Raah e Haq by Umme hani NovelR50006 Episode 05
No Download Link
Rate this Novel
Episode 05
شامیر جو ناشتہ کر کے آ کر سویا تو رات بھر رتجگے کی تھکاوٹ اس قدر تھی کے اسے کسی چیز کا ہوش ہی نا رہا۔۔۔۔
دفعتاً ڈھرام کی آواز کے ساتھ اسکا دروازہ کھلا اور اندر داخل ہوتے ہی عدنان بھیا نے اسے بستر پر اونڈھے منہ لیٹے گھورے گدھے سب بھیچ کر سوتے دیکھ سر تھام لیا۔۔۔
شامیر خدا کا نام ہے یار اٹھو۔۔۔ دیکھو ساڑھے نو ہو گئے ہیں ۔۔۔ پروشہ پچھلے آدھے گھنٹے سے وہاں تمہارا انتظار کر رہی ہے۔۔۔ اور تم اسکا فون تک نہیں اٹھا رہے۔۔۔ بھیا نے آتے ہی اسے جھنجھوڑ ڈالا ۔۔۔ وہ مندی مندی آنکھوں سے انہیں دیکھتا انکی باتیں سمجھنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔۔
یہ دیکھو۔۔۔ فون تو سائیلنٹ پر ہے تم خاک اٹھاو گے۔۔۔ بھیا نے اسکے موبائل پر بار بار بلنک کرتے نمبر کو دیکھ جھنجھلا کر کہتے فون اٹھایا۔۔۔ جہاں ابھی بھی پروشہ کا فون ہی آ رہا تھا۔۔۔
کہاں رہ گئے ہو شامیر۔۔۔ کب سے تمہار ویٹ کر رہی ہوں اور۔۔۔
ہالڈ آن ۔۔۔ ہالڈ آن لیڈی۔۔۔ عدنان بات کر رہا ہوں۔۔۔ شامیر تیار ہو رہا ہے۔۔ بس کچھ دیر میں پہنچ جائے گا۔۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی پروشہ کو غصہ سے چلاتے دیکھ بھیا نے شامیر کو گھورتے بعجلت پروشہ کی بات کاٹتے بات سمبھالنی چاہی۔۔۔
شامیر ابھی تک سو رہے ہو۔۔۔ سیلون نہیں پہنچے۔۔۔ تمہیں نو بجے پہنچنے کا کہا تھا نا۔۔۔۔ وہاں پروشہ۔۔۔
بابا اچانک اسکے کمرے میں داخل ہوئے جب اسے ابھی تک ویسے ہی بستر پر بیٹھے دیکھ انکا پارہ ہائی ہونے لگا۔۔
اوہ کم آن بابا۔۔۔ پھر آپکو مہندی اور بارات میں کم از کم ایک دن کا گیپ رکھنا چاہیے تھا کے بندہ ریسٹ تو پراپر کر لے۔۔۔ شامیر بابا کی بات کاٹتا بستر سے اترتا جوتا ارسنے لگا۔۔۔
بھیا میں سٹائیلسٹ کے پاس جا رہا ہوں۔۔۔ ارحم کو کہنا کے ڈیزائنر سے میری شیروانی اٹھا کر مجھے وہاں پہنچا دے۔۔۔ وہ بنا مزید بحث میں پڑے یا انکی مزید کوئی بات سنے گاڑی کی چابی اٹھاتا کمرے سے بھاگا۔۔۔ جبکہ بابا اس نااہل کے وقت گزرنے کے بعد کی جلد بازیاں ملاخظہ کرتے سر نفی میں ہلا کر رہ گئے۔۔۔
کوئی بات نہیں بابا۔۔۔ وہ آج کا چیف گیسٹ ہے۔۔۔ عدنان بھیا نے مسکراتے ہوئے بابا کے شانے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
اور آپ اپنے چیف گیسٹ سے کہہ دیجئے گا کہ جیبیں بھر کر رکھیں۔۔۔ میں انہیں خوب لوٹنے والی ہوں۔۔۔ دفعتاً امل گزرتی گزرتی انکی بات سن کر لقمہ لگانا نا بھولی۔۔۔۔یار شادی کر دی تمہاری اب تو جان چھوڑ دو۔۔۔ بھیا نے اسکے سر پر چیت رسید کرتے اسے چڑایا۔۔۔۔
شادی ہو یا جو بھی۔۔۔ بھائیوں کی شادیوں پر انہیں لوٹے بنا نہیں رہ سکتی۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتی باہر نکل گئ۔۔
