Surkh Joda by Saloni NovelR50454 Surkh Joda Episode 9
Rate this Novel
Surkh Joda Episode 9
Surkh Joda by Saloni
لاھور سے میر پور ٹک کا سفر خاصا مشکل تھا ۔
وسیم کے ذھن میں بار بار اس عورت کا چہرہ اتا رہا ۔ کس طرح زمین میں سب سامان دفن کرنے کے بعد اس جگہ پر کھڑے ھو کر کودنا پھر غصے سے دیکھنا کسی بات کی تنبیہ تھی شائد ۔ کچھ مقصد تھا اس بات کا ۔ جو وسیم کی سمجھ سے بالا تر تھا ۔
خیر سفر نہایت محتاط طریقے سے کیا ۔ سفر کی دعا کے ساتھ آیت الکرسی کا ورد کرتے ہوئے سفر کا آغاز کیا تو اللہ پاک نے بہت آسانی فرمائی ۔
مایا ماریہ تمام راستہ لاھور کی باتیں کرتی رہی ۔
سدرہ نے واپسی پر وسیم کو بھرپور کمپنی دی ۔
وسیم یہ سوچ رھے تھے کہ اگر یہ تمام معاملات سدرہ کے ساتھ پیش آ تے تو شائد میں یقین کبھی نا کرتا ۔ لیکن آب نیکلس اس بات کا ثبوت ھے ۔ جو کچھ دیکھا وو غلط نہیں تھا ۔
میر پور پہنچ کر وسیم نے گھر کی بجاۓ رحیم اپنے چھوٹے بھائی کے گھر کا رخ کیا ۔
وہ جلد از جلد اس معاملے کو حل کرنا چاہتے تھے ۔
سدرہ مایا ماریہ گھر اتے ھی آرام سے لیٹ گئی ۔ بیگم رحیم رات کا کھانا تیار کرنے کچن میں مصروف ھو گئی ۔
وسیم رحیم کے ساتھ باہر نکل گئے ۔
رحیم کے ایک جاننے والے تھے جو اس قسم کے علم میں مہارت رکھتے تھے ۔
وسیم نے انھیں شروع سے آخر تک تمام واقعات بتاۓ ۔
انہوں نے کہا میں ابھی اس بات کا جواب نہیں دے سکتا ۔ مجھے کچھ مہلت دیں میں کچھ اور لوگوں سے بھی مشورہ کر لوں ۔
وسیم نے سدرہ کو الگ سے جا کر کہا کہ چیک کرو کیا جو ریڈ پرس لاھور سے تم نے خریدا تھا وہ موجود ھے یا نہیں ۔ اگر نہیں تو مایا ماریہ کے سامنے ذکر نہیں کرنا وہ پریشان ھو جاینگی ۔
سدرہ نے تمام بیگ دیکھے اور ان میں پرس واقعی نہیں تھا ۔
خوف سے سدرہ کی آنکھیں پھیل گئی ۔ وسیم نے سدرہ کو عورت کی تمام کارروائی بتائی ۔ جسے سدرہ سنکر خوفزدہ ھو گئی ۔
وسیم نے رات رحیم کے گھر بسر کی ۔ صبح وسیم بچوں کو گھر ڈراپ کرنے کے بعد آفس چلے گئے ۔
مایا ماریہ کی اسکول سے چھٹی تھی ۔
کچھ دن گھر میں لاھور کے قصے اور باتیں ہوتی رهی ۔ پھر سب اپنے اپنے کاموں میں مگن ھو گئے ۔
رحیم اور وسیم نے ہفتے بعد انہی عامل سے دوبارہ رابطہ کیا ۔
انہوں نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ۔
انکے مطابق یہ اس عورت کی تنبیہ تھی کہ ابھی تک مایا ماریہ اپنے ورثا تک نہیں پہنچ پائیں ۔
اگر ایسا ھی رہا تو سخت نقصان کا اندیشہ ھے ۔
نیکلس دینے کا مقصد تھا ۔ اس پر کنندہ لفظ “ٹوانہ ” ۔
یہ ایک فمیلی ھے ۔ شائد یہ فمیلی اس
کا راز بتا سکے ۔
سب سے پہلے ٹوانہ فمیلی کا پتا لگاؤ ۔
شائد یہ نیکلیس دیکھ کر وہ کچھ مدد کر سکے ۔
وسیم کو انکی باتوں نے کافی متاثر کیا ۔
انہوں نے اس کام کے لیے اپنے سب دوستوں سے مدد طلب کی ۔
معلوم یہ پڑا کہ اج سے پچیس سال پہلے یہاں دو خاندان آباد تھے ۔
دونوں بھائی تھے لیکن ایک دوسرے کے جان کے دشمن .
وجہ دشمنی دونوں بھائیوں کی اولاد کی اپس میں پسند کی شادی تھی ۔ پھر ایک خاندان یہاں سے اپنا سب کچھ بیچ کر کسی دوسرے علاقے میں شفٹ ھو گئے ۔
دوسرے خاندان نے دس سال پہلے یہ جائیداد کسی ٹرسٹ کے حوالے کر کے باہر کسی ملک میں سیٹل ھو گئے ۔
وسیم اور رحیم اس ٹرسٹ تک پہنچ گئے لیکن کوئی خاص معلومات فراہم نا کر سکے ۔
مایا ماریہ کا رزلٹ کافی اچھا آیا ۔
دونوں نے کلاس میں ٹاپ کیا ۔
وسیم کو انہیں اچھے سے کالج میں داخل کرانے کی فکر ہونے لگی ۔
سدرہ کی بہت خواہش تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں کو ڈاکٹر بناۓ ۔
خوش قسمتی سے دونوں کو داخلہ بھی مل گیا ۔
دو سال کولج سے یونیورسٹی تک پہنچ گئی ۔
اس بیچ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں ہوا ۔ سوائے اس کے کہ نیکلس بارہا مرتبہ کسی نا کسی طرح وسیم کے قدموں میں پڑا ملتا ۔ جیسے کسی بات کو یاد دلا رہا ھے ۔
وسیم جب جب اسے دیکھتے ایک عجیب سی پریشانی میں مبتلا ھو جاتے ۔
یونیورسٹی میں مایا ماریہ نے قدم رکھا تو ہر کسی کو اپنا فین پایا ۔
اسقدر مماثلت تھی کہ استاد پریشان ھو جاتے ۔
اپنی اسی مماثلت سے دونوں نے خوب فائدہ اٹھایا ۔
دونوں کی شرارتوں نے پوری یو۔نی کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔
ابتہاج کلاس میں نیو تھا ۔ اسکے والدین حال میں ھی کینیڈا سے پاکستان شفٹ ہوۓ ۔
پچھلے 18 سال سے وہیں مقیم تھے ۔ آب وطن کی محبت اور کچھ ماضی کی یادیں انہیں پاکستان انے پر مجبور کر گئی ۔
ابتہاج انکا اکلوتا بیٹا تھا ۔ نہایت ذہین اور سنجیدہ انسان ۔
اپنے کام سے کام رکھنے والا ۔
کلاس کے کافی لیکچر گزر جانے کے بعد یونی میں آیا تھا ۔
آب اسے پچھلے تمام لیکچر کوور کرنا تھے ۔
سر نے ابتہاج کو مشورہ دیا کہ پچھلے لیکچر آپ کلاس فیلوز کے ساتھ مل کر شیر کر لے ۔
سر نے کچھ طلبہ کے نام لیے کہ یہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں ۔ ۔۔۔
جن میں مایا ماریہ بھی شامل تھیں ۔ ۔۔۔۔
