Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 32 and 33

389.2K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nabz-al-Qalb Episode 32 and 33

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah

آپ ٹھیک ہے نا؟ سبحان اس کی خاموشی محسوس کیے بولا

جی کیوں؟ وہ حیران ہوئی اسکے سوال پر

ویسے ہی آج زبان نہیں چل رہی نا! اس کے کہنے پر حنا کا منہ کھولا کا کھولا رہے گیا

آپ کو کیا ہے میری زبان چلے نا چلے؟ وہ منہ پھلاۓ کہتی سبحان کو کوئی بچی لگی

ویسے ہی میں نے کبھی آپ جیسی مخلوق دیکھی نہیں نا!

اور میں بھی آپ جیسا عجوبہ نہیں دیکھا….!

گڈ….ویسے کب ہو رہی ہے آپ کی شادی؟ اس کے اس سوال پر حنا نے بے ساختہ اسے دیکھا دل پر گھونسا سا لگا تھا

بس یہی اتار دیں! اس کی بات بدلنا سبحان نے نوٹ کیا

لیکن ابھی تو کافی راستہ ہے….

میں نے کہا مجھے یہی اتار دیں! وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولی جس پر سبحان گاڑی روک گیا شاید اسکا یوں شادی کی بات کرنا اسے برا لگا تھا اس کے اترتے ہی وہ بے ساختہ سر پر ہاتھ مار گیا

آہ سبحان آہ…..مگر مجھے کیا میری بلا سے لگتا رہے اسے برا!

***************************

وہ بھاری بھاری قدموں سے کمرے میں آئی تھی نائل ہنوز اسے صوفے پر بیٹھا نظر آیا وہ اسے نظرانداز کرتی وہ بیڈ کی طرف بڑھی

(ولیہ پلزز مجھے غلط مت سمجھنا میں اپنی دوستی کی خاطر تمہیں حقیقت دیکھانا چاہتی تھی)

(تمہارے بتانے کا شکریہ لیکن مجھے تمہاری یا زارون کی کسی بات پر یقین نہیں ہے تم دونوں سے زیادہ بھروسہ مجھے نائل پر ہے!) وہ اس سے یہ الفاظ کہ تو آئی تھی مگر دل بار بار اس کی باتوں کی طرف جا رہا تھا

کافی نہیں لائی تم؟ وہ سے بیڈ پر لیٹتے دیکھ کر بولا

میری طبیت ٹھیک نہیں ہے! مری مری سی آواز میں کہتی وہ بازو اپنی آنکھوں پر رکھ گئی کے اس کے کہتے ہی نائل لیپ ٹوپ ٹیبل پر رکھے اس کے پاس آیا

کیا ہوا اچانک سے طبیت کو؟ وہ فکرمندی سے اسکا بازو آنکھوں سے پٹاتا اس کے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھے بخار چیک کرنے لگا

کچھ نہیں آپ جائیں یہاں سے سر درد ہے سونے سے ٹھیک ہو جاۓ گا! وہ تلخی سے بولی ناچاہتے ہوۓ بھی وہ اس سے لہجہ نارمل نہیں رکھ پا رہی تھی شاید فطری عمل ہے عورت مرد پر یقین تو رکھتی ہے مگر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے بھی ڈرتی ہے جبکہ اس کی نسبت ایک مرد کا یقین عورت سے کہیں زیادہ بختہ ہوتا ہے

تو کھانا نہیں کھایا ہوگا نا تم نے میں کھانا لے کر آتا ہوں! وہ اٹھنے لگا جب ولیہ نے اسے روکا

میں نے کھا لیا تھا خدا کا واسطہ ہے جائیں یہاں سے… اس کا یہ انداز نائل کو فلحال اس کی طبیت کی وجہ سے لگا

اچھا ریلیکس ہو جاؤ میڈیسن کھا لو! وہ سائد ٹیبل سے میڈیسن نکالے گلاس میں پانی انڈیلے اس کی طرف بڑھا گیا جسے وہ بری طرح جھٹک گئی

کیا ہو گیا ہے اس طرح بیہیوو کیوں کر رہی ہو کوئی پریشانی ہے؟ نائل نے گلاس واپس رکھ کر کہا

آپ اپنا کام کریں نا مجھے سونا ہے!

