Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

شامیر بھاگتا ہوا ہسپتال کے کاریڈور میں داخل ہوا جہاں بابا ذوہیب بھیا اور ارحم پہلے سے ہی موجود تھے۔۔۔ ان کے چہروں پر چھائے حزن اور کرب کے تاثرات اسے کسی انہونی کا پتہ دے رہے تھے۔۔۔ اسنے دماغ پر زور ڈالتے سوچنا چاہا کے کیا ہوا تھا۔۔۔ ابھی کل رات ہی کی تو بات تھی جب وہ اور پروشہ ہنی مون سے واپس لوٹے تھے۔۔۔ پوری فیملی کی رات گئے تک محفل جمی تھی حتکہ امل بھی اپنے شوہر کے ساتھ انہیں ملنے گھر آ گئ تھی۔۔۔ پھر انہوں نے سب میں وہ تحائف بانٹے جو وہ دونوں وہاں سے انکے لئے لائے تھے۔۔۔ بلخصوص عدناں بھائی اور ذوہیب بھائی کے بچوں میں۔۔۔ سب کتنے خوش تھے۔۔۔ پھر یکدم ہی میرب بھابھی کی امی کی طبیعت خرابی کا سن کر بھائی اور بھابھی ہسپتال کے لئے نکلے جب اچانک ہی ایک زبردست حادثے کا شکار ہوگئے۔۔۔ اسقدر غیر متوقع طور پر کے وہ ہل کر رہ گیا۔۔۔

ہستے بستے گھر کو یکدم ہی کسی کی نظر لگ گئ۔۔۔ وہ تو تھکا ہارا سویا رہا جبکہ باقی سب بروقت ہسپتال پہنچ گئے۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اسے اطلاع ملی تھی اور وہ اندھا دھند وہاں بھاگا چلا آیا تھا۔۔۔۔ عدنان بھائی۔۔۔ اسکا سب سے فیورٹ بھائی۔۔۔ بھائی کم دوست زیادہ۔۔۔ جسکے دم پر جسکی شہہ پر وہ سب کر جاتا۔۔۔ ابھی تو وہ کل رات واپسی پر ہی ایک بہت بڑا فیصلہ لے کر اسے بھائی سے ڈسکس کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔

بابا نے اپنے سب سے بڑے بیٹے اور بہو کی زندگی کے لئے پیسہ پانی کی طرح بہا ڈالا تھا۔۔ بہتریں سے بہتریں ڈاکٹرز بلوائے گئے تھے۔۔۔ مگر آج شامیر نے جانا کے اس دنیا میں سب کچھ پیسہ نہیں۔۔ کچھ مقامات ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں انسان مکمل طور پر بے بس ہو جاتا ہے۔۔۔۔ اور وہیں اس خدا کی خدائی ہر چیز پر حاوی ہو جاتی ہے۔۔۔ اتنے مہنگے علاج اور بہترین ڈاکٹروں کے سٹاف کے باوجود بابا اپنے بچوں کو زندگی کی طرف واپس لانے میں ناکام ہو رہے تھے۔۔۔

دوران علاج ہی بھابھی کے دم توڑنے کی خبر نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔۔۔ انکی حالت زیادہ سیریس تھی۔۔۔ اور عدنان بھائی کے متعلق بھی ڈاکٹرز کا یہ ہی کہنا تھا کے وہ کوشیش کر رہے ہیں آپ دعا کیجئے۔۔۔

بھائی کے زرا ہوش میں آنے کا سنتے ہی وہ تڑپ کر انسے ملنے اندر بڑھا اور عزیز از جان بھائی کے وجود کو پٹیوں میں جھکڑا دیکھ وہ پورے قد سے ڈھے گیا۔۔۔

شامیر۔۔۔ انہوں نے کچھ کہنا چاہا۔۔۔ بولنے میں بھی انہیں دقت کا سامنا تھا۔۔۔

جی۔۔ جی۔۔۔ بھائی حکم کیجئے۔۔۔ وہ تڑپ کر انکے قریب ہوتا انکا پٹیوں میں جھکڑا ہاتھ تھام گیا۔۔۔

