Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 10

389.2K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nabz-al-Qalb Episode 10

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah

نائل اسے حکم دیے نکل چکا تھا جبکہ وہ اب کافی لیے اس کے روم کے باہر کشماکش میں کھڑی تھی جب وشمہ کی آواز سے اس نے گہرا سانس بھرا

کیا ہوا کوئی پریشانی ہے کیا؟ وشمہ اس کے پاس آکر ابرو اچکاۓ بولی

ہاں وہ دراصل ہٹلر کو یہ کافی دینی ہے…

تو کوئی بات نہیں اگر تمہیں پروبلم ہے تو میں دے آتی ہوں… وشمہ کی پیشکش اس کی آنکھیں چمک اٹھی

نیکی اور پوچھ پوچھ؟ وشمہ کو کافی کا کپ تھماتی وہ آگے بڑھ گئی کے وشمہ خوشی سے نائل کے روم میں داخل ہوئی اسے روم میں موجود نا پاکر وہ کافی بیڈ کی سائد ٹیبل پر رکھتی بیڈ پر بیٹھ کر اسکا انتظار کرنے لگی اگلے پانچ منٹ میں ہی وہ فریش سا گرے ٹراؤزر پہنے شرٹ لس باہر آیا کے کمرے میں موجود نفوس کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل نمودار ہوۓ

کیا کر رہی ہو تم یہاں؟ اس کی غصیلی آواز سے وشمہ چونک کر اس کی جانب پلٹی کے اسے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر معانی خیز مسکراہٹ رینگی

اگر مجھے پتا ہوتا آپ آنے پر اتنے بے تاب ہو جائیں گے تو میں پہلے ہی آجاتی! وہ آستہ آستہ قدم اٹھاتی اس کے پاس آۓ بولی

بکواس بند کرو اپنی اور دافع ہو جاؤ یہاں سے…میری برداشت کا امتحان مت لینا ورنہ بھول جاؤں گا لڑکی کو تم! اس کی بے باکی پر وہ تنی ہوئی رگوں سے اسے وارن کرتا بولا

ارے آپ تو غصہ ہی ہو گئے میں تو محض کافی دینے آئی تھی! وشمہ اپنی لٹ انگلوں میں گھوماتی ہنوز اس پر گہری نظریں جماۓ ہوۓ تھی کے نائل کے اگلے جمعلے پر وہ غصے کی شدت سے سرخ ہوئی

میں نے اپنی بیوی سے کافی مانگی تھی تم سے نہیں!

بیوی؟ کل تک تو آپ کو اس سے چڑھ تھی…کل تک تو وہ ایک بیواقوف لڑکی تھی! وہ اس پر نظریں مرکوز کیے تلخی سے بولی

وہ جیسی بھی ہے تم جیسی نہیں ہے اور یہی اکر وہ میرے لیے معتبر ہے کیوں کہ وہ بیواقوف تو ہے مگر بے غیرت نہیں! اس کے الفاظ تھے یا ہتھورے جو وشمہ کو اپنے کاموں میں بجتے محسوس ہوۓ

اوہ رئیلی؟ جانتے بھی ہیں کسی ہے وہ اگر وہ اتنی ہی غیرت مند ہے تو پھر کیوں آج اتنا بڑا تماشا اس کے نام پر ہوا سنا نہیں تھا آپ نے میر شہزاد کی رکھ….تزلیل کے احساس سے وہ زہر خندق ہوئی جب اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی نائل کی ڈھار پورے کمرے میں گونجی تھی

جسٹ شٹ اپ اگر اب تم نے اپنی اس زبان سے میری پاکیزہ بیوی کے لیے ایک لفظ بھی ادا کیا تو میں یہی گاڑھ کے رکھ دوں گا…! اس کے الفاظوں میں موجود شدت دیکھ کر وشمہ خوفذدہ سی دو قدم پیچھے ہوتی روم سے نکل گئی کے اس کے جاتے ہی نائل کی نظر سائد ٹیبل پر رکھے کافی کے مگ پر پڑی اور پھر خیال اس کی جانب گیا جس کے باعث یہ سارا تماشا ہوا تھا

