Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 23
Rate this Novel
Nabz-al-Qalb Episode 23
Nabz-al-Qalb by Syeda Shah
رباب بیگم اس کے کھانے کی ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوئی تھیں
موم آپ کیوں لے آئیں میڈ لا دیتی نا! وہ انہیں آتا دیکھ کر نرمی سے بولا
کیوں میں اپنے بیٹے کے لیے کھانا نہیں لا سکتی؟
کیوں نہیں آپ ہی لائیں گے ورنہ یہاں خیال کسے ہے آپ کے بیٹے کا! وہ اسے چینجنگ روم سے آتا دیکھ کر اسے چھیڑے بغیر نا رہے سکا رباب بیگم نے اسکا کان پکڑا
میری بیٹی کو تنگ مت کیا کرو! وہ اسکا کان پکڑے مسنوئی خفگی سے بولی جب کے مقابل کو تو جیسے اس کی برائیوں کا موقع ملا تھا
دیکھ رہی ہیں آپ تائی ماں یہ ہر وقت ہی مجھے تنگ کرتے ہیں کوئی موقع نہیں چھوڑتے اور کبھی کبھی ٹھر……. بولتے بولتے نائل کی گھوری کو دیکھ کر اسے بریک لگی
دیکھیں دیکھیں اب بھی گھور رہے ہیں! وہ فوری سے ان کی تواجہ اس جانب کروا گئی
نائل بری بات! رباب بیگم ان کی کٹھی میٹھی نوک جھوک سے مسکرا کر بولیں
تمہیں نیند آرہی ہوگی نا سو جاؤ…..میری موم سے تمہاری برائیاں کرنی ہیں! وہ رباب بیگم کے ہاتھ سے کھانے کا نوالہ لیتا کہنے لگا
کر لیں لیکن میری تائی ماں کبھی نہیں سنیں گی وہ محبت سے پیچھے سے حصار میں لیے بولی جس پر رباب بیگم نے بھی محبت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا
ہممم نمبر بڑھا رہی ہے یہ موم!
نائل….! ولیہ بیٹا جاؤ آپ سو جاؤ سفر کی بھی تھکان ہوگی! وہ نائل کو چٹ لگاتی ولیہ کے سر پر ہاتھ پھیرتی بولیں جو مسکرا کر انکا ہاتھ چومتی سونے کے لیے اپنے بیڈ کی طرف بڑھ گئی کے اس کے جانے کے بعد رباب بیگم اپنے اس مغرور شہزادے کی طرف متواجہ ہوئی
بیٹا میں مانتی ہوں آج آپ کے دادا سائیں نے زیادتی کی ہے لیکن آپ نے بھی تو ان سے بدکلامی کی ہے! کچھ وقفے کے بعد وہ تہمید باندھنے لگی
لیکن میں ان سے معافی ہرگز نہیں مانگو گا! وہ سفاک انداز میں بولا کے رباب بیگم اسے دیکھ کر رہے گئیں
نائل اپنے اندر عاجزی لاؤ بیٹا معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ اسکا مقام بڑھتا ہی ہے! وہ ہمیشہ کی طرح کوشش کرنے لگی اسے معافی مانگنے پر تیار کرنے کی لیکن وہ ہر بار خاصا ڈھیٹ ثابت ہوتا تھا
موم انہوں نے مجھ سے چھوٹی بات نہیں کی انہوں نے مجھے میری بیوی کو چھوڑنے کی بات کی ہے انہوں نے مجھ سے میری……کہتے کہتے وہ رک سا گیا
تمہاری کیا؟ رباب بیگم کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ رینگی
میری غیرت کا سوال ہے موم! وہ بات بدل گیا
ہمم میں جانتی ہوں انہوں نے غلط کیا لیکن وہ سب انہوں نے تمہاری محبت اور فکر میں کیا…..
