Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 37
Rate this Novel
Nabz-al-Qalb Episode 37
Nabz-al-Qalb by Syeda Shah
آنسو پونچھ کر وہ بامشکل اٹھ کر چاۓ بنانے لگی
بہت جلد تمہیں اپنے ہر لمس سے ترسا دوں گا…! اس کے الفاظ اب اس کا پیچھا چھوڑتے ہی کہاں تھے انہی سوچوں میں گھوم وہ کسی کی تیز دھاڑ سے ہوش میں لوٹی
ولی دھیان کہاں ہے تمہارا! وہ ہونک سی زارون کو دیکھ رہی تھی جو اسکا ہاتھ پکڑے غرایا اس کی نظر اب اپنے ہاتھ پر گئی جو پوری طرح سے سرخ پڑا ہوا تھا
“سمجھائیں اسے موم ہر بار میں سنبھالنے کے لیے نہیں ہونگا”
کہاں کھو گئی ولی؟ اسے ہنوز بے حسی سے کسی خیال میں گھوم دیکھ کر وہ پریشانی سے اسکا بازو جھنجھوڑتے ہوۓ بولا جس سے وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی
ہاں….وہ بس پتا ہی نہیں لگا! اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالتی وہ تکلیف دہ آثار چہرے پر سجاۓ بولی
تمہارا ہاتھ جل رہا ہے تمہیں پتا ہی نہیں لگا؟ اس کے کہنے پر وہ سر جھٹک گئی
بھائی کی یاد آرہی ہے؟ ایک اور سوال آیا تھا جبکہ زارون کی اس بات پر اسکے تاثرات یکدم تبدیل ہوۓ
تمہیں کوئی کام تھا؟ وہ لب بھینجے سپاٹ انداز میں بولی
نہیں لیکن تمہارا ہاتھ…
میں دیکھ لوں گی! کاٹدار لہجے میں کہتی وہ تیزی سے کچن سے باہر نکل.گئی
اسے کیا ہوا؟ زارون اس کے ری ایکشن پر حیرانی سے خود سے پوچھنے لگا
کچھ نہیں بس نائل بھائی کے زکر پر ایسی ہی ہو جاتی ہے ان سے اپ سیٹ ہے آج کل…وفا کی آواز پر اسنے ابرو اچکائی
اور تم یہاں کھڑے ہوکر مجھ پر نظر رکھے ہوۓ تھی ہیں نا؟ وہ ابرو اچکاۓ لڑاکا عورتوں کی طرح بولا جس پر وفا گھبرانے کے بجاۓ گردن اکڑا کر بولی
ہاں تو ہونے والے شوہر ہو میرے ابھی سے نظر رکھوں گی تو آگے مسئلہ نہیں ہوگا نا! اس کی اس ادا پر وہ دل ہار بیٹھا
اچھا جی؟ تو بلکل بے فکر ہو جائیں یہ دل اب آپ کے لیے ہی خالی کیا ہے آئیے اور کونے کو اپنی مرضی سے سجائیے! وہ گھمبیر لہجے میں بولا کے اس کی بات پر وفا گلابی سے ہوتی اسے چٹ رسید کر گئی
ہٹو تمہارے چکر میں چاۓ ابل گئی ساری….! وہ چولہے پر گرتی چاۓ دیکھ کر فوری سے اس جانب آئی
ابل تو ہمارے جزبات بھی رہے ہیں لیکن یہاں پر آپ کی نظر پڑتی ہی کہاں ہے….شرارت سے کہتا وہ اسے مزید سرخ کر گیا تبھی سائمہ بیگم کی آواز سے وہ دونوں چونکے
زارون….. منع کیا تھا نا کچھ دن تک وفا سے نہیں ملنا آج وفا مایو بیٹھے گی اگر تم اس کے سامنے آۓ تو خیر نہیں!
