Surkh Joda by Saloni NovelR50454 Surkh Joda Episode 11
Rate this Novel
Surkh Joda Episode 11
Surkh Joda by Saloni
مایا بوجھل قدموں سے آفس سے باہر نکلی ۔ کچھ اسے ابتہاج سے شرمندگی ھو رهی تھی۔
اور کچھ اسکے بابا کو دیکھ کر غلطی کا احساس ہونے لگا ۔
ابتہاج کے بابا کسقدر ڈیسنٹ تھے ۔ وہ دل میں سوچنے لگی ۔ نجانے کیوں میرا دل چاہ رہا تھا انکے پاس بیٹھوں اور باتیں کروں ۔
مایا اسی سوچ میں جا رهی تھی کہ سامنے سے اتی ہوئی ماہین سے جا ٹکرائی ۔
او ھو ۔ دیکھ کر چلو لڑکی ۔ تمہارا دھیان کدھر ھے ۔
ماہین نے کہا ۔
میں تو نہیں دیکھ پائی تم ھی سائیڈ پر ہوجاتی ۔
مایا نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔
واصف کہاں ہیں کچھ معلوم ھے تمہیں ۔ مایا نے ماہین سے پوچھا ۔
کیفے ٹیریا میں ہوگا ادھر جاتے دیکھا تھا ما نے ۔ کیوں خیر ھو ۔
خیر ھی تو نہیں ۔ چلو وہیں سب کو بتاتی ھوں ۔
دونوں کیفے ٹیریا چل پڑی ۔
اتفاق سے سبھی وہاں مل گئے ۔
مایا نے سبکو بتایا ۔
ہماری وجہ سے ابتہاج اس یونیورسٹی سے جا رہا ھے ۔
اسکے بابا سے مل کر میں دل ھی دل میں بہت شرمندہ ھو گئی ۔
ہمیں اتنا خطرناک مذاق نہیں کرنا چاہیے تھا کہ وہ یونی چھوڑ دے ۔
واصف اور تیمور قہقہہ لگا کر ہنس دیے ۔
یار وہ تو بہت ھی ڈرپوک نکلا ۔
ماریہ نے کہا ۔ہم دونوں نے ایکٹ ایسا کیا کوئی بھی ہوتا وہ ڈر جاتا ۔
اس بیچارے کو کیا معلوم کہ ہم ایک نہیں دو ہیں ۔
سیدھی طرح کیوں نہیں کہتی تم دونوں ھو ھی چڑیل ۔ جو دیکھتا ھے ڈر جاتا ھے ۔
تیمور نے دونوں کا مذاق اڑاتے ہوۓ کہا ۔
چھوڑو ان سب باتوں کو ۔ تیمور اور واصف تم دونوں کو جانا ہوگا ابتہاج کو دیکھنے ۔ اور موقع ملتے ھی اسے بتانا کہ یہ ایک مذاق تھا ۔ آب اسے واپس لانا تم دونوں کا کام ھے ۔
میں نہیں چاہتی ہماری وجہ سے ایک اچھا سٹوڈنٹ یونی چھوڑ دے ۔
مایا نے تحکمانہ انداز میں کہا ۔
سب نے اسکی بات سے اتفاق بھی کیا ۔
طے یہ پایا کہ اتوار کو واصف اور تیمور ابتہاج کے گھر جایئں گے اور اس سے تمام کلاس کیطرف سے سوری بھی کریں گے ۔
ابتہاج کے بابا دونوں سے بہت پر تپاک طریقے سے ملے ۔
دونوں کی خوب آو بھگت بھی کی ۔ اور انے کے لیے شکریہ ادا کیا ۔
کچھ دیر وہ انکے ساتھ بیٹھے رھے ۔ پھر کسی کام سے باہر چلے گئے ۔
دونوں نے ابتہاج کو تمام بات بتائی اس سے معافی مانگی ۔ اور واپس انے کی التجا بھی کی ۔ جسے ابتہاج نے قبول کرلی ۔ اور بولا ۔
تو مایا ماریہ جڑواں ہیں ۔ تبھی میں سوچوں کبھی وہ میرے سامنے اور کبھی پیچھے نظر اتی ھے ۔
ابتہاج نے قہقہہ لگایا اور کہا ۔ سہی الو بنایا مجھے سب نے چلو آب میری باری ۔
اگلے دن ابتہاج کو یونیورسٹی میں زبردست ویلکوم کیا گیا ۔
ابتہاج مایا ماریہ سے ملکر کافی ایمپریس ہوا ۔ اتنی مماثلت بھی خوفزدہ کر دیتی ھے ۔
