Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 40 (Last Episode)

389.2K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nabz-al-Qalb Episode 40 (Last Episode)

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah

سر……سعد اسے سہارا دیتا اسے پکارے گاڈرز کی مدد سے اسکا خون میں لت پت وجود اسے گاڑی میں ڈالتا گاڑی زن سے ہوسپٹل کی طرف بڑھا گیا

ولیہ دھیان سے! سائمہ بیگم اسے گرنے سے پہلے سنبھالا دیتی بولیں

کیا ہوا پریشان ہو؟ وہ اسکے تاثرات دیکھ کر اسے صوفے پر بیٹھاۓ پریشانی سے بولیں

پتا نہیں موم نائل کل رات سے نہیں آۓ عجیب عجیب خیالات آرہے ہیں! وہ اپنا دل مسلے بولی

ہاں پتا تو کرو..کبھی یوں اتنا وقت نہیں ہوا اب تو مجھے بھی ہول اٹھنے لگے ہیں زارون زرا فون کرو بھائی کو! وہ لوگ اس وقت ٹی وی لاونج میں موجود تھے جب رباب بیگم نے سامنے سے آتے زارون سے کہا

جی موم کرتا ہوں آپ پریشان نا ہوں….زارون مسکرا کر کہتا اسے کال ملا گیا جو کہ دوسری رنگ پر اٹھا لیا گیا

بھائی یار کہاں ہیں آپ یہاں دو خوبصورت لیڈیز آپ کے لیے پریشان…..وہ شوخ لہجے میں کال آٹینڈ ہوتے ہی بولا کے دوسری طرف کی بات پر باقی الفاظ منہ میں ہی رہے گئے

واٹ کونسے ہوسپٹل میں؟ اس کے کہنے پر ولیہ نے بے ساکتہ اپنا دل تھاما

کیا ہوا ہے زارون کچھ بولو میرا دل بیٹھا جا رہے ہے..رباب بیگم اس کہ زرد ہوتی رنگت کو دیکھتی بھاری آواز میں بولیں

موم وہ وہ ببھائی بھائی کو گولی لگی ہے وہ ہوسپٹل ہیں ….وہ پسینے سے شرابو ہوتا باہر کی طرف لپکا

یا اللہ میرا بچہ…! اس کے لفظوں پر رباب بیگم بے سد سی صوفے پر ڈھے گئیں جبکہ وہ خاموشی سے جاتے ہوۓ زارون کی پشت دیکھ رہی تھی

تو کیا واقعی اس کی غلطی اتنی بڑی تھی کہ اسے معافی تک مانگنے کا موقع نا دیا جاۓ

کیا وہ واقعی اتنی بڑی سزہ کی حقدار ہے؟

ہاں تم حقدار ہو اس سب کی ولیہ…بہت اچھا ہو رہا ہے تمہارے ساتھ اپنے رب کے اتنے قریب ہونے کے باواجود تم شوہر کا رتبہ نا سمجھ سکی؟ نا سمجھ سکی کے جسے اللہ نے دنیا میں تمہارا محافظ بنا کر بھیجا ہے وہ بھلا کیسے خیانت کر سکتا ہے؟ دیکھ لو تم نے اس ذات کے دیے گئے تحفے پر شک کیا اب وہ خدا ہی اسے تم سے چھین رہا ہے دیکھ لو…..

اس کے سامنے اسکا اپنا وجود ایک سوالیہ نشان بنے کھڑا تھا

دل ہی دھڑکن جیسے آستہ آستہ بند ہونا شروع ہوئی تھی

تبھی ایک اور آواز آئی تھی جس نے اندھیروں میں ایک بار پھر روشنی کی تھی ہاں وہی آواز جو دھڑکن دل تھی

نبض القب….

ہاں دھڑکن دل…

اتنی جلدی ہار مان گئی؟ نائل کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی بے ساکتہ وہ ہوش میں آتی چلائی

مموم مجھے مجھے ہوسپٹل لے جائیں مممجھے ننائل کے پاس… رونے سے اسکے الفاظ نکل نہیں پا رہے تھے وفا نے. آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا تھا وہ کب اور کس طرح ہوسپٹل پہنچے تھے اسے کچھ خبر نا تھی دل تھا

جو صرف اس میں اٹکا ہوا تھا

کس نے کیا ہے یہ؟ دادا سائیں ارسلان اور فرحان صاحب اس وقت سعد کے سامنے کھڑے تھے

میر شہزاد کی ماں نے…..! سعد سر جھکاۓ بولا

یہ عورت پتا نہیں ہم سے کیا چاہتی ہے جب سے گاؤں والوں نے اس کے شوہر کی جگہ ہمیں اپنا سربراہ مقرر کیا جب سے بیڑ باندھے ہوۓ ہے! دادا سائیں پریشانی سے پیشانی مسلتے بولے

لیکن اس بار میں اسے عورت سمجھ کر نہیں چھوڑوں گا میرے نائل کو اگر کچھ بھی ہوا میں خدا کی قسم سب تباہ کر دوں گا! ارسلان صاحب پہلی بار یوں تیش میں آۓ تھے

آپ فکر نا کریں بھائی ہم بے اسے آریسٹ کرلیا ہے آپ سب نائل کے لیے دعا کریں.. فرحان صاحب ان کا بازو مسلتے بولے کے ان کی باتوں سے بے زر سی وہ شیشے کی دیوار کے پار اس شخص کو مشینوں میں جکڑے دیکھ خود سے ایک جنگ لڑ رہی تھی

وہ آج پہلی بار یوں خاموش نظر آرہا تھا آج پہلی بار اس کی خاموشی ولیہ کو ختم کر رہی تھی اپنے محافظ کو یوں تکلیف میں دوسروں کے اسرے پڑے دیکھنا ایک بیوی کو ختم کرنے کو کافی ہوتا ہے جس نے آج ولیہ کاظمی کو بھی توڑ کر رکھ دیا تھا پہلی بار اس کے اندر احساس جاگا تھا

وہ نہیں تو کچھ نہیں….

وہ ہے تو سب کچھ ہے….

