Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 19
Rate this Novel
Nabz-al-Qalb Episode 19
Nabz-al-Qalb by Syeda Shah
رات کے دو بج گئے تھے اور وہ روم میں نہیں آیا تھا ولیہ روم میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی اس کے قریب جانے کی ہمت بھی فلحال نہیں تھی
پتا نہیں کیوں تھپڑ مار دیا میں نے؟ وہ خود سے کہتی اب خاصی شرمندہ سی اس کے انتظار میں تھی کچھ دیر مزید گزرنے کے بعد وہ ہمت کرتی بلکنی کی طرف بڑھی جہاں وہ ریلنگ پر جھکا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا اس کی نظر اس کے ساتھ ہی کھڑی ایش ٹرے پر گئی جو کہ اب پوری طرح بھری ہوئی تھی
کتنی پیئیں گے؟ وہ اس کے قریب آتی لب بھینجے بولی جبکہ دوسری طرف اس کی بات کو اس طرح انداز کیا گیا تھا عیاں وہ یہاں موجود ہی نا ہو
میں آپ سے بات کر رہی ہوں! اب کے اسنے اسکا بازو تھاما جسے نائل نے بے رحمی سے جھٹک دیا
میرے سامنے سے چلی جاؤ…ورنہ بہت برا پیش آؤں گا! سرخی مائل آنکھوں سے کہتا وہ اسے خوفذدہ کر گیا
آجائیں برے پیش لیکن میں نہیں جاؤں! اپنی اندرونی ہمت جو چھپا کر وہ خاصی ڈھٹائی دے بولی جس نائل نے ایک جھٹکے سے اسے ریلنگ سے لگا کر نیچھے کی طرف جھکایا
سمجھتی کیا ہو تم خود کو ہاں؟ تمہیں کیا لگتا اس طرح کرنے سے تم اپنی غلطی کا ازلہ کر لو گی؟ جبڑے بھینجے کہتا وہ اسے آدھی ریلنگ سے لٹکاۓ کھڑا تھا جبکہ دوسری طرف وہ اس کی حرکت اور لفظوں پر صیح معینوں میں خوفذدہ سی اسکے بازو مضبوطی سے تھامے ہوۓ تھی
ممجھے اوپر کھینچے میں گر جاؤں گی!
کہا تھا نا میرے سامنے سے چلی جاؤ لیکن تمہیں سمجھ نہیں آتی لیکن شاید یہاں سے گرنے پر تمہارا دماغ اپنی جگہ پر آجاۓ!
نننہیں پلززز…آپ میرے ساتھ ایسے نہیں کر سکتے! اس کی باتوں سے وہ خوفذدہ سی منمنائی
میں سب کر سکتا ہوں!
ننہیں پلزز مجھے مت گرائیے گا میں مر جاؤں گی اور آپ اللہ کو کیا منہ دیکھاۓ گے کے آپ نے اپنی مصوم سی بیوی کو چھت سے نیچھے پھنک کر مار دیا؟ اس کے لفظوں نائل نے بے اختیار اس کی جانب دیکھا جو آنکھیں بند کیے اسکا بازو پکڑے کھڑی اس وقت بلا کی مصوم لگ رہی تھی
مجھے فرق نہیں پڑتا! اس کی بے نیازی پر ولیہ کی آنکھوں میں نمی چھائی
پلزززز نا ابھی تو میں نے اپنے بچے بھی نہیں دیکھے….وہ روہانسی ہوتی بولی کے نائل اسے دیکھ کر رہے گیا
سیریسلی؟ تمہیں موت کے منہ میں کھڑے ہوکر بچوں کی پڑی ہے؟ وہ اس پر نظریں مرکوز کیے حیرانگی سے بولا
ایسے ہی تھوڑی اللہ نے ماؤں کا رطبہ بلند رکھا ہے! وہ رہانسی ہوکر بولی عیاں اسے دو تین بھوکے پیاسے بچے اس کے انتظار میں ہوں جبکہ اس کی آؤور ایکٹنگ پر وہ سر جھٹکتا اسے اوپر کی طرف کھینچ گیا
آہ…شکر ہے! اپنی جان کی آزادی دیکھ کر وہ گہرا سانس بھرے بولی
اب میرے راستے میں مت آنا! ہنوز سختی سے کہتا وہ بلکنی سے نکلے اسٹڈی میں چلا گیا
ہونہوں اب میں بھی نہیں بات کروں گی اس جنگلی سے! پیر پٹک کر بولے وہ روم میں آتی کمفٹر میں گھس گئی
**************
صبح اس کی آنکھ کھولی تو سامنا خالی کمرے سے ہوا گھڑی پر نظ ڈرائی تو ابھی صرف ساتھ بجے تھے
پوری رات کیا روم میں ہی نہیں آۓ؟ ہونہوں ایسا بھی کیا غصہ؟ خود سے پوچھتی وہ اٹھ جر واشروم کی طرف بڑھ گئی
کچھ ہی دیر میں پنک کلڑ کے سوٹ میں وہ فریش سی ناشتے کی ٹیبل پر آئی جہاں فلحال سائمہ بیگم موجود تھیں
.
