Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 27

389.2K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nabz-al-Qalb Episode 27

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah

کچھ ہی دیر میں سائمہ بیگم کے کھانسنے کی آواز آئی جس سے وہ خوفذدہ سی نائل کا بازو جھنجھوڑ گئی

نائل پلززز جائیں یہاں سے موم اٹھ جائیں گی! وہ اس کے بال پھر سے جکرے بولی کے اس بار نائل نے نیند کا خمار لیے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا اس کے چہرے پر الجھن دیکھ کر وہ بنا کچھ کہے کمرے سے نکل گیا کے اس کے جاتے ہی وہ کب سے کیا ہوا ضبط اب کھو چکی تھی

آپ کیوں ہیں ایسے….میرا امتحان مت لیں نائل آپ کی یہ ہمدردی مجھے بہت سے نا پورے ہونے والے خواب دیکھا رہی ہے…..وہ وہی جاۓ نماز پر سر رکھتی لیٹ گئی کچھ ہی دیر میں نیند اسے اپنی لپیٹ میں لے گئی تھی

ناشتے کی ٹیبل پر ہمیشہ کی طرح سب موجود تھے سواۓ اس کے

ولیہ نائل کو نہیں اٹھایا بیٹا؟ رباب بیگم اسے موجود نا دیکھ کر ولیہ سے مخاطب ہوئی جب وہ فارمل سی بلیک ٹراؤزر اور شرٹ میں فریش سا سامنے سے آتا سب کو سلام کرتا اسکے ساتھ والی کرسی کھینچ گیا مگر آج نا تو اسے دیکھنا تک گوارا کیا تھا

تو بس ایک دن تک کی ہی ہمدردی تھی آپ کی نائل کاظمی؟ خود کے نظرانداز ہونے پر وہ دل ہی دل میں کڑتی بولی

.

اب جب اسے اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوگا میں بھی اس سے بات نہیں کروں گا! وہ دونوں ایک دوسرے سے دل ہی دل میں مخاطب تھے جب رباب بیگم کی آواز سے اس جانب متواجہ ہوۓ

ولی بیٹا نیند ٹھیک سے آئی؟

جی تائی ماں آگئی تھی! وہ جبرا مسکرا کو بولی

تو آج بھی آپ نے سائمہ کے ساتھ سونا ہے؟

نہیں میں آج اپنے روم میں سوؤں گی تاکہ نائل کو میرے اٹھنے سے پہلے بھاگنا. نا پڑے! اس کے بولنے سے پہلے ہی سائمہ بیگم بول پڑی تھیں کے ان کی بات پر جہاں نائل نے چونک کر سائمہ بیگم جو دیکھا وی ولیہ کے حلق میں نوالہ اٹک گیا تھا جس پر اگلے ہی لمحے وہ اسے دیکھے بغیر پانی کا گلاس اس کے آگے رکھ گیا کے اس کے انجان بن کر بھی خود پر نظر رکھنے سے ولیہ عش عش کر اٹھی تھی

دادا سائیں آپ آج ڈیرے پر آجائیے گا کچھ معاملات ڈسکس کرنے ہیں! دادا سائیں سے کہتا وہ کرسی کھسکا کر باہر نکل گیا

کے ولیہ محض اس کی پشت دیکھ کر رہے گئی

ڈیرے میں آتے ہی سب احتراما کھڑے ہوۓ جنہیں وہ ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کا بولتا اپنی کرسی سنبھال گیا

نائل بابا ہم سب آپ سے شرمندہ ہیں! کچھ دیر ہی خاموشی کے بعد ایک آدمی گردن جھکا کر بولا

کس چیز کے لیے؟

ہم نے میر شہزاد کی باتوں میں آکر آپ کو برا بھلا کہا اور آپ جان پر کھیل کر ہماری بیویوں کو صیح سلامت واپس لے آئے!