اگر اسے کچھ ہو گیا تو اس کی زندگی میں کچھ نہیں بچے گا…. یہ احساس ہی اسے ختم کرنے کو کافی تھا نجانے کتنے گھٹنوں سے وہ یہی کھڑی تھی رباب بیگم باقی خواتین کے ساتھ پیچھے کرسیوں پر بیٹھیں دعا گو تھیں جب ڈاکٹر باہر آتا دیکھائی دیے جنہیں دیکھتے ہی زارون سعد اور معصب دوڑ کر ان کے سر پر پہنچے تھے

پیشنٹ کی حالت کریٹکل ہے دو گولیاں سیدھا سینے کے پاس سے نکلی ہیں آپ سب دعا کریں وہی ذات ہے جو معزوں پر قادر ہے دعا ہے کوئی معزہ ہو جاۓ! ڈاکٹر ان سے کہتے آگے بڑھ گئے کے ان کے الفاظوں سے سب کے دلوں میں ایک کرہام سا مچا تھا

آپ دعا کریں وہی ذات ہے جو معزوں پر قادر ہے! ڈاکٹر کے الفاظ اس کے ذہن میں کسی ہتھوروں کی طرح بجے تھے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ ہسپتال میں موجود مسجد کی طرف بڑھی

ولیہ کہاں جا رہی ہو؟ وفا اس کے پیچھے بھاگی

اس سے مانگنے جو دینے پر قادر ہے!

*****************

”آہ مجھے پتا تھا آپ آئیں اور میرے ساتھ کچھ غلط نا ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا کنڈلی میں بیٹھے ہوۓ ہیں آپ میری سر پھوڑ دیا آتے ہی

غلطی میری نہیں تمہاری ہے….

تائی ماں دیکھ رہی ہیں آپ آتے ہی مجھے چوٹ دے دی….

یہ خود مجھ سے آکر ٹکرائی ہے موم!“

”کچھ چاہیے؟

جی آپ کا خون…!

تتو کتنی غلط بات ہے نا یہاں تو سب میری پسند کا ہے چڑیلوں کے لیے خون کا تو انتظام تو یہاں ہے ہی نہیں!“

” میرے سامنے اپنی یہ زبان لیمٹس سے ہی چلانا نائل کاظمی کو زیادہ بولنے والی لڑکیاں پسند نہیں ہے!“

”تمہیں کیا لگتا ہے تم مجھ سے پنگلہ لو گی تو میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دوں گا؟ مجھ سے دور رہو میں خطرناک ثابت ہونگا تمہارے لیے“

”گھر سے کالج تک میرا پورے پانچ سو کا پٹرول لگا ہے باقی کے چار سو پچاس روپے دو؟“

”اب جتنی بڑی مصیب ہوگی اسے ہی گھر سے بھاگائیں گے نا!“

”آپ ولیہ کے رشتے سے انکار کر دیں!

کیوں کہ ولیہ کی شادی مجھ سے ہو رہی ہے“

”میرے بدلے تو تم سے شادی کے بعد شروع ہونگے ولیہ کاظمی… جنہیں شاید برداشت کرنے کی تم میں سکت بھی نا ہو… سو جسٹ ویٹ اینڈ وچ تمہیں پتا لگے گا نائل کاظمی سے پنگہ لینے گا انجام کیا ہوتا ہے جاؤ بچا سکو تو بچا لو خود کو نائل کاظمی سے“

“تمہیں کیا لگ رہا ہے اگر تم خوبصورت لگ رہی ہو تو میں تمہیں جواب نہیں دوں گا؟“

”ویسے ان بیوٹیشنز کا بھی الگ سے ہی حساب ہوگا۔۔۔چڑیلوں کو بھی اپسرا میں تبدیل کر دیتی ہیں“

”جب آپ شادی کے بارے میں اتنا ہی جانتی ہیں مسز ولیہ تو یہ بھی جانتی ہونگی کے شادی کے بعد شوہر کے بھی کچھ حق ہوتے ہیں سوچوں اگر میں تم سے اپنے حق وصول کرنے لگا تو……“

”رک کیوں گئی چلو بھاگو اس سے پہلے یہ بلی کا بچہ ہمیں قتل کر دے“

”تم مجھے اچھی یا بری نہیں لگتی تم مجھے میری لگتی ہو..“

”آپ کی بیٹی کے کرتوت دیکھ کر ہی میں نے ولیہ جیسی باکردار لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کیا تھا“

“میں اس بار واقعی لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں آئندہ میری بیوی سے اس قسم کی تو کیا کوئی بھی بات مت کرئیے گا“

”میرے جیسے ہٹلر کے ساتھ رہے کر کھڑوس بنو نا بنو مگر تم جیسی پاگل کے بغیر میں ضرور پاگل ہو جاؤں گا! “

”میں نے تمہیں ہمیشہ خود سے بلند اور اعلی سمجھا ہے کیوں کہ تم میری محبت کی اکلوتی وارث ہو اب اس سے زیادہ میں تمہیں اپنی محبت کی کوئی وضاحت نہیں دوں گا“

یا اللہ پلزز میرے شوہر کو زندگی دے دیں میں مر جاؤں گی اب کے بغیر پلزز اللہ تعالی! دعا کرتے کرتے اسکی زندگی کے یہ دس ماہ کسی فلم کی طرح اس کے سامنے چل رہے تھے

پلزز اللہ تعالی پلز آج جانتے ہیں میں نے شروع سے ساری فرمائش آپ سے ہی کی ہیں آپ پلزز میری زندگی سے یہ سایہ مت چھینے میںبے بس ہوں لیکن آپ تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں ایسا کیا ہے جو آپ کے بس میں نا ہو پلزز میری مدد کریں اپنی اس خطا کار بندی پر رحم کریں

ولیہ میری جان اس طرح تمہاری حالت خراب ہو جاۓ گی….سائمہ بیگم اسکے پاس آۓ بولی جو نجانے کب سے ایسے ہی ہاتھ پھیلاۓ خاموش دعا مانگ رہی تھی

