Raah e Haq by Umme hani NovelR50006 Episode 07
No Download Link
Rate this Novel
Episode 07
کنزل کچن میں شام کی چائے بنانے کیساتھ ساتھ رات کے کھانے کی تیاری بھی کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ سبحان لاوئنج میں بیٹھا سامنے کانچ کے میز پر رکھے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔۔۔ اسکی ذہانت سے بھرپور آنکھین مسکرا رہی تھیں۔۔۔ اسنے ایک مسکراتی نگاہ لیپ ٹاپ کی سکرین پر ڈالنے کے بعد کچن میں کام کرتی ماں کو دیکھا جو بلیک پلازو پر مسٹرد کلر کی شارٹ شرٹ زیب تن کئے مصروف سی کھڑی تھی۔۔۔ سبحان کی جانب اسکی پشت تھی جہاں اسکے بال رف سے جوڑے میں مقید نظر آتے تھے ۔۔۔۔
Mom I have a surprise for you…
وہ مسکراتا ہوا اونچی آواز میں کہتا صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتا دونوں ہاتھ سر کے پیچھے باندھ گیا۔۔۔
رئیلی۔۔۔ اسکی پرجوش آواز پر کنزل اسکی جانب پلٹی۔۔۔ صبیح کومل سے چہرے پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔ وہ میز سے آنچل اٹھاتی دائیں شانے پر ڈال کر چند قدم کچن سے باہر آئی۔۔۔
اور وہ کیا۔۔۔۔
اور تبھی گھر میں ایک طوفان بدتمیزی بھرپا ہوا تھا۔۔۔ ہیوی بائیک کے یکدم اندر آ کر رکنے کے بعد لوہنے کا آہنی گیٹ زور سے بند ہوا ۔۔۔
مام۔۔۔۔ ماممممم۔۔۔۔
Where r u Mom….
لاوئنج کا دروازہ کھولتے ہی ہر جانب زوہان کی پرجوش آواز گھونجنے لگی۔۔۔
خیریت کیا ہو گیا۔۔۔ کنزل حیران ہوتی اسکی جانب بڑھی جو پرجوش سا ماں کی جانب بڑھتا اسے بازو سے تھامے خوشی سے اسے گول گول گھمانے لگا یوں کے گھماتے گھماتے کنزل کے پاوں زمین سے بلند ہوتے ہوتے فضا میں معلق ہوگئے۔۔۔
مام۔۔۔ مام۔۔۔ ایم سو ایکسائٹڈ یار۔۔۔
میں بہت خوش ہوں۔۔۔ بہت خوش بہت خوش۔۔۔۔ وہ خوشی سے جھومتا ساتھ میں اسے بھی گھما رہا تھا۔۔۔
غضب خدا کا زونی ۔۔۔ رک جاو۔۔۔ اتارو مجھے نیچے۔۔۔ زونی رکو۔۔۔ سٹاپ اٹ زونی۔۔۔ زونی۔۔۔
دفعتاً زونی کے یکدم رکنے پر کنزل چکراتا سر تھام گئ۔۔۔
اوہ مام۔۔۔۔
بدتمیز انسان کیا حرکت تھی یہ۔۔۔۔ سبحان نے مسکراتے ہوئے ماں کا بازو تھام کر صوفے پر بیٹھایا۔۔
یار آپ سنیں گی نا تو آپ بھی خوشی سے جھوم اٹھیں گی۔۔۔ زوہاں بھی اسکے اس ہی صوفے کی ہتھی پر دھپ سے بیٹھتا اسکے گرد حصار قائم کر گیا۔۔۔
کنزل نے اسے تاسف سے دیکھا۔۔۔
ماں کو تو کبھی ماں سمجھنا ہی مت۔۔۔
