھی تیمور اس کی پشت کو دیکھتا رہ گیا “مانا کے مذاق ہے …لیکن مذاق کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے تم لوگوں کو اس طرح سے نہیں کرنا چاہیے ..فضول میں ہی کسی کا نام کسی کے ساتھ لگا دو اور تیمور تم ..کیوں تنگ کرتے ہو تم اس کو ؟؟” ماہین نے ناراضگی سے ان تینوں کو سنائی تھی ان لوگوں کا گھر میں کافی آنا جآنا تھا ان کے والدین بھی آپس میں دوست تھے اسی لئے آنے جانے پر بھی کوئی روک ٹوک نہ تھی وہ سب بھی مناہل اور حارث کی طرح ماہین کو بھابھی ہی کہتے تھے اور ماہین کے لئے تو وہ سب بچے ہی تھے اسے بھی وہ سب زرنور مناہل اور حارث کی طرح ہی عزیز تھے لیکن غلط بات پر ڈانٹ بھی دیتی تھی اور وہ سب چپ چاپ اس کی بات مان بھی لیتے تھے “یار بھابھی …پسند آگئی تو کیا کرو اب ؟” وہ چہرے پر مسکینیت طاری کرتے ہوئے بولا “پسند آگئی تو جا کر رشتہ مانگو ” “وہ نہیں مانتی نہ بھابھی ..” “ایسے کرو گے تو کبھی بھی نہیں مانے گی بلکے اور بدظن ہو جاۓ گی تم سے ” “آپ ہی بتاۓ پھر کیا کروں ؟” وہ بےچارگی سے کباب کھاتے ہوئے بولا “شریفوں کی طرح پیش آؤ اس کے ساتھ ..عزت سے بات کیا کرو ..”فاصلہ رکھ کر “تھوڑی سی سنجیدگی لے کر آؤ اپنے اندر زبردستی سے کوئی رشتے نہیں بناۓ جاتے ..” اس نے تیمور کی بے باکی اور انوشے کا غصیلا انداز دیکھ لیا تھا اسی لئے اسے سمجھا رہی تھی
________________________
” یہ لو زرنور بن گیا تمہارا لنچ ..جلدی سے پی لو یہ سوپ پھر تم نے دوا بھی لینی ہے ” انوشے نے اس کی طرف سوپ کا باؤل بڑھایا جس کو دیکھ کر اس نے برا سا منہ بنایا تھا “بھئی مجھے نہیں پینا یہ گندا پھیکا سا سوپ ” اس نے پیچھے کر دیا تھا “ارے …بیماری میں سوپ ہی پیتے ہیں ” “میں اب ٹھیک ہوں انوشے ..اور یہ سوپ تو بلکل بھی نہیں پیونگی ” “اچھا تو پھر دلیہ .یا کھچڑی بنا دوں ؟” “دلیہ ؟ کھچڑی ؟؟ یخ یخ …” اس نے پھر سے برا سا منہ بنایا ” “دلیہ بھی نہیں کھانا کھچڑی بھی نہیں کھانی سوپ بھی نہیں پینا ..تو پھر برگر اور پیزا حاضر کر دوں میں آپ کی خدمت میں میڈم ؟؟” زرنور کی آنکھیں چمکی تھی .”ضرور ..اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے؟ ” “پیزا تو ایک ہی شرط پر ملے گا اگر تم ان تینوں چیزوں میں سے کچھ کھاؤ گی تو ورنہ نہیں ..” انوشے کے کہنے پر اس نے منہ پھلا لیا تھا “میں نہیں کھاؤں گی یہ بیماروں والا کھانا ” “اس کا تو پھر ایک ہی حل ہے ڈئیر نور بانو ..اگر تم چھلانگیں لگا کر دکھاؤ تو واقعی میں ان کو یقین آجاے گا کے تم بیمار نہیں ہو پھر تمہیں آرام سے پیزا برگر جو مانگو گی مل جائے گا ” حیدر نے کمرے میں آتے ہوئے کہا تھا ” تم تو رہنے ہی دو حیدر . تم سے اتنا نہیں ہوتا کے کسی کی عیادت کرنے آؤ تو ساتھ کچھ لیتے ہوئے ہی آجاؤ ..ایسے ہی ہاتھ ہلاتے آگئے ” زرنور نے اس کو شرم دلانی چاہی تھی ” “ایسے طنز تو مت کرو نور بانو مانا کے میں خالی ہاتھ آ گیا لیکن کیا یہ کم نہیں کے ایم این اے کا بیٹا تمہاری …ایک نوربانو…… کی عیادت کرنے آیا ہے ” وہ کالر کھڑا کرتے ہوئے فخر سے بولا۔
