Raah e Haq by Umme hani NovelR50006 Episode 08
No Download Link
Rate this Novel
Episode 08
رات گئے کہیں تھکے ہارے وہ دونوں بھائی ایمان کا بیگ لئے شکستہ خیز قدموں کے ساتھ گھر داخل ہوئے۔۔۔ماں کے آنسو تھے کے تھمنے کا نام تک نا لے رہے تھے۔۔۔ وہ اور بھابھی دونوں صحن میں ہی بیٹھی انکی منتظر تھیں۔۔۔ دونوں بیٹوں کے شکستہ وجود اور جھکے کندھے انہیں ایک بہت بڑی انہونی کی تصدیق کر گئے۔۔۔ ایمان کہیں نہیں تھی۔۔۔ پولیس میں رپورٹ چوبیس گھنٹوں بعد ہونی تھی۔۔۔ اور پولیس میں رپورٹ کرنا مطلب پورے شہر میں اپنی بدنامی کا ڈھنڈورا پیٹنا۔۔۔
عقل سمجھ سے بالاتر تھا یہ سب۔۔۔ آج تک ایسا نا ہوا ۔۔ پھر آج ہی کیوں۔۔۔
کیا ایمان کی کہیں انوالمنٹ تھی۔۔۔ کئ سوال خودبخود جنم لے رہے تھے۔۔۔ یہاں پر ماں چٹخ چٹخ گئ۔۔۔ انکی بیٹی ایسی نا تھی کے بھائیوں کے سروں پر خاک ڈال جاتی۔۔۔ ضرور اسکے ساتھ کوئی حادثہ ہوا تھا۔۔۔ مگر حادثہ محض اسی کے ساتھ ہونا تھا۔۔۔ مگر کیسے۔۔۔ آج تک تو نا ہوا حادثہ۔۔۔
کئ سوال تھے۔۔۔ لیکن جواب کہیں نا تھا۔۔۔ فلحال تو وہ. سب محض بات کور کرنے کی کوشیش کر رہے تھے کے یہ بات باہر نا پھیلے۔۔۔ کیونکہ اگر یہ بات باہر پھیلتی تو نا صرف انکے بلکہ ایمان کے اپنے حق میں بہت بری ثابت ہوتی۔۔۔ لوگ اس سے جینے تک کا حق چھین لیتے۔۔۔۔
****
وہ ابھی تک وہیں نیم جان سی زمین پر بیٹھی صوفے کی سیٹ پر سر رکھے ہوئے تھی۔۔۔ صبح والا بے داغ شفاف سفید یونیفارم جگہ جگہ سے داغدار ہو گیا تھا۔۔۔ دفعتاً دروازہ کھلا اور زلیخہ بی بی اندر داخل ہوئی۔۔۔
یہ لو لڑکی یہ لباس پہن کر تیار ہو جاو۔۔۔ کچھ ہی دیر میں تمہارا خان کیساتھ نکاح ہے۔۔۔ وہ اسکے پاس آتی وہ لباس اسکے پاس صوفے پر رکھتی گویا ہوئی۔۔۔ ایمان جھٹکے سے سیدھی ہوتی اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔ شہد رنگ آنکھوں میں حیرتوں کے سمندر جنم لینے لگے تھے۔۔۔۔
اسنے ایک حیرت زدہ نگاہ زلیخہ کو دیکھا اور دوسری نگاہ آنکھوں کو خیرہ کرتے اس سرخ لباس کو۔۔۔ کیا واقع یہ سچ تھا۔۔۔
جلدی تیار ہو جاو۔۔۔ خان کو انتِظار کرنے کی عادت نہیں۔۔۔
زلیخہ کے جانے کے بعد اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے وہ لباس تھامتے کھولا۔۔۔ وہ ایک بہت خوبصورت اور جدید طرز کا لباس تھا۔۔۔
وہ اپنے شکستہ وجود کو اکٹھا کئے اٹھی اور واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔ دل ایک دم خالی خالی سا ہو گیا تھا۔۔۔ منہ ہاتھ دھو کر اسنے لباس تبدیل کرتے اپنا عکس آئینے میں دیکھا۔۔۔ یاسیت زدہ کملایا چہرا اور چہرے پر چھایا حزن بھی اس لباس کے ہمراہ اسے مزید خوبصورت بنا رہا تھا۔۔۔
خان کی جانب سے بے آبرو ہونے کا مسلہ حل ہوا تو اسے اب ماں اور بھائیوں کی فکر کھائے جانے لگی۔۔۔ جانے ان لوگوں کا اسکی گمشدگی میں کیا حال ہو رہا ہوگیا۔۔۔
