Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 01

” زرنور بجو کتنے دن لگے گے آپ کو ایک پراٹھا بنانے میں؟ حد ہو گئی ہے آدھے گھنٹے سے میں انتظار کر رہا ہوں مجال ہے جو آپ مجھے کچھ کھانے کو دے دے آج کیا آپ مجھے بھوکا ہی اسکول روانہ کرینگی ؟ اور ..اور بس یہ اپ کی لاسٹ ٹرائ ہے آپ نے اگر اس دفع بھی پراٹھے کو بیل کر توے پر نہ ڈالا تو میں ایسے ہی اسکول چلا جاؤنگا اور مما سے بھی آپ کی شکایت کرونگا ” بازل نے غصّے سے اپنی بڑی بہن کو دیکھا تھا جو آدھے گھنٹے سے چھو لهے کے سامنے کھڑی پراٹھا بنانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی صدمے سے تو اس کا برا حال تھا کے اس کی اتنی قابل ہر کلاس میں ٹاپ کرنے والی بہن کھانا پکانا تو بہت دور کی بات ایک پراٹھا ٹھیک سے نہ بنا سکتی تھی “خاموش ہو جاؤ بازل میں کوشش تو کر رہی ہونا ایک تو تمہاری وجہ سے مینے اپنی نیند خراب کی اوپر سے تم مجھے ہی باتے سنا رہے ہو ” زر نور کا پارہ بھی ہائی ہونے لگا تھا ایک تو پراٹھا ٹھیک سے نہ بننے کا غم اپر سے بازل کے طعنے ” رہنے دو بجو آپ سے نہیں ہوگا آپ مجھے بریڈ ور جیم ہی دے دو ” بازل کی برداشت بھی اب جواب دے چکی تھی اس نے ناراضگی سے زر نور کو دیکھا “بس بس یہ لاسٹ ٹرائ ہے اگر اب بھی ٹھیک سے نہ بنا تو بے شک تم بریڈ ہی کھا لینا ” زر نور نے اسے پچکار تے ہوئے کہا جو دونوں بازو سینے پر باندھے منہ پھولآے ناراض سا کرسی پر بھیٹا تھا اس نے جلدی جلدی پراٹھا بیل کر احتیاط سے توے پر ڈالا اور تھوڑی ہی دیر میں جیسا تیسا بنا کر اس کے سامنے رکھا پراٹھے کو دیکھ کر تو بازل کی آنکھے باہر نکلنے کو تھی وہ کوئی تین چار نوک والا تیڑا میڑا سا نقشہ تھا کہی سے پورا جلا ہوا اور کہیں سے بلکل ہی کچا “یہ پراٹھا ہے ” بازل نے پلیٹ میں پڑی عجیب و غریب سی چیز کی طرف اشارہ کیا تھا “کیا ہوا اچھا نہیں بنا ؟ وہ جو کھلے پائینچو والے ٹراوزر اور لمبی پھولوں والی کمیز پہنے ڈھیلا سا جوڑا بناے فاتحانہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے پراٹھا نہ بنایا ہو کوئی مسلہ کشمیر حل کر لیا ہی اب وہ جھنجھلا گئی تھی آدھ گھنٹہ زاعع کرنے کے بعد بھی ایک پراٹھا نہ بن سکا بازل نے سر کو داے باے نفی میں ہلایا تھا ور اٹھ کر فریج سے بریڈ ور جیم کی بوتل نکال لایا اب وہ اطمینان سے کرسی پر بھیٹ کر بریڈ پر جیم لگا رہا تھا “بازل تم پراٹھا نہیں کھاؤگے ؟” وہ صدمے سے چور لہجے میں بولی اپنی پیاری نیند کی قربانی دے کر کتنی محنت کی تھی ایک پراٹھا بنانے میں ” پلیز بجو اس کو پراٹھا کہ کر پراٹھے کی توہین نہ کرے ” اس نے خفگی سے زر نور کو دیکھا “یقین کرے آپ کی یہ چیز صرف “کولمبس ” کے ہی کام آ سکتی ہے اگر وہ آج زندہ ہوتا نہ تو یقیناً آپ کے قدموں میں گر پڑتا اور التجاے کرتا کے باجی اسے مجھے دے دے تاکے میں کچھ اور ملک بھی دریافت کر لوں “بازل نے ہنستے ہوئے اسے دیکھا اور جوس کا گلاس ختم کر کے ٹیبل پر رکھا اور دوسری کرسی پر پڑے اپنے بیگ کو اٹھایا تھا “اور پلیز لنچ میں میرے لئے اتنی محنت نہ کرنا بلکے کچھ آرڈر کر دیجئے گا “اور ہاں ” وہ جاتے جاتے پلٹا تھا اس چیز کو پھینکینگا نہیں میں مما کو دکھاؤ گا تاکے ان کو بھی تو پتا چلے کے آپ کتنا اچھا پراٹھا بناتی ہیں “بازل نے شرارتی مسکرا ہٹ سے اسے دیکھا اور بھاگ کھڑا ہوا کیوں کے زر نور نے اسے مارنے کے لئے بیلن اٹھا لیا تھا ” اف کتنا مشکل کام ہے یہ پراٹھا بنانا ” وہ نڈھال سی کرسی پر گر گئی تھی اس نے سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا کیوں کے اب اسے بھی بھوک لگنے لگی تھی “السلام و علیکم باجی ” ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی جب اس نے آواز پر جھٹکے سے سر اٹھایا تھا “سکینہ تم ؟” خوشی سے وہ چیخآئ تھی ” ج جی باجی جی ” سکینہ بیچاری گڑ بڑا گئی تھآی آج سے پہلے تو زر نور نے اسے ہنس کر نہ دیکھا تھا اور اب یہ خو شی ؟ اس نے مشکوک نظرو سے اپنی باجی کو دیکھا “تم تو چار دن کی چھٹی پر تھی آج کیسے آگئی ؟ زر نور نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا کیوں کے سکینہ کی شکل میں اسے اپنی بھوک کا علاج نظر آ رہا تھا سکینہ ان کے گھر کی پرانی ملا زمہ تھی جو اپنی بہن کی بیماری کی وجہ چار دن کی چھٹی پر تھی “وہ نہ مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت تھی آپ میری تنخواں میں سے کاٹ لینا جی ” اس نے مسکین سی شکل بنا کر کہا “ہاں ہاں بتاؤ کتنے چاہیے ؟ زرنور نے فوراً پوچھا تھا “وہ جی بس دو ہزار ہی چاہیے ” سکینہ گڑ بڑا کر بولی تھی اسے ذرا امید نہیں تھی کے اس کے مالکن کی یہ نخریلی بیٹی بیٹی اتنی آسانی سے مان جاۓگی “میں ابھی لے کر آتی ہوں تم جب تک میرے لئے اچھا سا ناشتہ بنادو “اس نے فرمائشی نظرو سے اسے دیکھا “ارے باجی جی ابھی بنا دیتی ہوں بس پانچ منٹ لگے گے “سکینہ کہتی فوراً کاونٹر کی جانب بڑھی تھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی کیونکے اسے زرنور کے خوشگوار رویے کی وجہ اب سمجھ ای تھی پھر جب تک زر نور پیسے لے کر ای اس نے مزیدار سا پراٹھا اور آملیٹ اور چائ کا بھاپ اڑاتا کپ ٹیبل پر رکھ دیا تھا اس نے جلدی سے سکینہ کو پیسے دے کر فارغ کیا اور کرسی پر بھٹ کر مزے سے ناشتہ کرنے لگی “بیچارہ بازل اس کے نصیب میں ہی نہیں تھا پراٹھا کھانا “وہ مسکراتے ہوئے سوچ رہی تھی کے پاس پڑا اس کا فون بجنے لگا اس نے موبائل اٹھا کر نمبر دیکھا جہاں “پاپا کالنگ “کے الفاظ جگمگا رہے تھے اس کے ہونٹو پر خوبصورت سی مسکراہٹ آگہی تھی اس نے جلدی جلدی آخری نوالہ بنا کر منہ میں ڈالا اور برتن سمیٹ کر سائیڈ پر کیے “السلام و علیکم پاپا ” اس نے کرسی پر پڑے دوپٹے کو اٹھا کر گلے میں ڈالا اور چاے کا کپ پکڑتی لاونج میں آ گئی تھی “وعلیکم سلام میری جان کیسی ہے میری بیٹی ؟ ” عباد بخاری نے پیار سے پوچھا تھا ” میں بلکل ٹھیک ہوں پاپا اپ دونو تو گاؤں جا کر ہمے بھول ہی گئے ہیں ” اس نے صوفے پر بھٹ کر دونو پیر اوپر کر لئے تھے اور پاس پیرا کوشن اٹھا کر گود میں رکھتے ناراضگی سے کہا تھا ” اس کے انداز پر عباد بخاری ہنس پڑے تھے “ارے نہیں پاپا کی پرنسیس ہم آپ کو کبھی بھول سکتے ہیں کیا ؟ “اچھا تو پھر جلدی سے بتاے کے کب واپس آ رہے ہیں ؟ زرنور نے لاڈ سے پوچھا تھا “ہاں بیٹا بس انشاء اللّه اس اتوار تک آ جائے گے یہ لو اپنی مما سے بات کرو “عباد بخاری نے جواب دے کر فون اپنی بیگم زارا بخاری کو پکڑا دیا تھا “السلام و علیکم مما کیسی ہیں آپ ؟ و”وعلیکم سلام میں ٹھیک ہوں تم اور بازل کیسے ہو ؟ اور ماہین سے بات ہی تمہاری کیا کہ رہی تھی ؟ “جی مما میں اور بازل دونو ٹھیک ہیں اور آپی سے کل رات کو ہی بات ہی تھی میری وہ کل ہی تو پیرس سے واپس آئ ہیں کہ رہی تھی کے شام تک آ جائے گی یہاں ” اس نے تھوڑا سا آگے ہو کر خالی کپ سینٹر ٹیبل پر رکھا اور دوبارہ سے ٹیک لگا کر بھٹ گئی “چلو ٹھیک ہے ہم اتوار تک آنے کی کوشش کرینگے تم بازل سے لڑنا نہیں اور اپنا خیال رکھنا “انہو نے تنبھ کرتے ہوئے کہا ” ٹھیک ہے مما آپ بھی اپنا خیال رکھیے گا اللہ حافظ ” زرنور نے موبائل اوف کرکے ٹیبل پر رکھا اور گود میں سے کش اٹھا کر صوفے پر رکھا اور وہیں لیٹ گئی زارا بخاری کی غیر موجودگی میں اسے ایک چیز کی آزادی تھی اور وہ تھی اس کے نیند دو کام کرنے کے لئے وہ ہمیشہ ہی تیار رہتی تھی “ایک سونا ور دوسرا چائ پینا “جس میں سے ایک کام وہ ابھی بخوبی کر رہی تھی یعنی نیند پوری کرنے کا “”
~ ~ ~ ~
وہ آج پورے تین دن بعد یونیورسٹی آئ تھی کافی لیکچرز اس کے مس ہو گئے تھے اس لئے فری پیریڈ میں وہ تینو لاءبریری آ گئے تھے مناہل میگزین پڑھ رہی تھی جبکے لائبہ امربیل پڑھنے میں مصروف تھی اور زرنور نوٹس بنا رہی تھی مسلسل لکھنے اور جھکنے کی وجہ سے اس کی انگلییو اور گردن میں شدید درد ہورہا تھا اس نے کام روک کر سر کرسی کی پشت سے ٹکایا تھا اور ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی انگلییا دبانے لگی “میں تو تھک گئی ہوں یار اب تو بھوک بھی لگ رہی ہے “زرنور نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا ” سہی میں یار بھوک تو مجھے بھی لگ رہی ہے “مناہل ہے میگزن فولڈ کرکے ٹیبل پر رکھا “اور مجھے بھی “لائبہ نے بھی کتاب اپنے چہرے سے ہٹا کر کہا “اچھا تو ایسا کرو تم یہ سب سمیٹو جب تک میں کچھ بکس اشو کروالو پھر کینٹین چلتے ہیں ” زرنور نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور ٹیبل پر سے اپنا لائبریری کارڈ اٹھا کر کاؤنٹر کی جانب بڑھ گئی جب وو تینو بھر آ ی تو موسم بڑا پیارا ہو رہا تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی آسمان پر کہیں کہیں کالے بادلوں کا ڈیرہ تھا ” لاءبریری میں جا کر تو انسان دنیا سے ہی کٹ جاتا ہے “لائبہ نے موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا “یہ حیدر کو کیا ہوا ؟ ” مناہل کی حیرت بھری آواز پر ان دونو نے پہلے اسے دیکھا پھر اس کی نظروں کے تعقب میں سامنے گراؤنڈ کو جہاں گھاس پر درخت سے ٹیک لگاے احمد بھٹا تھا اس کے کندھے پر سر رکھے حارث اس کے برابر میں بھیٹا تھا جب کے اس کے پیروں پر سر رکھے اور کانوں میں ہینڈ فری لگاے دنیا مافہا سے بے خبر تیمور لیٹا ہوا تھا ایک ہینڈ فری حارث نے اپنے فون میں کنیکٹ کی ہوئی تھی جس کا ایک سرا اس کے کان میں تھا اور دوسرا احمد کے تھا اور دونوں ہی تقریباً اپنے اپنے فون میں گھسے ہوئے تھے ان سے تھوڑے سے فاصلے پر حیدر اداس سا سر جھکاے بھٹا تھا جو کے خاصی حیرانی کی بات تھی کیوں کے وہ حیدر ہی کیا جو سکون سے بھٹ جائے پوری یونی میں سپرنگ کی طرح گھومتا رہتا تھا کبھی اس کو چھیڑا کبھی اس کو مارا آتے جاتے سٹوڈنٹس سے پنگے کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا اور کبھی تو بنا کسی وجہ کے کسی سٹوڈنٹ کو پکڑ کر اس کی دھلای کر دیتا پوری یونی اسسے عاجز آئ ہوئی تھی اب اگر وہ اتنی خاموشی کے ساتھ بے حس و حرکت بھٹا تھا تو یہ کوئی معمولی بات تو نہی تھی وہ تینوں کینٹین جانے کے بجاے سیدھی گراؤنڈ میں آئی تھیں “تم کو کیا ہوا حیدر “مناہل نے تشویش سے پوچھا تھا حیدر ایسے کیوں بیٹھے ہو ؟” اس دفع لائبہ نے پوچھا تھا “کچھ نہیں ہوا لائبہ ” حیدر نے اداسی سے کہ کر دوبارہ سر جھکا لیا تھا “کسی نے تم کچھ کہا ہے کیا یا پھر ان تینوں میں سے کسی نے کچھ کہا ہے ” مناہل نے تیمور .احمد اور حارث کی طرف اشارہ کرکے کہا جو ابھی تک اپنی سابقہ پوزیشن میں بیٹھے تھے “مجھے کسی نے بھی کچھ نہیں کہا “اس دفع حیدر نے جھکے سر کے ساتھ ہی جواب دیا تھا “حیدر کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ ؟ اگر کسی نے کچھ نہیں کہا تو پھر ایسے کیوں بیٹھےہو جلدی بتاؤ ورنہ میں یہ کتابیں تمہارے سر پر دے ماروں گی سمجھے ؟؟ ” زرنور نے موٹی موٹی کتابیں اٹھا کر اسے غصّے سے گھورا تھا جو وہ ابھی ابھی اشو کروا کر لائی تھی دھمکی کا خاطر خواہ اثر ہوا تھا جبھی تو حیدر نے خود پر طاری کی ہوئی اداسی کو تھوڑی دیر کے لئے سائیڈ پر رکھ دیا تھا اور دونو ہاتھ اٹھا کر سامنے کرکے فوراً پیچھے کی جانب کھسکا تھا کہیں زرنور سچ میں ہی اسے کتابیں نہ دے مارے کیوں کے وہ ایسا کر سکتی تھی “ویٹ …ویٹ بتاتا ہونا ان کو تو نیچے رکھو “زرنور نے کتابیں نیچے رکھ دی تھیں لیکن وو ابھی بھی تیز نظرو سے اسے گھور رہی تھی “وہ چلی گئی مجھے چھوڑ کر “حیدر کو پھر سے اداسی کا دورہ پڑا تھا “کون چھوڑ کر چلی گئی ؟ ان تینوں نے نہ سمجی سے اسے دیکھا تھا “میری دوست ..میرا پیار ” حیدر نے سر اٹھا کر ان تینو کو دیکھا اور پھر سے جھکا لیا “مجھے لگتا ہے تمہاری یادا شت واپس لانے کے لئے یہ کتابیں تمہارے سر پر مارنی ہی پڑیگی “زرنور نے غصّے سے حیدر کو دیکھا “مار ہی دو زرنور “مناہل نے بھی اسے گھورا تھا “اچھا بتا رہا ہوں …میری “چینا “مجھے چھوڑ کر چلی گئی میں اس سے بہت محبّت کرتا ہوں “حیدر نے غمگین لہجے میں کہا تھا جبکے انکے منہ حیرت سے کھلے تھے “حیدر “اور وہ بھی کسی لڑکی کے لئے اتنا سیریس؟؟ ایک نمبر کا فلرٹی حیدر کبھی زویا کے ساتھ نظر آتا تو کبھی ایمن کے ساتھ ..کتنے تو نجانے اس کے بریک اپس ہو چکے تھے لیکن کبھی اس نے کسی کو اتنا سیریس نہیں لیا تھا اور اب یہ “چینا “نہ جانے کون تھی جس کی وجہ سے وہ اداس مجنوں بنا ہوا تھا “یہ چینا کون ہے ؟ ” لائبہ نے اچھنبے سے پوچھا “میرے گھر کے سامنے رہتی تھی ” اس نے اداسی سے کہا “تھی سے کیا مطلب ہے تمہارا اب کہاں گئی وہ ؟” مناہل نے پوچھا تھا “وہ لاہور چلی گئی مناہل میں کیا کرو وہ مجھے بہت یاد آتی ہے “حیدر نے غمگین لہجے میں کہا “تم نے اسے روکا نہیں ؟ “زر نور نے ہمدردی سے پوچھا تھا “روکا تھا میں نے اسے زری للیکن وہ نہیں روکی اور مجھے چھوڑ کر چلی گئی “اس نے درد بھرے لہجے میں کہا “صبر کرو حیدر اگر وہ تمہارے نصیب میں ہوئی تو تم کو ضرور ملےگی “لائبہ نے تسلی دیتے ہوئے کہا ورنہ تو اس کے آنسو بس نکلنے ہی کو تھے “اگر وو میرے نصیب میں ہوتی تو مجھے یوں چھوڑ کر نہ جاتی اور ..ان تینو کو دیکھو میرا ذرا سا خیال نہیں “اس نے شکوہ کنا نظرو سے ان تینوں کو دیکھا تھا “بہت بری بات ہے تم لوگو کو اپنے دوست کا کوئی احساس نہیں ” مناہل نے خفگی ان کو دیکھا تیمور نے تو کانوں میں ہینڈ فری لگے ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں سنا جبکے احمد اور حارث نے بھی کوئی خاص رسپونس نہی دیا بس سر اٹھاآئ کر ان چاروں کو دیکھا ایک مسکراہٹ پاس کی اور دوبارہ موبائل پے جھک گئے “اس لاش کو تو ہوش دلاؤ کیسے مدہوشوں کی طرح بے ہوش پڑا ہے ابھی کسی پروفسر نے دیکھ لیا تو اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی باتیں سناینگے کے ہمیں جامعہ کے تقددس کا خیال نہیں” زرنور نے غصّے سے تیمور کو گھورا “ارے چھوڑو نہ تم دفع کروں ان فضول انسانوں کو ” حیدر ان کو دوبارہ اپنی جانب متوجہ کیا “حیدر بتاؤ نہ یہ چینا کیسی تھی مطلب کیسی دکھتی تھی کیا بہت خوبصورت تھی وہ ؟ “لائبہ نے ایک ہتھیلی گال کے نیچے رکھے اشتیاق سے پوچھا تھا ا ب”اس نے مسکرا کر لائبہ کو دیکھا “کیا بتاؤ میں تمہیں کے کیسی تھی وہ ..اتنی خوبصورت تھی کے اگر میں ساری زندگی بھی بہٹھ کر اس کو دیکھتا رہوں تو بھی میرا دل نہ بھرے “احمد نے فون پر سے نظریں ہٹا کے سامنے دیکھا جہاں وہ تینوں اشتیاق سے حیدر کو دیکھ اور سن رہیں تھیں اور حیدر مسکرا مسکرا کر بولتا دور آسمان کی جانب نہ جانے کیا دیکھ رہا تھا اس نے پھر اپنے پیر پر سر رکھے سوے ہوئے تیمور کو دیکھا اس کے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ آ گئی تھی پھر اس نے حارث کو کھنی ماری تھی جس نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا تو احمد نے اسے کوئی اشارہ کیا تھا جس کو سمجھ کر اس نے اپنی مسکراہٹ دباآئ اور ہینڈ فری نکال کر پوکٹ میں رکھتے اٹھ کھڑا ہوا تھا اس کے کھڑے ہونے کا کسی نے نوٹس نہیں لیا تھا اس نے حیدر کو دیکھا جو ابھی تک دور خلا میں دیکھے بولے جا رہا تھا وہ سر جھٹکتا کینٹین کی جانب بڑھ گیا احمد نے اپنا فون جیب میں رکھا اور دونوں بازوں سینے پر باندھے اطمینان سے حیدر کو دیکھ رہا تھا “اتنا گورا سفید رنگ .بڑی بڑی کالی آنکھے .چھوٹی سی ناک .اور یہ بڑے بڑے کان ” احمد نے نچلا لب دانتوں تلے دبا کر اپنی ہنسی کا گلہ گھونٹا تھا “بڑے بڑے کان ؟؟” ان تینوں نے نہ ہ سمجھی سے حیدر کو دیکھا “ہاں ہاں بڑے بڑے کان .