Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

شامیر خان کے جانے کے بعد ایمان کو نہیں اندازہ کے وہ کتنی دیر تک وہیں اسی حال میں سن ہوتے دماغ اور مفلوج ہوتی حسوں کے ساتھ کھڑی رہی ۔۔۔ بس جب کھڑے ہو ہو کر ٹانگیں شل ہو گئیں تب وہ وہیں ڈھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔

اسنے آج سے پہلے اتنا خوف کبھی محسوس نا کیا تھا جتنا اب کر رہی تھی۔۔۔ تب بھی نہیں جب خان نے اسے اغوا کیا تھا۔۔۔ تب بھی نہیں جب حامد بھائی اسے مارنے لپکا تھا۔۔۔

لیکن اب خوف حد سے سوا تھا ۔۔۔ کیونکہ وہ اس اپارٹمنٹ میں تنہا تھی۔۔۔ ماں اور بھائیوں کی وہ شہزادی جسے اسکے تمام رشتوں سے کاٹ کر گویا جنت دے نکال باہر پھینکا گیا ہو۔۔۔ وہ فطرتاً ڈرپوک تھی اور جہاں پے در پے واقعات نے اسے توڑ ڈالا تھا وہاں اس تنہائی نے اسے ابھی سے کملا ڈالا تھا۔۔۔

ایک دل چاہا ڈھیٹ بن کر واپس ماں کے پاس لوٹ جائے اور ماں کو خود پر بیتی ساری داستان سنا کر انکی آغوش میں چھپ جائے۔۔۔ لیکن پھر آگے کیا ہوتا۔۔۔ اسکے بھائی خان کی اسقدر جرات پر اس سے بھڑ جاتے۔۔۔ چاہے وہ کمزور تھے۔۔۔ اس سے سٹیٹس میں بہت کمتر تھے لیکن پھر۔۔۔ پھر آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ خان ہر حال میں ان پر سبقت لیجاتا انہیں دھول چٹا دیتا۔۔۔ پھر چاہے وہ سبقت انہیں کسی بھاری کیس میں لمبے عرصے تک جیل کی صورت ہوتی یا اسکے عزیز از جان بھائیوں کی زندگی کی ڈور کاٹنے کی صورت ہوتی۔۔۔۔ لیکن یہ طے تھا کے وہ خان سے ٹکر نہیں لے سکتے تھے۔۔

سارا دن تمام ہوا اور رات اپنے پنکھ پھیلانے لگی تو وہ جو مختلف قسم کی سوچوں کے آکٹوپس میں جھکڑی گئ تھی بھوک سے نڈھال ہوتی پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو کر اٹھ کھڑی ہوتی مختل ہوتے حواسوں کیساتھ اپارٹمنٹ کا جائزہ لینے لگی۔۔۔

دو بیڈ رومز خوبصورتی سے سجے لاوئنج اٹیچ واش روم اور اوپن کچن پر مشتمل وہ ایک اچھی لوکیش پر موجود خوبصورت اپارٹمنٹ تھا۔۔۔

صد شکر کے فریج میں کھانے پینے کا سامان موجود تھا۔۔۔ اسنے دودھ نکالتے چائے کا کپ بنایا اور ساتھ بریڈ کے سلائس زہر مار کرنے لگی۔۔۔

ساری رات وہ ایک پل کو نا سو سکی۔۔۔ طرح طرح کے وہم اور خدشات کے ناگ دل میں سر ابھارنے لگے۔۔۔

یہ اسکی تنہائی میں کاٹی جانے والی پہلی رات تھی۔۔۔ ساری رات ہی وہ خوف کے زیر اثر اپارٹمنٹ میں بولائی بولائی پھرتی رہی ۔۔۔ کبھی اپارٹمنٹ کے لاک دروازے بار بار اٹھ کر چیک کرتی تو کبھی کھڑکیاں۔۔۔ کبھی لاوئنج کے وسط میں کھڑے ہو کر ہر جانب نگاہیں گھماتی کے کہیں سے کسی کے اندر داخل ہونے کی کوئی جگہ تو نہیں۔۔۔

