Surkh Joda by Saloni NovelR50454 Surkh Joda Episode 1
Rate this Novel
Surkh Joda Episode 1
Surkh Joda by Saloni
سمیر کیوں نا پاکستان جا کر تمہاری فمیلی کو ڈھونڈا جاۓ ۔
بیٹھے بیٹھے جین کو نا جانے کیا سوجھی اور سمیر کو چونکا دیا ۔
ہاں یہ تو کبھی میں نے سوچا بھی نہیں ۔ پر ایسا کیسے ممکن ھو سکتا ھے۔
سمیر نے لاپرواہی سے کہا ۔
کیوں نہیں ھو سکتا جین نے پختہ لہجے میں کہا ۔
آجکل کسی کو ڈھونڈھنا کون سا مشکل ھے ۔ بس فیملی نمبر ڈالو تو پورا بیک گراونڈ نکل آتا ھے ۔
اچھا اگر ایسا ھو تو میرا پاکستان جانے کا شوق بھی پورا ھو جاۓ ۔
سمیر نے بڑی خوشی سے کہا ۔
جین نے اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا ۔ اور سمیر بڑے تجسس کے ساتھ جین کے پاس ا بیٹھا ۔
شائد جین اسکی فمیلی کو ڈھونڈ نکالے ۔
سمیر برطانوی نژاد پاکستانی پچھلے پچیس سال سے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں رہتا تھا ۔ اسکے والدین بچپن میں کسی حادثے کا شکار ھو گئے تھے ۔ برطانوی حکومت نے ھی اسے سہارا دیا اور زندگی کے مراحل بتدریج بڑھتے جا رھے تھے ۔
سمیر نے کالج کی تعلیم مکمل کی اور یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ۔
چند دوستوں کے علاوہ اسکا کوئی بھی نہیں تھا ۔
وہ اکثر شام کو لوگوں کے ہجوم میں تنہا سڑکوں پر گھومتا ۔ اور انکے چہروں پر جب خوشی تاثرات دیکھتا تو پہروں یہی سوچتا کہ وہ اگر خوش ہیں تو کس بات پر ۔
ایسی کون سی اکٹیوٹی ہوتی ھے جس کے بعد لوگوں کو خوشی ہوتی ھے ۔
سمیر کو غمی اور خوشی کے احساس کا پتا بھی نہیں تھا ۔
کلاس میں بھی کسی سے خاص دوستی نہیں تھی ۔ جب وہ اٹھارہ برس کا ہوا تو حکومت برطانیہ نے اسے الگ اپارٹمنٹ دے دیا تھا ۔ وہ اکثر اپنے والدین اور فمیلی کے بارے میں بھی سوچتا رہتا تھا ۔یونیورسٹی میں آ کر اسکی دوستی جین سے ھو گئی ۔
جین بہت خوبصورت اور سلجھی ھوئی لڑکی تھی ۔
جین کے والدین کافی امیر لوگ تھے ۔
سمیر پڑھائی میں کافی تیز تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ مراحل تیزی سے عبور کر رہا تھا ۔
جین یونیورسٹی اپنی کار میں اتی تھی ۔ پڑھائی میں وہ بھی کافی تیز تھی ۔
کلاس میں کافی سٹوڈنٹس تھے ۔ ان شوخ و چنچل لوگوں میں سمیر سب سے مختلف تھا ۔ اپنے کام سے کام رکھنے والا ۔
دوستوں کے ساتھ کچھ ٹائم گزارنے کے بعد فورا اکتا جاتا ۔
سمیر نے پارٹ ٹائم جاب کے دوہرانیے کو بڑھا دیا ۔
جین کو سمیر کی یہی بات بہت پسند تھی اور رفتہ رفتہ اسکے قریب اتی گئی ۔
سمیر نے جین کو کبھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی ۔
شائد اسے رشتوں کی چاہت اور اہمیت کا اندازہ نہیں تھا ۔
حالانکہ وہ جان بوجھ کر جین کو اگنور نہیں کرتا تھا ۔
جین سمیر کو سمجھ چکی تھی ۔
وہ بخوبی آگاہ تھی کہ سمیر دنیا بھر میں بالکل اکیلا ھے۔
یہی وجہ تھی کہ وہ کچھ ہمدردی کی بنا پر بھی اسکے قریب ہوتی گئی ۔
جین کی دوستی یونیورسٹی سے گھر تک پہنچ گئی ۔
وہ اکثر اسکے گھر اتی گھر کے چند چھوٹے موٹے کام کر دیتی ۔کبھی کبھار ہلکا پھلکا کھانا بھی بنا دیتی ۔
جین کے ہاتھ سے پکا کھانا سمیر کو بہت اچھا لگتا ۔
چونکہ ہفتے میں دو دن اسکے گھر لازمی چکر لگاتی لہٰذا اب سمیر کو اسکا انتظار رہتا ۔
تمہیں آلو کے پراٹھے بنانے آتے ہیں کیا ۔
سمیر نے جین سے پوچھا تو وہ بولی ۔
واٹ ۔ الو کے پراٹھے کیا ہوتا ھے ۔