میری۔۔۔ میری رملہ کا۔۔۔۔ خخ۔۔۔ خیال رکھنا۔۔۔ بات مکمل کرتے ہی انکا سر ایک جانب ڈھلک گیا۔۔۔ جبکہ شامیر سر تا پیر لرز کر رہ گیا۔۔۔ اسکے عریز از جان بھائی نے اسکے ہاتھوں میں دم توڑ دیا تھا اس چیز نے اسے دہلا کر رکھ دیا پھر وہ اونچا لمبا بھرپور مرد ضبط کھوتا بچوں کی مانند رو دیا۔۔۔

اس واقع نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔ ایک ساتھ گھر میں داخل ہوتے دو جوان جنازوں کے باعث گھر میں کہرام مچ گیا۔۔۔ ایسے میں سب سے بری حالت اس چھ سالہ رملہ کی تھی جو عدنان خان اور میرب کی اکلوتی جگر گوشی تھی۔۔۔ تب وہ اپنا دکھ بھلائے اٹھ کر اس ننھی جان تک آیا اور اسے سینے میں بھینچتے اپنی آنکھوں کو نم ہونے سے روک نا پایا۔۔۔

امل اسے اندر لے جاو۔۔۔ بچی ہے اس سب چیزوں کا دماغ پر گہرا اثر پڑے گا۔۔۔ شامیر کے کہنے پر شکستہ حال سی امل سر ہاں میں ہلاتی اس ننھی جان کو لئے اندر بڑھی کے بحرحال اس ننھی جان کا نقصان سب سے بڑا تھا۔۔۔

****

چھوٹے سے محلے میں اتنی بڑی گاڑی کا آ کر رکنا تقریباً سبھی کو ہی اپنی جانب متوجہ کروا گیا تھا۔۔۔ اور بالخصوص اندر سے نکلتی ایمان اور ایک نوبیاہتا کے روپ میں نکلتی ایمان کے باعث لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونا شروع ہو گئ ۔۔

لوہے کا چھوٹا سا دروازہ وا کر کے ایمان لرزتے قدموں سمیٹ اندر داخل ہوئی تو پہلا ہی سامنا صحن میں جھاڑو لگاتی بھابھی سے ہوا۔۔

ایمان۔۔۔ اسے اندر داخل ہوتا دیکھ انسہ بھابھی کے ہاتھوں سے جھاڑو چھوٹا اور منہ سے سرسراتا ہوا لفظ نکلا۔۔۔۔ایمان کا حلیہ ان تمام شکوک و شبہات کی تصدیق کر رہا تھا جو ابھی تک انکے دماغوں میں ابھر رہا تھا لیکن وہ کسی نا کسی طرح اسے جھٹلا رہے تھے۔۔۔

امی۔۔۔ سجادددد۔۔۔ حامدددد۔۔ باہر آئیں۔۔۔ دیکھیں ایمان آئی ہے۔۔۔ بھابھی کی آواز لرز رہی تھی ۔۔۔ وہ ان سب کو آوازیں دیتی ہانپنے لگی۔۔۔

امی کی طبیعت پچھلے تین دن سے ہی بہت خراب تھی۔۔۔ بیٹی کی ٹینشن کے باعث بی پی شوٹ کرتا تو کنٹرول ہونے کا نام تک نا لیتا۔۔۔ لیکن دونوں بائھیوں کیساتھ ساتھ امی بھی یہ روح افزا خبر سن بستر سے اترتیں باہر کو بھاگیں جیسے کسی نے تن مردہ میں نئ روح پھونک دی ہو۔۔۔

ایمان۔۔۔ میری بچی۔۔۔ کہاں تھی تم اب تک۔۔۔ ماں باہر آتی تڑپ کر اسکی جانب بڑھی اور اسے کھینچ کر سینے سے لگاتیں اس پر والہانہ محبت نچھاور کرنے لگیں۔۔۔