میرا فرض تھا! وہ محض اتنا ہی کہ سکا تھا جبکہ دیڑے میں داخل ہوتے دادا سائیں نے فخر سے اسے دیکھا تھا ان کا فیصلہ درست ثابت ہوا تھا

********************

دن جیسے منٹوں میں گزر رہے تھے اس رات کے بعد سے وہ ہفتہ ہونے کو تھا اسے دیکھائی نہیں دیا تھا صبح وہ ناشتے کیے بغیر ہی چلا جاتا جبکہ رات میں نجانے کونسے پہر آتا تھا

آج بھی وہ صبح جلدی چلا گیا تھا

ولیہ بیٹے؟ رباب بیگم اسے کچن میں مصروف سا دیکھتی اس کے پاس آئی اس دوران وہ انہیں صرف کچن میں ہی کام کرتی نظر آتی تھی جیسے جیسے دن گزر رہے تھے وہ اس معاملے کو لے کر مزید احساس ہو گئی تھی وجہ فرحانہ محترمہ کا اس پر جا بجا طنز کرنا تھا

جی تائی ماں!

بیٹا آج ہفتے ہونے والا ہے میرے خیال سے تمہیں اب نائل اور اپنے روم میں واپس چلے جانا چاہیے…! رباب بیگم محبت سے بولیں

انہوں کونسا فرق پڑتا ہے! وہ دل ہی دل میں جھرجھرلی لے گئی

سن رہی ہو نا بچے؟ رباب بیگم نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا جس پر وہ سر اثبات میں ہلا گئی

”جی جی تائی ماں ٹھیک ہے“

میری بچی! رباب بیگم اسکی پیشانی چوم کر اسکے ساتھ کاموں میں مصروف ہو گئے کچھ دیر بعد وہ دونوں چاۓ کے کپ اور سنیکس لے کر ٹی وی لاونج میں آتے کوئی پروگرام لگا کر بیٹھ گئے

وہ حویلی میں داخل ہوا تو اسے رباب بیگم کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر قدم خودبخود اس جانب بڑھے

اسلام و علیکم! وہ اس کے سامنے صوفے پر نیم دراز ہوتا رباب بیگم سے بولا کے اتنے دنوں بعد اس کی آواز سے وہ دل تھام کر رہے گئی

کچھ لاؤں بیٹا؟ رباب بیگم اس سے پوچھنےلگیں

جی بس کافی بنا دیں!

میں بنا دیتی ہوں….رباب بیگم کو اٹھتا دیکھ کر وہ فوری سے یہاں سے غائب ہونے کو بولی

ارے نہیں بیٹا تم بیٹھو میں بنا دیتی ہوں ویسے بھی پورے دن سے کچن میں ہو! رباب بیگم محبت سے کہتی خود کچن کی طرف بڑھ گئیں کے ان کے جاتے ہی نائل کی نظروں گا رخ اس کی جانب ہوا وہ اس پر گہری نظریں جماۓ اسے سر تا پاؤں دیکھنے لگا کے اس کی نظروں تپش خود پر محسوس کرکے وہ پزل ہوتی نظریں سکرین کی جانب کر گئی

بے اختیار نظر گھڑی پر گئی جو کہ ابھی صرف ساتھ بجا رہی تھی

آج جلدی فری ہو گیا تھا اسئلے آگیا…..اس کی سوچ پڑھ کر وہ خود ے جواب دینے لگا کے ولیہ کا دل دھک سے رہے گیا

میں نے کچھ پوچھا؟ وہ بظاہر اسے نظرانداز کرتی بولی

میں نے سوچا بتا دوں! وہ لاپراوئی سے کہتا سر صوفے کی ٹیک سے لگا گیا

یونی کب جانا ہے تم نے؟ وہ اسے آنکھیں موندے دیکھ پرسکون ہوئی کے اس کی اگلی بات پر اس کے ہاتھ میں موجود کپ لڑکھڑایا اس سے پہلے کپ اس کے ہاتھ سے چھوٹتا زمین بوس ہوتا سبحان نے تیزی سے اس کا کانپتا ہاتھ تھاما جبھی نائل نے آنکھیں کھولی اور سامنے کے منظر پر اس کے ڈھیلے عصاب تنے سبحان اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کیے ہوۓ تھا

دھیان سے ابھی گر جاتی ساری چاۓ! وہ مسکرا کر بولا کے اس کے لمس سے وہ خوذدہ سی اپنا ہاتھ پیچھے کر گئی

وہ اپنا خیال خود رکھ سکتی ہے! نائل لفظوں پر زور دیے سختی سے جبڑے بھینجے بولا کے اس کے تاثرات پر جہاں ولیہ نے اسے گھورا وہی سبحان نے افسوس سے دیکھا

