Surkh Joda by Saloni NovelR50454 Surkh Joda Episode 2
Rate this Novel
Surkh Joda Episode 2
Surkh Joda by Saloni
سمیر جب فریش ہوکر باہر آیا تو جین کچن میں مصروف تھی ۔ اسے بڑی مزیدار خوشبو نے بے چین کر دیا ۔ سوچنے لگا کہ جین کی وجہ سے گھر میں ایک دم رونق سی ھو گئی ۔
نجانے کیا پکا رهی ھے ۔ پر میں اس سے بولوں گا پھر بھی نہیں ۔
یہ بھی کوئی بات ھے بھلا دو دن بنا بتاۓ غائب رهی ۔
سمیر ٹی وی دیکھنے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔
جین تھوڑی دیر میں ھی گرما گرم آلو کے پراٹھے لیکر آ گئی۔
سمیر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ۔
جین کو بھی شرارت سوجھی اور آرام سے بیٹھ کر اکیلے کھانا شروع کر دیا ۔
اور سمیر کو صلح تک نہیں ماری ۔
سمیر کے منہ میں پانی ا گیا ۔
غصّے سے اسکے ساتھ آن بیٹھا اور خود ھی کھانا شروع کر دیا ۔
جین نے اپنے ہاتھ سے نوالہ سمیر کے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا کہ ۔
ناراض ہو ۔
سمیر نے کسی سعادت مند بچوں کی طرح جواب دیا ۔
ہاں ھوں ۔
اور پراٹھے کھانے کے بعد پھر ناراض ہو جاؤں گا ۔
جین قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔
لیکن تم ایسا کیوں کرو گے ۔
اب سمیر کافی سیریس ھو گیا ۔
ا س نے کھانا چھوڑ کر جین کو کہا۔
میں جانتا ھوں ۔ مجھے تم سے ناراض ہونے کا کوئی حق نہیں ۔
پر ایک دوست ہونے کے ناطے مجھے بتا تو سکتی تھی کہ تم دو دن کی holiday پر ھو ۔
جین کو سمیر کی بات پر بہت پیار آیا ۔
اس نے اگے بڑھ کر نوالہ بنا کر سمیر کے منہ میں ڈالا اور بولی ۔
میں معذرت چاہتی ھوں ۔ میں واقعی بزی تھی ۔
اور بیمار بھی تھی ۔
لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ۔
جین فورا اپنے کان کو پکڑتے ہوۓ بولی ۔
سمیر نے بھرپور نگاہ ڈالتے ہوئے جین کو دیکھا ۔ اور مسکرا اٹھا ۔
اوکے پہلے یہ بتاؤ یہ اتنے مزیدار آلو کے پراٹھے کہاں سے سیکھے ۔
دیکھ لو سمیر کتنی محنت کی میں نے تمہارے لیے۔
میں نے دو دن لگا کر پراٹھے سیکھے۔
او ۔ اچھا ۔ اسی لئے غائب تھی ۔ سمیر نے کہا ۔
تو اور کیا ۔
جین نے جیسے بہت بڑا احساں کیا ھو ۔
سمیر نے اگے بڑھ کر پیار سے جین کے ہاتھ پکڑ لیے ۔
سمیر کے اسطرح دیکھنے سے دونوں پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ھو گئی ۔
دونوں کچھ دیر خاموش رھے ۔
زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے ایسا لگا جیسے مجھے کسی کا انتظار تھا ۔
جیسے میں تم بن ادھورا ھوں ۔
سمیر نے انتہائی بے چارگی میں کہا ۔
جین ۔ تم کیا سوچتی ھو میرے بارے میں ۔
مجھے کیا سوچنا چاہیے سمیر ۔
جین نے الٹا سمیر سے پوچھ ڈالا ۔
مطلب یہ جو ہم ملتے ہیں ۔ اس کا احتتام کیا ہوگا ۔ سمیر نے اداسی سے پوچھا ۔
کیا ہوگا سمیر تم بتاؤ ۔ جو تم چاہتے ھو وہی ہوگا ۔ جین نے سمیر کو مطمئن کرنے کے لیے کہا ۔
اچھا سچ بتاو ۔ سمیر کے لہجے میں شوخی آ گئی ۔
ہاں ہاں ۔ سچ ۔ جین نے بھی اسی انداز میں جواب دیا ۔
مطلب شادی ۔ ہا ہا ہا ہا ۔ سمیر نے جین کو چھیڑنے کے موڈ میں کہا ۔
ھو بھی سکتا ھے اس میں اتنا ہنسنے کی کیا ضرورت تھی ۔
جین نے برا مانتے ہوۓ کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔
میں جا رهی ھوں اب ۔
