Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

ماں ایمان کی بے حد مخالفت کے باوجود اسے لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے آ کر آئیں تھیں۔۔۔ وہ جہاندیدہ عورت تھیں اور ایمان کو دیکھ کر ایک ڈھرکا سا انکے دل کو لگا تھا۔۔۔ جسے وہ فلحال کوئی نام بھی نہیں دینا چاہتیں تھیں۔۔۔

اور ہوا بھی وہی مکمل چیک آپ اور ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹر نے ایمان کی پریگنینسی ڈکلئیر کر دی۔۔ اس خبر سے جہاں ماں خاموش رہ گئیں وہیں ایمان بھی جہاں کی تہاں رہتی دھنگ رہ گئ۔۔۔

بچی بہت کم عمر ہے ماں جی۔۔۔ نیز یہ بہتتتتت کمزور ہے۔۔۔ ڈاکٹر نے بہت پر زور دیا

اس بات کا اندازہ ایمان کو تھا ۔۔۔ اور یہ کیوں تھی اس سے بھی وہ آگاہ تھی۔۔۔ البتہ پریگنینسی کی خبر اسکے لئے ایک بہت بڑا دھچکا تھی۔۔۔۔

اسکی ڈائٹ کا بے حد خیال رکھیں اور پراپر چیک آپ کرواتیں رہیں ورنہ اسکی پریگنینسی میں بہت سی کمپلیکیشنز آ سکتی ہیں۔۔۔

ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں کہتیں کاغذ پر قلم گھسیٹتی جا رہی تھی البتہ ایمان کو اپنے کان سائیں سائیں کرتے سنائی دے رہے تھے۔۔۔ زندگی کیوں اسقدر ناقابل یقین واقعات سے بھری پڑی تھی۔۔۔

****

ارے میں پوچھتی ہوں کیا نام ہے اسکی یونیورسٹی کا۔۔۔ کچھ نا کچھ تو تمہیں پتہ ہو گا نا ایمان۔۔۔ ایسے کیسے ہو سکتا ہے بھلا۔۔۔ اس اپارٹمنٹ میں تمہیں تنہا رہتے تین ماہ ہوگئے۔۔۔ اس سنگدل بے حس نے پلٹ کر تمہیں دیکھا تک نہیں۔۔۔ رول دی میری پھولوں سی بچی۔۔۔۔

بیٹا تم زیادہ دیر تک یہ بھرم قائم نہیں رکھ پاو گئ۔۔۔ جسے قائم رکھنے کو ہلکان ہو رہی ہو۔۔۔

دنیا اندھی نہیں ہے نا ہی بہری ہے۔۔۔ وہ دیکھتی بھی ہے اور سنتی بھی ہے۔۔۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کے یہ دنیا وہ دیکھتی ہے جو وہ دیکھنا چاہتی ہے اور وہ سنتی ہے جسے اپنی مرضی کا مفہوم پہنا سکے۔۔۔

کب تک تم خان کے ساتھ گھر بسانے کا دھونگ رچا سکو گی۔۔۔ ایک نا ایک دن یہ حقیقت کھل ہی جائے گی کے خان تمہارے ساتھ نہیں رہتا۔۔۔

تب کیا کرو گی ایمان۔۔۔۔ اور پھر یہ بچے ۔۔ کیسے پالو کی تنہا اس شخص کی اولاد کو۔۔۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ایمان۔۔۔

تبھی کہہ رہی ہوں مجھے کوئی اتہ پتہ دو اس کم ظرف انسان کا تا کے میں اس سے روبرو جا کر مل سکوں ۔۔۔

اولاد کی خبر کوئی چھوٹی خبر نہیں ہوتی۔۔۔۔اولاد کی کشیش بڑے بڑے سورماوں کو نکیل ڈال دیتی ہے۔۔۔ مگر اسکا کوئی اتہ پتہ تو دو۔۔۔ ماں بات کرتی کرتی روہانسی ہو اٹھی تھیں۔۔ بیٹی کا دکھ انہیں تڑپا رہا تھا۔۔۔ اسکی حالت دیکھ دیکھ انکا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا۔۔۔ وہ کم عمر تھی اس لئے آنے والی مشکلات سے ابھی آگاہ ہی نا تھی۔۔۔ لیکن ماں جہاندیدہ خاتوں تھیں۔۔۔ ایک دنیا دیکھ رکھی تھی انہوں نے تبھی اسکے مستقبل کا سوچ سوچ دہل رہی تھیں۔۔۔