ارررےےےے۔۔۔ چھوٹی سی تو ممی ہے ہماری۔۔۔ زوہان نے اسکا پھولا گال پکڑ کر کھینچا ۔۔۔ کنزل نے رکھ کر ایک چیت اسکے ہاتھ پر رسید کی۔۔۔
مام اس سے گڈ نیوز تو پوچھ لیں۔۔۔ سبحان نے مسکراتے ہوئے نامحسوس انداز میں موبائل کے بیک کیمرے سے یہ منظر کسی کو دیکھایا۔۔۔
جی بتائیے۔۔۔ ایسی کونسی خوشخبری ہے جو میرا بیٹا اسقدر خوش ہے۔۔۔ وہ پل میں مسکراتی اپنے اتھرے بیٹے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی محبت پاش لہجے میں مستفسر ہوئی۔۔۔
گیس واٹ۔۔۔ زوہان نے آئبرو اچکائی۔۔
اممم۔۔ ڈونٹ نو۔۔۔ آپ بتاو۔۔۔۔
اوہ مام۔۔۔ آپ آج کا اتنا خاص دن بھول گئ۔۔۔۔ آج میرا رزلٹ تھا مام۔۔۔ رزلٹ۔۔۔ اسنے رزلٹ پر زور دیا۔۔۔
اوہ۔۔۔ میں واقعی بھول گئ۔۔۔ کنزل نے سر پر ہاتھ مارا۔۔۔
کیا بنا۔۔۔
میرا چہرا دیکھ کر آپکو کیا لگتا ہے کے کیا بنا ہوگا۔۔۔ وہ معصوم سے روشن چہرے پر ایکسائٹمنٹ اور خوشی کی چمک لئے ماں کو مضحمے میں ڈال گیا۔۔۔
نو گیسسز۔۔۔ آپ بتاو۔۔۔ کچھ دیر تک سوچنے کے بعد وہ بال واپس اسکے کورٹ میں پھینک گئ۔۔۔
اوہ مام۔۔۔ وش آپ نے آج صبح سے نیوز ہی دیکھی ہوتی۔۔۔ آپکے بیٹے نے بورڈ میں پہلی پوزیشن لی ہے مام۔۔۔ ایم ویری ایکسائٹڈ۔۔۔ وہ ماں کو ایک مرتبہ پھر سے بازوں سے تھامتا خوشی سے جھنجھوڑ گیا۔۔۔
اوہ ماشااللہ۔۔۔ زوہان۔۔۔ بیٹا بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔ وہ آنکھ میں آئی نمی صاف کرتی بے ساختہ اسکے ماتھے کا بوسہ لے گئ۔۔۔
دو مسکراتی نگاہوں نے کیمرے کی آنکھ سے مسکراتے ہوئے یہ دلفریب منظر دیکھا۔۔۔
اور تم۔۔۔۔۔ یہ سررائز تھا نا۔۔۔ اور صبح سے مجھے بھاپ تک لگنے نا دی۔۔۔
کنزل نے سبحان کی طرف پلٹتے اسکے بازو پر چیت رسید کی۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا۔۔۔ بعجلت موبائل بند کر کے کنزل کی توجہ اسکی جانب مبذول ہونے سے روک پایا۔۔
آپکے لاڈلے کا سرپرائز اس سے پہلے آپکو دے دیتا تو سر نا پھاڑ دیتا یہ میرا۔۔۔
وہ مسکرا کر کھڑا ہوتا بھائی کے گلے لگا۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو تمہیں زوہان۔۔۔ جاو اسی خوشی میں میری نئ شاپنگ سے لے لو جو ڈریس لینا ہے۔۔۔ اسنے فراغ دلی کا مظاہرہ کیا۔۔۔
نہیں بھائی ڈریس نہیں لینا۔۔۔ بس آپکے سبھی آوٹ فٹس پہلی مرتبہ میں نے ہی پہن کر ریلز بنانی ہے۔۔۔ وہ معصوم سی صورت بناتا کان کحجھا کر صوفے پر بیٹھا جبکہ سبحان تاسف سے اسے دیکھتا نفی میں سر ہلا گیا۔۔۔