یہ دیکھوں یہاں تک آتے تھے ” حیدر نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا تھا اب ان کے منہ حیرت سے کھلے تھے “حیدر یہ چینا کیا “پی کے ” کے پلاینیٹ سے آئ تھی ؟ کیوں کے انسانوں کے تو اتنے بڑے کان نہیں ہوتے “زرنور نے اچھنبے سے پوچھا تھا “نہیں بھئی وہ کسی پلینٹ سے نہیں ای تھی “حیدر نے برا مانتے ہوئے کہا ” اور ..اور ایک منٹ ” وہ جیسے چونکا تھا “تم سے کس نے کہا کے وہ انسان ہے ؟ اب چونکنے کی باری ان تینوں کی تھی “چینا انسان نہیں تو پھر کون ہے “مناہل نے حیرت سے پوچھا “میں نے کب کہا کے وو لڑکی ہے ؟ وہ ..وہ تو میرے دوست کی “بکری “ہے جسے وو گاؤں سے لآیا تھا” حیدر نے معصومیت سے کہا اب تو ان کو زبردست شاک لگا تھا آنکھے اور منہ حیرت سے کھلے تھے “ارے میں حیدر ہوں حیدر ایسے ہی تو کسی کو اپنا دل نہیں دونگا نہ “حیدر نے ہنستے ہوئے کہا تھا سب سے پہلے شاک سے لائبہ نکلی تھی اس نے پوری قوت سے اپنا لیدر کا ہینڈ بیگ اس کے کندھے پر مارا تھا “تمہیں شرم نہیں آتی حیدر اتنی دیر سے ہمیں پاگل بنا رہے ہو ؟” اس نے غصے سے کہا “لائبہ ڈءیر میں تم لوگو کو بلکل بھی پاگل نہیں بنا رہا تھا کیوں کے بنے بناے کو کیا بنانا “حیدر نے ڈھٹائ سے ہنستے ہوئے احمد کو آنکھ ماری اور اسے سے پہلے کے وہ تینوں مل کر اس کی درگت بناتی وہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا تھا “اف بدتمیز انسان ہم تو اس کی ہمدردی میں چلے آے تھے اس کو دیکھو ہمیں ہی پاگل بنا گیا “مناہل نے دانت پیستے ہوئے کہا جیسے حیدر کی گردن اس کے دانتوں کے بیچ میں ہی تو ہو “اللہ کرے حیدر تمہیں ایلینز اٹھا کر لے جائے “زرنور نے غصے سے کہتے اپنی کتابیں اور بیگ اٹھایا تھا “بدتمیز آدمی بھوک ہی مار دی میری تو “لائبہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا “لیکن میری بھوک ابھی زندہ ہے اور میں نہیں چاہتی کے اس فضول انسان کے پیچھے میری بھوک مر جائے “زرنور نے کہا تھا جبھی حارث شاپر میں بہت ساری ٹھنڈے پانی کی بوتلیں لئے چلا آیا “ہیلو گرلز ..کیا ہوا ختم ہو گیا شو ؟ مزہ نہیں آیا ؟ حارث نے ہنستے ہوئے ان تینوں کے تپے ہوئے چہرے دیکھے “دانت مت نکالو حارث تمہیں پتا تھا تو بتا نہیں سکتے تھے کیا ؟ ” مناہل نے حارث کو گھورا تھا “یار مجھے کیوں بلیم کر رہے ہو تم لوگوں کو پتا تو ہے اس کارٹون کا پھر بھی “حارث نے ہنستے ہوئے شاپر نیچے رکھا “اب کہا جا رہے ہو ؟ایک شو اور دیکھ کر جانا ” اس نے ہنستے ہوئے سوے ہوئے تیمور کو دیکھا “جی نہیں ہمارے لئے آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے ز”زرنور نے منہ پھلآ کر کہا اور پھر وو تینوں کینٹین کی جانب چلیں گئیں احمد نے احتیاط سے تیمور کا بھاری سا سر اپنے پیروں پر سے ہٹا کر نیچے رکھا اور حارث کے ہاتھ کا سہارا لے کر اٹھ کھڑا ہوا اور جیب سے موبائل نکال کر قدرے فاصلے پر جا کھڑا ہوا تھا فون میں بیک کیمرہ آن کرکے سامنے فوکس کر دیا تھا جہاں اب تیمور اور حارث کے ساتھ شاہ ویز .