اگلے ہی لمحے وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرے اپنے روم سے نکلتا اس کے روم کی جانب قدم بڑھا گیا

شام کے فنشن اور اس سب تماشے سے تھک کر وہ اب نماز ادا کرنے کے بعد لمبی سی بے گلے کی پرپل کمیز اور بلیک ٹراؤز میں بالوں کو جوڑے باندھ کر سونے کی نیت سے بیڈ پر بیٹھی

تمہیں کیا لگ رہا ہے اگر تم خوبصورت لگ رہی ہو تو میں تمہیں جواب نہیں دوں گا؟ اس کے الفاظ ذہن میں گونجتے ہی ناچاہتے ہوۓ بھی اس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی لیکن پھر اگلے خیال سے اس کی مسکراہٹ سمٹ کر اذیت میں تبدیل ہو گئی

”طلاق دلوائیں اس کی شادی ہمارے میر سے ہی ہوگی آپ تو شکر کریں میر نے شادی کے لیے کہا ہے ورنہ میر تو رکھیل…..“ تلخی سے بند ہوئی آنکھوں کو وہ ایک بار پھر اس کے کہے گئے الفاظوں سے کھول گئی

( تتت تتت لگتا ہے انہیں کسی کے گھر آنے کا طریقہ نہیں معلوم… ولیہ سمجھاؤ زرا انہیں) تو کیا واقعی تین لفظ ادا کرنے وہ میرے محافظ بن گئے؟ کل تک تو اتنی چڑ تھی مجھ سے شاید ایسے ہی ہوتا ہوگا….. ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب اسکا دروازہ نوک ہوا

”اس وقت کون آسکتا ہے؟ شاید موم ہونگی شام کی وجہ سے پریشان ہونگی“ خود سے کہتی وہ اٹھ کر دروازہ کھول گئی کے سامنے موجود شخص کو دیکھ کر اس نے تعجب ابرو اچکائی

کیا ہے؟

تمہیں تو میں بتاتا ہوں کیا ہے! وہ اسے ایسے ہی دروازے پر چھوڑتا لاپروائی سے اندر داخل ہوتا بولا کے اس کی بے باکی پر ولیہ تپ کر اس کے پیچھے آئی

کیا ہے آپ کو اس ٹائم کیا لینے آۓ ہیں؟ وہ تیزی سے اپنی ڈوپٹا بیڈ سے اٹھا کر گلے میں لپٹتی بولی کے اس کی بات پر نائل قدموں کے بل گھوم کر اسکا بازو جکڑ گیا

میں نے کوفی تم سے بنانے کو کہا تھا یا وشمہ کو؟ وہ اسکا بازو تھامے اسکے کان کے قریب غرایا

میں نے ہی بنائی ہے زہر نہیں ڈالا جو اتنے زہر خندق ہو رہے ہیں! ولیہ اسکا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹانے کی کوشش کرتی اسے گھور کر بولی

.

ایک بات میری کان کھول کر سن لو…جب میں تم سے کوئی کام کہوں تو میرے کمرے تک اسے پہنچانا بھی تمہارا کام ہے آئندہ اگر تم نے اپنا کام کسی اور پر ڈالا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا! چاہ کر بھی اسکا غصہ اور گرفت ڈھیلی نہیں پڑی تھی

آپ سے برا کوئی ہو بھی نہیں سکتا…ایسے ری ایکٹ کر رہے ہیں جیسے پتا نہیں کیا ہو گیا آپ کے ساتھ صرف ایک کافی تو بھیجی ہے وشمہ کے ہاتھ! اس کی بات پر وہ محض اسے دیکھ کر رہے گیا

تم واقعی پاگل ہو! گہرا سانس بھر کر وہ اسکا بازو چھوڑے بیڈ پر ڈھے گیا…

اور آپ ایک نمبر کے ہٹلر ہیں! اور میرے بیڈ پر کیوں لیٹ گئے ہیں اٹھیں مجھے سونا ہے… برا سا منہ بنا کر کہتی وہ اسکے ذہن میں گھنٹی بجا گئی

ہاں تو سو جاؤ..میں نے منع کیا ہے؟ نائل اپنی مسکراہٹ ضبط کی لاپروائی سے بولا

دماغ ٹھیک ہے آپ کا؟ اٹھیں اور جائیں یہاں سے ورنہ میں پورے گھر کو سر پر اٹھا لوں گی!

