Surkh Joda by Saloni NovelR50454 Surkh Joda Episode 16
Rate this Novel
Surkh Joda Episode 16
Surkh Joda by Saloni
وسیم ۔ اٹھو یار ۔ وسیم
رحیم پریشانی کے عالم میں چیخ کر بول رہا تھا ۔
کیا آپ جانتے ہیں وسیم کو ۔
رحیم نے فیروز حیدر سے پوچھا ۔
نہیں رحیم صاحب میری تو اج پہلی ملاقات ھے ان سے ۔
اللہ جانے مجھے دیکھ کر یہ اتنے پریشان کیوں ھو گئے ۔
میں خود بھی سمجھ نہیں پایا ۔
فیروز حیدر کافی پریشان دکھائی دیئے ۔
ابتہاج نے بلڈ پریشر چک کیا تو بہت ہائی تھا ۔
فوری طور طبی امداد فراہم کی گئی ۔
کافی دیر بعد وسیم ھوش میں آے ۔ اور فیروز حیدر کو دیکھ کر کچھ بڑبڑ اۓ جو کسی کی سمجھ میں نہیں آیا ۔
سمیر ۔ تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قدرے بہتر ہونے پر وسیم زاروقطار رونے لگے ۔
رحیم ‘ فیروز حیدر اور ابتہاج انکے گرد جمع ھو گئے۔
فیروز حیدر نے انتہائی پریشانی میں کہا ۔
بھائی بہت معذرت چاہتا ہوں ۔ اگر میری وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی تو ۔
میں بخدا آپکو کسی مسلے میں نہیں الجھانا چاہتا ہوں ۔
مجھے صرف یہ پوچھنا تھا وسیم صاحب میرا آپ سے رشتہ کیا ھے ۔
کیوں کہ جو لاکٹ آپکی دہلیز پر پڑا ملا ۔ وہ صرف ہمارے خاندان تک ھی رہتا ھے ۔
یہ اس لاکٹ کی کرامت ھے ۔ جو میرے گھر والے تو نہیں مانے گے ۔ لیکن مجھے پورا یقین ھو چلا کہ یہ بات سچ ھے ۔
وسیم خوف سے تھر تھر کانپ رھے تھے ۔
اور بولے ۔ میں آپکی ہر بات کو لفظ بہ لفظ سچ مانتا ھوں ۔
اپکا مجھ سے تو کوئی رشتہ نہیں ۔ لیکن میری بچیوں سے ضرور ھے ۔
میں سمجھا نہیں ۔ فیروز حیدر نے کہا ۔
اج سے سولہ برس پہلے میر پور میں ایک برطانوی جوڑا جس میں دو میاں بیوی اور دو بچیاں پاکستان آے ۔ سمیر پاکستانی تھا لیکن پاکستان پہلی مرتبہ آیا ۔ اپنی گمشدہ فمیلی کو ڈھونڈھنے ۔
اسکے ماں باپ کسی حادثے میں ہلاک ہوگیا تھے ۔
اسکی باقی فمیلی پاکستان میں ھی تھی ۔
انکی کار کا اکسیڈنٹ ہوا اور دونوں میاں بیوی کی ڈیتھ ھو گئی ۔
سمیر نے مرنے سے پہلے یہ چند باتیں مجھے بتائیں ۔
فیروز حیدر کی آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی بہنے لگی ۔ وہ وسیم کے قریب آے اور بولے ۔
میرے دوست سمیر کا اگر مجھ سے کوئی تعلق ھے تو مجھے بتاؤ۔
اور آپکو اس تعلق کا کیسے معلوم ہوا ۔
وسیم کے چہرے پر دردناک مسکراہٹ آ گئی ۔ اور بولے ۔
اللہ بہت بڑا ھے ۔ اسکی حکمت و عظمت تک کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔
مجھے اور کسی نے نہیں بتایا کہ آپ کا کوئی تعلق ھے سمیر سے ۔
آپ خود جیتا جاگتا ثبوت ہیں ۔
وہ آپکو ھی ڈھونڈنے پاکستان آیا تھا ۔
اللہ کی قدرت پر بیحد حیران ھوں ۔
جس طرح مایا ماریہ میں کوئی فرق نہیں ۔ انکے چہرے جسم بال حتی کہ آواز بھی ایک جیسی ھے ۔ بالکل سمیر اور آپ میں فرق ناممکن ھے ۔
میں ایک لمحہ کو گھبرا گیا ۔
