Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 14

389.2K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nabz-al-Qalb Episode 14

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah

گلاس ڈور سے پڑھنے والی روشنی سے اسکی آنکھ کھولی

ہیں یہ گلاس میرے روم میں کہاں سے آگیا؟ آنکھیں مسل کر خود سے کہتی وہ اٹھی جب نظر اپنی پہنی ہوئی شرٹ پر گئی ایک لمحہ لگا تھا اسے ہوش میں لوٹنے میں کسی خیال کے تحت اسنے گردن موڑ کر دیکھا جہاں وہ اسے اپنے بلکل ساتھ ہی آنکھیں موندے لیٹا نظر آیا

ہونہوں! اسے دیکھتے ہی وہ بدمزہ ہوتی اٹھ کر واشروم کی طرف بڑھی مگر جاتے جاتے اس کی نظر الماری پر گئی کچھ سوچتے ہوۓ اسنے الماری کھولی جسے دیکھتے ہی اسکی آنکھیں پھیل گئی تھیں اسکے سارے کپڑے سیلقے سے اس الماری میں سیٹ تھے شاید یہ سائمہ بیگم نے کل ہی سیٹ کروا دیے تھے

گہرا سانس بھر کر وہ اپنے لیے ایک سوٹ نکالتی واشروم کی طرف بڑھ گئی

کچھ ہی دیر میں وہ کائی گرین کلر کا سوٹ پہنے جس پر ہلکے شیشوں کا کام تھا فریش سی گیلے بالوں میں باہر آتی ڈریسنگ کے سامنے جاتی بال بنانے لگی

کمرے میں ہوتی کٹ پٹ سے وہ بامشکل اپنی آنکھیں کھول سکا تھا نظر گھومانے پر نظر سامنے اٹک کر رہے گئی جہاں وہ اپنے لمبے خوبصورت بالوں کو ڈرائر کی مدد سے سکھانے میں مصروف تھی یہ پہلی بار تھا جب نائل نے اسکے بال دیکھے تھے

یہ تمہارے بال ہیں؟ وہ کسی سحر کے زیرے اثر بولا

نہیں آپ کی پرانی گرل فرینڈ کو گنجا کرکے لگواۓ ہیں! وہ جو پہلے ہی شیشے سے خود کو گھورتے دیکھ چکی تھی اسئلے اب آنکھیں مٹکا کر بولی جس پر وہ بدمزہ ہوکر رخ بدل گیا

میں جا رہی ہوں پانچ منٹ کے اندر اندر نیچھے موجود ہوں آپ! شرارتی انداز میں اسے آدڈر دیتی وہ دروازے کی جانب بڑھی جب اسکی بھاری آواز کمرے میں گونجی تھی

میری ماں بننے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں…جب دل چاہے گا جبھی اٹھوں گا میں! بے نیازی سے کہتا وہ اسے پرسکون کر گیا

کرو کرو اور بحث کرو….لیٹ ہونے پر دادا سائیں کی جب کلاس لگے گی تو مزہ ہی آجاۓ گا! خود سے کہتی وہ باہر نکل گئی

******************

ناشتے کی ٹیبل کو بھرپور لوازمات سے سجایا گیا تھا مگر آج یہ ساری ڈیشز نائل اور ولیہ کی پسند کی رکھی گئی تھیں

.

نائل میاں کہاں رہے گئے ہیں؟ دادا سائیں سب پر نظر ڈراتے بولے

وہ شاید ہمیں جوائن نا کریں…میں نے بہت اٹھایا لیکن وہ اٹھے ہی نہیں! ولیہ مصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر بولی

یہ تو غلط بات ہے آج شادی کا پہلا دن ہے سب کچھ ان کی پسند کا بنایا گیا ہے اور وہ خود یہاں موجود ہی نہیں! دادا سائیں خفگی سے کہنے لگے جب وہ سڑھیوں سے اتررا دیکھائی دیا

بس کیا بتاؤں میں دادا سائیں مجھے تو لگتا ہے وہ بلکل خوش نہیں ہے مجھ سے شادی کرکے..کل تو وہ گھر بھی نہیں آۓ آج صبح جب میں اٹھی تو جب دیکھا ورنہ آپ پوچھ لیں وفا سے کل رات یہ دونوں ہی میرے ساتھ بیٹھی رہیں! وہ سر جھکاۓ لہجے میں دکھ سماۓ بولی کے اس کے جھوٹ پر پیچھے کھڑے نائل کی آنکھیں پوری طرح سے کھل گئیں تھیں

یہ سب کیا ہے نائل…ولیہ کیا کہ رہی ہیں؟ دادا سائیں صدمے سے بولے جبکہ ان کی نظروں کو اپنے پیچھے دیکھتا محسوس کرکے ولیہ زبان دانتوں میں دباۓ پلٹی جہاں وہ سنجیدہ تاثرات لیے اسے ہی گھور رہا تھا

بتائیں نائل؟ دادا سائیں کی آواز ایک بار پھر گونجی جس پر اسنے زبرو اچکا کر ولیہ کی جانب دیکھ جو اب نظریں جھکا گئی (اسے کہاں پتا تھا وہ جن کی طرح اس کے پیچھے ہی کھڑا ہوگا)

کچھ نہیں دادا سائیں اصل میں یہ مجھے کہ رہی تھی میں آج ڈیرے پر نا جاؤں لیکن میں نے کہا مجھے جانا ہے کچھ کام ہے بس اسئلے ناراض ہوکر آپ سے جھوٹی شکایتیں لگا رہی ہے کیوں ڈارلنگ؟ اس کے الفاظوں اور طرز مخاطب پر وہ بامشکل سنبھلی جب نظر سامنے ٹیبل پر موجود افرادوں پر گئی جو معنی خیزی سے مسکرا رہے ان دونوں ک تھے سواۓ وشمہ کے .

اب آپ دونوں کی ٹوم اور جیڑی والی فائٹ ختم ہو گئی ہے تو بیٹھ کر ناشتہ کریں ٹھنڈا ہو رہا ہے…. رباب بیگم اپنی مسکراہٹ چھپاۓ بولیں جس پر وہ سر کو خم دے کر کرسی کھینچ گئی

ویسے ولیہ جھوٹ بولنا اچھی بات نہیں! دادا سائیں اسے ٹوکنا نا بھولے جب کے وہ ان کی جمعلے پر دانت پیس کر رہے گئی

سن لیا؟ نائل اب پوری طرح اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتا اس کہ جانب متواجہ ہوا جب وہ اپنی بھاری چپل والا پاؤں اس کے پیر پر رکھ گئی

آہ…..

کیا ہوا بھائی؟ زارون چونک کر بولا

کککچھ نہیں چمچ پیر پر گر گیا! اب کے وہ نارمل ہوکر کہنے لگا جس پر زارون سر کو خم دیتا اس کی طرح کھانے سے انصاف میں مصروف ہو گیا

*****************

کیسے ہیں اب آپ میر؟ سجل بیگم اس کے روم میں آتی بولیں جو پیر پر پٹی باندھے صوفے پر بیٹھا کوئی اخبار پڑھ رہا تھا

آئیے اماں…بہتر ہوں اب! وہ اخبار سائد پر رکھتا ان جی جانب متواجہ ہوۓ بولا

یہ سب اس نائل کاظمی نے کیا ہے نا؟

جی اماں!

مار دو پھر اسے….اس ہاشم کاظمی کی اولاد نے پہلے تمہارے باپ کو مارا اور اب وہ لوگ میرے بچے کے پیچھے پڑ گئے ہیں؟ مجھ میں ہمت نہیں ہے اب کہ میں ان کاظمیوں سے ایک زخم کھاؤں! سجل بیگم ڈھیروں نفرت لیے گویا ہوئی

آپ بے فکر رہیں ماں…. میں ان کاظمیوں نسلیں برباد کر دوں گا!یر شہزاد مٹھیاں بھینجے بولا

اور آپ تو ہاشم کاظمی کی اکلوتی پوتی کو اس گھر میں ملازمہ بنا کر لا رہے تھے؟

”اس کی شادی ہو گئی…نائل کاظی سے!“ میر شہزاد نظریں جھکاۓ بولا جبکہ اس بار کمرے میں سجل میر کا قہقہ بلند ہوا تھا

یہ تو اور اچھا ہوا اس بار ہاشم کاظمی کو اپنی دو دو اولادوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا! ان کی بات کا مفہوم سمجھتا وہ بھی کھل کر مسکرایا

ماننا پڑے گا میری بھی ماں ہیں آپ! میر شہزاد ان کی طرف دیکھے شیطانی ہنسی ہنستا بولا اور اسکے بعد کمرے میں ان دونوں ماں بیٹے کی شیطانی ہنسی گونجی تھی

****************

نائل کی غلط بات ہے آج اسے ڈیرے پر نہیں جانا چاہیے گا بتاؤ آج ولیمہ ہے اور وہ جناب باہر پھیر رہے ہیں! خالہ خفگی سے کہنے لگی

تو پھر ہے نا کسی کام سے گیا ہوگا ویسے بھی اس کی شادی کونسا من پسند شخص سے ہوئی ہے ارے بھئی من چاہی دلہن ہو تو شوہر گھر پر رکے بھی! پھوپھو تلخی سے بولی جس پر وفا اور رامشہ سے باتیں کرتی ولیہ کے کان کھڑے ہوۓ پہلی بار کسی کی باتوں پر اسے تکلیف ہوئی تھی

کیسی باتیں کر رہی ہو فرحانہ نائل نے ہی ولیہ کے لیے ہامی بھری ہے اگر ایسی بات ہوتی تو وہ کبھی ہامی ہی نا بھرتا! رباب بیگم کو ان کی بات ناگوار گزری جس پر وہ انہیں ٹوکتی بولیں

لو بھلا میں نے غلط تھوڑی کہا ہے اور میں سب جانتی ہوں کیوں نائل نے ولیہ کا نام لیا….اب اگر وشمہ بھی ایسے ہی ادائیں جانتی تو بھلا میری بچی میں کوئی کمی ہے کیا؟ فرحانہ بیگم معمول کی نسبت تلخی سے بولی

ادائیں ہی تو نہیں ہے اس میں اسئلے ہی میں نے وشمہ پر ولیہ کو ترجیح دی ہے منہ تو آپ میرا بند رہنے دے پھوپھو! نائل جو ابھی باہر سے آیا تھا ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے لوگوں میں اس کی تزلیل سن کر اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوۓ تھے

نائل! رباب بیگم نے اسے ٹوکا

نو موم میں آج آپ لوگوں کو صاف کہ رہا ہوں آئندہ میں اپنی بیوی کے بارے میں اس طرح کوئی بات برداشت نہیں کروں گا….اب وہ ولیہ فرحان کاظمی نہیں بلکہ ولیہ نائل کاظمی ہے! تیش سے کہتا وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرے اوپر کی جانب بھر گیا کے اس کے جاتے ہی وفا نے دھنگ کھڑی ولیہ کو کونی ماری جبکہ اس سب میں وشمہ اور فرحانہ بیگم کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا

چلو بچیوں ولیمے کی تیاری کرو…. رباب بیگم سب کی تواجہ ہٹاتی بولی