Raah e Haq by Umme hani NovelR50006 Episode 06
No Download Link
Rate this Novel
Episode 06
خان وہیں سر پر ہاتھ رکھتا بھل بھل بہتے خون کو روکنے کی جستجو میں بیڈ کے کنارے بیٹھتا چلا گیا۔۔۔ جبکہ ایمان کو اس بہتے خون کو دیکھ پاوں کے رستے اپنی روح نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔
دفعتا کلک کی آواز کیساتھ دروازہ کھلا اور دورتے قدموں کے ساتھ سب سے پہلے امجد ہی اندر داخل ہوا۔۔۔ اور اندر کی صورتحال دیکھ تھرا کر رہ گیا۔۔۔
خان۔۔۔ وہ چیختا ہوا خان کی جانب لپکا تب تک پیچھے کھڑی زلیخہ بی بی بھاگ کر تولیہ لے آئی۔۔۔ امجد نے اسکے ہاتھ سے تولیہ پکڑتے خان کے سر پر رکھتے خون کے بہاو کو روکنے کی خاطر دباو ڈالا۔۔۔ اور کمرے میں نظریں دوڑاتے اس دوسرے وجود کو ڈھونڈنے کی کوشیش کی جو کونے میں کھڑی تھر تھر کانپتی زلیخہ اور امجد کو مصروف دیکھ کپکپاتے دل کے ساتھ وہاں سے کھسکنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔ اسے دیکھتے ہی امجد کی کنپتی کی رگیں پھولنے لگیں۔۔۔
زلیخہ مائی۔۔۔ لے جاو اس بدبخت کو یہاں سے۔۔۔ اور تب تک اسکی صورت مت دکھانا جب تک خان ٹھیک نہیں ہو جاتے۔۔۔ اسکے بعد ہی دیکھا جائے گا کے اسکا کیا بندوبست کرنا ہے۔۔۔ امجد کے پوری قوت سے ڈھارنے پر ایمان سر سے لے کر پاوں تک لرز کر رہ گئ۔۔۔ جبکہ زلیخہ مائی جو اڈھیر عمر کی فربہہ مائل خاتوں تھی اسنے ایمان کی بازو اپنی آہنی گرفت میں جھکڑی اور اسے گھسیٹتے ہوئے اپنی ساتھ لیجانے لگی۔۔۔ ایمان کے حواس ساتھ چھوڑ رہے تھے۔۔۔ یہ ساری صورتحال غیر متوقع تھیں۔۔۔ تبھی وہ اسکے ساتھ گھسیٹتی چلی ج ارہی تھی۔۔۔
ایک کمرے کے سامنے آتے زلیخہ نے ڈھار سے کمرے کا دروازہ کھولا اور اسے پٹخنے کی صورت اندر پھینکا۔۔۔ وہ اوندھے منہ نیچے گرتی دونوں ہاتھ زمین پر ٹکاتی خود کو بے طرح فرش بوس ہونے سے بچا گئ۔۔۔
اسنے اپنا چکراتا سر تھام کر رو رو کر سرخ سوجھ چکی نگاہوں سے اس عورت کو دیکھا۔۔۔ سپید رنگت میں شدت گریہ سے سرخیاں گھلنے لگی تھیں۔۔۔ جبکہ چہرا بے تحاشہ آنسووں سے بھیگا پڑا تھا۔۔۔
سن لڑکی۔۔۔ زلیخہ ڈھاری۔۔۔ دعا کرو کے خان کو کچھ نا ہو۔۔۔ وہ جلد از جلد بھلے چنگے ہو جائیں ۔۔۔ ورنہ تمہارا جو حشر ہو گا وہ سوچ کر ہی تمہاری روح کانپ اٹھے گئ۔۔۔
وہ عورت تند و تیز لہجے میں اسے وارن کرتی دروازہ ڈھار سے بند کرتی واپس چلی گئ۔۔۔ جبکہ وہ کپکپاتے ہاتھ گھٹنوں کے گرد باندھتی واقعی اسے شخص کے لئے دعا کرنے لگی تھی جسے کچھ دیر پہلے اسنے اپنی عزت کی حفاظت کے خاطر مارا تھا۔
وہ فطرتاً ڈرپوک واقع ہوئی تھی۔۔۔ کسی کی اونچی آواز تک سے سہم جانے والی۔۔۔ ہر دم صلح جو۔۔۔ لیکن اب جو صورتحال واقع ہوئی تھی وہاں تو اسکی جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی تو دل چھوڑ جاتی۔۔ یہاں تو پھر ایمان تھی۔۔۔ اونچی آواز سے ہی سہم جانے والی۔۔۔ کیسے برداشت کر لیتی اتنے تند و تیز لہجے۔۔۔ امجد اور زولیخہ کی نسبت تو خان کا لہجہ ہی نرم تھا۔۔۔ اگر واقع اسے کچھ ہو گیا تو یہ دونوں اسکے ساتھ کیا کریں گے۔۔۔ سوچ سوچ کر ہی اسکی روح فنا ہو رہی تھی۔۔۔