خوف کے زیر اثر ساری رات گزار کر کہیں فجر کی اذانوں کے وقت اسکی آنکھ لگی۔۔۔۔

دوبارہ اسکی آنکھ دن کے گیارہ بجے کھلی۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی وہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔ کئ لمحے لگے اسے حالات سے مانوس ہونے میں۔۔۔ ڈھرکنیں معمول پر آئیں تو آنکھیں نم ہو اٹھیں۔۔۔

وہ درد سے پھٹے سر کو تھام کر رہ گئ۔۔۔

اس وقت اسکے پاس نا تو کوئی موبائل فون تھا جو کسی سے رابطہ استوار کر سکتی۔۔۔ اور نا ہی کوئی لباس تھا جسے تبدیل ہی کر سکتی۔۔۔

تب اسے پھر سے ایک بار مستقبل کے ناگ ڈسنے لگے۔۔۔

کافی دیر تک کسلمندی سے وہیں بیٹھے رہنے کے بعد وہ خود میں ہمت پیدا کرتی اٹھی اور چائے کا کپ پی کر چیک بک اٹھا کر آنچل اچھے سے سر پر لیتی اپارٹمنٹ سے نکلی۔۔۔

*****

ایمان کے لئے اپارٹمنٹ سے نکلنا ایک الگ محاز ثابت ہوا۔۔۔ ماں اور بھائیوں کے سائے میں گھر کی چار دیواری میں رہنے والی ایمان کے لئے باہر کی دنیا بھول بھلیاں ثابت ہوئی تھی۔۔۔ اپارَٹمنٹ لاک کر اپارٹمنٹ سے تو نکل آئی مگر اب اپارٹمنٹ کے باہر کھڑی وہ میلے میں گھم ہوئے بچے کی مانند ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اسقدر بے وقوف بھی ہو سکتی ہے اس بات کا انکشاف ابھی ابھی خود اس پر ہوا تھا۔۔۔

اپارٹمنٹ سے بینک تک جانے کے بعد واپسی پر اسے اپنے اپارٹمنٹ کی لوکیشن کا ہی نہیں پتہ تھا۔۔۔ اور سب سے بڑی بات وہ اس لوکیشن تک پہنچ جاتی تو بھی اسے اپنے اپارٹمنٹ تک پہنچتے پہنچتے گھنٹوں لگ جاتے۔۔۔

اسنے کرب سے آنکھین میچیں۔۔۔ یہ زندگی آسان نا تھی۔۔۔ اور اسکے لئے تو بالکل بھی نا رہی تھی۔۔۔

سب سے پہلے اسنے اپنا فلور نمبر یاد کر کے اپارٹمنٹ نمبر یاد کرتے اپارٹمنٹ کے باہر چند نشانیاں رکھیں۔۔۔ پھر راستے اچھی طرح ذہن نشین کرتی اپارٹمنٹ بلڈنگ سے باہر نکلتی لوکیشن کے بارے میں جاننے لگی۔۔۔

اچھا مسلہ تب پیدا ہوا جب رکشہ کروا کر بینک تک جاتے ہوئے اسکے پاس رکشے والے کو دینے کے لئے پیسے تک نا تھے۔۔۔

بھیا آپ دو منٹ انتظار کریں۔۔۔ میں بس ابھی اندر سے ہو کر آئی پھر مجھے مارکیٹ بھی جانا ہے تو آپکو اکھٹا کرایا دیتی ہوں۔۔۔ وہ رکشے والے سے التجائیہ کہتی بینک میں داخل ہوئی۔۔۔ یہ وہی بینک تھا جہاں کل اپنے گھر جانے سے پہلے خان اسکا اکاونٹ کھلوانے اسے زرا کی زرا وہاں لایا تھا۔۔۔