سمیر بھاگتا ہوا دروازے کے بیچ کھڑا ھو گیا اور کہا ۔ چلو جا کے دکھاؤ ۔
جین دروازے کی طرف بڑھی اور سمیر کے سامنے آن کھڑی ھوئی ۔ اور کہا ۔
سمیر ہٹو اگے سے ۔
ہٹا لو ۔ اج سمیر بہت شوخا ھو رہا تھا ۔
دونوں برابر آمنے سامنے کھڑے ھو گئے ۔ کہ سمیر سانسیں جین کے ساتھ ٹکرانے لگی ۔
سمیر ایک ٹک جین کو دیکھنے لگا ۔
اچانک سمیر نے چونکا دینے والا سوال پوچھ لیا ۔
جین ۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی ۔
جین منہ سے بے ساختہ نکل پڑا ۔
ہاں میں کرونگی ۔
سمیر نے اگے بڑھ کر جین کو سینے سے لگا لیا ۔ اور بولا ۔
بہت شکریہ ۔جین تم نے میری ٹینشن دور کر دی ۔
میں تمہیں خوش رکھنے کی کوشش کروں گا ۔
سمیر نے جین کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اسے گاڑی تک چھوڑنے ا گیا ۔
جین کے والدین کو جین اور سمیر کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔انکو بھی سمیر پسند تھا ۔
سمیر میں ایسی کوئی برائی بھی نہیں تھی ۔ وہ کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ھو سکتا تھا ۔ جین کے والدین یہ چاہتے تھے کہ ۔ شادی ضرور کریں لیکن تعلیم مکمل ہونے کے بعد ۔
جین اور سمیر تعلیم مکمل ہونے تک ملتے رھے ۔
چار سال میں دونوں ایک دوسرے کے بیحد قریب ا چکے تھی ۔
یونی کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد دونوں نے سادگی سے باقاعدہ شادی کر لی یوں جین سمیر کی دلہن بن کر اس کے اپارٹمنٹ میں آ گئی ۔
سمیر کی روکھی پھیکی زندگی میں رنگ بھر گیا ۔
جیسے سوکھے بے جان پتوں میں جان ا گئی ھو اور وہ پھر سے ہرے بھرے ھو گئے ھوں ۔
زندگی اتنی خوبصورت ھو سکتی ھے اس بات کا احساس اب ہوا سمیر کو ۔
جین ایک اچھی شریک سفر ثابت ھوئی ۔
جین نے اتے ھی سمیر میں رشتوں سے محبت کا احساس اجاگر کیا ۔
جین اکثر سمیر کی تنہائی کو محسوس کرتی اور اسے مجبور کرتی کہ ہم پاکستان جا کر تمہاری فمیلی کو ڈھونڈھتے ہیں ۔
سمیر جین کی باتوں پر کافی دیر تک سوچتا رہتا ۔
جین سمیر کے ساتھ اپنے والدین کے گھر ہفتے میں ایک مرتبہ ضرور جاتی تھی ۔
اج ویکینڈ تھا ۔ دونوں جین کے گھر کھانے پر مدعو تھی ۔ جین کی مام کو بینک میں ایک ضروری کام تھا اور جین کو رات اپنے پاس رکھ لیا ۔ لہٰذا سمیر کو گھر اکیلے جانا پڑا ۔
گھر کا دور کھولتے ہوۓ سمیر کو ایک عجیب سا احساس محرومی ہونے لگا ۔
سمیر کو رات اکیلے کاٹنا ایک عذاب لگ رہا تھا ۔
نیند کوسوں دور بھاگ گئی ۔
اپنا سیل فون اٹھایا اور جین کو کال کر دی ۔
جین نے موبائل پر روشنی میں سمیر کا چمکتا ہوا نام دیکھ کر جین مسکرا اٹھی ۔
فورا کال پک کی اور سمیر کو سوری بولا ۔
سمیر نے کہا ۔
جین سوری کیوں ۔
سمیر مجھے پتا ھے تمہیں نیند نہیں ا رهی ۔ صبح موم کے کام سے فری ھو کر میں سیدھی گھر ا جاؤں گی ۔
اوکے نو پروبلم ۔ تم پریشان مت ھو ۔
میں نے سوچا سونے سے پہلے اپنی جان کو گڈ نائٹ کہہ دوں ۔
میں بس سونے لگا ۔ تم بھی سو جاو اب ۔
جین نے سمیر کو گڈ نائٹ کہا اور سو گئی ۔
سمیر آدھی رات کو یکدم گھبرا کر بیٹھ گیا ۔
اہ مائی گاڈ ۔ یہہ مائی نے کیا خواب دیکھا ۔
سخت سردی کے باوجود سمیر پسینے سے شرابور ھو گیا ۔
اٹھ کر ٹائم دیکھا ۔چار بجے کا ٹائم تھا ۔