سوری چچی….! سائمہ بیگم ان کے پاس آۓ انہیں ایک چٹ رسید کیے بولیں کے ان کے آتے ہی وہ باہر کی طرف دور لگا گیا
سوری آنٹی! وفا خجل سی ہوئی
ارے تم کیوں شرمندہ ہو رہی ہو میں جانتی ہوں اچھے سے ایک یہ اور میری ولیہ دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے پٹے ہیں….“ سائمہ بیگم کہتی اس کے ساتھ ساتھ کام کروانے لگیں
*********************
روم میں آتے ہی وہ دروازے کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی تھی اس کی سامنے لگی تصویر دیکھ کر دل میں مزید ٹیسیں اٹھیں
آئی ہیٹ یو…آئی ہیٹ یو! اس کی تصویر سے کہتی وہ اپنے بال مھٹیوں میں جکڑ گئی ایک بے سکونی سی تھی اس کے اندر شاید اسے تین مہینے سے نا دیکھنے کی یا شاید اس کی آواز نا سننے کی شوہر خدا کی کتنی بڑی نعمت ہوتا ہے اس کا اندازہ اسے گزدشتہ تین ماہ میں اچھے سے ہو گیا تھا جب اس سے پھوپھو کتنی تلخی سے بات کرتی تھی یا جب وہ اپنے یونی جاتی تھی ہر بار یونیورسٹی کے باہر کھڑے ہوکر اسے اپنا وہ محافظ یاد آتا تھا جسے اللہ نے اس کے لیے محافظ بنا کر بھیجا تھا مگر اب وہ نجانے تین مہینے سے کہاں تھا کسی سے اسکا کوئی رابطہ نہیں تھا سواۓ فرحان صاحب کے……
کچھ دیر ایسے ہی بیٹھنے کے بعد وہ اٹھ کر واشروم کی طرف بڑھی اگلے پانچ منٹ بعد وہ وضو کیے باہر آتی جاۓ نماز بیچھا گئی
یا اللہ آپ نے مجھے کس آزمائش میں کھڑا کر دیا ہے میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا! اپنے رب سے باتیں کرکے وہ سجدے میں جاتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی اس ہے اپنے اندر ایک جنگ چل رہی تھی جس کا نتیجہ فلحال اس کے حق میں نہیں تھا
وہ آج دو ہفتے بعد اس فلیٹ میں قدم رکھ رہا تھا دل اس کے غصے کا سوچتے ہی تیز تیز دھڑکنے لگا تھا اپنی پیشانی پر آیا پسینہ صاف کرکے وہ بے ہمت جمع کیے اندر داخل ہوا جہاں اس کا سامنا چھوٹے سے ویران ٹی لاونج سے ہوا
یہ فلیٹ دو کمروں پر مشتمل تھا فلیٹ سے اندر آؤ تو سامنا ایک چھوٹے سے ٹو وی لاونج سے ہوتا تھا جس کے سیدھی جانب اوپن کچن تھا اور بائیں جانب دو کمرے تھے فلیٹ چھوٹا ہونے کے باواجود خوبصورتی سے دیکوریٹ کیا گیا تھا گھر کے ایک ایک کونے کی صفائی اس کے مالک کی نفاست پسند طبیت کی گواہی تھی
پہلی بار آرہے ہو جو اس طرح دیکھ رہے ہو؟ اس کی بھاری آواز وہ تھوک نگل گیا
اسلا و علیکم سر!
وعلیکم السلام دو دن کا کہ کر گئے تھے تم اور مجھے نہیں لگتا اتنےسال ساتھ رہنے کے باواجود تمہیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ میں وقت کا پابند ہوں! وہ شاید کچن میں تھا مگر اس میں نظر اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی
آئی ایم سوری سر…..