جبکہ وہ دکھتے سر کے ساتھ بہت مشکل سےبیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹی تھی۔۔۔ ماں کی باتوں سے دکھی دل مزید دکھی ہو رہا تھا۔۔۔ دل کو تو پہلے ہی سو ڈھرکے لگے تھے ماں کی باتوں سے مزید دل دہلنے لگا تھا۔۔۔۔۔

ماں کی ہر بات درست تھی۔۔۔ اسکے تو دل کو ابھی سے پتنگے لگ گئے تھے۔۔ اس خبر نے اسے ایک دم خاموش کروا دیا تھا۔۔۔ وہ کیسے پالتی تنہا اولاد۔۔۔

خان سے مطالبہ کرتے وقت یہ کہنا کے وہ اسکے نام پر ہمیشہ بیٹھی رہ لے گی یہ آسان تھا۔۔۔ جبکہ اس پر عمل پیرا ہونا دو دھاری تلوار پر چلنے کے مترادف تھا۔۔ اسکی ہمت ابھی سے ٹوٹنے لگی تھی۔۔۔۔

شوہر کے بنا تنہا رہنا یا سنگل مدر کے روپ میں اولاد پالنا وہ بھی اتنی کم عمری میں آسان ہرگز نا تھا۔۔۔ زندگی میں ہمسفر کی ضرورت جگہ جگہ پڑتی ہے۔۔۔ اور اسے بھی ان لمحوں میں اپنے ہمسفر کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔

میں کچھ نہیں جانتی ماں۔۔۔ مجھے کچھ نہیں پتہ۔۔۔ نا انکی یونیورسٹی کا۔۔۔ نا ہی انکے کسی ٹھکانے کا۔۔۔

آپ دعا کریں نا کے اللہ انکے دل میں میرے لئے نرمی ڈال دے اور وہ واپس میری طرف پلٹ آئیں۔۔۔ کہتے ہیں ماں کی دعائیں تو عرش ہلا دیتیں ہیں۔۔۔ آپ بھی کریں نا میرے لئے دعا ماں۔۔۔

میں تو گنہاگار ہوں پتہ نہیں میری دعائیں قبول ہوتی بھی ہیں کے نہیں۔۔ مگر آپ۔۔۔

وہ کسی خوفزدہ بچے کی مانند ماں کے دونوں ہاتھ تھامتی شدت سے روتی التجائیں کر رہی تھی۔۔

ماں نے اسے کھینچتے شدت سے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔

بیٹی کے غم میں ماں کے آنسو ایمان کا سر بھگونے لگے تھے۔۔۔

میں تمہارے لئے بہت دعائیں کرتی ہوں ایمان۔۔۔ میری ہر دعا کا محور تم ہو میرے بچے۔۔۔ میں مزید تمہارے لئے دعائیں کروں گی۔۔۔ اللہ سے مانگوں گی اسے تمہارے لئے۔۔۔ انشااللہ وہ لوٹ آئے گا۔۔۔ اور جلد لوٹ آئے گا۔۔۔

تم فکر نا کرو ۔۔۔ ٹینشن نا لو بچے۔۔۔۔۔ کیونکہ اس حال میں ٹینشن لینے سے اسکا براہ راست اثر بچے پر پڑتا ہے۔۔۔

ریلیکس رہو۔۔۔ انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔

ماں بیٹی کی شکستہ حالت دیکھ کر اسکا سر تھپتھپاتیں مسلسل اسے سمجھا رہی تھی۔۔۔

وہ خود پریشان تھیں مگر بیٹی کی پریشانی دیکھ اپنی پریشانی بھلائے اسے دلاسہ دینے لگیں۔۔۔

****

ماں اسکے لئے خان کو تو نہیں لا پائی تھیں البتہ جو کر سکتی تھیں وہ کر رہی تھیں۔۔۔ وہ مسلسل دن رات اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے بیٹوں کو سمجھاتیں انکے دل ایمان کے لئے نرم کرنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔

ارے میں کہتی ہوں مٹی ڈالو اس پر جو ہوا سو ہوا ۔۔۔ ایک ہی تو چھوٹی بہن ہے تم لوگوں کی۔۔۔ اتنا دل سخت کیسے کر سکتے ہو تم لوگ اسکے لئے۔۔۔

ارے یہ وہی گڑیا ہے تم لوگوں کی جسکے آگے پیچھے پھرتے تھکا نا کرتے تھے تم لوگ ۔۔۔

چلو ہوگئ غلطی اس سے۔۔۔ بچی ہے بچوں سے نادانیاں ہو جاتی ہیں۔۔۔ لیکن یہ بھی تو دیکھو کے عزت سے اپنے گھر میں بیٹھی ہے۔۔۔۔

وہ دونوں بھائی ماں کی ایسی باتوں پر انہیں حیرت و تاسف سے دیکھ کر رہ جاتے۔۔۔ وہ کیسے کر سکتیں تھیں ایمان کی اتنی بڑی غلطی جسٹیفائی۔۔۔

بہنوں کو بھائیوں سے بہت سے آس امید ہوتی ہے۔۔۔ پھر تم لوگوں کی تو ایک ہی بہن ہے۔۔۔ رمضان آگیا۔۔۔ عید آنے والی ہے۔۔۔ اس رمضان سارے گلے شکوے دھو ڈالو دل سے اور بہن کے لئے عید لے کر پہنچو۔۔۔

ارے یہ بیٹیاں تم لوگوں سے مانگتی ہی کیا ہیں۔۔۔ خدا سب کی بیٹیوں کو انکے گھروں میں خوش رکھے آباد رکھے۔۔۔

بیٹیوں کو اپنے گھروں میں کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی۔۔۔ پھر بھی باپ بھائی کے گھر سے آنے والی عید کی انہیں آس ہوتی ہے۔۔۔ اور وہ عید سب سے بڑھ کر ہوتی ہے انکے لئے۔۔۔

ماں نے گویا قسم کھا لی تھی بیٹوں کو قائل کرنے کی۔۔۔ اس لئے جب بھی انکے پاس بیٹھتیں وہ اسی بارے میں بات کرتیں۔۔۔ گویا انکے پاس کرنے کو کوئی دوسرا موضوع ہی نا ہو۔۔۔ کہتے ہیں قطرہ قطرہ پانی پتھر پر بھی برسایا جائے تو اس پر بھی شگاف آ جاتا ہے۔۔۔ ایسا ہی کچھ یہاں بھی ہو رہا تھا۔۔۔ ماں کی محنت رنگ لا رہی تھی۔۔۔

ان دونوں کے لہجوں اور رویوں میں ایمان کے لئے بہت لچک آ گئ تھی۔۔۔ تبھی تو ماں بھی اب کچھ مطمئیں تھیں کے گلیشئیر بس اب پگھلنے کو ہے۔۔۔۔

*****

سارا رمضان گزر گیا لیکن ایمان کی آنکھوں کے سوتے نا خشک ہوئے۔۔۔

سارے رمضان میں اپنی طبیعت کے پیش نظر اسنے کچض روزے رکھے کچھ نا رکھے۔۔۔ البتہ ایک کام جو اسنے کیا اسنے پورا رمضان جیسے تیسے خود کو بدی سے روکے رکھا۔۔۔ پورا رمضان وہ ان غلط راستوں کی مسافر نا بنی۔۔۔ یہ رمضان کا احترام تھا خود پر جبر یا شیطان بندھا ہوا تھا جو بھی تھا وہ کم از کم رمضان میں اس گناہ کی مرتکب نا ہوئی تھی۔۔۔۔ اور جس حال میں وہ تھی۔۔۔ اس حال میں اس گناہ کا مرتکب ہونا نا صرف اسکے لئے بلکہ ایک ننھی جان کے لئے بھی بے حد نقصان دہ تھا۔۔۔

سارا رمضان اسنے اپنی زندگی میں آسانی اور بہتری کی دعائیں اپنے رب سے کی تھیں۔۔۔

خان کی واپسی کی دعائیں کرتے اسنے کئ سجدے بھگوئے تھے کے اللہ کسی طرح سے اسکے شوہر کو اس تک واپس بھیج دے۔۔۔ تہجدوں میں اٹھ اٹھ کر اس ستم گر کے لئے دعائیں کی تھیں۔۔۔ لیکن اس ستم گر کی واپسی کے کہیں کوئی امکان نا تھے۔۔۔