اندر آتے ہی وہ اسی ڈیسک کی جانب بڑھی جہاں وہ کل آئی تھی۔۔۔ اور حقیقی بات تھی کے اسے چیک تک فل کرنا نہیں آتا تھا۔۔۔ بلکہ اسکا تو آئی ڈی کارڈ تک نا بنا تھا۔۔۔ اسکا اکاونٹ بھی سٹودینٹ اکاونٹ تھا۔۔۔

بینک کے مینجیر کو اپنی بات بتاتے اسنے چیک فل کرنے کی درخواست کی جس پر وہ اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگا۔۔۔

میم آپکا اکاونٹ کرنٹ نہیں بلکہ سیونگ اکاونٹ ہے۔۔۔ اور آپکی ساری رقم فکس ڈیپوزٹ ہے۔۔۔ جسکے تحت آپ اگلے دس سالوں تک اپنی اصل رقم نہیں نکلوا سکتی البتہ اپنی رقم باونڈ کرنے پر آپکو بینک ہر ماہ آپکی رقم پر آپکو پرافٹ دینے کا مجاز ہے۔۔۔ البتہ آپکی اصل رقم وہیں کی وہیں رہے گی جو آپ بینک سے کانٹریکٹ ختم ہونے پر نکلوا سکتی ہیں۔۔۔

جی۔۔۔ یہ سب باتیں میں جانتی ہوں۔۔۔ وہ ناسمجھی سے گویا ہوئی۔۔۔

تو یہ میم کے آپکو پرافٹ اس مہینے کے آخر میں ملے گا۔۔۔

مینیجر کی بات پر ایمان کو زمین آسمان کے کلاپے گھومتے دکھائی دئیے۔۔۔ پیسوں کے بنا وہ بھلا کیا کرتی۔۔۔

کیا مطلب۔۔۔ کیا ابھی میں کچھ بھی رقم نہیں نکلوا سکتی۔۔۔ اسکا دل گھبرانے لگا۔۔۔

اسکی پریشانی دیکھ مینجر کی بورڈ پر جھکتا چند کیز دبا کر اسکی بینک ڈیٹیلز چیک کرنے لگا۔۔۔

میم آپکی رقم کے علاوہ چند ہزار مزید ہیں اکاونٹ میں جنکی مالیت تقریباً چالیس ہزار ہے آپ وہ نکلوا سکتی ہیں۔۔۔ منیجر کے کہنے پر اسکی سانس میں سانس آئی۔۔۔

پلیز آپ اسی کا چیک بنا دیں۔۔۔

مینیجر سے چیک فل کروا کر اسکے کہے کے مطابق مطلوبہ جگہ پر دستخط کر کے رقم نکلوا کر وہ واپس باہر آئی۔۔۔

اب اسکا رخ مارکیٹ کی جانب تھا۔۔۔ سب سے پہلے اسنے موبائل شاپ کا رخ کیا۔۔۔ ہاتھ میں پیسے آئے تو عقل بھی خودباخود آنے لگی۔۔۔ اسکے پاس ٹوٹل چالیس ہزار تھے جس میں اسے پورا مہینہ کاٹنا تِھا۔۔۔ اگلے مہینے سے پہلے اسکے پاس مزید رقم نہیں آنے والی تھی۔۔۔ تبھی اسنے پیسوں کا حساب لگاتے مناسب قیمت کا موبائل خریدا۔۔۔ اور چند ایک جوڑے کپڑوں کے خریدنے کے بعد ضرورت کی چند اشیاء خریدیں۔۔۔ اسکے ہاتھ میں تھامے پیسے تیزی سے ختم ہو رہے تھے۔۔۔

اور ہر کم ہوتے فگر کے ساتھ وہ پریشان ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ بہت بچا بچا کر اور سوچ بچار کے بعد کی جانے والی شاپنگ کے بعد بھی گھر کی مخصوص اور مختصر گروسری کر کے جس وقت وہ گھر داخل ہوئی اسکے ہاتھ میں محض چار ہزار تھے جس میں ابھی اسے پورا مہینہ کاٹنا تھا۔۔۔

