Surkh Joda by Saloni NovelR50454 Surkh Joda Episode 5
Rate this Novel
Surkh Joda Episode 5
Surkh Joda by Saloni
مایا اور ماریہ نئے ماحول میں ایسے رچ بس گئی
جیسے شروع سے یہاں سے واقف ہیں ۔
صبح اٹھ کر اپنے والدین کے ساتھ فجر کی
نماز ادا کرنا ۔ قرآن پاک کی تلاوت کرنا انکا
معمول بن چکا تھا ۔
دونوں کو اسکول چھوڑ کر وسیم اپنے
آفس چلے جاتے اور سدرہ گھر کے کام کاج میں
مصروف رہتی ۔
بچیوں کو اسکول سے وسیم خود ھی پک کرتے
ایسے دوپہر کا کھانا سب ساتھ ملکر کھاتے ۔
دوپہر کھانا کھانے کے بعد قاری صاحب کا ٹائم
ھو جاتا ۔
قاری صاحب کے جاتے ھی سدرہ دونوں کو ہوم
ورک کرواتی ۔ ان سے سارا سنتی اور پھر جو
یاد کیا
ہوتا وہ لکھواتی بھی ۔
مایا اکثر پڑھائی سے تنگ آکر بھاگ جاتی ۔
سدرہ کی ڈانٹ کا بھی اثر نہیں ہوتا ۔
سدرہ چیختی رہ جاتی ۔
مایا ماریہ پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے
ادا کرتی ۔ قرآن پاک نصف مکمل ہونے کو تھا ۔
میتھ سدرہ کے بس میں نہیں تھا ۔ لہٰذا وسیم
خود دونوں کو پڑھاتے ۔
مایا اکثر وسیم سے ڈانٹ کھاتی ۔ میتھ تو اسے
زہر لگتا ۔
مایا اور ماریہ حد درجہ شریر تھیں ۔ وسیم
اور سدرہ انکی شرارتوں سے محظوظ ہوتے ۔
اتوار کا دن چاروں فیملی ممبر کرکٹ کھیلتے
یا باہر آووٹنگ پر نکل جاتے ۔
جس دن وسیم کو مایا ماریہ ملی تھیں وہ
دن سدرہ اور وسیم نے انکی پیدایش کا دن
تصور کر لیا تھا ۔
اپنی عمر کے لحاظ سے دونوں چھٹی کلاس
کی سٹوڈنٹ تھیں ۔
انکو اڈوپٹ کیے پورا ایک سال ہونے کو تھا ۔
وسیم نے انکی شاندار سالگرہ کا فیصلہ کیا ۔
جس میں اپنی پوری فمیلی کو بھی مدعو کیا ۔
سدرہ دونو کو ایک جیسا لباس پہناتی تھیں ۔
مایا ماریہ اپنی سالگرہ پر بیحد خوش تھیں
انہوں نے اپنی کلاس فیلوز کو بھی بلا لیا ۔
سالگرہ سے ایک دن پہلے دونوں نے باپ کو گھیر
لیا اور کہنی لگی ۔
ڈیڈی آپ ہمیں کیا گفٹ دیں گے ۔
بیٹا میں آپکو اتنا بڑا کیک جو دے رہا ھوں ۔
او ہو ڈیڈی کیک تو سب کھا جایں گے ۔
ہمیں تو گفٹ چاہیے۔
وسیم جان بوجھ کر دونوں کو چڑاتے ۔
تو ٹھیک ھے کیک نہیں لاتا ۔ گفٹ لے آتا ھوں ۔
خوش ۔
ڈیڈی جب آپ کیک نہیں لاۓ گے تو ہم کاٹے
گے کیا ۔یہ بھی تو سوچیں ۔ ماریہ نے پریشان
ھو کر کہا ۔
ہاں یہ تو میں نے سوچا بھی نہیں ۔ ڈیڈی بھی
اسی کے انداز میں بولتے ۔
ماریہ نے کہا ڈیڈی آپکو اتنی سمجھ ھی نہیں
اتی ۔ برتھ ڈے پر کیک ضرور ہوتا ھے ۔
ہاں نا بیٹا ۔ میری کبھی برتھ ڈے جو نہیں ھوئی
تو مجھے کیسے پتا ھو گا ۔
اف مت پریشان کریں میری بچیوں کو ۔
مایا ماریہ میں لے اوں گی کیک آپ ڈیڈی سے
گفٹ لے لینا ۔
دونوں ممی کی بات سے متفق ھو گئی ۔
