Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 18
Rate this Novel
Nabz-al-Qalb Episode 18
Nabz-al-Qalb by Syeda Shah
میں نہیں لگا رہی کوئی تیل ویل….خود لگا لیں! وہ تیزی سے کمفرٹر میں گھستی بولی کے اس کی بات پر نائل سے سر جھٹک کر کافی کا کپ اپنے لبوں سے لگایا
ٹھیک ہے اب یاد رکھنا! مسنوئی ناراضگی میں کہتا وہ الماری سے اپنی شرٹ نکال کر پہنتا اپنا لیپ ٹوپ اٹھاۓ اسٹڈی میں گھس گیا کے اسے کمرے میں محسوس نا کرکے وہ کمفرٹر نیچھے کرکے روم میں نظر ڈرانے لگی
سد شکر وہ روم سے جا چکا تھا مگر اب اسے اپنی حرکت پر افسوس ہو رہا تھا
کیا تھا ولیہ اگر تم ان کے سر پر تیل لگا دیتی؟ کہیں ناراض تو نہیں ہو گئے؟hi ہوتے رہیں ناراض مجھت کونسا فرق پڑتا ہے؟ لیکن شوہر کا کام نا کرنے پر اللہ تعالی ناراض ہو گئے تو؟ تو وہ کونسا مجھے اپنی بیوی مانتے ہیں! کچھ دیر تک خود سے جنگ لڑنے کے بعد وہ پیر پٹکتی اٹھی
اسٹڈی میں سامنے ہی رکھے صوفے پر دروازے کی طرف پشت کیے بیٹھا وہ اپنا لیپ ٹوپ کھولے مصروف سا سگریٹ کے کش لگانے میں تھا جب اسے اپنے سر پر نرمی کا احساس ہوا جسے محسوس کرتے ہی وہ چونک کر پلٹا جہاں ولیہ اسکے پیچھے ہی منہ دوسری طرف کیے کھڑی تھی
پہلی بات اپنی یہ سگریٹ نوشی بند کریں
اور دوسری بات میں یہ صرف آپ کے احسان کا بدلہ اتار رہی ہوں جو آپ نے آج یونی میں میرا موبائیل لا کر کیا تھا! وہ سفاک انداز میں بولی جس پر نائل ہوں کرتا ہنوز سگریٹ کے گہرے گہرے کش لگاتا پھر سے اس کی طرف پشت کر گیا
آپ کو سمجھ نہیں آرہی یہ سگریٹ پھینکیں میں ایک وقت میں ایک ہی چیز برداشت کر سکتی ہوں! اب کے اسنے زور دے کر کہا جس پر وہ کچھ سوچتے ہوۓ سگریٹ دسٹ بین میں پھنکے خود بھی صوفے سے نیچھے بیٹھ گیا جس کا اشارہ سمجھ کر ولیہ کی طرف بڑھی
اب وہ صوفے پر اور نائل اس کے قدموں میں پشت کیے بیٹھا تھا ایک لمحے کو اسکا دل ڈوب کر ابھرا مگر اگلے ہی لمحے اس کی آواز پر وہ اس جانب متواجہ ہوئی
لگا بھی دو…. اس کے کہنے پر وہ نرمی سے اس کے سر میں تیل لگاۓ اس کے سر میں انگلیاں چلانے لگی کے اس کا نرم لمس محسوس کیے وہ اپنی آنکھیں موند گیا
رات کے نجانے کونسے پہر اس کی آنکھ کھولی تو خود وہ زمین پر بیٹھے پاکر وہ سر جھٹک کر اٹھا جب نظر صوفے پر آدھی جھولتی اپنی بیوی پر گئی اسے احساس ہی نہیں ہوا وہ کب سے اس اسٹڈی میں موجود تھے
پاگل لڑکی…. خود تو بیڈ پر لیٹ جاتی! وہ اس کی طرف بڑھے اسے بازوں میں بھرے بولا کے اس کے جمعلے پر وہ نیند میں ہی بڑبڑائی
میں پاگل نہیں… یونیک ہوں!