اگر میں اپنے ہاتھوں سے سمیر کو نا دفناتا تو شائد یہی سمجھتا کہ آپ سمیر ھی ہیں ۔
فیروز حیدر کی ہچکیاں بندھ گئی ۔ وہ زاروقطار رونے لگے ۔
وسیم نے فیروز حیدر سے اس کا سبب پوچھا کہ آپکو کیوں معلوم نہیں ہوا کہ سمیر اپکا بھائی ھے ۔ آپ اپس میں کس وجہ سے الگ ہوۓ ۔
فیروز حیدر نے بتایا کہ ۔
میرے بابا اور میری والدہ کی آپس میں پسند کی شادی ہوئی ۔
جسے ہمارے بڑوں نے قبول نہیں کیا ۔
سننے میں آیا کہہ میرے والدین نے کافی مشکلات دیکھی۔ انکو گھر سے نکال دیا گیا تھا ۔
جب میری والدہ امید سے ہوئیں ۔ دادا بابا کو گھر واپس لے تو گئے ۔ لیکن انکا غصّہ کم نہیں ہوا ۔
پھر ہم جڑواں بھائی پیدا ہونے ۔ بابا دادا جان کے رویے سے تنگ آکر برطانیہ جانے لگے تو دادا نے سزا کے طور پر مجھے میری ماں سے چھین لیا ۔ کہ اس نے بھی تو ہمارا بیٹا چھینا ۔ اور دھکے دے کر دونوں کو گھر سے نکال دیا ۔
میرے بابا اور والدہ کے جانے کے کچھ عرصے بعد دادا کو اطلاع ملی کہ وہ دونوں کسی حادثے میں ہلاک ہوگئے ۔
میں اج تک یہی سمجھتا رہا کہ سمیر میرا بھائی جسکا نام بھی مجھے معلوم نہیں تھا ۔ وہ زندہ رہا ۔
او میرے رب ۔ کاش تو ہمیں ملا ھی دیتا ۔
فیروز حیدر روتے روتے نڈھال ھو گئے ۔
قدرے توقف کے ۔ پھر بولے ۔
میرے دادا دادی اس حادثے کے بعد بیمار ھو گئے۔
گو کہ میری پرورش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی انہوں نے ۔
وہ ہمیشہ مجھ سے معافی مانگتے رھے ۔
جس لاکٹ کی وجہ سے آج ہم یہاں ہیں ۔ وہ میری دادی کا تھا ۔ انہوں نے ھی اسکی کرامات کا ذکر مجھ سے کیا تھا جو میں نے مذاق میں ٹالتا رہا ۔
بولتے بولتے اچانک فیروز حیدر کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی ۔ اور مسکرا کر بولے ۔
تبھی مایا ماریہ بھی جڑواں ہیں ۔
اوہ میری بچیاں ۔ میں سوچ رہا تھا ۔مجھے ان بچیوں میں اپنا آپ کیوں نظر آتا ھے ۔
فیروز حیدر میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھ کر وسیم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔
رحیم وسیم کی حالت دیکھ کر بہت دکھی ھو گیا ۔ ایک لمحے میں ھی بچیاں پرائی لگنے لگی ۔
جنکو وسیم نے دن رات محنت کی کمائی سے پروان چڑھایا ۔ جنکے اچھے مستقبل کیلیے وسیم کی نیندیں اڑ چکی تھی ۔ اج وہ یکدم پرائ ھو گئی ۔
رحیم نے وسیم کو حوصلہ دیتے ہوۓ کہا ۔
تم نے تو بچیوں کو ایک نا ایک دن تو رخصت کرنا ھی تھا ۔
فیروز حیدر وسیم کے دکھ کا احساس کرتے ہوئے کہا ۔
مایا ماریہ اج بھی آپکی ھی بیٹیاں ہیں ۔ میں اج بھی مایا کے لیے سوالی بن کر آپکے پاس کھڑا ھوں ۔
وہ دونوں آپکے گھر سے ھی رخصت ہونگی ۔ میں آپ سے کوئی حق نہیں چھینوں گا ۔
بیشک پالنے والے ماں باپ کا حق پیدا کرنے والے ماں باپ سے کم نہیں ۔
وسیم کو فیروز حیدر کی باتوں نے ایک نئی زندگی بخشی ۔ وہ خوشی خوشی اٹھے ۔ فیروز حیدر کا بیحد شکریہ ادا کیا اور رحیم کے ساتھ واپس گھر آ گئے ۔
