279.3K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Joda Episode 10

Surkh Joda by Saloni

مایا کو پڑھانا سمجھانا زہر لگتا تھا ۔ مگر سر کا حکم بھی ماننا پڑا ۔

ابتہاج خاموش طبع انسان تھا ۔ کلاس میں نیا بھی تھا ۔ اسے مایا ماریہ کے ہمشکل ہونے کا بھی پتا نہیں تھا ۔

لہٰذا کلاس فیلوز نے ملکر اسے ڈرانے کا منصوبہ بنایا ۔

کلاس ختم ہونے کے بعد سب سٹوڈنٹس باہر نکل گئے کلاس روم خالی ھو گیا ۔ کلاس روم میں دو دروازے تھے ۔ مایا نے ابتہاج کو نوٹس دیتی ھوے کہا ۔

کوشش کرنا کہ پچھلے لکچر جلد کور کر سکو ۔

جی sure ۔ ابتہاج نے سعادت مندی سے جواب دیا اور اپنے کام میں لگ گیا ۔

ابھی دس منٹ ھی گزرے کسی کے رونے کی آوازیں سنائی دینے لگی ۔

ابتہاج پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا تو مایا نے پوچھا ۔

کیا ہوا ۔

یہ کون رو رہا ھے ۔

مطلب ابتہاج ۔ مجھے تو یہاں کوئی نظر نہیں ہ رہا ۔ مایا نے کہا ۔

ابتہاج نے حیرت سے مایا کو دیکھا اور پوچھا ۔ کیا آپکو کسی کے رونے کی آواز نہیں آ رهی ۔

جی نہیں ۔ اور میں نے آپ سے کہا تھا پلیز جلد کام کریں مجھے کافی دیر ھو جاۓگی ایسے ۔

ابتہاج نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا ۔

سوری ۔ میں اپکا زیادہ ٹائم نہیں لونگا ۔ اور پھر اپنے کام میں جت گیا ۔

ابھی مایا ایک اہم ٹوپک کیطرف آئ ھی تھے کہ کچھ لوگؤں کے دگڑ دگڑ دوڑنے کی آوازیں سنائی دینے لگی ۔

ابتہاج پھر سے گھبرا گیا ۔ اور پریشانی سے بولا ۔ یہ کیا ھو رہا ھے ۔

کیا ہورہا ھے ۔ مایا نے انجان بنتے ہوۓ کہا ۔

یعنی آپکو کسی کے بھاگنے کی آوازیں سنائی نہیں دے رهی ۔

مایا نے سپاٹ لہجے میں کہا ۔

نہیں ابتہاج مجھے کوئی آواز نہیں آ رهی ۔

پلیز اپنے کام کی طرف دھیان دے ۔ مجھے جلدی ھے ۔

ابتہاج بیحد شرمندہ ہوا ۔ اور پھر سے سوری کی ۔اپنے کام میں لگ گیا ۔

مایا اپنی ہنسی کو بڑی مشکل سے قابو میں کرتے ہوۓ بولی ۔

ابتہاج مجھے لگتا ھے آپ کچھ ذہنی طور پر ڈسٹرب ہیں ۔ کوئی مسلہ ھے کیا ۔

جی نہیں ۔ ایسی کوئی بات نہیں ۔

ابتہاج بھی قدرے حفگی سے بولا ۔

میں باقی کا کام کل کر لونگا ۔

آپ جا سکتی ہیں ۔

جو ٹائم لیا اپکا اس کے لیے شکریہ ۔

نہیں نہیں میرا مقصد کچھ ایسا نہیں تھا ۔ آپ بےفکر ھو کر کام کرے ۔ میرے پاس ابھی ادھ گھنٹہ ھے ۔ مایا نے دل سوچا ۔

اگلا سین تو ھو جاۓ ۔ پھر چلے جانا ۔

یہ سوچ کر وہ دل ھی دل میں مسکرائی اور دونوں پھر سے کام میں مشغول ھو گئے ۔

ابتہاج خاصا تیز رفتار سے کام کر رہا تھا ۔

مایا اسے چپکے چپکے دیکھنے لگی ۔

اس نے اندازہ لگایا ۔ ابتہاج باقی لڑکوں سے مختلف ھے ۔

زیادہ باتیں بھی نہیں کرتا ۔ چہرے پر ایک عجیب سی کشش تھی ۔

مایا کو ایسے محسوس ہوا کوئی بہت قریب کا رشتہ ھو اس سے ۔

خیر پلان تو پلان ھے اسے ڈرانا تو ھے ۔

پلان کے مطابق ابھی ابتہاج لکھنے میں مصروف تھا کہ پیچھے سے آواز آئی ۔

اب۔ تہا ۔ج ۔ (ابتہاج )

