Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 17

389.2K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nabz-al-Qalb Episode 17

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah

پونی میں قدم رکھتے ہی حنا بھاگتے ہوۓ اس کی طرف بڑھی جسے اپنے پاس آتا دیکھ وہ بھی مسکرا کر اس کی جانب بڑھی

کہاں تھیں تم؟

مجھ سے کوئی کونٹیکٹ بھی نہیں کیا؟

کہاں غائب ہو گئے تھے تم اور وشمہ میں نے کتنا مس کیا تم لوگوں کو… حنا اس سے ملتی نون اسٹوپ شروع ہوئی تھی

اللہ سانس تو لے لو حنا….کہیں نہیں جا رہی میں سب تصیل سے بتاتی ہوں پہلے کلاس میں تو چلو…. وہ اسکے بازو میں ہاتھ ڈالت کلاس کی طرف بڑھے بولی

واٹ؟ تمہاری شادی… کچھ دیر بعد لیکچر کے ختم ہوتے ولیہ نے کلاس سے نکلتے ہوے اس پر اپنی شادی کا بم پھوڑا جس کے نیتجیے میں وہ اتنی زور سے چیخی تھی کے پوری کلاس نے چونک کر ان دونوں کی طرف دیکھا

آہستہ بولو اعلان کیوں کر رہی ہو؟ ولیہ اسے چٹ رسید کیے بولی

ہاں تو تم کوئی عام خبر سنا رہی ہو جو میں اؤور ریکایکٹ نا کروں؟ اپنی شادی کے بارے میں بتا رہی ہو وہ بھی میرے بغیر ہی کر لی تم؟ حنا اب کے مدہم مگر لہجے میں ڈھیرو صدمہ لیے گویا ہوئی

یار سب اچانک ہوا…اور میری کونسی پسند کی شادی تھی! وہ خاصا منہ بناۓ بولی

اچھا سب چھوڑو یہ بتاؤ تمہارا والا ہے کیسا؟ حنا کے سوال پر اس کی آنکھوب کے سامنے اس کی تصویر لہرائی سرمئی آنکھیں…مغرانہ نام…ہلکی ہکلی بیئرڈ!

ایک نمبر کے ہٹلر پلسس بدتمیز ڑوڈ انسان ہیں! اس کی تصویر جھٹکتی وہ بدمزہ ہوکر بولی جس پر حنا کے ہونٹ اوہ شیپ میں ڈھلے تھے

تتت افسوس ہے میری اتنی پیاری دوست کا شوہر ایسا نکلا!

ہاں تم افسوس مناؤ میں کھانے کے لیے کچھ لے کر آتی ہوں….ولیہ اسے بیگ تھماتی ہمیشہ کی طرح خود کچھ کھانے کو لانے کے لیے بڑھی

اوہ شٹ میرا فون کدھر گیا؟ شاید بیگم میں ہوگا! کچھ قدم.چلتے ہی اسے اپنے فون کا احساس ہوا تھا جسے وہ بلکل ہی فراموش کیے ہوۓ تھی کچھ ہی دیر میں وہ ٹرے میں دو کپ چاۓ اور سنڈوچ لیے واپس حنا کے پاس آئی جو کیفے ٹریا میں ہی ایک ٹیبل پر بیٹھتی یک ٹک سامنے کی طرف دیکھ رہی تھی اسے اس طرح. کسی چیز کو گھورتے دیکھ ولیہ کی نظروں نے اسکے تعقب میں دیکھا اور اگلے ہی لمحے وہ جھرجھری لے گئی

ولی یار چیک کر کتنا پپو بچہ کھڑا ہے سامنے! وہ سامنے دیکھے سحرانگیز سی بولی

تمہارا یہ پپو بچہ میں دن رات دیکھتی ہوں! وہ ٹرے ٹیبل پر رکھے عام سے انداز میں کہنے لگی جب حنا نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا

مطلب؟

مطلب یہ کہ یہ پپو بچہ میرا نامی گرامی شوہر ہے! اسنے گویا حنا کے سر پر بم اور دل پر تیر چلاۓ تھے

کککیا؟ واقعی؟ وہ حیرتذدہ سی اس کی طرف پلٹی جس پر وہ کندھے اچکا گئی

تم اس سے نہیں پٹی؟ اسے ہٹلر کہ رہی ہو تم؟ قسم سے ولیہ میں تو اس طرح سے بندے سے ہنسی خوشی چماٹے میں کھا لوں! لفرانہ انداز میں کہتی وہ ولیہ کو سر پیٹنے پر مجبور کر گئی

تمہارا یہ ٹھرکی پن ختم ہو گیا تو بلا لوں میں انہیں؟ چپ رہنا! اسے وارنگ کرکے وہ نائل کو اشارہ کر گئی جو پہلے سے اس کی طرف آرہا تھا

جی نائل کاظمی کس طرح آنا ہوا آپ کا؟ ڈگری پھر سے لیبے کا ارادہ ہو گیا ہے کیا؟

تم اپنا فون بھول گئی تھیں وہی دینے آیا تھا! وہ اردگرد نظریں ڈراۓ بولا اس سے پہلے وہ کچھ کہتی حنا کی آواز پر اسنے گھور کر اسے دیکھا

اسلام و علیکم نائل بھائی… میں حنا ولیہ کہ دوست ولی نے تو کم بتایا تھا آپ تو بے حد ہنڈسم ہے ماشاءاللہ سے! وہ ایکسائٹڈ سی بولی جبکہ اسکے جمعلے پر نائل نے کن اکھیوں سے ولیہ کو دیکھا جو اپنا سر پکڑے کھڑی تھی جسے دیکھتی ہی وہ پرشوق انداز میں حنا سے مخاطب ہوا

و علیکم السلام! کیا واقعی انہوں نے میرا ذکر کیا آپ سے؟

جی جی بلکل یہ بتا رہی تھی آپ بہت ہنڈسم ہے گرے آئز ہیں آپ کی بہت تعریف کر رہی تھی آپ کی…..

آأاپ جائیں آپ کو لیٹ ہو رہا ہوگا نا ہمارا لیکچر ہے! اس سے پہلے وہ مزید بولتی ولیہ اس کی بات کاٹے نائل سے کہتی حنا کا پاتھ پکڑے آگے کی طرف بڑھ گئی

ارے لیکن ہمارا تو لیکچر فری ہے….

چپ کرو تم پاگل ہو؟ میں نے کب تعریفیں کی ہیں اس ہٹلر کی؟

ہاں تو تم کتنی تیز ہو نا تم نے میرے سامنے انکا اتنا برا نقشہ کھینچا جس سے مجھے لگے تمہارے شوہر کوئی سڑیل سا بدھا ہے لیکن یہاں تو کہانی ہی الگ ہے! حنا منہ بسورے بولی جس پر ولیہ نے اپنا سر پیٹا

میں نے سیرت کے لحاظ سے نقشہ کھینچا تھا اس کی صورت کے لحاظ سے نہیں….اب تم اپنی ٹھرک بند کرو اور میرے ساتھ نوٹس بناؤ! اس کے کہنے پر وہ اس بار واقعی سنجیدہ ہوتی بوکس پر جھک گئی کیونکہ کلاس میں میم آگئی تھیں

************************

ولیہ کو یونی چھوڑنے کے بعد وہ ڈیرے پر آیا جب اسکا فون بجا تھا جس پر موجود نمبر دیکھ کر وہ کال آٹینڈ کر گیا

ہممم!

سر کام ہو گیا!

گڈ! دوسری طرف کی آواز سن کر وہ تھوڈی کھجاۓ کہتا کٹل کٹ کر گیا

ایک بری خبر ہے شہزی! اسکا دوست عدیل اس کی حالت کو دیکھے کچھ وقفے سے بولا

کیا؟

وہ ہماری لاہور والی فیکٹری میں کل رات آگ لگ گئی…! اسنے گویا میر شہزاد پر دھماکہ کیا تھا

کککیا بکواس کر رہے ہو؟ ہوش میں تو تم؟ میر شہزاد کسی زخمی شیر کی طرح اس پر جھپٹتا غرایا

