Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 34
Rate this Novel
Nabz-al-Qalb Episode 34
Nabz-al-Qalb by Syed Shah
اس کے جاتے ہی وہ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی فرش پر گرا خون دیکھ دیکھ کر اس کا دل ڈوب رہا تھا تکلیف تو اسے بھی ہوئی تھی اپنے شوہر کی نظر میں خود کی اہمیت جان کر جو وشمہ کو تو اپنے سی بی آئی آوفیسر ہونے کا بتا چکا تھا مگر اسے نہیں
کچھ دیر بعد وہ واشروم سے نکل چہرے پر بازو پر نظر آتے پانی کے چند قطروں سے وہ پہنچان گئی کے وہ فریش ہوکر آیا ہے بے ساختہ نظر اس کے ہاتھ پر گئی جہاں اب خون جم چکا تھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتی نائل اپنا لیپ ٹوپ اٹھاۓ اسٹڈی کا دروازہ اسکے منہ پر بند کر گیا
اگلے پانچ منٹ میں گاڈر ایلومینیم کا کام کرنے والے ایک شخص اور ملازمہ کو لیے نوک کرکے اندر آیا
یہ تو کل بھی لگ جاتا!
سر کا حکم ہے آج ہی نیو شیشہ لگانا چاہیے! گاڈر نے بتایا جس پر وہ سر ہلا گئی
ملازمہ جلدی جلدی کانچ سمیٹ رہی تھی شاید یہ سب اسے کانچ نا چب جانے کے ڈر سے کروایا گیا تھا
کچھ دیر ہی گزری جب فرحان صاحب اس کے کمرے میں داخل ہوۓ
ڈیڈ آپ؟ وہ حیران ہوئی انہیں یہاں دیکھ کر
ہاں نائل کہاں ہے؟
اسٹڈی میں ہیں…..اسنے اسٹڈی کی طرف اشارہ کیا جس پر وہ سر ہلاتے اس جانب چلے گئے کے ان کے جانے کے وہ بھی سائمہ بیگم کے روم کی طرف بڑھ گئی
کب سے کال کر رہا ہوں کہاں…. سگریٹ؟ وہ بنا نوک کیے اندر داخل ہوۓ کیے جب وہ انہیں سگریٹ کے گہرے کش لگاتا نظر آیا
خیریت آج سورج کدھر سے نکلا ہے جو آپ یہاں؟ وہ بظاہر نارمل ہوتے ہوۓ بولا
ہاں کچھ معاملات ڈسکس کرنے تھے…. سب خیر ہے یہ باہر شیشہ کیسے ٹوٹا ہے؟
آپ کی بیٹی کو پتا لگ گیا میرے سی بی آئی میں ہونے کا! جتنے آرام سے اسنے اسے آگاہ کیا تھا وہ اتنی ہی تیزی سے اپنی چیئر سے اٹھے
ککیا؟ پورے شہر میں ڈھندورا پیٹ دے گی وہ…! وہ پریشانی سے بولے
پیٹ کے دیکھاۓ پھر میں پیٹوں گا اسے! وہ کندھے اچکاۓ کہنے لگا
تمیز سے بات کرو بیٹی ہے میری! فرحان صاحب اسے ڈپٹتے بولے
جی جی جیسے میری تو کچھ لگتی ہی نہیں!
اور یہ ہاتھ پر کیا ہوا ہے؟ پھر کسی سے لڑ کے آرۓ ہو؟ وہ تشویشی انداز میں اسکا ہاتھ دیکھتے ہوۓ بولے
کچھ نہیں ہوا اب آپ باتوں میں لگے رہیں گے یا کچھ ڈسکس بھی کریں گے؟ اس کے شریر لہجے میں کہنے سے جھرجھرلی لے کر اپنی بات شروع کر گئے
وہ دل ہلکا کرنے کو سائمہ بیگم کے پاس آئی تھی جہاں وہ اسے خود أنسو بہاتی دیکھائی دیں
کیا ہوا موم آپ رو کیوں رہی ہیں؟ وہ پریشانی سے بولی
تمہارے ڈیڈ اتنی سنا کر گئے ہیں ابھی پتا نہیں یہ مردوں کی کیوں عادت پوتی ہے جب بھی غصہ آۓ اتارتے اپنی بیویوں پر ہیں! سائمہ بیگم روہانسی ہوکر بولیں
چھوڑیں نا موم پریشان ہونگے!
ہاں معلوم ہے پریشان ہونگے لیکن ایسے بیوی کی توہین کرنا کونسے قانون میں ہے؟ نائل تو تم سے بدتمیزی نہیں کرتا؟ کسی خیال کے تحت وہ پہلی بار اس کے مطلق اس سے پوچھ گئی جب کے ان کے کہنے پر اسے یاد کرنے پر بھی نائل کی کوئی ایسی بات یاد نہیں آئی جس میں اسنے اس کی بے عزتی کی ہو بلکہ بدتمیزی تو ہمیشہ وہ خود ہی کرتی تھی
بلکہ نائل کہاں بدتمیزی کرتا ہوگا تم ہی کرتی ہونگی اس سے! اس کے جواب سے پہلے ہی وہ بول پڑی جس پر خجل سی ہو گئی
.