یونیک تو آپ واقعی ہیں ولیہ بیگم ورنہ نائل کاظمی ہر کسی سے اس طرح کی فرمائشیں نہیں کرتا اور نا کبھی کسی کے آگے قدموں میں بیٹھا ہے….اسے بیڈ پر لٹاۓ اس کے چہرے پر آۓ شرارتی لٹوں کو کان کے پیچھے آڑستا بولا
اپنے مفاد میں ہی میرے قدموں میں بیٹھے ہیں…وہ ایک بار پھر نیند میں بڑبڑاتی اسے بدمزہ کر گئی
اسئلے زہر لگتی ہے مجھے تمہاری یہ قینچی جیسی زبان…جو نیند میں بھی بند نہیں ہوتی! وہ خاصا بدمزہ ہوتا اس پر کمفرٹر ڈالے گھڑی پر نظر ڈالے جو کہ تین بجا رہی تھی خود واشروم کی طرف بڑھ گیا
*****************
گلاس وال سے آتی ہلکی ہلکی روشنی چہرے پر محسوس کرکے وہ آنکھیں کھول گئی خود کو بیڈ پر وہ چونک کر اٹھی تھی
.
جہاں تک اسے یاد تھا وہ رات میں شاید وہی صوفے پر ہی سو گئی تھی تو پھر اب؟ ایک لمحہ لگا تھا اسے سمجھنے میں اور دوسرے ہی پل وہ فطری حیا کے باعث غصے اور شرم سے سرخ پڑی
شرم نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے! اپنے سے کچھ فاصلے پر سوتے وجود کو دیکھ کر وہ آگ بغولہ ہوتی بولی کے اس پر نظر ڈالتے ہی اسے نئی فکر لاحق ہوئی
بیچ کے سارے تکیے کہاں گئے؟ خود سے پوچھ کر وہ ذہن میں آۓ خیال کو جھٹکتی اسے بغور دیکھنے لگی
گھور گھور کر نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟ وہ بند آنکھوں سے خود پر اس کی نظریں محسوس کیے بولا
ہونہوں خوشفہمی ہے آپ کی! تپ کر کہتی وہ پیر پٹکتی واشروم کی طرف بڑھ گئی
کچھ دیر بعد ہی وہ ییلو رنگ کے سوٹ میں گیلے بالوں سے باہر آتی شیشے کے سامنے آئی
اس کی آنکھ کھولی تو وہ شیشے کے سامنے کھڑی دیکھائی تھی اس کے بال پشت پر بکھرنے کے باعث چند قطرے اس کے بالوں سے نکل کر شرٹ میں جبز ہو رہے تھے اسے دیکھتے ہی وہ بے اختیار نظرے دوسری جانب کر گیا اس کے بال ہمیشہ اسے اپنی طرف متواجہ کرتے تھے
آئینے میں خود پر ایک نظر ڈال کر اس کی نظر اپنے پیچھے موجود شخص پر گئی جو اس کی طرف منہ پھیڑے لیٹا تھا
تو ہٹلر مجھے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا؟ منہ بسور کر کہتی وہ ڈوپٹا سر پر سجاۓ ڈھار سے دروازہ بند کرتی باہر نکل گئی جبکہ اسے ڈھار سے دروازہ بن کرتے دیکھ نائل نے چونک کر اس کی جانب دیکھنے لگا
اسے کیا ہو گیا؟ خود سے پوچھ کر وہ سر جھٹکتا فریش ہونے کے لیے اٹھ گیا آج اسے لیٹ نہیں ہونا تھا
وہ نیچھے آئی تو گھر کی سب خواتین کچن میں مصروف نظر آئی
اوۓ چلبل پانڈے یونی نہیں جا رہی تم؟ زارون کچن کی طرف جاتا دیکھ بولا
ہاں آج اوف ہے میرا….
