Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 28
Rate this Novel
Nabz-al-Qalb Episode 28
Nabz-al-Qalb by Syeda Shah
کچھ دیر ایسے ٹیرس ہی پر اس کی حرکت پر سرخ سی بیٹھی وہ اب کمرے میں داخل ہوئی جہاں اسے نماز ادا کرتے دیکھ وہ دروازے پر ہی ٹھنکی
کیا ایک اناپرست مرد اپنے رب کے آگے عاجزی سے جھکا ہوا اتنا ہی خوبصورت لگتا ہے؟ وہ محض سوچ سکی تھی
آستہ آستہ قدم لیتی وہ اسے نظرانداز کرتی الماری کی طرف بڑھی
سلام کے بعد دعا میں محض اللہ کا شکر ادا کرکے وہ اٹھا جب نظر اس پر گئی جو الماری میں منہ دیے شاید کچھ دھوند رہی تھی
اسکی سٹرونگ خوشبو اپنے عین پیچھے محسوس کرکے اسکا کپڑے لیتا ہاتھ تھام بے ساختہ اس کی کچھ دیر پہلے والی حرکت یاد آئی
ہٹیں پیچھے! وہ جیسے ہی پلٹی اسے عین پیچھے کھڑا دیکھ کر اسے گھورتی بولی
کیوں؟ وہ بظاہر اسکے اوپر سے ہاتھ کیے اپنی الماری سے کچھ دھونڈتا انجان بنا
مجھے جانا ہے! اس کی بے نیازی پر وہ ضبط کرتی بولی
تو چلی جاؤ میں نے روکا ہے؟ وہ ہنوز الماری میں کچھ کرتا بے نیازی سے بولا کے ولیہ نے گھور کر اسکے دونوں بازؤں کو دیکھا جنہیں وہ اس کے اطراف میں ٹکاۓ کھڑا تھا
آہ…..اگلے ہی لمحے وہ ایک زوردار مکا اسکے پیٹ میں مار گئی کے اس اچانک اتفاد پر وہ دو قدم پیچھے ہوا کے اس کی حالت پر ولیہ اپنی ہنسی ضبط کرتی تیزی سے آگے بڑھی جب وہ اسکا ہاتھ تھام گیا
بہت ہنسی آرہی ہے تمہیں شوہر پر ظلم کرکے…وہ گہری نظریں اس پر مرکوز کیے بولا کے آج نجانے کتنے دنوں بعد وہ اس کی مسکراہٹ دیکھ رہا تھا
آپ کو اور کوئی کام نہیں ہے سواۓ ٹھرکی پن کے؟ وہ اس کی نظروں سے الجھتی بولی
میرے ضبظ پر آپ سوال نہیں کرسکتی ولیہ بیگم….آپ پر تمام حق رکھنے کے باواجود میں نے اب تک آپ پر بے شرمی کے اصل راز نہیں کھولے! گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اسے کنگ کر گیا جب اسکا فون بج
ہاں اسد بولو…..اسے ایسے ہی کنگ چھوڑے وہ بلکنی کی طرف بڑھا
سر میں نے ایس کے کی ساری افارمیشن آپ کو سینڈ کر دی ہے بٹ مجھے لگتا ہے اس سارے معاملے میں ایس کے کا کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ وہ ایک عرصے سے پاکستان نہیں آیا….!
ہمم میں دیکھتا ہوں!
سر ایک بات کہوں؟ وہ کال رکھنے ہی والا تھا جب اسد نے سوال کیا
سن رہا ہوں!
