519.7K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Joda Episode 5

Surkh Joda by Saloni

مایا اور ماریہ نئے ماحول میں ایسے رچ بس گئی

جیسے شروع سے یہاں سے واقف ہیں ۔

صبح اٹھ کر اپنے والدین کے ساتھ فجر کی

نماز ادا کرنا ۔ قرآن پاک کی تلاوت کرنا انکا

معمول بن چکا تھا ۔

دونوں کو اسکول چھوڑ کر وسیم اپنے

آفس چلے جاتے اور سدرہ گھر کے کام کاج میں

مصروف رہتی ۔

بچیوں کو اسکول سے وسیم خود ھی پک کرتے

ایسے دوپہر کا کھانا سب ساتھ ملکر کھاتے ۔

دوپہر کھانا کھانے کے بعد قاری صاحب کا ٹائم

ھو جاتا ۔

قاری صاحب کے جاتے ھی سدرہ دونوں کو ہوم

ورک کرواتی ۔ ان سے سارا سنتی اور پھر جو

یاد کیا

ہوتا وہ لکھواتی بھی ۔

مایا اکثر پڑھائی سے تنگ آکر بھاگ جاتی ۔

سدرہ کی ڈانٹ کا بھی اثر نہیں ہوتا ۔

سدرہ چیختی رہ جاتی ۔

مایا ماریہ پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے

ادا کرتی ۔ قرآن پاک نصف مکمل ہونے کو تھا ۔

میتھ سدرہ کے بس میں نہیں تھا ۔ لہٰذا وسیم

خود دونوں کو پڑھاتے ۔

مایا اکثر وسیم سے ڈانٹ کھاتی ۔ میتھ تو اسے

زہر لگتا ۔

مایا اور ماریہ حد درجہ شریر تھیں ۔ وسیم

اور سدرہ انکی شرارتوں سے محظوظ ہوتے ۔

اتوار کا دن چاروں فیملی ممبر کرکٹ کھیلتے

یا باہر آووٹنگ پر نکل جاتے ۔

جس دن وسیم کو مایا ماریہ ملی تھیں وہ

دن سدرہ اور وسیم نے انکی پیدایش کا دن

تصور کر لیا تھا ۔

اپنی عمر کے لحاظ سے دونوں چھٹی کلاس

کی سٹوڈنٹ تھیں ۔

انکو اڈوپٹ کیے پورا ایک سال ہونے کو تھا ۔

وسیم نے انکی شاندار سالگرہ کا فیصلہ کیا ۔

جس میں اپنی پوری فمیلی کو بھی مدعو کیا ۔

سدرہ دونو کو ایک جیسا لباس پہناتی تھیں ۔

مایا ماریہ اپنی سالگرہ پر بیحد خوش تھیں

انہوں نے اپنی کلاس فیلوز کو بھی بلا لیا ۔

سالگرہ سے ایک دن پہلے دونوں نے باپ کو گھیر

لیا اور کہنی لگی ۔

ڈیڈی آپ ہمیں کیا گفٹ دیں گے ۔

بیٹا میں آپکو اتنا بڑا کیک جو دے رہا ھوں ۔

او ہو ڈیڈی کیک تو سب کھا جایں گے ۔

ہمیں تو گفٹ چاہیے۔

وسیم جان بوجھ کر دونوں کو چڑاتے ۔

تو ٹھیک ھے کیک نہیں لاتا ۔ گفٹ لے آتا ھوں ۔

خوش ۔

ڈیڈی جب آپ کیک نہیں لاۓ گے تو ہم کاٹے

گے کیا ۔یہ بھی تو سوچیں ۔ ماریہ نے پریشان

ھو کر کہا ۔

ہاں یہ تو میں نے سوچا بھی نہیں ۔ ڈیڈی بھی

اسی کے انداز میں بولتے ۔

ماریہ نے کہا ڈیڈی آپکو اتنی سمجھ ھی نہیں

اتی ۔ برتھ ڈے پر کیک ضرور ہوتا ھے ۔

ہاں نا بیٹا ۔ میری کبھی برتھ ڈے جو نہیں ھوئی

تو مجھے کیسے پتا ھو گا ۔

اف مت پریشان کریں میری بچیوں کو ۔

مایا ماریہ میں لے اوں گی کیک آپ ڈیڈی سے

گفٹ لے لینا ۔

دونوں ممی کی بات سے متفق ھو گئی ۔