جاو حان۔۔۔ مارکیٹ سے میٹھائی لاو۔۔۔ ہمارے گھر اتنی بڑی خوشخبری آئی ہے۔۔۔
میٹھائی کے ساتھ کیک بھی لانا۔۔۔ آلمنڈ کریم کیک۔۔۔ ساتھ ہی زوہان نے اپنی فرمائش نوٹ کروائی تو کنزل مسکرا دی۔۔۔
جاو۔۔ جو جو میرا بیٹا کہتا ہے سبھی لے آو۔۔۔ بلکہ آج تو اسکی فیورٹ فاسٹ فوڈ بھی لے آو۔۔۔ وہ مسکرائی۔۔۔ خوشی اسکے لہجے سے ہی عیاں تھی۔۔۔
نہیں فاسٹ فوڈ نہیں مام۔۔۔ آج ہم ساری فیملی ڈنر باہر کرے گی۔۔۔۔ سبحان نے شانے اچکائے۔۔۔
مرضی ہے بھئ تم دونوں کی جیسا دل چاہے۔۔۔ ویل چائے تیار ہونے سے پہلے میٹھائی لے آنا۔۔۔۔
وہ کہتی کچن کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ جہاں چائے ہلکی آنچ پر رکھی ہوئی تھی۔۔۔ باتوں ہی باتوں میں وہ شاید بیٹے کے کہے جانے والے لفظ پوری فیملی پر غور ہی نا کر پائی۔۔۔ مگر زوہاں کی فواًً کان کھڑے ہوئے تھے۔۔۔
پوری فیملی مطلب۔۔۔ ڈیڈ آ رہے ہیں۔۔۔ وہ خوشی و انبساط سے سبحان کی جناب متوجہ ہوا۔۔۔
ششش۔۔۔ سرپرائز ہے۔۔۔
تمہارے سرپرائز کی ایسی کی تیسی۔۔۔ ابھی ڈیڈ کی خبر لیتا ہوں۔۔۔ مجھے تو آج صبح سے ایک ٹیکسٹ تک نا کیا اور تمہارے ساتھ پلانینگز۔۔۔۔
بس کر جاو زونی۔۔۔ انہیں بھنک بھی مت لگنے دینا کے تم انکے سرپرائز سے آگاہ ہو چکے ہو۔۔۔ وہ تمہیں سرپرائز دینے ارجینٹلی اپنا کام چھوڑ کر آ رہے ہیں۔۔۔ یہ تو میں ہوں جو تم سے کچھ چھپا نہیں پاتا۔۔۔۔ سبحان نے اسے سختی سے کہتے آنکھیں نکالیں تو وہ کچھ ڈھیلا پڑا۔۔۔
سریسلی آج رات میرا ڈیڈ کو لوٹنے کا پکا پکا ارادا ہے۔۔۔ زوہان کی آنکھیں چمکیں۔۔۔
محض آج رات ہی نہیں تم ہمیشہ ہی ڈیڈ کو لوٹتے ہو۔۔۔ وہ مسکرا کر سر جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
نہیں ہمیشہ میں اور آج میں فرق ہے نا۔۔۔ آج میں نے انکا سر فخر سے بلند کیا ہے میں آج کا چیف گیسٹ ہوں تو آج ایکسٹرا لوٹنے والا ہوں۔۔۔ وہ چہکا۔۔۔
ویل مام کو پتہ ہے۔۔۔۔ اچانک یاد آنے پر وہ بولا۔۔۔
نہیں انکے لئے بھی سرپرائز ہے۔۔۔ انہیں بتانا مت۔۔۔
وہ جاتے جاتے رکا۔۔۔
اوکے اوکے۔۔۔ پھر تو میں انکے لئے اچھا سا ڈریس سلیکٹ کر کے ساتھ کی میچنگ چیزیں نکالتا ہوں۔۔۔ وہ رازدارانہ انداز،میں کہتا اپنے اور ماں کے مشترکہ کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
باپ کی غیر موجودگی میں وہ اپنے کمرے میں کم اور ماں کے کمرے میں زیادہ پایا جاتا تھا۔۔۔۔ وہ ابھی تک وہی چھوٹا بچہ تھا جسکے بالوں میں انگلیاں چلا کر ماں ہی اسے سلاتی تھی۔۔۔
