Raah e Haq by Umme hani NovelR50006 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
شوہر کیساتھ آئی ہو کیا ایمان۔۔۔ ماں اسے خود سے الگ کرتیں یاسیت سے گویا ہوئیں۔۔ ایمان کو لگا ماں کے اس سوال پر اسکا دل پھٹ جائے گا۔۔۔ وہ آنسو بہاتی بنا کچھ بولے خاموش ہی رہی۔۔۔ کیا کہتی۔۔۔ سمجھ ہی نا آیا۔۔۔
کیوں کیا تم نے ایسا ایمان۔۔۔ ماں سے تو شئیر کرتی بچے۔۔۔ تم نے تو میری ناک کے نیچے سے اونٹ تک گزار ڈالا اور کانوں کان ہوا تک نا لگنے دی۔۔۔
ایک بار نا سوچا ماں کے بارے میں ۔۔۔ اپنے بھائیوں کے بارے میں۔۔۔ ماں بستر پر دھتیں بے بسی سے رو دیں۔۔۔
جانتی ہو حامد گھر سے باہر تک نہیں نکلتا۔۔ لوگ فقرے کستے ہیں کے اسکی بہن فلاں کیساتھ بھاگ گئ۔۔۔ بہت تکلیف میں ہیں میرے دونوں بچے۔۔۔
اور حامد تو سب سے زیادہ جذباتی ہے۔۔۔ بہت اثر لیا ہے اسنے تمہاری اس حرکت کا۔۔۔ ماں کے لہجے میں ملال تھا۔۔۔ ایمان سے سر اٹھا پانا محال ہوا۔۔
دل کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔۔۔ پہلے سے دکھی دل مزید دکھی ہوگیا۔۔۔۔
ماں کیا آپکو بھی اپنی بیٹی ایسی لگتی ہے جو ماں اور بھائیوں کا مان توڑتی انکے سروں پر خاک انڈیل جائے۔۔۔ شدت غم سے اسکی آواز بوجھل تھی۔۔
نا۔۔۔۔ میرا دل ابھی تک نہیں مانتا کہ میری معصوم بچی ایسا کچھ کر سکتی ہے۔۔۔ مگر حقیقت سے منہ کیسے موڑوں۔۔۔ جو تن کر میرے سامنے آن کھڑی ہوئی ہے۔۔۔ ماں نے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا ماں۔۔۔ آپکی بیٹی بے قصور ہے۔۔۔ بس۔۔۔ بس یہ سمجھ لیں کے قسمت کی ستائی ہوئی ہوں۔۔۔ وہ ماں کے شانے پر سر ٹکاتی سسکتی ہوئی ماں کو خود پر بیتی ہر داستان حرف با حرف سناتی چلی گئ۔۔۔۔
بس اسکی برداشت اتنی ہی تھی۔۔۔ وہ سب کی نفرتیں برداشت کر سکتی تھی مگر ماں کی نہیں۔۔۔ اور بڑی بات وہ ماں سے کچھ چھپا بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔ ماں سے بھی چھپاتی تو شاید مر جاتی۔۔۔
تھک گئ ہے آپکی بیٹی ماں۔۔۔ مجھے لگتا ہے غم سے میرا سینہ پھٹ جائے گا۔۔۔ اسکی آواز کا کرب ماں کا دل چیر گیا۔۔۔ اور تھرا تو وہ ویسے ہی گئیں تھیں بیٹی کی آب بیتی سن کر۔۔۔
آپ سے دل ہلکا کئے بنا نہیں رہ سکتی تھی ماں لیکن آگے یہ بات میرے بھائیوں تک نا جائے۔۔۔ ورنہ بہن کا بھاگ کر نکاح کرنا وہ کسی نا کسی طرح قبول کر گئے۔۔۔ حقیقت قبول نہیں کر پائیں گے۔۔۔ اور سچی بات ہے ماں ہم خان سے ٹکرا نہیں سکتے۔۔۔ اور جو بھی ہے ہوں تو انکے نکاح میں ہی نا۔۔۔۔ اس لئے اس بات کو کم از کم تب تک بھائیوں تک نہیں پہنچنا چاہیے جب تک یہ وقت اور حالات کی گرد تلے دبتی اپنا اثر کھو نہیں جاتی۔۔۔ کیونکہ گرے مردے کوئی نہیں اکھارتا البتہ ابھی بھی وقوع پذیر ہوئے واقعہ کو بہت اچھالا جاتا ہے۔۔۔