”میں یہی بتانے آیا ہوں تمہیں…“

کیا بتانے آۓ ہو تم ہاں؟ یہی کے تمہاری لاپروائی کی وجہ سے میرے لاکھوں کا نقصان ہو گیا جانتے بھی ہو اس مینن کڑوروں کی ڈرگز تھیں…آئس تھی! میر شہزاد دیوانوں کی طرح ادھر ادھر ٹہلتا بولے جا رہا تھا

تم زیادتی کر رہے ہو شہزی یہ سب میرا لاپروائی سے نہیں بلکہ کسی نے جان کر یہ کام کروایا ہے جسے ہماری ٹائمنگ تک کا پتا تھا….عدیل مشروب کا گلاس لبوں سے لگاۓ بولا

کیا مطلب یہ سب کون کروا سکتا ہے؟

یہ تو تمہیں پتا ہوگا….لیکن فاڈر نے کسی کو بھاگتے ہوۓ دیکھا تھا اس کا چہرہ دھکا ہوا تھا جس کے باعث ہو نا تو اسے پکڑ سکے نا ہی پہچان! عدیل کے کہنے پر وہ بھی ذہن پر زور ڈالنے لگا

مجھے تو یہ نائل کاظمی کا کام لگتا ہے! اظہر پہلی بار بولا جس پر میر شہزاد نے نفی میں سر ہلایا

اسے اس ملک میں آۓ دن ہی کتنے ہوۓ ہیں جو وہ اس طرح کی حرکت کرے گا اور میرے دشمنوں میں وہ ابھی پہلے نمبر پر نہیں آتا مجھے لگتا ہے یہ غازی کا کام ہے! میر شہزاد پرسوچ انداز میں بولا

مگر مجھے نجانے کیوں یہ کام نائل کاظمی کا لگ رہا ہے!

جس کا بھی ہوا دو دن کے اندر اندر مجھے اصل مجرم کا نام چاہیے اگر اس سب میں بھی کاظمی ہوۓ تو پھر میں ان کی نسلیں برباد کر دوں گا! پھنکار کر کہتا میر شہزاد مشروب کا گلاس اپنے اندر انڈیل گیا

********************

ولیہ بیٹا کچن میں کیا کر رہی ہیں؟ رباب بیگم اسے دیکھتی بولیں

وہ مجھے چاۓ چاہیے تھی! وہ ان سب کے پاس ٹی وی لاونج میں آتی بولی جہاں رباب بیگم سائمہ بیگم خالہ اور وفا بیٹھے ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہے تھے

تو بیٹا آپ ملازمہ کو کہ دو! رباب بیگم محبت سے اسے اپنے پاس بیٹھاۓ بولیں جب وہ بازو پر کورٹ ڈالے گھر میں داخل ہوا کے اندر آتے ہی اس کی نظر سب میں بیٹھتی اپنی اس پاگل بیوی پر گئی

خیریت ہے کہیں علاقے والوں نے تنگ آکر تو نہیں بھیج دیا جو آج سرے شام ہی آگئے… اسے سڑھیاں چڑھتا دیکھ کر وہ ٹوکے بغیر نا رہے سکی جبکہ اس کی بات پر وہ روم میں جانے کا ارادہ ترک کرتا ٹی وی لاونج میں آیا

آٹھ بج رہے ہیں….اور تم کیوں اتنا بول رہی ہو؟ اس سے کام وام کروایا کرے نا آپ لوگ پورے دن ایسے ہی بیٹھی رہتی ہے! وہ رباب بیگم کے پاس صوفے پر بیٹھتا بولا جس پر رباب بیگم نے اسے ایک چٹ رسید کی

اچھا ایسے ہی کام کروا لوں؟ میری بیٹی کی شادی کو دن ہی کتنے ہوۓ ہیں ابھی؟ رباب بیگم مسنوئی خفگی سے بولیں

تو شادی کے دو دن بعد یہ کالج جا سکتی ہے لیکن کچن میں نہیں؟

بلکل میں بھی یہی کہ رہی ہوں! سائمہ بیگم اس کی تاکید رہتی بولی جس پر وہ اٹھ کر ان کے پاس بیٹھا

آپ تو بولیں گی میں سوتیلی جو ہوں آپ کی! ان کی بات پر ولیہ منہ بسورے رباب بیگم کے لگے لگتی بولی

دیکھ رہی ہیں چچی کس طرح باتیں کر رہی ہے آپ کی بیواقوف بیٹی! نائل اسے چڑاتا کہنے لگا

.