ٹھیک ہے سو جاؤ میں کچھ نہیں کہ رہا…وہ محبت پاش لہجے میں کہتا نرمی سے اسکا سر دبانے لگا جس پر وہ ایک بار اس کا ہاتھ جھٹک گئی

شششش….ضد نہیں کرتے! اسنے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے جب وہ اسکے لبوں پر ہاتھ رکھے اسکا سر دبانے لگا اب کے وہ چاہ کر بھی اسکا ہاتھ ہٹا نہیں پائی اس کے لمس پر اسے سکون مل رہا تھا

نائل! کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اسنے اسے پکارا

ہممم! وہ ایک ہاتھ سے لیپ ٹوپ چلا رہا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ اس کے سر پر تھا

آپ کیا کام کرتے ہیں؟ اس کے پوچھنے پر یکدم نائل کے ہاتھ تھمے

بتایا تو تھا میں ایک ایڈورٹائزمنٹ کمپنی کا پلان کر رہا ہوں! وہ کچھ دیر بعد گلہ کھنکھار کر بولا کے اس کے کہنے پر وہ افسوس سے اسکا ہاتھ ہٹا گئی

بس…اب درد نہیں ہے! اس کا ہٹا کر وہ آنکھیں موند گئی

گڈ نائٹ! نائل اس کی پیشانی چومتا اس کے آرام کی خاطر اسٹڈی میں گھس گیا کے اس کے جاتے ہی وہ پٹ سے آنکھیں کھول گئی

”وشمہ کے بارے میں مجھ سے سوال مت کیا کرو اس کا سین الگ ہے….“ اس کے کہے گئے الفاظ ذہن میں گونجے تھے اس کے بعد اس کا یہ جھوٹ ایک کے بعد ایک چیز اسے نائل کہ طرف سے بدگمان کررہی تھی آنسوؤں کو جیسے نکلنے کا بہانا مل گیا تھا نجانے کتنے ہی دیر وہ ایسے ہی خاموش آنسو بہاتی رہی رات کے تین بجے اسٹڈی کا دروازہ کھلا وہ فوری سے آنکھیں بند کر گئی

کچھ لمحے ہی گزرے تھے جب اسے اپنے گرد اسکا حصار بنتا محسوس ہوا وہ ہنوز اسی طرح آنکھیں موندی رہی

نائل نے جھک کر اس کی پیشانی پر لب رکھے اسے اپنے حصار میں لیتا وہ پھر سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا

کاش کے آپ کی یہ محبت صرف میرے لیے ہوتی نائل! وہ بند آنکھوں سے اس کے لمس پر ناچاہتے ہوۓ بھی پرسکون ہوتی دل ہی دل میں بولی

***********************

اس کی آنکھ کھولی تو وہ اسے روم میں دیکھائی نہیں دیا رات کو نجانے کب اسے نیند نے اپنی آغوش میں لیا تھا اسے اندازہ نہیں ہوا آخری منظر جو یاد وہ اسکے حصار میں تھی

مرے مرے قدموں سے وہ واشروم کی طرف بڑھ کچھ دیر بعد وہ فریش سی گلابی اور سفید میں باہر آئی شیشے کے سامنے آتے ہی اس کی نظر شیشے پر لگے ایک.اسٹکی نوٹ پر گئی وہ حیرانی سے اسے اٹھا کر دیکھمے لگی جس پر لکھا تھا:

گڈ مورننگ وائفی…آئی ہوپ تمہارا سر درد اب ٹھیک ہوگا اچھے سے ناشتہ کرنا اور پھر پڑھنے دیکھ جانا میں اپنی نکمی بیوی کو فیل ہوتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتا! آخری بات اسنے شاید اسے چڑانے کو کی تھی جسے پڑھ کر وہ بے ساختہ مسکرا دی

تم سے شادی سے پہلے نائل نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی…… ساری خوشی جیسے وشمہ کا ایک جمعلہ یاد آکر اپنے ساتھ اڑا لے گیا

یا اللہ یہ سب جھوٹ ہو…..وشمہ تو وشمہ لیکن سی بی آئی نہیں نائل مجھ سےاتنی بڑی بات نہیں چھپائیں گے….

