Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Last updated: 24 November 2025
Rate this Novel
Nabz-al-Qalb Episode 1Nabz-al-Qalb Episode 2Nabz-al-Qalb Episode 3Nabz-al-Qalb Episode 4Nabz-al-Qalb Episode 5Nabz-al-Qalb Episode 6Nabz-al-Qalb Episode 7Nabz-al-Qalb Episode 8Nabz-al-Qalb Episode 9Nabz-al-Qalb Episode 10Nabz-al-Qalb Episode 11Nabz-al-Qalb Episode 12Nabz-al-Qalb Episode 13Nabz-al-Qalb Episode 14Nabz-al-Qalb Episode 15Nabz-al-Qalb Episode 16Nabz-al-Qalb Episode 17Nabz-al-Qalb Episode 18Nabz-al-Qalb Episode 19Nabz-al-Qalb Episode 20Nabz-al-Qalb Episode 21Nabz-al-Qalb Epsiode 22Nabz-al-Qalb Episode 23Nabz-al-Qalb Episode 24Nabz-al-Qalb Episode 25Nabz-al-Qalb Episode 26Nabz-al-Qalb Episode 27Nabz-al-Qalb Episode 28Nabz-al-Qalb Episode 29Nabz-al-Qalb Episode 30Nabz-al-Qalb Episode 31Nabz-al-Qalb Episode 32 and 33Nabz-al-Qalb Episode 34Nabz-al-Qalb Episode 35Nabz-al-Qalb Episode 36Nabz-al-Qalb Episode 37Nabz-al-Qalb Episode 38Nabz-al-Qalb Episode 39Nabz-al-Qalb Episode 40 (Last Episode)
Nabz-al-Qalb by Syeda Shah
فلائٹ کے لیٹ ہونے کے باعث وہ دوپہر کی جگہ شام کے پانچ بجے چار سال بعد اس خوبصورت سے حویلی نما گھر میں داخل ہوا تھا
معصب آئرپورٹ سے ہی اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا تھا جبکہ اپنی فلائٹ کے لیٹ ہونے پر اسنے سب کو آئیر پورٹ آنے سے منع کر دیا تھا اسلام آباد سے حویلیاں کا سفر ویسے بھی گھٹنے کا تھا جس کے باعث اسنے کسی کو تنگ نہیں کیا تھا
ابھی اسنے کاظمی ویلا میں قدم ہی رکھا تھا جب کوئی پیچھے سے بری طرح سے اس سے ٹکرایا تھا
آہ دیکھ کر نہیں چل سکتے اندھے! ولیہ جو یونی سے واپسی پر وشمہ کے ساتھ باتوں میں مگن اندھا دھن چلتی آرہی تھی سامنے کھڑے موجود سے بری طرح سے ٹکرائی تھی کے اس کی مضبوط پشت سے اسے اپنا سر ایسے گھومتا محسوس ہوا تھا گویا کسی دیوار سے ٹکرایا ہو
غلطی تمہاری ہے پیچھے سے کیوں....بولتے بولتے وہ جیسے ہی پلٹا تھا ایک دوسرے کو دیکھ کر دونوں کے تاثرات مزید بگڑ گئے تھے
تم؟
آپ؟
آہ مجھے پتا تھا آپ آئیں اور میرے ساتھ کچھ غلط نا ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا کنڈلی میں بیٹھے ہوۓ ہیں آپ میری سر پھوڑ دیا آتے ہی! وہ اپنا سر پکڑے ناگواری سے بولی تھی کے اس کی چلتی زبان پر نائل محض اسے دیکھ کر رہے گیا
غلطی تمہاری ہے نظر نہیں آرہا تھا تمہیں میں؟
ہاں واقعی مجھے نظر نہیں آیا مجھے کیا پتا تھا انسان کے روپ میں ایک لوہے کی دیوار کھڑی ہے میرا نازک سا سر پھوڑ دیا ہے! وہ ہنوز اپنا سر مسلتی بولی رہی تھی جبکہ ان کی بڑھتی بجث کو دیکھ کر وشمہ بھاگ کر اندر سے سب کو بلا لائی تھی
افف ہو دیکھ رہے ہیں آپ دادا سائیں ان کی نوک جھوک اب بھی ختم نہیں ہوئی..رباب بیگم کی آواز سے وہ دونوں ان کی طرف متواجہ ہوۓ تھے
تائی ماں دیکھ رہی ہیں آپ آتے ہی مجھے چوٹ دے دی....
یہ خود مجھ سے آکر ٹکرائی ہے موم! ان کی بحث سے ایک بار پھر سب رباب بیگم نے اپنا سر پیٹا تھا
بس کرو ولیہ بیٹا جاکر چینج کرو نائل ابھی آیا ہے اور تم نے لڑنا شروع کر دیا! سائمہ بیگم کی ڈانٹ پر وہ برا سا منہ پھلاۓ اندر کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ نائل اب ایک ایک کرکے سب سے مل رہا تھا