آپ تو چپ ہی رہیں ہٹلر…..

اففف اللہ تم دونوں کو کوئی شرم ہے؟ اب رشتہ بھی چینج ہو گیا ہے تم دونوں کو لیکن انکا لڑنا جھگڑنا ہی ختم نہیں ہو رہا.! پھوپھو ان کے پاس آتی کانوں کو ہاتھ لگاۓ بولیں جس پر وہ لاونج میں موجود سب لوگ قہقہ لگا گئے

میں فریش ہوکر آتا ہوں! نائل ان کے بیچ سے اٹھتا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ وہ اب پھوپھو کی کلاس میں پھنس چکی تھی

****************

رات کے کھانے کے بعد وہ رباب بیگم کے کہنے پر اسکے لیے کافی لیے کمرے میں داخل ہوا جہاں اسکا سامنا خالی کمرے سے ہوا

اسکی کافی ٹیبل پر رکھ کر وہ شیشے. کے سامنے آتی اپنے بال کھول کر سنوارنے لگی جب کلک کی آواز سے واشروم کا دروازہ کھولا اور وہ فریش سا بلیک ٹراؤز پر شرٹ لس باہر آیا کے اسے اس طرح دیکھتے ہی وہ آنکھیں میچ گئی

استغفراللہ آپ میں شرم نام کی کوئی چیز ہے؟ وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے بولی جس پر وہ مسکرا کر اسکے قریب آیا

اچھا؟ میرے سامنے ایسے بیوو کر رہی ہو اور بعد میں جاکر اپنی دوستوں سے میری تعریفیں کرو گی! وہ اسکے عین پیچھے کھڑا شرارتی انداز میں بولا جبکہ اس کی بات پر وہ غصے سے پلٹی جب اسے اپنے عین پیچھے کھڑا دیکھ کر وہ فطری حیا کے باعث سرخ ہوئی

پیچھے ہوکر کھڑے ہوں نا! سٹپٹا کر کہتی وہ آگے بڑھنے لگی جب نائل نے کھینچ کر اسے پھر سے ڈریسنگ سے لگایا

مجھے انداز نہیں تھا تم مجھ سے اتنی امپرس ہو! وہ ہنوز شرارت سے اس کی طرف جھکے بولا

ایسا کچھ نہیں ہے شکل دیکھی ہے آپ نے اپنی؟

میں نے دیکھی لیکن شاید تم نے نہیں دیکھی لو دیکھ لو! وہ اس پر مزید جھکے بولا کے اسے اپنے قریب دیکھ کر وہ اسے پیچھے دھکیل گئی

اپنا یہ ٹھرکی پن ختم کریں مجھے بال بنانے ہیں! اس کی قربت میں وہ گھبراتی ادھر ادھر دیکھتی بولی

نا کروں تو؟ اب کے وہ اسکے بال سنوارے سرگوشی نما انداز میں بولا کے اس کی گھبرائی ہوئی صورت نائل کو مزہ دے رہی تھی

کیا چاہتے ہیں؟ وہ ہتھیار ڈالے بولی

میرے سر پر تیل لگا دو! اس کی عجیب سی فرمائش پر وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی

آڑ یو سریس؟

ہاں! نائل کندھے اچکاۓ بولا

آپ کا دماغ واقعی خراب ہے! راستہ چھوڑیں میرا…. وہ اسے دھکا دیتی آگے بڑھنے لگی جب نائل اسکا بازو تھام گیا

پہلے بتاؤ تیل لگا رہی یا نہیں؟

زہر نا لگا دوں! ولیہ تپ کر بولی

کوئی فائدہ نہیں! وہ ہنوز ڈھٹائی سے کندھے اچکا گیا

ہاں ظاہر ہے زہریلے پر کیا زہر کا کیا اثر ہونا…. پیر پٹک کر کہتی وہ آگے بڑھ گئی جب نائل بھی مسکرا کر اس کے پیچھے بڑھا