اٹھا لو کوئی کچھ نہیں کہے گا اب تو میں تمہارا شوہر ہوں! وہ ہنوز لاپروائی سے بولا

نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں اور ویسے بھی اب رخصتی میں جلدی کرواؤں گی بھی نہیں… وہ چیلنجنگ انداز میں بولی

کیا کہا؟ اور اگر میں نے ایک ہفتے کے اندر اندر رخصتی کروا لی تو؟

کروا کے دیکھائیں…! ولیہ گردن اکڑا کر بولی

”تو پھر آپ تیاری کریں مسز ولیہ کیوں کہ شادی تو اب اسی ڈیٹ پر ہوگی جس پر تہ ہوئی تھی“ اس سے ہ کر وہ باہر نکل گیا (وہ دادا سائیں سے کچھ دیر پہلے ہی شادی کی ڈیٹ آگے کرنے کا کہ کر آیا تھا ان میڈم کے خیالات جان پر اس کی ضدی نیچڑ پر دھکا سا لگا تھا)

اس کے کمرے سے نکلتے ہی ولیہ پیر پٹکتی بیڈ پر بیٹھ گئی

یہ کبھی نہیں سدھریں گے! اپنی کچھ دیر پہلے آنی والی سوچوں کو جھٹک کر وہ خود پر ہی تف کرتی کمفرٹر منہ تک اوڑھ گئی

******************

ہمشیہ کی طرح صبح ناشتے کی ٹیبل پر سب موجود تھے

ہمیں تو سمجھ نہیں آرہی یہ کل سب کیا تماشا ہوا ہے! فرحان صاحب نے بات کا آغاز کیا

مجھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آرہی! دادا سائیں خود بھی اپنے سر پکڑے بولے

جی بابا آپ کچھ کریں مجھے تو اب میری بچی کی فکر ہو رہی ہے! رباب بیگم پریشان سی کہنے لگی

کیا سمجھ نہیں آرہی آپ لوگوں کو؟ کس بات کا ڈر ہے آپ لوگ بس اب تیاریاں کریں شادی ہے فنشن اب مقررہ ڈیٹ پر ہی ہونگے! اسکے علان پر دادا سائیں اور ولیہ نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھا

دادا سائیں میں ابھی شادی نہیں کر سکتی میرے پیپرز اسٹارٹ ہونے والے ہیں! اسنے اپنا بہانہ پیش کیا تھا

دادا سائیں یہ جھوٹ بول رہی ہے کوئی پیپرز نہیں ہیں اس کے… زارون نے لقمہ دیا جس پر ولیہ نے ایک زوردار چٹ اسے رسید کی

میرے خیال میں نائل ٹھیک کہ رہا ہے ہمیں رخصتی میں دیر نہیں کرنی چاہیے اس سے پہلے کوئی اور تماشا لگے… ارسلان صاحب کے کہنے پر ٹیبل پر موجود سب افرادوں نے اثبات میں سر ہلایا

بلکل ہمارا بھی یہی خیال ہے شادی مقررہ ڈیٹ پر ہوگی!