بھاری دل کے ساتھ وہ ہم رنگ آنچل سر پر درست کرتی باہر نکلی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں خان کے ہمراہ ڈرائیںگ روم میں چند گواہاں کی موجودگی میں اسکا نکاح خان سے قرار پایا۔۔۔ نکاح کے بعد وہ مفلوج ہوتی حسوں کے ساتھ وہیں بیٹھی تھی جیسے سب کچھ حالات کے ڈھارے پر چھوڑ چکی ہو۔۔۔ دفعتا سب لوگوں کے وہاں سے نکلنے کے بعد چند لمحوں بعد امجد واپس وہیں ڈرائینگ روم میں آیا۔۔۔
خان یہ تینوں نکاح نامے۔۔۔ اسنے تینوں نکاح نامے خان کی جانب بڑھائے۔۔۔ جسے اسنے چہرے پر نہایت پر اسرار مسکراہٹ سجائے پکڑا اور جیب سے لائٹر نکالتا انہیں نظر آتش کرتا اس نکاح کا ہر ثبوت مٹانے لگا۔۔۔۔
ایمان تڑپ کر سیدھی ہوئی اور بھرائی حیرت زدہ نگاہوں سے ایک دفعہ خان کو اور دوسری دفعہ نظر آتش ہوتے انکے نکاح کے ثبوت کو دیکھنے لگی۔۔۔
ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد جب تیسرا نکاح نامہ بھی نظر آتش ہونے لگا تو وہ تیزی سے خان کی جانب بڑھی اور اسکا لائٹر تھاما ہاتھ بازو سے پکڑ گئ۔۔۔
خان کے ساتھ ساتھ امجد نے بھی چونک کر اسے دیکھا۔۔۔ اتنی کیا جلدی ہے خان۔۔۔ یہ آپ ہی کے پاس ہے نا۔۔۔ پلیز اسے کم از کم تب تک رہنے دیں جب تک میں اپکے نکاح ہوں۔۔۔ جب چھوڑ دیں گے تب اسے بھی مٹا دینا۔۔۔ اسکی التجائی خدشات سے لرزتی آواز پر ناجانے کیوں وہ مسلسل اسے یک ٹک دیکھتا رہا یوں کے ایمان کی پلکیں حیا کے بھاڑ سے جھکتی چلی گئیں۔۔
ان کی بات پر کان ڈھرنے کی ضرورت نہیں خان۔۔۔ آپ۔۔۔
امجد نے کچھ کہنا چاہا جب وہ ایمان کی ہی جھکی نگاہوں کی جانب دیکھتا ہاتھ اٹھاتا اسے خاموش کروا گیا۔۔۔ یہ لو امجد سمبھالو اسے۔۔ جب کہوں گا تب جلا ڈالنا۔۔۔۔۔
جانے کیوں وہ اس وقت اسکی بے بس التجا ٹال نہیں سکا تھا ۔۔۔ تبھی نکاح نامہ اور لائٹر امجد کی جانب اچھالتا گویا ہوا۔۔۔
اور تم۔۔۔ امجد کے بعد اب وہ فرصت سے ایمان کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ تمہاری خواہش پوری ہوئی۔۔۔ میں نے تمہاری خواہش کا احترام کیا۔۔۔ اب میری باری۔۔۔ تمہارا فرض ہے کے اب تم میری خواہش کا حترام کرو۔۔۔ وہ اسے پرشوق نگاہوں سے دیکھتا بنا اسے مزید کچھ کہنے کا موقع دئیے اسکی کلائی تھام کر اسے کمرے کی جانب لیجانے لگا جبکہ وہ کچھ کہنے کی چاہ میں لب بھینچتی اسکے ساتھ گھسیٹتی چلی گی۔۔۔
******
شامیر اس وقت نک سک سے تیار ہوٹل سویٹ کے اس شاندار سے کمرے میں صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا موبائل استعمال کر رہا تھا۔۔۔
پاس ہی آئینے کے سامنے کھڑی پروشہ بال ڈرائر کرنے کے بعد انہیں سٹریٹ کر رہی تھی۔۔۔ ڈرایسنگ ٹیبل کے سامنے جابجا کاسمیٹکس پراڈکٹس بکھرے پڑے تھے۔۔۔