اسکے ہاتھ پر لگ جاتی…سبحان اسے افسوس سے دیکھتا بولا کے دوسرے ہی لمحے نائل تیزی سے اس کے پاس بیٹھتا ولیہ کا ہاتھ اپنی گرفت میں لے گیا کے اس کے پوزیسیوو انداز پر ولیہ محض اپنا سر پھوٹ کر ہی رہے جاتی تھی

تو میں دیکھ لیتا….! وہ سپاٹ انداز میں بولا اس سے پہلے ان دونوں کی بحث بڑھتی ولیہ اپنا چاۓ کا کپ لیے وہاں سے اٹھ گئی

ریلیکس برو میری بہنوں جیسی ہے وہ….! سبحان اسے جاتا دیکھ کر سبحان خفگی سے بولا کے اس کی بات پر نائل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا

میرا مطلب وہ نہیں تھا! وہ کب بھینجے کہنے لگا جس پر سبحان اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ گیا

ہوتا ہے اسے کوئی اور دیکھے تو جلتا ہے دل…ٹائپ! وہ شریر لہجے میں بولا کے نائل مسکراتے ہوۓ اسکے پیٹ میں مکا مار گیا

موم میری کافی روم میں بھیج دیجیے گا! فریش ہونے کے ارادے سے وہ اپنے روم میں چلا گیا کے اس کے جاتے ہی سبحان پرسوچ انداز میں باہر کی طرف بڑھا جب سامنے سے آتے لڑکی بری طرح سے اس سے ٹکرائی تھی

اوہ آئی ایم سوری پلزززز….! حنا جو ولیہ سے ملنے یہاں آئی تھی اچانک ہونے والی ٹکر سے اپنا چکراتا ہوا سر تھامے بولی کے سبحان نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر واپس پلٹانا بھول گیا

آپ؟ وہ آنکھیں چھوٹی کیے اسے پوچھنے لگا

میں ولیہ کی دوست ہوں حنا وہ کہاں ہے! وہ اپنا بیگ اٹھاتی اسے دیکھنے لگی

وہ تو اندر ہے! سبحان اسے بتانے لگا جس پر وہ سر ہلاتی اندر کی طرف بڑھی کے کسی خیال کے تحت واپس پلٹی تھی

ویسے ایک بات پوچھوں؟

جی پوچھیے!

یہ آپ لوگوں کو اللہ نے کس ڈو سے بنایا ہے سب ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت مخلوق یہاں موجود ہے….! خاصا ٹھرکی انداز میں کہتی وہ اپنے بال پیچھے کیے اسے ششدر چھوڑتی آگے بڑھ گئی

کیا چیز تھی یہ؟ وہ خود سے سوال کرتا سر جھٹکے باہر نکل گیا

کیا کر رہی ہو؟ اس کے اچانک نازل ہونے پر وہ دل تھام کر رہے گئی

کبھی انسانوں والا ثبوت دے سکتے ہو تم؟ وفا جو لزامات سے بھری ٹرے ڈرائنگ روم میں لے جا رہی تھی اس کی اچانک آواز پر وہ گھور کر بولی

سنا ہے اندر کوئی پیاری بچی آئی ہے! زارون شرارت سے ڈرائنگ روم کی طرف جھانکتا بولا

ہاں بس کوئی پیاری لڑکی دیکھی نہیں تم لڑکے شروع ہو جاتے ہو پہلے بھائی اور اب تم! وہ خاصی بدمزہ ہوئی

ہاں نہ زرا ٹراۓ تو کرو اگر نمبر ومبر مل جاۓ دو جگہوں سے ایک جگہ تو نشانہ لگے گا!

کیوں پہلا تیر کہاں چلایا؟ وہ تشویشی انداز میں پوچھنے لگی جب زارون نے آنکھوں میں دھیروں شرارت لیے اسے دیکھا

تم پر…آنکھ دبا کر کہتا وہ بھاگ گیا کے اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہی وفا شرمندگی سے سرخ ہو گئی

ایڈیٹ…

**********************

حنا کے آنے سے اسکا موڈ خاصا بحال ہو گیا تھا اسے سی اوف کرنے کے بعد وہ ٹی وی لاونج کے میں آئی جہاں فرحانہ محترمہ اور گھر کی باقی خواتین بیٹھی کچھ باتیں کر رہی تھیں

ولیہ میں نے سنا ہے آپ تم اپنے روم میں سوؤں گی؟ وشمہ بلند آواز میں اس سے پوچھنے لگی

ہاں!