ماں بیٹی کی باتیں سن اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ وقت اور حالات نے انکی معصوم سی بچی کو کتنا بڑا کر دیا تھا کے وہ اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے لگی تھی۔۔۔۔
یہ ابھی تک یہیں ہے ماں۔۔۔۔ گئ نہیں۔۔۔ دفعتاً بھیا اور بھابھی واپس ماں کے کمرے میں آئے تو ابھی تک ایمان کو وہیں ماں کے پاس بیٹھے دیکھ بھیا تنفر سے گویا ہوئے۔۔۔
وہ کہیں نہیں جائے گی۔۔۔ اپنی ماں کے پاس بیٹھی ہے وہ۔۔۔ جسے اس سے مسلہ ہے وہ خود جا سکتا ہے۔۔۔
ماں ایک دم اسکی ڈھال بنتیں کرخت لہجے میں گویا ہوئیں یوں کے بھیا کے ساتھ ساتھ بھابھی بھی ماں کی اس چشم پوشی پر انہیں دیکھ کر رہ گئی۔
چلو انسہ۔۔۔ سجاد ایمان کو غصے سے گھورتا بیوی کا ہاتھ تھامے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
اسکے جاتے ہی ایمان کی جان پر بن آئی۔۔۔۔
امی آپکو بھائی سے یوں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔
سب کی فکر کرنا چھوڑ دو میری بچی۔۔ مجھے بتاو تم نے کھانا کھایا۔۔۔ ماں نے کھینچ کر اسے سینے سے لگاتے محبت سے اسکے بال سہلائے۔۔۔ بیٹی پر گزری وقت و حالات کی ستم ظریفی پر ماں کا کلیجہ پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
ایمان کا دل بھر بھر آیا۔۔۔ بلاشبہ یہ فکر محض ماں کو ہی ہوتی ہے۔۔۔ اسنے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
اچھا چلو آنسو صاف کرو۔۔۔ وہ ڈبہ اٹھاو اس میں کھانا ہے آو دونوں کھانا کھائیں۔۔۔
ماں کے کہنے پر وہ آنسو صاف کرتی وہ ڈبہ اٹھا لائی۔۔۔
*****
ساری رات ماں بیٹی نے ایک دوسرے کے ساتھ رازونیاز کرتے آنکھوں میں کاٹی۔۔۔ ماں کو رہ رہ کر بیٹی کے مستقبل کی فکر کھائے جا رہی تھی۔۔۔
کنزل ایمان۔۔۔ اس سے تو بہتر تھا کے تم اس سے طلاق لے لیتی۔۔۔ کم از کم میں تمہاری کہیں اور شادی کر کے تمہیں محفوظ ہاتھوں میں سونپ کر پرسکون تو ہو پاتی۔۔۔ وہ ماں کے بستر پر ماں کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی ۔۔۔ اور ماں تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھیں اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتیں کھوئی کھوئی سی بول رہی تھیں۔۔۔