اس روز شامیر نے خود سے وعدہ کیا تھا کے وہ پوری ایمانداری سے اس رشتے کو لے کر چلے گا۔۔۔ اور وہ پوری کوشیش بھی کر رہا تھا۔۔۔ لیکن ہر بار کچھ ایسا ہو جاتا کے شامیر کا دل پروشہ کی جانب سے کھٹا ہو کر رہ جاتا۔۔۔
اسنے موبائل سکرول کرتے ایک اچیٹتی نگاہ پروشہ کی جانب ڈالی۔۔۔ جو اس وقت سلیو لیس گھٹنوں سے نیچے اور ٹخنوں کے کچھ اوپر تک آتے گاون میں ملبوس تھی۔۔۔
اسے بے ساختہ اپنے ہنی مون کا پہلا دن یاد آیا جس روز سوئیزلینڈ آنے کے بعد وہ پہلی دفعہ باہر گھومنے جا رہے تھے تب بھی وہ لانگ سکرٹ پر سلیو لیس ناف تک آتی چست شرٹ میں ملبوس تھی۔۔۔
پروشہ تم پلیز اپنی ڈریسنگ تبدیل کر لو۔۔۔ میں تمہیں یوں اپنے ساتھ باہر لیجاتے کمفرٹیبل نہیں۔۔۔ وہ اسکے قریب آتا نہایت نپے تلے الفاظ میں اپنا مدعا بیان کر گیا۔۔۔
وھاٹ۔۔۔
وہ تیورا کر اسکی جانب پلٹی۔۔۔ اوہ کم آن شامیر کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔ تم اسقدر بیک ورڈ ہو گے میں تصور تک نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ ایسی پابندیاں آج تک میرے باپ نے مجھ پر نہیں لگائیں۔۔۔ وہ تمسخرانہ ہسی۔۔۔ شامیر لب بھینچتے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
اور پلیز تم بھی ایسی چیپ اور تھرڈ کلاس پابندیاں مجھے پر عائد کرنے سے پہلے سوچنا ضرور۔۔۔ کیونکہ میں نہیں مانوں گی۔۔۔ وہ کھلکھلا کر ہستی بلش آن لگانے لگی۔۔۔
شامیر گہری سانس بھر کر رہ گیا۔۔۔وہ دن اور آج کا دن شامیر نے اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا تھا۔۔
اور کتنی دیر لگے گی پروشہ۔۔۔ وہ موبائل سے نگاہیں ہٹاتا اسکی جانب دیکھتا مستفسر ہوا جو بال سٹریٹ کر کے انکی ٹیل پونی بناتی چہرے کے آگے سے چند لٹیں نکال کر انہیں پن آپ کئے اب تیزی سے چہرے پر میک آپ کر رہی تھی۔۔۔
اوہ ہو بے بی کم سے کم بھی تیس سے پینتالیس منٹ۔۔ وہ شیشے کے سامنے جھکی مہارت سے آئی میک آپ کر رہی تھی۔۔۔
دفعتاً شامیر کے موبائل کی بپ بجی۔۔۔ اسنے پروشہ سے نگاہیں ہٹاتے موبائل کی جانب دیکھا اور اسکے چہرے پر بڑی خوبصورت سی مسکراہٹ ابھری۔۔۔
اوکے بے بی۔۔۔ ٹیک یور ٹائم۔۔۔ میں تب تک ایک فون کال رسیو کر کے آیا۔۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتا کمرے سے نکل گیا جبکہ پروشہ شانے اچکا کر رہ گئ۔۔۔۔
اوکے پھر آج ہمیں شاپنگ بھی کرنی ہے عدنان بھائی اور ذوہیب بھائی کے بچوں کے لئے ۔۔۔
کمرے سے نکلتے نکلتے اسے پیچھے سے پروشہ کی آواز سنائی دی تو وہ اسے تھمبز آپ کرتا باہر نکل آیا۔۔۔
*****
خان کی آنکھ آج پھر سے بہت خوبصورتی سے کئ جانے والی تلاوت پر کھلی۔۔۔ یہ آواز دل کے رستے روح میں اترتی محسوس ہوتی تھی۔۔۔ وہ جو ایمان کو محض ایک رات کے لئے لایا تھا آج تیسرے دن بھئ شب و روز اسکی سنگت میں گزارنے کے بعد بھی دل اسکی قربت سے داستبرداری کے لئے آمادہ نا تھا۔۔۔