اسلام و علیکم موم!
وعلیکم السلام کہیں جانے کی تیاری ہے؟ سائمہ بیگم اسے تیار دیکھ پوچھنے لگیں
جی یونی جانا ہے!
لیکن نائل تو منع کرکے گیا ہے صبح کے تمہیں کہیں نکلنے نا دوں! سائمہ بیگم اسے آگاہ کرتی بولی جبکہ ان کی بات پر وہ ابرو اچکا گئی
کس خوشی میں؟
”یہ مجھے نہیں پتا لیکن اگر اسنے منع کیا ہے تو اسکا مطلب ہے تم نہیں جاؤ گی.“
میرا آج بہت اہم ٹیسٹ ہے موم میں ان سے بات کر لوں گی! انہیں بگڑتا دیکھ وہ فوری سے اسے بہلانے کو بولی جس پر سائمہ بیگم نے سر کو خم دیا
ٹھیک ہے تم پہلے اجازت لینا پھر ہی جانا!
جی ٹھیک ہے…ان سے کہتی وہ آگے بڑھنے لگی جب سائمہ بیگم نے اسے روکا
رکو مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے…سائمہ بیگم اب کے لہجے میں محبت سموۓ بولیں جس پر وہ ان کے ساتھ ٹی وی لاونج کی طرف بڑھ گئی
جی موم بولیں!
بیٹا مجھے کل سائمہ بھابھی نے تمہارے اور نائل کے بات میں بتایا پہلے تو مجھے بہت حیرت ہوئی لیکن پھر میں نے ٹھنڈے دماغ سے سوچا تو مجھے لگتا ہے تم دونوں کو ہی کچھ وقت لگے گا اس کے بعد انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا! سائمہ بیگم نرمی سے اسکا ہاتھ تھامے بولی
بٹ موم وہ مجھے بلکل پسند نہیں کرتے!
پگلی تو پسند تو تم بھی اسے نہیں کرتی نا لیکن اس کے باواجود نائل نے تمہیں اپنی بیوی کا درجہ دیا تمہارے لیے سب سے تو لڑ جاتا ہے وہ جب بھی تم پر بات ہوتی ہے وہ پہلے کھڑا ہوتا ہے جانتی ہو میر شہزاد سے جانی دشمنی کی وجہ بھی تم ہو تو پھر تم کیسے کہ سکتی ہو کہ وہ تمہیں اپنی بیوی نہیں مانتا؟ میرا بچہ وقت کو کچھ وقت دو سب ٹھیک ہو جاۓ گا!
جی موم!
میاں بیوی کا رشتہ بہت خوبصورت ہوتا ہے بیٹا یہ محض ایک لفظ نہیں ہے بلکہ احساسات کا نام ہے اسے ایسے ہی بدگمانی سے خراب مت کرو… ہم اتنی سی عمر میں تمہیں اس بچپنے کے باعث اپنا گھر خراب کرتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتے ایک بیوی چاہیے تو پتھڑ سے تھپڑ دل شوہر کو بھی اپنا بنا سکتی ہے تو پھر نائل تو بس تھوڑا بدگمان ہے! سائمہ بیگم کے الفاظ اسےسوچنے پر مجبور کر گئے
جی موم میں اپنی پوری کوشش کروں گی!
گڈ میرا بچہ…چلو اب تم ناشتہ کی تیاری کرو سب آنے والے ہونگے!