چچی… .ولیہ وہ بھائی…

کیا ہوا نائل کو؟ زارون کی ٹوٹی پھوٹی حالت دیکھ کر وہ دل تھامے بولی

بھائی کو ہوش آگیا ہے مگر حالت ٹھیک نہیں ہے مسلسل تمہارا نام لے رہے ہیں جلدی چلو…..وہ نظریں چراۓ بولا کے اس کی بات سنتے ہی وہ آنسو صاف کرتی اپنی بے ترتیب ہوتی دھڑکنیں سنبھالتی اس کے روم کی طرف بھاگی تھی

سامنے ہی وہ مشینوں میں جکڑا آنکھیں موندے نظر آیا نجانے کتنے آنسو ٹوٹ کر پلکوں سے آزاد ہوۓ تھے وہ آستہ آستہ قدم بڑھاۓ اس کے قریب آئی اپنے قریب اس کی خوشبو محسوس کیے وہ غندوگی میں ہی مسکرایا

جان نائل؟ وہ بامشکل آنکھیں کھولے بولا کے اس کے طرز مخاطب پر ولیہ کی ہجکیاں باندھ گئی

کم ہیئر سوئٹ ہارٹ! وہ مسکراتی آنکھوں سے بولا کے اس کے بلانے پر وہ کٹی دور کی مانند اس کے پاس چلی آئی

رو مت! اسکا ہاتھ اپنی گرفت لیے وہ محبت سے لبریز لہجے میں بولا

آپ ٹھیک ہو جائیں مجھے ضرورت ہے آپ کی! آنسوؤں کے بیچ وہ بامشکل لب ہلا پائی تھی

اگر مجھے پتا ہوتا کہ تمہین میری ضرورت ان سب کے بعد پڑھنی تھی تو میں یہ کام پہلے ہی کروا دیتا…اب کے وہ اسے چھیڑنے کو بولا کے اس کی بات پر ولیہ نے خفگی سے اسے دیکھا

اگر آپ نے یہی باتیں کرنی ہیں تو میں چلی جاتی ہوں….مسنوئی ناراضگی سے کہتی وہ آگے بڑھنے لگی جب نائل نے اسکا ہاتھ تھاما

مت جاؤ…کچھ لمحے میری پاس گزار لو کیا پتا پھر ملاقات ہو نا ہو…وہ آنکھ دباۓ بولا تکلیف کے اثار اس کے چہرے پر واضع تھے اور ولیہ کو لگا اگر اسے یہ شخص نا ملا تو وہ اگلا سانس نہیں لے پاۓ گی

ایسے مت کہیں میں مار جاؤں آپ کے بغیر! وہ ہجکیوں سمیت اسکے بازو پر سر رکھے بولی جب اسے اپنے سر پر کچھ گرتا محسوس ہوا بے ساکتہ اسنے سر اٹھا کر نائل کو دیکھا جو اپنا رخ پھیر گیا

وہ رو رہا تھا….اس کی آنکھوں کے کنارے سے پٹکتے اس کے رونے کی گواہی دے رہے تھے

میں نے تمہارے ساتھ مرنے کی نہیں جینے کی خواہش کی تھی ولیہ! اس کی آواز بھاری تھی اور اگلے ہی لمحے مونیٹر پر چلتی لکیروں ٹو ٹو کی آواز کرتی سیدھی ہوئی تھیں

نائل؟ ڈاکٹرز…….. اس کی بگڑتی حالت کو دیکھتی اسکا ہاتھ تھامے وہ بری طرح چلائی

آپ پلزز باہر جائیں….

پلزز میرے ہسبند کو بچا لیں پلززز! وہ روتی بے حال ہوئی جب اندر سے آتے شور کی وجہ سے زارون اندر آۓ اسے زبردستی باہر لایا تھا

ڈاکٹرز اپنی پوری کوشش کر رہے تھے شیشے کے پاڑ سے صاف دیکھائی دے رہا تھا وہ اب اسے شوک دینے والے تھے اس کی تکلیف محسوس کرتی وہ نڈحال سی وفا جے سہارے کھڑی تھی دوسری طرف رباب بیگم کا بھی کچھ یہی حال تھا

ایک پھر دو….تین…اور نجانے کتنے شوک کے بعد اسکی دھڑکنوں میں ہلکا سا ارتعاش پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ اسے ایسے بے بس دیکھ کر ولیہ کے رونے میں شدت آئی

یا اللہ یا رحم! ایک آہ دل سے نکلی تھی اور پھر وہ ذات تو ہر چیز پر قدرت رکھتی ہے سنا ہے دل سے نکلی آہ سیدھا آسمان کو چیڑتی ہوئی جاتی ہے اور شاید یہی لمحہ تھا جب اس بے بس بیوی کی آہ بھی اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہوئی تھی اور وہ رب تو پھر بے نیاز ہے جب دیتا ہے تو نے نیاز دیتا ہے اسی طرح اس پاک ذات نے اسے ایک اور نعمت دی تھی اس کے شوہر کو زندگی دے کر…..

مزید کچھ کوششوں کے بعد ڈاکٹرز اس کی دھڑکنیں نارمل کرنے میں کامیاب ہوۓ تھے

Its a mircal!!

یہ کہنا غلط نہیں ہے یہ ایک معزہ ہے کے ایک پیشنٹ جس کے سینے کے پاس سے گولیاں گئی ہوں جس کی سانس بلکل ختم ہونے کے ڈر پر ہو اور اسے ایسے شفا مل جاۓ؟ ڈاکٹرز آپس میں تبصرہ کرکے باہر آۓ جب دادا سائیں سمیت سب ان کی طرف بڑھے تھے

ڈاکٹر صاحب میرا بچہ کیسا ہے؟ رباب بیگم تڑپ کر بولیں

ہم ابھی یہی ڈسکس کر رہے تھے کہ یہ ایک معزہ ہے بٹ ہی از فائن ناؤ لیکن ابھی تک ان کی ہارٹ بیٹ ٹھیک نہیں ہے اسئلے آپ دعا کریں! ڈاکٹرز مسکرا کر بولے

اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡر ٌ

اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡر ٌ

اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡر ٌ بے ساختہ سب کے دلوں سے یہی سدا بلند ہوئی تھی

بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے! ڈاکٹر مسکرا کر کہتے آگے بڑھ گئے

ولیہ؟ وفا اسکے گرتے وجود کو تھام کر بولی جو اب ہوش سے بیگانہ ہو گئی تھی

*******************

اسے ہوش میں آۓ کچھ ہی وقت ہوا تھا سب باری باری جاکر اس سے ملے تھے جب کے فرحان صاحب نے تو اس کی حالت کے باواجود اس کی جم کر کلاس لی تھی جسے وہ بے زاری سے سن رہا تھا انتظار تھا تو صرف اس دشمن جان کا جو اب تک اس کے پاس نہیں آئی یاد کرنے پر بھی اسے صرف اپنی گھر والی ملاقات یاد تھی اب بھی اینستھیزیا کے زیر آثر غندوگی میں ہونے کے باعث وہ بے زر سا تھا

کچھ چاہیے میری جان؟ رباب بیگم محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی بولی

جی بس بیٹھوں گا لیٹ لیٹ کے تھک گیا ہوں! وہ بے زاری سے بولا جب معصب نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بیٹھایا

کیسا لگ رہا ہے پھر سکون محسوس ہوا اب کچھ؟ معصب طنزیا بولا جس پر وہ محض اسے غور کر رہے گیا

چلو اب آپ رام کرو میں ولیہ کو بھیج دیتی ہوں! رباب بیگم محبت سے بولی

جی بھیج دیں اسے خود تو خیال آۓ گا نہیں….وہ منہ بناۓ بولا

”ایسی بات نہیں ہے اس کی خود کی طبیت ٹھیک نہیں ہے وہ کچھ دیر پہلے ہی ہوش میں آئی ہیں رو رو کر نڈحال ہو گئی ہے“ رباب بیگم کے کہنے پر اسکے ہونٹ اوہ کی صورت میں کھولے

چلو میں بھیجتی ہوں!

ولیہ بیٹے آپ یہاں بیٹھی ہیں؟ نائل کا سوچے گا جاؤ میرا بچہ اس کے پاس جاؤ! رباب بیگم اس کی جھجھک محسوس کیے محبت سے بولیں

جی تائی ماں جاتی ہوں! خود کو سنبھالتی اپنے آنسو روک کر اندر داخل ہوئی جہاں وہ اسے سامنے ہی بیڈ سے ٹیک لگاۓ آنکھیں چھوٹی کرکے شرارت سے اسے دیکھ رہا تھا

بڑی دیر کر دی مہربان آتے آتے…! وہ شریر روٹھنے کے سے انداز میں بولا کے اس کی بات پر وہ خاموشی سے اپنی جگہ اٹک گئی

حد ہے یار عموما ایسے سین میں ہیروئن بھاگتے ہوۓ ہیرو کے گلے لگتی ہیں لیکن یہاں تو اب بھی قدر نہیں ہوئی اس سے اچھا ہوتا میں مر..

شٹ اپ….! اس کی باے مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ بری طرح چلائی کے اس اچانک اتفاد پر وہ حیرانی سے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ گیا جب وہ آگے بڑھ کر اس کے سر ہوئی تھی

شٹ اپ شرم نہیں آتی آپ کو اس کنڈیشن میں بھی یہ فضول باتیں سوجھ رہی ہیں آپ کو؟ ولیہ اسکا گریبان تھامے غرائی

آپ کو اندازہ ہے میرے اوپر کیا گزری نہیں آپ کو کبھی میرا کچھ پتا ہی کب لگتا ہے آئی ہیٹ یو….! وہ افسوس سے سر جھٹکتی پلٹنے لگی کے نائل نے اسکا ہاتھ تھاما

چھوڑیں!

پہلے ادھر آؤ!

نہیں آنا مجھے….

دیکھ لو پھر اس بار گیا تو….باقی کے الفاظ اس کی اگلی حرکت پر ششدر ہوکر منہ میں ہی رہے گئے جب وہ اس کے گلے لگ کر اسکے سینے میں سر چھپاۓ ہجکیوں سے رونا شروع ہوئی تھی

اب رو کیوں رہی ہو؟ اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرے وہ ہنوز اسے چھیرنے کو بولا کے اس کی بات پر وہ اس کہ شرٹ مزید مضبوطی سے تھام گئی

میں ڈر گئی تھی اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو….

تو تم بیواہ ہو جاتی ہیں نا؟ وہ اپنی دھن میں بولا کے اس کے کہنے پر ناچاہتے ہوۓ بھی وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی

آپ کبھی مجھے سریس لے سکتے ہیں؟

ایک تمہارے معاملے میں ہی تو سریس ہوں! اپنے سینے میں اٹھتے اچانک درد ہو نظر انداز کرتا وہ گھمبیر لہجے میں بولا جبکہ اس کے تاثرات سے وہ اچھی طرح اس کی تکلیف کا اندازہ لگاتی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی جس سے وہ پرسکون ہوتا آنکھیں موند گیا

کچھ زیادہ مہربانیاں نہیں کر رہیں آپ؟ وہ موندی آنکھوں سے چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ بولا

”سو جائیں آپ کو رسٹ کی ضرورت ہے یہ فضول گوئیاں تو آپ بعد میں بھی کر سکتے ہیں نا“ وہ اپنی مسکراہٹ دباۓ بولی یہ شخص آج اسے بے حد حسین لگا تھا جو اپنی تکلیف کے باواجود اسے چھیر کر ہنسانے کی کوشش کر رہا تھا

ایسے کیسے اب روز روز تو آپ کی مہربانیاں تھوڑی نصیب ہونگی اب پتا نہیں اگلی چوٹ کب لگے!