سر میرے خیال سے آپ کو ایک بار میم سے بھی پوچھ لینا چاہیے….وہ جھجھک کر بولا کے اس کی بات پر نائل نے کنپٹی مسلی وہ کب سے صیح موقعے کی تلاش میں تھا مگر ولیہ کے چڑچڑے موڈ کو دیکھ کر وہ فلحال خاموش سے کام لے رہا تھا
اسد سے بات کرنے کے بعد وہ واپس روم میں داخل ہوا تو وہ خلاف توقع ڈریسنگ کے سامنے اپنے خوبصورت بھورے بال پشت پر بکھیرے کھڑی تھی اسنے گھڑی پر نظر درائی جو نو بجا رہی تھی وہ اس کے بالوں کے سحر میں کھویا سا تھا قدم بے ساختہ اس کی طرف بڑھے تھے اب شیشے میں اس کا ان دونوں کا عکس تھا
کھانے کا کوئی سین ہے بیگم؟ اس کی کان کے قریب سرگوشی کی تھی
مجھے بھوک نہیں ہے! وہ تیزی سے اپنے بال سمیٹنے لگی کے وہ ہاتھ بڑھا کر اسکے بال کیچر سے نکال گیا
لیکن مجھے تو بہت بھوک ہے کھانا کھاؤ نہیں تو میں آج تمہیں خود کھا جاؤں گا….! اس کے گھمبیر لہجے میں کہنے سے وہ ناچاہتے ہوۓ بھی فطری حیا کے باعث نظریں جھکا گئی
ایسے شرمائیں گی تو مشکل ہو جاۓ گی بیگم! اپنے کندھے پر اس کی بیرڈ کی چبن محسوس ہوتے ہی وہ اس سے دور ہوتی منمنائی
مممججھے ببھوک لگ رہی ہے….. اس کی حالت سے محفوظ ہوکر نائل اسکا گال کھینچ گیا
گڈ گرل!
************************
رات کے کھانے پر فرحانہ بیگم اور وشمہ نہیں آئی تھیں جس پر ولیہ نے بے ساختہ اس پر نظر ڈالی جو کھانے سے انصاف میں مصروف تھا
ولی یار پانی دینا….سبحان کے کہنے پر وہ مسکرا کر اسے جگ پکرا گئی
کافی بنا دو….. نائل اپنی کرسی سے اٹھتا اس سے بولا
جب سبحان نے شرارت سے اسے دیکھا
ولی یار آج ہم دونوں کافی بناتے ہیں! وہ شریر لہجے میں اس سے مخاطب ہوا کے اس کی بات پر نائل کے کان کھڑے ہوۓ
آہاں یاد آیا ولیہ پہلے مجھے میری ریڈ فائل نکال دو! وہ فورا سے اپنی پیشانی مسلتا بولا
کونسی ریڈ فائل؟وہ ابرو اچکا گئی
ارے یار ابھی تو تم کافی کا کہ رہے تھے اب اچانک فائل یاد آگئی؟ سبحان ہنوز شریر لہجے میں اس سے بولا
ہاں اچانک یاد آگئی…چلو روم میں میری فائل نکالو!
لیکن کونسی فائل؟ وہ ہوانکوں کی طرح اسے دیکھنے لگی
تم روم میں جاؤ! اب کے وہ زرا رعب سے بولا
نائل ایسی کونسی ایمرجنسی آگئی ہے؟ رباب بیگم خفگی سے کہنے لگی جس پر وہ کب بھینج گیا
موم ضروری ہے تو کہ رہا ہوں!
ہاں تو ظاہر ہے کام ہی ہوگا نا جاؤ ولیہ نائل کی فائل نکال کر دو! سائمہ بیگم کے کہنے پر وہ ضبط سے سر ہلاتی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی
چلو کوئی نہیں ہم کل کافی بنا لیں گے! نائل کو پرسکون ہوتا دیکھ کر سبحان نے پھر سے ہانک لگائی جس پر وہ محض اسے گھور کر رہے گیا
روم میں داخل ہوتے ہی وہ کسی خونخار شیرنی کی طرح بیڈ پر ایل ائی ڈی کے سامنے بیٹھی دیکھائی دی وہ خاموشی سے روم لوکڈ کرکے واشروم کی طرف بڑھنے لگا جب وہ اس کے راستے میں حائل ہوئی
کونسی فائل؟ اس کے سوال پر وہ حلق تر کر گیا
آپ کو آخر مسئلہ کیا ہے سبحان سے؟ یہ سوال تو اسکا خود سے بھی تھا
مجھے نہیں پسند کسی کا بھی تم سے فرینک ہونا! اسے دیکھے بغیر جواب دیتا واشروم کی طرف بڑھا کے اس کی الگی بات سے اس کے قدم منجمد ہوۓ
پسند نہیں ہے یا شک ہوتا ہے؟ وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولی اس کے نئے انکشاف پر وہ سرعت سے پلٹتا اسکا بازو جکر گیا
کیا بکواس کر رہی ہو؟
بکواس کر رہی ہوں میں؟ آپ کو شک ہوتا ہے نا مجھ پر جبھی آپ مجھے کسی سے ساتھ برداشت نہیں کرتے اور ظاہر ہے کریں گے بھی کیوں ڈر لگتا ہوگا نا کوئی اور بھی یوز نا کر……
