279.3K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Joda Episode 11

Surkh Joda by Saloni

مایا بوجھل قدموں سے آفس سے باہر نکلی ۔ کچھ اسے ابتہاج سے شرمندگی ھو رهی تھی۔

اور کچھ اسکے بابا کو دیکھ کر غلطی کا احساس ہونے لگا ۔

ابتہاج کے بابا کسقدر ڈیسنٹ تھے ۔ وہ دل میں سوچنے لگی ۔ نجانے کیوں میرا دل چاہ رہا تھا انکے پاس بیٹھوں اور باتیں کروں ۔

مایا اسی سوچ میں جا رهی تھی کہ سامنے سے اتی ہوئی ماہین سے جا ٹکرائی ۔

او ھو ۔ دیکھ کر چلو لڑکی ۔ تمہارا دھیان کدھر ھے ۔

ماہین نے کہا ۔

میں تو نہیں دیکھ پائی تم ھی سائیڈ پر ہوجاتی ۔

مایا نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔

واصف کہاں ہیں کچھ معلوم ھے تمہیں ۔ مایا نے ماہین سے پوچھا ۔

کیفے ٹیریا میں ہوگا ادھر جاتے دیکھا تھا ما نے ۔ کیوں خیر ھو ۔

خیر ھی تو نہیں ۔ چلو وہیں سب کو بتاتی ھوں ۔

دونوں کیفے ٹیریا چل پڑی ۔

اتفاق سے سبھی وہاں مل گئے ۔

مایا نے سبکو بتایا ۔

ہماری وجہ سے ابتہاج اس یونیورسٹی سے جا رہا ھے ۔

اسکے بابا سے مل کر میں دل ھی دل میں بہت شرمندہ ھو گئی ۔

ہمیں اتنا خطرناک مذاق نہیں کرنا چاہیے تھا کہ وہ یونی چھوڑ دے ۔

واصف اور تیمور قہقہہ لگا کر ہنس دیے ۔

یار وہ تو بہت ھی ڈرپوک نکلا ۔

ماریہ نے کہا ۔ہم دونوں نے ایکٹ ایسا کیا کوئی بھی ہوتا وہ ڈر جاتا ۔

اس بیچارے کو کیا معلوم کہ ہم ایک نہیں دو ہیں ۔

سیدھی طرح کیوں نہیں کہتی تم دونوں ھو ھی چڑیل ۔ جو دیکھتا ھے ڈر جاتا ھے ۔

تیمور نے دونوں کا مذاق اڑاتے ہوۓ کہا ۔

چھوڑو ان سب باتوں کو ۔ تیمور اور واصف تم دونوں کو جانا ہوگا ابتہاج کو دیکھنے ۔ اور موقع ملتے ھی اسے بتانا کہ یہ ایک مذاق تھا ۔ آب اسے واپس لانا تم دونوں کا کام ھے ۔

میں نہیں چاہتی ہماری وجہ سے ایک اچھا سٹوڈنٹ یونی چھوڑ دے ۔

مایا نے تحکمانہ انداز میں کہا ۔

سب نے اسکی بات سے اتفاق بھی کیا ۔

طے یہ پایا کہ اتوار کو واصف اور تیمور ابتہاج کے گھر جایئں گے اور اس سے تمام کلاس کیطرف سے سوری بھی کریں گے ۔

ابتہاج کے بابا دونوں سے بہت پر تپاک طریقے سے ملے ۔

دونوں کی خوب آو بھگت بھی کی ۔ اور انے کے لیے شکریہ ادا کیا ۔

کچھ دیر وہ انکے ساتھ بیٹھے رھے ۔ پھر کسی کام سے باہر چلے گئے ۔

دونوں نے ابتہاج کو تمام بات بتائی اس سے معافی مانگی ۔ اور واپس انے کی التجا بھی کی ۔ جسے ابتہاج نے قبول کرلی ۔ اور بولا ۔

تو مایا ماریہ جڑواں ہیں ۔ تبھی میں سوچوں کبھی وہ میرے سامنے اور کبھی پیچھے نظر اتی ھے ۔

ابتہاج نے قہقہہ لگایا اور کہا ۔ سہی الو بنایا مجھے سب نے چلو آب میری باری ۔

اگلے دن ابتہاج کو یونیورسٹی میں زبردست ویلکوم کیا گیا ۔

ابتہاج مایا ماریہ سے ملکر کافی ایمپریس ہوا ۔ اتنی مماثلت بھی خوفزدہ کر دیتی ھے ۔

مایا نے ابتہاج کے پچھلے تمام لیکچر کوور کرنے میں بہت مدد کی ۔ اسی دوران مایا ابتہاج کے کافی قریب انے لگی ۔