ابتہاج نے تیزی سے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ ماریہ چڑیل بنی بڑی بڑی آنکھوں کو اور پھیلا کر اسے پکار رهی تھی ۔ ابتہاج نے اسے دیکھا اتنے میں مایا پھرتی کی سی تیزی میں سیٹ کے نیچے بیٹھ گئی ۔ درمیان میں ایک بڑے ٹیبل کی وجہ سے چھپ گئی ۔ ابتہاج نے واپس پلٹ کر دیکھا ۔ مایا غائب تھی ۔

ابتہاج نے پھر پیچھے دیکھا تو مریا غائب ھو گئی ۔

آب جب ابتہاج سامنے پلٹے تو مایا بڑی اطمینان سے نوٹ پیڈ پر لکھ رهی تھی ۔

ابتہاج پوری طرح سے چکرایا اور زمین پر گر گیا۔

کلاس کے سبھی لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ھو گئے ۔

واصف نے پاس پڑے ہوۓ گلاس سے پانی کے چھینٹے ابتہاج پر پھینکے اور سہارا دے کر اٹھاتے ہوئے کہا ۔

کیا ہوا بھائی ۔ کوئی مسلہ یا پریشانی ھے تو شیر کرو ۔

ابتہاج نے ھوش میں اتے ھی مایا کو انتہائی غور سے دیکھا ۔

اپنی کتابیں سمیٹی اور کلاس سے بھاگ گیا۔

اچھے خاصے لڑکے کی درگت بنا ڈالی ۔ پوری کلاس ہنس ہنس کر مایا ماریہ کی پرفارمنس کو داد دینے لگی ۔

اگلے دو دن ابتہاج یونی سے غائب رہا ۔

مایا کو اسکا انتظار ہونے لگا ۔

اس نے دل میں سوچا جب وہ آے گا میں اس سے معافی مانگ لونگی ۔

تیسرے دن بھی ابتہاج نہیں آیا تو مایا اپنے کیے پر شرمندہ ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ھو گئی ۔

سر کو اس تمام کارروائی کی خبر تک نا ھوئی۔

آخر کار مایا نے سر مبارک سے پوچھ لیا ۔

سر وہ نیو لڑکا غائب ہو گیا۔

کیا وہ چھوڑ تو نہیں گیا ۔

نہیں ۔ آے گا وہ ۔ اسکی طبیعت خراب ھے۔

اسکے والد کا فون آیا تھا ۔ کچھ دن تک نہیں ا سکے گا ۔

لیکن سر جاتے ہوئے وہ میری نوٹ بک بھی لے گیا ۔ مجھے اسکی اشد ضرورت ھے ۔

سر مبارک نے مایا سے وعدہ کیا اج اسکے گھر فون کرکے نوٹ بک منگوا دینگے ۔

مایا دل ھی دل میں دعا کرنے لگی کہ اللہ کرے ابتہاج خود آ جاۓ تاکہ میں اس سے معافی مانگ سکوں ۔

اگلے دن آفس میں مایا کو بلایا گیا ۔

مایا دھڑکتے دل سے آفس پہنچی ۔ شائد اس کی شرارت پکڑی گئی ھو ۔

آفس میں ابتہاج کے بابا اسکا انتظار کر رھے تھے ۔

وہ ایک انتہائی معتبر بڑے رعب داب والے انسان تھے ۔

مایا کے اندر اتے ھی اٹھ کر کھڑے ھو گئے ۔

مایا انکے اس انداز سے گھبرا گئی ۔ گھبراہٹ سے برا حال تھا ۔ کہ پتا نہیں کیا سزا سنا دی جاۓ گی ۔

کاش میں ماریہ کو بتا کر اتی ۔ مجھے اکیلے نہیں آنا چاہیے تھا ۔

ابتہاج کے بابا نے مایا کا بہت پیار سے شکریہ ادا ۔ اور کہا ۔

بیٹا میں معذرت چاہتا ہوں ۔

مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپکی نوٹ بک ابتہاج کے پاس چلی گئی تھی ۔

آپکو تکلیف ھوئی میں خود ا گیا معذرت کے لیے ۔

مایا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔

نہیں انکل پلیز شرمندہ مت کریں ۔ کوئی بات نہیں ۔

ابتہاج کیسے ہیں آب اور کب سے جوائن کریں گے ۔

ہممم ۔ ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا ۔

اسکو شائد یہ یونی پسند نہیں آئ ۔

مطلب ابتہاج نے گھر میں اس بات کا ذکر نہیں کیا ۔ مایا نے دل میں سوچا ۔

انکل اپکا شکریہ میرے وجہ سے اتنے دور آنا پڑا ۔

فیروز حیدر کو مایا میں اپنایت کا احساس ہونے لگا ۔

اور بولے ۔ بیٹا کیا نام ھے تمہارے بابا کا ۔

مایا نے انتہائی ادب سے جواب دیا ۔

وسیم احمد ۔

یہ کہہ کر مایا سلام کر کے واپس آ گئی۔ اور فیروز حیدر اسے دیکھتے رہ گئے