*****
ایم۔۔۔ ایم سوری خان۔۔۔ مم۔۔۔ میں ۔۔۔میں یہ سب نہیں چاہتی تھی۔۔۔ پتہ نہیں کک۔۔۔ کیسے وہ واس آپکو لگ گیا۔۔۔ اپنے سامنے اس اونچے لمبے بھرپور مرد کو پا وہ دقت سے کھڑی ہوتی اپنا شکستہ وجود لیے کانپتی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔۔ صبح سے اب تک کے حالات و واقعات اسکی سبھی ہمت توڑ چکے تھے۔۔۔ اسکا پسپا انداز دیکھ خان کے ہونٹوں پر ایک جاندار مسکراہٹ ابھری۔۔۔
تو تم نے مجھے جان بوجھ کر نہیں مارا۔۔۔ مسکراہٹ چھپاتا وہ روبدارانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
وہ ایک لاشعوری امر تھا۔۔۔ سر جھکائے اسکی بھرائی آواز ابھری۔۔۔
اسکی شہد رنگ سرخ سوجھی آنکھیں اور ستا ہوا چہرا دیکھ خان کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔مطلب تم اپنے کئے پر پشیمان ہو۔۔۔ خان نے اسے جانچنا چاہا۔۔۔
وہ جھکے سر سمیٹ سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
گڈ۔۔۔ جاو پھر کیا معاف تمہیں۔۔۔ چلو بنا دیر کئے کمرے میں چلتے ہیں۔۔۔ خان نے کہتے اسکی مومی کلائی تھامنی چاہی۔۔۔ جب وہ جھٹکے سے سر اٹھاتی کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹتی پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
آنسو سرعت سے آنکھوں میں جمع ہونے لگے تھے۔۔۔
اب کیا مسلہ ہے۔۔۔ ابھی تو بولا پشیمان ہو اپنے کئے پر پھر۔۔۔ وہ اسے روتا دیکھ کوفت سے بولا۔۔۔
وہ لب بھینچتی شدت سے سر نفی میں ہلا گئ۔۔۔ وہ نہیں کر سکتی جو آپ کرنے کو بول رہے ہیں۔۔۔
ایمان کے کہنے پر وہ گہرا سانس خارج کرتا سنگل صوفے پر بیٹھتا ٹانگ پر ٹانگ جماتا بازو صوفے کی پشت پر پھیلا گیا۔۔۔
دیکھؤ سویٹ ہارٹ۔۔۔ تمہیں یہاں میں اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے لایا ہوں۔۔۔ اور تمہیں برا لگے جا اچھا۔۔۔ مگر حقیقت یہ ہی ہے کے میری خواہش پوری کئے بنا تم اس خوبصورت قید سے نہیں نکل سکتی۔۔۔۔ دیکھو محض ایک رات کی بات ہے۔۔۔ اسکے بعد کل صبح۔۔۔
پلیز۔۔۔ پلیز۔۔ خاموش ہو جائیں۔۔۔ وہ بہت دوستانہ انداز میں اسے سمجھا رہا تھا جب وہ روتے ہوئے چلا اٹھی۔۔۔
دیکھو جتنی نازک اور کومل تم ہو نا۔۔۔ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اور نا ہی تم میری سختی برداشت کر پاو گئ۔۔۔ اسے کچھ دیر تک خاموشی سے دیکھنے کے بعد وہ سخت لہجے میں گویا ہوا یوں کے ایمان کو اپنی ریڈھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پھیلتی محسوس ہوئی۔۔۔