بیٹی کو پا کر انکا بی پی بھی کنٹرول ہونے لگا تھا۔۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ماں۔۔۔ ابھی سب نے مجھے خان کے نکاح میں ہونے کے باوجود قبول نہیں کیا۔۔۔ طلاق لے کر آتی تو ویسے ہی سنگسار کر دیتے سب مجھے۔۔۔ اور رہ گئ بات کہیں اور شادی کی ۔۔۔ تو یہ مردوں کا معاشرہ ہے۔۔ کون قبول کرتا تین دن گھر سے باہر رہنے والی لڑکی کو۔۔۔ اسکا دل کرلا اٹھا۔۔۔
ویسے بھی کہتے ہیں خدا کے ہر کام میں کوئی نا کوئی مصلحت ہوتی ہے جو انسانوں کی عقل سمجھ سے بالاتر ہوتی ہے۔۔۔ وہ تحمل سے بولی۔۔۔
اور ماں کو قبول کرنا پڑا کے حالات و واقعات نے انکی معصوم اور چھوٹی سی بیٹی کو یکدم ہی عمر سے بہت بڑا اور سمجھدار بنا دیا ہے۔۔۔۔
صبح تک ماں کو ڈسچارج مل گیا۔۔۔ دونوں بھائی ماں کو ہسپتال لینے آئے تو سامنے ماں کے ساتھ ایمان کو بیٹھا دیکھ انکا حلق تک کڑوا ہو اٹھا۔۔۔ یہ لڑکی اسقدر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرے گی وہ تصور تک نا کر سکتے تھے۔۔۔
انتہا تو تب ہوئی جب ماں نے انکے ساتھ جانے سے صاف انکار کر ڈالا۔۔۔
میں ایمان کے ساتھ اسکے گھر جا رہی ہوں۔۔۔ حامد تم رات میں مجھے وہاں سے لے آنا۔۔۔
میں ہرگز کسی کے گھر آپکو لینے نہیں آوں گا۔۔۔ ماں کی بات پر وہ غصے سے اچھل پڑا۔۔۔
مت آنا گھر۔۔۔۔ باہر تک آ جانا ۔۔۔ میں خود ہی باہر آ جاوں گی۔۔۔ ماں نے اسکے غصے کی مطلق پرواہ نا کرتے ناک سے مکھی اڑائی اور کنزل کا بازو تھامتیں کمرے سے نکل گئیں۔۔۔ جبکہ پیچھے دونوں بھائی انکی پشت تکتے رہ گئے۔۔۔
ماں کو ایمان سے پیار تھا۔۔۔ وہ جانتے تھے۔۔۔ ان سب کی ہی ایمان میں جان تھی۔۔ لیکن بیٹی کے اتنے بڑے کارنامے کے بعد وہ اتنی آسانی سے اسے معاف کر چکیں تھیں یہ بات سب کی عقل سمجھ سے بالاتر تھی۔۔۔
*****
گھر تو تمہارا شاندار ہے ایمان۔۔۔ ماں لاوئنج کے خوبصورت مخملی صوفے پر بیٹھیں گھر کو ناقدانہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
جبکہ ایمان سامنے ہی کچن میں لنچ کی تیاری کرتی ماں کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔
چلو مالی تنگی تو نہیں آنے والی تمہیں۔۔۔ لیکن پھر بھی پیسہ ہمسفر کی کمی پوری نہیں کر سکتا۔۔۔ بات کرتے کرتے وہ افسردہ ہو جاتیں۔۔۔
ایمان نے گہرا سانس لیتے پیاز کاٹنے کے بعد پلاو بنانا شروع کیا۔۔۔
تم اکیلی کیسے رہو گی ایمان۔۔۔ ماں کو مسلسل اسی کی فکر کھائے جا رہی تھی۔۔۔
اکیلی کیوں ماں۔۔۔ آپ آتی جاتی رہنا نا۔۔۔ چکر لگاتی رہنا میرے پاس۔۔۔