*****
انسہ کیا ابھی تک ایمان نہیں آئی۔۔۔ اب تو چار بج رہے ہیں۔۔۔ وہ تو دو بجے تک پہنچ جاتی ہے نا پھر اب کیا ہوا۔۔۔ تقریباً چار بجے کے وقت نسیم بیگم کا دھیان اس طرف گیا تو وہ دہل کر انسہ بھابھی سے گویا ہوئیں۔۔۔
وہ دوپہر سے ایمان کے فیورٹ کڑی پکورے اور ابلے چاول بنا رہی تھیں۔۔۔ یہ ڈش اس گھر میں تقریباً سبھی کی فیورٹ تھی۔۔۔ اس لئے آپس میں مل کر کام کرتے انہیں وقت کا احساس ہی نا ہوا۔۔۔ اب جو کام سے فارغ ہوئیں تو وقت دیکھتے ماں کا دل دہل اٹھا۔۔۔۔
اور پریشان تو انسہ بھابھی بھی ہوگئ تھیں۔۔۔ بات ہی پریشانی والی تھی۔۔۔
تم سجاد اور حامد کو فون ملاو۔۔۔ انہیں کہو پتہ کریں۔۔۔ کہاں ہے میری بچی۔۔۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا۔۔۔ ماں کا دل خوف سے کانپ رہا تھا۔۔۔ وہ مسلسل کسی نا کسی آیت کا ورد کر رہی تھیں۔۔۔
امی آپ ایک منٹ رکیں۔۔۔ پہلے میں زخرف کے گھر دیکھ آوں۔۔۔ ایسا نا ہو کہ وہاں ہو وہ۔۔۔ اگر وہاں نا ہوئی پھر آکر سجاد اور حامد کو فون کرتی ہوں۔۔۔
پہلے تو کبھی نا گئ یوں بن بتائے کہیں۔۔۔ خیر جاو تم دیکھ کر آو جلدی سے۔۔۔
ماں کی آواز میں خدشات کی لغزش تھی۔۔۔ وہ مسلسل دائیں ہاتھ سے اپنا سینہ مسل رہی تھیں۔۔۔
بھابھی آنچل درست کرتیں گھر کا دروازہ عبور کر گئیں۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد انکی واپسی ہوئی تو آتی ہی فون کی جانب لپکی۔۔۔
کیا کہا زخرف نے۔۔۔ بھابھی کے انداز انکے خدشات پر یقین کی مہر ثبت کر رہے تھے۔۔۔
امی زخرف آج کالج گئ ہی نہیں۔۔۔ اس لئے وہ نہیں جانتی۔۔۔ بھابھی کی اپنی آواز لرز رہی تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں دونوں بھائی گھر تھے۔۔۔ جس نے بھی یہ خبر سنی ایک دفعہ تو ہل گیا۔۔۔ یہ کوئی چھوٹی بات نا تھی۔۔۔ انکی نازو پلی چھوٹی بہن غائب ہوئی تھی۔۔۔ دونوں جیسے گھر آئے تھے ویسے ہی موٹر سائیکل پر نکل کھڑے ہوئے۔۔۔ کالج سے لے کر ہر اس جگہ پر ہوتے جہاں اسکے پائے جانے کے امکانات تھے وہ خالی ہاتھ تہی دامن واپس لوٹ رہے تھے جب اتفاقاً اسی سنسان راستے سے آتے انکی نظر راستے میں ایک جانب لڑھکے ایمان کے بیگ پر گئ۔۔۔
بھائی رکیں رکیں رکیں۔۔۔ حامد کے چلانے پر سجاد نے یکدم بائیک کو بریک لگائی۔۔۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے بائیک سے اترتا بیگ کی جانب بڑھا۔۔۔ بیگ اٹھاتے اسکے ہاتھ بے طرح کپکپا رہے تھے۔۔۔ صرف ہاتھ ہی نہیں دونوں کے دل بھی کسی بڑی انہونی کے خوف سے کپکپا رہے تھے۔۔۔ دونوں نے فق ہوتی رنگت سمیٹ خوفزدہ نگاہوں سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔۔
*****
خان حکم کریں۔۔۔ ابھی اس گستاخ لڑکی کو زندہ زمیں میں دفن کر ڈالوں۔۔۔۔ خان بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔ ماتھے پر بینڈیج کر دی گئ تھی۔۔۔ جو غالباً ابھی ابھی ڈاکَر کر کے گیا تھا۔۔۔ امجد دودھ کے گلاس کے ساتھ پین کلر اسکی جانب بڑھاتا گویا ہوا۔۔۔۔
خان نے گولی نگلتے انگلی کے اشارے سے اسے نفی کا اشارہ کرتے گلاس منہ کو لگایا۔۔۔