میری بچی تم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔ کیا کیا وہم نا سر ابھارنے لگے تھے دل میں۔۔۔ امی شاید اتنے روز بعد بیٹی کی واپسی کی خوشی اور فرط جذبات میں غالباً اسکا حلیہ نوٹ نا کر پائی تھیں۔۔۔ کیونکہ اگر غور کر لیتیں تو شاید انکے سوالات کی نوعیت بدل چکی ہوتی۔۔۔ جبکہ ماں کے پیچھے ہی باہر آتے دونوں بھائی پہلی ہی نظر میں وہ سب نوٹ کر چکے تھے جو ماں فرط جذبات میں نا کر سکی تھی۔۔۔ اور یکدم ہی ان دونوں کا پارہ ہائی ہونے لگا تھا۔۔۔سجاد تو ابھی گم صم سا کھڑا موقع کی نزاکت بھانپ رہا تھا جبکہ حامد طیش سے اسکی جانب لپکا۔۔۔

کس کے ساتھ بھاگی تھی۔۔۔ اسنے سختی سے اسکا بازو جھکڑتے اسے ماں کی گرفت سے کھینچتے طیش سے اپنے روبرو کیا یوں کے ایمان کا سانس تک خشک ہو گیا۔۔۔۔ انہی لمحوں سے تو ڈرتی تھی وہ۔۔۔

ماں نے بیٹے کو یوں دیکھا جیسے اسکا دماغ چل گیا ہو۔۔۔

کس کے ساتھ منہ کالا کر کے آ رہی ہو ایمان۔۔۔ وہ غصے سے پاگل ہوتا اسکا بازو جھنجھوڑ کر چلایا۔۔۔

حامدددد۔۔۔۔ ماں بیٹے کے نارواں سلوک پر اس سے بھی اونچی آواز میں چلائیں۔۔۔ کیا بکواس کر رہے ہو حامد۔۔۔

میں بکواس نہیں کر رہا ماں۔۔ کیا آپکو اپنی لاڈلی اور خود سر بیٹی کا حلیہ نہیں دکھائی دے رہا۔۔۔ کالج سے بھاگی تھی یہ اور واپس کس حلیے میں لوٹ رہی ہے۔۔۔ اس جرح پر ایمان کا دل سوکھے پتے کی مانند لرزنے لگا۔۔۔

پوچھیں اس سے کس کے ساتھ منہ کالا کر کے۔۔۔

میں نے نکاح کیا ہے بھائی۔۔۔ بھائی کی روح چھلنی کرتی آواز کو روکنے کی خاطر وہ جھکے سر اور بہتی آنکھوں سمیت دبا دبا سا چلائی۔۔۔

چٹاخ۔۔۔ حامد کا ہاتھ اتنی ہی بری طرح سے گھوما تھا کے ایمان کے نرم روئی کے مانند گال پر چھاپ چھوڑتا جہاں اسکا دماغ سن کر گیا وہیں وہ توازن کھوتی پیچھے کو لڑھکی مگر اس سے پہلے کے وہ گرتی دو مضبوط ہاتھوں نے بروقت اسے سمبھالا۔۔۔

ہمارے پیار محبت اور مان کا یہ صلہ دیا تم نے۔۔۔

انف از انف۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ پھر سے ایمان کی جانب لپکتا خان کی ڈھارتی آواز پر چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔

خان جو پہلے ایمان کو اپنے گھر والوں سے معاملات سیٹ کر لینے دینا چاہتا تھا اسی غرض سے ابھی باہر ہی کھڑا تھا حامد کے اس نارواں سلوک پر مزید برداشت نا کر پاتا سرعت سے اندر آیا تھا۔۔۔

ماں کی حالت اس خزان رسید پتے کی مانند تھی جو کسی بھی پل زمین بوس ہونے کے در پر تھا۔۔۔ اگر انکے ڈولتے وجود کو انسہ بھابھی سہارا نا دیتی تو یقیناً وہ ابھی تک زمین بوس ہو چکی ہوتیں۔۔۔

میری بیوی پر تم ایک بار ہاتھ اٹھانے کی غلطی کر چکے ہو۔۔۔ دوبارہ یہ غلطی کی تو ہر لحاظ مروت بھول جاوں گا۔۔۔۔