اور اگر اس نے چھپائی ہو تو؟ اندر کہیں سے آواز آئی

تو میں سمجھ جاؤں گی انہوں نے مجھے کبھی دل سے اسپیکٹ کیا ہی نہیں! یہ سوچتے ہی دو موتی ٹوٹ کر گال پر بکھرے تھے دل نے شدت سے دعا کی تھی یہ سب جھوٹ ہو

کافی لمحے وہ ایسے ہی شیشے کے سامنے کھڑی رہی پھر بال ڈھیلے سے جوڑے میں بناتی نیچھے آئی جہاں وفا اور وشمہ مل کر ناشتہ لگا رہی تھیں

تم ٹھیک ہو نا؟ وشمہ اس کے بے رونق چہرے پر دل ہی دل میں خوش ہوتی بظاہر ہمدردی سے بولی

میں بلکل ٹھیک ہوں کیوں تمہیں کیا لگا مجھے ٹھیک نہیں ہونا چاہیے؟ ولیہ نے اس پر ایک تیز نظر ڈال کر کہا

تم مجھ سے خفا ہو ولی؟ جبکہ میں نے تو یہ سب تمہاری بھلائی….! وہ دونوں اس وقت قدرے سرگوشی نما انداز میں بات کر رہے تھے کے ولیہ نے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ کر کہا

بھلائی؟ تم ایسے بھلائی کہتی ہو؟ کیا میں نہیں جانتی تم بچپن سے نائل کے لیے پسندیدگی رکھتی ہو اور نائل نے تمہیں کوئی رونگ سگنل نہیں دیا مجھے میرے شوہر پر پورا اعتماد ہے اور اگر آئندہ تم نے کبھی مجھ سے اس طرح کی کوئی بکواس کی تھی تو نائل تو کیا میں خود کافی ہوں تمہارے لیے……! وہ ایک ایک لفظ چبا کر کہتی اسے ششدر چھوڑے اپنی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی

میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں ولیہ….! وشمہ تزلیل سے سرخ پڑتا چہرہ لیے خود سے بولی

زارون آج ناشتے کی ٹیبل پر نہیں آیا تھا دادا سائیں نے پوچھا تو رباب بیگم نے اس کی پڑھائی کا بتایا کے وہ پوری رات پڑھائی کرتا رہا ہے اور اب سویا ہے جب کے ولیہ اس کے دور بھاگنے کو سمجھ رہی تھی

کم ان….! وہ آنکھیں موندے لیٹا تھا جب وہ دروازہ نوک کرتی اندر آئی

ولیہ نے ناشتہ بھیجا ہے تمہارا! وفا کی آواز پر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا سرخ آنکھیں رات بھر جاگنے کی چغلی کر رہی تھیں

ولی نے بھیجا ہے تمہیں؟ زارون حیران ہوا

ہاں رباب آنٹی تو کہ رہی تھیں تم سو رہے ہو بٹ وہ اتنی کونفیڈنٹ تھی کے تم جاگ رہے ہونگے اسئلے اسنے یہ کھانا بھیجا اور ایک بات بھی کہی…..وفا کچھ لمحوں کو رکی

کیا بات؟ اسنے ابرو اچکائی

اس نے کہا اپنے نوٹس میں لکھ لینا انسان کو کبھی ایسے کام نہیں کرنے چاہیے جس سے اسے بعد میں منہ چھپانا پڑے! اس کے الفاظوں نے زارون کو مزید ندامت میں گھیر لیا

تم ٹھیک ہو نا زری؟ اب کے وفا اس کے بیڈ پر کچھ فاصلے پر بیٹھی

ہممم ٹھیک ہوں!

لیکن لگ نہیں رہے!

