279.3K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Joda Episode 15

Surkh Joda by Saloni

مایا ماریہ کون ھے ابتہاج اور مجھے بتایا کیوں نہیں کہ وہ گھر آنا چاہتے تھے ۔

سدرہ نے غصّے سے پوچھا ۔

تم دونوں اتنی بڑی ھو گئی ھو جو اپنے فیصلے خود کرو ۔ کوئی احساس ھے اپنے باپ کا تم لوگوں کو ۔

سدرہ غصّے سے بولے جا رهی تھیں ۔

مایا ماریہ خاموش مجرم بنی سنتی رهی ۔

ماریہ نے ماں کا غصّہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر پیار کرتے ہوئے کہا ۔

ممی کیا آپ سوچ سکتی ہیں کہ آپکی مایا ماریہ کوئی غلط حرکت کریں گی ۔

جبکہ ہمیں یہ بھی پتا چل گیا ڈیڈی نے اپنی پراپرٹی بیچ کر ہماری فیس ادا کی ۔

آپ ہم پر یقین رکھ سکتی ہیں ۔ پلیز ۔

ماریہ کی دیکھا دیکھی مایا نے بھی ہمت کی اور کہا۔

ممی میں آپ سے معذرت چاہتی ھوں ۔

ابتہاج کافی ٹائم سے مجھے مجبور کر رہا تھا ۔ لیکن میں نے ڈر کی وجہ سے آپکو بتایا نہیں ۔

ایک بات ہمیشہ کیلئے دل میں بیٹھا لے ممی ۔

میں آپکی مرضی کے بنا کوئی کام نہیں کرونگی ۔

جو اپکا فیصلہ وہی مجھے منظور ۔

مایا یہ کہہ کر سدرہ کے قدموں میں بیٹھ گئی اور اپنا سر انکی گود میں رکھ دیا ۔

سدرہ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے ۔

اور خوش ھو کر بولی ۔

اللہ پاک میری بیٹیوں جیسی اولاد سبکو دے ۔

تم دونوں نے میرا مان رکھ لیا ۔

بہرحا ل حتمی فیصلہ تو تمہارے ڈیڈی ھی کرینگے ۔

میں کوشش کرونگی کہ کچھ بہتر ہو ۔

لیکن ایک بات یاد رکھنا ۔ تمارے ڈیڈی نے رحیم سے بھی امید لگا رکھی ھے۔ شمائل کی اگلے سال تعلیم مکمل ھو جاۓ گی ۔ اور پھر وہ دیر نہیں کرینگے ۔

ماریہ کا یہ بات سن کر بیحد موڈ خراب ہو گیا ۔ لیکن اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔

شمائل بیشک بہت اچھا تھا لیکن وہ بیحد سخت مزاج انسان تھا ۔ جبکہ ابتہاج کا مزاج دوستانہ تھا ۔

۔ وسیم رات گئے گھر آے ۔ خوب تھکے ہوئے تھے ۔ کھانا بھی بمشکل ھی کھایا اور گہری نیند سو گئے۔

سدرہ کو خواہش تھی کہ ابھی دن بہر کی کارروائی بتا سکے ۔

کل جو فمیلی ہمارے گھر آئی تھی ۔ وہ کسی مقصد سے آئے تھے ۔

سدرہ نے بات شروع کرتے ہوئے کہا ۔

کیا مقصد سے ۔ وسیم نے سدرہ کو گھورتے ہوۓ کہا ۔

وہ مایا کا رشتہ چاہ رہے ہیں ۔

سدرہ نے دبے الفاظ میں بتایا ۔

ہنہہ ۔رشتہ ۔

نا جان نا پہچان چلے آے رشتہ لینے ۔

میں نے اپنی بچیوں کے لیے سوچ رکھا ۔ آئیند ہ ہمارے گھر اس نیت سے کوئی آئے تو صاف منع کر دینا ۔

پر وسیم وہ لوگ آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ سدرہ نے بتایا تو وقسم نے کہا ۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں ان سے ملنے کی ۔

وہ ایک بڑا عجیب سا پیغام بھی دے کر گئی ہیں ۔ سدرہ کچن سے بولی ۔ کون سا ۔ باہر آ کر بات کرو ۔