بدتمیزی نہیں وہ صرف غصہ کرنا جانتے ہیں! وہ خاصا منہ بناۓ بولی
تو اسے موقع مت دیا کرو نا اتنا پیارا بچہ ہے میرا تم ہی اس کے پیچھے پڑتی ہونگی! وہ سوں سوں کرتی بولیں
جی جی بلکل! ان کے رونے کے باعث وہ کڑوا گھونٹ پی کر رہے گئی جب فرحان صاحب کمرے میں داخل ہوۓ
ہوگئیں میری برائیاں؟ مسکراتے ہوۓ اندر آتے وہ اپنی بیگم اور بیوی سے مخاطب ہوۓ جس پر سائمہ بیگم رخ پھیر گئیں
آپ نے موم کو رولا دیا! ولیہ نے خفگی سے کہا
حالانکہ میں نے ایسی کوئی بات کی نہیں لیکن آپ رو رہی ہیں اسئلے میں آپ سے معافی چاہتا ہوں! وہ مسکراتے ہوۓ ان دونوں کے پاس بیٹھتے بولے کے ان کی معافی پر سائمہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ رینگی جبکہ ولیہ کے لیے یہ سب نیا نہیں تھا لیکن آج اسے میاں بیوی کے رشتے کی یہ خوبصورتی سمجھ میں آرہی تھی
”مرد کو غصہ آتا پے کبھی کبھی حالات سے مجبور ہوکر وہ بہت کچھ کہ جاتا ہے مگر بہترین مرد وہی ہے جو اپنی غلطی محسوس کرنے پر معافی مانگنے میں گریز نا کرے اور عورت کو بھی چاہیے وہ جلد ہی مان جایا کرے انہی چھوٹی چھوٹی چیزیں سے زندگی کو خوبصورت بنایا جاتا ہے“ اسے سائمہ بیگم کے الفاظ یاد آۓ جو انہوں نے شادی سے کچھ دن پہلے اسے کہے تھے
چلیں آپ لوگ کنٹینو کریں میں زرا کچن کو دیکھ لوں! انہیں چھیڑتی وہ کچن کی طرف بڑھ گئی
ولیہ بیٹے؟ اسے کچن میں دیکھ کر رباب بیگم اس جانب آئی
جی….
بیٹا نائل آگیا ہے تو اسے کافی دے آؤ آوفس سے آتے ہی لیتا ہے نا! ان کے لہجے میں بیٹے کے لیے محبت ہی محبت تھی
جی تائی ماں بنا دیتی ہوں! وہ اپنا دل مارتی بظاہر مسکرا کر بولی جب کے دل تو اس کا سامنا کرنے کا سوچتے ہی کانپا تھا
کچھ دیر بعد وہ اپنے روم کے آگے کشمکش میں کھڑی تھی ایک گہری سانس ہوا کے سپرد کرکے وہ اندر داخل ہوئی جہاں نائل اسے صوفے پر موبائیل یوز کرتا ریلیکس انداز میں بیٹھا نظر آیا
آپ کی کافی! اس کے سامنے رکھتی وہ پلٹنے لگی جب اس کی سرد آواز کانوں سے ٹکرائی
رکو! اس کی سرد آواز سے وہ ناچاہتے ہوۓ بھی رک گئی
مجھے صرف سچ بتانا کس نے کہا تھا تم سے وہ سب؟ وہ اس پر نظر ڈالے بغیر سپاٹ لہجے میں پوچھ رہا تھا
وہی جسے آپ نے یہ سب بتایا تھا وشمہ نے! اسنے صاف گوئی سے کام لیا کے اس کا نام سنتے ہی وہ مٹھیاں بھینج گیا
ہممم…یہ کافی اٹھا لو یہاں سے! اتنا کہ کر وہ روم سے باہر نکل گیا کے اس کی بے روکھی پر وہ ششدر رہے گئی
**********************
وشمہ کہاں ہے؟ کمرے سے نکلتے ہی اسنے ملازمہ سے پوچھا
وہ کچھ پہلے ٹیرس پر گئی تھیں!
اوکے! سر اثبات میں ہلاتا وہ خطرناک تاثر لیے ٹیرس پر آیا جہاں وہ ٹیرس پر کھڑی کسی سے کال پر بات کر رہی تھی
کیا بکواس کی ہے تم نے میری بیوی سے؟ اسے بازو سے دبوچ کر وہ ڈھار کے اس اچانک اتفاد پر وہ بری طرح بھکلائی
ککیا؟
کیا؟ ہاں؟ اگر میری ماں نے عورتوں پر ہاتھ اٹھانے کی تربیت کی ہوتی تو تم آج میرے ہاتھوں قتل ہوتی!
کیا کر رہے ہیں پیچھے ہوں مجھے تکلیف ہورہی ہے! اسے اپا بازو ٹوٹتا محسوس ہوا
ایک بات اپنے اس شیطانی ذہن میں بیٹھا لو وشمہ خان مجھے تمہاری یہ سوکولڈ عزت اتارنے میں زرا دیر نہیں لگنی لیکن وہ کیا ہے نا میری بیوی کو تکلیف ہوگی اور اسے تکلیف دینا میں سوچ بھی نہیں سکتا اور جو تم نے اس کے کان بھر کر اسے تکلیف پہنچائی ہے اس کی سزا یہ ہے دو دن کے بعد تم مجھے اس گھر میں نظر نا آؤ! ایک ایک لفظ چبا چبا کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر کہتا وہ اسے کانپنے پر مجبور کر گیا
اتنی محبت اس سے جس نے آپ کو کبھی اپنا سمجھا ہی نہیں؟ میں نے تو محبت کی تھی آپ سے!
محبت؟ تم اسے محبت کہتی ہو؟ یہ محبت نہیں یہ جنون ہے غلط ہیں وہ لوگ جو جنون کو محبت کا نام دیتے ہیں محبت کا پاک نام دل میں سکون پیدا کرتا جو مجھے ولیہ دیتی ہے ایسے دل میں محبت دستک دے ہی نہیں سکتی جہاں جنون ہو حسد کی آگ ہو…… ایک جھٹکے سے اسے دور پھینک کر وہ واپس چلا گیا کے پیچھے وہ اس کی باتوں میں کھو سی گئی جب زارون نے اسکا راستہ روکا
بھائی؟
ہمم!