کچھ ہی دیر وہ سائمہ بیگم سے نائل کی اجازت کا جھوٹ بولنے کے بعد وہ زارون کے ساتھ یونی کے لیے نکل گئی
********************
سر آپ نے میم کو باہر نکلنے سے منع نہیں کیا؟ وہ اپنے کیبن میں لیپ ٹوپ میں مصروف تھا جب اسد اسکا خاص آدمی اسکے پاس آۓ بولا
کیوں؟
وہ آج یونی کے لیے نکلی ہیں بٹ سر میری انفارمیشن کے مطابق آج کل میر شہزاد ایک موقع کے انتظار میں ہے! اسد مؤدب انداز میں بولا جبکہ اس کی بات پر نائل کے تیوری چڑھی
میں نے تمہیں ایک میل سنڈ کی ہے وہ جاکر دیکھو…! اس کے کہتے ہی وہ سر کو خم دیے باہر نکل گیا کے اسکے جاتے ہی وہ سرد تاثر لیے گاڑی کی طرف بڑھا
تمہیں کون لینے آگئے گا؟ چھوٹی کے بعد حنا اسکے پاس آتی بولی
زارون نے آنا تھا لیکن پتا نہیں کہاں رہے گیا میں خود ہی چلی جاتی ہوں۔۔۔
لیکن تم اکیلی کیسے جاؤں گی؟ حنا حیرانگی سے گویا ہوئی
بس سے چلی جاؤں گی پہلے بھی تو جاتی تھی۔۔۔چلو پھر کل ملتے ہیں میری بس مس ہو جائے گی! اس سے مل کر وہ تیزی سے باہر نکل گئی
بس اسٹوپ پر کھڑے کھڑے اسے پندرہ منٹ گزر چکے تھے لیکن ابھی تک کوئی بس آتی دیکھائی نہیں دی بس اسٹینڈ یونیورسٹی سے دو قدم کے فاصلے پر ہی تھا ابھی وہ انہی سوچوں میں گھم تھی جب آس پاس سے آتی آوازوں نے اسے اپنی جانب متواجہ کیا
ارے بھائی یہ ریڈی ہٹاؤ سامنے سے گاڑی آ رہی ہے۔۔۔ پونی کا چوکیدار ایک مالٹے کی ریڈی والے سے بولا
ہونہوں ایک گاڑی کے پیچھے اس بیچاری ریڈی والے کو پریشان کر رہے ہیں۔۔۔ وہ انہیں دیکھتی افسوس سے بولی جب گاڑی زن سے اسکے سامنے سے گزری پھر کچھ دیر بعد وہ زن سے ریوڑس کرکے پیچھے آیا
یہ کیا جہالت ہے جب گاڑی چلانے ہی نہیں آتی تو چلاتے کیوں ہیں؟ وہ غصے سے آگ بغولہ ہوتی کہنے لگی
بیٹا بیٹھا بھی تو دیڑھ کڑور کی گاڑی میں ہے۔۔۔ساتھ کھڑی بزرگ خاتون مسکرا کر بولی
جی اماں یہ امیر زادے ایسے ہی ہوتے ہیں بگڑے ہوئے! وہ افسوس سے سر جھٹک کر بولی جب وہ گاڑی اسے عین سامنے رکی اور اس سے نکلتے وجود کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی تھیں
کیا ہوا بیٹا کوئی مسئلہ ہے؟ یہ امیر زادہ تمہاری طرف کیوں آرہا ہے؟ بڑی بی اس کے بدلتے تاثرات دیکھ کر فکرمند سی پوچھنے لگی
یہ بگڑا امیر زادہ میرا شوہر ہے! وہ اس کے سخت تاثرات دیکھ کر تھوک نگلتی بولی
گاڑی میں بیٹھو! نائل پنٹ کورٹ میں ملبوس آنکھوں پر بلیک گلاسس لگائے اس کے پاس آتا غرایا
میں نہیں آ رہی۔۔۔ وہ اسکا رات والا روایہ یاد کیے منہ بسورے بولی
میری برداشت کو مت آزماؤ شرافت کے ساتھ گاڑی میں بیٹھو!! وہ اسکا بازو تھامے اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا گاڑی تک لایا
آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ وہ زبردستی گاڑی میں بیٹھتی منہ بنائے بولی
تم۔۔۔ تم ہو میرا مسئلہ منع کیا تھا نا آج یونی آنے سے؟ وہ جس اسپیڈ سے اسکی یونی پہنچا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا نجانے کیوں انجانے سے ڈر نے اسے گھیرا ہوا تھا
میرا ٹیسٹ تھا آج۔۔۔۔ اس کی ڈھار پر وہ خوفذدہ سی منمنائی
تو مجھے کہ دیتی میں چھوڑنے آتا میں لینے آتا مرا نہیں ہوں ابھی جو بسوں کا سفر کرو گی تم!
آپ آؤور ری ایکٹ کر رہے ہیں مسٹر ہٹلر! وہ اسے دیکھے بغیر ہی بولی جب وہ درشتی سے اسکی بات کاٹ گیا
خاموش رہو ورنہ اسی گاڑی سے پھنک دوں گا!
پھینک دیں خود ہی بیوہ ہو جائیں گے!