تم ایک کام کرو۔۔۔ تم چلو واپس میرے ساتھ گھر۔۔۔ تمہارے بھائیوں کو میں خود دیکھ لوں گی۔۔ بولیں گے غصہ کریں گے نا۔۔۔ تم نظر نداز کر دینا۔۔۔۔ کچھ دنوں بعد خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔۔۔ وہ بھی بے بس ہیں ۔۔۔ کیا کریں۔۔۔ دنیا جینے بھی تو نہیں دیتی۔۔۔ اور وہ حقیقت سے بھی تو نا آشنا ہیں نا۔۔۔ ماں کا ذہن انہی باتوں میں الجھ کر رہ گیا تھا۔۔۔ اور کیوں نالجھتا۔۔۔ ماں تھیں۔۔۔ انہیں تو ساری اولاد کی ہی فکر تھی۔۔۔۔
نہیں ماں۔۔۔ مجھے یہ قبول کرنے میں رتی برابر عار نہیں کی میری عزت خان کے نام سے۔۔۔ انکے دم سے ہے۔۔۔ لوگوں نے مجھے قبول بھی میرے شوہر کے دم سے کیا ہے۔۔۔
ابھی تو ایک بھرم قائم ہے۔۔۔ اسے قائم ہی رہنے دیں۔۔ سب کی نظر میں میں خان کے سنگ اپنا گھر بسا رہی ہوں۔۔۔ لوگوں کی اس خوش فہمی کو قائم رہنے دیں۔۔۔ کیونکہ جب تک انکی یہ خوش فہمی قائم ہے۔۔۔ میں سر اٹھا کر اس معاشرے میں جی سکتی ہوں۔۔ کوئی ٹیرھی نظر سے میری جانب دیکھنے کا سوچے گا بھی نہیں۔۔۔
لیکن جیسے ہی لوگوں کی یہ خوش فہمی دور ہوئی اور وہ حقیقت سے آشنا ہوئے۔۔۔ سوچ ہے آپکی ماں کہ زندگی میرے لئے کتنی مشکل ہو جائے گی۔۔۔
لوگوں کی سب سے پہلی نظر میری رقم اور اس اپارٹمنٹ پر ٹکے گی۔۔۔ اور اکیلی لڑکی تو ویسے بھی سب کے لئے تر نوالہ ہوتی ہے۔۔۔ مجھے اپنانے کے لئے بہت ہاتھ بڑھیں گے۔۔۔ مگر درحقیقت انکا مقصد کیا ہوگا آپ باخوبی جانتی ہیں۔۔۔ اس لئے فلحال اس معاملے کو ایسے ہی رہنے دیں۔۔۔
ایمان کے لہجے میں ٹھہراو تھا۔۔۔ جیسے وہ یہ سب باتیں سوچ چکی ہو۔۔۔
ماں کو اسکی دور اندیشی کا قائل ہونا پڑا۔۔۔
لنچ کرنے کے بعد ماں نے اسکے ساتھ جا کر اسے اپنے نام سے سم اشو کروا کر دی۔۔۔
ایمان کالج دوبارہ شروع کر لو بچے۔۔۔ مصروف ہو جاو گی تو دل لگا رہے گا تمہارا۔۔۔۔ ۔ شام کی چائے پیتے یکدم یاد آنے پر ماں نے اسے مشورہ دیا۔۔۔
میں بھی یہ ہی سوچ رہی ہوں ماں۔۔۔۔ کیا آپ مجھے گھر سے میرا سامان مطلب کتابیں اور یونیفارم وغیرہ بھیج سکتی ہیں۔۔۔ وہ جھجھک کر گویا ہوئی۔۔۔
ہاں کیوں نہیں۔۔ بلکہ حامد کو کہتی ہوں کے وہ مجھے لینے کے لئے آتا ہوا تمہارا سامان لے آئے۔۔۔
وہ لے آئیں گے کیا۔۔۔ بھائی کی نیچر سمجھتے وہ لب چباتی گویا ہوئ۔۔۔
لائے گا۔۔۔ ضرور لائے گا۔۔۔ ماں پریقین تھی۔۔۔
ٹھیک ہے پھر میں زخرف کو بتا دیتی ہوں مجھے کیا کیا چاہیے اور وہ کہاں کہاں پڑا ہے۔۔۔ وہ میرا سامان پیک کر دے گی۔۔۔ اسکے کہنے پر ماں سر ہاں میں ہلا گئیں۔۔۔
*****
حامد اپنے کمرے سے نکلتا باہر صحن میں آ رہا تھا جب ایمان کے کمرے کا کھلا دروازہ اور جلتی لائٹ دیکھ ٹھٹھک کر رکتا اس جانب بڑھا۔۔۔