سوری کے وعلاوہ بھی کچھ لاۓ ہو یا میرا انتظار رائیگا گیا؟ اب کے وہ اس کے سامنے برجمان ہوا تھا کالے رنگ کا بلیک ٹریک سوٹ پہنے شاید وہ ابھی جم کرکے آیا تھا جس کی گواہی اس کی خوشادہ پیشانی پر چمکتے پیسنے کی چند بوندیں تھیں اس کے بال اب قدرے بڑھ کر کانوں سے نیچھے تک آگئے تھے ساتھ کے ساتھ بیئرد بھی کچھ بڑھی ہو گئی تھی سرمئی آنکھوں میں سختی اور چند سوال لیے وہ اب پوری طرح اس کی جانب متواجہ تھا
جی سر بہت اہم انفارمشین لایا ہوں….اسد کچھ پرسکون ہوا تھا اس کے سوال پر
آئی ہوپ یہ انفارمیشن اہم ہی ہو! اس کے اعتماد پر نائل ابرو اچکاۓ صوفے پر بیٹھتا اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کر گیا
ہمم بولو کیا کنڈیشن ہے پاکستان کی؟
سر فرحان سر نے کافی حد تک معاملات ہینڈل کر لیے ہیں ورنہ سنیر اتھوڑٹی آپ کے کسی عام لڑکی کو اپنے پلان میں شامل کرنے کی وجہ سے سخت خفا تھی فرحان سر کی اور آپ کے خود کے پیچھلء ریکورڈ کی وجہ سے آپ کو جسٹ دو مہینے کے لیے سسپینڈ کیا گیا ہے! اسد ایک بار پھر اسے حالات سے آگاہ کرنے لگا اس کے اپنے پلان میں کسی عام لڑکی کو شامل کرنے پر اس پر کیس کیا گیا تھا جس کے باعث وہ فرحان صاحب کے آدڈر پر تین مہینے سے امریکہ میں موجود اپنے فلیٹ میں نظر بند تھا
یہ سب تم مجھے دس بار بتا چکے ہو اس کے وعلاوہ کچھ؟
یس سر اور اس کے علاوہ یہ کہ آپ کا شک درست تھا بھابھی آئی مین آپ کی مسزز والا حدثے میں ہاتھ ایس آۓ کا تھا آپ کے کہنے کے مطابق میں نے اس پر کافی ری سرچ کی اور اس نیتجے پر پہنچا ہوں کہ وہ شخص پاکستان میں اپنی اصل پہنچان سے رہے رہا ہے باقی آپ ایک بار یہ ویڈیو دیکھ لیں اس میں ایک شورٹ ریکوڈ ہوا ہے شاید آپ اس کے بارے میں جانتے ہوں….اسد لیپ ٹوپ میں وہ فلیش لگاۓ تیز تیز انگلیاں چلاتا اگلے پانچ منٹ میں لیپ ٹوپ کا رخ اس کی جانب کر گیا کے سامنے سکڑین پر موجود شخص کو دیکھتے ہی نائل کے ہاتھ سے پانی کی بوتل زمین بوس ہوئی
واٹ؟ واپس لگاؤ اس کے تاثرات دیکھ کر اسد نے ویڈیو کو ریوائن کیا تھا یہ ویڈیو ولیہ کے کنڈیپ والے دن کی تھی جب کوئی اسے میر شہزاد کی گاڑی سے نکال کر لے گیا تھا
زوم کرو….اگلا آدڈر ملا
یہ واچ…..اس کے فیس پر زوم کرو! وہ خود کی نفی کرتا بار بار ہاتھ اپنے بالوں میں پھیڑ رہا تھا ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کا چہرہ کالے کپڑے سے دھکا ہوا تھا مگر یہ آنکھیں وہ پہچان سکتا تھا
اس کے وعلاوہ کیا لاۓ ہو….ایک آخری بار خود کو یقین دلانا چاہ کے وہ غلط نہیں ہے
سر یہ کچھ ڈیٹیلز ہیں سی آۓ کی میری سرچ کے مطابق یہ ویڈیو میں موجود شخص ہی ایس کے ہے! اسد نے ایک فائل اس کے سامنے کی جو وہ بے چینی سے اٹھا کر پڑھنے لگا اور جیسے جیسے نائل پڑھتا جا رہا تھا اسکے تاثرات تبدیل ہوتے گئے دانت اب سختی سے بھینجے ہوۓ تھے چہرے کا رنگ سفید سے سرخ ہو چکا تھا سرمئی آنکھیں اب سرخ انگارہ بن چکی تھیں
سر ایک اور بھی انفارمیشن ہے…. اس کے تاثرات سے پریشان ہوتا وہ خوفذدہ سا بولا
آپ کے ساتھ کیس میں جو لڑکی انولوو تھی کیا نام تھا اس کا ہاں حنا….
اس کا قتل بھی اسنے کیا ہے! اسد کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ بھاری آواز میں بولا کے اسد نے چونک کر اسے دیکھا
یس سر آپ جانتے ہیں اسے؟
اب جان گیا ہوں!