وسیم خاصی جھنجھلا گئے ۔

سدرہ کچن سے باتیں کر رهی تھی تو انکو سننے میں دشواری ھو نے لگی ۔

سدرہ دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے پاس آ بیٹھی اور پوری بات تفصیل سے بتائی ۔

فیروز حیدر کا گر جانا اور انکا پیغام کہہ میری ایک قیمتی چیز یہاں تھی جو آب میں لے چلا ۔

کیا لے گیا ۔ وسیم نے حیرت سے پوچھا تو سدرہ نے کہا ۔

مجھے تو کچھ نظر نہیں آیا ۔

وہ خالی ہاتھ تھے ۔

وسیم سوچ میں پڑ گئے ۔

خیر میں نہیں سمجھتا ایسے لوگوں سے دوبارہ ملا جاۓ ۔

سدرہ نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔

وسیم وہ کافی قیمتی تحایف بھی لاۓ تھے ۔ اس سے پہلے انہوں نے مایا کو گرم شال بھی تحفے میں دی ۔

کیا ۔ یہ کب کی بات ھے ۔

اور مجھے پتا بھی نہیں ۔

اصّل میں مایا کا کلاس فیلو ھے ابتہاج ۔ وہ انٹرسٹد ھے ۔

وسیم یہ بات سنکر بہت خفا ھو گئے ۔ اور غصّے سے اٹھ کر باہر نکل گئے ۔

فون کی گھنٹی لگاتار بج رهی تھی ۔ سدرہ کچن میں مصروف تھیں ۔ اسے فون کی آواز نہیں سنائی دی ۔

وسیم باہر آے تو فون لگاتار بج رہا تھا ۔

فون ریسیو کرنے کے بعد سلام کیا ۔ دوسری طرف سے بتایا گیا ۔ میں فیروز حیدر بات کر رہا ھوں ۔

فیروز حیدر نے بہت نفیس انداز میں بات کی کہہ وسیم کو بات کرنا ھی پڑی ۔ جبکہ انکی ہرگز مرضی نہیں تھی ان سے بات کرنے کی ۔

میں اپ سے ملنا چاہتا ھوں ۔

جی ضرور مجھے جب بھی فرصت ملی ضرور ملاقات کریں گے ۔

فلحال میں کافی مصروف ھوں ۔

ٹھیک ھے میں انتظار کر لونگا ۔

وسیم نے ٹالنے کی بات کی اور فون بند کر دیا ۔

سدرہ نے پوچھا انہوں نے بتایا نہیں کس قیمتی چیز کی بات کی تھی ۔

ظاہر ھے ہماری بچی کی ھی بات کرنی ہوگی ۔

جب میں نے رشتہ دینا ھی نہیں تو زیادہ لمبی باتوں کا کوئی فائدہ ۔

وسیم نے بیزاری سے کہا ۔

اور ہاں مایا ماریہ کو کہہ دینا ۔

جب تک تعلیم مکمل نہیں ھو جاتی ۔ فضول باتوں سے پرہیز کریں ۔

وسیم نے ساتھ ھی رحیم کا نمبر ڈائل کیا ۔

رحیم نے جلد ہی فون ریسیو کر لیا ۔ وسیم نے شمائل کا پوچھا کہ وہ پاکستان کب واپس آ رہا ھے ۔

ابتہاج نے بھی ٹھان لی کہ وہ اج انکل سے مل کر ھی رھے گا ۔

یونیورسٹی جانے کی بجائے وہ سیدھا وسیم سے ملنے گھر ا گیا ۔

مایا ماریہ دونوں گھر پر موجود نہیں تھیں ۔

وسیم انھیں ابھی ڈراپ کر کے واپس آئے ھی تھے کہ باہر بل کی آواز پر گیٹ کھولا تو سامنے ابتہاج کو پایا ۔