رات کافی ہو گئی ہے موم آپ کو بھی نیند آرہی ہوگی! وہ ان کی بات سنجیدگی سے کاٹتا بولا
”ٹھیک ہے مگر میری بات پر ایک بار نظر ثانی ضرور کرنا“ جانتی تھیں وہ کرے گا تو اپنی ہی اس کی پیشانی پر بوسہ دیتی اسکے چہرے پر اپنا مامتا بھرا ہاتھ پھڑتی وہ اپنے روم کی جانب بڑھ گئیں کے ان کے جاتے ہی وہ پر سوچ سا بلکنی میں آیا
آج جب دادا سائیں نے اس سے پوچھا تھا نجانے کیوں ولیہ کے جواب سے پہلے خوف سا آیا تھا
کیا ہوتا جا رہا ہے تمہیں نائل کاظمی! وہ سگریٹ کا گہرا کش لیے بلکنی میں رکھے صوفے پر اپنا لیٹ ٹوپ کھولے بیٹھ گیا
********************
مسلسل بجتے فون سے وہ بامشکل اپنی آنکھیں کھولی پائی گھڑی پر نظر ڈرانے پر وقت صبح پانچ بجے کا پتا دے رہا تھا
اس وقت کس کی کال آگئی؟ خود سے کہ کر وہ اس خاموشی میں چیختا ہوا موبائیل اٹھا گئی جو اسکے ہٹلر ہسبنڈ کا تھا اور وہ خود نجانے کہاں غائب تھا کچھ سوچتے ہوۓ وہ منہ بسورتی چپل پیر میں اڑستی خود کو تقریبا گھسیٹتے ہوۓ بلکنی میں آئی جہاں وہ اسے
ریلنگ پر جھکا سگریٹ کے کش لگاتا نظر دیکھائی دیا
سوۓ نہیں؟ صوفے پر رکھے لیپ ٹوپ کو دیکھ کر وہ اس سے مخاطب ہوئی جو اس کی آواز پر اب اس جانب متواجہ ہوا
ہاں بس کچھ کام تھا!
آپ تھکتے نہیں ہیں ہر وقت کام کر کر کے؟ وہی دروازے پر کھڑے اس کی سرمئی آنکھوں میں نیند کے آثار دیکھ کر پوچھا تھا
آپ کو فکر ہو رہی ہے؟ وہ اس کی طرف قدم بڑھاۓ گھمبیر لہجے میں کہتا اس کہ بیٹ مس کروا گیا
آپ سگریٹ کیوں پیتے ہیں؟ اس کے اندر سے آتی اسٹرونگ پرفیوم اور سگریٹ کی خوشبو محسوس وہ ناک پر ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگی
مجھے پسند ہے! اس کے کہنے پر وہ لاپروائی سے بولا
لیکن مجھے نہیں پسند! اس کے انداز پر وہ ناگواری سے بولی
تو تم مت پیو! وہ کندھے اچکاۓ اپنی مسکراہٹ ضبط کیے کہنے لگا
استغفر اللہ…. اس کی بے نیازی پر وہ جھرجھرلی لیتی اسے گھورنے لگی جو سرمئی آنکھوں میں نیند کی خماری لیے مسکراہٹ ضبط کیے کھڑا مردانہ وجاہت کی خوبصورت مثال لگ رہا تھا
مجھے بعد میں نہار لیجیے گا اگر آپ اس طرح دیکھیں گی تو مشکل ہو جاۓ گا محترمہ! اس کے کہنے پر وہ بری طرح سٹپٹائی
آپ کا فون بج آرہا وہی دینے آئی تھی! وہ اسے ٹھرکی موڈ میں آتا دیکھ کر فوری سے اس کے آگے موبائیل کرتی بولی کے اس کی بات پر وہ ابرو سکیڑ گیا
اس وقت کس کا فون آگیا؟
مجھے کیا پتا اس کل بھی تو ایسے ہی کال آئی تھی نا…. کل رات کا منظر ذہن میں گونجتے ہی تلخی سے کہتی آگے بڑھنے لگی جب نائل ایک اسے جھٹکے سے اپنے قریب کرتا اسکے کمر کے گرد بازؤ حائل کر گیا کے اس اچانک اتفاد پر وہ دل تھام کر رہے گئے