لیکن جو بھی تھا۔۔۔ آج تنہا پہلے بینک اور پھر مارکیٹ سے شاپنگ کر کے گھر واپس پہنچ جانا اسکی ایک بہت بڑی اچیومنٹ تھی۔۔ آج کے واقعہ نے اسکا کانفیدینس بہت نا سہی لیکن کافی حد تک بڑھا دیا تھا۔۔۔۔

*****

موبائل تو وہ لے آئی لیکن نا تو اسکے پاس سم تھی اور نا ہی وہ بنا آئی ڈی کارڈ کے سم اشو کروا سکتی تھی۔۔۔ تبھی کافی دیر کی سوچ بچار کے بعد وہ اپارٹمنٹ کے ہیڈ آف دا سیکیورٹی سے وائی فائی کا کورڈ لگوا لائی۔۔۔

واپس اپارٹمنٹ آتے ہی اسنے سب سے پہلے اپنا جی میل اکاونٹ کھولا اور اسی جی میل پر ایف بی آئی ڈی بناتے سب سے پہلے زخرف سے رابطہ استوار کرنے کی کوشیش کی۔۔۔ وہ اسکی دوست تھی یقیناً اسکی کنڈیشن سمجھتی۔۔۔۔

اور وہ چونکہ ایف بی رائٹر تھی اور کم و بیش ہر وقت ہی اونلائن ہوتی۔۔۔ صد شکر کے جلد ہی اسکا رابطہ زخرف سے استوار ہوگیا۔۔۔ اور اسے یوں محسوس ہوا گویا میلے میں بچھڑے کسی بچے کو کوئی اپنا مل گیا ہو۔۔۔

زخرف بھی اسکے سٹیٹس اور شوہر سے مغلوب تھی تبھی اسے مبارکباد دیتی جلد ہی نارمل ہوگئ۔۔۔ اسی کی بدولت اسے پتہ چل سکا کے اسکی ماں کی طبیعت بہت خراب ہے اور وہ کل رات سے ہی ہسپیتال میں داخل ہے۔۔۔ یہ جان گسل خبر سنتے ہی وہ تڑپ اٹھی۔۔۔ زخرف سے ہسپتال کا نام وغیرہ پوچھ کر وہ زندگی میں پہلی مرتبہ وقت کا تعین کئے بنا گھر سے نکل پڑی۔۔۔

*****

اگلے کچھ ہی وقت میں وہ ہسپتال میں موجود تھی۔۔۔

امی۔۔۔ ماں کو ہسپتال کے بستر پر ڈھیر دیکھ وہ تڑپ کر بہتی آنکھوں سمیٹ انکی جانب بڑھی۔۔۔ ماں کو آئی وی لائن کی مدد سے ڈرپ لگی تھی ۔۔۔ بیٹی کو اپنی جانب آتا دیکھ وہ بے چین ہو اٹھیں۔۔۔

کیا کر رہی ہو تم یہاں۔۔۔ دفعتاً سجاد بھیا بھابھی کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور اسے غیر متوقع طور پر وہاں دیکھ کر غصہ ضبط کرتے سخت لہجے میں مستفسر ہوئے۔۔۔

وہ وہیں ٹھٹک کر رکتی انہیں ہراساں نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔

ماں سے ملنے آئی ہوں بھائی۔۔۔ اسکی آواز میں یاسیت گھلنے لگی بات تک کرنا محال ہوا۔۔ آواز کہیں حلق میں ہی اٹکنے لگی تھی۔۔۔

ماں کو یہاں تک پہنچا کر بھی سکون نہیں ملا تمہیں ایمان۔۔۔ اب انہیں بستر سے تو لگا دیا۔۔۔ یہاں سے مزید کہاں پہنچانا چاہتی ہو۔۔۔ انکی آواز میں تاسف تھا ملال تھا دکھ تھا۔۔