پر ممی پھر اپکا گفٹ کیا ہوگا ۔ اس بات پر
وسیم قہقہہ لگا کر ہنس پڑے اور کہا ۔
چلو میری جان چھٹی اب تم بھگتو انکو ۔
سالگرہ سے ایک دن پہلے وسیم اور سدرہ
دونوں کو اسکول ڈراپ کر نے کے بعد
مارکیٹ چلے گئے ۔
سدرہ نے بہت گھومنے پھرنے کے بہت
آخر کار ایک بہت خوبصورت ڈریس ڈھونڈ ھی لیا ۔
سرخ ٹشو کے کامدار فراک اس پر خوبصورت
نگ بھی جڑے ہوئے تھے ۔
مچینگ گولڈن کلر کی سینڈل اور دیگر اشیا
گولڈن رنگ میں ۔
فراک کافی مہنگے داموں لیے
خوشی خوشی گھر آئے اور اپنی الماری میں ہینگ
کر دیے ۔
وسیم صاحب نے دونوں کے غیر موجودگی
میں انکے بیڈ روم کی حالت یکسر تبدیل کر دی ۔
پنک پینٹ ۔ پنک پردے بیڈ شیٹ کچھ
سینری بھی لگا دی
کمرے کی تبدیلی نمایاں نظر انے لگی ۔
سرپرائز کے طور پر انکے فراک اپنی الماری
میں ہینگ کر دیے ۔
ڈھائی بجے تک تمام کام کرنے کے بعد
وسیم مایا ماریہ کو اسکول سے لیکر جب
گھر آئے تو کمرے کا نقشہ ھی بدل چکا تھا ۔
دونوں معمول کے مطابق کمرے میں داخل
ہوئیں تو دنگ رہ گئی ۔
بھاگتی هوئی باہر آئیں ۔ ممی ڈیڈی ہمارا
کمرہ ۔
دونوں خوشی سے ممی ڈیڈی کے ساتھ لگ
گئی اور پھر تیزی سے کمرے میں گھس گئی ۔
دونوں نے کمرے کا پورا پورا جایزہ لیا ۔
ہر چیز انکی پسند کے مطابق بدلی گئی
تھی ۔
وسیم سدرہ دونوں کو خوش دیکھ کر
مسکرائے ۔
چلو مایا ماریہ چینج کرو فٹافٹ کھانا کھانے
کے بعد نماز پڑھو پھر کل کا پلان بناتے ہیں ۔
لیکن پہلے ہمیں فراک تو دیکھا یں ۔
ماریہ بے صبری سے بولی ۔
سدرہ نے انکو ستانا مناسب نہیں سمجھا اور
بتا دیا کہ انکی الماری میں لٹک رھے ہیں ۔
دونوں ممی کے کمرے کی طرف بھاگی اور بے
صبری سے الماری کھول کر فراک دیکھنے لگی ۔
اگلے دن سالگرہ کا دن تھا ۔ مہمان کے انے سے
پہلے سب کچھ تیار تھا. کیک بھی ا چکا تھا ۔
سدرہ نے کچن سے آواز دیکر کہا ۔
مایا ماریہ دونوں کپڑے چینج کرو پھر میں
دونوں کا ہیرسٹایل بنا دوں ۔
دونوں کھیلنے میں ایسی مشغول تھیں کہ
ماں کی بات سنی آن سنی کر دی ۔
تنگ آکر سدرہ خود فراک نکانے آئیں کہ انکو
فٹافٹ تیار کر سکیں ۔
دونوں فراک الماری میں نظر نہیں آئے تو
مایا ماریہ کے کمرے میں آ گئی ۔
انکی الماری میں بھی فراک نہیں تھے ۔
سدرہ غصّے سے چیخنے لگیں ۔ اور زور زور
سے آوازیں دینے لگیں ۔
مایا ماریہ یہاں آو دونوں ۔ اور تیار ھو جاو ۔
سدرہ نے دونوں سے پوچھا تمھارے فراک کہاں ھے ۔
مایا ماریہ نے لا تعلقی کااظہار کیا ۔
سدرہ نے دونوں کمروں کی الماریاں چھان ماری
مگر دونوں فراک نا ملنے تھے نا ھی ملے ۔
باقی تمام چیزیں سینڈل پونیاں چوڑیاں سب
موجود تھے لیکن سرخ فراک غائب ہوگئے ۔