چپ کر جائیں بہت فضول بولتے ہیں آپ…! سر جھٹک کر کہتی وہ بے اختیار اسکی پیشانی پر جھکتی لب رکھتی باری باری اس کی آنکھوں پر جھکی تھی جو وہ اب غنودگی کے باعث بند کر گیا تھا

میں ابھی سونا نہیں چاہتا تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھ سے آنکھیں نہیں کھول رہی….وہ اینستھیزیا سے سخت اکتا کر بولا

ابھی آپ کو ریسٹ کی ضرورت ہے نائل! وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتی اس کے پیشانی سے سر ٹکا گئی کے اس کے لمس سے پر سکون ہوتا وہ اب پوری طرح نیند میں ڈوب گیا تھا

********************

ایک ہفتے بعد:

افف اللہ نائل خدا کو مانیں آپ کب سے اتنا پھیلاوا کرنے لگ گئے؟ وہ اسکے کپڑے اٹھاتی اب تھک گئی تھی ایک تو زارون اور وفا کی شادی کے کام اور اب یہ شخص….

میں آپ سے بات کر رہی ہوں! اسے ہبوز شیشے میں بال بناتے ہوۓ خود نظر انداز کرتے دیکھ اسکا بازو جھنجھوڑتی بولی

میں نے تمہیں نہیں کہا کے سمیٹوں ملازمہ ہے میرے کاموں کے لیے! سپاٹ انداز میں کہتا وہ اسے مزید تپا گیا

ٹھیک ہے خود کر لیں! سارا سامان ایسے ہی پھیکتی وہ منہ بناۓ صوفے پر بیٹھ گئی ایک ہفتے میں وہ کافی ریکور ہو گیا تھا اسی کی ضد کے باعث زارون اور وفا کی شادی ڈیٹ آگے کرنے کے بجاۓ فیکس ڈیٹ پر ہو رہی تھی

اوکے! سنجیدگی سے کہتا وہ خود سے چیزیں سمیٹنے لگا جب اسکا ہاتھ شیشے زمین پر پڑے شیشے کے گلاس پر گیا وہ نجانے کب میں گر کر ٹوٹا تھا

شٹ…! اس کی غراہٹ سے وہ اس جانب متواجہ ہوتی اس کی طرف بڑھی کو اب وشروم کی طرف بڑھ رہا تھا

ہٹو پیچھے..! اسے اپنے راستے میں حائل ہوتے دیکھ کر وہ سختی سے بولا آج کل اسکا یہ روایہ اسی طرح کا ہوتا تھا اسئلے وہ اب خاطے میں لاۓ بغیر اسکا ہاتھ تھام گئی جسے وہ فوری جھٹک گیا

کہا نا ہٹو…. وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر غرایا کے یہاں ولیہ کی بس ہوئی تھی

خ خ خون نکل رہا ہے! وہ آنسو پیتی ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولی اسکا یہ روایہ اس کی سمجھ سے باہر تھا

تو؟

تو میں بینڈج کر دیتی ہوں!

جب تمہاری بینڈج کی ضرورت تھی جب تم نے کر دی اب ان چھوٹی چھوٹی چوٹوں کے لیے میں تمہیں مجبور نہیں کر سکتا خود کو ہاتھ لگانے سے ویسے بھی تمہیں میرا لمس زہر لگتا ہے نا! وہ سپاٹ انداز میں کہتا آگے گیا کے آج ولیہ کو اس کی ناراضگی کی وجہ سمجھ آئی تھی

آہ نائل کاظمی آہ…کتنے ڈھیٹ ہیں آپ اور کتنی بار سوری کروں؟ وہ اسے تقریبا روز ہی اپنے کسی عمل سے سوری کرتی تھی مگر وہ نجانے کیا سوچے بیٹھا تھا

ٹھیک ہے اب میں بھی نہیں مناؤں گی! منہ پھلا کر کہتی وہ کمرا جلدی جلدی سمیٹ کر باہر نکل گئی آج زارون اور وفا کی مہندی تھی جس کے باعث گھر میں مہمانوں کی ہلچل مچی ہوئی تھی

پورے کاظمی ویلا کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا آج زارون اور وفا کی مہندی کے ساتھ ساتھ رامشہ اور معصب کا نکاح بھی تھا جس کی وجہ سے مہندی کا سیٹ اپ اور سفید پیلے اور گلابی پھولوں سے کیا گیا

کچھ ہی دیر میں مہندی والی نے آکر سب کے ساتھ ساتھ اسکے ہاتھوں کو بھی مہندی سے بھر دیا تھا

ولیہ بیٹے تم نے تیار کیسے ہونا ہے؟ سائمہ بیگم اس کے مہندی سے رنگے خوبصورت ہاتھ دیکھ کر بولی

موم جو بیوٹیشن وفا کو تیار کر رہی ہے وہی مجھے کر دے گی!

تو پھر یہ کون ہیں یہ کہ رہی ہیں تم نے ان سے ریڈی ہونا ہے؟ سائمہ بیگم دوسری بیوٹیشن کی طرف اشارہ کرتی بولیں جس پر وہ محض مسکرا کر رہے گئی یہ ضرور اسکے شوہر کا کام تھا

جی موم وہ نائل نے بھیجا ہوگا! وہ اپنی رنگت چھپاتی بولی مگر وہ تو ماں تھیں

اچھا ماشاءاللہ جاؤ پھر تیار ہو جاؤ اب وقت کی کتنا رہے گیا ہے! ان کے کہنے پر وہ سر ہلاتی بیوٹیشن کے ساتھ اپنے روم کی طرف بڑھ گئی

********************

شام کت تقریبا ساتھ بج چکے تھے

میم اب آپ ریڈی ہیں اب جاکر ساڑھی سیٹ کر سکتی ہیں ! بیوٹین آخری ٹچ دیتی مسکرا کر بولی

ٹھیک ہے! جوابا وہ مسکرا کر اٹھتی چینجنگ روم کی طرف بڑھی تھی چند منٹوں بعد وہ ساڑھی پہنے باہر آۓ اپنا عکس دیکھتی کائی گرین ساڑھی اور لائٹ سے میک اپ پر ریڈ لپ اسٹک لگاۓ اپنے مہندی سے رنگے ہاتھوں کو سبز چوڑیوں سے بھرے بالوں کو فلحال اسے ہی پشت پر چھوڑے وہ اپنی ساڑھی کو پن اپ کرنے لگی

