Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09 & 10

تم ہوش میں تو ہو ایمان۔۔۔ جانتی ہو کہ کیا کہہ رہی ہو۔۔۔ ایمان کی بات سن کر خان بدک اٹھا۔۔۔

خان پلیز ایک دفعہ ٹھنڈے دماغ سے میری بات تو سن لیں۔۔۔ اسکا لہجہ عاجزانہ تھا۔۔۔

انف از انف ایمان۔۔۔ تمہیں جتنا فیور دینے کی کوشیش کر رہا ہوں تم اتنا ہی پھیل رہی۔۔۔۔ گھر اور پیسے مل تو رہے ہیں پھر تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔ اشتعال سے خان کی آواز بلند ہونے لگی تھی۔۔۔

تم تو اچھی مصیبت گلے پڑی ہو۔۔۔ میری غلطی ہے جو تمہاری فضول بات مان کر تم سے نکاح کر بیٹھا۔۔ تبھی تم شہہ پا کر اتنا اچھل رہی ہو۔۔۔۔۔۔ ٹھیک کہہ رہا تھا امجد۔۔۔ تم تو ٹریپ ہو ٹریپ۔۔۔ مجھے ٹریپ کرنے کی کوشیش کر رہی ہو۔۔۔ بلکہ لمبا ہاتھ مار رہی ہو۔۔۔

اشتعال سے اسکی رگیں تک پھولنے لگی تھیں۔۔۔وہ زخمی شیر کی مانند ڈھار رہا تھا جبکہ ایمان بے بسی بھری بہتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

خان آپ مجھے اپارٹمنٹ دے رہے ہیں۔۔۔ پیسے دے رہے ہیں۔۔ تو پھر اپنا نام دینے میں کیا قباحت ہے۔۔۔ ہمت کر کے وہ اسکے غصے کو نظر انداز کرتی پھر سے بول اٹھی۔۔۔

چپپپپ۔۔۔۔ ایک دم چپ۔۔۔ آواز نا نکلے تمہاری ۔ ورنہ حلق سے زبان کھینچ لوں گا۔۔۔

وہ اشتعال سے سرخ پڑتی نگاہیں لئے اسکی جانب بڑھا۔۔۔ کے وہ خوف سے بے ساختہ قدم پیچھے لے گئ۔۔۔

خان کی آواز اتنی بلند ضرور تھی کے باہر کھڑے امجد اور زلیخہ ان دونوں کی باتوں سے مستفید ہو رہے تھے۔۔۔ لیکن مالک کی بات میں بولنے کی ہمت ان میں نا تھی۔۔۔

نکاح نامہ آپکے پاس ہے خان۔۔۔ مت کسی کو بھی بتائیے گا۔۔۔ جب چاہے جہاں چاہے دوسری تیسری شادی کر لیجئے گا۔۔۔ کبھی کوئی شکوہ نہیں کروں گی۔۔۔ وہ گھگھیائی۔۔۔

اوقات ہے تمہاری شکوہ کرنے والی۔۔۔ وہ چٹخا۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔اہمیت کیا ہے تمہارے شکووں کی میری نظر میں۔۔۔ دو ٹکے کی لڑکی۔۔ اب میرے گلے پڑے گی۔۔۔ سارا لحاظ مروت گیا بہار میں۔۔۔ اس لڑکی نے لمحوں میں اسکا دماغ گھمایا تھا۔۔۔ تبھی وہ اسے اسکی اوقات یاد دلانے کو سخت سے سخت الفاظ اپنا رہا تھا۔۔۔ شید اسکی ہمت توڑ رہا تھا یا شاید اسکا اصل روپ یہ ہی تھا۔۔۔

آنسو موتیوں کی لڑیوں کی مانند اسکی شہد رنگ آنکھوں سے پھسل پھسل جا رہے تھے۔۔۔

کبھی آپ پر حق نہیں جتاوں گی خان۔۔۔ کبھی آپکو پیچھے سے نہیں پکاروں گی۔۔۔ جس حال میں رکھیں گے رہوں گی۔۔۔ کہیں کسی جگہ خود کو آپکی حیثیت سے متعارف نہیں کرواں گی خان لیکن پلیز اپنا نام میرے نام سے الگ مت کریں۔۔۔ وہ ہچکیوں سمیٹ بولی۔۔