ویسے بھابھی جان نائل کی ہمت ہے ورنہ ایسے کیسز میں اکثر طلاقیں بھی ہو جاتی ہیں دیکھو نا اسنے منع بھی کیا اس کے باواجود یہ محترمہ یونیورسٹی چلی گئیں اور پھر……

فرحانہ سوچ سمجھ کر بات کرو! سائمہ بیگم نے انہیں ٹوکا جس پر وہ سیخ پاؤ ہو گئی

میں سوچ سمجھ کر بات کروں؟ مجھے تو چپ کروا لیں گی آپ لیکن دنیا والوں کا کیا کریں گے میری باکردار بیٹی کو دھتکار کر اسنے اسے اپنایا تھا اور اب دیکھو اللہ کی کرنی! ان کے الفاظ تیر کی طرح ولیہ کے سینے میں لگے تھے

بس فرحانہ اب ایک لفظ اپنی زبان سے مت نکالنا….رباب بیگم غصے سے بولیں

کیوں نا بولوں بھابھی؟ کیا مجھے نظر نہیں آتا میرا نائل کیسے صرف ہمدردی کے لیے اسے برداست کر رہا ہے ورنہ اسے تور طریقے نہیں ہے گھر بسانے والے…..اسے زیادہ سننے کی ہمت اس میں نہیں تھی آنکھوں میم مچلتے آنسو لے کر وہ ان سب کے بیچ سے اٹھتی اوپر کی طرف جانے لگ جب نظر سامنے کھڑے نائل پر گئی وہ غضب ناک تاثرات لیے کھڑا پھوپھو کی ساری باتیں سن چکا تھا

ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈالتی وہ تیزی سے اوپر کی جانب چلی گئی

یہ کید بدتمیزی ہے فرحانہ؟ سائمہ بیگم نے افسوس سے ان سے پوچھا

کیا بدتمیزی؟ اپنی بیٹی….

پہلے آپ اپنی بیٹی کو تو دیکھ لیں پھوپھو! اس کی آواز سے وشمہ کی مسکراہٹ سمٹی جبکہ فرحانہ محترمہ اپنی جگہ ساکت ہو گئیں

ککیا مطلب ہے تمہارا؟

مطلب یہی پھوپھو کے میری بیوی کے کرتوت گھر بسانے والے ہوں یا نہیں لیکن آج آپ سب یہ بات ضرور جان لیں کے آپ کی بیٹی کے کرتوت دیکھ کر ہی میں نے ولیہ جیسی باکردار لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کیا تھا! وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا کے اس کے الفاظوں پر سب سکتے میں آگئے

کیا بکواس کر رہے ہو میری بیٹی پر تہمت لگا رہے ہو تم؟ فرحانہ بیگم آگ بغولہ ہوئی

بھائی ٹھیک کہ رہے ہیں آپ ہماری ولی پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی بیٹی پر نظر رکھے اگر ہماری موم نے اپنی تربیت دوسروں کے عیب چھپانے والی کی ہے تو آپ ہم پر اس طرح کی باتیں تھوپ کر ہماری زبانیں مت کھلوائیں! زارون اس کے ساتھ کھڑا وشمہ پر ایک کاٹدار نگاہ ڈالے بولا کے اب کی بار وشمہ اپنی جگہ سکت ہو گئی تھی مارے تزلیل کے اسکا رنگ لال ہو گیا تھا

دیکھ رہی ہیں آپ بھابھی یہ دونوں کیسے منہ کو آرہے ہیں!

نائل زارون اپنے اپنے روم میں جاؤ! رباب بیگم ان کے غضب ناک تیور دیکھ کر پریشانی سے بولیں

لیکن موم….