تھینک یو…!!! وہ نظریں چڑاۓ بولا
کس چیز کے لیے؟ نائل ابرو اچکاۓ کہنے لگا
آپ نے وفا اور میرے لیے جو کچھ کیا! وہ اس کے گلے لگتا حیران کر گیا نائل نے اسے تھپکی دی
آئی لوو یو بھائی!!! بس بس نشے وشے میں تو نہیں ہو یہ رومینس بعد کے لیے بچا کر رکھو! وہ مسکرا کر اسے پیچھے کر گیا کے زارون نے بے ساختہ اپنی آنکھوں میں آئی نمی چھپائی
”کل سے فنشن شروع ہے تم بھی ہل لینا“ اسے تمبہی کرتا وہ آگے بڑھ گیا کے اس کے جاتے ہی زارون ٹیرس پر آیا جہاں وہ اسے اپنا بازو سہلاتی دیکھائی دی اس کے پاس آتے ہی زارون نے ایک زوردار تھپڑ اسے رسید کیا
مانا کے ہماری ماں نے ہماری یہ تربیت نہیں کی لیکن حقدار کو اس کا حق دینا بھی سیکھایا ہے اور یہ تمہارا حق ہے! وہ زہر خندق ہوا جب کے وشمہ اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی
تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا؟ وہ آگ بغولہ ہوتی اسکا کالڑ تھامے چلائی
ہاں کیوں تم مجھے دھوکہ دیا ہے ایک بار نہیں بار بار…کیا کہا تھا تم نے تمہیں ولی سے اپنے تعلاقات نارمل کرنے ہیں اور تم نے میری جھوٹی گواہی دلوا کر مجھے میرے بھائی کی خوشیوں کا قاتل بنا دیا؟ وہ غرایا
میں نے نہیں تم خود خودغرض ہو گئے تھے اور ٹھیک بھی ہے محبت میں سب جائز ہے!
واٹ؟ تم بھائی کی باتیں سننے کے باواجود بھی یہ بول رہی ہو؟ تف ہے تم پر کچھ نہیں ہو سکتا تمہارا کیونکہ تم آندھی اور بہری ہو گئی ہو مجھے افسوس ہے میں نے کبھی تم سے محبت کی تھی! وہ سر نفی میں ہلا گیا کے وشمہ زلت سے سرخ ہوتا چہرا لیے وہاں سے تیزی سے واک اوٹ کر گئی
رات کا کھانا خاموش محول میں کھایا گیا تھا آج ٹیبل پر غیر معمولی سی خاموشی….جب کچھ دیر بعد اس کی رعبدار آواز لاونج میں گونجی
دادا سائیں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے! سب پر ایک طرہانہ نظر ڈال کر وہ ان سے مخاطب ہوا
کہیے! دادا سائیں نرمی سے بولے
میری بیگم کو شکایت ہے میں آپ سے ٹھیک سے بات نہیں کرتا لحاظہ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں! اس کے الفاظوں پر جہاں ولیہ کا دل ڈوبا وہینسب نے چونک کر اسے دیکھا نائل کو معافی مانگتے ہوۓ سب نے شاید پہلی بار سنا تھا
تو یہ سب کرم نوازی صرف ہماری پوتی کی وجہ سے ہے؟ دادا سائیں نے ابرو اچکائی
یہی سمجھ لیں ہم دونوں کونسا جدا ہیں آپ سے معافی کا طلب گار ہوں!
تو پھر معاف کیا آپ کو! دادا سائیں نے خوشنوئی سے کہٹ جس پر سب مسکرا گئے
رات کے گیارہ بجے وہ روم میں آئی جہاں سامنا نیم اندھیرے میں ڈوبے کمرے سے ہوا چھوٹے چھوٹے اٹھا کر بیڈ تک آئی تو معلوم ہوا وہ آج بیڈ کی جگہ صوفے پر سویا ہے
اونہوں آنا کا مارا….کوئی بات نہیں میں بھی پورے بیڈ پر پہل کر سوؤں گی اور جب صبح چڑاؤں گی تو پتا لگے گا! اس کے سوۓ ہوۓ وجود کو دیکھ کر خود سے باتیں کرتی وہ آنکھیں موند گئی
کسی کے مسلسل ہلانے سے اس کی آنکھ کھولی وہ آدھی رات کو چڑیلوں کی طرح اپنے بال بکھیرے اس کے سامنے کھڑی تھی
کیا ہے؟ اسے دیکھتے ہی وہ کروٹ بدل گیا
مجھے اکیلے نیند نہیں آرہی بیڈ پر چلیں نا….اسکا کندھا جھنجھوڑ کر واپس ہلایا تھا
تو میں کیا کروں اب مت اٹھانا مجھے! اس کی بے رخی پر وہ جی جان سے کڑھی
اللہ کرے آپ کے بلکل ساتھ چڑیل آکر بیٹھ جائیں پھر پتا لگے گا آپ کو!ولیہ بگڑے منہ زے پیر پٹک کر واپس بیڈ پر آئی
آجاۓ لیکن تم سے ڈراونی نہیں ہوگی! وہ بھی کہاں باز آنے والوں میں سے تھا
آپ خود ہونگے چڑیل کے لگتے سگتے….اتنا سا بھی احساس نہیں ہے آپ کو میرا اگر میرے دل کو کچھ ہو گیا نا تو خود بیوہ ہو جائیں گے! چڑ کر کہتی آخر میں وہ روہانسی ہوئی جبکہ اس بار ناچاہتے ہوۓ بھی نائل مدھم سا مسکرایا
پہلے الفاظوں کو صیح جگہ استعمال کرنا سیکھ جاؤ پھر کر دینا مجھے بیوہ! جھرجھرلی لے کر وہ پھر سے آنکھیں موند گیا کے اس کی بے حسی پر ولیہ نے ایک کشن کھینچ کر اسے مارا جس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑا
آئی ہیٹ یو! ایک اور کشن اس پر اچھالنے کے بعد وہ بیڈ پر لیٹتی کمفٹر کو اچھے سے اپنے ارگرد سے نیچھے کرکے بند کرتی ایک بار پھر سونے کے لیے آنکھیں موند گئی
***********************
کٹ پٹ کی آواز سے وہ بامشکل آنکھیں کھول پائی جہاں اسکا شوہر کچھ تلاش کرتا زور زور سے الماری اور درازوں کے دروازے بند کر رہا تھا
میری کوئی چیز ملے گی بھی مجھے؟ کچھ بھی نہیں ملتا اس گھر میں مجھے! اسے اٹھتا دیکھ کر وہ مزید تیز آواز میں بڑبڑانہ شروع ہوا
نا واچ مل رہی ہے نا ہی کف لنگ ملتے ہیں حد….بولتے بولتے اس کی بولتی بند ہوئی جب وہ اسے بلکل سامنے ڈریسنگ سے یہ دونوں چیزیں اٹھا کر پکڑا گئی
اااور میری ایک بلیک فائل…. اس کے مزید کہنے سے پہلے ولیہ نے بیڈ کی سائد ٹیبل سے ایج فائل اٹھا کر اس کے سامنے پٹکی جس پر وہ لب بھینج گیا
آدھے گھٹنے میں آرہا ہوں حنا اور وفا کو شوپنگ پر لے جانا ہے میں نے اگر کوئی اور بھی چلنا چاہیے تو چل سکتا ہے! واچ پہنتے ہوۓ اس پر ایک بھی نظر ڈالے بغیر وہ باہر نکل گیا ہے اس کے نئے انداز پر ولیہ کا دل چاہ اس کا سر پھوڑ دے
جائیں حنا اور وفا کے ساتھ میں بھی نہیں جاؤں گی اب! منہ بسور کر کہتی وہ پھر سے بیڈ پر ڈھے گئی ابھی صرف صبح کے نو بجے تھے اور آج اسکا جلدی اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا پوری رات وہ ڈر ڈر کر گزارنے کے بعد فجر کی نماز پڑھ کر سوئی تھی
اسکا کام آدھے گھٹنے کی جگہ چار گھنٹے بعد ختم ہوا اسکے موڈ خراب ہونے کا سوچتے ہوۓ وہ سیدھا اپنے روم میں آیا کے سامنے کا منظر دیکھ کر اسے اس لڑکی پر شدید افسوس ہوا جو پورے بیڈ پر آڑی ترچھی ہوکر لیٹی اب تک سو رہی تھی
آج اسے کیا ہوگیا؟ خود سے سوچتا وہ اپنا موبائیل اون کر گیا
ولیہہہہ……اب نے حنا نے اسے پوری طرح سے جھنجھوڑا جس پر وہ گھبرا کر اٹھی تھی
اٹھ بھی جاؤ بارہ بج گئے اسلام آباد پہنچتے پہنچتے بھی دو گھنٹے لگ جائیں گے وہ اس کے سر پر کھڑی بول رہی تھی جب ولیہ اب تک نیند میں ہونکوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی کے اس کی حالت پر نائل نے بامشکل لب دبا کر اپنی ہنسی روکی
کہاں گھم ہو؟ حنا نے ایک بار پھر اسے ہلایا جس پر وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی سامنے بیٹھے وجود کو دیکھتے ہی اس کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں تھیں
بس یار وہ آج بیڈ پر اتنے سکون سے نیند آئی بس کیا بتاؤ مزہ آگیا! انداز صاف چڑانے والا تھا جس پر موبائیل میں مصروف نائل نے ابرو اچکائی
اچھا اب جلدی کرو نا یار ہم لیٹ ہیں! اس کے کہنے پر وہ تیزی سے واشروم کی طرف بھاگ گئی
شوپنگ مال میں بھی وہ جان کر سب سے الگ تھلگ گھوم رہی تھی وجہ صرف نائل کو زچ کرنا تھا جو کہ اس کی حرکتوں پر ہو بھی رہا تھا وہ ہر شوپ پر دس کپڑے نکالنے کے بعد دوسری شوپ پر چلی جاتی جبکہ نائل اس سے پوچھے بغیر اس کے کھلواۓ ہر دس کپڑوں میں سے تین چار اس کے لیے لے لیتا بظاہر وہ اسے مکمل اگنور کیے ہوۓ تھا جس کے باعث ولیہ اس طرح کی حرکتوں سے اس کی اٹیشن خود کی طرف کھینچ رہی تھی
دیکھ رہی ہو تم ان دونوں ٹوم آئنڈ جیڑی کو بظاہر ایک دوسرے سے خفا ہیں لیکن دونوں ہی ایک دوسرے میں الجھے ہوۓ ہیں….وفا ان دونوں کو دیکھتی محبت سے چور لہجے میں بولی
ہاں ماشاءاللہ! حنا نے دل ہی دل میں ان کی نظر اتاری تھی
تم دونوں نند بھاوج کیا ایک دوسرے میں لگی ہوئی ہو بھول گئیں میں بھی تم لوگوں کے ساتھ ہوں…. اسے اچھا خاصا زچ کرنے کے باواجود اس کی توجہ نا ملنے پر وہ اب تھک ہار کر ان دونوں کے پاس آئی
ہم نہیں تم بھول گئی ہو ہمارے ساتھ آئی! حنا نے خفگی سے کہا جس پر وہ شرمندہ سی ہوکر ادھر ادھر دیکھنے لگی
اچھا چلو یہ دیکھو یہ لہنگا کتنا خوبصورت لگ رہا ہے نا یہ لے لیتے ہیں کل تمہاری مہندی پر کتنا پیارا لگے گا نا! ولیہ نے اس کی تواجہ لہنگے کی طرف کی
واقعی میرا بھائی تو گیا کام سے! وفا کے چھیڑنے پر اس کے گال دھمکنے لگے تھے
اہمم اہمم…..!
