Surkh Joda by Saloni NovelR50454 Surkh Joda Episode 6
Rate this Novel
Surkh Joda Episode 6
Surkh Joda by Saloni
سالگرہ پر مجبورا پہلے والا ڈریس پہننا پڑا ۔
مایا ماریہ تو پارٹی میں مگن تھیں اور بھول گئی۔
پر سدرہ پورا وقت بیحد پریشان رهی ۔
کتنے شوق سے تو لیے تھے فراک ۔
خیر مہمانوں کے جانے کے بعد تسلی سے ڈھونڈوں گی ۔
فنگشن بہت اچھا رہا ۔
مایا ماریہ نے خوشی خوشی کیک کاٹا ۔
مایا نے کیک کا ٹکڑا سب سے پہلے اپنے ڈیڈی کے منہ میں اور ماریہ نے اپنی ممی کے منہ میں ڈالا ۔
اسی طرح ممی ڈیڈی نے بچیوں کو کیک کھلایا ۔
محفل میں موجود سبھی مہمانوں نے پرجوش تالیوں سے سالگرہ مبارک باد پیش کی ۔
کھانا کھانے کے بعد سب لوگ رخصت ہو گئے ۔
مایا ماریہ کا کمرہ تحایف سے بھر گیا ۔
چاروں مزے مزے سے تحفے کھولتے اور ساتھ تالیاں بجاتے ۔
مایا ماریہ کی آنکھوں میں خوشی کی چمک کو دیکھ کر وسیم اور سدرہ کو اپنی جیت نظر اتی ۔
دونوں کی زندگی کا اولین مقصد بن ماں باپ کی بچیوں کو نا صرف پناہ دینا تھا بلکہ انکو اس قابل بھی بنانا تھا کہ وہ اپنے پاؤں پر مضبوطی سے کھڑی ھوں ۔ اور اپنے قوت بازو پر دنیا کا مقابلہ کر سکیں ۔
سب کے دیے ہوۓ تحفے نہایت شاندار تھے ۔
اور شاندار کیسے نا ہوتے ۔
سدرہ وسیم کا فمیلی میں رکھ رکھاؤ جو بہت تھا ۔
سدرہ کی بہن نیلو کے تحفے تو کمال کے تھے ۔
ریڈ باربی ڈول اور پنک باربی ڈول ۔
سدرہ نے تمام تحفے سمیٹے اور جلدی سے سب کام کو نبٹایا ۔
تاکہ صبح وقت پر اٹھ جایئں ۔
اگلے دن سدرہ نے تسلی سے پورا گھر چھان مارا ۔ مگر سرخ فراک نہ مل سکے ۔
سدرہ اور وسیم کی سمجھ سے با لکل با ہر ھو گئی یہ بات ۔
خیر سدرہ نے تمام تحفے سنبھال دیے ۔
نیلو کی دی ہوئی خوبصورت باربی ڈول دونوں کے بیڈ کی بیک پے سجا دی گئی ۔
اگلے دن حسب معمول صبح سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے ۔
وسیم اپنے کاروبار میں مصروف رہتے ۔
مایا ماریہ کے پپیرز سر پر پہنچ گئے ۔
سدرہ اکثر سرخ فراکوں کا سوچتی ۔ کون لے جا سکتا ھے آخر ۔
چلو ایک مرتبہ پھر نظر مار لو ۔
یہ سوچ کے سدرہ نے پورے گھر کی پھر سے تلاشی لی ۔
تلاشی کے دوران سدرہ کو ایک اور جھٹکا سا لگا ۔
سرخ فراک کے بعد سرخ باربی ڈول بھی گھر سے غائب تھی ۔
فراک کو بھول کر اب سدرہ باربی ڈول ڈھونڈھنے میں لگ گئی ۔
سدرہ نے فورا وسیم کو کال پر بات کرتے ہوئے بتایا ۔
وسیم بھی بہت حیران ھو گئے ۔
ایسا کیسے ہو سکتا ھے گھر میں آخر کون آتا جاتا ھے جو چیزیں غائب ھو رهی ہیں ۔
مایا ماریہ کے گھر اتے ھی سدرہ نے بڑی لا تعلقی سے بات کرتے ہوئے کہا ۔
بیٹا مایا ماریہ جس کمرے میں ڈول ھو وہاں نماز نہیں قبول ہوتی ۔ جاو اپنی ڈول لیکر آو میں سنبھال دوں ۔ تاکہ گندی نا ھو جایئں ۔
جب کھیلنا چاہو نکل کر کھیل لینا ۔
سدرہ دونوں پے ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی کہ وہ جانتی ھے سرخ ڈول گم ھو چکی تھی ۔
سدرہ نے سوچا شائد ان میں سے کسی نے نا چھپائی ھو ۔
کچھ دیر بعد دونوں بھاگتی آئیں اور ان کے ہاتھ میں صرف ایک ڈول تھی ۔
اب پریشانی یہ تھی کہ گھر سے چیزیں غائب کیسے ہو سکتی ہیں ۔
اس واقعے نے سدرہ اور وسیم کو الرٹ کردیا ۔
حیرت تو اس بات کی تھی کہ کون آیا گھر تک ۔
سدرہ تو ویسے بھی کچھ پرانے خیالات کی مالک تھیں ۔
وسیم سے بڑی رازداری سے کہا ۔ اگر آپ اجازت دے تو ساتھ والی خالہ کے ساتھ جا کر حساب نا کرا لو ۔ گھر سے چیزیں کیسے غائب ہو رهی ہیں ۔
وسیم نے سر پکڑتے ہوۓ کہا ۔
او اللہ کی بندی ۔ اللہ کا واسطہ بات کا رخ اس طرف مت موڑ دینا ۔ ایسا کچھ بھی نہیں یہ محض اتفاق ہوگا ۔
وسیم نے اب سختی سے منع کردیا کہ اب اس واقعے کا ذکر کبھی نہیں کیا جائے گا ۔
وقت گزرتا گیا ۔ پھر ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ۔
مایا ماریہ کے پپرز شروع ھو چکے تھے ۔ سدرہ وسیم نے تمام مصروفیت کوبالاے طاق رکھ کر انکو تیاری کروائی ۔ کیونکہ اس سال انکے بورڈ کے پپرز تھے ۔
پپرز کے دوران گھر کا ماحول کافی تھکا دینے والا تھا ۔
پپرز کے ختم ہوتے ھی کوئی اچھا سا پلان رکھیں گھومنے کا ۔ سدرہ نے تنگ آکر وسیم سے کہا تو مایا ماریہ بھی خوش ھو گئی ۔ وسیم بھی تیار تھے ۔
سب نے ملکر پروگرام بنایا کہ کسی دوسرے شہر کو چلتے ہیں ۔ جہاں دو دن قیام بھی شامل ھو ۔ تاکہ دماغ سے پچھلے دنوں کا بوجھ اتر سکے ۔
لہٰذا تمام ضروری سامان اور کچھ کپڑے کھانے پینے کا سامان گاڑی میں رکھا گیا اور سب دو دن کیلیے لاھور کی طرف روانہ ہوگئے ۔