شٹ اپ! اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ خینچا کے ولیہ خوفذدہ سی دو قدم پیچھے ہوئی
سمجھ کیا رکھا ہے تم نے مجھے؟ تمہیں کیا لگتا ہے وہ سب صرف تمہارے ساتھ ہوا ہے؟ نہیں بلکہ وہ سب نائل کاظمی کی عزت کو رولنے کے لیے کیا گیا تھا میں اپنی پوری زندگی میں کبھی اتنا بے بس نہیں ہوا جتنا ان چھ گھٹنوں میں تمہاری آواز سنے بغیر ہوا اور تم اسے ہمدردی کہتی ہو؟ پوری پوری رات میں سو نہیں سکتا کیوں کہ تمہارا یہ روتا ہوا چہرا میرے سامنے آجاتا ہے
تمہارا یہ رونا اذیت دیتا ہے مجھے بہت کم چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے مجھے اور ان میں سے ایک تمہارے آنسو ہیں تمہیں کیا لگتا ہے میں سکون میں ہوں؟
نہیں ولیہ کاظمی مجھے تم سے زیادہ نہیں تو تم سے کم بھی تکلیف نہیں ہے اوپر سے تمہارا یہ چڑچڑا پن مجھے مزید کھا رہا ہے! وہ تیش سے بولا کے اس کا ایک لفظ اس کی اندرونی بے سکونی کی گواہی دے رہا تھا جبکہ دوسری طرف وہ اس کی باتوں سے ضبط کھو چکی تھی آنسو لڑیوں کی صورت گال بھگو رہے تھے
آئی ایم سوری! اس کی بھیگی آواز پر نائل نے اس کی جانب دیکھا اور اگلے ہی لمحے وہ اسے حصار میں لیے خود میں بھینج گیا
رو مت یار! وہ بے بس ہی تو ہو جاتا تھا اس لڑکی کے آنسوؤں سے کے اس کا حصار پاتے ہی وہ اس کے سینے میں منہ چھپاۓ سسکیاں بھرنے لگی کے اس کی سسکیاں نائل کو بے سکون کر رہی تھیں
ششش بس!
مجھے نہیں پتا اسنے میرے ساتھ کیا کیا مگر اس کا زہریلا لمس مجھے ہر وقت خوف میں مبتلا کرتا ہے مجھے گھن آتی ہے اپنے وجود سے…وہ اس کے سینے سے لگی اپنا دل کھول رہی تھی کے نائل اس کی ہر بات ضبط کیے سن رہا تھا
تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہوا میرا یقین کرو! اسکا چہرہ پیالے کی صورت اپنے ہاتھوں میں لیے وہ محبت سے بولا کے اس کی قربت میں وہ بے اختیار نظریں جھکا گئی
مجھے میری ولیہ چاہیے واپس! وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اس کی پیشانی سے اپنا ماتھا ٹکا گیا
مجھے سونا ہے!
سو جاؤ مگر اپنے سر سے ہمدردی کا بھوت اتار دو….مجھے کل سے میری سرپھری ولیہ چاہیے! اس کی پیشانی پر طویل بوسہ دیتا وہ واشروم کی جانب بڑھ گیا کے پیچھے وہ نجانے کتنی ہی دیر اس کی باتوں اور لمس کے زیرے آثر رہی تھی
تم اب بھی تکیوں کی دیوار کھڑی کرو گی؟ وہ واشروم سے آتا اس کی قائم شدہ دیوار دیکھ کر حیرت سے بولا جوابا وہ کچھ نہیں بولی تھی نائل اس کے کمفرٹر پر ایک نظر ڈالتا اپنی سائد پر لیٹ گیا
تمہیں واقعی لگتا ہے تمہاری یہ کمزور سی ڈھال مجھے روک سکتی ہے؟ اس کی سرگوشی پر وہ کمفرٹر کے اندر سے بھی سرخ پڑی تھی
*****************
صبح اس کی آنکھ کھولی تو نظر اس پر گئی جو آج شاید واقعی گہری نیند میں تھا
میری ولیہ چاہیے واپس! رات بھر اسکے الفاظ اسکے کانوں میں بجتے رہے تھے اس پر ایک نظر ڈال کر وہ آنکھوں میں چمک لیے اٹھتی باہر نکل گئی
کچھ لمحوں بعد وہ ہاتھ میں ایک تھال اور چمچ لیے کمرے میں داخل ہوئی
یہ کیا بدتمیزی ہے؟ اچانک سے اپنے کان کے قریب بجتے دھول سے وہ ہربراہ کر اٹھا تھا
آپ شاید بھول رہے ہیں نائل کاظمی آپ نے ہی تو کہا تھا آپ کو سرپھری ولیہ چاہیے تو استقبال کیجیے پھر! وہ لگاتار اس کے کان کے قریب دھول بجاۓ بولی کے نائل نے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا.