مانچسٹر کی سرد رات اور چار بجے کا ٹائم ۔ ایک ھو کا عالم تھا سب طرف ۔
ٹھنڈی تیز ہواؤں کی آواز اج کچھ زیادہ ھی اداس کر رهی تھی ۔
ایک خواب کا اثر تھا اور کچھ ہواؤں کی تیز آوازیں ۔
سمیر کو خوفزدہ کر رهی تھیں ۔
سمیر کا بیحد دل چا ہا کہ وہ جین کو فون کرے کہ ابھی گھر واپس آ جاۓ ۔
جیسے تیسے رات تو کٹ گئی ۔ سمیر کے لیے کافی کٹھن اور لمبی رات تھی ۔
صبح بارہ بجے کے قریب جین گھر واپس آ گئی ۔ اسکی طبیعت خاصی خراب معلوم ھو رهی تھی ۔
سمیر نے جین کو ہاتھوں ہاتھ لیا ۔
جین نے محسوس کیا سمیر بہت اداس ھے ۔
جین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ایسا کیا کرے کہ جس سے گزری رات کی تکلف کم ھو سکے ۔
جین کی گود میں سمیر نے سر رکھ کر آنکھیں موند لیں ۔ اور بولا ۔
تمہیں پتا ھے جین میں نے کل خواب میں کیا دیکھا ۔
نہیں مجھے کیسے پتا چل سکتا ھے ۔ خواب تو تم نے دیکھا ۔
جین سمیر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوۓ بولی ۔
جین میں نے خواب میں خود کو قتل کرتے ہوئے دیکھا ۔
میرے سامنے میں خود کھڑا ھوں ۔ اور میں نے خود کا قتل کر دیا ۔
یہ کہہ کر سمیر اٹھ بیٹھا اور جین کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولا ۔ کتنا خوفناک خواب تھا نا ۔
جین نے سمیر کو تسلی دیتے ہوئے کہا ۔
اصّل میں کل اکیلے تھی گھر میں ۔ اسی لیے ایسا عجیب سا خواب آیا ۔
چلو اب فٹافٹ فریش ھو جاؤ ۔ اج گروسری ڈے ھے ۔ باہر بھی جانا ھے ۔
اوکے باس ۔ کیا بریک فاسٹ بھی ملے گا یا ایسے ھی گھسیٹو گی ۔
ملے گا ۔پر فریش ہونے کے بعد ۔
جین نے الماری سے سمیر کی مرون شرٹ اور جینز نکال کر بیڈ پر رکھی اور خود کچن میں آ گئی ۔
املیٹ اور ٹوسٹ بنا کر جلدی جلدی ٹیبل پر رکھے اور کافی بنانے لگی ۔
سمیر اور جین ایک ھی سٹور پر کام کرتے تھے ۔
ایسے وہ سارا ٹائم ایک ساتھ گزارتے ۔
صبح کے ٹائم گھر کے کاموں کو بھی ساتھ ساتھ نبٹاتے ۔
اج شاپنگ ڈے تھا ۔ سٹور پر جانے سے پہلے گھر کی کچھ ضروری چیزیں لینا تھیں جین کو ۔
اج جین کچھ تھکن محسوس کر رهی تھی ۔ طبیعت میں بھی بے چینی سی رهی ۔ دن بھر کے کاموں سے تھکی ہاری بیڈ پر گرتے ہی سو گئی۔
سمیر نے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا اور خود بھی سو گیا ۔
رات کے آخری پہر ۔جین ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی ۔ اسکی سانسیں اکھڑ رهی تھیں ۔ زور زور سے سانسیں لینے لگی تو سمیر کی آنکھ بھی کھل گئی ۔
سمیر نے جین کو سینے سے لگا لیا تو وہ پسینے سے مکمل بھیگ چکی تھی ۔
جین کیا ہوا بولو۔ سمیر نے بیحد پریشانی سے کہا ۔
ڈر خوف سے جین کی آنکھیں کھل چکی تھیں ۔
اج بھی باہر ہوا بہت غصّے میں تھی شائد ۔
ہوا کا شور صاف محسوس ھو رہا تھا ۔ جبکہ مانچسٹر کے گھروں میں بیحد موٹے شیشے باہر کے شور شرابے سے محفوظ ہوتے ہیں ۔
جین نے گھبرا کر سمیر کو بتایا ۔
سمیر میں نے پتا ھے کیا خواب دیکھا ۔
سمیر نے بڑے پیار سے پوچھا ۔
شائد خواب سنا کر اسکا بوجھ ہلکا ھو جاۓ اور پھر سکوں سے سو سکے ۔
سمیر میں نے دیکھا کہ میں نے خود کا قتل کر دیا ۔
میرے سامنے میں خود کھڑی تھی اور تیز دھار الے سے خود کو قتل کر دیا ۔
رات کا وہی پہر تھا ۔ سمیر نے ٹائم دیکھا تو پورے چار بج چکے تھے ۔