ریاض اور اشعر بھی تھے “جیسے ہی میں سٹارٹ کہوں تم سب نے شرع ہو جانا ہے اوکے ؟؟” احمد نے ان سب کو دیکھتے ہوئے کہا “اوکے ڈن” ان سب نے بھی ہاتھ اٹھا کر ویکٹری کا نشان بنایا تھا “ارے تم سب میرے بغیر ہی شرع ہو گئے ؟” جبھی حیدر بھاگتا ہوا آیا اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی لپ سٹک بھی تھی جو وہ نہ جانے کس سے مانگ کر لایا تھابلکے مانگنا کیا چھین کر ہی لایا ہوگا “haider don’t do this ” احمد نے اسے تنبہی کرتے ہوئے کہا “جہاں یہ کر رہیں ہیں وہاں تھوڑا اور سہی “حیدر نے ہنستے ہوئے کہا اور نیچے جھک کر تیمور کے دونوں گالوں پر گول گول دائیرے بنا دیے تھے ناک جوکر کی طرح سرخ کردی اور ماتھے پر تین چار لائنز کھینچ دی “اوے روک یہ بھی لگا دے ” اشعر کیاری میں سے دو تین پھول توڑ کر لایا تھا جو حیدر نے تیمور کے دونو کانوں کے پیچھے لگا دیے شاہ ویز نے گلابی پھولوں کی بیل کو توڑ موڑ کے ایک خوبصورت سا دائرے کی شکل کا تاج بنا کر تیمور کے سر پر رکھ دیا جس سے وہ خاصا مزہخا خیز لگ رہا تھا اور یہی نہیں حیدر نے تو اس کے برابر لیٹ کرس اس کے ساتھ سیلفی بھی لی تھی “چلو بوئز اپنی پوزیشنز لے لو “احمد نے کہا تو حارث نے شاپر میں سے بوتلیں نکال کر سب کو ایک ایک پکڑاآئ اب نیچے گھاس پر کوئی عجیب سی شکل والی مخلوخ لیٹی تھی اور اس کے پیچھے اور سائیڈ پر یہ سب ہاتھ میں پانی کی بوتل لئے کھڑے تھے اچھا خاصا تماشا لگ چکا تھا گراؤنڈ میں آتے جاتےسٹوڈنٹس روک روک کر دیکھ رہیں تھیں کچھ باقییوں کو بھی بلا لاے تھے جبھی حجوم میں سے نہایت ہی کمزور جسم کا بڑے فریم کے چشمے والا “وجاہت “نکلا تھا اس کے ہاتھ میں کوک کی آدھی بھری بوتل تھی ” بھائی اس کار خیر میں میرا بھی حصّہ ڈلنے دیجئے ” وجاہت نے اپنی پتلی آواز میں سب کو مخاطب کیا اور اپنی ناک پر پھسلتے چشمے کو دوبارہ ناک پر جمایا “ہاں ہاں آجاؤ تم بھی “حارث نے فراخ دلی سے کہا جب کے حیدر نے اس کو دیکھ کر برا سا منہ بنایا تھا “اوکے ون …ٹو …تھری …سٹارٹ ” اور یہاں احمد کا سٹارٹ کہنا تھا کے ان سب نے بوتلز کے ڈھکن ہٹا کر تیمور کی جانب کر دی حیدر چونکے اس کے سر کے پاس کھڑا تھا اس لئے اس کی بوتل کا رخ سیدھے تیمور کے چہرے کی جانب تھا جیسے ہی ٹھنڈے پانی کی دھار تیمور کے چہرے پر پڑی وہ ایک دم ہڑ بڑا کر اٹھا تھا “بچاؤ …بچاؤ ..کون ہے کون ہے ؟” وہ دونو ہاتھ اپر اٹھاے خود کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا پانی ختم ہوا تو وہ سب ہٹے “بے غیرتوں ..یہ کیا کیا تم لوگوں نے سارے کپڑے خراب کر دے میرے چھوڑوں گا نہیں میں تم سب کو “تیمور نے غصّے سے ان سب کو گھورا تھا جو ہنستے ہنستے بے حال ہو رہے تھے “oh taimoor you’r looking so funny ” اشعر ہنستے ہنستے نیچے گر گیا “ارے کیا ہو گیا تم سب کو ایسے کیوں ہنس رہے ہو ؟ “تیمور نے حیرت سے پورے گراؤنڈ میں دیکھا جہاں سب ہنسی سے بے حال ہوتے ایک دوسرے پر گر رہے تھے اور کچھ تو اپنے فون میں تیمور کی تصویر بھی کھینچ رہے تھے باقی سب تو دور دور ہی کھڑے تھے اس کے پاس وجاہت کھڑا تھا جو اپنے فون میں اس کی تصویر لے رہا تھا تیمور نے اس کی ہی گردن پکڑ کر اپنے سامنے کیا تھا “کیا ہے بے میری تصویر کیوں کھینچ رہا ہے ہاں اور یہ تیرے دانت کیوں نکل رہے ہیں ہاں بول ..”