Raah e Haq by Umme hani NovelR50006 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
گاڑی جانے پہچانے راستوں پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔۔۔ جبکہ ہر گزرتے پل کے ساتھ ایمان کا حلق خشک ہو رہا تھا۔۔۔ امجد پوری یکسوئی سے گاڑی چلا رہا تھا جبکہ خان براون پینٹ پر سفید کاٹن کی ہاو سلیو جسم سے چپکی شرٹ زیب تن کئے جسکے اوپری دو بٹن کھلے تھے سنجیدہ سا اسکے ساتھ بیک سیٹ پر بیٹھا تھا۔
اور وہ خود اس وقت دور سے دیکھنے پر بھی ایک نو بیاہتا لگ رہی تھی۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے کے تمام مناظر پوری جزئیات سے اسکے سامنے چلنے لگے۔۔۔
اسے ہوش آیا تو اسنے خود کو اپنے کمرے میں نرم مخملی بستر پر دراز پایا۔۔۔ اسنے اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو یکدم ہی سر پر کافی بوجھ محسوس ہوا۔۔۔ دماغ پر زور ڈالنے سے کچھ دیر پہلے کے سبھی حالات و واقعات آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چلنے لگے۔۔۔۔
تب وہ جسم سے اٹھتی ٹیسوں کی پرواہ کئے بنا ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
اٹھتے ہی اسکی پہلی نگاہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑے نک سک سے تیار خان پر پڑی جو خود پر بے دریغ پرفیوم کا چھڑکاو کر رہا تھا۔۔۔
خخ۔۔۔ خان۔۔۔ الفاظ اسکے حلق میں ہی دم توڑنے لگے۔۔۔
اٹھ جاو سویٹ ہارٹ۔۔۔ ناشتہ کرو میڈیسن کھاو اور تیار ہو جاو۔۔۔ میں خود تمہیں تمہارے گھر چھوڑنے جاوں گا اور دیکھتا ہوں کے کون تمہیں سنگسار کرتا ہے۔۔۔۔
وہ شیشے میں ابھرتے اسکے عکس کو دیکھتا سنجیدگی سے کہتا پرفیوم کا دھکن بند کرکے اسے ڈریسنگ پر رکھتا پلٹا۔۔۔
جبکے اسکے اتنے سے الفاظ سے ہی ایمان کو اپنے تن مردہ میں ایک نئ روح پھونکی جاتی محسوس ہوئی۔۔۔ الفاظ زندگی بھی ہو سکتے ہیں یہ اسنے آج جانا تھا۔۔۔
ناشتے کرنے کے بعد اسے میڈیسن اپنے زیر نگرانی کھلانے کے بعد خان نے اسے اپنے زیر نگرانی ہی تیار کروایا تھا۔۔۔ سکن۔۔۔ براون اور اورنج کلر کے سٹائلش سے ڈریس پر وائٹ گولڈ کی جیولری اور ہاتھوں میں بھر بھر کر چوڑیاں۔۔۔ اوپر سے ماہر بیوٹیشن کے ہاتھوں کیا جانے والا میک آپ۔۔۔ اسے اپنی ہی تیاری دیکھ دیکھ خوف محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ اتنا تو وہ کسی کی شادی یا عید وغیرہ پر کبھی تیار نا ہوئی تھی۔۔۔
مگر خان کی بھی اپنی ہی منطق تھی۔۔ جب لیجا وہ اپنے ساتھ رہا تھا تو اسکا خان کے سٹینڈر سے میل کھانا بھی ضروری تھا۔۔۔
وہ آئینے میں ابھرتے اپنے ہی نوخیر چمکتے دمکتے روپ کو دیکھتی نگاہیں جھکا جاتی۔۔۔ آنے والے وقت کا سوچ سوچ کر ہی اسکی روح فنا ہو رہی تھی کیسے وہ اس روپ میں اپنے گھر والوں کا سامنا کرتی۔۔۔ وہ شرمندگی سے زمین مین گڑھ جانا چاہتی تھی۔۔۔ دفعتاً گاڑی اسکے گھر کے سامنے آ کر رکھی تو وہ کرنٹ کھا کر سیدھی ہوتی سانس تک روکے اپنے گھر کو دیکھنے لگی۔۔۔ ناجانے آگے کی منزل کتنی مشکل ہونے والی تھی۔۔۔ تین دن گھر سے باہر گزارنے کے بعد وہ کیسے کرتی گھر والوں کا سامنا۔۔۔ ناجانے ان تین دنوں میں اسکے گھر والوں نے کیا کیا نا سہا ہوگا۔۔۔ بے ساختہ اسکا دل ڈوبنے لگا۔۔۔۔