اس لئے۔۔۔ چبا چبا کر کہتا وہ رکا۔۔۔ مجھے سختی پر مجبور نا کرو۔۔۔ اور میرے ساتھ تعاون کرو۔۔۔ ورنہ۔۔۔ ٹیک چھوڑ کر سیدھا ہوتے اسنے اپنی دونوں کہنیاں دونوں گھٹنوں پر رکھیں اور ہاتھ باہم پھنساتا آگے کو جھکا۔۔
اور ایمان کی ہمت بس یہیں تک تھی۔۔۔ اسکا سخت لہجہ ہی اسے کپکپانے پر مجبور کر رہا تھا کجا کے اسکی سختی۔۔۔
وہ بھاگتے ہوئے اسکی جانب لپکی اور اسکے سامنے دوزانو بیٹھتی لجاہت سے اسکے دونوں ہاتھ تھام گی۔۔۔
مجھ سے نکاح کر لیں خان۔۔۔ مجھے خود پر حلال کر لیں۔۔۔ مجھے یوں داغدار نا کریں۔۔۔ اسکے ہاتھ اپنے لرزتے ہاتِوں میں تھامے وہ گھگھیائی۔۔۔
ا
وھاٹ۔۔۔ اسنے بے طرح ایمان کے ہاتھ جھٹکے۔۔۔ کچھ پل شاک میں رہنے کے بعد وہ سر پر ہاتھ پھیرتا قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔
تمہیں اندازہ ہے تم کیا بول رہی ہو۔۔۔ نہیں مطلب۔۔۔ لائک سیریسلی۔۔۔ وہ مسلسل مسکرا رہا تھا۔۔۔
دیکھو سویٹ ہارٹ تم اس دل کو بھائی ہو اسے مطلوب ہو مگر محض ایک رات کے لئے۔۔۔ اب اتنا بھی پسند نہیں آئی کے تمہیں پوری زندگی کے لئے خود سے باندھ لوں ۔۔۔ وہ اسکی دل شکن باتیں سنتی مسلسل مٹھیاں میچے چہرا جھکائے رو رہی تھی۔۔۔
چلو شاباش نکالو یہ خناس دماغ سے اور چلو میرے ساتھ۔۔۔ خان نے اسکا چہرا تھپتھپاتے اٹھ کھڑے ہوتے بازو سے تھام کر اسے اٹھانا چاہا۔۔۔ جب وہ تڑپ تڑپ جاتے سختی سے اسکے دونوں پاوں تھام گئ۔۔۔
آپکو خدا کا واسطہ ہے خان۔۔۔ مجھے میری ہی نظروں میں مت گرائیں۔۔۔اسکی ہچکیاں بلند ہونے لگیں تھیں۔۔۔۔ یا تو مجھے اپنے نکاح میں لے لیں ۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔
یا مجھے جان سے مار ڈالیں۔۔۔ مگر یوں داغدار نا کریں۔۔۔
پوری زندگی کے لئے نہیں تو جب دل بھر جائےَ تب چھوڑ دیجئے گا۔۔۔ مگر ابھی نکاح کر لیں۔۔۔ سب کچھ آپکی شرطوں پر خان۔۔۔ سب کچھ آپکے مطابق۔۔۔۔
نکاح نامہ اپنے پاس رکھ لیں۔۔۔ اس نکاح کا ہر ثبوت مٹا ڈالیں۔۔۔۔ مگر مجھے میری اور میرے اللہ کی نگاہوں میں سرخرو کر دیں۔۔۔ پھر چاہے کل صبح ہی چھوڑ دیجئے گا۔۔۔
