Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Last updated: 24 November 2025

389.2K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah

فلائٹ کے لیٹ ہونے کے باعث وہ دوپہر کی جگہ شام کے پانچ بجے چار سال بعد اس خوبصورت سے حویلی نما گھر میں داخل ہوا تھا
معصب آئرپورٹ سے ہی اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا تھا جبکہ اپنی فلائٹ کے لیٹ ہونے پر اسنے سب کو آئیر پورٹ آنے سے منع کر دیا تھا اسلام آباد سے حویلیاں کا سفر ویسے بھی گھٹنے کا تھا جس کے باعث اسنے کسی کو تنگ نہیں کیا تھا
ابھی اسنے کاظمی ویلا میں قدم ہی رکھا تھا جب کوئی پیچھے سے بری طرح سے اس سے ٹکرایا تھا
آہ دیکھ کر نہیں چل سکتے اندھے! ولیہ جو یونی سے واپسی پر وشمہ کے ساتھ باتوں میں مگن اندھا دھن چلتی آرہی تھی سامنے کھڑے موجود سے بری طرح سے ٹکرائی تھی کے اس کی مضبوط پشت سے اسے اپنا سر ایسے گھومتا محسوس ہوا تھا گویا کسی دیوار سے ٹکرایا ہو
غلطی تمہاری ہے پیچھے سے کیوں....بولتے بولتے وہ جیسے ہی پلٹا تھا ایک دوسرے کو دیکھ کر دونوں کے تاثرات مزید بگڑ گئے تھے
تم؟
آپ؟
آہ مجھے پتا تھا آپ آئیں اور میرے ساتھ کچھ غلط نا ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا کنڈلی میں بیٹھے ہوۓ ہیں آپ میری سر پھوڑ دیا آتے ہی! وہ اپنا سر پکڑے ناگواری سے بولی تھی کے اس کی چلتی زبان پر نائل محض اسے دیکھ کر رہے گیا
غلطی تمہاری ہے نظر نہیں آرہا تھا تمہیں میں؟
ہاں واقعی مجھے نظر نہیں آیا مجھے کیا پتا تھا انسان کے روپ میں ایک لوہے کی دیوار کھڑی ہے میرا نازک سا سر پھوڑ دیا ہے! وہ ہنوز اپنا سر مسلتی بولی رہی تھی جبکہ ان کی بڑھتی بجث کو دیکھ کر وشمہ بھاگ کر اندر سے سب کو بلا لائی تھی
افف ہو دیکھ رہے ہیں آپ دادا سائیں ان کی نوک جھوک اب بھی ختم نہیں ہوئی..رباب بیگم کی آواز سے وہ دونوں ان کی طرف متواجہ ہوۓ تھے
تائی ماں دیکھ رہی ہیں آپ آتے ہی مجھے چوٹ دے دی....
یہ خود مجھ سے آکر ٹکرائی ہے موم! ان کی بحث سے ایک بار پھر سب رباب بیگم نے اپنا سر پیٹا تھا
بس کرو ولیہ بیٹا جاکر چینج کرو نائل ابھی آیا ہے اور تم نے لڑنا شروع کر دیا! سائمہ بیگم کی ڈانٹ پر وہ برا سا منہ پھلاۓ اندر کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ نائل اب ایک ایک کرکے سب سے مل رہا تھا