جب اسکے روم کا دروازہ کھلا اور وہ روم میں داخل ہوا بیوٹیشن اسے آتا دیکھ کر سر کے اشارے سے سلام کیے باہر نکل گئی کے اندر داخل ہوتے ہی نظر اس پر گئی شیشے کے سامنے کھڑی اپنی ساڑھی کا پلو پن اپ کرتی مصروف سی اسے ہر لحاظ سے زیر کرنے کو تیار تھی

اپنا حلق تر کرتا وہ آستہ آستہ قدم بڑھاۓ اسکے عین پیچھے آکر کھڑا ہوا کے اسکا عکس شیشے میں دیکھتے ہی دل ڈوب کر ابھرا وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی

باتوں سے کام نہیں چلا تو اب اداؤں سے مارنے کے ارادے ہیں؟ خمار آلود لہجے میں اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا وہ اس کی جان ہوا کر گیا وہ کب میں روم میں آتا اسکے عین پیچھے کھڑا ہوا اسے اندازہ نہیں ہو سکا

آآآپ ککب آۓ؟ وہ چاہتے ہوۓ بھی اپنی کپکپاہٹ دور نہیں کر سکی

جب آپ خود کو میرے لیے سجانے میں مصروف تھیں! اسکے ہاتھوں سے پن لیے خود سے اسکا پلوں سیٹ کرتا وہ رومانی امداز میں بولا

ننائل…..!

ہمم؟ وہ بظاہر اس کی ساڑھی میں مصروف سا تھا لیکن اپنی قربت سے اس کے سارے چہرے پر آتے سارے رنگوں کو بخوبی محسوس کر رہا تھا

مممیں کر لیتی ہوں آپ فریش ہو جائیں!

بس ہو گیا سوئٹ ہارٹ! اسکا پلو پن اپ کرکے وہ اب پوری طرح اس کی جانب متواجہ ہوا کے اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتی وہ نظریں جھکا کر اپنے کڑھے اٹھانے لگی

مے آئی؟ گھمبیر لہجے میں پوچھا گیا تھا جس پر وہ چاہتے ہوۓ بھی انکار نا کر سکی

اسکے ہاتھ سے کڑھے لیتا خود اس کی کلائی میں ڈالے اگلے ہی لمحے اسکی کمر جکڑ گیا کے اس اچانک اتفاد پر وہ سٹپٹا کر رہے گئی

نائل پپپلللز…دیر ہو رہی ہے!

ڈونٹ وری سوئٹ ہارٹ تمہیں تمہارج اجازت کے بغیر ٹچ نہیں کروں گا ویسے بھی تمہیں میرا لمس….. اسکے کہنے سے پہلے وہ اسکے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ جما گئی

اس وقت میں غصے میں تھی اور کتنی بار سوری کروں آپ سے! وہ نظریں جھکاۓ اپنی آنکھوں کی سرخی چھپاتی بولی کے اس کی بات پر وہ شوخ ہوا

تو اسکا مطلب اب اجازت ہے؟ اسکے چہرے پر آئی چند لٹوں کو پیچھے کرتا وہ شرارت سے بولا جب ولیہ نے اسے پیچھے کیا

اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا.. .جائیں جاکر چینج کریں میں نے حجاب بھی کرنا ہے! اب کے وہ اسے گھورتے ہوۓ بولی جس پر نائل کھول کر مسکرایا

چلو پھر ابھی چھوڑ دیتا ہوں کیا یاد رکھو گی! شریر لہجے میں کہتا اسکی سرخ پڑتی ناک پر جھکے اپنے لب رکھے وہ واشروم کی طرف بڑھ گیا کے اتنے عرصے بعد اسکے لمس سے وہ پرسکون ہوتی سر تا پیر تک سرخ پڑی تھی

کچھ دیر بعد اپنا حجاب سیٹ کیے وہ نیچھے آئی جہاں سب اسکے منتظر تھے

ماشاءاللہ! رباب بیگم اسکے صدقے اترتی اسے سب سے ملوانے لگی تھیں اس کی شادی کے بعد یہ پہلی شادی آئی تھی جس کے باعث رباب بیگم اپنے چند رشتے داروں سے اسے اپنی بڑی بہو کی حیثیت سے ملوا رہی تھیں

تائی ماں میں وفا اور رامشہ کو دیکھتی ہوں…سب سے ملنے کے وہ مسکرا کر وفا اور رامشہ کے کمرے کی طرف بڑھی جہاں بیوٹیشن انہیں تیار کر رہی تھیں

وفا اورنج گرارے کڑتی پر بالوں کو پھولوں کی چٹیاں میں باندھے لائٹ سے میک اپ میں بے حد پیاری لگ رہی تھی جبکہ اس کے برعکس رامشہ نے سفید اور گلابی رنگ کا لہنگا پہنا تھا نکاح کے حساب سے پور پور معصب کے لیے تیار ہوئی وہ خوبصورتی سے تیار ہوئی تھی

تم دونوں ریڈی ہو…ارے ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو! وہ آنکھوں کی نمی صاف کیے بولی ابھی کچھ عرصے پہلے اس روپ میں اسنے حنا کو. دیکھا تھا درد کی ایک لہر اسکے وجود میں ڈوری تھی

رات کے دس بجے کے قریب مہندی کا فنشن اسٹارٹ ہوا تھا معصب اور رامشہ کا نکاح ہو چکا تھا اب وفا کو اسٹیج پر لا کر بیٹھایا گیا تھا جس کے بعد زارون اورنج اور سفید کڑتے پجامے پر سکن شال لیے شان سے چلتا اسکے ساتھ آکر بیٹھا تھا باری باری سب نے رسم کی تھی اس کے بعد فیملی شوٹ ہو رہا تھا

خود پر کسی کی مسلسل نظروں سے پریشان ہوکر وہ غیر ارادی توڑ پر اس کی طرف دیکھنے لگی جو کالے کڑتے پر کالی شال لیے آنکھوں میں ڈھیروں محبت سموۓ اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کی نظروں کی تاب نا لاتی وہ بے اختیار نظرین جھکا گئی

چلو بھئی اب بھائی اور ولی کے ساتھ پیکس لے دو! زارون کے بلانے پر وہ دونوں ساتھ کھڑے ہوۓ تھے

کب ختم ہوگا یہ فنشن؟ نائل اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا ذومعانی انداز میں بولا کے اس کی بات کا مفہوم سمجھتی وہ سرخ پڑی تھی

کیا ہوا ولی سامنے دیکھو نا یار!