ڈیمممم۔۔۔ بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ اسنے ایک زور دار ٹانگ سینٹرل ٹیبل پر رسید کی کے وہ دیوار سے ٹکراتا کرچیوں میں بٹا۔۔۔

آہہ۔۔۔ کانچ ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ کمرے میں ایمان کی بھی خوفزدہ چیخ گھونجی۔۔۔

امجد۔۔۔ امجد۔۔ وہ تلملاتا ہوا کمرے سے نکلا۔۔۔۔

ایمان کی جان ہوا ہوئی۔۔۔ ایک بہت بڑی انہونی اسکے سر پر منڈلا رہی تھی۔۔۔

جی سر۔۔۔ امجد بوتل کے جن کی طرح اسکے سامنے حاضر ہوا۔۔۔

طلاق کے کاغذات تیار کرواو۔۔۔۔ فوری۔۔۔ وہ غصے سے کھولتا لاوئنج میں آیا۔۔۔

کملائی سی ایمان بھی ننگے پاوں اسکے پیچھے بھاگی۔۔۔ آنچل شانے پر پڑا زمیں پر سجدہ ریز ہو رہا تھا جبکہ شہد رنگ بال خان کی ہی جسارت پر ہنوز کمر پر بکھرے پڑے تھے۔۔۔ نم آنکھیں اور تر چہرا ۔۔۔ آنکھوں میں خوف و ہراس جبکہ جسم جھٹکوں کی زد پر تھا۔۔۔

میری بات سنیں خان ۔۔۔ پلیز۔۔۔

شٹ آپ۔۔ دور رہو مجھ سے۔۔۔ اسنے لجاہت سے جاتے خان کی بازو تھامنی چاہی جب اسنے ڈھارتے ہوئے بے طرح اسکا ہاتھ جھٹکا۔۔۔

خان پیپرز تو میں نے اسی روز تیار کروا لئے تھے جس روز آپ نے نکاح کیا تھا۔۔۔ محض آپکے سائن باقی ہیں اور یہ نام نہاد رشتہ ختم ہو جائے گا۔۔۔

امجد نے پھرتی سے سٹڈی روم سے کاغذات لاتے خان کے آگے رکھے۔۔۔

ایمان کی رہتی سہتی جان بھی نکلنے لگی۔۔۔

سر چکرا کر رہ گیا۔۔۔

آپ انسان نہیں ہیں کیا۔۔۔ کیسے کر سکتے ہیں ایسے۔۔۔ آپکے گھر میں بہن بیٹی نہیں کیا۔۔۔ اسقدر بے حس انسان۔۔ کہیں زور نا چلتا دیکھ وہ بھوکی شیرنی کی مانند امجد پر جھپٹ پڑی۔۔۔ اسکے سینے پر دوہٹر مارتے اسے پیچھے دھکیلا کہ وہ اس اچانک افتاد پر بوکھلا اٹھا۔۔۔

جو بھی تھا یہ لڑکی ابھی اسکے مالک کے نکاح میں تھی۔۔ اس لئے وہ اس سے بدتمیزی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ تبھی صبر کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے ایمان۔۔۔ خان نے اسکی بازو زور سے جھنجھوڑتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔

وہ ٹوٹے ہوئے شہتر کی مانند اسکے کے چوڑے سینے سے آ ٹکرائی۔۔۔

میں وہی لڑکی ہوں نا خان جسے پانے کے لئے آپ زمین آسمان ایک کرنے کے در پر تھے۔۔۔

اور اب میں تمہیں پا چکا ہوں اس لئے تم اپنی قدر و قیمت کھو چکی ہو۔۔۔ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گارتا وہ بے حسی و تلخی سے بولا۔۔۔ جبکہ وہ مسلسل بہتی آنکھوں سمیت سر نفی میں ہلا رہی تھی۔۔۔

آپکو مجھ جیسی کمزور مڈل کلاس غریب لڑکی سے بھلا کیسا خطرہ خان۔۔۔ وہ تو کسی بھی طرح بس اسے منانا چاہتی تھی۔۔۔

خان انکی کسی بھی بات پر کان ڈھرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ ایک ٹریپ پہلے تھا جس میں آپ پھنس چکے۔۔۔ اب مزید نہیں۔۔۔ پلیز ان پیپرز پر سائن کریں۔۔۔ اور ختم کریں اس کہانی کو یہیں۔۔۔ امجد کی پاٹ دار آوز پر خان نے جھٹکے سے اسے خود سے الگ کیا اور ٹیبل پر رکھے کاغذات کی جانب بڑھا۔۔۔