لیکن کمرے میں موجود زخرف کو دیکھ یکدم اسکے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھنے کے ساتھ ساتھ اسکا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔۔۔
تم۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔ وہ بیڈ کے وسط میں چھوٹا سا سیاہ بیگ کھولے اس میں ایمان کا یونیفارم اور اسکی کتابیں رکھ رہی تھی جب وہ اسکے سر پر پہنچتا اسکی بازو کھینچ کر اسکا رخ اپنی جانب کرتا غرایا۔۔۔
اس اچانک افتاد پر زخرف نے تلملا کر اسے دیکھا۔۔۔ جو رف سے ٹراوز شرٹ میں دوپٹی کی چپل پہنے غیض و غضب سے بھرپور اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
ماتھے پر بکھرے بال۔۔۔ اور سرخ آنکھیں جو اسکے کئ راتوں کے رتجگے کی غماز تھیں۔۔۔ اس گھر پر ایک قیامت ٹوٹی تھی۔۔۔ جس کے کچھ نا کچھ اثرات سب پر نمودار ہوئے تھے لیکن سب سے زیادہ اثر اسی نے قبول کیا تھا۔۔۔۔
مجھے ایمان نے فون کیا تھا اسکی چیزیں پیک کرنے کے لئے۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔ جسٹ شٹ آپ۔۔۔ فوراً سے اپنا وجود اور گندی ذہنیت لئے یہاں سے دفع ہو جاو۔۔۔ تم اور تمہاری گھٹیا لفاظی۔۔۔ اسی کا نتیجہ ہے جو لڑکیاں فینٹسی ورلڈ سے امپریس ہوتی باغی ہو کر ایسے گھٹیا قدم اٹھا جاتی ہیں۔۔۔ تمہاری گھٹیا لفاظی کا کچھ تو اثر ہو گا نا ان کچے ذہنوں پر۔۔۔ یکدم ہی وہ پھٹ پڑا۔۔۔۔
اوہ۔۔۔ تو تم۔۔۔ اپنی بہن کی بغاوت کو اب میرے لکھے سے تعبیر کرو گئے۔۔۔ ایم امپریسڈ۔۔۔ وہ تالی بجاتی اسکی آنکھوں میں دیکھتی طنزیہ گویا ہوئی۔۔۔ حامد کے نارواں رویے کے باعث وہ لمحوں میں تمام لحاظ مروت بھول گئ۔۔۔۔
واہ۔۔۔ میری ایک سال کی لکھائی میں اتنی طاقت ۔۔۔ کے تم لوگوں کی سولہ سالا تربیت پر ہاوی ہوگئ۔۔۔ ڈیٹس گریٹ۔۔۔ پھر تو میں واقعی بہت عمدہ لکھاری ہوئی۔۔۔
وہ کیوں دبتی تبھی اسے اسکے رویے کی بدصورتی کا احساس دلانے کو بازو چڑھائے میدان میں کودی۔۔۔
حامد مٹھیاں بھینچتا دانت پیس کر رہ گیا۔۔۔ یہ طعنہ چھوٹا نا تھا۔۔۔ اور انکی بہن نے انہیں کہیں منہ دکھانے لائق بھی تو نا چھوڑا تھا۔۔۔
دفع ہو جاو یہاں سے مس زخرف۔۔۔ اس سے پہلے کے میں تمہارا خون پی جاوں۔۔۔ ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتے وہ غرایا۔۔۔ یوں کے گردن کی رگیں تک واضح ہونے لگیں۔۔۔۔
وہ پورے دل سے مسکرا دی۔۔۔ یہاں رہنے کے لئے آئی بھی نہیں۔۔۔ ویسے بھی میرا کام مکمل ہو گیا تو جا ہی رہی ہوں۔۔ وہ زپ بند کرتی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔ جب جاتی جاتی رک کر پلٹی۔۔۔
ویسے ایک مفت کا مشورہ دوں۔۔۔