کیا چیز ہو یار تم؟ اس کی ڈھٹائی پر وہ اپنا سر پیٹ کر رہے گیا یہ لڑکی شاید اسکے ناک میں دم کرنے کے لیے بنی تھی
میں بڑی مست چیز ہوں آپ اپنا بتائیں؟ وہ اس کی طرف دیکھے مزے سے بولی جبکہ نائل نے سر نفی میں ہلایا
خوشفہمی!
کیوں دیکھیں زرا کیا میں نہیں ہوں؟ اس کے کہنے پر نائل نے بے ساکتہ اس کی طرف دیکھا پنک کلڑ کے ڈوپٹے کو حجاب کی صورت میں لپیٹے وہ اس وقت خود گلابی سی اس کے دل میں اتر رہی تھی اس پر نظر پڑھتے ہی نائل کاظمی نظریں ہٹانا بھول گیا
کیا ہو گیا ایکسیڈنٹ کروایں گے کیا؟ اسے مسلسل اپنی طرف دیکھتا دیکھ کر وہ نظریں پھیڑتی ونڈو کی طرف دیکھے بولی جس ہر وہ بھی ہوش میں آتا اپنی نظریں ہٹا گیا
پاگل لڑکی!
باقی کا سفر خاموشی سے گزرا تھا کاظمی ویلا کے سامنے آکر اسنے گاڑی روکی
آپ نہیں آرہے؟ گاڑی سے اترنے کے بعد وہ اس سے پوچھنے لگی جسے وہ خاصا نظرانداز کیے گاڑی زن سے بھاگا گیا
ہاؤ روڈ….بدتمیز انسان مجھے پوچھنا ہی نہیں چاہیے تھا! پیر پٹک کر کہتی وہ اندر کی طرف بڑھ گئی جبکہ دوسری طرف وہ کاظمی ویلا سے نکلتے ہی آئیر پیس سے اسد کے ساتھ کونیکٹ ہو گیا
سر ایک گاڑی کافی دیر سے آپ کا پیچھا کر رہی ہے! اسد جو کہ اس سے کچھ ہی فاصلے پر دو گاڈرز کے ساتھ دوسری گاڑی میں موجود تھا اسے آگاہ کرنے لگا
ہمم لیکن میں نے تمہیں اپنے پیچھے آنے سے منع کیا تھا!
سوری سر بٹ میرے لیے آپ کی سیفٹی آپ کے آڈدر سے بڑھ کر ہے! اسد مؤدب انداز میں بولا
ہممم میر شہزاد کے بندے ہیں؟
جی سر اسکا خاص آدمی اظہر گاڑی میں موجود ہے…آپ کہیں تو یہی قصہ تمام کردیں؟ اسد اسکے آڈدر کے انتظار میں تھا
نہیں یہ رولز کے خلاف ہے ہم صرف جوابی کاروائی کریں گے جب تک دوسری طرف سے پہل نہیں ہوگی جب تک ہم کچھ نہیں کر سکتے.! نائل کی رعبدار آواز سے اسد کے گلے میں گلٹی سی ابھری
سوری سر!
کال رکھو اور تم اپنے کام کے لیے نکلوں اسے میں دیکھ لوں گا! حکمیہ انداز میں کہتا وہ میر شہزاد کو کال ملا گیا جو کہ دوسری بل پر ہی ییس کر لی گئی
بولو نائل کاظمی کس طرح یاد کیا تم نے آج ہمیں؟ میر شہزاد خوشگوار حیرت لیے بولا
مجھے لگتا تھا تو گیڈر ہے لیکن تو نے تو گیڈروں سے بھی گیا گزرا کام کیا ہے گیڈر ایک جھنڈ میں وار کرتا ہے لیکن تو نے اپنے ایک چوہے کو شیر کے مقابلے میں بھیج دیا کیا یہ میں تمہاری ہار سمجھوں؟
کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں؟ میر شہزاد اپنی کرسی سے سیدھا ہوتا بولا
تتتتت افسوس میر افسوس تیرے بندے اور اپنے کارنامے تجھے بتانا مناسب نہیں سمجھتے؟ تیرا چوہا میرا پیچھا کر رہا ہے چاہو تو ابھی ختم کر سکتا ہوں لیکن آج پہلی غلطی سمجھ کر میں اس کی جان کاظمیوں کی طرف تحفے کی صورت بخش رہا ہوں!
