279.3K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Joda Episode 16

Surkh Joda by Saloni

وسیم ۔ اٹھو یار ۔ وسیم

رحیم پریشانی کے عالم میں چیخ کر بول رہا تھا ۔

کیا آپ جانتے ہیں وسیم کو ۔

رحیم نے فیروز حیدر سے پوچھا ۔

نہیں رحیم صاحب میری تو اج پہلی ملاقات ھے ان سے ۔

اللہ جانے مجھے دیکھ کر یہ اتنے پریشان کیوں ھو گئے ۔

میں خود بھی سمجھ نہیں پایا ۔

فیروز حیدر کافی پریشان دکھائی دیئے ۔

ابتہاج نے بلڈ پریشر چک کیا تو بہت ہائی تھا ۔

فوری طور طبی امداد فراہم کی گئی ۔

کافی دیر بعد وسیم ھوش میں آے ۔ اور فیروز حیدر کو دیکھ کر کچھ بڑبڑ اۓ جو کسی کی سمجھ میں نہیں آیا ۔

سمیر ۔ تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قدرے بہتر ہونے پر وسیم زاروقطار رونے لگے ۔

رحیم ‘ فیروز حیدر اور ابتہاج انکے گرد جمع ھو گئے۔

فیروز حیدر نے انتہائی پریشانی میں کہا ۔

بھائی بہت معذرت چاہتا ہوں ۔ اگر میری وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی تو ۔

میں بخدا آپکو کسی مسلے میں نہیں الجھانا چاہتا ہوں ۔

مجھے صرف یہ پوچھنا تھا وسیم صاحب میرا آپ سے رشتہ کیا ھے ۔

کیوں کہ جو لاکٹ آپکی دہلیز پر پڑا ملا ۔ وہ صرف ہمارے خاندان تک ھی رہتا ھے ۔

یہ اس لاکٹ کی کرامت ھے ۔ جو میرے گھر والے تو نہیں مانے گے ۔ لیکن مجھے پورا یقین ھو چلا کہ یہ بات سچ ھے ۔

وسیم خوف سے تھر تھر کانپ رھے تھے ۔

اور بولے ۔ میں آپکی ہر بات کو لفظ بہ لفظ سچ مانتا ھوں ۔

اپکا مجھ سے تو کوئی رشتہ نہیں ۔ لیکن میری بچیوں سے ضرور ھے ۔

میں سمجھا نہیں ۔ فیروز حیدر نے کہا ۔

اج سے سولہ برس پہلے میر پور میں ایک برطانوی جوڑا جس میں دو میاں بیوی اور دو بچیاں پاکستان آے ۔ سمیر پاکستانی تھا لیکن پاکستان پہلی مرتبہ آیا ۔ اپنی گمشدہ فمیلی کو ڈھونڈھنے ۔

اسکے ماں باپ کسی حادثے میں ہلاک ہوگیا تھے ۔

اسکی باقی فمیلی پاکستان میں ھی تھی ۔

انکی کار کا اکسیڈنٹ ہوا اور دونوں میاں بیوی کی ڈیتھ ھو گئی ۔

سمیر نے مرنے سے پہلے یہ چند باتیں مجھے بتائیں ۔

فیروز حیدر کی آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی بہنے لگی ۔ وہ وسیم کے قریب آے اور بولے ۔

میرے دوست سمیر کا اگر مجھ سے کوئی تعلق ھے تو مجھے بتاؤ۔

اور آپکو اس تعلق کا کیسے معلوم ہوا ۔

وسیم کے چہرے پر دردناک مسکراہٹ آ گئی ۔ اور بولے ۔

اللہ بہت بڑا ھے ۔ اسکی حکمت و عظمت تک کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔

مجھے اور کسی نے نہیں بتایا کہ آپ کا کوئی تعلق ھے سمیر سے ۔

آپ خود جیتا جاگتا ثبوت ہیں ۔

وہ آپکو ھی ڈھونڈنے پاکستان آیا تھا ۔

اللہ کی قدرت پر بیحد حیران ھوں ۔

جس طرح مایا ماریہ میں کوئی فرق نہیں ۔ انکے چہرے جسم بال حتی کہ آواز بھی ایک جیسی ھے ۔ بالکل سمیر اور آپ میں فرق ناممکن ھے ۔