حامد نے اسے غصے سے گھورا۔۔۔ ہنڈسم لوگوں کو اتنا غصہ نہیں کرنا چاہیے ورنہ وہ مذید ہنڈسم لگنے لگتے ہے۔۔۔ اور یہ چیز انکے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔ وہ اسے بھرپور تپانے کو آنکھ مارتی جھپاک سے باہر بھاگ گئ۔۔۔
یو۔۔۔ بلڈی۔۔۔۔
گھٹیااااا۔۔۔۔۔ وہ اپنی کاوش میں سو فیصد کامیاب ٹھہری تھی۔۔۔ تبھی وہ تلملا کر اسکے پیچھے لپکتا۔۔۔ اسے چھپاک سے گم ہوتا دیکھ جھنجھلا کر رہ گیا۔۔۔
دفعتاً موبائل پر ہوتی رنگ ٹیون کی آواز سن کر اسنے موبائل جیب سے نکالتے آن کر کے کان سے لگایا۔۔۔
فون ماں کا تھا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف کا مطالبہ سن کر وہ اچھل پڑا۔۔۔ ماں اسے ایمان کا سامان ساتھ لانے کو بول رہی تھیں۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ میں ہرگز ہرگز اس لڑکی کا کوئی سامان ساتھ نہیں لا رہا۔۔۔ آپ باہر نکلیں میں بس پہنچ رہا ہوں وہاں۔۔۔
غصے سے کھولتا وہ کسی صورت ماں کے ہاتھ نا آ رہا تھا۔۔۔
حامد۔۔۔ آگر تم اسکا سامان نہیں لاو گے تو پھر وہ اپنا سامان لینے خود آجائے گی۔۔۔ اور یہ بھی پھر تمہیں گوارا نا ہوگا۔۔۔
وہ ماں تھی اولاد کی تمام دکھتی رگوں سے باخوبی آگاہ تھیں۔۔۔ تبھی اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تو وہ بلبلا کر وہیں تھم گیا۔۔۔
ٹھیک ہے لا رہا ہوں اسکا سامان ۔۔۔ آپ اپارٹمنٹ بلڈنگ سے باہر نکلیں۔۔۔ اور بتا دیں اپنی اس لاڈلی کو کے اپنے قدم ہمارے گھر سے کوسوں دور رکھے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں۔۔۔
وہ واپس پلٹ کر بستر پر پڑا اسکا بیگ اٹھاتا غرایا۔۔۔
ماں کی عادت تھی فون سپیکر پر لگا کر بات کرنا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے کچن میں کھڑی برتن دھوتی ایمان بھائی کی ایک ایک بات سے مستفید ہوئی تھی۔۔۔
تبدیلی کائنات کا معمور ہے۔۔۔ اور اس کائنات کی یہ ہی بات خوش آئندہ ہے کے یہاں کوئی بھی چیز ہمیشہ کے لئےنہیں رہنی۔۔۔نا کسی کی خوبصورتی۔۔۔ نا جوانی۔۔۔ اور نا ہی خوشیاں۔۔۔ بالکل اسی طرح کسی کی اداسی۔۔ اداس بنجر اور دکھتا کرب زدہ دل بھی صدا ایسا نہیں رہنا۔۔۔ اس لئے اسکے یہ مشکل دن بھی ہمیشہ نہیں رہنے والے تھے انشااللہ یہ دن بھی جلد ہی کٹ جائیں گے۔۔۔ وہ دکھی دل کیساتھ کھڑی خود کو دلاسہ دے رہی تھی۔۔۔۔
انشااللہ جلد ہی اسکے بھائی اسے دوبارہ قبول کر لیں گے۔۔۔کیونکہ وقت صدا ایک سا نہیں رہتا۔۔۔ آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر پھسلا جسے اسنے بروقت ہاتھ کی پشت کی مدد سے رگڑ ڈالا۔۔۔
*****