جی فرمایے ۔

وسیم کی اس سے پہلے ابتہاج سے بلمشافہ ملاقات نہیں تھی ۔

صرف نام سے واقف تھے ۔

ابتہاج نے اپنا تعارف کرایا تو وسیم کو سخت ناگوار گزرا ۔

انہوں نے ابتہاج کو گھر کے اندر انے کی صلح بھی نہیں کی اور آنے کا مقصد پوچھا ۔

ابتہاج نے انتہائی ادب سے بات کرتے ہوئے کہا ۔

انکل کیا ہم بیٹھ کر بات نہیں کر سکتے ۔ دراصل مجھے آپکو کچھ خاص بتانا ھے ۔

وسیم نے سپاٹ لہجے میں انکار کردیا اور کہا مجھے آفس جانا ھے ۔ ابھی میں فارغ نہیں ۔ یہ بات ہم پھر کبھی کر لیں گے ۔

ابتہاج نے محسوس کر لیا کہ وہ اسے ٹال رھے ہیں ۔

ابتہاج نے دیکھا کہ جب بات نہیں بن رهی تو اس نے جلدی سے بات کو بڑھاتے ہوئے کہا کہ اصّل میں میرے بابا کو انکا ایک گمشدہ لاکٹ آپکے گھر سے ملا ۔

میں اس سلسلے میں بات کرنا چاہ رہا تھا ۔

وسیم نے حیران ھو کر پوچھا ۔

کونسا لاکٹ ۔

ابتہاج نے جواب دیا ۔

ہمارا خاندانی لاکٹ جس پر ٹوانہ کنندہ ھے ۔

وسیم ابتہاج کی بات سنکر سکتے میں ا گئے ۔

کافی دیر سوچنے کے بعد انہوں نے ابتہاج سے پوچھا ۔

تمہیں وہ لاکٹ کہاں سے ملا ۔

ابتہاج نے بتایا کہ وہ آپکے ڈرائنگ روم کی زمین پر سے ملا ۔

لیکن وہ تو میں نے بینک کے لاکر میں رکھا تھا اور تمہارے بابا کے ہاتھ کیسے لگا ۔ یہ جھوٹ ھے ۔ تم کوئی چال چل رہے ھو ۔

میں تم لوگوں پر کیس کر دونگا ۔ وسیم کو اب ابتہاج فمیلی سے خطرہ لاحق ہو نے لگا ۔

وسیم نے اپنے دوست جو پولیس کے محکمے میں تھا اس سے بات کی ۔ بینک کا رخ کیا ۔

بینک منیجر سے اپنے لاکر کو کھلوانے کو کہا ۔

وسیم پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔ لاکر میں تمام سامان اپنی جگہ موجود تھا جبکہ ٹوانہ نیکلس غائب تھا ۔

وسیم نے ابتہاج کے والد کے خلاف پرچہ کٹوانا چاہا تو رحیم نے مشورہ دیا کہ ابتہاج کے گھر جا کر پہلے دیکھ تو لیں کیا ابتہاج نے اسی نیکلس کا ذکر کیا ھے۔

رحیم اور وسیم نے فون پر ابتہاج کو بتایا کہ ہم شام چار بجے تک آپکے گھر آنا چاہے گے ۔

ابتہاج نے خوشی خوشی گھر کا اڈریس سمجھایا اور ماما بابا کو بھی اطلاع دے دی ۔

شام چار بجے رحیم اور وسیم ابتہاج کے گھر پہنچ گئے ۔

ابتہاج بڑے ادب سے دونوں کو ڈرائنگ روم میں بیٹھا کر اپنے بابا فیروز حیدر کو اطلاع دینے باہر نکل گیا ۔

وسیم کا پارا غصّے سے ہائی ھو رہا تھا ۔ وہ رحیم کو بتا رھے تھے کہ انکی دیدہ دلیری دیکھو کیسے لاکٹ کا ذکر کر رھے ہیں ۔

اتنے میں ایک بہت ھی نفیس آواز آئی ۔

اسلام علیکم ۔

رحیم اور وسیم دونوں فیروز حیدر کی آواز کی طرف متوجہ ہو کر سلام کا جواب دیا ۔ وسیم فیروز حیدر کو دیکھ کر سکتے میں آ گئے ۔

انکی آواز گنگ ھو گئی ۔ آنکھیں پھیل کر باہر کو انے لگی ۔ شدید کپکپی طاری ہونے لگی ۔تو چکرا کر اگلے ھی لمحے رحیم کی باہوں میں گر کر بیہوش ہوگئے ۔