ہاں ہا سامنے ہی دیکھ رہی ہوں.. وہ اسے چٹ رسید کرتی بولی اسکے بعد کچھ ڈانس کیا گیا تھا رات کے دو بجے وہ لوگ مہندی سے فری ہوکر واپس گھر میں داخل ہوۓ

ولیہ بیٹے سب نے کھانا کھا لیا تھا نا؟ رباب بیگم کے پوچھنے پر وہ سر اثبات میں ہلا گئی

چلو پھر جاکر آرام کرو ایسے کیوں بیٹھی ہو؟ اسے اکیکے ٹی وی لاونج میں بیٹھے دیکھ کر رباب بیگم پریشانی سے بولیں اب وہ انہیں کیا بتاتی وہ ان کے بیٹے سے چھپ رہی ہے

یہ پاگل لڑکی بچے اب مجھ سے! نجانے کتنے دیر سے وہ اسکے انتظار میں چکر کاٹ کر تھک گیا تھا جب روم کا دروازہ ہلکا سا کھلا

وہ دھڑکتے دل سے روم میں داخل ہوئی جب سامنا خواب ناک ماحول سے ہوز سد شکر وہ اسے روم میں کہیں نہیں تھا شاید ابھی تک باہر ہونگے! خود سے سوچتی وہ بے فکری سے آگے بڑھنے لگی جب کسی نے اسے کھینچ کر دیوار سے لگایا

مجھ سے بچ رہی ہو؟ وہ اسے دیوار سے لگاۓ دونوں کہنیاں اسکے اطراف میں ٹکاۓ بولا کے اس اچانک اتفاد پر ولیہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہے گئیں

جان نکال دی میری! اپنے دل ہر ہاتھ رکھے وہ اسے پیچھے کرتی بولی

اور جو تم نے آج میرے پر انتظار کروا کروا کر ظلم کیا ہے؟ اسے چینجنگ روم میں جاتے دیکھ کر وہ باہر سے ہی غرایا.

میں نے تو آپ کو نہیں کہا انتظار کرنے کو…وہ چینجنگ روم کے اندر سے ہی اونچی آواز میں بولی کے اس کی بات پر وہ سر جھٹک کر رہے گیا کافی لمحے گزرنے کے بعد بھی اسے باہر نکلتے دیکھ کر وہ اس کی حرکت سمجھتا لب بھیجنے بیڈ پر آکر کمبل منہ اوڑھے کروٹ لے گیا

اچھا خاصا ٹائم لگانے کے بعد وہ تقریبا آدھے گھٹنے بعد باہر آئی جہاں وہ اسے بیڈ پر بازو آنکھوں پر رکھے لیٹا دیکھائی دیا

ایک گہرا سانس ہوا میں آزاد کرنے کے بعد وہ آستہ آستہ چلتی بیڈ پر اپنی جگہ پر آئی سد شکر وہ سو چکا تھا مگر یہ خوشی اس کی اگلے پانچ منٹ میں ختم ہوئی تھی جب وہ ایک ہی جست میں اسے اپنے قریب کرتا اس پر جھکاؤ کیے کہنیاں اسکے اطراف میں ٹکا گیا

آج بچاؤ ناممکن ہے بیگم! ذومعانی انداز میں وہ اسکی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا کر گیا

مممجھے ننید….وہ بولتی جب وہ اسکے لبوں پر جھکے اسکے الفاظ خود میں سمیٹ گیا

نائل پلززز!

ششش! کافی لمحوں بعد اسے آزادی بخش کر اسکے چہرے کے بدلتے رنگ اپنے اندر اتارے تھے جب کہ وہ اب گہرے گہرے سانس لیے سرخ سی خود کو نارمل کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی

نائل؟

جی جان نائل…!

آپ کو صبح جلدی اٹھ کر سارے انتظام دیکھنے ہیں! وہ نے ترتیب ہوتی دھڑکنوں سے بامشکل لفظ ادا کر پائی تھی

میں دیکھ لوں گا! اس کی بات پر کھل کر مسکراتا وہ اسکے گال کا بوسہ لیے بولا جس پر وہ نظریں جھکا گئی

تو آج نائل کاظمی اطراف کرتا ہے تم میرے لیے اتنی ضروری ہو جتنی دل کے لیے دھڑکن تم میرے لیے نبض القلب ہو! محبت سے لبریز لہجے میں کہتا وہ سائد ٹیبل سے ایک بوکس کھول کر اس میں سے ڈائمنڈ چین نکال کر اس کی گردن کی زینت کرتا اس کی صراحی گردن پر جھکے سائد لیپ اوف کیے اپنی باتوں سمیت اپنے ہر عمل سے اسکے میں موجود تمام تر خدشوں کو مٹا گیا تھا

.*******************

دیڑھ سال بعد:

آہ زایان آہ….کوئی اچھی عادت تو تم نے اپنے باپ سے سیکھی نہیں لیکن چرسی کی اولاد ضرور بننا ہے! وہ ایک سال کے بچے کو ڈپٹتی اسکے سر پر ہلکی سی چٹ لگاۓ بولی جو نجانے کہاں سے ایش ٹرے اٹھاۓ اپنے اوپر انڈیل گیا تھا

ایک چیز جو ماں پر گئی ہو اسئلے بیٹی چاہیے تھی مجھے! اسکا بس نہیں چل رہا تھا اس اپنے باپ کی کاربن کاپی کو دو تین لگاۓ یہ تیسرا سوٹ تھا جو دو گھنٹوں میں تبدیل ہو چکا تھا وہ اسے ڈاٹنے پر موجود تھی جب نائل روم میں داخل ہوا آج وہ روٹین سے پہلے ہی آگیا تھا