جیلسی ہو رہی ہے؟ اس کے کان کے قریب خمار آلود لہجے میں کہتا وہ اس کی جان ہوا کر گیا
ممجھے ککیوں ہوگی۔۔۔میں تو بس یہ چاہتی ہوں جو ہو وہ سامنے ہو! اس کئ گرفت میں وہ لرزتی پلکوں سے بولی
تو پھر بے فکر رہیں بیگم نائل کاظمی جو کرتا ہے ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہے! اس کے چہرے پر نظریں جمائے وہ گہرے میں بولا کے اس کی قربت میں اس کی نظروں کی تاب نا لاتی وہ سرخ پڑی تھی
ممجھے نماز ادا کرنی ہے۔۔۔ لفظ بامشکل ادا ہوئے تھے
بس کہاں بھاگ گئی تمہارے اندر کی شیرنی؟ اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ نظروں میں اتارے وہ مسکرا کر بولا کے اس کی مسکراہٹ میں کھوئی سی تھی بلاشے وہ دلوں کو فاتح کر دینے والی مسکراہٹ رکھتا تھا
کہاں کھو گئی؟ وہ اسکے آگے چٹکی بجاتا بولا کے اپنی حرکتوں پر وہ دل ہی دل میں خود کو کوستی خومخاں شرمندہ ہوئی
چھوڑیں مجھے میں نے یونی بھی جانا ہے! اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی مگر وہ کہاں اس چٹان جیسے انسان سے جیت سکتی تھی
کیا کھاتے ہیں کتنے موٹے ہیں آپ۔۔۔ وہ اس کی گرفت سے نکلنے میں ہلکان سے بولی کے وہ اپنی پرسنلٹی کی بے عزتی پر لب بھینج کر رہے گیا
فلحال تو تمہیں کھانے کا دل کر رہا ہے۔۔۔ بے باکی سے اس کا گال کھینچ پر کہتا وہ اسے مزید گلابی کر گیا
نائل پلزز۔۔۔ اس کی قربت میں وہ اب بے بس سی ہوئی کے اس کی حالت کو سمجھ کر وہ اس کی ناک زور سے دباتا اپنی گرفت دھیلی کر گیا کے اس کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی وہ موقع کو غنیمت سمجھتی روم کے اندر بھاگی
ہونہوں بد تمیز انسان! وہ سرخ سی خود سے کہتی وضو کے کیے واشروم کی میں چلی گئی
کچھ دیر بعد وہ گیلے چہرے سے باہر آتی ڈوپٹا حجاب کی صورت میں لپیٹے جائے نماز بیچھا گئی جب وہ روم میں آتا دیکھائی دیا
سونے سے پہلے نماز ہی پڑھ لیں۔۔۔اسے بیڈ پر لیٹتا دیکھ کر وہ کہے بغیر نا رہے سکی
تم پڑھ رہی ہو نا کافی ہے۔۔۔! بے نیازی سے کہ کر وہ آنکھیں موند گیا کے اس بے نیازی پر ولیہ پہلی بار اس کی ہدایت کے لیے ہاتھ اٹھا گئی
کچھ دیر بعد وہ اس کے لیے ناشتہ بنانے کی نیت سے کچن میں آئی
ارے ارے آج سورج کہاں سے نکلا ہے؟ زارون جو شاید ابھی اوپر بنے نائل کے جیم روم سے ورزش کرکے نکلا تھا اسے کچن میں کام کرتا دیکھ کر شرارتی انداز میں بولا
یہ تو مجھے بھی پوچھنا چاہیے تم جیسے لیزی انسان کو کب سے جیم کی عادت ہو گئی ہے؟ وہ ابرو سیکڑے بولی
ایسے ہی جیسے تم جیسی نکمی کو صبح صبح اٹھ کر کچن میں آنے کا خیال آگیا۔۔۔ وہ کہاں چپ لگانے والوں میں سے تھا کے اس کی بات پر ولیہ نے ایک زور دار چٹ اسے رسید کی تھی
سیدھی طرح بتاؤ!