تو پھر نہیں ہونگا! اسکے انداز پر وفا کو تپ چڑھی

”یو نو واٹ بھار میں جاؤ…“ وہ غصے سے پیر پٹکتی جانے لگی جب وہ اسکا ہاتھ تھام گیا

سنو….اس کے کہنے پر وفا کا دل ڈوب کر ابھرا

بولو سن رہی ہوں! بظاہر وہ ہنوز منہ بسورے بولی

یہ بھاڑ کا ایڈرس تو بتاتی جاؤ……. اس کے کہنے کی دیر کی وفا نے سائد ٹیبل پر رکھا پانی گلاس اس پر انڈیل دیا

اب جہاں جاکر چینج کروگے وہی بھاڑ ہے! وہ پیر پٹکتی چلی گئی جبکہ پیچھے وہ ہونک بنا دیکھتا رہ گیا

آہ وفا کی بچی تم بچوں مجھ سے! وہ چلایا مگر اس کی سن کون رہا تھا

ولیہ سنو؟ سبحان کے پکارنے پر وہ مڑی

ہاں ؟ وہ کندھے اچکاۓ پوچھنی لگی

یار وہ… حنا سے بات ہوئی تمہاری؟

نہیں کیوں تم کیوں پوچھ رہے ہو؟

یار وہ کل ایک دم سے ہی گاڑی سے اتر گئی میں نے تو بس اس سے یہ پوچھا تھا کے شادی کب ہو رہی ہے! وہ اضطراب کی کیفیت میں بولا

تم پاگل ہو سبحان؟ وہ کیا سوچ رہی ہوگی میں نے اس کا راز تمہیں بتا دیا اور تم اس کا مزاق اڑا رہے ہو؟ ولیہ قدرے اونچے لہجے میں غرائی

مجھے کیا پتا وہ برا مان جاۓ گی!

برا نہیں مانے تو کیا کرے؟ کوئی بھی لڑکی ہوتی وہ ایسے ہی ری ایکٹ کرتی تم سے مجھے واقعی یہ امید نہیں تھی….

سوری یار میں بات کر لوں گا اس سے! سبحان معاملے کی سنگینی کو سمجھتا بولا

کرکے دیکھ لو ویسے وہ آج پیپر کی تیاری کر رہی ہوگی شاید کی کال اٹھاۓ! سپاٹ انداز میں کہتی وہ آگے بڑھ گئی کے سبحان پریشانی سے اسے جاتا دیکھنے لگا آج اسکا روایہ کچھ الگ تھا

*************************

وہ اس وقت اپنے روم میں بیٹھی پڑھائی کر رہی تھی ذہن بار بار کل سبحان کے کہے جمعلے کی طرف جا رہا تھا تو کیا اس کی رازدار دوست نے اسکا یہ راز افشاں کر دیا تھا؟

نہیں ولیہ ایسا کچھ جان کر نہیں کرے گی وہ کیوں میری باتیں اپنے کزن سے ڈسکس کرے گی…وہ ابھی انہیں باتوں میں گم تھی جب اسکی کھڑی کسی نے ٹھٹکٹائی

حنا حیرتذدہ سی کھڑی کے پاس گئی جہاں وہ اپنے پورے جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا اسے دیکھتے ہی وہ بے ساختہ نظر گھڑی کی طرف کر گئی جو شام کے چھ بجا رہی تھی

یہ کیا حرکت ہے جائیں یہاں سے میرے ابو آنے والے ہونگے …. وہ کھڑی کھولتے ہی آگ بغولہ ہوئی

ارے ارے یہ تو کوئی مہمان نوازی نہیں ہے بندا لحاظ میں ہی اندر آنے کا پوچھ لیتا ہے! سبحان عام سے انداز میں بولا

کیا مطلب ہے میرا آپ سے کونسا ایسا تعلق ہے جو میں آپ کا لحاظ کروں؟ وہ کمر پر ہاتھ باندھے غرائی جبکہ سبحان ڈھٹائی سے اسکے کمرے میں داخل ہو گیا

مرضی کی بات ہے!

آپ آۓ کیسے ہیں؟ اور کیوں؟ وہ گھبراتے ہوۓ کھڑی سے باہر دیکھنے لگی جہاں سے اسے صرف اپنی اور باقی ساتھ والے گھڑوں کی چھتیں نظر آئی

مجھے آپ کو کلیئر کرنا تھا کے کل جو بھی میں نے آپ سے کہا وہ میں نے مزاق میں نہیں کہا تھا بلکہ مجھے ولیہ نے آپ کے حالات سے آگاہ کیا تھا وہ بہت پریشان تھی آپ کو لے کر!