*****
کنزل۔۔۔ وہ کمرے کا دروازہ وا کرتا اندر داخل ہوا تو کنزل کو بیڈ کراون سے ٹیک لگائے سر تھامے بیٹھے پایا۔۔۔۔
آپ بات مت کریں مجھ سے شاہ۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔۔ بگاڑ کر رکھ دیا ہے آپ نے میری اولاد کو۔۔۔ اسکا سٹینڈر دیکھ رہے ہیں آپ۔۔۔ برینڈ سے نیچے وہ کسی چیز پر ہاتھ نہیں رکھتا۔۔۔ کم مالیت کی چیز اسکی آنکھوں میں نہیں سماتی۔۔۔ کیا عمر ہے ابھی اسکی۔۔۔ محض پندرہ سال۔۔۔ اور اتنی سی عمر میں وہ برینڈ کانشیئس ہو رہا ہے۔۔۔ زمانے کی سختی وہ برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ دھوپ میں باہر نکلتا ہے تو بیمار پر جاتا ہے۔۔۔ کوئی کام اپنے ہاتھ سے کرتے اسکی جان جاتی ہے۔۔۔ غلط سائیڈ پر لے کر جا رہے ہیں آپ میرے بچوں کو۔۔۔
بچے ہیں وہ ابھی۔۔۔ کچھ کریوسٹی رہنے دیں باقی انکی زندگی میں۔۔۔ کوئی ایسی خواہش جسے پورا کرنے کی چاہ انہیں سیلف میڈ بنائے۔۔۔ محنت کرنا سیکھائے۔۔۔ اولاد کی ہر فرمائش منہ سے نکلتے ہی پوری نہیں کر دی جاتی۔۔۔ حالات نے زرا سی اپنی سرد و گرم دکھائی نا تو وہ اتنا حساس ہے کے برداشت ہی نہیں کر پائے گا۔۔۔
ماں ہوں میں اسکی شاہ دشمن نہیں ہوں۔۔۔ اسے اسراف اور بخل کے درمیان کا فرق سمجھانا فرض ہے میرا۔۔۔ محض اولاد پیدا کر کے انہیں پال لینا ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ اس میں کیا خاص بات ہے۔۔۔ یہ تو جانور بھی کر لیتے ہیں۔۔۔ اصل معاملہ تو ہے ہی اولاد کی تربیت کا۔۔۔ جو فرض ہے ماں باپ پر۔۔۔۔ وہ تو معصوم بچے ہیں۔۔۔ نا سمجھ۔۔۔ ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اس جانب لپکنے والے۔۔۔۔۔ انہیں سمجھانا کس نے ہے۔۔۔۔
ابھی پچھلے مہینے اسکی پندرہویں سالگرہ پر آپ نے اسے نئ گاڑی گفٹ کردی۔۔۔
جانتی ہوں میں۔۔۔ کے یہ بھی اسی کی فرمائش تھی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ بولنے کو منہ کھولتا کنزل ہاتھ اٹھاتی اسکی بات کاٹ گی۔۔۔
اور یہ بھی جانتی ہوں کے میرے کہنے پر زوہان وہ تحفہ آپکو واپس بھی کر چکا ہے۔۔۔ لیکن آپ خود سوچیں۔۔۔ محض پندرہ سال کی عمر میں بغیر لائسنس لئے وہ لاہور کی سڑکوں پر گاڑی چلاتا تو میں کیسے سکون سے گھر میں بیٹھتی۔۔۔ میرے جگر کے ٹکرے ہیں دونوں کیا مجھے انکی زندگی سے زیادہ انکی ضدیں پیاری ہیں۔۔۔ اور ہر ضد بھی ماننے والی نہیں ہوتی۔۔۔ وہ تو بچے ہیں ناسمجھ ہیں اور عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں زیادہ تر بچے غلطیاں ہی کرتے ہیں۔۔۔ ٹین ایج ہوتی ہی ایسی عمر ہے جہاں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔ وہ عمر جہاں بچے کو سب سے زیادہ اپنے پیرنٹس کی گائیڈنیس کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔۔ کیا انہیں سمجھانا ہمارا فرض نہیں۔۔۔ آپ انہیں بجائے سمجھانے کے شہہ دینے لگتے ہیں۔۔۔
ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے۔۔ اپنی عمر کے لحاظ سے وہ سب کریں گے انشااللہ۔۔۔ یہ گاڑیاں بھی انکی ہیں اور ضرورت سے زیادہ لگزریز بھی۔۔۔ لیکن وہ پہلے انکے اہل تو ہو جائیں۔۔۔
بات کرتے کرتے وہ روہانسی ہو اٹھی۔۔۔ شاید کے اسکی فیلنگز شاہ نہیں سمجھ سکتا تھا۔۔۔
ریلیکس یار۔۔۔ بی کالم۔۔۔۔ شاہ نے اسکے پاس آتے پانی کا گلاس اسکی جانب بڑھایا اور خود اسے اپنے حصار میں لیتا اسکا شانا سہلانے لگا۔۔۔۔
کنزل نے اسے خفگی سے دیکھتے پانی کا گلاس منہ کو لگایا۔۔۔
نا کیا کریں ایسا شاہ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ جیسے تھک ہار کر اسی کے شانے پر سر رکھ گئ۔۔۔
آئندہ سے نہیں کروں گا۔۔۔ اسنے ہمیشہ والا جملہ دہرایا جو وہ ہمیشہ اسے ایسے ہی ٹھنڈا کرنے کے لئے کہتا تھا۔۔۔ اور جملے میں صداقت تب تک رہتی جب تک زوہان کی جانب سے کوئی اگلی فرمائش نا آجاتی۔ اور یہ بات کنزل بھی باخوبی جانتی تھی۔۔۔۔۔
*****
شام کے وقت کنزل سبحان اور شاہ کے ساتھ باہر لان میں کین کی کرسی پر بیٹھی چائے پی رہی تھی جب زوہاں وہاں آیا۔۔۔۔ وہ غالباً ابھی ابھی سو کر اٹھا تھا۔۔۔ رف سے ٹراوز پر کھلی سی ٹی شرٹ زیب تن کئے۔۔۔ پاوں میں سوفٹی پہنے وہ رف سے حلیے میں ملبوس تھا۔۔۔ لیکن اس حلیے میں بھی اسکا قد قاٹھ باپ کے قد سے سر نکالتا محسوس ہوتا۔۔۔ کنزل نے نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے اپنے خوبرو صاحبزادے کو نظر انداز ہی کیا۔۔۔ یہ اسکی واضح ناراضگی کی نشاندہی تھی۔۔۔۔ لیکن زوہان کو کہاں برداشت تھی ماں کی ناراضگی۔۔۔
وہ ماں کے سامنے آتا دوزانو بیٹھا اور اسکی گود میں پیک موبائل کا ڈبہ رکھتا اسکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتا ہونٹوں سے لگا گیا۔۔۔۔
کنزل وہیں تھم گی۔۔۔ ہاتھ میں تھاما چائے کا کپ تک لرز گیا جسے اسنے گرنے سے بچانے کو بعجلت میز پر رکھا۔۔۔۔ وہ اسکا بیٹا تھا اور لمحوں میں ماں کو منانے کے ہر گُر سے آگاہ تھا۔۔۔
ایم سوری مام۔۔۔ پلیز سوری۔۔۔ مجھے یہ موبائل نہیں چاہے۔۔۔ مجھے اسکی خواہش ضرور تھی لیکن یہ میرے لئے میری مام سے اہم ہرگز نہیں۔۔۔ اسکے لہجے میں گھلی یاسیت اور نمی دیکھ کنزل کا دل بھر آیا۔۔۔۔ کتنا خوش تھا وہ صبح تک اور اب۔۔۔
اسنے موبائل فون اٹھا کر میز پر رکھا جسے اسنے اتنے چاو سے منگوانے کے باوجود ماں کی ناراضگی کے خیال سے کھول کر دیکھنا تک گوارا نا کیا تھا۔۔۔ شاہ اور سبحان خاموش تماشائی بنے یہ ساری کاروائی دیکھ رہے تھے۔۔ اور وہ دونوں ہی جانتے تھے کے آگے کیا ہونے والا ہے۔۔۔
کنزل کے موبائل گود سے اٹھاتے ہی وہ اسکی گود میں سر رکھ گیا۔۔۔
سیدھے ہو۔۔۔ کنزل نے اسکا چہرا تھوڑی سے پکڑتے اونچا کیا۔۔۔