جبکہ بھیا اور بابا بھی اسکے ساتھ ہی باہر نکل آئے۔۔۔
*****
سو سوری یار بس سٹائلیسٹ نے لیٹ کر دیا ۔۔۔ تم جانتی تو ہو۔۔۔ ایک بار بندہ انکے پاس چلا جائے تو جلدی کہاں جان چھوڑتے ہیں۔۔۔
شامیر کو پروشہ کو پک کرنے کے لئے جاتے جاتے بھی ساڑھے دس بج گئے تھے۔۔۔ جبکہ پروشہ اسکے آنے کی اطلاع پا کر سیلون سے نکلی تو اسکا خاموش انداز اسکے نروٹھے پن اور غصے میں ہونے کی واضح نشاندہی کر رہا تھا۔۔۔وقت پر ہر کام کرنے کے لئے بندے کو وقت سے اٹھنا پڑتا ہے۔۔۔۔
میری بھی کل مہندی تھی اسکے باوجود میں اپنی زندگی کے اس خاص دن کو مزید خاص بنانے کے لئے فجر کے وقت سے گھر سے نکلی ہوئی ہوں۔۔۔ وہ چڑ کر غصیلے انداز میں پھٹ پڑی۔۔۔
شامیر گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔ کہیں نا کہیں غلطی تو اسی کی تھی۔۔۔
آئی اپالوجائز ۔۔۔ ایم سوری۔۔۔ اب موڈ ٹھیک کرو۔۔۔زندگی کے اتنے خاص دن ایسا موڈ نہیں بناتے۔۔۔ وہ نرمی سے بات سمیٹتا گویا ہوا۔۔۔
پروشہ نے اسے کاٹ دار نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
اتنی قاتل نگاہوں سے مت دیکھو یار۔۔۔ پہلے ہی قہر ڈھا رہی ہو۔۔ اب بولو تعریف ابھی کروں یار رات کا انتظار کروں۔۔۔ شامیر نے گاڑی سٹارٹ کرتے فوٹوگرافر کی بتائی ہوئی لوکیشن پر گاڑی ڈالتے اسکا موڈ بحال کرنے کی شعوری کوشیش کی جو بلاشبہ دلہن کے روپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
بلڈ ریڈ کلر کے لہنگے پر ناف تک آتی چولی ۔۔۔ آنچل سر پر سیٹ کر کے ایک شانے پر ٹکائے۔۔۔ نفیس سے جیولری اور برائیڈل میک آپ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری جگہ پر فوٹو شوٹ کرواتے انہیں تقریباً دو بج گئے جبکہ اب پیچھے سے گھر والوں کے فون تک آنے لگے تھے کے بارات کا وقت ہو رہا ہے لحاظہ جلدی پہنچیں۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے وہ سب بعجلت سمیٹتے وہاں سے نکلے۔۔۔ شامیر نے پہلے پروشہ کو اسکے گھر ڈراپ کیا اور پھر گھر سے بارات لے کر پوری شان و شوکت کے ساتھ ہال پہنچا۔۔ مگر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دل پر بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔ ایک چہرا جو آنکھوں کے سامنے ثبت ہو کر رہ گیا تھا وہ اسے بارہا بے بس کر رہا تھا۔۔۔ دو ملتجی آنکھیں آس و امید سے اسے تکتیں اسکے سینے پر بھاری سلوں کا اضافہ کرتی جا رہی تھیں۔۔۔
ایجاب و قبول کے مراحل کے وقت نکاح نامے پر دستخط کرتے اسے ہاتھ تک کپکپا رہے تھے۔۔۔
دلہن رخصت کروا کر گھر لاتے لاتے انہیں رات ہوگئ۔۔۔ امل نے ناجانے اس سے کون کونسی رسمیں کی تھیں۔۔۔ اسکا دماغ اب ہر چیز سے فرسٹریٹڈ ہو رہا تھا۔۔۔۔ تھکاوٹ پورے جسم میں سرائیٹ کرنے لگی تھی۔۔۔