اگر یہ جھوٹ ہوا تو میں تجھے چھوڑوں گا نہیں کاظمی! مارے تزلیل کے میر شہزاد سرخ چہرا لیے غرایا
نائل کاظمی جھوٹ نہیں بولتا! رعب سے کہتا وہ کال کٹ کر گیا کچھ ہی دیر میں اظہر کی گاڑی اس کے پیچھے سے غائب ہو گئی تھی
*********************
گھر آتے ہی وہ فریش ہونے اپنے روم میں چلی گئی سوٹ تبدیل کرکے ریڈ کلڑ کے شیفون کے سوٹ میں باہر آتی وہ اپنے کمرے میں نظر ڈرانے لگی اب یہ روم بھی اسے اپنا سا لگنے لگا تھا اس کمرے کی ہر چیز نائل کی پسند کے مطابق تھی
(”پگلی تو پسند تو تم بھی اسے نہیں کرتی نا لیکن اس کے باواجود نائل نے تمہیں اپنی بیوی کا درجہ دیا تمہارے لیے سب سے تو لڑ جاتا ہے وہ جب بھی تم پر بات ہوتی ہے وہ پہلے کھڑا ہوتا ہے“)
(نو موم میں آج آپ لوگوں کو صاف کہ رہا ہوں آئندہ میں اپنی بیوی کے بارے میں اس طرح کوئی بات برداشت نہیں کروں گا)
(”میر شہزاد سے جانی دشمنی کی وجہ بھی تم ہو“)
(”ایک بیوی چاہیے تو پتھڑ سے تھپڑ دل شوہر کو بھی اپنا بنا سکتی ہے تو پھر نائل تو بس تھوڑا بدگمان ہے!“)
”( ہم اتنی سی عمر میں تمہیں اس بچپنے کے باعث اپنا گھر خراب کرتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتے“)
تمہیں یہ رشتہ نبھانا ہوگا ولیہ کاظمی! سائمہ بیگم کی باتیں ذہن میں گونجتے ہی وہ خود سے بولی
مرا نہیں ہوں جو بسوں کے سفر کروں گی!
ویسے اتنے برے بھی نہیں ہے…اس کی تصویر کو دیکھتی وہ لب دباۓ بولی
خاموشی سے بیٹھو نہیں تو گاڑی سے پھنک دوم گا! اس کے دوسرے الفاظ ذہن میں گونجتے ہی اسنے منہ بسورا
اتنے نہیں بلکہ بہت برے ہیں….لیکن اب جو بھی ہے اب مجھے اس ہٹلر کے ساتھ ہی گزارا کرنا پڑے گا دیکھنے میں تو اچھے خاصے ہنڈسم ہیں بس تھوڑا ہٹلر ہے…. اس کی تصویر کی سے باتیں کرتی وہ انجانے میں بھی اسے سوچنے لگی تھی
( میاں بیوی کا رشتہ بہت خوبصورت ہوتا ہے بیٹا یہ محض ایک لفظ نہیں ہے بلکہ احساسات کا نام ہے) سائمہ بیگم کی باتوں اس کے دل کو آستہ آستہ پگھلا رہی تھی ابھی وہ انہی سوچوں میں گھم تھی جب اسکے روم کا دروازہ نوک ہوا
آجاؤ…. اس کے کہنے پر ملازمہ بڑا سا سوٹ کیس کے کر روم میں داخل ہوئی
ولیہ باجی آپ نے بلایا؟
ہں رابیہ سارے کپڑے میرے ساتھ سیٹ کرواؤ…چلیں جی میاں جی آج سے اپنے بیڈ کے ساتھ ساتھ روم باٹنے کی بھی عادت ڈال لیں!
کچھ کہا کیا باجی آپ نے؟ ملازمہ اسے خود سے باتیں کرتے دیکھ بولی
نہیں تم کام کرو….
*******************
میں آپ کو بتا نہیں سکتی موم میں کتنی خوش ہوں… فرحانہ محترمہ اس کی خوشی کو دیکھ کر مسکرا کر پوچھنے لگی
کیا ہوا یونیورسٹی میں کوئی فنشن تھا کیا؟ وہ آج انہیں عرصے بعد خوش نظر آئی تھی
”نہیں موم…بات یہ ہے نائل نے مجھے جس کے لیے دھتکارا تھا اب وہ بے جلد اس سے بے زار ہوکر اسے چھوڑنے والا ہے“ وشمہ خوشی کے مارے چہک کر بولی جبکہ اس کی بات ہر فرحانہ محترمہ نفی میں سر ہلانے لگی
ایسا کچھ نہیں ہے تم نے دیکھا نہیں نائل اس کے لیے سب سے لڑ لیتا ہے!