ایمان تڑپ تڑپ گئ۔۔۔

اسنے تیزی سے ادھر ادھر دیکھتے دماغ لڑانا چاہا۔۔۔

ایسے نہیں خان۔۔۔ یہ کہانی ختم ہی کرنی ہے تو ایسے یہ کہانی ختم نہیں ہوگئ۔۔۔ بہتی آنکھوں میں کچھ کر گزرنے کی سرخی اتری۔۔۔ جسے کمال مہارت سے نظر انداز کرتے وہ پین تھام چکا تھا۔۔۔

اس کہانی کا اختتام میری پسند کا ہو گا خان۔۔۔

کیوں میں لوگوں کے ہاتھوں سنگسار ہوں جب میری کوئی غلطی ہی نہیں۔۔۔ جب میں نے کچھ غلط کیا ہی نہیں تو۔۔۔ قدم قدم پیچھے ہٹاتی وہ خطرناک عزائم لئے بول رہی تھی۔۔۔ خان اسے بھرپور نظرانداز کئے پین کا دھکن کھولتا پہلے کاغذ پر جھکا۔۔۔

اس کہانی کا اختتام میری پسند کا ہوگا۔۔۔ اسکی آواز میں کچھ تو غیر معمولی پن تھا۔۔۔

ساتھ ہی وہ پلٹی اور تیزی سے دھپ دھپ کرتی گولائی میں بنی جدید سیڑھیاں چڑھتی اوپر کو بھاگی۔۔۔

خان نے حیرت سے اس جانب دیکھا۔۔۔ بے ساختہ اس کے ہاتھوں سے پین پھسلا ۔۔۔ کسی انہونی کے خوف نے تیزی سے سینے میں سر ابھرا۔۔۔

وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ اور امجد آگے پیچھے اس بے وقوف کم عقل اور کم فہم لڑکی کے پیچھے پوری قوت سے لپکے۔۔۔

کھلی چھت کے دھانے پر پہنچ کر انہوں نے سانس لیا۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے سانس پھر سے سینے میں اٹکا جب انہوں نے ایمان کو کسی بے جان گڑیا کی مانند ریلنگ پر چڑھتے پایا۔۔۔

وہ شاید اب ہر طرح کے انجام سے بے پرواہ ہو چکی تھی۔۔۔ واپس پلٹنا جب موت تھا تو پھر یہیں کیوں نہیں۔۔۔

ایمان۔۔ وہ چیخا۔۔۔ مگر شاید اب مقابل بہری ہو چکی تھی۔۔۔۔

وہ تیزی سے اس جانب لپکا جب اتنی ہی تیزی سے وہ ریلنگ سے کود گئ۔۔۔

ایماننننن۔۔۔ اسنے پوری قوت سے بھاگتے دونوں ہاتھوں کا بھرپور استعمال کرتے ایمان کو دبوچنا چاہا مگر برا ہو وقت ہاتھ سے پھسلا۔۔۔ اور محض ایمان کا ہاتھ ہی اسکے ہاتھ میں آسکا۔۔۔

آہہہ۔۔۔ اسقدر اونچائی سے نیچے دیکھنا اور اپنے جسم کو فضا میں معلق دیکھ ایمان کی دلخراش چیخیں فضا میں گھونج اٹھیں۔۔۔

خان کا جسم پسینے سے نہا گیا۔۔۔ وہ پوری قوت صرف کئے اسکا ہاتھ تھامے اسے اوپر کھینچنے کی کوشیشیوں میں ہلکان تھا۔۔۔

وہ آج تک کبھی اتنا خوفزدہ نہیں ہوا تھا جتنا خوفزدہ یہ لڑکی اسے لمحوں میں کر گئ تھی۔۔۔

بروقت امجد کی موجودگی اور اسکی حکمت عملی سے وہ ایمان کو اوپر لا پانے میں کامیاب ہوا۔۔۔ لیکن اس کوشیش میں وہ خود ہلقان ہو چکا تھا۔۔۔ اور وہ وجود جسکے لئے اتنے جتن کئے گئے تھے۔۔۔ وہ ناجانے کس وقت ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی۔۔