اس کی غائب دماغی نوٹ کرتے میرب بھاِبھی اسکے کمرے کی جانب بڑھنے پر عدنان بھیا کو ساتھ لئے اسکے پیچھے ہی ہولی۔۔۔
شامیر رکو۔۔
آواز پر وہ بے ساختہ رک کر پلٹا۔۔
جی بھابھی۔۔۔
امم۔۔۔ پروشہ کو منہ دکھائی میں کیا دے رہے ہو۔۔۔ اسکا اس شادی سے کھچا کھچا روپ دیکھ بھابھی جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھتیں مستفسر ہوئیں۔۔۔
منہ دکھائی۔۔ شامیر یکدم ہی بوکھلا اٹھا۔۔
وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ دراصل مجھے تو یاد ہی نہیں۔۔۔ اسنے پریشانی سے بے طرح ماتھا مسلہ۔۔۔بھابھی اور عدنان بھیا نے بے ساختہ ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔۔
اب کیا کروں بھابھی۔۔۔ پروشہ نے تو ویسے ہی مجھے حلال کر ڈالنا ہے۔۔۔ وہ تو صبح میرے سیلون لیٹ پہنچنے پر ہی بہت سخت ناراض تھئ۔۔۔ وہ لب چبا کر رہ گیا۔۔۔
بھابھی گہرا سانس خارج کر گئیں۔۔۔ تمہارے رنگ دھنگ دیکھ کر مجھے تم سے اس حماقت کی توقع تھی۔۔۔ آو میرے ساتھ۔۔۔ وہ نرمی سے کہتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی جبکہ شامیر نے بھیا سے آنکھ کے اشارے سے معاملہ جاننا چاہا جبکہ وہ بھی لاعلمی کا اظہار کرتے شانے اچکا گئے۔۔۔
یہ لو نیکلیس۔۔۔ یہ ابھی اسی ہفتے ہی عدنان نے مجھے گفٹ کیا ہے۔۔ میں نے ایک دفعہ بھی استعمال نہیں کیا۔۔۔ رکھ لو تمہارے کام آئے گا۔۔۔ بھابھی نے ایک ڈائمنڈ نیکلس نکالتے اسکی جانب بڑھایا۔۔۔ اسنے اجازت طلب نگاہوں سے بھیا کی جناب دیکھا۔۔۔ بھیا کے سر سے ہاں کا اشارا کرنے پر اسنے جھجھکتے ہوئے نیکلس تھام لیا۔۔۔
تھینک یو بھابھی۔۔۔ میں کل ہی آپکو بالکل ایسا ہی نیکلیس بنوا دوں گا۔۔۔ وہ احساس تشکر سے لبریز گویا ہوا۔۔۔
نہیں ایسا بالکل نہیں۔۔۔ کیونکہ لڑکیاں منہ دکھائی کے تحفے کے بارے میں بہت کانشئس ہوتی ہیں۔۔۔ میچنگ ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ اور چونکہ یہ گفٹ تم اپنی بیوی کو دے رہے ہو تو فیئر طریقے سے اپنی جیب سے دو۔۔۔ لحاظہ اسکی پیمنٹ عدنان کو کر دینا۔۔ وہ خود ہی میرے لئے نیا نیکلیس لے آئیں گے۔۔۔ بھابھی مسکرا دیں۔۔۔
ڈن۔۔ بھابھی ڈن۔۔۔
اور ہاں سنو۔۔۔ اس بات کی بھنک بھی رفیہ کو نہیں لگنی چاہی۔۔۔ ورنہ یہ واقعہ کہاں کہاں اور کس انداز میں اچھالا جائے گا سوچ ہے تمہاری۔۔۔انہوں جاتے جاتے اسے تنبہ کی۔۔۔
افکورس بھابھی۔۔۔ انکی کسے بھول ہے۔۔۔ بس ذوہیب بھیا کی قسمت۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
******
ایمان کی آنکھ کھلی تو اسکا سر بے حد بھاری تھا۔۔۔ اسنے ہاتھوں کی مدد سے سر دباتے بامشکل بھاری ہوتے پیوٹے کھولے۔۔۔
