Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 16

389.2K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nabz-al-Qalb Episode 16

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah

کھانا کھا کر وہ اس پر ایک نظر ڈالتا صوفے پر بیٹھے لپ ٹوپ کھولے صوفے پر بیٹھ گیا جب خاموشی میں اسکا فون چیخا سکرین پر موجود نمبر دیکھتے ہی اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوۓ تھے

این کے؟

تم نے اس نمبر پر کال کیوں کی؟ فون اٹھاتے ہی تیش سے غرایا جبکہ اس کے جمعلے پر کمبل میں گھسی ولیہ کے کان کھڑے ہوۓ اسے ہلتے دیکھ محسوس کرکے وہ اپنا رخ سٹڈی کی طرف کر گیا

سوری بٹ آپ کا وہ نمبر اوف جا رہا اور بات ضروری تھی!

ہمم بولو کیا بات ہے؟ وہ سگریٹ سلگاۓ بولا

آپ کا شک ٹھیک تھا لوکیشن میر شہزاد کے گھر کی ہی ہے….!

”ہمم آئی نیو اٹ“

اگر آپ اجازت دیں تو پلان بی یوز کرکے اس کام کو ختم کیا جا سکتا ہے!

نہیں ابھی پلان اے یوز ہوگا اگر اس سے کام نہیں بنا تو میں اپنے طریقے سے یہ سب ہنڈل کروں گا….اب تم فون رکھو! سگریٹ کے کش لگاتا وہ پرسوچ انداز میں بولا

اوکے سر…ٹیک کیئر! دوسری طرف سے اب فون رکھ دیا گیا تھا کچھ دیر ایسے ہی سوچنے کے بعد وہ آخری کش لگاتا واپس روم میں آیا جہاں وہ بیڈ پر بیٹھی موبائیل میں مصروف نظر آئی اسے دیکھتے ہی وہ فون رکھتی اس سے مخاطب ہوئی

کس سے بات کر رہے تھے؟

تم سے مطلب؟ اس کے سوال پر بے نیازی سے کہتا وہ اسے آگ لگا گیا

ہاں ہاں میرا کیوں مطلب ہوگا؟ سب پتا ہے مجھے کس سے چھپ چھپ کر باتیں کرتے ہیں آپ! ولیہ منہ بسورے بولی

اچھا کس سے بات کر رہا تھا میں؟ اس کے انداز پر وہ ابرو اچکاۓ اسے دیکھنے لگا

وہی جسے کنیڈا میں چھوڑ کر آۓ ہیں اور اب پچھتا رہے ہیں! وہ ہنوز منہ بسورے بولی جبکہ اس کی کہانی ہر نائل نے حیرانی سے اسے دیکھا

تم واقعی اتنی ابنورمل ہو یا بن رہی ہو؟

.ہاں تو بتائیں کس سے باتیں کر رہے تھے کسے کہ رہے تھے اس نمبر پر کال کیوں کی؟ اس کے جمعلے کو نظر انداز کرتی وہ تجس سے بولی کے اس کی بات پر نائل نے چونک کر اسے دیکھا

تم میری باتیں سن رہی تھیں؟

نہیں بس اتنا ہی سنا …..کیوں ایسی کونسی باتیں کر رہے تھے؟ وہ ہنوز تشویشی انداز میں بولی جس پر نائل گہرا سانس بھر کر رہے گیا

تمہارا اندازہ ٹھیک ہے تھی کوئی میری کنیڈا والی…اب خوش؟ سو جاؤ! عام سے انداز میں کہتا وہ پھر سے لپ ٹوپ کھول گیا

آپ کو اس سے محبت ہے کیا؟ نجانے کس خیال کے تحت اسنے پوچھا تھا

میں نے کہا نا سو جاؤ! اب کے وہ لفظوں پر زور دیے بولا جس پر وہ خاصا منہ بناتی پھر سے کمبل میں گھس گئی

ہٹلر! کمبل کے انداز سے اس کی آواز گونجی جسے وہ نظرانداز کرتا اپنے کام میں مصروف ہو گیا

*******************

صبح فجر کی نماز کے بعد وہ یونی کی تیاریوں میں لگ گئی آج پورے ایک ہفتے کے بعد وہ یونی جا رہی تھی براؤن کلر کی کمز شلوار پر بالوں کو پونی میں قید کرکے ڈوپٹا سر پر سجاۓ میک اپ کے نام پر ہونٹوں پر ہلکی سی لپ اسٹک لگاۓ وہ تیار سی شیشے کے سامنے کھڑی خود پر ایک تنقیدی نظر ڈالنے لگی جب نظر اپنے پیچھے سے نظر آتے اس مغرور شہزادے ہر گئی تھی

جو بے نیازی سے سویا ہوا اس وقت بے حد ہنڈسم لگ رہا تھا

”چھوڑنے کے لیے نہیں تھاما“ اس کے الفاظ ذہن میں گونجتے ہی دل ڈوب کر ابھرا تھا

ہونہوں میں کیوں سوچ رہی ہوں اس ہٹلر کو! خود کو ڈوپٹتی ایک نظر مزید شیشے میں خود پر ڈالتی باہر کی طرف بڑھ گئی

ارے ماشاءاللہ میری بیٹی تو آج بہت جلدی نہیں اٹھ گئی؟ سائمہ بیگم اسے کچن میں آتا دیکھ خوشگوار حیرت سے بولیں

جی بس آج یونی جا رہی ہوں….!