وہ شرمندگی سے بہتی آنکھوں سمیت سر جھکا گئ۔۔۔۔ وہ کچھ نا کرتے ہوئے بھی سب کی نگاہوں میں مجرم بن گئ تھی۔۔۔

کہاں کمی رہ گئ تھی ہماری محبتوں میں ایمان جو تم نے یہ گھٹیا قدم اٹھایا۔۔۔ تم گڑیا تھی ہماری۔۔ ہمارا مان۔۔۔ تمہیں کہیں بھی شادی کرنی تھی بتاتی تو صحیح۔۔۔ ناجانے کب سے چل رہا تھا یہ معاشقہ اور تم نے ہمیں کانوں کان خبر تک نا ہونے دی۔۔۔ بھائی کی روح چھلنی کرتی باتوں پر ایمان کا دل چاہا کے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔۔

شاید تمہارے شوہر کی دولت نے متاثر کیا تمہیں۔۔ اور اسکی دولت تمہارے بھائیوں کی عزت اور مان پر حاوی ہو گی جو تم ہمارے سروں میں خاک انڈیل کر چلے گئ۔۔۔

خیر جو بھی ہے جاو یہاں سے ۔۔۔ ہماری زندگیوں میں تم جیسی خودسر لڑکی کی کوئی جگہ نہیں۔۔ اس سے پہلے کے تمہاری شان میں گستاخی تمہارے رئیس زادے شوہر کو بری لگے اور وہ اپنی طاقت کا استعمال کرتا پھر سے ہمارے روبرو آئے۔۔ شکل گم کرو یہاں سے اپنی۔۔۔ بھائی کے لہجے میں گہری کاٹ تھی۔۔۔ اس سے سر اٹھا پانا محال ہوا۔۔۔

امی سے ملنا ہے بھائی۔۔۔ اسکا لہجہ کپکپا اٹھا ۔۔ کب کی تھی اس پیلے بھائیوں نے اس سے اس لہجے میں بات۔۔

تمہیں ایسے بات سمجھ نہیں آئے گی میری۔۔ نکلو یہاں سے۔۔۔ سجاد نے آگے بڑھ کر اسکی بازو کھینچتے اسے کمرے سے نکالنا چاہا۔۔۔ وہ تڑپ تڑپ گی۔۔۔

نہیں بھائی۔۔ پلیز معاف کر دیں۔۔۔ میں تو آپکی گڑیا ہوں نا۔۔۔ اور اپنی گڑیا کے ساتھ کون ایسا کرتا ہے۔۔۔ وہ بہت آس سے اسے دیکھتی التجائیں کر رہی تھی۔۔۔ مگر وہ بھائی جو اسکی ایک آواز پر تڑپ اٹھتا تھا اب بے حس بن گیا تھا۔۔۔ شاید مان ٹوٹے تو یونہی ہوتا ہے۔۔۔۔

سجاد۔۔۔ میری بچی۔۔۔ ایمان۔۔۔

ماں کی تڑپتی آواز اور بگڑتی طبیعت پر وہ تھما۔۔۔

سجاد ماں کی طبیعت بگڑ رہی ہے۔۔۔ چھوڑ دیں اسے۔۔۔ بھابھی کے کہنے پر وہ غصے سے ایمان کی بازو چھوڑتا کمرے سے ہی نکل گیا۔۔۔ جبکہ شوہر کے تیور ملاخظہ کرتے بھابھی بھی اسکے پیچھے لپکی۔۔۔

انکے جاتے ہی ایمان بھاگ کر ماں کی جانب لپکی اور ننھے بچے کی مانند ان سے لپٹتی ڈھاریں مار مار کر رو دی۔۔۔ اور سامنے تو پھر ماں کا دل تھا۔۔۔ انہوں نے بھی بنا کچھ کہے بنا کچھ پوچھے بہتی آنکھوں سمیٹ اسے اپنی آغوش میں سما لیا۔۔۔

******