تو آپ مجھ سے یہ سب کلیئر کرنے یہاں آگئے آپ کا دماغ درست تو ہے سبحان؟ وہ حیران تھی اس سنجیدا دیکھنے والے شخص کی اس حرکت پر

میرا دماغ آپ نے درست رہنے کی کب دیا ہے؟ وہ گھمبیر لہجے میں بولا کے اس کے انداز پر حنا نے حلق تر کیا

آآآپ کو اس طرح میرے گھر نہیں آنا چاہیے تھا میرے لیے بہت مشکل ہو جاۓ گی…..

آئی نو بٹ مجھے کل رات سے بے چینی تھی اور میں کچھ بھی وقت پر چھوڑنے کا قائل نہیں ہوں تو آپ کو کیسے ناراض چھوڑ دیتا؟ اس کا دماغ اب صیح معنیوں میں حنا کو خراب لگا تھا

میں کون ہوتی ہوں آپ سے ناراض ہونے والی میں نہیں ہوں آپ سے ناراض!

تو پھر بتائیں اگر آپ کہتی ہیں تو میں آپ کے ابو سے بات کرتا ہوں جو پیسے انہوں نے جوۓ میں……اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ درشتی سے کاٹ گئی

آپ کس حق سے بات کریں گے میرے لیے؟ اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا حنا کے روم کا دروازہ ڈھار سے کھلا تھا

میں نے کتنی بار کہاں ہے اس کو بند مت…….اس کے والد اندر آتا غصے سے ڈھارا جب اس کی نظر کمرے میں موجود سبحان پر گئی

یہ یہ لڑکا کون ہے؟ اور میرے گھر میں کیا کر رہا ہے بغیرت لڑکی تو یہ سب کرتی پھیڑ رہی ہے پڑھائی کے بہانے؟ وہ غصے سے درخ چہرا لیے چلایا کے اس کی آواز پر حنا کی والدہ بھاگتے ہوۓ اس طرف آئی تھیں اور سامنے کا منظر ان کے لیے بھی نا قابل یقین تھا

حنا؟ وہ صدمے سے بولیں

ممماں یقین کریں جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہے….وہ روتے ہوۓ ان کے پاس آئی کے سبحان یہ سب حیرانگی سے دیکھ رہا تھا یہ سب تو اسنے نہیں چاہ تھا

تجھ جیسی آوارا کو آزادی دے کر ہم نے بہت بڑی غلطی کر دی آج ہی میں تجھے شیخ کے پلے باندھتا ہوں تیاری کرو آج ہی شادی ہوگی…..اور تو ابھی تک یہاں کیا کھڑا ہے چلا جا…..

ننہیں ابو آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ جیسا سمجھ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے….حنا اس کے پاس آئی تھی جب وہ اس پر ہاتھ اٹھا گیا

بکواس بند کر اپنی…زبان چلاتی ہے شرمندگی کے بجاۓ مجھے غلط ٹہرا رہی ہے آج ہی شادی کرکے تجھے پھینک دوں گا یہاں سے! اور یہاں سبحان کی بس ہوئی تھی

رکیے انکل آپ اس کی شادی کہیں نہیں کروا رہے سمجھے؟ وہ آنکھوں میں سرخی لیے حنا کا ہاتھ کھینچتا اسے اپنے ساتھ کھڑا کر گیا

اور تو کون ہوتا ہے یہ سب کہنے والا؟ میں جب چاہے جہاں چاہے اپنی دھی کی شادی کر سکتا ہوں! وہ غراتے ہوۓ حنا کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے ساتھ لے جانے لگے

میں نے کہ دیا نا اس کی شادی آپ کہیں نہیں کروائیں گے اور میں کون ہوتا ہوں یہ تو آپ کو ابھی پتا لگ جاۓ گا جب پولیس نیچھے آکر گھیسٹتے ہوۓ لے کر جاۓ گی! سبحان سرخ آنکھوں سے تیز لہجے میں بولا