کیا؟ کوئی یونیورسٹی نہیں جا رہی تم شادی کو دو دن ہوۓ ہیں بھابھی کیا سوچے گیں؟ سائمہ بیگم خفگی سے گویا ہوئیں

موم میرے پییر ہونے والے ہیں مجھے مسئلہ ہوگا آپ سمجھیں!

اچھا چلو اسکا فیصلہ تمہارے دادا سائیں کریں گے تم مجھے یہ بتاؤ نائل تمہارے ساتھ کیسا ہے؟ سائمہ بیگم اب پوری طرح اس کی طرف متواجہ ہوئی

کیسے ہونگے ہٹلر ہی ہیں اور ہٹلر ہمیشہ ہٹلر ہی رہتا ہے! ان کے سوال پر وہ خاصی مزبدہ ہوتی بولی جب سائمہ بیگم نے اسے ایک چٹ رسید کی

کتنی بار کہا ہے اپنی یہ بدتمیزیاں ختم کر لو….

تو آپ ان کے مطلق مجھ سے سوال پوچھا ہی نا کریں نا! وہ ہنوز منہ بناۓ بولی جس پر سائمہ بیگم نے اپنا سر پیٹا

میری جان تم اب شادی شدا ہو اور شادی کے بعد ہر ماں ہی اپنی بچی کے لیے پریشان رہتی ہے اسئلے میں تم سے پوچھ رہی ہوں نائل کا روایہ کیسا ہے تمہارے ساتھ؟ اب کے وہ تحمل سے کہنے لگیں

ہاں تو بتا تو رہی ہوں ہٹلر ہیں وہ ایک نمبر کے اب آپ کیا چاہتی ہیں میں کٹنی بیٹیوں کی طرح آپ سے برائیاں کروں؟ اور اگر آپ یہی چاہ رہی ہیں تو ابھی صبر کر لیں بہت زندگی پڑی ہے جی بھر کے برائیاں کروں گی آپ سے! وہ رازدانہ انداز میں بولی

استغفراللہ میری نظروں سے دور ہو جاؤ اس سے پہلے میں تمہارا سر پھوڑ دوں یہاں سے جاؤ! سائمہ بیگم اپنا سر تھامتی غصے بولیں کے ان کے بدلتے تیور پر وہ زبان دانتوں تلے دباۓ تیزی سے کچن سے نکل گئی

اللہ ہی اسے عقل دے! پیچھے وہ ہمشیہ کی طرح اس کے لیے دعا کرتی ناشتہ بنانے میں مصروف ہو گئیں

کچھ ہی دیر میں سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر اکٹھے ہوگئے تھے

نائل آپ نے میر شہزاد پر گولی چلائی ہے؟ اسکے آتے ہی دادا سائیں برہم ہوتے بولے جبکہ انکی بات پر ولیہ کے حلق میں نوالہ اٹک کر رہے گیا

جی! وہ لاپروائی سے کہتا کرسی کھینچ گیا

کس کی اجازت سے؟ دادا سائیں کی گرجدار آواز سے ٹیبل پر بیٹھے ہر شخص کا سانپ سوکھ گیا تھا سواۓ ان کے اس ڈھیٹ پوتے کے جو لاپروائی سے ناشتے شروع کر گیا

.

مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے اس نے مجھ سے بدتمیزی کی میں نے اس کی ٹانگ توڑ دی سمپل!

آپ کا دماغ درست ہے نائل کاظمی؟ آپ کسی پر بھی یوں ہی گولی نہیں چلا سکتے! دادا سائیں اسکے اعطمنان پر مزید تیش سے بولے

میں کسی پر بھی کبھی بھی گولی تو کیا چاقو تک چلا سکتا ہوں اور خاص کر اس پر جو میرے سامنے فضول گوئی کرے! آخری جمعلہ کہتے ہوۓ اسنے اپنے ساتھ بیٹھی ولیہ کو دیکھا جو فورا سے اپنی نظریں ادھر ادھر گھومنانے لگ گئی

نائل اسٹوپ کس طرح بات کر رہے ہو تم بابا سائیں سے! ارسلان صاحب اسے ٹوکتے ہوۓ بولے

جی کیوں کہ انہیں اچھے سے پتا ہے میں نے اس پر گولی کیوں چلائی تھی کوئی عام بات نہیں کی تھی اسنے! اب کے اس کی سرمئی آنکھوں میں سرخی سی چھائی

آپ یہ سب ڈیرے پر بھی دسکس کر سکتے ہیں ایسے ناشتے پر اس بات کو کرکے آپ لوگ کیوں گھر کا ماحول خراب کر رہے ہیں؟ فرحان صاحب سب پر نظر ڈراتے بولے جس پر دادا سائیں نے ان کی طرف دیکھا