اوہ یار بس سنگل رہے رہے کر بور ہو گیا ہوں سوچ رہا ہوں تمہارے شوہر کی طرح کوئی بوڈی شوڈی بناؤں تاکہ زرا موم کو چھوٹے بیٹے کی بھی خوشیاں دیکھاؤں۔۔۔!
واہ واہ کیا نیک ارادے ہیں تمہارے کتنا احساس ہے تمہیں تائی ماں کا! وہ جھرجھرلی لے گئی جس پر وہ مزے سے سر ہلا گیا
اچھا یار شیک تو بنا دو پلزز! وہ یکدم ہی چہرے پر بےچارگی لائے بولا
اور بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟ ولیہ نے ابرو اچکائی
میرا ہینڈسم بھائی مل تو گیا اور کیا چاہیے تمہیں؟ وہ لڑاکا عورتوں کی طرح کمر ہر ہاتھ باندھے بولا
وہ تو مجھے اللہ نے دیا ہے۔۔۔ آئسکریم پر ڈیل ڈن کرنی ہے تو بتاؤ! وہ سیدھا مدعے ہر آئی
ویسے بری ہی کوئی ندیدی ہو تم خیر ڈن۔۔۔ وہ اسکے ہاتھ ہر ہاتھ مارے بولا کے دور کھڑی وشمہ نے یہ منظر ناگواری سے دیکھا
دونوں بھائیوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے اس نے اپنی اداؤں سے! زہر خندق ہوکر کہتی وہ پیر پٹک کر اپنے روم میں چلی گئی
صبح کے آٹھ بج چکے تھے اور وہ اب تک پراٹھے بنانے کی سہی میں ہلکان سی لگی تھی جب رباب بیگم کچن میں آتی خوشگوار حیرت لیے اسے دیکھنے لگی
ماشاءاللہ میری بیٹی تو دن بدن بڑی ہوتی جا رہی ہے یہ نائل کے لیے بنا رہی ہو؟ وہ اس کی تھکن سے جان چکی تھی یہ محنت کس کے لیے کی جا رہی ہے
جی۔۔۔اس کے ذکر پر نجانے کیوں اسکا دل عجیب سی لے میں دھڑکا
بہت اچھی بات ہے!
لیکن یہ ٹھیک سے نہیں بنے۔۔۔ وہ پراٹھوں کو دیکھتی افسوس سے بولی
کس نے کہا ٹھیک نہیں بنے؟ بہت اچھے بنے ہیں اور جب روٹین میں کرو گی نا تو مزید بہتری آجائے گی! وہ اسکا ماتھا چومتی محبت سے کہنے لگیں جس پر وہ سر کو خم دے گئی
کل سے میرا دل بہت پرسکون ہے مجھے کل سے آپ دونوں میں پہلے والی تلخی نظر نہیں آئی بلکہ آپ دونوں کا ایک دوسرے کے لیے اسٹینڈ لینا مجھے ہمارے فیصلے پر فخر کرنے کا کہتا ہے جیتی رہو۔۔۔بس مجھے ایک بات کا ڈر ہے کے کہیں کسی دن بابا سائیں اور نائل میں کوئی بڑا جھگڑا نا کھڑا ہو جائے! ان کے تاثرات یکدم ہی بدلے تھے جس پر ولیہ ان کی پریشانی سمجھتی انکا ہاتھ تھام گئی وہ خود بھی کل سے دادا سائیں سے اس کے روایے پر پریشان تھی
آپ بے فکر رہیں میں سمجھاؤں گی انہیں! انکا ہاتھ تھامے وہ محبت سے بولی
ہاں بیٹااس سے بات کرنا شاید آپ کی سن لے۔۔۔۔
ویسے تائی ماں وہ کیا شروع سے ہی ضدی ہیں؟ وہ مصروف سی بولی
ہاں ضدی تو شروع سے ہی ہے لیکن دل کا بُرا نہیں ہے بس تھوڑا انا کا مارا ہے کسی کی اونچی آواز برداشت نہیں کرتا اور نا ہی کسی کی بدتمیزی برداشت کرتا۔۔ان کے کہنے پر اسے بے ساختہ اپنا تھپڑ یاد آیا جسے وہ اس کی ایک سوری کے بعد ہی بھولا چکا تھا یا شاید نہیں
میری برائیاں ہو گئی ہوں تو ناشتہ مل سکتا ہے؟ اس کی بھاری آواز پر وہ دونوں چونک کر پلٹی
ہونہوں آپ کی خوشفہمی ہے….! وہ مصروف سی کافی کپ میں نکالتی بولی کے کائی گرین سوٹ میں سر پر ڈوپٹا لیے مصروف سی بولتی نائل کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی
آج یونی مت جانا…..آج مجھے جلدی ہے کل میں تمہیں خود چھوڑ آؤں گا…اس سے زیادہ میں کچھ نہیں سنوں گا! وہ موبائیل میں مصروف سا بولا
آج میری بیٹی کو کچھ مت کہنا نائل…پتا نہیں کب سے کھڑی وہ تمہارے لیے ناشتہ بنا رہی ہے! رباب بیگم خفگی سے اسے دیکھتی کہنے لگیں
تو گویا آج مجھے اپنی جان کی قمیت لگا کر کھانا کھانا ہوگا؟ وہ شرارت سے بولا کے اس کی بات پر اسنے کرب سے نائل کی طرف اور اگلے ہی لمحے وہ سب کچھ ایسے ہی چھوڑے تیز تیز قدموں سے کچن سے نکل گئی
اسے کیا ہوا؟ وہ کنفیوز سا رباب بیگم کی طرف مڑا
جاکر مناؤ اسے….صبح سے آپ کے لیے لگی ہوئی تھی! رباب بیگم خفگی سے بولی کے ان کی بات پر وہ سر جھٹکتا اس کے پیچھے جانے لگا جب اسکا فوم چینخا
میں آکر اسے دیکھ لوں گا آپ مجھے یہ سب پیک کر دیں! وہ مصروف سا گھڑی دیکھتا بولا جس ہر رباب بیگم اس کی جلدی سمجھ کر اسکا ناشتہ ایک بوکس میں ڈالتی اسے پکڑا گئیں
آپ پلززز دیکھ لیجیے گا اسے! موبائیل کان سے لگاۓ مصروف سے انداز میں کہتا وہ باہر نکل گیا
کے رباب بیگم محض اسے جاتا دیکھنے لگی
********************
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ وہ ڈیرے میں پہنچتے ہی اس کی شکل دیکھ کر خاصی ناگواری سے بولا
آؤ آؤ نائل کاظمی تمہارا ہی انتظار تھا…. میر شہزاد موچھوں کو تاؤ دیتا بولا جبکہ اسکی فریش حالت سے وہ کہیں سے بھی اسے تکلیف میں مبتلا نظر نہیں آیا
جو تم دھونڈ رہے ہو وہ نہیں ملے گا….وہ اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتا شان سے اپنی کرسی ہر بیٹھتا بولا
میں نہیں جانتا تمییں مجھ سے کیا بیڑ ہے…تمہیں ہماری لاہور والی فیکٹری جلا کر کیا ملا؟
سکون…! نائل پرسکون سا بولا کے اس کے جواب پر میر شہزاد کا دل چاہ اس کا منہ نوچھ لے
نائل کاظمی…مجھ سے پنگہ بہت مہنگا پڑے گا! اسنے دھمکانے کی کوشش کی مگر سامنے نائل کاظمی تھا
جو کرنا ہے کرو لیکن جس مقصد کے لیے تم آۓ ہو میں تمہیں نا تو وہ زمین دوں گا اور نا ہی تمہاری فیکٹری کو جلانے کے بدلے ایک روپیہ دوں گا…اب خود یہاں سے دافع ہو جاؤ نہیں تو میرے بندے کے نکالنے پر تمہاری بچی کچی عزت بھی جاۓ گی! اپنی اس قدر تزلیل پر وہ سرخ چہرہ لیے کھڑا ہوا
پیار سے بات کرنے آۓ تھا لیکن تجھے پیار کی زبان سمجھ نہیں آئی اب میں نے تجھ سے تیرا یہ سکون نا چھین لیا تو کہنا….وہاں سے ماروں گا جہاں سے تجھے سب سے زیادہ تکلیف ہوگی! اسے انگلی دیکھا کر تنبیہ کرتا وہ اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا چکا گیا جبکہ نائل پیچھے اس کی دھمکیوں کو ہوا میں اڑاتا باقی کے معاملات دیکھنے لگا
دیکھا آپ نے کتنا مغرور ہے وہ؟ اظہر چنگاری کو مزید ہوا دیے بولا
مجھے زلیل کرے گا یہ؟ میں اس کی عزت ہی چھین لوں گا بس کچھ دن نائل کاظمی اس کے بعد تو خود اپنا سب میرے حوالے کرے گا! میر شہزاد تیش سے کہتا گاڑی میں بیٹھ گیا
مججھے سچ میں حیرت ہوئی تھی جب تم ڈرنک کرکے اس کے سامنے چلی گئیں….