وہ اسکا اور میرا ذاتی معاملہ ہے امجد۔۔۔۔ کچھ دیر بعد اٹھوں گا تو خود دیکھ لوں گا کے اسکے ساتھ کیا کرنا ہے۔۔۔ تب تک وہ تم لوگوں کی مہمان ہے۔۔۔ خالی گلاس واپس امجد کی جانب بڑھاتا وہ بستر پر نیم دراز ہو گیا۔۔۔ اسکا سر بھاری ہو رہا تھا۔۔۔ میڈیسنز کے باعث اس پر غنودگی چھا رہی تھی۔۔۔ امجد سر ہاں میں ہلاتا کمرے کی لائٹ آف کرتا کمرے سے نکل گیا جبکہ خان کچھ ہی لمحوں میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔ دوبارہ اسکی آنکھ کھلی تو شام کے سائے کو رات کی تاریکی بڑے دھرلے سے نگل چکی تھی۔۔۔۔
*****
ایمان ہنوز دیوار سے ٹیک لگائے گھٹنوں کے گرد بازووں کا حصار بنائے بیٹھی تھی۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر خشک ہونے لگے تھے۔۔۔ جسم بے جان ہونے لگا تھا۔۔۔ نقاہت حد سے سوا تھی۔۔۔ لیکن دماغ میں برح طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے۔۔۔ اسے ایک صرف اسی عقوبت خانے کی فکر نہیں کھائی جا رہی تھی بلکہ اسے پیچھے اپنے پیاروں کا غم بھی مارے دے رہا تھا۔۔۔
کیا حالت ہوئی ہوگئ ان لوگوں کی جب وہ کالج سے گھر واپس نہیں آئی ہوگئ۔۔۔ کیا سوچ رہے ہونگے وہ لوگ کے ایمان کہاں گی۔۔۔ اسکی خشک ویران نگاہیں دیوار گیر ونڈو سے باہر سرائیت کر گئیں جہاں شام کی نیلاہٹیں بھی رات کی سیاہی میں بدل گئ تھیں۔۔۔ اور اگر وہ آج رات گھر نا جاتی جو کے یہاں سے نکلنا تقریباً ممکن نا رہا تھا تو اگلی صبح اسکے لئے کیا رنگ لاتی۔۔۔ اس معاشرے میں اسکا کیا مقام ہوتا۔۔۔ جہاں گھر سے بھاگی اور اغوا شدہ لڑکی ایک برابر ہوتی ہے۔۔۔
کیا اسکے بھائی سر اٹھا کر اس معاشرے میں جی پاتے۔۔۔ کیا گھر واپسی پر اسکے گھر والے اسے قبول کرتے یا وہ غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی۔۔۔
ہاں یہ معاشرہ ایسا ہی تھا جہاں غیرت کے نام پر کلیجہ بھی نوچ کر بھی پھینک دیا جاتا ہے۔۔۔
آنکھوں میں ایک مرتبہ پھر سے ساوں بھادوں کی جھری لگ گئ تھی۔۔۔ سوچیں تھیں کے اسے کسی آکٹوپس کی مانند جھکڑتی بے دم کئے جا رہی تھیں۔۔۔
وہ کیا کرتی۔۔۔ کیسے اس عقوبت خانے سے نکلتی یوں کے کہیں اسکی بدنامی بھی نا ہوتی۔۔۔ مگر کیا یہ ممکن تھا۔۔۔ اسنے کرب سے سر تھام لیا۔۔۔
اسکے غائب ہونے کی بات تو ابھی تک جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی ہوتی۔۔۔ اور اگر وہ واپس جاتی بھی تو گھر والوں کو جا کر کیا بتاتی۔۔۔ وہ کہاں تھی ابھی تک۔۔۔ اسے کس نے اغوا کیا۔۔۔ اور کس مقصد کے تحت۔۔۔ اور کیا مقصد جاننے کے بعد وہ ان سب کے لئے قابل قبول رہتی۔۔۔ وہ اپنا چہرا مومی ہاتھوں میں تھامتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ یہاں سے نکلنے کا کوئی طریقہ بھی تو سوجھ نہیں رہا تھا۔۔۔
یکدم ہی وہ لاابالی اور اپنے آپ میں رہنے والی لڑکی اپنی عمر سے بہت سمجھدار ہوگئ تھی۔۔۔ وہ کہیں سے بھی ایک سولہ سالا کم عمر فرسٹ ائیر کی سٹودینٹ نا رہی تھی۔۔۔ بلکہ اسکی سوچیں اسے بہت آگے تک لے گئ تھیں۔۔۔ سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹنے لگا دفعتاً کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور کچھ دیر بعد ہی وہاں خان نمودار ہوا۔۔۔
اپنے اونچے لمبے سر و قد کیساتھ وہ پورے ماحول پر چھایا ہوا تھا۔۔۔ ٹراوزر اور ہاف سلیو شرٹ میں ملبوس ۔۔۔ انگوٹھے والی مردانہ چپل پہنے البتہ سر پر پٹی کر رکھی تھی۔۔۔ اسے دیکھتے ہی ایمان بہتی آنکھوں سمیٹ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔
******