سدرہ کو تمام حالات معلوم ہوۓ تو دکھ اور خوشی کے ملے جلے ردعمل کا احساس ہونے لگا ۔
مایا ماریہ کے ورثا کے مل جانے سے سدرہ کو مایا ماریہ ایک دم سے پرائ لگنے لگی ۔
مایا ماریہ بھی ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا ھو گئی ۔
وسیم اور سدرہ کے دل کی ویرانی کو سمجھتے ہوئے دونوں نے ماں باپ کو تسلی دیتے ہوۓ کہا ۔
اگر یہاں ہمارے ماں باپ بھی آ جاتے ہم ان سے بھی معذرت کر لیتی ۔
ہم جب تک زندہ ہیں ہمارے والدین سدرہ اور وسیم ھی رہینگے ۔
یہ کہہ کر دونوں اپنے والدین کے گلے لگ گئی ۔
وسیم کے دکھ کو دیکھتے ہوئے مایا نے کہا ۔
ڈیڈی کل پھر سنڈے ھے کچھ سنڈے اسپیشل ھو جاۓ ۔
وسیم بھی مسکرا کر بولے ۔
اس مرتبہ سنڈے کچھ خاص طور پر اسپیشل ہوگا ۔ سدرہ مایا ماریہ سب قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں ۔
وسیم نے رحیم اور فیروز حیدر کی فمیلی کو اتوار کھانے پر بلا لیا ۔
سب ہنسی خوشی دعوت میں شریک ہوئے ۔
وسیم نے کہا اج سے میری بیٹی مایا فیروز حیدر کی اور ماریہ رحیم کی بیٹی ہیں ۔ یہ جب چاہیں اپنی امانت لے جا سکتے ہیں ۔
وسیم کے اس اعلان سے سبھی خوش ھو گئے ۔
ابتہاج نے خوشی سے سبکو اپنی آواز میں گانا سنایا ۔
اج پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہہ ابتہاج اتنا اچھا سنگر بھی ھے ۔ ۔
مایا بیحد خوش تھی ۔ابتہاج اور مایا نے ڈھیروں خواب دیکھنے لگے ۔
فیروز حیدر کی التجا تھی کہ وہ جلد ہی اس ذمداری سے سبکدوش ہونا چا ھتے ہیں۔
وسیم نے بھی خوشی سے حامی بھر لی ۔
ابتہاج نے مایا کیلیے بہت خوبصورت سرخ رنگ کا جوڑا منتخب کیا ۔
سرخ جوڑے کو بڑی نفاست اور فرصت سے بنایا گیا تھا ۔ اس میں اصلی نگؤں کو جڑ دیا گیا تھا ۔ شادی کی تاریخ مقرر کر دی گئی ۔ جب کہ ماریہ کی شادی شمائل کے انے ٹک ملتوی کر دی گئی ۔
جمعہ کے دن یونیورسٹی ٹرپ تھا ۔
مایا ماریہ نے ہمیشہ کی طرح ایک جیسا لباس پہن رکھا تھا ۔
ابتہاج کی پہچان کے لیے مایا نے اسکے نام۔ کی رنگ پہن رکھی تھی ۔ ٹرپ پر جانے کیلیے تین بسیں بیک وقت روانہ ہو گئیں ۔
سبھی سٹوڈنٹس نے بس میں شغل میلے کے لیے انتاکشری کھیلنے لگے ۔
کچھ کھانے پینے میں انجونے کرنے لگے ۔
پوری بس کو معلوم تھا کہ اگلے ہفتے مایا اور ابتہاج رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے ہیں ۔
ابتہاج نے مایا کیلیے ایک خوبصورت گیت گیا ۔ جس سے سب نے بہت سراہا ۔
بس اپنی منزل پر آ کر رکی اور سب باری باری اترنے لگے ۔
ابتہاج نے اگے بڑھ کر مایا کا ہاتھ پکڑ لیا اور احتیاط سے نیچے اترنے میں مدد کی ۔
قسمت کو نجانے کیا منظور تھا ۔
راستہ ٹوٹا پھوٹا اور ناہموار ہونے کی وجہ سے ماریہ کا پاؤں پھسلا اور گہری کھائی میں گر گئی ۔
مایا نے زور زور سے چلانا شروع
کر دیا ۔
ماریہ گر گئی ۔ پلیز کوئی بچاو