زارون! ان کے کہتے ہی وہ سر ہلاتا اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ نائل اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوا

میں اس بار واقعی لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں آئندہ میری بیوی سے اس قسم کی تو کیا کوئی بھی بات مت کرئیے گا! سرد لہجے میں کہتا وہ اس کے پیچھے گیا تھا کے پیچھے فرحانہ محترمہ تیش کھاتی رہے گئیں

وہ اس کے روم میں آیا تو وہ اسے کہیں دیکھائی نہیں دی اس کے بعد اسنے اپنے روم…سٹڈی..اور واشروم میں اسے تلاش کیا مگر اسے وہاں بھی موجود نا پا وہ کچھ سوچتے ہوۓ تیزی سے ٹیرس پر آیا کے سامنے کا منظر اسے اپنی جگہ ساکن کر گیا

وہ ٹریس کی ریلنگ پر ہاتھ کھولے کھڑی کودنے کی تیاری میں تھی

مرنا ہے؟ اس کی بھاری آواز سے ولیہ کا کے حلق میں گٹلی ڈوب کر ابھری

میرے قریب مت آئیے گا ورنہ میں یہاں سے کود جاؤں گی! اسے اپنے قریب بھرتے دیکھ وہ ایک ٹانگ ریلنگ سے ٹکا گئی کے نائل کو لگا کسی نے اسکا دل مٹھی میں جکر لیا ہے

میں نہیں آرہا مگر دور ہو وہاں سے! وہ دو قدم پیچھے ہوتا بولا

مجھ سے دور رہیں ورنہ میں خود کو مار لوں گی!

تمہارا دماغ خراب ہے گر جاؤ گی ادھر آؤ! وہ اسے اپنی حرکتوں سے ہمیشہ کی حیران کردیا کرتی تھی مگر آج تو وہ صیح معنیوں میں اس کی جان نکال رہی تھی

ولیہ میں بہت برا پیش آؤں گا! اسنے ایک قدم آگے بڑھایا جب وہ خود کو مزید ریلنگ پر جھکا گئی ایک لمحہ لگا تھا نائل کو اپنگ جنونی کھول میں آنے میں

دیکھو نیچھے موم بھی ہریشان ہورہی ہیں.. نائل اسکا دھیان بھٹکانے کو بولا جس پر وہ چونک کر نیچھے دیکھنے لگی کے اگلے ہی لمحے وہ لمبے کمبے ڈھگ بھرے اسے بازو سے جکر کر اپنے مقابل کر گیا کے اچانک سے اس کی حرکت پر وہ دل تھام گئی

مرنا ہے تمہیں ہاں؟ اب کے وہ اتنی زور سے ڈھارا تھا کے ولیہ کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی

چھوڑیں مجھے ہاں مرنا ہے مجھے نہیں چاہیے آپ کی ہمدردی….ٹھیک ہی تو کہتی ہیں پھوپھو آپ کی ہمت ہے بلکہ آپ کو تو گھن آتی ہوگی نا مجھ سے کے جس بیوی کے سر سے ڈوپٹا اترنا برداشت نہیں تھا آپ کو اسے کسی غیر مرد نے چھوا ہے…….وہ آج اپنے دل کی ساری بھراس نکالتی اس کے دل کو چھنی کر رہی تھی

آپ کو تو میرے روم تک میں نا آنے سے فرق نہیں پڑا گھن آتی ہوگ…… اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی نائل ایک جھٹکے سے اسے کمر سے جکر اس پر جھکنے لگا کے وہ فوری خوفذدہ سی اس سے دو قدم پیچھے ہوتی دیوار سے لگ گئی

اس کی حرکت پر وہ چند لمحے بغور اسے دیکھتا ایک بار پھر اس کی کمر جکرے اپنے قریب کر گیا

چھوڑیں مجھے نہیں رہنا….باقی کے الفاظ وہ اس کے لبوں پر جھکتا اپنا پہلا حق وصول کیے اس کے مزاحمت کرتے ہاتھوں کو نرمی سے اپنی گرفت میں لیے ختم کر گیا

کافی لمحوں بعد اسے آزادی بخشتا وہ دور ہوا کے اس اچانک اتفاد پر وہ سرخ سی لمبے لمبے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی سعی کرنے لگی

میرے جیسے ہٹلر کے ساتھ رہے کر کھڑوس بنو نا بنو مگر تم جیسی پاگل کے بغیر میں ضرور پاگل ہو جاؤں گا! اظہارے محبت تھا یا کیا مگر وہ اپنی محبت کے رنگ آنکھوں میں اتراتا گھمبیر لہجے میں سرگوشی نما انداز میں کہتا جا چکا تھا

بے شرم انسان…کافی لمحے اپنی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو سنبھال کر اسنے گھور کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں سے وہ کچھ دیر پہلے ہی گیا تھا