سر آپ ٹھیک ہے نا؟ اسد اس کے تاثرات دیکھ کر پریشانی سے بولا
ہممم….! جب کے وہ اگلے ہی لمحے خود کو نارمل کرے آنکھیں بند کرتا سگریٹ لبوں سے لگا گیا ماضی کے چند لمحے اس کے سامنے سے گزرے تھے
میں ولیہ کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں آپ حکم تو کریں! وہ دونوں اس وقت یونیورسٹی کے کیفے ٹریا میں موجود تھے
.
دیکھ لو حنا یہ بہت خطرناک کام ہے! نائل نے اسے آگاہ کرنا چاہ
تو میں بھی خطروں کی کھیلاڑی ہوں ہلکے میں مت لیں… وہ آنکھ دباۓ بولی
ہمم گڈ…!
اچھا بتائیں کرنا کیا ہے؟ یہ کوئی تیسری بار تھا جو وہ یہی سوال دھرا رہی تھی
کچھ خاص نہیں بس تمہیں کچھ وقت ہمارے گھر میں آنا جانا ہوگا اور زیادہ سے زیادہ انفارمشین لینی ہوگی مجھے یقین ہے یہ کام ہمارے گھر میں سے کسی کا ہے شاید کسی ملازم کا ہی لیکن یہ سب پتا لگانے کے لیے مجھے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جس پر لوگ اعتماد بھی کریں اور اس کے ہونے سے ڈریں بھی نا بس تمہیں ہر چیز آرام ایسے کرنی ہے جس سے کسی کو خبر نا ہو! نائل نے سرد آہ بھرے اسے ایک بار پھر سمجھایا
اور بدلے میں آپ سی بی آئی میں میری شفارش کریں گے؟ وہ چہک کر بولی جس پر نائل نے سر کو خم دیا
اوکے پھر ڈن ہے لیکن اگر یہ سب گھر کے بندے نے کیا ہو تو؟
تو وہ میری بیوی پر گندی نظر ڈالنے کا انجام بھگتے گا! نائل سرخ ہوتی آنکھوں سے غرایا
اور وشمہ؟ وہ جو ہر وقت آپ کے لیے ولی کے دل میں زہر گھولتی رہتی ہے؟ اسنے اگلا سوال کیا
وہ بھی سزہ کی حقدار ہے لیکن اس سے زیادہ تمہاری دوست سزہ کی حقدار ہے جس کا یقین اتنا کچا ہے کہ ہر کسی کی باتوں میں آجاتی ہے!
کوئی بات نہیں نائل بھائی آستہ آستہ سمجھ جائے گی!
ہوپ سو….چلو پھر ملتے ہیں! نائل اسکے سر پر ہاتھ رکھے اٹھ کھڑا ہوا
سر؟ اسد کی آواز پر وہ ایک جھٹکے سے ماضی سے نکلا تھا
ہمم
سر آپ کی کافی! اسد کافی کے دو کپ اس کے سامنے ہی ٹیبل پر رکھ کر بتانے لگا
تم نے خود بنا لی؟ وہ حیران ہوا
جی سر ظاہر ہے آپ کو تو مہمان نوازی کا پتا ہی نہیں ہے لیکن مجھے یہ سب آتا ہے! اب کے وہ شریر لہجے میں بولا جس پر نائل مسکرا کر سر جھٹک گیا
میری پاکستان کی بوکنگ کرواؤ..!
بٹ سر فرحان سر؟
تین ماہ ہو گئے ہیں ان کی مانتے مانتے اب انہیں میں خود دیکھ لوں گا!
اوکے سر!
*******************
شام ہوتے ہی کاظمی ویلا میں رونقیں شروع ہو گئیں تھیں ایک بار پھر سے وفا اور زارون کے لیے ویلا کو سجایا گیا تھا رباب بیگم اور خالہ نے بہت سے صدقے اتارے تھے آج وفا کے مایو کا فنشن تھا جو کہ داداسائیں کے کہنے پر مہندی سے تین دن پہلے رکھا گیا تھا
بہت پیاری لگ رپی ہو ماشاءاللہ! ولیہ اسے دیکھتے ہوۓ کہنے لگی جو پیلے رنگ کا جوڑا زیب تن کیے سر پر پیلے ڈوپٹا اوڑھے میک اپ سے پاک چہرے میں بھی بے حد پیاری لگ رہی تھی
اور تم تیار نہیں ہوئی؟ وفا نے منہ پھلا کر اسے دیکھا
بس جا رہی ہوں کپڑے ہی تو بدلنے ہیں!
