Surkh Joda by Saloni NovelR50454 Surkh Joda Episode 10
Rate this Novel
Surkh Joda Episode 10
Surkh Joda by Saloni
مایا کو پڑھانا سمجھانا زہر لگتا تھا ۔ مگر سر کا حکم بھی ماننا پڑا ۔
ابتہاج خاموش طبع انسان تھا ۔ کلاس میں نیا بھی تھا ۔ اسے مایا ماریہ کے ہمشکل ہونے کا بھی پتا نہیں تھا ۔
لہٰذا کلاس فیلوز نے ملکر اسے ڈرانے کا منصوبہ بنایا ۔
کلاس ختم ہونے کے بعد سب سٹوڈنٹس باہر نکل گئے کلاس روم خالی ھو گیا ۔ کلاس روم میں دو دروازے تھے ۔ مایا نے ابتہاج کو نوٹس دیتی ھوے کہا ۔
کوشش کرنا کہ پچھلے لکچر جلد کور کر سکو ۔
جی sure ۔ ابتہاج نے سعادت مندی سے جواب دیا اور اپنے کام میں لگ گیا ۔
ابھی دس منٹ ھی گزرے کسی کے رونے کی آوازیں سنائی دینے لگی ۔
ابتہاج پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا تو مایا نے پوچھا ۔
کیا ہوا ۔
یہ کون رو رہا ھے ۔
مطلب ابتہاج ۔ مجھے تو یہاں کوئی نظر نہیں ہ رہا ۔ مایا نے کہا ۔
ابتہاج نے حیرت سے مایا کو دیکھا اور پوچھا ۔ کیا آپکو کسی کے رونے کی آواز نہیں آ رهی ۔
جی نہیں ۔ اور میں نے آپ سے کہا تھا پلیز جلد کام کریں مجھے کافی دیر ھو جاۓگی ایسے ۔
ابتہاج نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا ۔
سوری ۔ میں اپکا زیادہ ٹائم نہیں لونگا ۔ اور پھر اپنے کام میں جت گیا ۔
ابھی مایا ایک اہم ٹوپک کیطرف آئ ھی تھے کہ کچھ لوگؤں کے دگڑ دگڑ دوڑنے کی آوازیں سنائی دینے لگی ۔
ابتہاج پھر سے گھبرا گیا ۔ اور پریشانی سے بولا ۔ یہ کیا ھو رہا ھے ۔
کیا ہورہا ھے ۔ مایا نے انجان بنتے ہوۓ کہا ۔
یعنی آپکو کسی کے بھاگنے کی آوازیں سنائی نہیں دے رهی ۔
مایا نے سپاٹ لہجے میں کہا ۔
نہیں ابتہاج مجھے کوئی آواز نہیں آ رهی ۔
پلیز اپنے کام کی طرف دھیان دے ۔ مجھے جلدی ھے ۔
ابتہاج بیحد شرمندہ ہوا ۔ اور پھر سے سوری کی ۔اپنے کام میں لگ گیا ۔
مایا اپنی ہنسی کو بڑی مشکل سے قابو میں کرتے ہوۓ بولی ۔
ابتہاج مجھے لگتا ھے آپ کچھ ذہنی طور پر ڈسٹرب ہیں ۔ کوئی مسلہ ھے کیا ۔
جی نہیں ۔ ایسی کوئی بات نہیں ۔
ابتہاج بھی قدرے حفگی سے بولا ۔
میں باقی کا کام کل کر لونگا ۔
آپ جا سکتی ہیں ۔
جو ٹائم لیا اپکا اس کے لیے شکریہ ۔
نہیں نہیں میرا مقصد کچھ ایسا نہیں تھا ۔ آپ بےفکر ھو کر کام کرے ۔ میرے پاس ابھی ادھ گھنٹہ ھے ۔ مایا نے دل سوچا ۔
اگلا سین تو ھو جاۓ ۔ پھر چلے جانا ۔
یہ سوچ کر وہ دل ھی دل میں مسکرائی اور دونوں پھر سے کام میں مشغول ھو گئے ۔
ابتہاج خاصا تیز رفتار سے کام کر رہا تھا ۔
مایا اسے چپکے چپکے دیکھنے لگی ۔
اس نے اندازہ لگایا ۔ ابتہاج باقی لڑکوں سے مختلف ھے ۔
زیادہ باتیں بھی نہیں کرتا ۔ چہرے پر ایک عجیب سی کشش تھی ۔
مایا کو ایسے محسوس ہوا کوئی بہت قریب کا رشتہ ھو اس سے ۔
خیر پلان تو پلان ھے اسے ڈرانا تو ھے ۔
پلان کے مطابق ابھی ابتہاج لکھنے میں مصروف تھا کہ پیچھے سے آواز آئی ۔
اب۔ تہا ۔ج ۔ (ابتہاج )
ابتہاج نے تیزی سے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ ماریہ چڑیل بنی بڑی بڑی آنکھوں کو اور پھیلا کر اسے پکار رهی تھی ۔ ابتہاج نے اسے دیکھا اتنے میں مایا پھرتی کی سی تیزی میں سیٹ کے نیچے بیٹھ گئی ۔ درمیان میں ایک بڑے ٹیبل کی وجہ سے چھپ گئی ۔ ابتہاج نے واپس پلٹ کر دیکھا ۔ مایا غائب تھی ۔
