Surkh Joda by Saloni NovelR50454

Surkh Joda by Saloni NovelR50454 Surkh Joda Episode 17 (Last Episode)

279.3K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Joda Episode 17 (Last Episode)

Surkh Joda by Saloni

ماریہ کو بچانے کوئی اگے نہیں بڑھ سکا ۔ کھائی بہت گہری اور خار دار تھی۔

فوری طور پر وسیم کو اطلاع دی گئی ۔ پولیس کی بھری ہوئی نفری بھی ان پہنچی ۔ لیکن ماریہ کی جان نہیں بچا سکے ۔

سدرہ پر غم کا پھاڑ ٹوٹ پڑا ۔

وسیم دیوانہ وار چیخ رھے تھے ۔ مایا سکتے میں تھی ۔

مایا نے ماں باپ کو الگ لے جا کر ماریہ کی موت کا سبب بتایا ۔

وسیم کا پورا خاندان اس صدمے میں انکا شریک تھا ۔

فیروز حیدر بھی بہت دکھی تھے ۔

قدرت نے دو بیٹیاں دی بھی اور ابھی تو وہ جی بھر کر انکو پیار بھی نا کر پائے تھے کہ ایک کو چھین بھی لیا ۔

وقت گزرتا گیا ۔ مایا کی شادی کا وقت قریب آن پہنچا تو اچانک وسیم کو دل کا دورہ پڑا اور وہ بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔

سدرہ کی دنیا تو اجڑ ھی تھی ۔ ساتھ میں مایا پر دکھوں اور غموں کے پھاڑ ٹوٹ پڑے ۔

فیروز حیدر نے وسیم کے چالیسویں کے بعد خاموشی سے رحیم کی سرپرستی میں مایا کا نکاح پڑھا کر گھر لے آئے ۔

ایسے مایا نے سرخ جوڑا بھی نا پہنا اور دلہن بن کر ابتہاج کے گھر آ گئی ۔

ابتہاج مایا کی سوچ سے بھی بھڑ کر اچھا تھا ۔ بہت خیال رکھنے والا اور محبت کرنے والا شوہر تھا ۔

فیروز حیدر اور ہاجرہ ابتہاج کی ذمداری سے فارغ ھو کر حج کے لیے سعودی عرب روانہ ہو گئے ۔

شادی کے دو ہفتے تک مایا اپنی ممی سے ملنے نہیں جا سکی ۔

ابتہاج کو ایک نئی جاب کی افر تھی ۔ شروع کے دو ہفتے نائٹ ڈیوٹی تھی ۔

ابتہاج کی غیر موجودگی میں مایا کو ممی سے ملنے کی طلب هوئی تو وہ ممی سے ملنے گھر پہنچ گئی ۔ سدرہ کی ملازمہ نے بتایا وہ اپنے کمرے میں ہیں ۔ مایا نے سلام کیا تو سدرہ نے نہایت حقارت سے مایا کو دیکھا اور دھکے دے کر مایا کو گھر سے نکال دیا ۔

مایا روتی ھوئی گھر واپس آ گئی ۔

گھر کا گیٹ کھولا تو مایا کو محسوس ہوا ۔ جیسے کمرے میں کوئی موجود ھے ۔ مایا نے سوچا شائد ابتہاج آ گئے ۔

مایا کمرے میں داخل ھوئی تو دیکھا شیشے کے سامنے کوئی لڑکی سرخ جوڑا پہنے ہوئے بیٹھی ھے ۔ اور میک اپ کر رهی تھی ۔ مایا کی آمد پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ مایا ھی تھی ۔

مایا نے خوف سے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئی ۔

ابتہاج کے پاس اپنی چابی تھی ۔ وہ گیٹ کھول کر اندر آے تو مایا کو بیہوش پایا ۔

مایا نے ھوش میں ا کر ابتہاج کو کچھ نہیں بتایا ۔

دوسرے دن مایا پھر سے اپنی ممی سے ملنے گئی۔ اج بھی سدرہ نے مایا کو تھپڑ مار کر گھر سے نکال دیا ۔ مایا روتی جب گھر پہنچی تو پھر وہی منظر ۔

مایا نے دیکھا مایا سرخ لباس میں تھی ۔ پورے عروسی جوڑے میں ۔ اسکے ہاتھ میں ایک خنجر تھا ۔ جس پر تازہ خون کے قطرے تھے ۔ اور وہ اسی کی جانب بڑھ رہی تھی ۔