تم بچ جاؤ گی مجھ سے اب؟ وہ سرمئی آنکھوں سرخی لیے اس کی طرف بڑھا کے اس کے تیور دیکھ کر ولیہ نے تھوک نگلا
آگے مت آئیے گا! وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے کے چلائی کے اگلے ہی لمحے فعش پر گرے کیلے کے چلکے سے سے نائل کا پاؤں پھنسلا اور وہ بری طرح بیڈ پر گرا تھا
اپسسس سوری میاں جی…بٹ سرپھری ولیہ چاہیے تھی تو برداشت بھی کریں! شرارت سے کہتی وہ اس کے اٹھنے سے پہلے ہی بھاگی
واٹ ڈا ہیل….ولیہ کی بچی! پیچھے وہ تیش کھاتا اٹھا اس کی بات سے وہ واپس پلٹی تھی
.
توبہ کریں ابھی تو میں خود چھوٹی سی ہوں! آنکھ دبا کر کہتی وہ اسے ایسے ہی تیش کھاتا چھوڑ باہر بھاگ گئی تھی
********************
رات کے دس بجنے کو تھے اور وہ اب تک گھر نہیں آیا تھا صبح بھی وہ میٹنگ کی وجہ سے ناشتہ کیے بغیر نکل گیا تھا تو کیا وہ اسے مس کر رہی تھی؟ وہ صرف سوچ سکی
ولیہ بیٹا خیریت ہے اب تک یہاں بیٹھی ہو؟ رباب بیگم کی آواز پر وہ ہوش میں آئی
وہ میں…بس جا ہی رہی تھی….
نائل کا انتظار کر رہی تھیں؟ اس کی گھبراہٹ دیکھ کر رباب بیگم محبت پاش لہجے میں بولیں جس پر وہ سر جھکا گئی
چلو پھر میں چلتی ہوں..شب باخیر رباب بیگم محبت سے کہتی چلی گئیں
ولی یار یہاں کیوں بیٹھی ہوں میرے روم میں چلو نا جب نائل بھائی آئے گے تم چلی جانا…. وفا چاۓ کے دو کپ تھامے اس کے پاس آئی تھی
چلو ٹھیک ہے! وفا کب سے اسے روم میں چلنے کا کہ رہی تھی آخر کار وہ ہار مانتی اس کے ساتھ چل دی تھی
رات کے تقریبا گیارہ بجے اس کی گاڑی گراج میں رکی
وہ گھر میں داخل ہوا تو سناٹا دیکھ کر خاموشی سے اپنا کورٹ بازو پر لٹکاۓ اپنے روم کی طرف بڑھ گیا اسے دیکھنے کی شدت سے چاہ ہوئی تھی
روم میں آتے ہی اسے موجود نا دیکھ کر وہ خاصا بدمزہ ہوا
کافی دیر بعد وہ کافی کا کپ لیے روم میں آئی جہاں نائل اسے صوفے پر بیٹھا پاؤں سامنے ٹیبل پر رکھے نظر آیا
آپ کی کوفی!