پر ممی پھر اپکا گفٹ کیا ہوگا ۔ اس بات پر

وسیم قہقہہ لگا کر ہنس پڑے اور کہا ۔

چلو میری جان چھٹی اب تم بھگتو انکو ۔

سالگرہ سے ایک دن پہلے وسیم اور سدرہ

دونوں کو اسکول ڈراپ کر نے کے بعد

مارکیٹ چلے گئے ۔

سدرہ نے بہت گھومنے پھرنے کے بہت

آخر کار ایک بہت خوبصورت ڈریس ڈھونڈ ھی لیا ۔

سرخ ٹشو کے کامدار فراک اس پر خوبصورت

نگ بھی جڑے ہوئے تھے ۔

مچینگ گولڈن کلر کی سینڈل اور دیگر اشیا

گولڈن رنگ میں ۔

فراک کافی مہنگے داموں لیے

خوشی خوشی گھر آئے اور اپنی الماری میں ہینگ

کر دیے ۔

وسیم صاحب نے دونوں کے غیر موجودگی

میں انکے بیڈ روم کی حالت یکسر تبدیل کر دی ۔

پنک پینٹ ۔ پنک پردے بیڈ شیٹ کچھ

سینری بھی لگا دی

کمرے کی تبدیلی نمایاں نظر انے لگی ۔

سرپرائز کے طور پر انکے فراک اپنی الماری

میں ہینگ کر دیے ۔

ڈھائی بجے تک تمام کام کرنے کے بعد

وسیم مایا ماریہ کو اسکول سے لیکر جب

گھر آئے تو کمرے کا نقشہ ھی بدل چکا تھا ۔

دونوں معمول کے مطابق کمرے میں داخل

ہوئیں تو دنگ رہ گئی ۔

بھاگتی هوئی باہر آئیں ۔ ممی ڈیڈی ہمارا

کمرہ ۔

دونوں خوشی سے ممی ڈیڈی کے ساتھ لگ

گئی اور پھر تیزی سے کمرے میں گھس گئی ۔

دونوں نے کمرے کا پورا پورا جایزہ لیا ۔

ہر چیز انکی پسند کے مطابق بدلی گئی

تھی ۔

وسیم سدرہ دونوں کو خوش دیکھ کر

مسکرائے ۔

چلو مایا ماریہ چینج کرو فٹافٹ کھانا کھانے

کے بعد نماز پڑھو پھر کل کا پلان بناتے ہیں ۔

لیکن پہلے ہمیں فراک تو دیکھا یں ۔

ماریہ بے صبری سے بولی ۔

سدرہ نے انکو ستانا مناسب نہیں سمجھا اور

بتا دیا کہ انکی الماری میں لٹک رھے ہیں ۔

دونوں ممی کے کمرے کی طرف بھاگی اور بے

صبری سے الماری کھول کر فراک دیکھنے لگی ۔

اگلے دن سالگرہ کا دن تھا ۔ مہمان کے انے سے

پہلے سب کچھ تیار تھا. کیک بھی ا چکا تھا ۔

سدرہ نے کچن سے آواز دیکر کہا ۔

مایا ماریہ دونوں کپڑے چینج کرو پھر میں

دونوں کا ہیرسٹایل بنا دوں ۔

دونوں کھیلنے میں ایسی مشغول تھیں کہ

ماں کی بات سنی آن سنی کر دی ۔

تنگ آکر سدرہ خود فراک نکانے آئیں کہ انکو

فٹافٹ تیار کر سکیں ۔

دونوں فراک الماری میں نظر نہیں آئے تو

مایا ماریہ کے کمرے میں آ گئی ۔

انکی الماری میں بھی فراک نہیں تھے ۔

سدرہ غصّے سے چیخنے لگیں ۔ اور زور زور

سے آوازیں دینے لگیں ۔

مایا ماریہ یہاں آو دونوں ۔ اور تیار ھو جاو ۔

سدرہ نے دونوں سے پوچھا تمھارے فراک کہاں ھے ۔

مایا ماریہ نے لا تعلقی کااظہار کیا ۔

سدرہ نے دونوں کمروں کی الماریاں چھان ماری

مگر دونوں فراک نا ملنے تھے نا ھی ملے ۔

باقی تمام چیزیں سینڈل پونیاں چوڑیاں سب

موجود تھے لیکن سرخ فراک غائب ہوگئے ۔