ولی یار مت کرو ورنہ میں نے نائل بھائی سمیت تمہیں چھیڑنا ہے! حنا نے اسے کونی ماری جس پر مسکرا کر اردگرد دیکھنے لگی جہاں اسے نائل نظر نہیں آیا
یہ کہاں چلے گئے؟ یکدم اسے گھبراہٹ ہوئی تھی وہ کافی دیر سے اسے دیکھائی نہیں دیا تھا
.
کیا ہوا ولی؟ حنا اور وفا نے حیرانگی سے اس کے بدلتے تاثرات کو دیکھا جہاں اب واضع پریشانی تھی
نائل کہاں گئے؟
یہی ہونگے آتے ہونگے تم کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہو؟ وفا نے اسکا گال کھینچا جس پر خجل سی ہوئی جبھی وہ کسی لڑکے کے ساتھ کافی کے کپوں سے بھری ٹرے اٹھاۓ اس طرف آیا
کہاں تھے آپ؟ وپ فکرمندی سے بولی جس پر نائل نے اپنے ہاتھ میں موجود کافی کی طرف اشارہ کیا جیسے کہنا چاہ رہا ہو (یہ لینے گیا تھا)
نائل بھائی آپ کہیں بھی جایا کریں ہماری ولی کو بتا کر جایا کریں ورنہ آپ کو دیکھے بغیر یہ بے چین ہو جاتی ہے…حنا نے اسے چھیڑا کے اس کی بات نائل سر جھٹک گیا جب کے دوسری طرف وہ گہری سوچ میں پڑھ گئی
پہلے تو کبھی اسے ایسا احساس نہیں ہوا تھا شاید آنے والے دنوں نے اپنی خبر دی تھی جب وہ اس کی ایک جھلک تک دیکھنے کو ترسنے والی تھی
پورا دن شوپنگ میں گزارنے کے بعد وہ ایک اچھے سے رسٹورینٹ کھانا کھا کر رات کے بارہ بجے گھر لوٹے خلاف تواقع آج سب گھر والے جاگ رہے تھے ولیہ اور وفا تو ان کے ساتھ ہی پوری شوپنگ نکال کر بیٹھ گئی تھیں کے عورتوں کی عادت ہوتی ہے جب تک اپنی شوپنگ گھر کے ایک ایک افراد کو دیکھا کر تعریف وصول نا کر لیں ان کے دل میں سکون کہاں اترتا ہے جبکہ حنا کو نائل ڈروپ کرنے کے بعد اپنے کام سے نکل گیا تھا جانتا تھا کل فنشن کے اسٹارٹ ہونے کے بعد اسے بھی مصروف رہنا تھا
صبح ہوتے ہی پورے کاظمی ویلا میں مہندی کے فنشن کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں
مہندی والی نے آکر ان سب کے ہاتھوں کو خوبصورت مہندی سے رنگ کر مزید خوبصورت بنا دیا تھا
ولیہ بیٹا تم ریڈی نہیں ہوئی بیوٹیشن تو آگئی ہے! رباب بیگم اسے ہنوز کام میں مصروف دیکھ کر محبت سے بولی جس پر وہ لان میں آخری کشن رکھ کر مسکرا کر سر اثبات میں ہلاتی اپنے روم کی طرف بڑھی اسنے ایک بھی سوٹ اپنی پسند کا نہیں لیا تھا سب نائل نے ناراضگی کے باواجود اسے خود اپنی پسند کا دلوایا تھا جس کا غصہ اسے الگ سے تھا
میم آپ کا ڈریس پنک کلر کا ہے تو میک اپ بھی پنک کر دوں؟ بیوٹیشن کے پوچھنے پر وہ جھرجھرلی لے گئی
یہ نہیں بتایا تمہارے باس نے؟
جی انہوں نے کہا ہے پہلے ایک بار ان سے پوچھ لینا لیکن میک اپ پنک ہی کرنا! بیوٹیشن اپنی مسکراہٹ دباۓ بولی کے اس کی بات پر ولیہ جی جان سے کڑی تھی
بیوٹیشن آخری ٹچ دے کر باہر نکل گئی جب وہ کورٹ بازو پر ڈالے روم میں داخل ہوا جہاں وہ پورے ہتھیار سمیت اسے زیر کرنے کو لائٹ پنک لہنگے کڑتی پر پنک ہی حجاب کیے لائٹ سے میک اپ میں کھڑی چوڑیاں ہاتھوں میں ڈال رہی تھی اسے دیکھتے ہی وہ تھم سا گیا مگر اگلے ہی لمحے اسے نظر انداز کرتا واشروم میں گھس کیا کے اس کی حرکت پر ولیہ کا منہ کھلا کا کھلا رہے گیا
اتنی پیاری تو لگ رہی ہوں…اپنا عکس شیشے میں دیکھا تھا جہاں اسکا خوبصورت سرہاپہ نکھرا سا کھڑا تھا
کچھ دیر اسکا انتظار کرنے کے بعد ملازمہ کے کہنے پر وہ نیچھے آئی
اوۓ ہوۓ بہت کوئی تو قیامت ڈھا رہا ہے…..اسے دیکھتے ہی زارون اسے کونی مارتا بولا جب اس کی جیب سے ایک لوکٹ زمین پر گرا تھا جسے دیکھتے ہی ولیہ کے چہرے کے رنگ فق سے اڑے تھے اس سے پہلے وہ کچھ کہتی رباب بیگم نے اسے اپنی طرف متواجہ کیا
ولیہ بیٹے زرا یہ ٹرے باہر رکھوا دو لوگ آنا شروع ہوگئے ہیں!
