279.3K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Joda Episode 8

Surkh Joda by Saloni

وسیم نے مناسب نہیں سمجھا کہ وہ تینوں سے اس سلسلے میں کوئی بھی بات کرے ۔

کھانا کھانے کے بعد سدرہ مایا اور ماریہ بے سدھ سو گئی ۔ جبکہ وسیم ہوٹل کی لابی میں ا گئے ۔

یہاں سے نیٹ کا پاسورڈ لیا اور اپنے کچھ ضروری کام کو نبٹانے لگے ۔

رات گئے واپس کمرے میں لوٹے اور تینوں کو دیکھا جو گہری نیند کی مزے لے رهی تھیں ۔

وسیم سوچنے لگے کہ راستے میں انے والے تمام بورڈز ماریہ نے لفظ بہ لفظ سہی بتاۓ آخر ایسا کیسے ہوا ۔

یا اللہ کچھ گڑ بڑ نہ ھو ۔ میری مدد فرما ۔ مجھے ثابت قدم رکھنا ۔

وسیم نے اٹھ کر تہجد پڑھی اور اپنے رب سے خیر کی دعا طلب کی ۔

وسیم کا ذھن ایسی باتوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ھے ۔ ھو سکتا ھے میرا وہم ھو ۔

صبح سب تازہ دم ھو کر لاھور کی مشہور مقامات دیکھنے کیلئے نکل پڑے ۔

سب سے پہلے وہگھہ بارڈر دیکھنے کا پروگرام بنا ۔

سب نے خوب انجونے کیا ۔ یہاں لوگوں کا کافی ہجوم تھا ۔ شام کا خوبصورت منظر دیکھنے کے لیے ابھی سے لوگ اکھٹے ھو رھے تھے ۔ ٹائم کی کمی باعث ایک دن میں دو تین جگہیں دیکھنے کا پرگرام بنا ۔

وسیم کی خواہش تھی کہ دو دن میں کافی مقامات کی سیر کر لی جاۓ تاکہ مایا ماریہ کی نالج میں بھی اضافہ ہو ۔

سیر کے ساتھ ساتھ سدرہ نے مایا ماریہ کے لیے کچھ خوبصورت کپڑے خریدے ۔ مایا کو ایک سرخ پرس بیحد پسند آیا ۔ اسنے وہ پرس بھی خرید لیا ۔ اورکچھ گھر سے متعلق ڈیکوریشن پیس بھی ۔

دو دن کافی موج مستی میں ا گزر گئے ۔ خوب انجوے کیا ۔ صبح نماز فجر کے بعد واپسی کا پروگرام بنا ۔ تاکہ روشنی میں میر پور پہنچ سکے ۔

سدرہ اور مایا ماریہ آرام کرنے لگی ۔

وسیم چائے کا کپ ہاتھ میں لیے کھڑکی کے پاس آن کھڑے ہوئے ۔

چائے پیتے ہوۓ وہ سدرہ سے باتیں کررہے تھے ۔ کہ انہوں نے دیکھا ۔ کھڑکی سے باہر ایک عورت بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ اس کے پاس ایک گھٹری پڑی تھی جس میں کچھ لپٹا ہوا تھا ۔ پھر وہ اٹھ کر زمین پر بیٹھ گئی اور زمین کو کھودنا شروع کر دیا ۔

وسیم نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا اور سدرہ سے بدستور باتیں کرتے ہوئے کہا ۔ کہ جو دو تین دن یہاں لگ گئے ۔ آب جا کے خوب کام کرنا ھو گا ۔ کام کا کافی حرج ہوا ھے۔ اور ساتھ مایا ماریہ کی پڑھائی ۔۔۔

ابھی یہ بات کر ھی رھے تھے کہ وہ حیران پشیمان رہ گئے ۔

۔کوئی زمین کھودنے کے بعد اس میں مایا ماریہ کے سرخ فراک ریڈ باربی ڈول اور لاھور سے خریدا ہوا پرس گڑھے میں پھینک کر اوپر مٹی ڈال دی اور بے انتہا غصے سے اس گڑھے کے اوپر کودنا شروع کر دیا ۔

وسیم شدید چکرا کر بیڈ پر گرے اور بیہوش ہوگئے ۔

سدرہ پریشانی سے بے حال ھو گئی ۔ اسے بالکل سمجھ نہیں آئ کہ وسیم کے ساتھ ایسا کیا ہوا ۔

ہوٹل کی انتظامیہ نے فورا طبی امداد فراہم کی ۔ جس سے جلد ھی وسیم ھوش میں آ گئے ۔ لیکن وہ فلحال بات چیت کے قابل نہیں تھے ۔

ڈاکٹر نے مکمل سکوں کی گولی دیکر سونے کا مشورہ دیا ۔

رات کے پچھلے پہر وسیم نیند سے جاگے تو کچھ یاد آیا اور بھاگ کر کھڑکی سے نیچے دیکھا ۔

وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔ وسیم تیزی سے آے اور بیگ سے پرس ڈھونڈنے لگے ۔ کافی تلاش کے بعد معلوم ہوا کہ پرس بھی غائب ہو چکا تھا ۔

انہوں نے سوچا ابھی سدرہ سے پوچھنا مناسب نہیں ۔ ھو سکتا ھے مجھے نا ملا ھو ۔ پھر بھی میر پور پہنچ کر سدرہ سے ریڈ پرس کا پتا کروں گا ۔

صبح تک کا انتظار بہت مشکل تھا ۔

وسیم نے دوبارہ سونے کی کوشش کی مگر بے سدھ ۔

وسیم آب بار بار اٹھ کر کھڑکی کی طرف اتے ۔

جس جگہ اس نے گڑھا کھودا تھا وہاں پر کچھ جیسے نگ یا موتی نما چیز چمک رهی تھی ۔

اس موتی کی چمک نجانے کیوں وسیم کو اپنی جانب کھینچ رهی تھی ۔

رات کافی گہری تھی اس ٹائم باہر جانا مناسب بھی نہیں تھا ۔

وسیم نے موبائل فون پر اپنے بھائی کا نمبر ملایا اور اسے کل اپنے واپس جانے کی اطلاع دی اور سرسری سے معملات بھی بتاۓ ۔

بتانے کا مقصد اسے الرٹ کر نے کا تھا ۔ کہیں خدانخواستہ اگر کوئی حادثہ نا ھو جاۓ ۔

جیسے تیسے رات گزری ۔ صبح کا اجالا ہوتے ہی وسیم بھاگے بھاگے اس جگہ تک گئے تو گڑھے کا نام و نشان بھی نہیں تھا البتہ وہاں ایک بہت خوبصورت نیکلس پڑا ملا جو وسیم نے اپنی جیب میں رکھ لیا ۔

نیکلس پر لفظ “Twana ” کنندہ تھا ۔ ۔۔