وہ اس وقت ایک مخملی نرم و گرم بستر پر موجود تھی۔۔۔ خود کو ایک انجان پرتعیش کمرے میں موجود پا اسکے چودہ طبق روشن ہو اٹھے۔۔۔ یکدم ہی کچھ وقت پہلے کے سبھی واقعات یاد آئے تو دل خوف سے کپکپا اٹھا۔۔۔ اسنے خوفزدہ نگاہوں سے ارد گرد دیکھا جب بستر پر اپنے مقابل نظر پڑنے پر وہ خوف سے اچھلتی ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھی۔۔۔ یکدم اٹھنے سے سر چکرا گیا جبکہ خود کو ایک نامحرم کے اسقدر قریب دیکھ جسم پر لزرہ طاری ہونے لگا۔۔۔
کک۔۔۔ کو۔۔۔ کون ہیں آپ۔۔۔ اور میں یہاں۔۔۔
وہ ایک بہت خوبرو شخص تھا جو بہت پرسکون انداز میں کہنی بستر پر ٹکائے ہاتھ کی ہتھیلی ہلکی بڑھی شیو والی گال تلے ٹکائے محویت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی مقناطیسیت تھی جبکہ بال اچھے سے سیٹ کئے گئے تھے۔۔۔ اسکے یوں جھٹکا کھا کر اچھلتے ہوئے اٹھنے پر ایک پراسرار مسکراہٹ اسکے لبوں پر پھیلتی اسے مزید دلکش بنا گئ۔۔۔۔
آرام سے سویٹ ہارٹ۔۔۔ آرام سے۔۔۔ بی ریلیکس ۔۔۔
اسکے اندازو اطوار ۔۔۔ نگاہوں کے پیغام اور بات کرنے کے انداز سے ایمان تھرا کر رہ گئ۔۔۔ تب سے پہلی بار اس شخص کی بے باک نگاہوں کے ارتکاز میں اسنے خود کا محاصرہ کیا تو جی جان سے لرز اٹھی۔۔۔ دل چاہا کے ابھی زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔
سفید یونیفارم میں ملبوس اس کا نوخیز حسن اس وقت بے حجاب تھا۔۔ اسنے خوف سے سمٹتے لمحے کے ہزارویں حصے میں نگاہیں پورے کمرے میں گھماتے اپنی شال کو ڈھونڈنا چاہا۔۔۔ جو کچھ وقت کی تگ و دود کے بعد اسے کمرے کے دروازے کے پاس زمین بوس ہوئی دکھائی دے گی۔۔۔ ایمان چیل کی سی تیزی سے اسکی جانب لپکی اور اسے کپکپاتے ہاتھوں سے اٹھاتے خود پر اوڑھنے لگی۔۔۔
وہ گاڑی سے یہاں تک کیسے پہنچی اور پھر یوں بےحجاب۔۔۔اپنی حالت پر دل خون کے آنسو رو دیا۔۔۔
ارے رےےےےےے سویٹ ہارٹ یہ کیا۔۔۔ خان اسے خود کو کور کرتے دیکھ اسے ٹوک گیا جب اسنے خان کی جانب پلٹتے بے بس بھڑائی سرخ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
شیاہ شال کے ہالے میں دودھیا رنگت مزید دمک اٹھی تھی۔۔۔
اففففف۔۔۔ پلیز رو مت۔۔۔ یہ آنسو صاف کرلو۔۔۔۔ تمہارے آنسو دیکھ میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے۔۔۔ وہ بستر سے اترتا شاہانہ چال چلتا اسکے روبرو آیا۔۔۔ یوں کے اسکی دراز قد و قامت پورے ماحول پر چھا گئ۔۔۔
اس بھرپور مرد کے سامنے وہ بھلا کیا تھی۔۔۔ کیسے کرتی وہ اسکے سامنے اپنا دفاع۔۔۔ ایمان نے کپکپاتے ہاتھوں سے شال کو گلے کے قریب سے دبوچا یوں کے وہ سر سے سرک نا پائے۔۔۔
پلیز آنسو صاف کرو۔۔۔ خان نے اپنا بھاری مردانہ ہاتھ آگے بڑھاتے اسکے آنسو صاف کرنے چاہے جب وہ بدک کر پیچھے ہٹتی مزید شدت سے رو دی۔۔۔۔
مجھے واپس جانا ہے۔۔۔ پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔ خدا کے لئے۔۔۔ میں کالج سے گھر واپس نا گئ تو وہاں۔۔۔ تو وہاں ایک قیامت آ جائے گی۔۔۔ پلیز۔۔۔