جی تائی ماں!
کچھ ہی دیر میں مہمان آنا شروع ہو گئے تھے مہندی کے فنشن کے لحاظ سے گانے اونچی آواز میں لگاۓ گئے تھے پورے لان کو خوبصورت طریقے سے آراستا کیا گیا تھا لان میں سفید جب کے اسٹیج کو پیلے پھولوں سے سجایا گیا تھا
ولیہ نائل کو کہو معصب کے ساتھ سبحان اور زارون کو باہر لے آؤ ان کے کہنے پر اس کی نظر نائل پر گئی جو کالے کڑتے پائجامہ میں کندھوں پر شال ڈالے ایک سائد پر ارسلان صاحب کے ساتھ کھڑا کچھ بات کر رہا تھا
جی موم جاتی ہوں! ان سے کہ کر وہ نائل کے پاس آئی
وہ سبحان کو لے آئیے باہر! اس کے پاس آتے ہی مجبور اسے مخاطب کیا جسے وہ نظر انداز کرتا ارسلان صاحب کو اشارہ کیے اندر کی طرف بڑھ گیا
اب میں بھی بات نہیں کروں گی! آنکھوں میں تیرتی نمی کو چھپاتی وہ منہ پھلاکر بولی
ولی میں کیسی لگ رہی ہوں؟ وفا کی آواز پر اسنے پلٹ کر دیکھا جہاں وہ پرپل لہنگے میں نک سٹ سے تیار ہوئی بے حد پیاری لگ رہی تھی
بہت ظالم…اس کے جواب دینے سے پہلے ہی زارون بولا جس پر وہ دونوں جھرجھرلی لے گئیں
ایک تو پتا نہیں تائی ماں نے کہاں رکھ کر یہ دونوں ٹھرکی پالے ہیں! جھرجھرلی لے کر کہتی وہ دونوں گیٹ پر گئیں جہاں سے انہیں حنا چادر سے خود کو ڈھانپے اپنے گھر والوں کے ساتھ آتی دیکھائی دی مہندی کا فنشن کبائن رکھا تھا
ماشاءاللہ ماشاءاللہ! ولیہ اسے ڈرائنگ روم میں لانے کے بعد اسے اورنج اور سبز لہنگے میں خوبصورتی سے تیار ہوۓ دیکھتی بولی
پکی بات ہے تمہارا بھائی فلیٹ ہو جاۓ گا؟ ایکسائٹمنٹ سے کہتی وہ ان دونوں کو ہنسنے پر مجبور کر گئی
مہندی کا رنگ تو بہت پیارا آیا ہے بھابھی جی! وفا اس کے ہاتھوں پر چڑھا مہندی کا رنگ دیکھتی بولی جس پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ نے حنا کے ہونٹوں کا احاطہ کیا
اہمم اہمم میری دوست شرماتی بھی ہے؟ ولیہ دل ہی دل میں اس کہ نظر اتارتی بولی
ابھی کچھ وقت ہی گزرا تھا جب رباب بیگم اور خالہ نے انہیں حنا کو باپر سبحان کے پاس لے جانے کو کہا اگلے پانچ منٹ میں وہ زارون معصب نائل اور ایک اور کزن کے ڈوپٹے کے ساۓ میں چلتی اسٹیج تک آئی جب کے ولیہ اور وفا نے اسکا لہنگا سنبھالا ہوا تھا
اسٹیج کے پاس پہنچتے ہی اس کی نظر سبحان پر گئی جو کالی قمیز شلوار پر کالی شال ڈالے آنکھوں میں بے پنا محبت لیے اسے دیکھ رہا تھا اسے سبحان کے پاس بیٹھاتے ہوۓ نائل کے اس کے سر پر ہاتھ رکھا جس پر ولیہ نے خوشگوار حیرت سے اس مغرور شہزادے کو دیکھا
بہت خوبصورت لگ رہی ہو….! سبحان اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا بولا
آپ بھی کچھ کم پپو نہیں لگ رہے…حنا نے آنکھ دبائی کے اس کی بات پر وہ بے ساختہ ہنس دیا
*********************
نائل اور تمہاری کوئی ان بن چل رہی ہے؟ سائمہ بیگم اسے سائد پر لے جاکر پوچھنے لگی
نہیں تو….!