اب تو اسے بھی لگنے لگ گیا کے وہ اسقدر گناہگار ہے کے اسکی دعاوں میں تاثیر ہی نہیں رہی۔۔۔ ورنہ کیسے ممکن تھا کے وہ اپنے اللہ سے اسقدر گرگرا کر اسے مانگتی اور وہ اسے نا ملتا۔۔۔ یہ آج کل بگڑتی بنتی طبیعت کا ہی اعجاز تھا یا عمر کے جس حصے میں وہ تھی یہ اسکا خاصا تھا کے وہ بہت جلد مایوس ہونے لگی تھی۔۔۔

اور بالکل تبھی جب دل ہر آس چھوڑتا جا رہا تھا۔۔۔ تبھی ڈور بیل کی آواز سنائی دی۔۔۔

وہ چونک کر اس جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ دل ایک دم زور سے ڈھرکا۔۔۔

کیا خان واپس آگیا۔۔۔ کیا اسکی دعائیں رنگ لے ائیں۔۔۔

نہیں۔۔۔ ایسا بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ لمحے میں دل نے اس چیز کی تردید کر ڈالی۔۔۔

وہ شش و پنچ میں مبتلا دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔

آہستگی سے دروازہ کھولا اور سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر وہ خوشی سے چیخ اٹھی۔۔۔

اوہ مائے گاڈ۔۔ آپ۔۔۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھے بہتی آنکھوں اور مسکراتے لبوں سمیٹ بے یقینی کے عالم میں سامنے دیکھ رہی تھی۔۔۔

بلاشبہ اللہ بڑا رحمان ہے ۔۔۔ وہ اپنے بندوں کو انکی طاقت سے بڑھ کر نہیں آزماتا۔۔۔ سامنے کھڑے وجود اسکی زندگی میں بہار کا ایک جھونکا محسوس ہوئے تھے کے وہ لمحوں میں کھل اٹھی۔۔۔

******

یہ سب غیر متوقع تھا۔۔۔ بے حد غیر متوقع۔۔۔ وہ یقین کرتی تو کیسے۔۔۔

بھائی آپ دونوں پلیز اندر آئیں نا۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی پیچھے ہٹی جب وہ دونوں ہلکی سے مسکراہٹ سجائے اندر داخل ہوئے ۔۔ انکے ہاتھ میں عید باسکٹس تھیں جس میں اسکی عید کے کپڑے جوتے چوڑیاں جیولری اور بہت سی چاکلیٹس تھیں۔۔۔ ۔پیچھے ہی ماں اور بھابھی بھی اپنی ننھی پری کے ساتھ وہاں موجود تھیں۔۔۔

ایمان کی آنکھوں سے خوشی کا جھرنا بہنے لگا۔۔۔۔

انہوں نے وہ دونوں باسکٹس میز پر رکھتے ایمان کے سر پر دست شفقت دراز کرتے اسے خود سے لگایا تو وہ تڑپ تڑپ کر روتی ان سے معافی مانگنے لگی۔۔۔

بس چپ ہو جاو۔۔۔ ہم سب بھلا کر ہی تمہارے پاس آئے ہیں۔۔۔ ہم دوبارہ اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔۔۔ حامد نے اسے خود سے لگائے اسکا سر تھتھپایا۔۔۔

اور سناو شوہر کہاں ہے تمہارا اس وقت۔۔۔ سجاد بھائی صوفے پر بہتے گویا ہوئے۔۔۔ ایمان کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔ اسنے کن اکھیوں سے ماں کی جانب دیکھا۔۔۔

وہ دراصل ایک آفیشل میٹنگ کے سلسلے میں اوٹ اف ٹاون گئے ہیں۔۔ وہ بامشکل بات بنا پائی۔۔۔

ایسی بھی کونسی میٹنگ ایمان۔۔۔۔ صبح عید ہے اور وہ اتنے اہم موقع پر غائب ہے۔۔۔ بھابھی کے لہجے میں ناگواری اترتی دیکھ یکدم ایمان کا چہرا پھیکا پڑا۔۔۔