مایا ایک مرتبہ پھر سے گر کر بیہوش ہو گئی ۔

اج پھر ابتہاج باہر سے آیا تو مایا بیہوش پڑی تھی ۔

انے والا ہر دن مایا کے لیے ایک نیا مسلہ کھڑا کر رہا تھا ۔

کبھی سرخ جوڑا بیڈ پر پڑا ملتا تو کبھی کچن میں ۔

کبھی ٹیوی لونج میں اور کبھی سیڑھیوں پر ۔

مایا بے حد پریشان ھوئی اور پھر سے ممی کے پاس پہنچ گئی ۔

سدرہ نے اج بھی مایا کے ساتھ وہی سلوک کیا ۔

مایا کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا ۔ تو مایا نے دکھی ھو کر سدرہ سے کہا ۔

اج کے بعد میں بھی آپکے لیے مر گئی ۔

میں جا رهی ھوں اپنی بہن کے پاس ۔

رات گئے جب ابتہاج گہری نیند میں تھا ۔ مایا نے سرخ جوڑا اٹھایا اسے لپیٹ کر اپنی بغل میں چھپایا اور ایک بڑی سی چادر اوڑھ کر قبرستان کی جانب دوڑنے لگی ۔ اس نے ماریہ کی قبر پر پہنچ کر سرخ جوڑا اسکی قبر پر پھیلا دیا ۔

اور زاروقطار رونے لگی ۔ اسکی زبان پر ایک ھی بات تھی ۔

مایا مجھے معاف کر دو ۔

مایا میں مجرم ھوں تمہاری ۔

تمہارا سرخ جوڑا مجھے جینے نہیں دیتا ۔

میں نے تم سے ابتہاج اور خوشیاں چھین لی تھیں ۔

میں خود غرض ھو گئی تھی ۔

مجھے بھی ابتہاج سے محبت ھو گئی تھی ۔

مجھے معاف کر دو مایا ۔

اتنے میں ایک درخت کی اوٹ سے سدرہ اتی دکھائی دی ۔

وو پاس آ کے بولی ۔

ماریہ وسیم تمہاری وجہ سے اپنی جان سے گئے ۔

بیشک وہ تمہارے سگے باپ نہیں تھے ۔ انھیں محسوس ھو رہا تھا کہ کچھ غلط ہونے والا ھے ۔ انہوں نے خواب میں بھی یہی دیکھا تھا کہ وہ خود کو قتل کر رھے ہیں ۔

ماریہ میں پورے وثوق سے کہتی ھوں ۔ اج تمہارے اپنے ماں باپ کی روح بھی کانپ گئی ہوگی ۔ تم نے مایا کو نہیں خود کو قتل کیا ۔ تم نے مایا کو نہیں خود کو دھکّا دیا ۔

روتے روتے سدرہ کی ہچکی باندھ گئی ۔ وہ ایک ھی لفظ بار بار بولے جا رهی تھیں ۔

تم نے خود کو خود مار دیا ۔

ابتہاج پیچھے کھڑا یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا ۔

اسکی آنکھوں سے آنسو بہ رھے تھے ۔ اس نے ماریہ کا گلا دبانا شروع کر دیا ۔

ماریہ بولو کیوں دھکا دیا تم نے مایا کو ۔ کیوں ہمارے پیار تو پروان نہیں چڑھنے دیا ۔

سدرہ نے ابتہاج سے التجا کی ماریہ کو چھوڑ دو ۔

اچانک ابتہاج نے دیکھا مایا سرخ لباس میں سب کے سامنے اکر ابتہاج سے التجا کرتی ھے ۔ ابتہاج ماریہ کو معاف کر دو ۔ اگر اسے کچھ ھو گیا تو میری ممی تنہا رہ جایں گی ۔

اسکا زندہ رہ جانا ھی اسکی سزا ھے ۔

ہمارے والدین کو ہماری پیدائش سے بھی پہلے معلوم ھو چکا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماریہ نے زور زور سے چیخنا شروع کر دیا ۔

میں مجرم ۔ میں قاتل ۔ ڈیڈی ۔ ممی ۔

ماریہ کی آنکھ کھلی تو وسیم سدرہ مایا اسکے آس پاس کھڑے ہوئے تھے ۔

سدرہ بار بار یہی کہہ رهی تھی ۔

مری بچی کو کیا ھو گیا ۔

وسیم نے آیات الکر سی پڑھ کر دم کیا ۔

ماریہ مایا اور ڈیڈی کے گلے لگ کر خوب روئی اور پورا خواب سنا ڈالا ۔

وسیم نے کہا ۔ بیشک صدقہ بلاؤں کو ٹال دیتا ھے ۔

میں نے جب جب برا خواب دیکھا ۔ صدقہ دے کر مطمئن ھو گیا ۔

سدرہ کل پھر میری بچیوں کا صدقہ دے دینا ۔

اور اب خوشی خوشی شادی کی تیاریوں میں مصروف ھو جاو ۔