تم پھر سے میرے بیٹے پر شروع ہو گئیں! اس کی آواز سنتے ہی وہ سرمئی آنکھوں میں نمی لیے گھٹنوں کے بل چل کر اسکی طرف لپکا کے اس کی چالاکی پر ولیہ کا منہ کھلا کا کھلا رہے گیا

اللپ توبہ توبہ یہ کونسی فلم پیدا کر دی میں نے باپ کو دیکھا نہیں رونا شروع ہو گیا! وہ بے یقینی سے کو دیکھنے لگی جو اب اپنے باپ کی گود میں جاکر اس کے کی گردن میں منہ چھپاۓ رو رہا تھا

ہاں تو فلم سے فلم ہی پیدا ہونی تھی….نائل شرارت سے زایان کا ماتھا چوم کر بولا کے اس کے جمعلے پر وہ اسجے سر پر پہنچی تھی

میرے پر نہیں بلکل آپ پر گیا ہے یہ…لائیں دیں مجھے کپڑے چینج کرواؤں! وہ منہ پھلاۓ بولی جبکہ وہ اب اس اسے حصار میں لیے اس کی پیشانی پر لب رکھ رہا تھا یہ اسکا معمول تھا

کیوں غصہ کر رہی ہو اتنا پیارا بیٹا ہے میرا! وہ اسے خود سے لگاۓ بولا جبکہ بچہ اب ولیہ کی طرف لپک رہا تھا جس پر وہ بے ساختہ مسکرا گئی

صبح سے تیسرا سوٹ ہے جناب کا….!

”کوئی بات نہیں اب میں چینج کروا دیتا ہوں“

نہیں آپ بیٹھیں تھک کر آۓ ہونگے میں کرواتی ہوں! اسے زایان کو لیتی وہ اب الماری سے اسکا سوٹ نکال کر بیڈ پر لے کر بیٹھی تھی

موم وغیرہ کہیں گئے ہیں؟ وہ اب صوفے پر بیٹھے اسے اپنی آنکھوں میں اترے پوچھنے لگا

ہاں وہ لوگ وفا اور زارون کے بے بی کے لیے شوپنگ پر گئے ہیں! اس کے کہنے پر وہ سر ہلا گیا

زایان بولو ماما…! وہ روز کی طرح آج بھی اسے کپڑے چینج کرواۓ ایک ہی گردان کر رہی تھی جب زایان کی اگلی حرکت پر اسکا منہ کھل گیا

بابا! یہ پہلا لفظ تھا جو اسنے بولا تھا

نہیں ماما! وہ حیرتذدہ سی بولی

بابا! اور اگلے ہی لمحے نائل کا جاندار قہقہ پورے کمرے میں گونجا تھا

بابا کی جان! نائل اسکے پاس آۓ اسکی ناک سے ناک رگڑے بولا جبکہ وہ اب اس کی داڑھی سی کھیل رہا تھا

بے وفا….پورے دن ماں خدمت کریں اور آینڈ میں بابا….اسئلے مجھے بیٹی چاہیے تھی ! وہ دل ہی دل میں ان دونوں کی نظر اتارے مسنوئی ناراضگی سے بولی

تو کوئی بات نہیں بیگم آپ کی یہ خواہش اب پوری کر دیتے ہیں! اس کی بات سنتےہی وہ زایان کو چھوڑ کر اس کی طرف جھکے بولا کے اس کے ذومعانی انداز پر وہ گلابی ہوتی اسکے بازو پر چٹ لگا گئی

سدھر جائیں!

وہ تو نا ممکن ہے! شرارت سے کہتا وہ اسکے بال کیچر کی زد سے آزاد کر گیا کے اسکے بال کھولے دیکھتے ہی زایان اس کے بالوں میں لٹک چکا تھا

پہلے بابا کیا کم تھے تمہارے جو تم بھی میرے بالوں کے پیچھے پڑ گئے! وہ اسکے گال چومتی محبت سے بولی کے اس کی حرکت پر نائل نے تیزی سے زایان کے آگے اپنا چہرہ کیا تھا

کبھی ایسی نظرکرم ہم پر بھی کر دیا کریں! شرارت سے آنکھ دبا کر کہتا وہ اپنی بات اور حرکت سے اسے خاصا شرمندہ کر گیا

میں آپ کو چھوڑوں گی نہیں میرے بیٹے کو بھی ٹھرکی کر دیں گے آپ!

ٹھرکی پھر بھی چلے گا بس تمہاری طرح بیواقوف نا ہو! شرارت سے کہتا وہ تیزی سے واشروم کی طرف بڑھا تھا

اب بچیں آپ زرا! اسے جاتا دیکھ کر وہ کشن اس کی طرگ پھینکتی اس کے پیچھے بھاگی تھی جب کے اب کمرے میں ان دونوں کے ساتھ ساتھ زایان کے قہقے بھی گونج رہے تھے

ہر کہانی کا کوئی نا کوئی مقصد ہوتا ہے اور اس کہانی کا مقصد یہ بتانا تھا کے ایک بیوی جب اپنے شوہر سے ہی رخ موڑ لے تو پھر اسکے حصے میں خواری اور شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں آتا اسئلے اپنے رشتوں کو شک کی نہیں بلکے اعتبار کی نظر سے دیکھو اور وہ مرد جو خود کو عورت پر حکمرانی کرکے اعلی سمجھتے ہیں وہ غلطی فہمی کے سواء کچھ نہیں ہیں عورت پر حکمرانی کرکے ظلم کرکے آپ اس کے لیے حاکم تو بن سکتے ہیں لیکن ہم سفر نہیں عورت کو اللہ تعالی نے مرد س کمزور بنایا ہے اور بھلا کمزور سے کون لڑتا ہے؟ اسے تو پیار اور محبت سے لے کر چلیں مجھے بہت سے لوگوں نے کہا کے ایسا کونسا مرد ہے جو عورت کے ہاتھ اٹھانے ہر خاموشی سے کام لے اور پلٹ کر وار نا کرے تو وہ مرد نائل کاظمی ہے امید کرتی ہوں اس کہانی سے میری چھوٹی سی کوشش سے معاشرے میں لوگ ظالم اور جزباتی حاکم کی جگہ لوگ نائل کاظمی بننا ضروری سمجھیں گے