اچھا اگر تمہارا اوف ہے تو میں تو کہتی ہوں آج بھابھی تمہارا ہاتھ کھیر میں ڈلوا دیں! فرحانہ بیگم نخوت سے بولیں
جی بھابھی ولیہ آج کھیر بنا لے گی! سائمہ بیگم کے کہنے پر رباب بیگم نے سر نفی میں ہلایا
ارے تم دونوں چپ کرو ابھی میری بیٹی کو دن ہی کتنے ہوۓ ہیں؟
نہیں تائی ماں میں آج کھیر بنا لوں گی ویسے بھی میرا آج کل کوکنگ کرنے کو بہت دل ہے! پھوپھو کے روائیے کو دیکھ کر وہ مسنوئی مسکراہٹ سجاۓ بولی جس پر رباب بیگم نے مسکرا کر اسکے سر پر ہاتھ پھیڑا
میری بیٹی کو کب سے کوکنگ کا شوق ہو گیا؟
جب سے نائل بھائی سے شادی ہوئی ہے… آپ نے سنا نہیں شوہر کے دل کا راستہ اسکے پیٹ کے زریعے کھلتا ہے سب وہی فارمولا اپنا رہی ہے….زارون کی آواز پر اسنے چمچا اٹھا کر اسے مارا جس پر سب لوگ مسکرا کر ان دونوں کو دیکھنے لگے
ناشتہ پرسکون محول میں کیا گیا تھا جس کے بعد دادا سائیں نے نائل کو مخاطب ہوۓ
نائل میاں آپ نے کیا سوچا ہے؟
کس بارے میں دادا سائیں؟ وہ کافی کپ میں انڈیلے ناسمجھی سے پوچھنے لگا
ہم نے آپ کو میر شہزاد سے معافی مانگنے کا کہا تھا اور آپ نے کیا سوچا ہے اپنے بزنس کے بارے میں؟
اور میں نے بھی آپ کو بتا دیا تھا میں کسی صورت اس سے معافی نہیں مانگو گا اور بزنس کے بارے میں انشاءاللہ جلد خوش خبری سناؤں گا! وہ کافی کا گھونٹ بھرے تحمل سے بولا
لیکن آپ یہ تو بتائیں آپ کس طرح کا بزنس کرنا چاہتے ہیں؟ انکے سوال پر وہ ابرو اچکا گیا
وقت آنے پر سب پتا لگ جاۓ گا! تحمل سے کہتا وہ اٹھ کر باہر نکل گیا کے اس کے جاتے ہی ارسلان صاحب دادا سائیں سے معزرت کرنے لگے
معاف کر دیں بابا.. آپ جانتے یہ شروع سے ہی ایسا ہے لیکن مجھے امید ہے ولیہ بیٹی اسے کچھ عقل سیکھائیں گی خاص کر بڑوں سے بات کرنے کی تمیز! ارسلان صاحب کے کہنے پر اس کی آنکھیں چمکی
ان کا کچھ نہیں ہو سکتا ارسلان بابا…آپ لوگوں کی ڈھیل نے بگارا ہے! اس کا تو جیسے فیورٹ ٹوپک کھل گیا تھا
مگر مجھے امید ہے آپ انہیں سدھار لیں گی بھلا آج تک کوئی انسان ایسا رہا ہے جو بیوی سے سیدھا نا ہو سکے؟ ارسلان صاحب رباب بیگم کو دیکھتے پرشوق انداز میں بولے جس پر رباب بیگم کے گال گلابی ہوۓ
کچھ ہی دیر میں سب کے اپنے اپنے کاموں پر جانے کے بعد وہ ملازمہ اور وفا کے ساتھ برتن سمیٹ رہی تھی جب رباب بیگم نے اسے بلایا
”ولیہ بیٹے فری ہوکر میرے روم میں تو آؤ“
جی تائی ماں میں آتی ہوں! اگلے پانچ منٹ میں وہ ان جے روم میں موجود تھی
آپ نے یاد کیا؟
ہاں آؤ آؤ بیٹا…مجھے تم سے بات کرنی ہے!
”جی کہیے“
بیٹا آج ناشتے پر تم نے دیکھا ہی نائل نے کس طرح اپنے دادا سائیں کے ساتھ بات کی ہے…وہ شروع سے ہی ایسا دو ٹوک لیکن میں چاہتی تم اس کی یہ عادت تبدیل کرو تاکہ اسے رشتوں کے بارے میں کچھ خیال رہے! رباب بیگم پرامید سی بولیں
مگر میں کیسے؟
آپ بیوی ہو اس کی اور ایک بیوی کا فرض ہوتا ہے وہ اپنے شوہر کو غلط چیزوں سے دور کرے مجھے یقین ہے وہ آج نہیں تو کل وہ آپ کی بات کی قدر ضرور کرے گا!