میں نے اپنے کانوں سے سائمہ ممانی اور بڑی ممانی کی باتیں سنی ہیں وہ لوگ جلد کوئہ فیصلہ کرنے کی بات کر رہے تھے میں کہتی تھی نا موم وہ دونوں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے! وہ آنکھوں میں چمک لیے کہنے لگی
بس کرو وشمہ….تمہیں کب عقل آۓ گی؟ چھوڑ دو نائل کا پیچھا میں نے تمہارے لیے رشتے والوں سے بات کی ہے وہ ایک دو دن میں آجائیں گے اگر رشتہ مناسب لگا تو ہم تمہارا رشتہ پکا کر لے گے! فرحانہ محترمہ غصے سے بولیں
آپ چاہے کچھ بھی کر لیں موم لیکن میں جانتی ہوں نائل میرے نصیب میں ہے اور مجھے وہی ملے گا! خوشی سے کہتی وہ واشروم کی طرف بڑھ گئی کے پیچھے فرحانہ محترمہ اس کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا گئی
کس کی اجازت سے تم اس کا پیچھا کر رہے تھے؟ میر شہزاد اس پر بھرکتا بولا
صاحب میں مانتا ہوں مجھے آپ کے کہے بغیر کوئی کام نہیں کرنا چاہیے لیکن آپ نے میری بات کو اہمیت نہیں دی….یہ سب نائل کاظمی کا کیا ڈھرا ہے اسی نے فیکٹری میں آگ لگائی ہے! اظہر مؤدب انداز میں اس کے آگے سر جھکاۓ کہنے لگا
کوئیثبوت ہے تمہارے پاس ہاں؟
جی صاحب یہ دیکھیں یہ تصاویر اسی دن کی ہے اور یہ چھپا ہوا چہرا نائل کاظمی کے خاص آدمی اسد خان کا ہے…اور یہ کچھ تفصیلات ہے اسد خان کے بارے میں! اظہر نے اس کے آگے چند کاغزات رکھے جسے پڑھتے ہی اسکے چہرے کے تاثرات بدلے
نائل کاظمی میں تجھے چھوڑوں گا نہیں….بہت خوب اظہر تمہارا انعام تمہیں جلد مل جاۓ گا! میر شہزاد سرخ چہرا لیے بولا
مجھے انعام نہیں چاہیے مجھے صرف نائل کاظمی سے انتقام چاہیے! اظہر آنکھوں میں انتقام کی آگ لیے کہنے لگا
اور مجھے اس کی بیوی! میر شہزاد کے کہنے پر پوری حویلی میں سب کے خباسی قہقے گونجے تھے
*****************
شام کے چھ بجے تک وہ اپنے روم کا نقشہ بدلنے کے بعد نیچھے آئی جہاں سب لوگ لاونج میں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے
کیا ہو رہا ہے؟ وہ فریش سی ان کے پاس آئی بولی
چاۓ کا انتظار…رباب بیگم مسکرا کر کہنے لگی
تو میں بنا کر لاتی ہوں!
ارے نہیں بیٹا وشمہ بنانے گئی ہے چائے تم ایسا کرو باہر لان وفا اور سبحان بیٹھے ہیں انہیں بلا لاؤ…
اچھا میں بلا کر لاتی ہوں! رباب بیگم کے کہنے پر وہ مسکرا کر باہر کی طرف بڑھ جب کچن سے چاۓ کی ٹرے لے کر نکلتی وشمہ کی نظر اس پر گئی اسے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر شیطانی مسکرا رینگی اور اگلے ہی لمحے وہ آگے بڑھ کر اس سے ٹکرائی کے اس کے ٹکرانے سے کپ سے گرم گرم چاۓ نکل کر ولیہ کے ہاتھ چھلک گئی
آہ….. اس کی چیخ سے اندر آتے نائل کے قدم تھمے اس سے پہلے وہ آگے بڑھ کر اسے دیکھتا سبحان تیزی سے اس کی طرف بڑھے اسکا ہاتھ تھام چکا تھا یہ منظر دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں سرخی سی چھائی
اوہ نو ولی یہ تو بہت جل گیا ہے…. ادھر بیٹھو میں تمہارے جیل لگاتا ہوں! اسے کرسی پر بیٹھاۓ وہ خود اسکا ہاتھ پکڑے وفا سے جیل لیے اسے لگانے لگا
آئی ایم سوری ولیہ میں نے دیکھا نہیں! وشمہ مسنوئی افسوس سے بولی
کوئی بات نہیں میں جانتی ہوں تم نے جان کر نہیں کیا….