رکھ دو! وہ سپاٹ انداز میں لیپ ٹوپ میں مصروف سا بولا کے اس کے نظرانداز کرنے پر ولیہ کا دل چاہ اسکا سر پھاڑ دے
کھانا لاؤں! ضبط کرکے اگلا سوال کیا
بھوک نہیں….لفظی جواب دیتا وہ اسے ششدر کر گیا
آپ کی طبیت تو ٹھیک ہے؟ اس کے کہنے پر نائل نے لیپ ٹوپ سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا وہ اس کے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھ سکتی تھی
خیال آگیا تمہیں؟ وہ طنزیہ بولا
خیال ہی تھا جبھی تو کب سے انتظار کر رہی تھی! روانگی میں کہتی وہ لب دبا گئی
کیوں؟ وہ شوخ ہوا
بارش…..یکدم ہونے والی تیز بارش پر اس کی چیخ سے وہ کانوں پر ہاتھ رکھ گیا
ڈونٹ ٹیل می تم اس سردی میں بارش میں نہانے جاؤ گی؟ وہ ابرو سیکڑے بولا
جاؤں گی نہیں میں جا رہی ہوں! وہ ایکسائٹڈ سی بلنی کی طرف بھاگی کے اس کی بیواقوفیوں پر نائل صبر کا گھونٹ پیتا اس کے پیچھے گیا
وہ بلکنی اپنے بال اور دونوں ہاتھوں کو کھولے آنکھیں موندے کھڑی تھی جب اس کی گھمبیر سرگوشی سے وہ حلق تر کر گئی
روم میں چلو!
آپ چلے جائیں مجھے انجواۓ کرنے دیں!
بہت کر لیا انجواۓ ٹھنڈ لگ جاۓ گی اندر چلو! بے ساختہ اس کے سرہاپے سے نظر ہٹائی تھی
مجھے نہیں جانا آپ تو ہیں ہی بور……وہ بولتی جب نائل نے ایک جھٹکے سے اسے قریب کیا تھا
تمہیں سمجھ نہیں آرہی؟ وہ اس پر گہری نظریں جماۓ بولا
مممیں کھانا لاتی ہوں! اس کی نظروں کی تپش سے وہ بات بدل گئی
نائل کی نظر اس کی گردن پر گئی جہاں اب تک نشانات واضع تھے اس کی نظروں کا تعقب کرکے وہ خوفذدہ ہوتی ڈوپٹا گردن کے گرد لیپٹ گئی کے اس کی حرکت پر نائل لب بھینج گیا وہ آج صبح سے اسد کے ساتھ تھا مگر کوئی سراہ ہاتھ نہیں آرہا تھا
بہت جلد تمہارے ہر زخم کا حساب لوں گا! اس کی بات سے وہ خوفذدہ ہوکر نفی میں سر ہلا گئی
مجھے نہیں چاہیے کوئی بدلہ!
لیکن مجھے چاہیے!
وہ بہت خطرناک ہے! اسنے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا
میں اس سے زیادہ خطرناک ہوں!
میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی….وہ خوفذدہ سی بولی کے اس کی بات پر نائل لے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ رینگی کے اس کی مسکراہٹ کا مفہوم سمجھ کر وہ فوری سے نظریں جھکا گئی
کے گیلے بال…شرم کے باعث سرخ پڑتا چہرا اور لہرزتی آنکھوں سے اس کی گرفت میں کھڑی وہ اس کے سر پر امتحان بنی ہوئی تھی
تو کیا محبت نے آپ کے دل پر بھی دستک دی ہے مسزز نائل؟ خمار آلود لہجے میں کہتا اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر وہ اس کی گردن میں موجود زخموں پر مرہم رکھ گیا
ننن..نائل! اس کے لمس پر وہ جی جان سے کانپی تھی مگر آج سننے والا کون تھا؟
ششش….اس کے لبوں پر انگلی رکھے وہ اب اس کے لبوں پر جھکا تھا
نائل پلززز…. وہ مزاحمت کرتی مسلسل اس کی جسارتوں پر بے حال سی ہوئی جب وہ ایک ہی جست میں اسے بازؤں میں بھرے روم میں لایا تھا
میرے جزبات اجاگڑ کرنے والی آپ ہی ہیں بیگم! سرخ مائل آنکھوں سے کہتا اسے مزید سرخ کر گیا تھا
نائل پلززز ممجھے سسسون….
آج مزاحمتیں بیکار ہیں! وہ اسے مزید بولنے کا موقع دیے بغیر سائد لیپ اوف کرتا اس پر جھکتا چلا گیا تھا