اسے چھت پر لاکر فرش پر ڈھیر کرتے وہ خود بھی بے دم ہوتا ریلنگ کے ساتھ ہی ٹیک لگاتا بیٹھتا گہرے گہرے سانس بھرنے لگا۔۔۔

اس دھکم پیل میں ایمان کا آنچل ناجانے کہاں گرا تھا تبھی وہ امجد کو ہاتھ کا اشارہ کرتا وہاں سے روانا کر چکا تھا۔۔۔ اور اب خود تھکا تھکا سا فرصت سے اس گلابی گریا کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا جہاں آنسو سے چہرا تر ہونے کیساتھ ساتھ وہاں خوف اور ہراس کے بھی گہرے سائے تھے۔۔۔

وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا۔۔۔

اس لڑکی نے اسے اتنا ٹف ٹائم دیا تھا کے وہ خود سے ہی ڈر گیا تھا۔۔۔

سب کچھ غیر متوقع محض ایمان کی زندگی میں ہی نہیں ہوا تھا۔۔۔ بلکہ بہت کچھ غیر متوقع خان کی زندگی میں بھی رونما ہوا تھا۔۔۔

تمہیں اپنا نہیں سکتا سویٹ ہارٹ۔۔۔ یوں تو تم میری زندگی بھی مشکل بنا دو گئ۔۔۔ میں آزاد پنچھی ہوں۔۔۔ پاوں میں کوئی بیڑی نہیں پہن سکتا۔۔۔

وہ جیسے اس چھوٹی سی لڑکی کے آگے بے بس ہونے لگا تھا۔۔۔

اور تمہیں چھوڑ بھی نہیں سکتا کے میں تمہیں مزید کوئی حماقت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔۔۔۔

کچھ سانس بحال ہونے پر وہ اسے اٹھاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔ کے اس نازک جان کا بروقت ٹریٹمنٹ ضروری تھا۔۔۔

******

ڈیڈ پہلے لیڈیز شاپ پر چلتے ہیں۔۔۔ پلازے میں داخل ہوتے ہی زوہان نے لیڈیز شاپ کا رخ کیا۔۔۔

سب نے خاموشی سے اسکی تقلید کی کے وہ دونوں ہی جانتے تھے کے انکے بیٹے شاپنگ کرتے وقت سب سے پہلے ماں کے لئے ہی خریداری کرتے ہیں۔۔۔

مام یہ بلیک ڈریس آپ پر سوٹ کرے گا۔۔۔ لیڈیز بوتیک شاپ میں داخل ہوتے ہی دور سے ہی وہ ڈسپلے پر لگے ایک یونیق سے سٹائلش بلیک ڈریس کو دیکھتا بے ساختہ اسکی جانب بڑھا۔۔۔

شاباش شہزادے۔۔۔ ویری نائس چوائس ۔۔۔۔ ڈیڈ نے اسکا شانا تھپتھپایا۔۔۔

مام یہ شال آپکے لئے پرفیکٹ رہے گئ۔۔۔ سبحان سرخ اور سیاہ دھاگوں سے مزیں چادر لئے اسکی جانب بڑھا جس پر چھوٹے چھوٹے شیشے جڑے تھے۔۔۔

بہت پیاری ہے۔۔۔ کنزل نے بے ساختہ اس پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔

اوکے ڈیڈ باقی کی شاپنگ آپ مام کی مکمل کروائیں تب تک ہم اپنی شاپنگ کر لیں۔۔۔ آپ اپنا کارڈ دے دیں۔۔۔ ماں کے لئے ڈریس منتخب کر کے وہ جھٹ اپنے مطلب پر آیا۔۔۔

ڈیڈ نے بھی بلا تردد اپنا کارڈ اسکے حوالے کر دیا۔۔۔ میرا تو بس نام ہی ہے ورنہ شاپنگ تو تمہاری ہی ہونی ہے۔۔۔ سبحان نے جاتے جاتے ٹکرا لگایا۔۔۔ تو بھائی آپ بھی خرید لو جو خریدنا ہے۔۔۔۔ کارڈ تھوڑی نا محض میرے باپ کا ہے۔۔ آپکے بھی باپ کا ہے۔۔۔ تو لوٹ لو۔۔۔ وہ حسب سابق شانے اچکاتا بے فکری سے بولا ۔۔۔ جبکہ ڈیڈ اسکے بات سے مسفید ہوتے مسکرا دئیے۔۔۔