اوۓ ہوۓ مزے! سبحان اور وفا اسے چھیڑنے لگے جس پر وہ انہیں گھور کر دیکھنے لگی اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس ہٹلر کے بال نوچھ لے جو اس کی آزادی کے پیچھے پڑھ گیا تھا

******************

دن گزرتے پتا نہیں چل رہا تھا آج نائل اور ولیہ کی مہندی کا دن تھا جس کے باعث پورے حویلی کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا

چلو لڑکیوں مہندی لگانے والی آگئی ہیں….خالہ محبت سے ولیہ کے کمرے میں آتی بولی

اس کے کمرے میں اس وقت وفا اور رامشہ دونوں موجود تھے

مہندی والی آکر ان تینوں کو مہندی لگانا شروع کر چکی تھی

آپ کے ہسبنڈ کا نیم کیا ہے؟ مہندی والی اسے دیکھ کر محبت سے پوچھنے لگی

کیوں کیا کرنا ہے آپ نے؟ وہ جو پہلے سے مہندی اکتائی بیٹھی تھی اس کے سوال پر وہ سیخ پاؤ ہوکر بولی

آپ کی مہندی میں لکھنا ہے نہ! مہند والی کی بات ہر ان دونوں نے ہوٹنگ کی تھی

”نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے“

کیوں نہیں ہے…آپ لکھیں نائل کاظمی نام ہے! رامشہ جٹ سے بولی کے اس کی بات سنتے ہی مہندی والی نے اس سیدھی ہتھیلی پر بڑا سا نائل کی دلہن لکھ دیا جسے دیکھتے ہی اسکا حلق تک کڑوا ہوا تھا……

میر شہزاد کی حویلی میں اس وقت گہری خاموشی تھی

ایک بری خبر ہے! اظہر اسکے سامنے منہ لٹکاے بولا

کیا؟

صاحب آج نائل کاظمی کی مہندی ہے!

کیا بکواس ہے؟ اور یہ ساری خبریں تمیں آخری موقعے پر ہی کیوں ملتی ہے؟ میر شہزاد اپنی کرسی سے اٹھتا ڈھارا

وہ لوگ سب کچھ اتنی خاموشی سے کر رہے ہیں کے ہر جگہ ہمارے خبری ہونے کے باواجود مجھے ابھی پتا لگا! اظہر مؤدب انداز میں بولا

میری بندوق لاؤ آج ان کی خاموشی میں ختم کرتا ہوں.! وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیڑتا کہنے لگا جب باہر سے آتی آوازوں سے وہ سامنے متواجہ ہوا جہاں سے نائل کاظمی کسی آندھی طوفان کی طرح اپنے بندو سمیت اسکے گارڈز کو ایک ہی وار سے ڈھیر کرتا اندر کی طرف آیا

اتنی جلدی کیا ہے میر صاحب؟ اسکے اچانک نازل ہونے پر ایک لمحے کو اپنے آدمیوں کی طرح میر شہزاد بھی خوفذدہ ہوا

تم یہاں کیا کر رہے ہو؟

پیار سے سمجھانے آیا ہوں بہتر ہے میری بیوی سے دور رہے.! وہ صوفے پر بیٹھتا ریلیکس انداز میں بولا

ورنہ کیا کرے گا؟ میر شہزاد پہلی بار اسے دیکھ رہا تھا وہ محض اس کی حد دیکھنے کو بولا جب ایک گولی سامنے سے آکر اس کی ٹانگ پر لگی تھی

ورنہ ابھی تو ٹانگ توڑی ہے اگلی بار تیری ہڈیوں سمیت تجھے ہی توڑ دوں گا! وہ اس پر گولی چلاۓ ہنوز مطمئن انداز میں بولا

تیری تو…..اظہر اپنی گن اس کی طرف کرکے چینخا جب شہزاد نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا جس پر اظہر ضبط کرکے پیچھے ہو گیا

لگتا ہے میری بات اب سمجھ آگئی ہو چلو سب… ان کی طرف سے کوئی کاروائی نا دیکھ کر وہ اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا باہر نکل گیا

آپ نے کیوں روکا؟ اظہر اسے سنبھالا دے کر بولا

مجھ پر گولی اسنے بہت بڑی غلطی کر دی ہے اور اگر اس وقت ہم جوابی کاروائی کرتے تو وہ جیت جاتا….اس سے تو میں اب اپنے طریقے نپٹوں گا!