مایا نے ابتہاج کے پچھلے تمام لیکچر کوور کرنے میں بہت مدد کی ۔ اسی دوران مایا ابتہاج کے کافی قریب انے لگی ۔
ابتہاج کو اسکا احساس ہو چلا تھا لیکن اس وقت کنفیوز ھو جاتا جب دونوں ساتھ ہوتی ۔
ابتہاج تو کیا کلاس کا کوئی بھی ساتھی ابھی تک دونوں میں فرق نہیں سمجھ سکا تھا ۔
سب سٹوڈنٹس ایک کو بلانے کے لیے دونوں کو مخاطب کرتے تھے ۔ کبھی مایا کو اکیلے نہیں بلاتے ہمیشہ مایا ماریہ کہہ کر بلاتے تھے ۔
ابتہاج کبھی دل کی بات نہیں کر پایا کیوں کہ اسے ابھی تک دونوں کی پہچان نہیں تھی ۔ وہ بس یہ جانتا تھا کہہ مایا اسکی ہیلپ کرتی ھے ۔ اور وہی اس کے قریب ھے ۔
دونوں ایک جیسی ہونے کے باوجود ابتہاج صرف مایا کے متعلق سوچنے لگا تھا ۔
بہت کام موقع ملتا کہ وو مایا سے بات کر پاتا ۔ سب سٹوڈنٹس مایا ماریہ ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتے ۔
اج پہلی مرتبہ پورا دن مایا کے ساتھ اکیلے گزارنے کا موقع ملا ۔
ماریہ بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے بخار اور زکام کی وجہ سے چھٹی پر تھی ۔
مایا دو دن لگاتار اکیلے یونیورسٹی اتی رهی ۔
ان دو دنوں میں ابتہاج نے کھل کر مایا سے محبت کا اظہار کیا ۔
مایا ایک بات کہوں ۔ ابتہاج نے مایا سے کہا ۔
تمہیں بات کہنے کی اجازت کیوں پڑنے لگی ابتہاج ۔
یہ بات ھی ایسی ھے ۔ اجازت تو لینی پڑے گی ۔
دیکھو اگر تم نے میری بات نا مانی تو ہم دونوں کا بڑا نقصان ھو جاۓ گا مایا ۔
اوکے ۔ تم بات تو بتاؤ ابتہاج ۔
ہمممم سوچ رہا ھوں ۔
کہ
کینٹین چلتے ہیں ۔
بس یہ کہنا تھا ۔ مایا ہنس پڑی ۔
نہیں ۔ مجھے کچھ اور کہنا تھا ۔ ابتہاج اسے چڑانے کے موڈ میں بولا ۔
اگر تم یہ سمجھو گے کہ میں چڑ جاؤں گی تو تمہاری سوچ ھے ۔
جو کہنا ھے کہو نہیں تو میرا گھر جانے کا ٹائم ھو گیا ۔ میں مزید رک نہیں سکتی ۔
مایا نے اپنا بعد سمیٹتے ہوئے کہا ۔
چلو مذاق ختم ۔ سریس ھو کے سنو ۔
کس تم اپنا گیٹ اپ ماریہ سے بدل نہیں سکتی ۔
میرا مطلب یہ کہ جس سے کم از کم میں دونوں میں فرق جان سکوں ۔
مایا کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
ابتہاج ۔ ہمارے ممی ڈیڈی کو ہم ایک جیسی نہیں لگتی ۔ انھیں ہم دونوں میں فرق محسوس ہوتا ھے ۔ آب اگر تمہیں میری ضرورت ھے تو یہ فرق تم ڈھونڈو ۔
مایا نے سیریس ھو کر کہا ۔
تم پاگل ھو گئی ھو ۔
والدین کی بات اور ھے ۔ وو تو آنکھیں بند کر کے بھی پہچان سکتے ہیں ۔
میں تمہارا والد نہیں ۔ جو پہچان سکوں ۔ نا ھی ہمارا بہت ٹائم ساتھ گزرا ۔ مجھے کوئی واضح فرق چاہیے دونوں میں ۔
اپنا ہیر سٹائل یا کوئی رنگ پہنو یا کچھ بھی یار ۔
بس کچھ بدلو ۔
مایا اسکی جھنجہلا ہٹ کو سمجھتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ھے ۔ میں سوچوں گی ۔ فلحال میں گئی ۔
مایا تیزی سے اٹھی اسکی بس کا ٹائم ھو چلا تھا ۔
ابتہاج اسے دور جاتا دیکھتا رہا ۔