روم میں چلو! اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی نائل کی بھاری آواز پر اسنے چونک کر اس کی طرف دیکھا جو سرخی مائل آنکھیں لیے اسکے ہاتھ پر نظریں جماۓ ہوۓ تھا جو کہ سبحان کے ہاتھ میں تھا
لیکن اس کے بہت چوٹ لگی ہے! سبحان اسے دیکھے بغیر ولیہ کے ہاتھ پر کریم لگاۓ بولا
میں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں…روم میں آؤ! ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتا وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
اسے کیا ہوا؟ سبحان حیرانگی سے پوچھنے لگا
کچھ چاہیے ہوگا شاید! وہ بہانا بناتی اٹھی جبکہ وشمہ نائل کے روائیے کی وجہ محسوس کرتی جل بھن کر چاۓ کی ٹرے لیے ٹو وی لاؤنج کی طرف بڑھ گئی
روم میں قدم رکھتے ہی ساری سیٹنگ کا بیڑا غرق دیکھ کر اس کی پیشانی کے بلوں میں اضافہ ہوا کچھ سوچتے ہوۓ وہ تیزی سے اپنی الماری کی طرف بڑھا جو اب اس کی کم بلکہ لڑکیوں کی الماری زیادہ لگ رہی تھی
ولیہ………..! اس کے چلانے پر وہ دروازے پر ہی چہک اٹھی
کیا ہو گیا چلا کیوں رہے ہیں؟ وہ انجان بنے روم میں آتی بولی
کس سے پوچھ کر میرے روم کی سیٹنگ چینج کی ہے؟ وہ سرخ انگارہ ہوتا غرایا
پہلی بات تو یہ کہ یہ روم اب صرف آپ کا نہیں ہے بلکہ ہمارا ہے..اور میں نے سیٹنگ چینج نہیں کی بس اپنی چیزیں اس میں ایڈ کی ہیں اور ظاہر ہے کپڑوں کے لیے ایک عدد الماری کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور جب آپ کے پاس اتنی بڑی ساری الماری موجود ہے تو دوسری کہ ضرورت ہی نہیں ہے! تحمل سے بولتی وہ اسے مزید آگ بغولہ کر گئی
تم…..
چپ بلکل چپ کیا ہوگیا ہے آپ کو کل سے بلاوجہ ہی غصہ کیے جا رہے ہیں! اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ چیخی تھی جس پر نائل کو صیح معینی کی چپ لگی
میں فریش ہونے جا رہا ہوں مجھے میرے کپڑے چاہیے! اب کے زرا نرمی سے کہتا وہ واشروم کی طرف بڑھ گیا کے پیچھے وہ سر جھٹک کر اسے کپڑے نکالنے لگی
کچھ دیر بعد وہ فریش سا شرٹ کے بغیر ہی ٹراؤزر میں باہر آیا جب وہ ہنوز الماری میں گھسی کچھ کرتی نظر آئی نجانے اور کون کون سی تبدیلیاں لانا باقی رہے گیا تھا
شرٹ دو میری! اپنے عین پیچھے سے آتی آواز پر وہ سرعت سے پلٹی جب اسے اس حالت میں دیکھ کر اس فطری حیا کے باعث اسکا چہرا سرخ پڑا اگلے ہی لمحے وہ سٹپٹا کر واپس سے الماری کی طرف مڑ گئی
استغفراللہ شرم نہیں آتی اسے ہی باہے آتے ہوۓ؟ گھبرا کر کہتی وہ آگے بڑھنے لگی کے اسکے گھبرانے پر نائل کے چہرے پر مسکراہٹ شرارتی مسکراہٹ رینگی
اتنی باڈی چھپانے کے لیے تھوڑی بنائی ہے! وہ اس کے اطراف میں بازو ٹکاۓ اسکے جانے کا راستہ بند کیے بولا
شرم نہیں آتی آپ کو؟ اس کی قربت میں بری طرح سٹپٹاتی نظریں جھکاۓ بولی
فلحال تو آپ بے شرمی پر مجبور کر رہی ہیں مسز ولیہ! ریڈ سوٹ میں خود بھی سرخ سی ہوتی وہ واقعی اسے گستاخی پر مجبور کر رہی تھی
مجھے پتا ہے آپ یہ سب مجھے چڑانے کے لیے کہ رہے ہیں آپ کو تو میرے جلے ہوۓ ہاتھ کا بھی احساس نہیں ہے! اس کی ذومعانی باتوں پر وہ جان پر بات کا رخ چینج کرنے کو بولی جس پر وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہی اس کی بات پر نائل کے ذہن میں سبحان کا منظر گونجا