ابتہاج کو اسکا احساس ہو چلا تھا لیکن اس وقت کنفیوز ھو جاتا جب دونوں ساتھ ہوتی ۔

ابتہاج تو کیا کلاس کا کوئی بھی ساتھی ابھی تک دونوں میں فرق نہیں سمجھ سکا تھا ۔

سب سٹوڈنٹس ایک کو بلانے کے لیے دونوں کو مخاطب کرتے تھے ۔ کبھی مایا کو اکیلے نہیں بلاتے ہمیشہ مایا ماریہ کہہ کر بلاتے تھے ۔

ابتہاج کبھی دل کی بات نہیں کر پایا کیوں کہ اسے ابھی تک دونوں کی پہچان نہیں تھی ۔ وہ بس یہ جانتا تھا کہہ مایا اسکی ہیلپ کرتی ھے ۔ اور وہی اس کے قریب ھے ۔

دونوں ایک جیسی ہونے کے باوجود ابتہاج صرف مایا کے متعلق سوچنے لگا تھا ۔

بہت کام موقع ملتا کہ وو مایا سے بات کر پاتا ۔ سب سٹوڈنٹس مایا ماریہ ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتے ۔

اج پہلی مرتبہ پورا دن مایا کے ساتھ اکیلے گزارنے کا موقع ملا ۔

ماریہ بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے بخار اور زکام کی وجہ سے چھٹی پر تھی ۔

مایا دو دن لگاتار اکیلے یونیورسٹی اتی رهی ۔

ان دو دنوں میں ابتہاج نے کھل کر مایا سے محبت کا اظہار کیا ۔

مایا ایک بات کہوں ۔ ابتہاج نے مایا سے کہا ۔

تمہیں بات کہنے کی اجازت کیوں پڑنے لگی ابتہاج ۔

یہ بات ھی ایسی ھے ۔ اجازت تو لینی پڑے گی ۔

دیکھو اگر تم نے میری بات نا مانی تو ہم دونوں کا بڑا نقصان ھو جاۓ گا مایا ۔

اوکے ۔ تم بات تو بتاؤ ابتہاج ۔

ہمممم سوچ رہا ھوں ۔

کہ

کینٹین چلتے ہیں ۔

بس یہ کہنا تھا ۔ مایا ہنس پڑی ۔

نہیں ۔ مجھے کچھ اور کہنا تھا ۔ ابتہاج اسے چڑانے کے موڈ میں بولا ۔

اگر تم یہ سمجھو گے کہ میں چڑ جاؤں گی تو تمہاری سوچ ھے ۔

جو کہنا ھے کہو نہیں تو میرا گھر جانے کا ٹائم ھو گیا ۔ میں مزید رک نہیں سکتی ۔

مایا نے اپنا بعد سمیٹتے ہوئے کہا ۔

چلو مذاق ختم ۔ سریس ھو کے سنو ۔

کس تم اپنا گیٹ اپ ماریہ سے بدل نہیں سکتی ۔

میرا مطلب یہ کہ جس سے کم از کم میں دونوں میں فرق جان سکوں ۔

مایا کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔

ابتہاج ۔ ہمارے ممی ڈیڈی کو ہم ایک جیسی نہیں لگتی ۔ انھیں ہم دونوں میں فرق محسوس ہوتا ھے ۔ آب اگر تمہیں میری ضرورت ھے تو یہ فرق تم ڈھونڈو ۔

مایا نے سیریس ھو کر کہا ۔

تم پاگل ھو گئی ھو ۔

والدین کی بات اور ھے ۔ وو تو آنکھیں بند کر کے بھی پہچان سکتے ہیں ۔

میں تمہارا والد نہیں ۔ جو پہچان سکوں ۔ نا ھی ہمارا بہت ٹائم ساتھ گزرا ۔ مجھے کوئی واضح فرق چاہیے دونوں میں ۔

اپنا ہیر سٹائل یا کوئی رنگ پہنو یا کچھ بھی یار ۔

بس کچھ بدلو ۔

مایا اسکی جھنجہلا ہٹ کو سمجھتے ہوئے کہا ۔

ٹھیک ھے ۔ میں سوچوں گی ۔ فلحال میں گئی ۔

مایا تیزی سے اٹھی اسکی بس کا ٹائم ھو چلا تھا ۔

ابتہاج اسے دور جاتا دیکھتا رہا ۔