ہمم فرحان ٹھیک کہ رہے ہیں یہ بات اب ڈیرے پر ہی ہوگی! دادا سائیں تحمل سے بولے

وہ سبحان تم مجھے یونی چھوڑ دو گے؟ کچھ لمحوں بعد وہ سبحان کو اٹھتا دیکھ پوچھنے لگی

یا شور! سبحان مسکرا کر بولا

کیا؟ دیکھ رہی ہیں آپ بھابھی ابھی شادی کو دن ہی کتنے ہوۓ ہیں جو یہ میڈم باہر جانے لگی؟ فرحانہ پھوپھو اسے دیکھ کر طنزیہ بولیں

ولیہ کی پڑھائی کا کافی ہرج ہو چکا ہے پھوپھو… میں نے اسے کہا ہے یونی جانے کا اور جب مجھے ہی اعتراض نہیں ہے تو مجھے لگتا ہے باقی بھی کسی کو اعترض نہیں ہونا چاہیے! نائل ٹیشو سے ہاتھ صاف کرکے اٹھتا بارعب انداز میں بولا جس پر فرحانہ بیگم خاموشی سے سر ہلا گئیں

ولی جلدی کر لو میں باہر ویٹ کر رہا ہوں! سبحان کے کہنے پر نائل نے چبتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا

تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ڈراپ کر دوں گا اسے! وہ سپاٹ انداز میں بولا

اس کی ضرورت نہیں ہے میں سبحان کے ساتھ ہی جاؤں گی!

ٹھیک ہے تم باہر آجاؤ میں گاڑی نکالتا ہوں! سبحان مسکرا کر کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا

اگر تم اس کے ساتھ گئی تو اگلی گولی تمہاری ٹانگ میں فٹ ہوگی! وہ جو مزے سے اسے چڑاتی باہر کی طرف بڑھ رہی تھی اس کے الفاظوں پر قدم منجمد ہوۓ

آااآپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں؟

ہونہوں میں دھمکی نہیں دیتا صرف آگاہ کرتا ہوں…آگے تمہاری مرضی ہے! بے نیازی سے کہتا وہ آگے بڑھ گیا اگلے پانچ منٹ میں وہ اس کے ساتھ اسکی گاڑی میں موجود تھی

******************

آخر آپ کو مسئلہ کیا ہے سبحان سے؟ اسے رہے رہے کر اپنے ساتھ بیٹھے اس ہٹلر پر غصہ آرہا تھا کیسے وہ سبحان کو منہ پر ہی منع کرکے آئی تھی

یہ سوال تو مجھے تم سے کرنا چاہیے زیادہ نہیں بنتی تمہاری اس سے؟ نائل ابرو سیکڑے اس پر نظریں مرکوز کیے بولا.

آپ سے مطلب..میری جس سے بھی جتنی بھی بنے آپ کو کیا؟ وہ اسکی طرف مڑے ابرو اچکاۓ کہنے لگی

اب سارے مطلب مجھ سے ہیں! جوابا وہ تحمل سے کہتا اسے آگ لگا گیا

کیوں؟

کیوں کہ ایک عدد شوہر ہوں میں تمہارا! اس کے جمعلے پر وہ بامشکل سنبھلی

یہ شوہر بننا آپ کو سبحان کے وقت ہی کیوں یاد آتا ہے؟ وہ واقعی اس کی سمجھ سے باہر تھا

کیوں کہ مجھے وہ پسند نہیں ہے! اسنے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا جس پر ولیہ نے چونک کر اسے دیکھا

کیوں؟

پتا نہیں! اسنے کندھے اچکاۓ

مگر مجھے اچھا لگتا ہے وہ!

تو؟ اس کے جواب پر وہ ضبط کیے بولا

تو آئی ہیٹ یو…! ولیہ اپنا سر پکڑےبکہتی سامنے دیکھنے لگی جہاں اسکی یونی کا جگمگا رہا تھا

گڈ فاڑ یو…! وہ بریک لگاتا سامنے دیکھے بولا

کھولیں اسے! وہ گاڑی کا دروازے کولڈ دیکھے غرائی

پے کرو پہلے! اسکا انداز سپاٹ تھا

نہیں کروں گی! اس بار وہ بھی پیچھے رہنے والی نہیں تھی

کیوں؟ اس کے جواب ہر نائل آنکھیں چھوٹی کیے کہنے لگا

کیوں کہ شوہر ہے آپ میرے! ایک ادا سے کہتی وہ اسے دیکھنے لگی جو اسکے انداز پر نا چاہتے ہوۓ بھی مسکرا دیا

میری بلی اور مجھے ہی میاؤں…! کولڈ کھولتا وہ سر جھٹک کر بولا

ابھی تو صرف میاؤں کیا ہے بچ کے رہیۓ گا اگلی بار پنجا بھی مار سکتی ہوں مسٹر ہٹلر! گاڑی سے نکلتی وہ ایک بار پھر ادا سے بولی جس پر وہ محض سر جھٹک کر رہے گیا

پاگل لڑکی!