تیمور نے اسے گھورتے ہوئے کہا “بھائی …بھائی چھوڑو بھائی “بیچارے وجاہت کی شکل رونے والی ہو گئی جبھی احمد ہنستے ہوئے اس کے پاس آیا “اسے چھوڑدے تیمور اس کی کیا غلطی ؟” احمد نے اس کو چھڑایا جو فوراً ہی وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا تھا “یہ لوگ مجھ پر ہنس کیوں رہے ہیں ” تیمور نے نہ سمجھی سے احمد کو دیکھا ” روک میں بتاتا ہوں “احمد نے کہ کر اپنا فون نکالا اور اس میں فرنٹ کیمرہ لگا کر تیمور کے سامنے کیا فون میں نظر آتے اپنے چہرے پر نظر پڑتے ہی اس کا منہ حیرت سے کھلا تھا ہلکی دھاڑی والے چہرے پر گالوں ناک اور ماتھے سے سرخ رنگ کا پانی ٹپک رہا تھا پورے چہرے پر عجیب سے لال رنگ کے دھبے بن چکے تھے ایک پھول کان میں پھنسا تھا دوسرا آدھ لٹکا ہوا اس کے گریبان میں گر رہا تھا اور جو تاج اشعر نے رکھا تھا اس کے سر پر وو بھی ایک سائیڈ سے نیچے لٹک رہا تھا اور دوسری سائیڈ سے آدھے سر پر تھا کچھ پھولوں کی پتییاں اس کے چہرے پر چپکی ہی تھی بال سارے بے ترتیب سے ہو گئے تھے آدھے کھڑے ہو گئے تھے اور آدھے بلکل ہ چپک گئے تھے “یہ کیا کیا تم لوگو نے میرے ساتھ ؟ تیمور نے حیرت اور غصّے سے کہا اور اگلے ہی لمحے خود بھی ہنس پڑا اور ہنسی سے بے حال ہوتے حیدر کے پاس گیا تھا “حیدر کے بچے یہ تیرا ہی کارنامہ ہوگا “اس نے ہنستے ہوئے حیدر کے کندھے پر ایک پنچ مارا تھا “بچاؤ بچاؤ ..بھوت بھوت “حیدر ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا ہنستے ہوئے تیمور سے دور ہٹا تھا “آجاؤ سب اس گ”غیر انسانی مخلوخ کے ساتھ ایک سیلفی ہو جائے “شاہ ویز نے ہنستے ہوئے اپنا فون نکالا اب حیدر.اشعر .ریاض احمد اور حارث پیچھے کھڑے تھے اور تیمور کو انہوں نے اپنے آگے بٹھایا ہوا تھا جبکے شاہ ویز ان سے تھوڑا آگے کھڑا تھا اور ویکٹری کا نشان بنا کر سیلفی کلک کی تھی ایک سیلفی تیمور نے خود لی تھی ان سب کو اپنے پیچھے کھڑا کر کے پھر بہت ساری سیلفیز لینے کے بعد وہ سب نیچے گھاس پر ہی لیٹ گئے تھے “اب تو تجھے سبق مل گیا نہ بے ٹائم سو نے کا ؟” احمد نے ہنستے ہوئے کہا “میری توبہ جو اب میں رات کے علاوہ کسی ٹائم سو تو “تیمور نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگاے “ابے تیمور تو تو بڑی کام کی چیز ہے ابھی تیری تصویر پوسٹ کی ابھی 20 لا عکس مل گئے “حیدر نے ہنستے ہوئے موبائل کی سکرین سامنے کی جہاں ان کی ابھی کچھ دیر پہلے کی تصویر تھی “چلو سب کینٹینک چلتے ہیں .اور تیمور تو پہلے اپنا حلیہ درست کر جا کے ورنہ ان لڑکیوں نے چیخیں مار مار کر پوری یونی سر پر اٹھا لینی ہے “احمد نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا “سہی کہ رہا ہے یار پوری پرسنلیٹی کا کباڑا کر دیا تم لوگو نے “تیمور نے ایک نظر اپنے حلیہ کو دیکھا اور بوئز واش روم کی جانب بڑھ گیا اور وو سب کینٹین
آگے “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *