Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 39

389.2K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nabz-al-Qalb Episode 39

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah

رات کے کھانے پر وہ سب اکٹھے ہوۓ تھے

بہت پیاری بچی تھی….رباب بیگم محبت پاش لہجے میں بولیں جس پر ولیہ مسکرا اٹھی آج وہ سب کچھ خود نائل کو سروو کر رہی تھی جسے وہ خاطے میں لاۓ بغیر دوسری پلیٹ نکال کر اس میں خود سے کھانا ڈال کر کھانے لگا کے اس کی حرکت وہ ضبط کا گھونٹ پی کر رہے گئی رباب بیگم نے بہت غور سے ان دونوں کے بیچ کھینچاؤ کو محسوس کیا تھا

آپ نے بتایا نہیں وہ بچی تھی کون؟

دراصل بابا سائیں وہ بچی کاغان سے یہاں سیر کے لیے آئی ہوئی ہے آج ولیہ کی جان بھی اسی نے بچائی ورنہ بڑا ایکسیڈنٹ ہو جاتا…..دادا سائیں کے پوچھنے پر سائمہ بیگم انہیں بتانے لگیں جب کے ایکسیڈنٹ کے نام پر نائل کے حلق میں نوالہ پھنسا

دھیان سے….ولیہ اس کی پیٹ مسلتی اسکے آگے پانی کا گلاس کر گئی جو کہ اسنے ہاتھ تک نہیں لگایا باقی کا کھانا پرسکون ماحول میں کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے سواۓ ولیہ کے جو کھانا سمیٹ رہی تھی اسے دیکھتے ہی رباب بیگم موقع جانتی اس کے پاس آئی

بچے یہ کام تو ملازمہ بھی کر لیتی!

تائی ماں مجھے اچھا لگتا ہے چھوٹے موٹے کام کرنا ویسے بھی پورے دن اب ہوتا ہی کیا ہے حنا بھی تو نہیں ہے! وہ اداس لہجے میں بولی

اور میں کہوں کے اس کے علاوہ بھی ایک کام ہے جس پر آپ کو کام کی ضرورت ہے تو؟

کیا مطلب؟

مطلب یہ کہ نائل تین مہینے بعد گھر لوٹا ہے اس کے آتے ہی حالات بھی کچھ ایسے ہو گئے جن کی وجہ سے گھر کا ماحول تبدیل ہو گیا مگر مجھے آپ دونوں کے بیچ کافی کھینچاؤ نظر آرہا ہے کوئی بات ہے کیا؟ وہ تشویشی انداز میں پوچھنے لگی کے ولیہ حلق تر کرکے رہے گئی

نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں آپ کا وہم ہوگا!

میرا وہم نہیں ہے دیکھو بچے میں نہیں جانتی آپ دونوں کی ناراضگی کس بات پر ہے لیکن یہ وقت اب آپ دونوں کا اپنے رشتے کو مضبوط کرنے کا ہے اور دنیا کا ہر رشتہ اعتبار پر مبنی ہے اور جب یہی اعتبار ہی نا ہو یا کسی وجہ سے ٹوٹ گیا ہو تو رشتہ زیادہ عرصے نہیں چل پاتا تم نے نائل سے سبحان کی حقیقت چھپائی شاید وہ تم سے اس بات پر ناراض ہے تو تمہارا فرض ہے اسے مناؤ اسے اپنا یقین دلاؤ اور اگر وہ نا کرے تو پھر میں خود اس سے بات کروں گی!

جی تائی ماں!

چلو اب رات کافی ہو گئی ہے تم بھی بس جاکر آرام کرو ملازمہ کر لے گی یہ….! ان کے اصرار پر وہ باقی کام ملازمہ پر چھوڑتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

روم میں داخل ہوتے ہی وہ اسے بیڈ پر لیپ ٹوپ گود میں رکھے بیٹھا نظر آیا اس پر ایک نظر ڈالے الماری سے اپنا سوٹ لیتی واشروم میں بند ہو گئی اس کی طرف دھیان ہوتے ہوۓ بھی وہ بظاہر خود کو مصروف رکھے ہوۓ تھے

کچھ دیر بعد واشروم کا دروازہ کھلا اور وہ بیلو سلیپنگ سوٹ میں فریش سی باہر آتی ڈریسنگ کے سامنے اپنے کمبے بال کھولے جان کر اسے اپنی طرف متواجہ کر رہی تھی مگر وہ ازلی ڈھیٹ واقعہ ہوا تھا گنگا پھینکنے کے سے انداز میں پٹکتی وہ اس سے کچھ فاصلے پر آکر بیٹھی تھی نائل جو اس کی ہر حرکت ملاحظہ کر رہا تھا اس کے بیڈ پر بیٹھتے ہی اٹھا کے وہ اس وقت ہر طرح سے اس کے حواسوں پر سوار ہورہی تھی

اس سے پہلے وہ اٹھتا ولیہ نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھاما

کیا؟ ابرو اچکا کر پوچھا

جو مرد اپنی بیوی سے ناراض رہتا ہے اللہ اس کے رزق میں سے برکت چھین لیتا ہے! اس کی بات پر نائل نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھا

اور یہ کس کتاب میں لکھا ہے؟

میں نے پڑھا تھا! وہ ادا سے بولی

تو پھر اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہوگا کہ ایک نافرمان اور شک کرنے والی بیوی کہیں کی نہیں رہتی یہاں تک کے اپنے شوہر کے دل میں بھی نہیں! وہ عام سے انداز میں کہتا باہر نکل گیا کے اس کے الفاظوں پر وہ آنکھوں میں نمی لیے کمفرٹر منہ تک اوڑھ گئی کچھ لمحوں بعد اکیلے روم میں اس کی سسکیاں شروع ہوئی تھیں

***********************

وہ کچن میں آتا اپنے لیے کافی بنانے لگا جب رباب بیگم پانی جگ لے کر یہاں آئیں

ارے تم کیوں بنا رہے ہو ہٹو میں بنا دیتی ہوں…. اسے کافی بناتے دیکھ وہ محبت سے بولیں

نہیں موم میں بنا لوں گا آپ سوئی نہیں؟

بس سونے ہی جا رہی تھی دیکھا جگ میں پانی نہیں ہے تو لینے آگئی! پریشان ہوں؟ وہ اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگاتی بولیں

نہیں!

ولیہ سے ناراضگی ہے؟ دوسرا سوال آیا تھا وہ ماں تھیں اس کی رگ رگ سے واقف تھیں

مجھے لگتا ہے میں یہ رشتہ نہیں سنبھال سکتا موم….! اس کے جمعلے پر رباب بیگم نے چونک کر اسے دیکھا

کیا کہ رہے ہو؟ وہ آگ بغولہ ہوتی بولیں

میں ٹھیک کہ رہا ہوں موم….مجھے لگا تھا میں اس رشتے میں ایڈجسٹ ہو جاؤں گا بٹ کوئی بھی رشتہ یک طرفہ محنت سے نہیں چلتا خاص کر میاں بیوی کا رشتہ آپ خود بتائیں موم کیا اس پر فرض نہیں ہے زندگی کی مشکل میں میرا ساتھ دے اسے تو مجھ پر اعتبار تک نہیں ہے موم اسے مجھ سے زیادہ وشمہ پر یقین تھا! وہ کرب سے بولا

مجھے نہیں معلوم آپ دونوں کے بیچ میں کیا چل رہا ہے لیکن میری جان وہ ابھی چھوٹی ہے اسے اس رشتے کی باریکیوں کو سمجھنے میں وقت لگے گا میں مانتی ہوں کہ آپ غلط نہیں ہو لیکن وہ بھی غلط نہیں ہے وشمہ اور وہ دونوں ساتھ بڑی ہوئی ہیں وشمہ نے اسے ہمیشہ اچھا برا بتایا لیکن نجانے وہ خود کیسے غلط راستے پر نکل گئی خیر ولیہ کو آپ سے زیادہ اعتبار وشمہ پر اس لیے تھا کیوں کہ وشمہ اس کے ساتھ کئی سالوں سے ہے اور یاد کرو وہ آپ کے نام تک سے چڑھتی تھی ایسے میں اچانک سے اس کی شادی آپ کے ساتھ ہو جانا وہ تو ابھی حقیقی زندگی سے واقف بھی نہیں تھی جب اسکے ساتھ وہ حدثہ ہو گیا ان چیزوں نے اسے چڑچڑا کر دیا ہے وہ آپ کے پاسٹ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی اسئلے اس حدثے کے بعد اسے آپ کے لیے طرح طرح کے خدشے آتے ہونگے اسے کچھ وقت دو پھر بے شک جو فیصلہ ہو ہمیں منظور ہوگا! رباب بیگم اسے سمجھانے کے سے انداز میں بولیں کے ان کے الفاظوں پر اسے اپنے اندر کچھ سکون اترتا محسوس ہوا

جی موم! وہ مسکرا کر بولا کے رباب بیگم نے محبت پاش نظروں سے اسکے نئے لک کو دیکھا تھا جہاں اب اس کی بئیرد قدرے بڑھی ہوئی تھی

اب جاؤ ہو جاکر آرام کرو اگلے ہفتے سے زارون اور وفا کے فنشن اسٹار ہیں مجھے میری بڑی بہو کے چہرے پر رونق چاہیے! رباب بیگم وارن کرتی بولیں جس پر وہ مسکرا کر سر کو خم دے گیا

جو حکم!

گڈ بواۓ! پیار سے کہتی وہ وہاں سے واک اوٹ کر گئی

تقریبا ڈیرھ گھٹنے بعد وہ کمرے میں دو کافی کے کپ لیے داخل لوٹا تھا جہاں وہ اسے کمفرٹر منہ تک اوڑھے بیڈ پر لیٹی نظر آئی ایک گہرا سانس بھر کر وہ اسکے پاس آکر بیٹھا

اٹھو کوفی پی لو! خاموشی میں اپنے قریب اس کی آواز سے وہ اپنی سسکی بامشکل روک پائی

مجھے نہیں پینی….! اس کی بھاری آواز سے نائل اسکے رونے کا اندازہ کر گیا

اوکے مت پیو میں خود پی لیتا ہوں ویسے بھی میری کافی سب کے لیے نہیں ہوتی! شریر لہجے میں کہتا وہ اٹھا مزید پانچ منٹ گزرے تھے جب وہ کمفرٹر سائد پر پھینکتی اٹھی تھی سر میں درد کے باعث کافی اسے اس وقت غنیمت سے کم نا لگی

میری کافی دیں! اسے مزے سے دونوں کافی کے کپوں سے گھومٹ بھرتے دیکھ منہ بسورے بولی

مگر تم نے تو منع کر دیا تھا نا! نائل بامشکل اپنی مسکراہٹ دباۓ کہنے لگا

تو آپ دونوں پی جائیں گے؟ کتنے ندیدے ہیں آپ! وہ سوسوں کرتی ناک سے بولی کے بیلو سلینگ سوٹ میں بالوں کو کھلا چھوڑے اپنی سرخ سفید رنگت پر رونے کے باعث سرخ آنکھیں اور ناک لیے روٹھی سی اس کے سامنے اس کے لیے مشکل بنی بیٹھی تھی

یہ لو لے لو کیا یاد رکھو گے! اس کے آگے کافی کا کپ کیا جسے وہ فورا سے لیتی لبوں سے لگا گئی کے اگلے لمحے اپنی جلد بازی پر جی جان سے غصہ آیا تھا جب گرم کافی سے اسکا ہونٹ بری طرح جھلسا تھا

آہ…..!

دھیان سے پاگل لڑکی! اس کے چہرے پر تکلیف کے اثار دیکھتے ہی وہ بیڈ پر اس کے قریب آیا

کیوں ظلم کرتی ہو ان پر؟ اس کی سوجھی ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر پوچھا

آپ کو کیا ہے آپ کو کونسا فرق پڑتا ہے میری تکلیف سے! اسکے نرم تاثرات دیکھتے ہی وہ منہ بناۓ بولی کے اس کی اس ادا پر نائل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ مچھلی

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے!

میں نے آپ سے کیا کہا تھا؟

تم نے مجھے کیا نہیں کہا تھا؟ میرے کردار پر بات کی میرے اوپر انگیاں اٹھائیں لیکن میں اس کا ایشو نہیں بنا سکتا مرد ہوں نا میرا تھوڑی کوئی کردار ہے ……اب کے وہ سنجیدہ ہوا

جو لوگ یہ کہتے ہیں کے مرد پر کوئی اثر نہیں ہوتا غلط کہتے ہیں مردوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے جب کوئی ان کی وفا پر شک کرے خاص کر وہ شخص جس کے وعلاوہ میں نے کبھی کسی کو دوسری نظر نہیں دیکھا جانتی ہو نکاح کے وقت تمہیں دیکھ کر پہلی بار میرے دل نے اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا میں نے صرف تم سے محبت کی ولیہ….اور تم نے مجھے خود سے ہر طرح دور کرنا چاہ مگر یہ میری محبت ہی ہے جو میرا دل تم سے کبھی ناراض نہیں رہے سکتا تم مجھے ہمیشہ مغرور کہتی ہو مگر بتاؤ کیا یہ غرور ہے؟ مجھ پر زندگی میں دو بار کسی نے ہاتھ اٹھایا اور وہ ہاتھ صرف تمہارا تھا اس کے باواجود میں نے تمہیں کچھ نہیں کہا جانتی ہو کیوں؟ کیوں کہ ایک مرد کبھی بھی پلٹ کر عورت پر وار نہیں کرتا وہ لوگ جو خود کو مرد کہتے ہیں اور عورتوں پر پلٹ کر وار کرتے ہیں وہ میرے نظر میں مرد کہلانے کے لائق نہیں ہیں

تم تو مجھ سے زیادہ دین کے قریب ہو تم نے وہ قول نہیں سنا؟

”شریف آدمی ہمیشہ اپنی بیوی سے دب کر رہتا ہے اور کمینہ شخص اپنی بیوی کو دبا کر چلتا ہے“ یہ کہتے ہوۓ وہ مسکرایا تھا جب کے وہ دم سادھے اسے سن رہی تھی

میں نے تمہیں ہمیشہ خود سے بلند اور اعلی سمجھا ہے کیوں کہ تم میری محبت کی اکلوتی وارث ہو اب اس سے زیادہ میں تمہیں اپنی محبت کی کوئی وضاحت نہیں دوں گا! ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتی وہ اٹھا کر واشروم کی طرف بڑھا تھا جب ولیہ تیزی سے اٹھی پیچھے سے اکے گرد حصار قائم کر گئی جسے وہ فوری اٹھا گیا

آئی ایم سوری!

بہتر ہے پہلے اس بارے میں اچھے سے سوچ لو جزباتی فیصلے بعد میں مشکل کرتے ہیں جتنا وقت چاہیے لے لو! سپاٹ انداز میں کہتا وہ وہاں سے واک اوٹ کر گیا کے پیچھے وہ محض آنکھوں میں پچھتاوا لیے اسے جاتا دیکھنے لگی کے اچانک حنا کے الفاظ ذہن میں گونجے تھے

مجھے سمجھ نہیں یار ہماری عوام کس طرح کی کہانیوں سے امپریس ہو رہی ہے مطلب لڑکا لڑکی پر مظلم کے پھاڑ توڑ رہا ہے اور وہ چپ ہے یہاں تک کے ایک ہیرو ہیروئن پر ہاتھ تک اٹھاتا ہے میں مانتی ہوں کچھ لوگوں کے ساتھ اصل میں ایسا ہوتا ہے تو پھر لوگوں کو چاہیے کے وہ اسے ایک معاشرے کی بیڈ سائد کی طرح دیکھاۓ نا کے اس طرح کی کہانیوں سے لڑکیوں کے لیے ایک ظالم شوہر کو آئیڈیل بنا دیں…..وہ منہ بناۓ بول رہی تھی

اچھا بس بابا اتنا غصہ؟ ولیہ نے حیرت سے اسے دیکھا

ہاں نہیں تو کیا آدھا ناول ضائع گیا میرا دل چاہتا ہے ایسے لڑکوں جو سولی چڑھا دوں جو لڑکیوں کی عزت نا کریں! حنا سرخ چہرہ لہے بولی

اچھا اور اگر میرا شوہر ایسا ہوا تو؟ وہ جان کر اسے تنگ کرنے کو بولی

اللہ نا کرے اللہ تمہارے نصیب میں ایسا شہزادہ لکھے کے وہ تمہاری بدتمیزیاں جھیل کر بھی تم سے محبت کرنا نا چھوڑے اور جب تمہیں ایسا کوئی مل جاۓ تو اس سے ویسے ہی رہنا جیسے وہ تمہارے ساتھ رہے سمجھی! وہ اسکے سر پر چٹ رسید کرتی کہنے لگی

پہلے ایسا کوئی ملنے تو دو ویسے تو یہ ناممکن ہے!

دیکھنا تمہیں ایسا ہی ملے گا مجھے پورا یقین ہے میں روز دعا کرتی ہوں تمہارے لیے…! حنا مسکرا کر بولی جس پر وہ بھی مسکرا اس سے کتاب کھینچ گئی

دروازہ کھلنے کی آواز سے وہ ایک جماکے سے ماضی سے نکلی تھی سامنے وہ اب فریش سا بیلو شرٹ اور ٹراؤزر میں باہر آتا دیکھائی دیا

تمہاری دعائیں میرے لیے تو رنگ لے آئی حنا کاش کے یہ دعا تم نے اپنے لیے بھی کی ہوتی..! آنسو ٹوٹ کر پلکوں سے آزاد ہوا تھا

کہاں جا رہے ہیں؟ اسے باہر نکلتے دیکھ کر وہ اسکا ہاتھ تھامے بولی

کام سے جا رہا ہوں! نائل اس سے اپنا ہاتھ چھروائے بولا

اس ٹائم کیا کام ہے؟ عام سے انداز میں کہتی وہ مقابل کے آگ لگا گئی

جا رہا ہوں دوسری والی کے پاس! تیش سے کہتا وہ دروازے کی طرف کے اس کی بات کا مطلب سمجھ کر ولیہ کا منہ کھلا کا کھلا رہے گیا اسنے تو نارملی پوچھا تھا اگلے ہی لمحے وہ تیزی سے اسکے پیچھے جاتی ایک بار پھر اسکے راستے میں حائل ہوئی تھی

اب کیا ہے؟

دوسری والی کے پاس جانا ہے؟ اسکا کالڑ تھامے وہ پیروں کے بل اونچی ہوتی بولی

ہاں اب ہٹو وہ انتظار کر رہی ہوگی!

اور آپ کو پتا ہےنا میرے اندر بچپن سے ایک ٹیلنٹ ہے میں آپ کے اس منہ کا نقشہ منٹوں تبدیل کر سکتی ہوں! وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی کے اس کے لفظوں پر نائل بے اختیار مسکرایا وہ مہبوت سی اس کی خوبصورت مسکراہٹ دیکھنے لگی آج نجانے کتنے عرصے بعد وہ اسے اس طرح غور سے دیکھ رہی تھی .

نظر لگانے کا ارادہ ہے بیگم؟ وہ اس پر جھکاؤ کرتا بولا ہے اس کے جھکاؤ سے وہ دو قدم پیچھے ہوتی دروازے سے چپکی تھی

ہاں تو میں نظر نہیں لگا سکتی کیا؟ ولیہ ایک ادا سے بولی

یہ تو میں نہیں جانتا مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ آپ اس وقت میرے لیے مشکل کھڑی کر رہی ہیں ہٹ جائیے نہیں تو آپ کے لیے مشکل ہو جاۓ گی! ذومعانی انداز میں کہتا وہ اسکا سارا کونفیڈینس ختم کیے اسے سرخ کر گیا کے اس لمحے نائل کاظمی کو اچھے سے اندازہ ہوا تھا وہ ہر چیز کر سکتا ہے مگر اس سے ناراض نہیں رہے سکتا

کیا چیز ہو یار تم!

مست! جوابا وہ ادا سے بولی

وہ تو ہو! نائل شرارت سے بولا جس پر وہ بے ساختہ نظریں جھکاتی اسے جانے کا راستہ دے گئی

جلدی آئیے گا!

اب یہ تو وہی ڈیسائڈ کرے گی کہ کب آنے دے!

میں منہ توڑ دوں گی آپ کا! اس کے کہتے ہی وہ اپنے پرانے روپ میں آتی اس کی پشت گھور کر بولی جو اب جا چکا تھا

***********************

گلاس دور سے آتی روشنی سے وہ بامشکل اپنی آنکھیں کھولی سکی نظر اپنے ساتھ خاکی جگہ پر گئی یعنی وہ رات گھر نہیں آیا تھا بوجھل ہوتے دل کے ساتھ اٹھتی وہ واشروم میں بند ہوئی تھی

کچھ دیر بعد اورنج سادہ سے سوٹ پر بالوں ک رف سے جوڑے میں باندھے وہ ناشتے کی ٹیبل پر آئی جہاں سب موجود تھے سواۓ فرحانہ بیگم کے جو اس دن کے بعد سے اپنے کمرے میں نظر بند ہو گئی تھیں

ولیہ بیٹے نائل نہیں اٹھا؟ فرحان صاحب محبت سے بولے

.ڈیڈ وہ رات کو کسی کام سے چلے گئے تھے اب تک نہیں آۓ!

اچھا میں کال کرتا ہوں اسے! وہ معاملہ سمجھ کر بولے رات کے پہر وہ کہاں جا سکتا تھا اسکا اندازہ انہیں اچھے سے تھا

رات میں وہ اسلام آباد میں اپنے فلیٹ پر موجود سبحان سے حنا اور ولیہ کا انقام لیتا اب پولیس اسٹیٹشن آیا تھا سبحان کو اسنے مارا نہیں تھا مگر جینے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا وہ فلحال اس کی قید میں تھا

پولیس اسٹیشن آتے ہی وہ وشمہ کے لوک اپ میں آیا تھا جہاں وہ بے سد سی گھٹنوں میں سر دیے قدرے کونے میں بیٹھی تھی

دیکھ لی اس سفر کی منزل جس کے پیچھے تم نے نجانے کتنی زندگیاں برباد کی تھیں!

زارون کی

ولیہ کی

سبحان کی

وفا کی

اور پھر حنا کی…… تم ایسی تو نہیں تھیں کچھ سالوں پہلے تک تم میری سب سے اچھی دوست تھیں…! وہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھے بولا کے اس کی آواز سے وہ سر اٹھا کر دم سادے اسے سن رہی تھی

میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں نے آپ سے محبت کی! اس کی آواز قدرے دھیمی تھی

غلط تم نے مجھ سے محبت نہیں کی تم نے محبت سے اوپر جنون کو ترجع دی اور جنون انسان کو کسی قابل نہیں چھوڑتا امید کرتا ہوں تمہیں اب اچھا سبق مل گیا ہوگا تمہیں لینے آیا ہوں اگلے ہفتے زارون اور وفا کے ساتھ تمہاری اور اریج کی شادی ہے امید کرتا ہوں تم اس رشتے کو دل سے نبھاؤ گی میری ماں نے عورتوں کی عزت کرنا اگر نا سیکھائی ہوتی تو شاید میں تمہیں ایک نئی زندگی کا موقع بھی نا دیتا لیکن وہ جو اوپر رب بیٹھا ہے نا وہ مجھ جیسے گناہگار شخص سے بھی بہت محبت کرتا ہے تم تو پھر مجھ سے بہتر ہونگی تو اس نے میرے دل میں بھی پھوپھو کے لیے رحم ڈال دیا کسی کے لیے نا سہی اپنی بیواہ ماں کے لیے ہی ان پر اور خود پر رحم کر لو!

وہ نرمی سے کہتا اپنے لفظوں سے وشمہ کو حقیقت معینوں میں شرمندہ کر گیا

مجھے معاف کر دیں میں نے بہت گناہ کیے ہیں پلزز مجھے معاف کر دیں نائل! وشمہ روتے ہوۓ بولی

معافی مجھ سے نہیں ان سے مانگو جنہیں تم نے تکلیف دی ہے…. کچھ دیر بعد گاڑی آۓ گی تمہیں لینے….مجھے کچھ کام آگیا ہے ورنہ میں خود لے جاتا! بغیر کسی تاثر کے کہتا باہر نکل گیا

ہاں بولو سعد! گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ مسلسل بجتا فون کان سے لگا گیا

سر آپ کہاں ہیں آپ کو سیکورٹی کے بغیر نہیں نکالنا چاہیے..! سعد فکرمندی سے بولا

.اس کی ضرورت نہیں ہے میں بس ابھی گھر کی طرف ہی جا رہا ہوں…..!

بٹ سر!

کوئی مسئلہ نہیں ہے تم کال رکھو! اس سے کہ کر وہ گاڑی کا رخ کاظمی ویلا کی طرف کر گیا جب اچانک ایک گاڑی نے اسکا راستہ روکا

ہے سائد پر کرو….وہ ماتھے ہر تیوری چڑھاۓ بولا کے سامنے گاڑی آگے سے ہٹنے کی جگہ اس کا دروازہ کھلا اور سامنے موجود وجود کو پہچان کر اس کی رگیں تن گئیں اپنی گن ڈیش بوکس سے اٹھاۓ وہ باہر نکلا

ہاؤ ڈئیر یو! وہ تیز آواز میں ڈھارا کے اس کی ڈھار سے مقابل کی پیشانی پر پسینہ نمودار ہوا

دور رہو ورنہ میں شوٹ کر دوں گی!

اس سے وعلاوہ کرنے بھی کیا آئی ہیں آپ بہتر ہے ہتھیار ڈال دیں ! وہ آگ بغولہ ہوتا اس کے آگے گن کر گیا

گن پیچھے کرو نائل کاظمی اس بار میں تم کاظمیوں کو جیتنے نہیں دوں گی پہلے تم میرا شوہر کھا گئے اور اب میرے جوان بیٹے جو سلاخوں کے پیچھے کر دیا میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں شوٹ ہم! اسنے اپنے گارڈ کو حکم دیا جو اس کے حکم پر سر ہلاتے دوسری گاڑی سے نکلے تھے کے نائل کی نظر ان پر پڑتے ہی وہ مہارت سے ان دونوں گاڑد پر فائر کر گیا

غلط بندہ چن بیٹھی ہیں آپ مسز شہزاد! تیش سے کہتا وہ تیسرے گاڈر کی طرف لپکا تھا جب گولی مقابل نے موقعے کا فائدہ اٹھا کر اس کی پشت پر فائر کیا اور پھر ایک کے بعد مزید ایک فائر ہوا جو کے نائل کاظمی کے سینے کو چیڑتے ہوۓ نکل گیا بے ساکتہ اس کے وجود نے ساتھ چھوڑا تھا اور وہ زمین بوس ہوا

آج میرا بدلہ پورا ہوا ہاشم کاظمی تم نے میرا بیٹا مجھ سے چھینا میں نے تم سے تمہارا وارث چھین لیا…..! وہ زہر خندق ہوئی

آج جلدی گھر آئیےگا! پہلی بار پہلی بار کسی نے اس سے یہ فرمائش کی تھی

یا اللہ میری بیواقوف بیوی تیرے حوالے کرتا ہوں….! اس کا چہرہ نظروں کے سامنے گونجتے ہی وہ مسکرا کر آنکھیں بند کر گیا شاید ہمیشہ کے لیے…!

آخری منظر جو اسنے دیکھا تھا وہ سعد کو اپنے گاڈرز کے ساتھ گاڑی سے نکل کر اپنی طرف لپکتے دیکھا تھا