رو رو کر فریادیں کرتی وہ نیم جان ہونے لگی تھی۔۔۔ بس کسی بھی طرح وہ اس شخص کو ایک کبیرہ گناہ سے روکنا چاہتی تھی۔۔۔ جو ناجانے اس شخص کی زندگی پر تو اثرانداز ہوتا یا نا۔۔۔ مگر اسے واقعی دنیا اس گناہ کی پاداش میں سنگسار کر ڈالتی۔۔۔اللہ کے حضور تو پھر معاملہ ہی بعد کا تھا۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف خان ماتھے پر شکنوں کا جال لئے الجھا سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا جسنے اسکے قدم یوں جھکڑ رکھے تھے جیسے اسے وہاں سے ہلنے تک نہیں دے گی۔۔۔بامشکل اس سے پاوں چھڑواتا وہ ماتھا مسلتا کمرے سے نکلا۔۔۔
*****
ہرگز نہیں خان۔۔۔ کوئی ضرورت ہی نہیں اس کل کی آئی لڑکی کی باتوں پر کان ڈھرنے کی۔۔۔ وہ ٹریپ کر رہی ہے آپکو۔۔۔ شکل سے اتنی بھولی اور معصوم دکھائی دیتی ہے مگر بہت شاطر لڑکی ہے۔۔۔
خان ڈرئینگ روم میں صوفے سے ٹیک لگائے اسکی ہٹھی پر کہنی رکھے شش و پنج میں مبتلا مسلسل کچھ سوچ رہا تھا جبکہ امجد اسکی پوری بات سن کر تلملا اٹھا تھا۔۔
کیا قباحت ہے اس میں امجد ۔۔۔ ہم تھوڑی نا اس نکاح کو رجسٹر کروائیں گے یا کمپیوٹررائز اسکا کوئی ریکارڈ ہوگا۔۔۔ اور پھر تینوں نکاح نامے ہمارے پاس ہونگے۔۔۔ نیز کل صبح میں اسے آزاد کر دوں گا۔۔۔ خان خاصا الجھا ہوا تھا۔۔۔
خان یہ نکاح ہے۔۔۔ کوئی چھوٹی بات نہیں۔۔۔ اور ہم اس کھڑاک میں پر ہی کیوں رہے ہیں۔۔۔ کیا ضرورت ہے اس لڑکی کی باتوں کو اہمیت دینے کی۔۔۔ امجد جھنجھلایا۔۔۔
محض اسکی رضا مندی کے لئے۔۔۔ وہ ایسے راضی ہے تو ایسے ہی سہی۔۔۔ کیونکہ میں اسکے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔
اسکی آواز گہری سوچ کی عمتیق تھی۔۔۔
پھر بھی نہیں خان۔۔۔ کسی صورت نہیں۔۔۔ یہ لڑکی آپکو بہت برا پھنسائے گی۔۔۔ نکاح کے بعد یہ لڑکی آپکے گلے کا طوق بن جائے گی۔۔۔ اسے سمجھ نا آئی کے خان کو کن الفاظ میں سمجھائے کے نکاح کوئی چھوٹی چیز نہیں۔۔۔ جسکا مذاق بنایا جائے۔۔۔
چلو دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے ۔۔۔ ایک نیا ایکسپئرینس کرنے میں کیا حرج ہے۔۔۔ جہاں اتنے سٹنٹ کئے وہاں ایک اور بھی سہی۔۔۔ یونی کا ایک پرینک ہی سمجھ لیں گے۔۔۔ اس لڑکی کا بھوت سر سے اترے تو مجھے سٹڈیز پر بھی توجہ دینی ہے۔۔۔ ویسے بھی اس لڑکی کی وجہ سے بہت حرج ہو گیا یونی کا۔۔۔ خیر تم انتظام کرواو اس ایک رات کے نکاح کا۔۔۔ وہ پراسرار سے لہجے میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے اس مغرور شہزادے کے لئے ہر چیز مذاق تھی۔۔ حتکہ اسکے لئے تو اسکی زندگی بھی ایک مذاق تھی۔۔۔ اپنی ہی طاقت کی سرمستی لاابالی پن اور بے فکرے پن میں گمراہی کی زندگی بہت اچھی کٹ رہی تھی کیونکہ ڈستے تو ہمیشہ آگاہی کے ناگ ہیں۔۔۔
******
