279.3K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Joda Episode 9

Surkh Joda by Saloni

لاھور سے میر پور ٹک کا سفر خاصا مشکل تھا ۔

وسیم کے ذھن میں بار بار اس عورت کا چہرہ اتا رہا ۔ کس طرح زمین میں سب سامان دفن کرنے کے بعد اس جگہ پر کھڑے ھو کر کودنا پھر غصے سے دیکھنا کسی بات کی تنبیہ تھی شائد ۔ کچھ مقصد تھا اس بات کا ۔ جو وسیم کی سمجھ سے بالا تر تھا ۔

خیر سفر نہایت محتاط طریقے سے کیا ۔ سفر کی دعا کے ساتھ آیت الکرسی کا ورد کرتے ہوئے سفر کا آغاز کیا تو اللہ پاک نے بہت آسانی فرمائی ۔

مایا ماریہ تمام راستہ لاھور کی باتیں کرتی رہی ۔

سدرہ نے واپسی پر وسیم کو بھرپور کمپنی دی ۔

وسیم یہ سوچ رھے تھے کہ اگر یہ تمام معاملات سدرہ کے ساتھ پیش آ تے تو شائد میں یقین کبھی نا کرتا ۔ لیکن آب نیکلس اس بات کا ثبوت ھے ۔ جو کچھ دیکھا وو غلط نہیں تھا ۔

میر پور پہنچ کر وسیم نے گھر کی بجاۓ رحیم اپنے چھوٹے بھائی کے گھر کا رخ کیا ۔

وہ جلد از جلد اس معاملے کو حل کرنا چاہتے تھے ۔

سدرہ مایا ماریہ گھر اتے ھی آرام سے لیٹ گئی ۔ بیگم رحیم رات کا کھانا تیار کرنے کچن میں مصروف ھو گئی ۔

وسیم رحیم کے ساتھ باہر نکل گئے ۔

رحیم کے ایک جاننے والے تھے جو اس قسم کے علم میں مہارت رکھتے تھے ۔

وسیم نے انھیں شروع سے آخر تک تمام واقعات بتاۓ ۔

انہوں نے کہا میں ابھی اس بات کا جواب نہیں دے سکتا ۔ مجھے کچھ مہلت دیں میں کچھ اور لوگوں سے بھی مشورہ کر لوں ۔

وسیم نے سدرہ کو الگ سے جا کر کہا کہ چیک کرو کیا جو ریڈ پرس لاھور سے تم نے خریدا تھا وہ موجود ھے یا نہیں ۔ اگر نہیں تو مایا ماریہ کے سامنے ذکر نہیں کرنا وہ پریشان ھو جاینگی ۔

سدرہ نے تمام بیگ دیکھے اور ان میں پرس واقعی نہیں تھا ۔

خوف سے سدرہ کی آنکھیں پھیل گئی ۔ وسیم نے سدرہ کو عورت کی تمام کارروائی بتائی ۔ جسے سدرہ سنکر خوفزدہ ھو گئی ۔

وسیم نے رات رحیم کے گھر بسر کی ۔ صبح وسیم بچوں کو گھر ڈراپ کرنے کے بعد آفس چلے گئے ۔

مایا ماریہ کی اسکول سے چھٹی تھی ۔

کچھ دن گھر میں لاھور کے قصے اور باتیں ہوتی رهی ۔ پھر سب اپنے اپنے کاموں میں مگن ھو گئے ۔

رحیم اور وسیم نے ہفتے بعد انہی عامل سے دوبارہ رابطہ کیا ۔

انہوں نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ۔

انکے مطابق یہ اس عورت کی تنبیہ تھی کہ ابھی تک مایا ماریہ اپنے ورثا تک نہیں پہنچ پائیں ۔

اگر ایسا ھی رہا تو سخت نقصان کا اندیشہ ھے ۔

نیکلس دینے کا مقصد تھا ۔ اس پر کنندہ لفظ “ٹوانہ ” ۔

یہ ایک فمیلی ھے ۔ شائد یہ فمیلی اس

کا راز بتا سکے ۔

سب سے پہلے ٹوانہ فمیلی کا پتا لگاؤ ۔

شائد یہ نیکلیس دیکھ کر وہ کچھ مدد کر سکے ۔

وسیم کو انکی باتوں نے کافی متاثر کیا ۔

انہوں نے اس کام کے لیے اپنے سب دوستوں سے مدد طلب کی ۔

معلوم یہ پڑا کہ اج سے پچیس سال پہلے یہاں دو خاندان آباد تھے ۔

دونوں بھائی تھے لیکن ایک دوسرے کے جان کے دشمن .

وجہ دشمنی دونوں بھائیوں کی اولاد کی اپس میں پسند کی شادی تھی ۔ پھر ایک خاندان یہاں سے اپنا سب کچھ بیچ کر کسی دوسرے علاقے میں شفٹ ھو گئے ۔

دوسرے خاندان نے دس سال پہلے یہ جائیداد کسی ٹرسٹ کے حوالے کر کے باہر کسی ملک میں سیٹل ھو گئے ۔

وسیم اور رحیم اس ٹرسٹ تک پہنچ گئے لیکن کوئی خاص معلومات فراہم نا کر سکے ۔

مایا ماریہ کا رزلٹ کافی اچھا آیا ۔

دونوں نے کلاس میں ٹاپ کیا ۔

وسیم کو انہیں اچھے سے کالج میں داخل کرانے کی فکر ہونے لگی ۔

سدرہ کی بہت خواہش تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں کو ڈاکٹر بناۓ ۔

خوش قسمتی سے دونوں کو داخلہ بھی مل گیا ۔

دو سال کولج سے یونیورسٹی تک پہنچ گئی ۔

اس بیچ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں ہوا ۔ سوائے اس کے کہ نیکلس بارہا مرتبہ کسی نا کسی طرح وسیم کے قدموں میں پڑا ملتا ۔ جیسے کسی بات کو یاد دلا رہا ھے ۔

وسیم جب جب اسے دیکھتے ایک عجیب سی پریشانی میں مبتلا ھو جاتے ۔

یونیورسٹی میں مایا ماریہ نے قدم رکھا تو ہر کسی کو اپنا فین پایا ۔

اسقدر مماثلت تھی کہ استاد پریشان ھو جاتے ۔

اپنی اسی مماثلت سے دونوں نے خوب فائدہ اٹھایا ۔

دونوں کی شرارتوں نے پوری یو۔نی کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔

ابتہاج کلاس میں نیو تھا ۔ اسکے والدین حال میں ھی کینیڈا سے پاکستان شفٹ ہوۓ ۔

پچھلے 18 سال سے وہیں مقیم تھے ۔ آب وطن کی محبت اور کچھ ماضی کی یادیں انہیں پاکستان انے پر مجبور کر گئی ۔

ابتہاج انکا اکلوتا بیٹا تھا ۔ نہایت ذہین اور سنجیدہ انسان ۔

اپنے کام سے کام رکھنے والا ۔

کلاس کے کافی لیکچر گزر جانے کے بعد یونی میں آیا تھا ۔

آب اسے پچھلے تمام لیکچر کوور کرنا تھے ۔

سر نے ابتہاج کو مشورہ دیا کہ پچھلے لیکچر آپ کلاس فیلوز کے ساتھ مل کر شیر کر لے ۔

سر نے کچھ طلبہ کے نام لیے کہ یہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں ۔ ۔۔۔

جن میں مایا ماریہ بھی شامل تھیں ۔ ۔۔۔۔