جی نہیں تم اچھے سے تیار ہونگی ویسے بھی مایو میں لڑکے آلاوڈ نہیں ہیں اب جاؤ اور اچھے سے ریڈی ہوکر آؤ تمہاری دیورانی بننے والی ہوں میں! وفا اسے چھیڑتے ہوۓ بولی جس پر وہ مسکرا کر سر کو خم دیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
چند مہینے پہلے یہ گھر تمہارے لیے سجا تھا حنا…. کاش کے میں اس دن تمہارے ساتھ ہوتی! کرب سے کہتی وہ مرے مرے سے انداز میں تیار ہونے لگی تھی لیکن کس کے لیے؟ یہ احساس اسے آج ہوا تھا وہ تو اس کے لیے تیار ہوتی تھی مگر وہ کہاں تھا؟
کچھ دیر بعد وہ سبز سوٹ پہنے ساتھ ہم رنگ ہی ڈوپٹا لیے لمبے گھنے بالوں کو پھولوں والی چٹیٹاں میں قید کیے لائٹ سے میک اپ پر لائٹ پنک ہی لپ اسٹک لگاۓ کانوں میں بڑے بڑے ائیر رنگز اور ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی
بے دلی سے اپنا عکس شیشے میں دیکھا تھا جب نظر اپنے پیچھے نظر آنے والے عکس پر گئی
قتل کر دینے کے ارادے ہیں کیا؟ وہ اس کے عین پیچھے کھڑا گہری نظریں اس کے وجود پر جماۓ بولا
آآپپپ؟ وہ حیرتذدہ سی اسے شیشے میں دیکھتی پلٹی تھی تو سامنا خالی کمرے سے ہوا وہ کہیں نہیں تھا تو کیا یہ بھی محض ایک خیال تھا؟ اسی طرح نجانے وہ کتنی بار اس کے سامنے آیا تھا مگر آنکھ جھپکتے ہی اس کا وجود نظروں سے اوجھل ہو جاتا
آئی ہیٹ یو….!آنسو ایک بار پھر گال بھگونا شروع ہوۓ تھے جب اسکا دروازہ نوک ہوا
ولی؟ زارون کی آواز پر وہ سر پر ڈوپٹا رکھے باہر آئی
یار ملاقات کا کوئی سین کروا دو…وہ ادرگرد دیکھتا اس سے قدرے رازدانہ انداز میں بولا
ہرگز نہیں! ولیہ نے ہری جھنڈی دیکھائی
یار بہن نہیں ہے میری….وہاں وہ رامشہ کی بچی اس کے سر پر سوار ہے پلزز ملوا دو نا میری دلہن ہے یار وہ! وہ روہانسہ ہوتا بولا
وہ مایو کی دلہن ہے تم نے اگر اسے دیکھا تو روپ نہیں آۓ گا وہ روۓ گی اب تم دیکھ لو تم اسے رولانا چاہتے ہو یا نہیں!