وہ کپکپاتے لہجے میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرتی بامشکل اپنا مدعا بیان کر پائی۔۔۔
ٹھیک ہے چلی جانا۔۔۔ پہلے ریلیکس ہو جاو۔ خان اسکی حالت سمجھتا سیز فائر کرنے کے انداز میں کہتا چند قدم پیچھے ہٹا۔۔۔ ایمان کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔
بیٹھو پانی پیو۔۔۔ اسنے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس بھر کر گلاس اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
وہ شدت سے سر نفی میں ہلا گئ۔۔۔
اوکے مت پیو۔۔۔ بیٹھو۔۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔ اسکے لہجے میں کئ طرح کے اندیشے بول رہے تھے۔۔۔
بیٹھ جاو سویٹ ہارٹ ۔۔۔ بیٹھو گئ نہیں تو ہم چند باتیں کیسے کلئیر کریں گے۔۔۔ اور باتیں کلئیر نہیں ہونگی تو تم واپس کیسے جاو گئ۔۔۔
وہ شانے اچکاتا بہت فرینکلی انداز میں گویا ہوا کے ایمان اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
مجھے یہاں اس انداز میں کیوں لایا گیا ہے۔۔۔۔ اسکی غزال سی آنکھوں میں ہراس تھا۔۔۔
اسی لئے تو کہہ رہا ہوں کے بیٹھو بتاتا ہوں۔۔۔
خان کے کہنے پر وہ مرتے کیا نا کرتے کے مصداق جھجھکتی ہوئی صوفے کے کنارے پر سمٹ کی ٹکی۔۔۔
خان آ کر اسکے ساتھ بیٹھا تو اسنے بدک کر پیچھے ہونا چاہا مگر شومئ قسمت وہ پہلے ہی کنارے پر تھی۔۔۔ خان کا اسکے ساتھ بیٹھنا اس پر کپکپی طاری کر رہا تھا۔۔۔ وہ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی نامحرم کے اسقدر قریب تھی کے اسکے کلون کی مہک ایمان کو اپنے حواسوں پر سوار ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ اسنے بھرائی ملتجی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ کسی نامحرم کو اتنے قریب سے دیکھنے کا یہ اسکا پہلا تجربہ تھا تبھی خوف کے زیر اثر دل یوں ڈھرک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آ نکلے گا۔۔۔
اور خان۔۔۔ وہ تو اس معصوم حسن کو اسقدر قریب سے دیکھتا جیسے کہیں کھو سا گیا تھا۔۔۔ بے ساختہ اسے چھونے کی خواہش دل میں مچلی تو اسنے دل کی صدا پر لبیک کہتے اسکی گال کو چھونا چاہا جب ایمان اسکا ارادہ بھانپتی چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ یہ صورتحال اسکی حسیات مفلوج کر رہی تھی۔۔۔ وہ اسقدر خوفزدہ تھی کے کچھ سمجھ ہی نا آ رہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔
اسکے یوں ٹوٹ کر رونے سے خان یکدم ہوش میں آتا اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ قائم کر گیا۔۔۔
دیکھو سویٹ ہارٹ رونا بند کرو اور میری بات غور سے سنو۔۔۔ اسکے روبدرانہ انداز میں کہنے پر ایمان نے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے سہم کر اسے دیکھا۔۔۔