ایمان کو سیدھا کرتے خان غرا کر کہتا اسکے مد مقابل آیا۔۔۔

حامد کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو یقیناً ابھی تک خان کی شاندار پرسنیلٹی سے مرغوب ہو چکا ہوتا جیسے اس وقت وہاں موجود باقی ہر شخص ہو چکا تھا۔۔۔ مگر حامد ابھی ہوش و حواس میں کہاں تھا تبھی طیش سے اسکی جانب لپکا۔۔۔۔ تو تم ہو وہ بے غیرت انسان۔۔۔ اسکی جانب بڑھتے ہی اسنے جھپٹ کر خان کو گریبان سے دبوچا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ خان کو جھٹکے دیتا خان نے شعلہ اگلتی نگاہوں سے اسے دیکھتے حامد کے بازوں پر اپنی گرفت مضبوط کی۔۔۔

خان حکم کیجئے اس گستاخ کے ابھی ٹکرے کر کے چیل کووں کو کھلا دوں۔۔۔ لمحوں کا کھیل تھا اور حامد کی اس گستاخی پر امجد لوڈد ریوالور حامد کے سر پر تان چکا تھا۔۔۔

نہیں۔۔۔۔

حامددد۔ددد

بھائی۔۔۔۔۔۔

امجد کی گرجدر کرخت آواز۔۔۔ اور خان کے تاثرات پر وہاں موجود ہر شخص ہی خان کی پرسنیلٹی کیساتھ ساتھ اسکے روب و دبدبے اور امارت سے آگاہ ہوتا تڑپ کر آگے بڑھا۔۔۔

یکدم ہی وہاں ہلچل مچ گئ تھی۔۔۔

خان نے پوری قوت سے حامد کے ہاتھ جھٹکتے اسے گلے سے دبوچا۔۔۔

خان نہیں پلیز۔۔۔

نہیں چھوڑو میرے بچے کو۔۔۔

جہاں ایمان تڑپ کر خان کی بازو پکڑتی گڑگڑا کر التجا کرنے لگی وہاں ماں اور سجاد بھائی بھی آگے لپکتے حامد کو خان کی گرفت سے آزاد کروانے لگے۔۔۔

چھوٹے سے محلے میں جہاں ڈبی کے ساتھ ڈبی کی مانند جڑے گھر تھے وہاں تقریباً سارا ہی محلہ چھتوں پر چڑھے اور کچھ کھلے دروازے سے اندر چلتی اس کاروائی کو اپنے اپنے رنگ میں ملاخظہ کر رہا تھا۔۔۔۔

ایمان میری بیوی ہے اور میں۔۔۔ خان نے ایک جھٹکے سے اسے اپنی گرفت سے آزاد کرتے جھٹکا۔۔۔

ہم کیسے مان لیں کے یہ تمہاری بیوی ہے۔۔۔ کیا ثبوت ہے تمہارے پاس۔۔۔

ابکی بار سجاد بھیا گہری کاٹ لئے گویا ہوئے۔۔۔ البتہ لہجہ اور انداز حامد کی مانند گستاخ نا تھا۔۔۔ شاید وہ بھی سامنے کھڑے شخص کی پاور کا اندازہ لگا چکے تھے۔۔۔

انکے کہنے پر خان نے چونک کر انہیں دیکھا اور پھر امجد کو جو خان کا اشارہ سمجھتے ہی جیب سے نکاح نامہ نکالتا اسکی جانب بڑھا گیا۔۔۔

سجاد کے نکاح نامہ پڑھتے ہی حامد نے جھپٹ کر اسکے ہاتھ سے نکاح نامہ کھینچا۔۔۔

ہم نہیں مانتے اس نکاح کو۔۔۔ وہ پھر سے غرایا۔۔۔

تمہارے ماننے یا نا ماننے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی۔۔۔ خان اکڑایا ۔۔۔۔

ولی کے بنا کوئی نکاح نہیں ہوتا۔۔۔ کون تھا ایمان کی جانب سے سر پرست نکاح میں۔۔۔

لیکن اسکے باوجود نکاح ہو چکا اور ایمان میری بیوی ہے۔۔۔ حامد کے جرح پر اترنے پر وہ بھی میدان میں کودا ۔۔۔ اور پھر اسنے ہار ماننا سیکھا کہاں تھا بھلا۔۔۔۔۔