گڈ بوائز روتے نہیں۔۔۔ اسنے محبت سے بیٹے کی آنکھوں کی نمی صاف کی۔۔۔ اور اسے اٹھا کر اپنے مقابل کرسی پر بیٹھایا۔۔ اور یہ گفٹ آپکے ڈیڈ نے آپکو دیا نا اس لئے رکھ لو لیکن آئندہ اختیاط کرنا۔۔۔ اسنے موبائل اٹھا کر زوہان کی گود میں رکھا۔۔۔
بے ساختہ سبحان نے اپنی مسکراہٹ دابی۔۔۔ اسکی ماں اپنی ویلیوز پر سخت ضرور تھی لیکن بے لچک نہیں۔۔۔ وہ اپنے ہر رویے میں لچک رکھتی تھی اور بے جا پابندیوں سے گریز کرتی کے بلاشبہ بے جا پابندیاں ہی بغاوت کو جنم دیتی ہیں۔۔۔ کبھی بچوں کو قائل کر لیتی تو کبھی بچوں کی خوشی کی خاطر خود قائل ہو جاتی۔۔۔ جیسے اتنی کم عمری میں وہ انکے گاڑی چلانے کا رسک نہیں لے سکتی تھی اس لئے ہر صورت گاڑی واپس کروا دی۔۔۔ البتہ ان دونوں کے باپ سے گاڑی چلانا سیکھنے پر اسنے خاموشی اختیار کی۔۔۔ اب دونوں باپ کی نگرانی میں گاڑی چلا لیتے تھے اور سبحان تو بہت اچھی ڈرائیو کر لیتا۔۔۔ وہ تھا بھی کنزل کا سمجھدار بیٹا۔۔۔ لیکن اسکے باوجود وہ انکی ذاتی گاڑی کے حق میں قطعاً نا تھی۔۔۔
اسی طرح اب بھی وہ بیٹے کی خوشی کی خاطر قائل ہو چکی تھی۔۔۔
پکا مام۔۔۔ آپ ناراض تو نہیں۔۔۔ زوہان کے کنفرم کرنے پر وہ مسکرا کر سر نفی میں ہلا گئ۔۔۔ کے بیٹوں کی خوشی سے عزیز تو اسے بھی کچھ نا تھا۔۔۔
چلیں پھر اس ان پیک بھی آپ ہی کریں اور ان پیک کر کے موبائل خود مجھے پکڑائیں۔۔۔ جھٹ سے اسکی اگلی فرمائش تیار تھی ۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی ڈبہ ان پیک کرنے لگی۔۔۔
سبحان۔۔۔۔ دفعتاً شاہ نڑوتھے پن سے سبحان سے گویا ہوا۔۔۔
جی ڈیڈ۔۔۔۔
کچھ لوگوں کو بس ہم مسکینوں پر ہی روب جھارنا آتا ہے اور دوسروں کے سامنے بڑے آرام سے قائل ہو جائیں گے۔۔۔ شاہ کے سر جھٹک کر شکوہ کرنے پر زوہان اور کنزل دونوں ہی مسکراہٹ دابتے سر جھکا گئے۔۔۔
حان بچے آپ بھی چاہو تو اپنا موبائل چینج کر لو۔۔۔ دفعتاً کنزل سبحان سے مخطب ہوئی کے دونوں میں بچوں میں فرق کرنا تو اسنے سیکھا ہی نا تھا۔۔۔ وہ الگ بات کے اسکے دونوں بیٹوں کی نیچر میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔ ایک جتنا کول اور کالم تھا دوسرا اتنا ہی طوفان تھا۔۔۔
سبحان نے دونوں ہاتھ کانوں کو لگاتے ماں کے سامنے جوڑ دئیے۔۔۔ میں سیٹیسفائڈ ہوں اپنے موبائل سے۔۔ شاہ کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔ ہم باپ بیٹا بچارے ڈرتے ہیں۔۔۔
شاہ کے کہنے پر کنزل نے تاسف سے سرنفی میں ہلایا۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔ہیوی بائیک کا لیٹسٹ ماڈل کل رات لانچ ہو گیا ہے۔۔ وہ تو چینج کروا دیں۔۔۔ آفت کی پرکالہ کی نئ فرمائش تیار تھی۔۔۔ شاہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے کنزل کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ شچ
کیا مام یار۔۔۔ اب یہ تو کروا ہی سکتا ہوں نا ۔۔ میں تھوڑی نا کار کی فرمائش کر رہا ہوں۔۔۔ وہ اپنے ازلی لاپرواہ انداز میں شانے اچکا گیا جبکہ کنزل سر تھام کر رہ گئ۔۔۔
*****