میں ایک لمحہ کو گھبرا گیا ۔

اگر میں اپنے ہاتھوں سے سمیر کو نا دفناتا تو شائد یہی سمجھتا کہ آپ سمیر ھی ہیں ۔

فیروز حیدر کی ہچکیاں بندھ گئی ۔ وہ زاروقطار رونے لگے ۔

وسیم نے فیروز حیدر سے اس کا سبب پوچھا کہ آپکو کیوں معلوم نہیں ہوا کہ سمیر اپکا بھائی ھے ۔ آپ اپس میں کس وجہ سے الگ ہوۓ ۔

فیروز حیدر نے بتایا کہ ۔

میرے بابا اور میری والدہ کی آپس میں پسند کی شادی ہوئی ۔

جسے ہمارے بڑوں نے قبول نہیں کیا ۔

سننے میں آیا کہہ میرے والدین نے کافی مشکلات دیکھی۔ انکو گھر سے نکال دیا گیا تھا ۔

جب میری والدہ امید سے ہوئیں ۔ دادا بابا کو گھر واپس لے تو گئے ۔ لیکن انکا غصّہ کم نہیں ہوا ۔

پھر ہم جڑواں بھائی پیدا ہونے ۔ بابا دادا جان کے رویے سے تنگ آکر برطانیہ جانے لگے تو دادا نے سزا کے طور پر مجھے میری ماں سے چھین لیا ۔ کہ اس نے بھی تو ہمارا بیٹا چھینا ۔ اور دھکے دے کر دونوں کو گھر سے نکال دیا ۔

میرے بابا اور والدہ کے جانے کے کچھ عرصے بعد دادا کو اطلاع ملی کہ وہ دونوں کسی حادثے میں ہلاک ہوگئے ۔

میں اج تک یہی سمجھتا رہا کہ سمیر میرا بھائی جسکا نام بھی مجھے معلوم نہیں تھا ۔ وہ زندہ رہا ۔

او میرے رب ۔ کاش تو ہمیں ملا ھی دیتا ۔

فیروز حیدر روتے روتے نڈھال ھو گئے ۔

قدرے توقف کے ۔ پھر بولے ۔

میرے دادا دادی اس حادثے کے بعد بیمار ھو گئے۔

گو کہ میری پرورش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی انہوں نے ۔

وہ ہمیشہ مجھ سے معافی مانگتے رھے ۔

جس لاکٹ کی وجہ سے آج ہم یہاں ہیں ۔ وہ میری دادی کا تھا ۔ انہوں نے ھی اسکی کرامات کا ذکر مجھ سے کیا تھا جو میں نے مذاق میں ٹالتا رہا ۔

بولتے بولتے اچانک فیروز حیدر کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی ۔ اور مسکرا کر بولے ۔

تبھی مایا ماریہ بھی جڑواں ہیں ۔

اوہ میری بچیاں ۔ میں سوچ رہا تھا ۔مجھے ان بچیوں میں اپنا آپ کیوں نظر آتا ھے ۔

فیروز حیدر میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھ کر وسیم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔

رحیم وسیم کی حالت دیکھ کر بہت دکھی ھو گیا ۔ ایک لمحے میں ھی بچیاں پرائی لگنے لگی ۔

جنکو وسیم نے دن رات محنت کی کمائی سے پروان چڑھایا ۔ جنکے اچھے مستقبل کیلیے وسیم کی نیندیں اڑ چکی تھی ۔ اج وہ یکدم پرائ ھو گئی ۔

رحیم نے وسیم کو حوصلہ دیتے ہوۓ کہا ۔

تم نے تو بچیوں کو ایک نا ایک دن تو رخصت کرنا ھی تھا ۔

فیروز حیدر وسیم کے دکھ کا احساس کرتے ہوئے کہا ۔

مایا ماریہ اج بھی آپکی ھی بیٹیاں ہیں ۔ میں اج بھی مایا کے لیے سوالی بن کر آپکے پاس کھڑا ھوں ۔

وہ دونوں آپکے گھر سے ھی رخصت ہونگی ۔ میں آپ سے کوئی حق نہیں چھینوں گا ۔

بیشک پالنے والے ماں باپ کا حق پیدا کرنے والے ماں باپ سے کم نہیں ۔

وسیم کو فیروز حیدر کی باتوں نے ایک نئی زندگی بخشی ۔ وہ خوشی خوشی اٹھے ۔ فیروز حیدر کا بیحد شکریہ ادا کیا اور رحیم کے ساتھ واپس گھر آ گئے ۔