نہیں بھابھی دراصل آ تو انہوں نے آج شام تک ہی جانا تھا۔۔۔ لیکن پھر کچھ وجوہات کی بنا پر نہیں آسکے۔۔۔ اور چاند بھی تو اچانک ہی نکل آیا نا۔۔۔ ورنہ ہمارے خیال میں تو صبح روزہ تھا ابھی۔۔۔

رات دیر سے ہی سہی مگر آ جائیں گے۔۔۔ اور نا آ سکیں تو کل صبح تع آ ہی جائیں گے۔۔۔ ایمان سے بات بنانا محال ہو رہا تھا۔۔۔ مگر بھلا ہو ماں کا جو اسکی کیفیت سمجھتیں بات ہی بدل گئیں۔۔۔۔

ایمان نے سکھ کا سانس خارج کیا اور انکی خاطر تواضع کے لئے اٹھ کر کچن کی جانب بڑھی۔۔۔

****

یہ عید اسکے لئے اتنی اچھی نا سہی لیکن اتنی بری بھی نا رہی تھی۔۔۔ وہ بالخصوص اپنے میکے سے آئی عید والا جوڑا پہنے پورے دل سے تیار ہوئی تھی۔۔۔

ہاں یہ عید اس لحاظ سے ویران ہی رہی کے شادی کے بعد اسکی پہلی عید تھی اور اسکے شوہر کا کہیں اتہ پتہ ہی نا تھا۔۔۔ البتہ اسکے گھر والے اسکے ساتھ تھے اس لئے وہ خوش ہونے کی پوری کوشیش کر رہی تھی۔۔۔

عید کے روز بھی بھابھی نے اسکے شادی کے بعد پہلی مرتبہ مائیکے وہ بھی اکیلے آنے کو بہت اچھالا تھا لیکن بھلا ہو بھائیوں کا جنہوں نے بات آئی گئ کروا دی۔۔۔ وہ سب خان کی اونچی ذات اور اونچے شملے کو انکے عام اور معمولی گھر سے تعبیر دیتے خود ہی جواز گھر چکے تھے کے شاید اس لئے خان انکے گھر نہیں آیا اور ایمان نے بھی انکی اس غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت محسوس نا کی کہ چلو ایسے ہی سہی لیکن بھرم تو قائم تھا نا اسکا۔۔۔۔

دن تیزی سے گزر رہے تھے۔۔۔ ہر گزرتے دن کیساتھ ایمان کا سراپہ مزید بے ڈول ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ صد شکر کے اسکے فرسٹ ائیر کے فائنل ایگزائمز شروع ہو گئے تھے۔۔ اب ایگزائمز کے بعد وہ دوبارہ کالج اپنی ڈیلیوری کے بعد جوائن کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔

وہ حیران تھی کے کیسے اسنے رمضان میں خود پر اتنا جبر کرتے ایک برے راستے کو چھوڑے رکھا کیونکہ رمضان کے گزرتے ہی وہ اپنی پرانی روش پر آ چکی تھی۔۔ وہی راستہ اور اسکے وہی بے لگام قدم۔۔۔

اسے ماننا پڑا کے اسکا نفس اس سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہے۔۔۔ جب نفس اس پر حاوی ہوتا تو وہ یوں دبک کر بیٹھ جاتی جیسے کسی کے ہاتھ پاوں باندھ دئیے جائیں۔۔۔ وہ فاتح عالم ٹھہرتا تو پیچھے اسکے لئے سوائے پچھتاوں کے کچھ نا بچتا۔۔۔۔

تمہارے نفس کی قیمت جنت ہے۔۔۔ اسے جنت سے کم قیمت پر کبھی نا بیچنا۔۔۔دنیا میں تمہارے نفس سے زیادہ ایسا کوئی سرکش جانور نہیں جو سخت ترین لگام کے لائق ہو۔۔۔

یہ لائنز جب اسکی نگاہوں کے سامنے سے گزریں تو وہ کتنی ہی دیر تک گم صم سی کھڑی رہ گئ۔۔۔