ابتہاج نے پھر پیچھے دیکھا تو مریا غائب ھو گئی ۔
آب جب ابتہاج سامنے پلٹے تو مایا بڑی اطمینان سے نوٹ پیڈ پر لکھ رهی تھی ۔
ابتہاج پوری طرح سے چکرایا اور زمین پر گر گیا۔
کلاس کے سبھی لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ھو گئے ۔
واصف نے پاس پڑے ہوۓ گلاس سے پانی کے چھینٹے ابتہاج پر پھینکے اور سہارا دے کر اٹھاتے ہوئے کہا ۔
کیا ہوا بھائی ۔ کوئی مسلہ یا پریشانی ھے تو شیر کرو ۔
ابتہاج نے ھوش میں اتے ھی مایا کو انتہائی غور سے دیکھا ۔
اپنی کتابیں سمیٹی اور کلاس سے بھاگ گیا۔
اچھے خاصے لڑکے کی درگت بنا ڈالی ۔ پوری کلاس ہنس ہنس کر مایا ماریہ کی پرفارمنس کو داد دینے لگی ۔
اگلے دو دن ابتہاج یونی سے غائب رہا ۔
مایا کو اسکا انتظار ہونے لگا ۔
اس نے دل میں سوچا جب وہ آے گا میں اس سے معافی مانگ لونگی ۔
تیسرے دن بھی ابتہاج نہیں آیا تو مایا اپنے کیے پر شرمندہ ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ھو گئی ۔
سر کو اس تمام کارروائی کی خبر تک نا ھوئی۔
آخر کار مایا نے سر مبارک سے پوچھ لیا ۔
سر وہ نیو لڑکا غائب ہو گیا۔
کیا وہ چھوڑ تو نہیں گیا ۔
نہیں ۔ آے گا وہ ۔ اسکی طبیعت خراب ھے۔
اسکے والد کا فون آیا تھا ۔ کچھ دن تک نہیں ا سکے گا ۔
لیکن سر جاتے ہوئے وہ میری نوٹ بک بھی لے گیا ۔ مجھے اسکی اشد ضرورت ھے ۔
سر مبارک نے مایا سے وعدہ کیا اج اسکے گھر فون کرکے نوٹ بک منگوا دینگے ۔
مایا دل ھی دل میں دعا کرنے لگی کہ اللہ کرے ابتہاج خود آ جاۓ تاکہ میں اس سے معافی مانگ سکوں ۔
اگلے دن آفس میں مایا کو بلایا گیا ۔
مایا دھڑکتے دل سے آفس پہنچی ۔ شائد اس کی شرارت پکڑی گئی ھو ۔
آفس میں ابتہاج کے بابا اسکا انتظار کر رھے تھے ۔
وہ ایک انتہائی معتبر بڑے رعب داب والے انسان تھے ۔
مایا کے اندر اتے ھی اٹھ کر کھڑے ھو گئے ۔
مایا انکے اس انداز سے گھبرا گئی ۔ گھبراہٹ سے برا حال تھا ۔ کہ پتا نہیں کیا سزا سنا دی جاۓ گی ۔
کاش میں ماریہ کو بتا کر اتی ۔ مجھے اکیلے نہیں آنا چاہیے تھا ۔
ابتہاج کے بابا نے مایا کا بہت پیار سے شکریہ ادا ۔ اور کہا ۔
بیٹا میں معذرت چاہتا ہوں ۔
مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپکی نوٹ بک ابتہاج کے پاس چلی گئی تھی ۔
آپکو تکلیف ھوئی میں خود ا گیا معذرت کے لیے ۔
مایا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔
نہیں انکل پلیز شرمندہ مت کریں ۔ کوئی بات نہیں ۔
ابتہاج کیسے ہیں آب اور کب سے جوائن کریں گے ۔
ہممم ۔ ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا ۔
اسکو شائد یہ یونی پسند نہیں آئ ۔
مطلب ابتہاج نے گھر میں اس بات کا ذکر نہیں کیا ۔ مایا نے دل میں سوچا ۔
انکل اپکا شکریہ میرے وجہ سے اتنے دور آنا پڑا ۔
فیروز حیدر کو مایا میں اپنایت کا احساس ہونے لگا ۔
اور بولے ۔ بیٹا کیا نام ھے تمہارے بابا کا ۔
مایا نے انتہائی ادب سے جواب دیا ۔
وسیم احمد ۔
یہ کہہ کر مایا سلام کر کے واپس آ گئی۔ اور فیروز حیدر اسے دیکھتے رہ گئے