پسند آ گئ ہو تم خان کو۔۔۔ اس لئے تم اس دل کو ایک رات کے لئے مطلوب ہو۔۔۔۔ خان کی بات پر یکدم ہی ایمان کی رنگت فق ہوئی۔۔۔ آنکھیں حیرت و شاک سے پھٹ پڑیں۔۔۔ دل بے ہنگم انداز میں ڈھرکنے لگا۔۔۔
وہ شخص اتنی بڑی بات اتنے آرام سے کیسے کہہ سکتا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ اسنے اپنے جسم کی کپکپی پر قابو پاتے شدت سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
میری خواہش پوری کردو سویٹ ہارٹ۔۔۔ بدلے میں تمہیں پیسوں سے تول دوں گا۔۔۔ جو تمہیں مطلوب ہو گا وہ ملے گا۔۔۔۔ بس میری طلب پوری کردو۔۔۔ وہ بہت دوستانہ انداز میں گویا اسکے ساتھ کوئی ڈیل کر رہا تھا۔۔۔
ایمان کو اپنی ڈھرکنیں سست پڑتیں محسوس ہوئیں جب وہ جھٹکے سے وہاں سے اٹھتی دروازے کی جانب بڑھی اور اندھا دھند اسکا ہینڈل گھماتی اسے کھولنے کی کوشیش کرنے لگی۔۔۔
مت تھکاو خود کو یار۔۔۔ کیوں چھوٹی سی جان کو ہلکان کرتی ہو۔۔۔ میری طلب پوری کئے بنا تم یہ دروازہ نہیں کھول سکتی۔۔۔ اور بالفرض کسی نا کسی طرح کھول بھی لو تو اس ڈیڑھ ایکر پر بنے فارم ہاوس پکی بھول بھیلیوں میں گم ہو جاو گی۔۔۔ یہاں سے نکل تم کسی صورت نہیں سکتی۔۔۔ اور چلو یہ بھی مان لیا کہ تم یہ ٹاسک پورا کرتی ہوئی مین گیٹ تک پہنچ بھی گئ تو وہاں موجود شکاری کتے تمہارا نا آشنا چہرا دیکھ تمہیں چہر پھاڑ جائیں گے۔۔۔ خان ٹانگ پر ٹانگ جمائے۔۔۔ بازو صوفے کی پشت پر پھیلائے بہت پرسکون انداز میں اسے ہر صورتحال سے آگاہ کر رہا تھا جبکہ ایمان کی ڈھرکنیں اسکی ہر بات کے ساتھ سست پڑتی جا رہی تھیں۔۔۔
دیکھو میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ اس لئے بہتر ہے کے تم میرے ساتھ کاپڑیٹ ۔۔۔ وہ اس سے بات کرتا قدم قدم اسکی جانب بڑھ رہا تھا جبکہ اسکا اپنی جانب بڑھتا ہر قدم ایمان کی روح فنا کر رہا تھا۔۔۔ اس لئے اسنے آو دیکھا نا تاو سرعت سے پاس ہی پڑا کانچ کا واس اٹھاتے پوری قوت سے اسکے سر پر مارا۔۔۔۔
یہ حملہ غیر متوع تھا۔۔۔ تبھی اسکی الفظ درمیان میں ہی دم توڑتے اپنا وجود کھو گئے۔۔۔ جبکہ خان حیرت و شاک سے اس دھان پان سی لڑکی کو دیکھتا سر پر ہاتھ رکھتا دہرا ہوتا گیا جہاں سے خون بھل بھل بہہ رہا تھا۔۔۔۔ اور ایمان وہ اتنی بہادری دکھا تو گئ مگر اب اسکی حالت دیکھ خود ہی منہ پر ہاتھ رکھتی لرز اٹھی۔۔۔ اسنے یہاں وہان دیکھا مگر کوئی طریقہ سمجھ نا آیا۔۔۔ دفعتاً اسے باہر سے ڈورتے قدموں کی آواز سنائی دی۔۔۔ اسنے ہراساں نگاہوں سے دروازے کی جانب دیکھتے خان کی جانب دیکھا جو بیڈ کے قریب کوئی بزر بجا رہا تھا ۔۔۔ غالباً اسنے باہر اطلاع دے دی تھی۔۔۔ اب اسکا کیا بنتا۔۔۔ بگڑتی صورتحال نے اسکے رہتے سہتے اوسان بھی خطا کر ڈالے۔۔۔
*******