اسکا ایک ہی حل ہے۔۔۔ ایمان تمہاری بیوی ہے تو تمہیں ہماری سر پرستی میں ایمان کو پھر سے اپنے نکاح میں لینا ہو گا۔۔۔ ابھی اسی وقت تمہارا نکاح ایمان سے پھر سے ہو گا اسکے بعد اسے جہاں دل چاہے لے جانا۔۔۔۔ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔۔۔ سجاد بھیا تحمل سے گویا ہوئے۔۔۔

اسکے مطالبے پر خان کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔۔ اور اگر میں یہ نکاح نا کروں تو۔۔۔ وہ اپنے ازلی اکھر انداز میں گویا ہوا۔۔۔

ہماری نظر میں اس نکاح کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔

میں نے کہا اگر میں تمہارا مطالبا نا مانوں تو۔۔۔ اس سے پہلے کے سجاد کچھ اور کہتا وہ تلخی و ترشی سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔

تو ہمارے ہاں اس بے غیرتی کی کوئی جگہ نہیں۔۔۔ اس سے بہتر میں اپنی خود سر بہن کو زندہ زمین میں گاڑنا پسند کروں گا۔۔۔

حامد نے سر عام لگنے والے عزت کے اس تماشے پر آپا کھوتے امجد کے ہاتھ سے ریوالور کھینچتے کونے میں لگی تھر تھر کانپتی ایمان پر تانا۔۔۔

آہہہہ۔۔۔ وہ چیختی ہوئے خان کی بازو دبوچتی اسکے پیچھے آ چھپی۔۔۔

خان پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھے بچا لیں۔۔۔ مجھے سنگسار ہونے سے بچا لیں۔۔۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔

کہاں دکھائی تھی پہلے کسی نے خان کے سامنے خودسری۔۔۔ وہ جہاں حامد کی خودسری پر طیش سے اسکی جانب بڑھتا اسے اچھا سبق سیکھانے کا ارادہ رکھتا تھا وہیں اپنے کان میں سنائی دیتی اایمان کی لرزتی خوف و خدشات سے پر التجائی آواز پر وہ ارد گرد لگے مجمعے کا احساس کرتا زرا تھما ۔۔۔۔ بامشکل غصہ قابو کرتے حواس بحال کئے۔۔۔

امجدددد۔۔۔ آنکھیں میچتے وہ ڈھارا۔۔۔

حکم سر۔۔۔۔۔

ایمان کے غیرت مند بھائیوں سے پوچھوں کے کس مولوی کو لانا ہے اور اگلے دو منٹوں میں وہ مولوی یہاں ہونا چاہیے۔۔۔ اسکی ڈھار میں ازدھوں سی پھنکار تھی۔۔۔

امجد نے بھی بگڑتی صورتحال اور موقع کی نزاکت کو سمجھتے خاموش رہنا بہتر سمجھا۔۔۔۔

اور پھر واقعی اگلے چند منٹوں میں محلے کی مسجد کے امام مسجد بطور نکاح خواں وہان موجود تھے۔۔۔

صحن میں چارپائیاں بچھا کر نکاح کر انتظام کیا گیا۔۔۔

کنزل ایمان ولد احمد علی آپکا نکاح شاہ میر خان ولد واجد خان کے بعوض حق مہر پچاس لاکھ سکہ رائج الوقت قرار پایا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔ مولوی صاحب کے نکاح کے مندجات پڑھتے ہی وہاں سارے میں خاموشی چھا گئ۔۔۔ جتنا ایمان کا حق مہر لکھوایا گیا تھا اتنی اکھٹی رقم اس پورے محلے میں کسی نے ایک ساتھ نا دیکھی تھی۔۔۔

ماں کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔۔

لمحوں کا کھیل تھا اور ایک مرتبہ پھر سے سب کے سامنے ایجاب و قبول کے مراحل طے پا گئے۔۔۔

نکاح مکمل ہوتے ہی بنا ایک پل کی بھی تاخیر کئے وہ خطرناک تاثرات لئے ایمان کی بازو تھامتا اسے لوگوں کی لگی بھیڑ میں سے نکالتا لا کر گاڑی میں بیٹھا چکا تھا۔۔۔