تمہارے احساس کے لیے تمہارا دوست کافی ہے تو صیح! وہ یکدم ہی سنجیدہ ہوکر اس کے ہاتھ سے اپنی شرٹ لیتا بولا
آپ کو سبحان سے جیلسی ہوتی ہے؟ اس کی حالت کو دیکھ کر وہ شرارت سے پوچھنے لگی جس پر نائل نے ابرو اچکائی
میں اور جیلس؟ اس مچھر کو میں ایک ہی پھونک سے اڑا دوں! وہ خود بھی نہیں جانتا تھا اسے سبحان سے چڑ کیوں ہونے لگی تھی شاید اس کی وجہ اس کی یہ پاگل بیوی ہی تھی
اڑا کر دیکھائیں… وہ ہنوز اسے چڑانے کو بولی
کسی دن تمہارے سامنے ہی اڑاؤں گا بے فکر رہو! منہ پھلا کر کہتا وہ ولیہ کو کوئی ناراض بچہ لگا
میں ہاتھ توڑ دوں گی آپ کے! اسکے پیچھے ڈریسنگ تک آتی وہ ادا سے بولی
تمہیں زیادہ ہی برا نہیں لگتا! اس کے کہنے پر نائل نے جیسے ہی پلٹ کر اسکا ہاتھ تھامنا چاہ یکدم ہی ولیہ کے ہاتھ میں شدید جلن کا احساس ہوا تھا
آہ……کراہ کر وہ بیڈ کی طرف بڑھی کے اس کر کراہنے پر نائل بے چونک کر اسے دیکھا
آپ کو تو سچ میں میرا احساس نہیں ہے! اس کے چہرے پر موجود تکلیف کے آثار نائل کے دل پر بری طریقے سے لگے تھے
دیکھاؤ مجھے!وہ اسکے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھا اسکا ہاتھ تھامے بولا
مجھے نہیں چاہیے آپ کی یہ ہمدردی! وہ منہ بسورے بولی
درد تو ہوگا ہی نا اس مچھر نے غلط جیل جو لگائی ہے! احتیاط سے اسکا ہاتھ صاف کرتا وہ سائد ٹیبل سے فرسٹ ایڈ نکالے کہنے لگا
ہاں آپ تو جیسے ڈاکٹر ہیں نا!
ڈاکٹر نہیں ہوں لیکن ان سب کا پتا ہے مجھے! اب وہ نرمی سے اسکے ہاتھ پر کریم لگاتا بول رہا تھا جب اس کی اگلی بات پر اس کے ہاتھوں کی حرکت رکی
کیوں غنڈے ہیں آپ! اس کے جمعلے پر ماضی کا منظر اسکے سامنے لہرایا
ایک اور مڈر این اے؟ تو کتنے لوگوں کی جان لے گا! اوپر سے اپنی حالت دیکھ کسی غنڈے سے کم.نہیں لگ رہا! معصب کی آواز اسکے کانوں میں گونجی
کیا ہو گیا کہاں کھو گئے؟ وہ اسکے آگے ہاتھ لہراتی بولی جس پر وہ فورا سے ہوش میں لوٹا
یہ کریم لگا دی ہے اب شرافت سے اس ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرنا…گھر کے کام کے لیے ملازمہ ہیں اور اگر کھانا کھانا ہو تو مجھے کہنا مگر اب اس ہاتھ کو زحمت مت دینا! نرمی سے اسکا ہاتھ تھامے کہتا وہ اس کی ہارٹ بیٹ تیز کر گیا
خیال رکھا کرو اپنا! اس کے چہرے پر آئی لٹوں کو انگلی کے پور سے کان کے پیچھے اڑستا وہ اٹھنے لگا جب ولیہ نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا
سوری! وہ اسکا ہاتھ تھامے نظریں پھیڑے بولی
کس بات کے لیے؟ نائل نے ابرو اچکائی
اس دن کے لیے! وہ منمنائی
تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو جاۓ اس کا بدلہ تو میں لے کر ہی رہو گا اتنی آسانی سے معافی نہیں ملنے والی ڈیر وائفی!
ہونہوں ہٹلر ہمیشہ ہٹلر ہی رہے گا! اس کی بات پر وہ جھرجھرلی لے کر بولی
کیا کر سکتے ہیں اب تمہاری قسمت میں یہی ہٹلر اور میری قسمت میں تم جیسی پاگل ہی لکھ دی گئی ہے….! وہ آنکھ دباۓ بولا اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی دروازے پر دستک ہوئی
سر آپ کو اور ولیہ باجی کو دادا سائیں کھانے پر یاد کر رہے ہیں! وشمہ اندر آتی آگاہ کرنے لگی جس پر وہ دونوں سر ہلا گئے