”لگ رہا ہے میں اس سے بھی پوچھتی ہوں“
نہیں موم پلزز ایسا کچھ نہیں ہے آپ ان سے مت پوچھیے گا انہیں لگا میں مرے جا رہی ہوں اس کھڑوس کے لیے! اس کے کہنے پر سائمہ بیگم نے ایک چٹ اسے رسید کی تھی
کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ اس کی آواز سے وہ دونوں اس جانب متواجہ ہوۓ
شکر پے نائل آگیا اب بتاؤ کونسی جنگ چل رہی ہے تم دونوں میں؟
آپ کو کس نے کہا ہم میں جنگ چل رہی ہے؟ اسنے ابرو سیکڑ کر ولیہ کو دیکھا جو رخ پھیر گیا
اس کی شکل بتا رہی ہے ایسے بے رونق چہرہ لیے پھر رہی ہے! ان کے کہنے پر نائل نے گویا اپنی پوری آنکھیں کھول کر اس لڑکی کو دیکھا جو اپنی ماں کی باتوں پر شرمندگی سے سر کجاتی اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی آگے کی طرف بھاگ گئی
دھیان رکھا کرو تمہاری شادی کے بعد پہلی شادی آئی ہے لوگ کیا سوچیں گے؟ سائمہ بیگم اب پوری طرح اس سے مخاطب ہوئیں جس کی نظر اب ولیہ کی پشت پر تھی
جی میں خیال کروں گا! ان سے کہتا وہ اس کے پیچھے بھاگا تھا اپنے پیچھے اس کے تیز تیز قدموں سے اسے اپنا دل حلق میں آتا محسوس ہوا
انہیں کیا ہو گیا موم نے کیا کہ دیا ایسا بھاگ ولیہ…. پلٹ کر اسے دیکھتے ہی وہ اپنی رفتار مزید تیز کر گئی کے اس کی حرکت پر نائل نے بری طرح سے اپنی مٹھیاں بھینجی تھیں
ولیہ اسٹوپ….! اس کی دبی دبی سی غراہٹ پر وہ اپنی اسپیڈ مزید تیز کرتی چلتے چلتے گھر کے پیچھلے حصے کی طرف آئی کے آگے دیوار دیکھ کر ناچاہتے ہوۓ بھی اس کے قدم رکے پلٹ کر دیکھنے پر وہ اس کے عین پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا تھا
رک کیوں گئیں؟ دیوار توڑ کر بھاگ جاؤ….. اس کی بھاری آواز سے وہ آنکھیں میچ گئی کے نائل نے ایک جھٹکے سے اسے دیوار سے لگا کر اس کی پشت اپنی طرف کی کے اس کا ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کرکے اسکا دل ڈوب کر ابھرا
ککیا کر رہے ہیں؟ بامشکل ادا ہوۓ تھے اگلے ہی لمحے کچھ یاد آنے پر اس سے دور ہوتا وہ اس کی طرف پشت کیے کھڑا ہو گیا کے کافی دیر تک اس کی طرف سے کوئی در عمل نا پاکر وہ پلٹی
ہک کھلا ہے تمہارا بند کرو اسے…اس کی بھاری آواز ایک بار پھر گونجی کے اس کی بات پر وہ حلق تر کر گئی لاکھ کوشیشوں کے باواجود ہک تک ہاتھ نا پہنچنے پر اسنے بے بسی سے اس کھڑوس کو دیکھا
جلدی کرو…!
میرا ہاتھ نہیں جا رہا… ولیہ منمنائی
تو کروا لو کسی سے! عام سے انداز میں کہتا وہ اس کا منہ پھر سے کھلوا گیا
کیا مطلب کسی اور سے کرواؤں آپ کی بیوی ہوں میں….! اب کے وہ ساری جھجھک بھلاۓ اسکا بازو پکڑے اسکا رخ اپنی طرف کرگئی
”میرا لمس تو زہر لگتا ہے نا تمہیں….“ نائل اس پر گہری نظریں جماۓ بولا
کر دیں نا…..! اس کے طنز کو نظرانداز کرکے وہ چہرے پر بلا کی مصومیت سجاۓ بولی کے اس کے تاثرات پر نائل نے ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا
پیچھے ہو…! بظاہر اسے نظرانداز کرکے وہ اسے آڈدر دے گیا جس پر ولیہ صبر کا گھونٹ پیتی اس کے سامنے پشت کر گئی جب وہ گہرا سانس لے کر اس کا ہک بند کرنے لگا کے اس کا لمس محسوس کرتے ہی وہ کسمسائی جسے نائل نے سرے سے نظرانداز کیا
ہو گیا! ہک بند کرنے کے بعد اسکا حجاب ٹھیک کرتا وہ اس پر سے نظر ہٹاۓ آگے بڑھنے لگا جب وہ اسکا ہاتھ تھام گئی
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے! شام میں چین والا منظر یاد آتے ہی وہ ہمت کرکے اسکا ہاتھ تھامے بولی
بولو….!
وہ دراصل….اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ایک زوردار چیخ لان میں گونجی تھی جس کے ساتھ گانوں کی آواز بھی غائب ہوئی کے یہ آواز سنتے ہی وہ دونوں بے ساختہ باہر کی طرف بھاگے جہاں ایک جگہ لوگوں کا ہجوم لگ گیا تھا
نائل کسی تیر کی طرح ان سب کو ہٹاتا ہجوم کے اندر گھوسا جہاں اس کی نظر سبحان پر گئی جو بے یقینی سے اپنی گود میں سر رکھے لیٹی لڑکی کے خون آلود وجود کو دیکھ رہا تھا آستہ آستہ ہجوم ہٹنا شروع ہوا تھا
حنا؟ ولیہ کی چیخ پر وہ ایک لمحے میں ہوش میں آیا تھا
اٹھاؤ اسے گاڑی میں ڈالو جلدی…..نائل کی گرجدار آواز پر سبحان اپنی آنکھوں کی نمی چھپاتا حنا کو اپنے بازؤں میں بڑھ گیا
یہ کیا ہوا ہے کیسے؟ ولیہ بےیقنی سے روتی ہوئی وفا سے بولی
ہم سب بھائی کی رسم کرنے کی تیاری کر رہے تھے حنا واشروم کے لیے گئی تھی اچانک چھت سے آکر یہاں……بولتے بولت ضبط کھو گئی کے ولیہ نفی میں سر ہلاتی نائل کے پیچھے بھاگی تھی
مجھے بھی جانا ہے! وہ جو گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا اس کی حالت دیکھ کر انکار نا کر سکا
تیز چلائیں…اس کی آنکھوں میں بار بار حنا کے مہندی سے رنگے ہاتھ آرہے تھے جو کے اب خون سے رنگ چکے تھے وہ اسکا سر اپنے گود میں رکھے بار بار اپنے ڈوپٹے سے اس کا خون صاف کر رہی تھی
ریلیکس اسے کچھ نہیں ہوگا! نائل نے اسکا ہاتھ تھاما جو کے اب پوری طرح سے ٹھنڈا پڑ چکا تھا
جللدی کریں نائل مممجھے لگ رہا ہے میں اسے کھو دوں گی پلززز جلدی کریں میری ایک ہی بہترین دوست ہے وہ پلزز نائل…اس کے لہجے میں کرب کی گواہی اس کی آکھوں سے لڑیوں کی صورت نکلتے آنسو تھے سبحان اور زارون کی گاڑی اس کے ساتھ ساتھ رکی تھی
اندر آتے ہی نائل نے ڈاکٹر کو سائد پر لے جاکر اپنے ریفرنس دیا تھا جس کے باعث حنا کو فوری انڈر آبزرویشن لے گئے تھے
********************
رات کے گیارہ بج چکے تھے اور اس کی کچھ خبر نہیں مل رہی تھی سبحان ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا جب کے ولیہ قدرے سائد پر ایک بینچ پر بیٹھی تھی اس کے ذہن میں بار بار اس کے ساتھ گزارے سارے لمحات گزر رہے تھے
کچھ کھا لو…! وہ اس سے قریب آتا اسکا ہاتھ تھامے بولا
مجھے نہیں کھانا آپ ڈاکٹرز سے پوچھیں نا حنا کیسی ہے!