ہاہاہا یہی تو کمال ہے….اسنے مجھے ایک بار ڈرنک دیکھا تو چونک گیا اب اسے کیا پتا ڈرنک تو نجانے میں کتنے عرصے سے کر رہی ہوں….وشمہ قہقہ لگاتی بولی
وہی تو..لیکن تمہارا وہ پلان بھی کچھ خاص کام نہیں آیا تو اب آگے کیا کرنے کا سوچا ہے؟ مقابل کی نظریں اس پر مرکوز تھیں
سوچا تو بہت کچھ ہے جسٹ ویٹ آینڈ واچ! شیطانی مسکراہٹ لیے کہتی وہ کافی کا گھونٹ بھرنے لگی
*******************
رات کے گیارہ بجے کے قریب اس کی گاڑی گیراج میں رکی تنی ہوئی رگوں سے گھڑی پر نظر ڈرا کر ٹائم کا اندازہ کرتا اندر داخل ہوا جہاں اسکا سامنا خالی لاونج سے ہوا آج اسکا موڈ خاصا خراب تھا وجہ پہلے میر شہزاد سے بحث اور پھر ڈیرے پر ایک شخص سے ہوۓ جھگڑا تھا
گھڑی پر نظر ڈراۓ وہ مسلسل اسکے انتظار میں ٹہل رہی تھی
ہٹلر کہیں کے…پتا نہیں کہاں رہے گئے؟ انہی سوچوں میم تھی جب وہ دروازہ کھولے اندر داخل ہوا اسے دیکھتے ہی وہ رخ بدل گئی
وہ جو پہلے ہی غصے میں تھا اسے رخ پھیڑتا دیکھ کر وہ لب بھینج کر واشروم میں بند ہو گیا ڈھار کی آواز سے وہ چونک کر دروازے کی جاننب دیکھنے لگی
انہیں کیا ہوگیا؟ خود سے سوال کرتی وہ بال سنوارتی بیڈ پر بیٹھتی مووی لگا گئی
چند منٹوں بعد وہ فریش سا فورمل سے وائٹ ٹراؤزر شرٹ میں باہر اسے ٹی وی کے سامنے بیٹھے دیکھ کر ٹی وی کا ریموٹ اٹھا کر بند کیا تھا کے اس کی حرکت پر وہ دانت پیس کر باہر کی طرف بڑھنے لگی جب وہ اسکے اٹھنے سے پہلے ہی اس کی گود میں سر رکھ گیا
اپنی یہ ناراضگی کل دیکھا لینا فلحال میرے سر میں درد ہے دبا دو! نے نیازی سے کہتا وہ آنکھیں موند گیا کے اس کی بے باکی پر وہ سرخ سی بیٹھی رہی کافی لمحے اسے ایسے ہی ڈھیٹ بنے لیٹا دیکھ کر وہ سرد آہ بھر کر اسکا سر دبانے لگی
وری گڈ! وہ جو اٹھنے کی تیاری میں تھا اس کے ہاتھوں کا لمس پاتے ہی پرسکون ہوتا آنکھیں موند گیا
یہ جانے بغیر کے اسکا یہ سکون کہیں کھونے والا تھا