مگر رات ہی اسے امجد کی جانب سے مودبانہ التجا موصول ہوئی تھی کے اس سے زیادہ وہ اس لڑکی کے ساتھ وقت گزارنا افورڈً نہیں کر سکتا۔۔۔ اسکی یونی مس ہو رہی تھی اب اسکے اپنی دنیا میں لوٹ جانے کا وقت ہوا جاتا تھا۔۔۔
وہ کسلمندی سے بیڈ کراون سے ٹیک لگاتا نیم دراز سا یک ٹک سامنے صوفے پر بیٹھی مکمل یکسوئی سے قرآن پاک کی تلاوت کرتی ایمان کو دیکھنے لگا۔۔۔ وہ اس وقت گرے اور گولڈن کلر کی فراک میں ملبوس تھی حجاب کے ہالے میں نکھری نکھری سے مزید دلکش لگ رہی تھی۔۔ اسکا چاندنی بکھیرتا سراپا ہر بار ہی اسے کسی مقناطیسیت کی مانند اپنی جانب کھینچ لیتا تھا۔۔۔
یہ اسکی پہلی دن سے ہی روٹین تھی کے وہ صبح فجر کی نماز ادا کرتی اونچی آواز میں تلاوتِ قرآن پاک کرتی تھی۔۔۔ اور تقریباً روز ہی اسکی آواز سن کر خان کی آنکھ کھل جاتی۔۔۔ وہ جو نیند میں زرا سا خلل پڑنے پر زمین و آسمان ایک کر دیتا تھا۔۔۔ اب اس تلاوت کی آواز سے آنکھ کھلنے پر بنا کچھ بولے چت لیٹا اسے سنتا رہتا تھا اور کئ دفعہ تو وہ اسے تلاوت مکمل کرنے پر دوبارہ تلاوت کرنے کی فرمائش بھی کر چکا تھا۔۔۔ اسکی آواز ہی اتنی پر تاثیر تھی۔۔۔
اب بھی وہ تلاوت مکمل کرتی دعا مانگ کر قرآن پاک کو جزدان میں لپیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی اسے بک شلف پر سب سے اوپر رکھ کر پلٹی ہی تھی جب خان کو اپنے پیچھے کھڑے دیکھ وہیں رکتی نگاہیں جھکا گئ۔۔۔ وہ قدم قدم اسکے قریب آیا اور یک ٹک اسکے کومل صبیح چہرے کو دیکھتے اسنے ہاتھ بڑھا کر اسکا حجاب کھولتے بالوں کو کیچر کی گرفت سے آزاد کیا۔۔۔ یوں کے شہد رنگ بال پشت پر بکھرتے اسکے چہرے کا احاطہ کر گئے۔۔۔
تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔ خان نے اسکے بال مٹھی میں بھرتے انہیں سونگھا اور گہری سانس بھری۔۔۔
وہ ہنوز نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔۔ بلکہ تم پوری کی پوری ہی بہت خوبصورت ہو۔۔۔ اتنی کے تمہارا نشہ اترنے کی بجائے دن با دن چڑھتا ہی جا رہا ہے۔۔۔ وہ سرگوشانہ گویا ہوتا قہقہ لگا کر ہسا۔۔۔
مگر کیا کیا جا سکتا ہے۔۔۔ دل آمادہ نہیں اس دوری پر لیکن مجبوری ہے۔۔۔ تمہارا میرا ساتھ یہیں تک تھا۔۔۔ اس لئے تم ناشتے کے بعد تیار ہو جانا۔۔۔ جہاں کہو گی امجد تمہیں چھوڑ دے گا۔۔۔ بٹ ٹرسٹ می۔۔۔ یہ دن میری زندگی کے سب سے خوبصورت دن تھے جو تمہاری سنگت میں گزرے۔۔۔
خان دلفریبی سے اس میں کھویا بول رہا تھا۔۔۔ جبکہ ایمان نے فق پڑتی رنگت کے ساتھ شہد رنگ خوفزدہ نگاہیں اٹھا کر خان کو دیکھا۔۔۔ اسکی آنکھیں اسکے بالوں کی ہم رنگ تھی۔۔۔ دودھیا رنگت پر بھورے بال اور شہد رنگ آنکھیں متضاد خوف بھری آنکھیں وہ کوئی خوفزدہ ہرنی ہی لگ رہی تھی۔۔۔
ایک لمحے میں اسے مستقبل کے ناگ ڈسنے لگے تھے۔۔۔ ننھا سا دل کپکپا کر رہ گیا۔۔۔
*****