اسکے بعد وہ خود تو کنزل کی شاپنگ کر کے بہت جلد فری ہو گیا۔۔۔ پیمنٹ بھی کیش سے کر دی۔۔۔ جبکہ انکے دونوں صاحبزادوں کا ابھی تک کوئی اتہ پتہ نا تھا۔۔۔

آپ انہیں فون کریں کے شاپنگ بس کریں اور جلدی باہر آئیں۔۔۔

کنزل شاپنگ بیگ لئے شوہر کے ساتھ باہر نکلتی وقت دیکھ کر گویا ہوئی۔۔۔

جانے دو یار۔۔۔ بچے ہیں۔۔۔ کرنے دو انجوائے۔۔۔

آپ نے کارڈ تک انہیں دے کر فری ہینڈ دے دیا ہے۔۔۔ زوہاں تو کباڑا کر دے گا۔۔۔ بس بہت ہے۔۔۔ وہ جھنجھلائی۔۔ جبکہ وہ قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔ اتنی ٹینش مت لو یار۔۔۔ اسنے بے ساختہ کنزل کی گال کھینچی۔۔۔ جبکہ وہ پبلک پلیس پر اسکی اس بے باکی کے مظاہرے پر اسے گھور کر رہ گئ۔۔۔

کرنے دو عیش انہیں۔۔۔ اپنے ذاتی باپ کے پیسوں پر کر رہے ہیں۔۔۔

بگار رہے ہیں آپ میری اولاد کو۔۔۔ مجال ہے جو آپکے سامنے میری کوئی بات سن جائیں۔۔ وہ خفا ہوئی۔۔۔

کوئی بات نہیں۔۔ چلو آو تب تک باہر چل کر آئسکریم کھائیں۔۔۔

وہ آئس کریم کھا کر فری ہی ہوئے تھے جب وہ دونوں شاپنگ مال سے شاپنگ بیگز کیساتھ لدے پھندے باہر آئے۔۔۔

اب تو میرے شہزادے خوش ہیں نا۔۔۔ ڈیڈ نے انکے ہاتھوں سے شاپنگ بیگز لے کر گاڑی میں رکھتے انکے دمکتے چہرے دیکھ استفسار کیا۔۔۔

بہت ڈیڈ۔۔۔۔ زوہان کی خوشی دیدنی تھی۔۔۔۔

ڈنر کافی خوشگوار ماحول میں کیا گیا۔۔۔ آپسی نوک جھونک ہنوز جاری تھی۔۔۔

کبھی کنزل بیٹوں اور شوہر کی باتوں کی زد میں آجاتی تو کبھی وہ انکی ٹانگ کھینچ ڈالتی۔۔۔

گھر واپسی تک یہ ہی سلسلہ چلتا رہا۔۔۔

گھر آتے ہی کنزل نے چینج کرتے کچن کا رخ کیا کے جانتی تھی کے اسکا شوہر رات میں کافی لازمی پیتا ہے۔۔۔

کافی کا مگ لئے وہ باہر آئی تو تینوں لاوئنج میں سر جوڑے بیٹھے لیپ ٹاپ پر باپ کو کچھ دکھا رہے تھے۔۔۔ اسے دیکھتے ہی وہاں خانوشی چھا گئ۔۔۔ یقیناً کوئی سیکرٹ میٹنگ چل رہی تھی۔۔۔ غالباً باپ سے پھر سے کوئی فرمائشی پروگرام جاری تھی۔۔۔۔۔ یہ عقدہ بھی جلد ہی کھل گیا۔۔۔

وہ شوہر کو کافی دے کر کمرے میں آگئ کے جانتی تھی باپ بیٹوں کی میٹنگ دیر تک چلنے والی تھی۔۔۔

اگلے دن چھٹی تھی لیکن دوپہر کے وقت موصول ہونے والے پارسل اور میں موجود دس لاکھ کے آئی فون کو دیکھ اسے ساری کہانی سمجھ آگئ۔۔۔

اب صورتحال یہ تھی کے وہ موبائل کا ڈبہ تھامے صوفے پر بیٹھی بیٹے کو خفگی سے دیکھ رہی تھی جبکہ صاحبزادہ سامنے کھڑا آئیں بائیں شائیں کرتا راہ فرار ڈھونڈنے کو باپ کو ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔ جو غالباً کسی کام کی غرض سے گھر سے نکلا ہوا تھا۔۔۔

ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھا سبحان چائے پیتا اسکی حالت سے خظ اٹھا رہا تھا۔۔۔

کیا ہے یہ سب زوہان۔۔۔

مام مجھے کیا معلوم ہو۔۔۔ غالباً بابا نے میرے لئے یہ گفٹ منگوایا ہے۔۔۔ وہ سرعت سے اپنی بات سے پھرا۔۔۔

تو مطلب اب تم ماں سے بھی جھوٹ بولنا شروع کر دو گئے۔۔۔ اسکی آواز میں تاسف اتر آیا۔۔۔

ماں کی بات پر وہ شرمندگی سے سر جھکا گیا۔۔۔ جو بھی تھا وہ ماں کے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔۔۔

یہ تم نے اپنے ڈیڈ سے ضد کر کے منگوایا ہے۔۔۔۔

ہرگز نہیں۔۔۔ یہ میں نے اپنے شیر کو اسکی اتنی بڑی اچیومنٹ پر اسے گفٹ کیا ہے۔۔۔ دفعتاً ڈیڈ اندر داخل ہوتے اسکی جانب بڑھے اور اسکے شانے پر بازو پھیلاتے اسے ساتھ لگایا۔۔۔

زوہاں کو باپ کے آجانے سے بہت ڈھارس ملی۔۔۔

جاو بیٹا آپ انجوائے کرو۔۔۔ آپکی مام کو میں دیکھ لیتا ہوں۔۔۔ باپ کے کہنے پر اسنے سرعت سے ماں کو دیکھا جو خفگی سے اسے دیکھتی موبائل سینٹرل میز پر رکھتی اٹھ کر کمرے میں چلی گئ۔۔۔

ڈیڈ۔۔۔ مام ناراض ہوگئ۔۔۔ زوہان یکدم ہی بے چین ہو اٹھا۔۔۔

نہیں زونی۔۔۔ آپکی مام آپ دونوں سے کبھی ناراض نہیں ہو سکتی۔۔۔ بس تھوڑا خفا ہے جلد مان جائے گی۔۔۔ ڈونٹ وری۔۔۔ میں دیکھتا ہوں۔۔۔ وہ بیٹے کی گال تھپتھپاتا گہرا سانس خارج کر کے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔ کے کنزل کو اس معاملے میں سمجھانا اتنا بھی آسان نا تھا۔۔۔

شوہر کی ہر بات پر لبیک کہنے والی۔۔۔ اولاد کی بات آنے پر اسکے سامنے تن کر کھڑی ہو جاتی۔۔۔بقول اسکے وہ اتنی سی عمر میں بچوں کو اتنی آسائشات و تعیشات دے کر اسکے بیٹوں کو بگاڑ رہا ہے۔۔۔۔

شاید وہ بھی کسی حد تک ٹھیک تھی۔۔۔ لیکن وہ بھی کیا کرتا۔۔۔ اسکے پاس اولاد کو دینے کے لئے وقت سے زیادہ پیسہ تھا۔۔۔ اور وہ شاید اسی سے اپنے وقت کی کمی کے توازن کو برابر کرنا چاہتا تھا۔۔۔

جو بھی تھا۔۔۔ دونوں کے نظریات میں فرق تھا۔۔۔ اور کم از کم کنزل اس معاملے میں اپنے نظریات سے ہٹنے کو تیار نا تھی۔۔۔ اسکی ویلیوز ہی اسکے لئے سب کچھ تھی۔۔ اور وہ اپنی زندگی کے کل اثاثے کو ان ویلیوز سے ہٹا کر ایلیٹ کلاس کے بگڑے رئیس زادوں کی طرح عیاش بنا کر انہیں تباہ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے وہ اس معاملے میں بہت سخت اور کٹر بن کر سامنے آتی کے زوہان تو کیا اسکے ڈیڈ کو بھی وہاں ہار ماننی پر جاتی۔۔۔ اور سبحان وہ تو تھا ہی اسکی فرمابردار اولاد۔۔۔ بس زوہان میں خودسری کا عنصر نمایاں تھا۔۔۔ وہ خودسر ضرور تھا لیکن نافرمان نہیں۔۔۔

******