وہ روٹی کے اندر الو ڈال کے پکتے مجھے بھی میرے ایک دوست نے کھلاے تھے ۔ کافی ٹیسٹی تھے وہ ۔ اوکے لیو ۔
تم کیا بنا رهی ھو اج ۔
جین نے کافی کے ساتھ ٹوسٹ بنا کر ٹیبل پر رکھے ۔ جلدی سے اپنا بیگ سمیٹا اور سمیر کو دیر ھو جانے کا کہہ کر بھاگتی ہوئی گاڑی میں بیٹھ کر نکل گئی ۔
جین اپنی ایک انڈین دوست کے گھر پہنچ گئی ۔
ڈور بیل پر جلد ہی دروازہ کھل گیا ۔ سمرتی نے جین کو خوش دلی سے ویلکم کیا اور اندر لے گئی ۔
اج پہلی مرتبہ جین سمرتی کے گھر آئی تھی جبکہ انکی دوستی کو کافی عرصہ گزر گیا تھا ۔
سمرتی نے جین کی اچانک آمد کا مقصد پوچھا کہ خیریت ھے نہ ہیں ایسے اچانک ۔ ۔ ۔
سمرتی کیا تم مجھے آلو کے پراٹھے بنانے سکھاؤ گی ۔
سمرتی قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔
تو کیا تم اس کام کے لیے آئ ھو ۔ سمرتی نے ہنستے ہوئے کہا ۔
جین کھسیانی ھو کر بولی اصّل میں کسی سے سنا تھا آلو کے پراٹھے برے ٹیسٹی ہوتے ہیں ۔
سمرتی اسی وقت جین کے ساتھ کچن میں گئی ۔ ایک گھنٹے میں ھی اس نے جین کو سکھا کر کہا ۔
سچ بتانا یہہ سب تم سمیر کے لیے کر رهی ھو نا ۔
جین نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا ۔
بالکل اسے کے لیے ۔ تمہیں پتا ھے وہ اکیلا ھے ۔ اسکے والدین کی ڈیتھ ھو گئی ۔ باقی کی فمیلی پاکستان میں ھے ۔
میں کبھی کبھار اسکی ہیلپ کے طور پر کھانا بنا دیتی ھوں۔
بہت اچھی بات ھے جین ۔ سمرتی نے کہا ۔دوست انہی موقعوں پر ھی تو کام اتے ہیں ۔
کیا سمیر کو باقی فمیلی ممبرز کا نہیں معلوم ۔
وہ کیسے گزارا کرتا ھے بالکل اکیلے میں ۔
میں اسکا ساتھ دونگی ۔
میں سمیر کو وہ تمام خوشیاں دلاؤں گی جن پر اسکا حق ھے۔
جین کے لہجے میں عزم تھا ۔
تو تم شادی کیوں نہیں کر لیتی اس سے ۔
سمرتی نے اسے مشورہ دیا ۔
ممکن ھے میں ایسا کر بھی لوں ۔
جین مسکرا کر بولی ۔
ویسے اتنا برا بھی نہیں کہ اسے اگنور کیا جا سکے ۔
دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑیں
جین خوشی خوشی گھر ا گئی ۔
اگلے دو دن جین یونی نہیں جا سکی ۔
کچھ طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور کچھ گھریلو کام کی وجہ سے ۔
سمیر جین کی غیر موجودگی میں خود کو اکیلا محسوس کرنے لگا ۔
دو دن کافی بوریت سے گزرے ۔
اج سمیر کافی اداس تھا ۔ بلا وجہ روڈ پر چلنا شروع کر دیا ۔
چلتے ہوئے اسے احساس بھی نہیں ہوا وہ گھر سے کافی دور نکل آیا تھا ۔
سردی کی جب لہر پورے جسم میں دوڑنے لگی ۔ تو واپسی کا خیال ایا ۔
صبح چاہنے کے باوجود سمیر یونی جانے کیلیے اٹھ نہیں پایا ۔
جین یونی اتے ھی سمیر کو ڈھونڈنے لگی ۔
سمیر دو دن بولایا بولایا پھرتا رہا ۔ اج شائد غصے سے نہیں آیا ہوگا ۔ سمرتی نے بتایا ۔
اوکے میں دیکھ لیتی ھوں ۔ جین نے کہا ۔
ڈور پر دستک ھوئی تو سمیر کی آنکھ کھلی۔
ہمم اس وقت کون ہوگا ۔
ٹائم دیکھا تو کافی دیر ھو چکی تھی ۔
سمیر نے جلدی سے دروازہ کھولا اور بڑی بے نیازی سے واپس مڑ گیا۔
جین نے اندر اتے ھی بڑی خوش دلی سے کہا ۔
ہیلو !
ہیللللو سمیر ۔
سمیر نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا ۔
کیا ہوا سمیر ۔ جین نے پوچھا ۔
نوتھنگ ۔ سمیر نے بڑی لا پرواہی سے کہا ۔
تو بات کیوں نہیں کر رھے ۔ ناراض ھو کیا ۔
سمیر نے جواب دیے بغیر کہا ۔
میں فریش ھو لوں ۔
جین من ھی من میں مسکرا اٹھی ۔
بیٹھ کر سوچنے لگی کہ اب وہ کیسے سمیر کو مناے ۔