بلیک میلنگ پر پہلے اتر جایا کرو تم لوگ! اسنے ہتھیار ڈالے تھے جس پر ولیہ کھلکھلا کر ہنسی تھی
کچھ ہی دیر میں مہمان آنا شروع ہو گئے تھے یہ فنشن صرف گھر کی خواتین کے لیے رکھا تھا اپٹن کی رسم ہو گئی تھی جس کے بعد ایک ایک کرکے گاؤں کی سب خواتین اپنے اپنے گھر لوٹ گئی تھیں
رات کا کھانا سب گھر والوں نے ساتھ ہی کھایا تھا
ولیہ بیٹا یہ رہنے دو ملازمہ اٹھا لے گی تم تھک گئی ہونگی نا رباب بیگم محبت پاش انداز میں بولیں
نہیں تائی ماں میں کر لیتی ہوں! وہ برتن سمیٹتی کہنے لگی
جب موم کہ رہی ہیں تو کیوں کر رہی ہو! اس کی بھاری آواز سے اسکا برتن اٹھاتے ہاتھ کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن تھم گئی
نائل….رباب بیگم تیزی سے اس کی طرف بڑھی تھیں جب کے وہ اپنی جگہ سے ہل تک نہیں پائی
اسلام و علیکم بیگم! سب سے باری باری ملنے کے بعد وہ اس سے سلام کرتا ہاتھ بڑھا گیا جسے وہ بے یقینی سے دیکھ رہی تھی عیاں وہ سچ میں کسی جن کی طرح نازل ہو گی تھا یا یہ سب اسکا خیال تھا
ولیہ بیٹا ملو! سائمہ بیگم نے اسے ہوش مین لانا چاہ جس پر وہ خجل سی ہوتی اسکا بڑھایا ہوا ہاتھ تھام گئی
پوچھ سکتا ہوں آپ اتنے عرصے کہاں تھے؟ دادا سائیں کے رعبدار لہجے میں کہنے سے وہ پلٹا
کام سے گیا تھا دادا سائیں!
اور میں پوچھ سکتا ہوں تم کس کی اجازت سے یہاں آئی ہو؟ فرحان صاحب اسے قدرے سائد پر کیے غراۓ
بات ہی اس طرح کی تھی رکا نہیں گیا….اسکے تاثرات یکدم تبدیل ہوۓ تھے
زارون کہاں ہے ڈیڈ؟ اس کی آواز میں یکدم سختی آئی تھی
وہ ابھی اوپر گیا ہے!
اور سبحان؟
وہ بھی اپنے روم میں ہوگا
ابھی کے ابھی بلائیے سب کو! وہ خطرناک تاثرات اپنے چہرے پر سجاۓ غرایا کے اس کی عراہٹ سے ولیہ سہم کر دو قدم پیچھے ہوئی
بتاؤ گے کیا ہوا ہے نائل! دادا سائیں اس کا غصہ دیکھ کر دل تھام کر بولے
بتاتا ہوں پہلے آپ سب اکٹھے ہوں!
گئی ہے ملازمہ تم اپنے غصے پر کنٹرول کرو….ارسلان صاحب نے اسے گھورا
کنٹرول کروں؟ یہ کہتے ہی اس کی نظر سبحان اور زارون پر گئی جو اب سیڑھیاں اتار رہے تھے
ہاۓ ب…
کمینے انسان…..باقی کے الفاظ منہ ہی رہے گئے جب نائل کسی شیر کی طرح ڈھارتا سیڑھیوں کے قریب جاتا سبحان کو کالڑ سے تھامے ایک کے بعد اسے ایک تھپڑ رسید کرنے لگا
بھائی کیا کر رہے ہیں… باقی سب کی طرح زارون حیرت سے اس کی طرف بڑھا
میں تجھے چھوڑوں گا نہیں کمینے! وہ لاپروا بنا سبحان کو گرا چکا تھا کے دوسری طرف وہ معامکہ سمجھتے ہوۓ اب جوابی وار بھی کر رہا تھا
نائل چھوڑو اسے پیچھے ہٹو….نائل! فرحان صاحب نے بامشکل اسے علیحدہ کیا تھا
مت روکیے مجھے چاچو…جانتے ہیں کون ہے یہ؟ سبحان خان عرف ایس آۓ میری بیوی اور آپ کی بیٹی کا مجرم اسنے کنڈنیپ کیا تھا ولیہ کو…..وہ گہرے گہرے سانس لیے ڈھارا کے اس کے لفظوں پر سب نے حیرت سے سبحان کو دیکھا جو پرسکون سا اپنی ناک سے نکلتا خون صاف کر رہا تھا
تمہارا مجرم ہے یہ! اب کے نائل ولیہ کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتا اس کے سامنے لایا تھا جو ٹھنڈی پڑ چکی تھی
سب کچھ جانتی ہے تمہاری بیوی….!اسبحان کے جمعلے نے گویا اس سمیت پورے گھر والوں پر بم پھوڑا تھا کے وہ بے یقینی سے ولیہ کی طرف مڑا جو نظریں جھکا گئی