کے بلاشبہ نفس کو لگام ڈالنا ہی سب سے مشکل ترین امر تھا۔۔۔۔

وہ بس ٹوٹتی امید۔۔۔اور چھوتٹی آس کے سرے کو مضبوطی سے تھامے یہ ہی دعا کرتی تھی کے اللہ اسکا اسکے شوہر سے رابطہ بحال کروا دے۔۔۔ دن رات اسکی زبان پر محض یہ ہی دعا تھی۔۔۔ کیونکہ اسکی پریگنینسی کا ہر گزرتا دن اسے نئے اندیشوں کے حوالے کرتا جا رہا تھا۔۔۔

****

خان اپنی دنیا میں مگن پچھلی ہر چیز بھلائے موو آن کر چکا تھا۔۔۔ جیسے گزشتہ کسی چیز سے اسکا کوئی سروکار ہی نا ہو۔۔۔ وہ دن بس اسکی زندگی میں آئے اور آ کر گزر گئے۔۔۔ وہ آگے بڑھِ چکا تھا۔۔۔

اس وقت بھی وہ جینز پر ہاو سلیو شرٹ زیب تن کئے آئینے کے سامنے کھڑا سیٹی کی لے پر کچھ گنگناتا اپنے بال بنا رہا تھا۔۔۔ شرٹ کی آدھی بازووں سے اسکے کسرتی بازو نمایاں ہو رہے تھے۔۔۔ بال بنا کر اسنے خود پر بے دریغ پرفیوم کا سپرے کیا اور واپس پلٹا۔۔۔ اسکے آخری سمیسٹر کے فائنلز ہو گئے تھے اور ایک ہفتہ دوستوں کے ساتھ خوب انجوائے کرنے کے بعد وہ آج اس شہر کو الوادع کہتے واپس اپنے شہر جا رہا تھا۔۔۔

یونہی سیٹی لی لے پر دھن گنگناتے اسنے بیڈ پر بیٹھ کر برینڈڈ جوتے پہنے اور اٹھ کر الماری تک گیا۔۔۔۔

الماری کھول کر اندر سے اپنے اہم ڈاکومنٹس کی فائل نکالی جب ایک کاغذ پھسل کر اسکے قدموں میں آ گرا۔۔۔۔ اسنے جھک کر وہ کاغذ اٹھاتے اسے کھول کر دیکھا جب کاغذ پر نگاہ پڑتے ہی ایک بھولی بسری یاد اسکی نگاہوں کے سامنے لہرا گئ۔۔۔

ایک معصوم سا شفاف پری پیکر چہرا۔۔۔۔۔ اور غزال سی شہد رنگ جھکی آنکھیں

وہ اسکا پہلا نکاح نامہ تھا۔۔۔ خان نے سر جھٹکتے اسے فولڈ کر کے واپس الماری میں پھینکا اور اپنا ڈاکومنٹ فولڈ اپنے شولڈر بیگ میں رکھتے اسے کندھے پر لٹکا کر اپارٹمنٹ سے نکل گیا۔۔

یہ دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھتی ہے۔۔۔ یہاں کوئی کسی کے لئے نہیں رکتا۔۔ یقیناً وہ لڑکی بھی اسکے لئے بچھائے ٹریپ میں اسے پھنستا نا دیکھ موو آن کر چکی ہو گئ۔۔۔ وہ مسلسل خود کو دلیلیں دیتا پارکنگ تک آیا۔۔۔

لیکن وہ لڑکی تمہارے نکاح میں ہے اور تمہارے نکاح میں ہوتے ہوئے وہ موو آن کیسے کر سکتی ہے۔۔۔ دل نے تاویل دی۔۔۔

وہ ایک پل کے لئے تھما۔۔۔۔

یقیناً اسنے کورٹ سے رجوع کر کے خلع لے لیا ہو گا۔۔۔ اس دنیا میں کوئی کسی کے لئے نہیں رکتا۔۔۔ وہ سر جھٹک کر ہر خیال کر جھٹکتا آکر گاڑی میں بیٹھا۔۔۔ اسکے بیٹھتے ہی امجد نے مستعدی سے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔

گاڑی اسے نئے راستوں کا مسافر بناتی اسے پرانے راستوں سے بہت دور لیجاتی جا رہی تھی۔۔۔

*****”