سدرہ کو تمام حالات معلوم ہوۓ تو دکھ اور خوشی کے ملے جلے ردعمل کا احساس ہونے لگا ۔

مایا ماریہ کے ورثا کے مل جانے سے سدرہ کو مایا ماریہ ایک دم سے پرائ لگنے لگی ۔

مایا ماریہ بھی ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا ھو گئی ۔

وسیم اور سدرہ کے دل کی ویرانی کو سمجھتے ہوئے دونوں نے ماں باپ کو تسلی دیتے ہوۓ کہا ۔

اگر یہاں ہمارے ماں باپ بھی آ جاتے ہم ان سے بھی معذرت کر لیتی ۔

ہم جب تک زندہ ہیں ہمارے والدین سدرہ اور وسیم ھی رہینگے ۔

یہ کہہ کر دونوں اپنے والدین کے گلے لگ گئی ۔

وسیم کے دکھ کو دیکھتے ہوئے مایا نے کہا ۔

ڈیڈی کل پھر سنڈے ھے کچھ سنڈے اسپیشل ھو جاۓ ۔

وسیم بھی مسکرا کر بولے ۔

اس مرتبہ سنڈے کچھ خاص طور پر اسپیشل ہوگا ۔ سدرہ مایا ماریہ سب قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں ۔

وسیم نے رحیم اور فیروز حیدر کی فمیلی کو اتوار کھانے پر بلا لیا ۔

سب ہنسی خوشی دعوت میں شریک ہوئے ۔

وسیم نے کہا اج سے میری بیٹی مایا فیروز حیدر کی اور ماریہ رحیم کی بیٹی ہیں ۔ یہ جب چاہیں اپنی امانت لے جا سکتے ہیں ۔

وسیم کے اس اعلان سے سبھی خوش ھو گئے ۔

ابتہاج نے خوشی سے سبکو اپنی آواز میں گانا سنایا ۔

اج پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہہ ابتہاج اتنا اچھا سنگر بھی ھے ۔ ۔

مایا بیحد خوش تھی ۔ابتہاج اور مایا نے ڈھیروں خواب دیکھنے لگے ۔

فیروز حیدر کی التجا تھی کہ وہ جلد ہی اس ذمداری سے سبکدوش ہونا چا ھتے ہیں۔

وسیم نے بھی خوشی سے حامی بھر لی ۔

ابتہاج نے مایا کیلیے بہت خوبصورت سرخ رنگ کا جوڑا منتخب کیا ۔

سرخ جوڑے کو بڑی نفاست اور فرصت سے بنایا گیا تھا ۔ اس میں اصلی نگؤں کو جڑ دیا گیا تھا ۔ شادی کی تاریخ مقرر کر دی گئی ۔ جب کہ ماریہ کی شادی شمائل کے انے ٹک ملتوی کر دی گئی ۔

جمعہ کے دن یونیورسٹی ٹرپ تھا ۔

مایا ماریہ نے ہمیشہ کی طرح ایک جیسا لباس پہن رکھا تھا ۔

ابتہاج کی پہچان کے لیے مایا نے اسکے نام۔ کی رنگ پہن رکھی تھی ۔ ٹرپ پر جانے کیلیے تین بسیں بیک وقت روانہ ہو گئیں ۔

سبھی سٹوڈنٹس نے بس میں شغل میلے کے لیے انتاکشری کھیلنے لگے ۔

کچھ کھانے پینے میں انجونے کرنے لگے ۔

پوری بس کو معلوم تھا کہ اگلے ہفتے مایا اور ابتہاج رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے ہیں ۔

ابتہاج نے مایا کیلیے ایک خوبصورت گیت گیا ۔ جس سے سب نے بہت سراہا ۔

بس اپنی منزل پر آ کر رکی اور سب باری باری اترنے لگے ۔

ابتہاج نے اگے بڑھ کر مایا کا ہاتھ پکڑ لیا اور احتیاط سے نیچے اترنے میں مدد کی ۔

قسمت کو نجانے کیا منظور تھا ۔

راستہ ٹوٹا پھوٹا اور ناہموار ہونے کی وجہ سے ماریہ کا پاؤں پھسلا اور گہری کھائی میں گر گئی ۔

مایا نے زور زور سے چلانا شروع

کر دیا ۔

ماریہ گر گئی ۔ پلیز کوئی بچاو