لیکن تائی ماں میرا ان سے اس طرح کا کوئی رشتہ نہیں ہے کہ میں ان پر اپنا حق جتاؤں! وہ جھجھک کر بولی جس پر رباب بیگم نے چونک کر اسے دیکھا
کیا مطلب؟ کیا اس نے آپ کو ابھی تک اپنی بیوی کا درجہ نہیں دیا؟ وہ حیرتذدہ سی اس کی طرف دیکھے بولی
وہ انکی بات کا مطلب سمجھے بغیر گردن نفی میں سر ہلا گئی جس پر رباب بیگم نے اپنا سر تھاما
”یا خدایا…اور ہم سمجھے تم دونوں خوش ہو میں بات کروں گی آج نائل سے“
آپ ان سے کچھ مت کہیے گا وہ بعد میں مجھ پر غصہ کریں گے… ولیہ معاملے کی بریکی سمجھے بغیر مسنوئی افسوس سے بولی
ایسے کیسے غصہ کرے گا میں کلاس لوں گی اس کی تم جاؤ کھیر کی تیاری کرو! رباب بیگم محبت سے اس کی پیشانی چومے کہنے لگیں جس پر وہ سر کو خم دے کر باہر نکل گئی
******************
پورا دن کام میں مصروف رہنے کے بعد وہ رات آٹھ بجے کے قریب کاظمی ویلا میں داخل ہوا جب اس کی نظر سامنے ہی کچن میں کام کرتی اپنی بیوی پر گئی جو کچھ بنانے میں اتنی مصروف تھی کے اسکا ڈوپٹا سر سے دھلک کر کندھے گر چکا تھا جس سے اسکے بال صاف واضع تھے اسے دیکھتے ہی وہ بے اختیار اس کی طرف بڑھے اسکا ڈوپٹا درست کر گیا کے اس اچانک اتفاد پر وہ سٹپٹا کر رہے گئی
دھیان کہاں ہے تمہارا میری جگہ کوئی اور ہوتا تو؟ وہ اسے دیکھتے سختی سے بولا
دیکھ نہیں رہے کھیر بنا رہی ہوں کتنا کام ہے اور آپ ہیں کے مجھے ڈانٹنے میں لگ گئے ہیں! وہ مصروف سی منہ پھلاۓ بولی جبکہ اسے ایسے رف سے حولیے میں کچن میں کام کرتی وہ اسے اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی
اچھا ویٹ میں کر دیتا ہوں ٹھیک…
کوئی ضرورت نہیں آپ تو ویسے ہی دشمن ہیں میرے بالوں کے! وہ اسکا بڑھتا ہوا ہاتھ جھٹک گئی
غلط بلکہ مجھے تمہارے بال صرف اپنے سامنے کھلے پسند ہیں! گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اس کی بیٹ مس کر وا گیا
آآپ جائیں یہاں سے مجھے کام کرنا ہے…. وہ اسکا ہاتھ پکڑے باہر کی طرف نکالتی بولی
ویٹ ویٹ تم کہیں مجھ سے شرما تو نہیں رہی؟ نائل اس کی حالت سے محفوظ ہوتا کہنے لگا
ہونہوں خوش فہمی ہے آپ کی! وہ گلابی چہرا لیے بولی کے اس سے پہلے وہ اسے مزید تنگ کرتا سائمہ بیگم کی آمد پر وہ بدمزہ ہوکر اسکے مزید چھڑنے کا ارادہ ملتوی کرتا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا
ولیہ کھیر بن گئی؟ سائمہ بیگم کچن میں آۓ پوچھنے لگی
جی موم بس تیار ہے آپ چیک کریں…
********************
رات کے کھانا پرسکون محول میں کھایا گیا اس کی بنائی کھیر سب کو ہی پسند آئی تھی سواۓ وشمہ کے جو میٹھا تیز ہونے کا ایشو بنا کر اپنے روم میں چلی گئی
کچھ ہی دیر میں سب کھانا کھا کر اپنے اپنے روم میں چلے گئے کھانے کے بعد وہ معصب کی طرف نکل گیا رات کے تقریبا دس بجے وہ واپس اپنے گھر میں داخل ہوا جہاں رباب بیگم اسی کے انتظار میں ٹہل رہی تھیں
کیا ہوا موم آپ سوئی نہیں؟ وہ ان کے پاس آتا پریشانی سے بولا
جس ماں کا تم جیسا بیٹا ہو اسے نیند کیسے آۓ گی؟ وہ خفگی سے بولی کے اب کے جمعلے پر وہ حیران ہوکر ان کی طرف متواجہ ہوا
کیا ہوا؟
مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی نائل آپ نے ولیہ کے ساتھ اس طرح کا روایہ کیوں رکھا؟ مجھے لگا تم نے شادی اپنی مرضی سے کی ہے لیکن تم نے اسے اپنی بیوی کی حیثیت ہی نہیں دی…مجھے شرم آرہی ہے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوۓ تم نے اس رشتے کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ رباب بیگم کے الفاظ اسے کسی تھپڑ کی مانند لگے تھے
موم آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے!
کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی ولیہ نے سب بتایا ہے ہمیں کہ آپ کیسا سلوک کرتے ہیں اس کے ساتھ…اس سے اچھا تھا ہم اس کی شادی کسی ایسے شخص سے کر دیتے جو کم از کم اسے بیوی کا مقام تو دیتا اگر آپ اس شادی سے راضی ہی نہیں تھے تو آپ نے کیوں کہا؟ وہ تیش سے چلائی کے ان کی بات پر اسنے مٹھیاں بھینجی
موم آپ غلط کہ رہی ہیں… وہ ضبط کیے غرایا
آپ کے پاس دو دن ہیں مجھے اپنا فیصلہ بتائیں نہیں تو میری ولیہ کی عمر اتنی نہیں ہوئی اس کے لیے اور بھی بہت رشتے ہیں آپ یہ مت سمجھیے گا وہ اکیلی ہے! غصے سے کہتی وہ اپنے روم میں چلی گئی کے پیچھے وہ ضبط جے مارے سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں لیے اپنے روم کی طرف بڑھا
وہ روم میں آیا تو ولیہ واشروم سے نکلتی دیکھائی دی کے اس کی سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں دیکھ کر اسے خطرے کا احساس ہوا اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی نائل سخت تیور لیے اسکی کمر میں جکڑ کر اسے قریب کر گیا
بیوی والی حیثیت چاہیے نا تمہیں؟ اس کے کان کے قریب غراتا وہ صیح معینوں میں اسکی جان ہوا کر گیا تھا
مممیں نے ایسا ککب کہا؟ اس کی قربت میں اس کی سٹرونگ پرفیوم کی خوشبو سے وہ گھبرا منمنائی
اچھا؟ اب کے نائل نے چھوڑ کر دیوار سے لگایا
موم سے کیا بکواس کی ہے تم نے؟ ہاں؟ وہ ڈھارا کے اس کی ڈھار سے وہ دل تھام کر رہے گئی
صیح تو کہا ہے آپ کا رشتہ ہے ہی کیا مجھ سے؟ پسند آپ کو کوئی اور ہے تو میں کیوں رہوں آپ کے ساتھ؟ نجانے کیوں وہ اس سے شکواہ کر بیٹھی تھی
تو کیا چاہتی ہو تم؟ بیوی بننا ہے تمہیں….تیش سے غراتا وہ اس کی طرف جھکا جب چٹاخ کی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی اور وہ بے یقین سا اس سے دو قدم پیچھے ہوا جبکہ وہ اب کبھی اپنے ہاتھ کو تو کبھی اسکے چہرے کو دیکھ رہی تھی
سسوری وہ میں آپ اتنے قریب…. وہ اس کے چہرے سے نظریں ہٹاۓ سہم کر بولی جب اس کی ڈھار سے اس کے پیر کانپنے لگے
شٹ اپ…اور تم کہتی ہو میں تمہیں بیوی کی حیثیت دوں؟ تلخی سے کہتا وہ بلکنی کی طرف بڑھ گیا جبکہ اسکے آخری الفاظ سے ناچاہتے ہوۓ بھی دو موتی ٹوٹ کر اسکے گال پر گرے تھے