ڈاکٹرز چیک اپ کر رہے ہیں نا سب ٹھیک ہو جاۓ گا!… اس کا انداز اب قدرے نرم تھا جبھی ڈاکٹر آئی سی یو سے باہر آۓ جسے دیکھتے ہی وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھی تھی
ڈاکٹر میری بہن؟ وہ دل تھامے ان کی طرف بڑھی
ہمارے بس میں جو کچھ تھا وہ ہم نے کر دیا….! ان کے الفاظ سنتے ہی وہ اندر کی طرف بھاگی جہاں حنا اسے میشنوں میں جکڑی نظر آئی بے ساختہ اسنے اس مہندی کی دلہن کو اس حالت میں دیکھ کر دروازہ تھاما سبحان بھی اس کے پیچھے آتا بے اختیار حنا کا ہاتھ تھامے لبوں سے لگا گیا
اٹھ جاؤ پلزز….! نجانے کس کرب کے ساتھ اسنے یہ کفظ ادا کیے تھے
ولللیہ…..! حنا کی آواز پر وہ تیزی سے آنسو صاف کرتی اس کی طرف آئی
ولی….بامشکل آنکھیں کھول کر اسے پکارا جس پر ولیہ جے آنسو پی کر اسکا دوسرا ہاتھ تھاما
ہاں بولو میں پاس ہی ہوں….
ولی…اس کی آنکھوں میں شکواہ تھا جو کے ولیہ نے بری طرح محسوس کیا
بولو یہ کس نے کیا تمہارے ساتھ؟ ولیہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا کے اس کی بات پر وہ خوفذدہ سی تیز تیز سانسیں لینے لگی
ممم…… مونیٹر پر بڑھتی بیپ بیپ اور اس کی اکھڑتی سانسوں سے سبحان نے بے ساختہ ڈاکٹرز کو پکارا کے ان کے شور سے نائل فون چھوڑ کر اس جانب آیا جہاں اب ڈاکٹرز تیزی سے اسے کرنٹ کے جھٹکے دے رہے تھے
پلزز انہیں سمجھائیں….ولیہ کے بکھرتے وجود کو دیکھ کر ڈاکٹر نے اسے اشارہ کیا جو کے اسے تیزی سے اپنے قریب کر گیا
ولیہ…..!
ممجھے میری دوست بلکل ٹھیک چاہیے سمجھیں آپ…وہ بے قابو سی اس کہ گرفت میں مچل رہی تھی
کچھ دیر بعد بیپ کی آواز سے ڈاکٹر کے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ اس کی ڈھرکنیں بھی رک گئیں
آئی ایم سوری…. ہم نے اپنی پوری کوشش کی!!! ڈاکٹر کہ کر جا چکے تھے مگر اس کمرے میں موجود تینوں شخص وہی ٹہر چکے تھے
تمہیں پتا ہے ولی میں کیا سوچتی ہوں؟ ایک ہی تو زندگی ہے اب اسے بھی میں اپنے بابا کے روایے کی وجہ سے خراب کر دوں؟ میں تو اپنی زندگی کا ہر دن انجواۓ کرنا چاہتی ہوں!
ویسے نائل بھائی یار آپ تو اتنے ہنڈسم ہے اب پتا نہیں مجھے کیسا لڑکا لا کر دیں گے؟
شادی کے بعد نا ہم روز روز کپل گولز بنایا کریں گے سمجھے آپ؟
کچھ خواہشیں صرف خواہشیں ہی رہے جاتی ہیں
زندگی کے سفر میں کچھ راستے منزیلوں سے پہلے ہی ختم ہو ہو جاتے ہیں بلکل اسی طرح جیسے حنا کا راستہ جدا ہو گیا تھا اپنی بنائی اس چھوٹی سی دنیا سے جس میں پہلے ولیہ پھر نائل اور اب سبحان آگیا تھا ہاں کچھ خواہشیں ادھوری رہے جاتی ہیں
ولیہ…؟؟ اس کے ڈھیلے پڑتے وجود کو دیکھ کر نائل بے ساختہ اسے اپنے بازؤں میں بھر گیا