جبکہ امجد کی واپس چند لمحوں کی تاخیر سے ہوئی۔۔۔

خان یہ اس مولوی سے حاصل کئے گئے تینوں نکاح نامے ہیں کے ہم یہ نکاح خود ہی رجسٹر کروا لیں گے۔۔۔ امجد نے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالتے نکاح نامے اسکی جانب بڑھائے۔۔۔ رکھو ان کاغذ کے ٹکروں کو میں کیا اسکا چار ڈالوں۔۔۔ وہ کوفت و جنجھلاہٹ سے پھٹ پڑا۔۔۔۔ خان نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی کے اس وقت اسکے مالک کا موڈ سخت خراب تھا۔۔۔

*****

گاڑی ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کے احاطے میں آ کر رکی تو خان نے گاڑی سے نکلتے ہی ایمان کو گاڑی سے نکلنے کا کہا جو تقریباً سارے راستے ہی آنسو بہاتی آئی تھی۔۔۔

چند راہداریاں گزر کر لفٹ کے ذریعے وہ مطلوبہ اپارٹمنٹ تک پہنچے جو ایک چھوٹا مگر خوبصورت لگزری فرنشڈ اپارٹمنٹ تھا۔۔۔

مس کنزل ایمان۔۔۔ لاوئنج کے وسط میں کھڑا وہ ایمان کی دگرگوں حالت دیکھ گویا ہوا۔۔۔

یہ رہا تمہارا اپارٹمنٹ۔۔۔ اور یہ اسکے کاغذات اسنے پہلے سے ہی میز پر پڑے کاغذات کی جانب اشارہ کیا۔۔۔

یہ رہی تمہاری سیونگ اکاونٹ کی چیک بک جس میں تمہارے حق مہر کے پچاس لاکھ ڈپوزٹ کروا دئے گئے ہیں۔۔۔ تمہارا اے ٹی ایم کارڈ چند روز تک اسی ایڈریس پر پہنچ جائے گا۔۔۔

نام تمہیں میں اپنا دے چکا ہوں۔۔۔ تمہارے گھر والوں اور محلے کے سامنے بھی اور اس اپارٹمنٹ بلڈنگ میں بھی تم ایک شادی شدہ خاتوں ہو۔۔۔۔ تمہاری ساری ڈیمانڈز پوری ہوئیں لحاظہ تمہارا میرا ساتھ یہیں تک تھا۔۔۔ اپنے کہے کے مطابق تم مجھے دوبارہ پکارنے کا کوئی حق نہیں رکھتی۔۔۔ اب تم جانو اور تمہارا کام جانے۔۔۔ اپنی زندگی کے بارے میں ہر بہترین فیصلہ کرنے کا اختیار تم خود رکھتی ہو۔۔۔ جب تمہیں لگے کے تمہیں اس نام نہاد رشتے سے نکل کر آگے بڑھ جانا چاہیے تب تم آگے بڑھ سکتی ہو۔۔۔

خان دو ٹوک انداز میں اپنی سبھی باتیں مکمل کر کے بنا اسکی فق ہوتی رنگت پر دھیان دئیے وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔ بنا اسے اپنا کوئی رابطہ نمبر دئیے۔۔۔ بنا اسے اپنے کسی ٹھکانے کا بتائے وہ اسے تن تنہا چھوڑے دنیا کی بھیڑ میں گم ہو چکا تھا۔۔۔ جبکہ پیچھے کنزل ایمان اپنے تمام ڈر و خوف سمیت تنہا کھڑی تھی۔۔۔۔

خان آپ پچھلے کئ دنوں سے پروشہ میم کا فون نہیں اٹھا رہے۔۔۔ وہ آ کر ابھی گاڑی میں بیٹھا ہی تھا جب امجد کے کہنے پر غصے سے اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔

ہاں تو۔۔۔ اسکا انداز پھاڑ کھانے والا تھا۔۔۔

تو یہ کے میم آپ سے رابطہ استوار نا ہونے کی صورت میں آپکی یونیورسٹی آگئ ہیں۔۔۔

وہاٹ۔۔۔ وہ چٹخا۔۔۔ سکون کیوں نہیں اس لڑکی کی جان کو ۔۔۔ موڑو گاڑی یونیورسٹی کی جانب۔۔۔ وہ جھنجھلا کر گویا ہوتا ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔ اسے ناجانے اسقدر غصہ تھا کس بات پر۔۔۔۔

******