ارے چل آیا بڑھا بھلا کونسی پولیس سنے گی تیری؟

ہاشم کاظمی کے خاندان سے ہوں میں ایک لمحے میں تم پر دس کیس ڈال کر لمبا اندر کروا سکتا ہوں! اب کے اس کی بات سنتے ہی وہ شخص لاجواب ہو گیا دادا سائیں کا نام اس علاقے میں ایسا ہی تھا

کککیا؟ بیڑا غرق ہو جاۓ حنا تیرا تو نے منہ مارا بھی تو کہاں؟ دادا سائیں کی حویلی میں؟ یہ لوگ صرف ہم جیسے لوگوں کو غلامی میں رکھنا پسند کرتے ہیں رشتےدار رکھنا نہیں اب کون کرے گا تجھ سے شادی؟ وہ سر پر ہاتھ رکھے نفی کرتا بولا اور یہی کھڑے کھڑت سبحان نے فیصلہ کیا تھا

میں کروں گا اس سے شادی…..اور عزت کے ساتھ لے کر جاؤں گا کل تک میری فیملی آپ کے گھر آجاۓ گی! اسکے حکمیہ لہجے میں کہا

یہ کیا کہ رہے ہیں آپ سبحان؟ حنا نے بے یقینی سے اسے دیکھا

بلکل ٹھیک کہ رہا ہں میرا فیصلہ اٹل ہے کل میرے گھر والے آجائیں گے! ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتا وہ ان تینوں نفوس کو ششدر چھوڑے باہر نکل گیا

گھر آتے ہی اسنے سب کو بیٹھا کر حنا کے گھر رشتہ لے جانے کی بات کی تھی

بیٹا یہ جزباتی فیصلے بعد میں مشکل کرتے ہیں! خالہ جو آج ہی واپس آئی تھیں اپنے بیٹے کی بات پر حیران ہوئی

موم میں جزباتی پن سے کام نہیں لے رہا…میں نے اس بارے میں کافی سوچا ہے جس کے بعد ہی میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں! اس کے چہرے پر سنجیدگی ہی سنجیدگی تھی

بس پھر ٹھیک ہے حنا ہماری دیکھی بھالی بچی ہے ہم کل ہی جاکر اس کے گھر بات کریں گے اور انشاءاللہ ولیہ کے پیپرز کے بعد سبحان اور حنا کی شادی ہوگی اور ساتھ ہی ہم زارون اور وفا کی منگنی کریں گے! دادا سائیں نے فیصلہ سنایا جس پر سب مسکرا اٹھے

****************************

اس کے پیپرز شروع ہوۓ آج ایک ہفتہ گزر چکا تھا ان دنوں میں نائل نے بھی اسے کم ہی ڈسٹرب کیا تھا وہ صبح اس کے اٹھنے سے پہلے ایک اسٹکی نوٹ پر

”بیسٹ اوف لک وائفی“ لکھ کر چلا جاتا تھا اور پھر یونی کے ٹائم پر آکر اسے یونی کے لیے لے جاتا مگر اس دروان میں وہ گاڑی میں بھی اس کی بات کا جواب دیے بغیر اپنی بوکس پر جھکی رہتی اس کا یہ روایہ فلحال پیپرز کی ٹینشن کی وجہ سمجھ رہا تھا

سنو پرسوں تمہارے پیپرز ختم ہونے کے بعد ہم شوپنگ پر چلیں گے سبحان اور زارون کے ایونٹ کے لیے شوپنگ کر لیں گے! وہ حسب معمول گاڑی رکتے ہی تیزی سے نکلنے لگی جب وہ اسکا ہاتھ تھام گیا

اس کی ضرورت نہیں ہے میرا پروگرام حنا اور دفا کے ساتھ سیٹ ہو چکا ہے! وہ اپنا ہاتھ چھڑواتی بولی

لیکن میں چاہتا ہوں تمہارے لیے سب کچھ میں اپنی پسند سے لوں کیا خیال ہے؟ وہ شوخ ہوا

میرا پیپر ہے فلحال مجھے اس پر غور و فکر کرنے دیں! تلخی سے کہتی وہ ایک بار پھر اٹھنے لگی جب نائل نے واپس اس کا ہاتھ تھاما

تم مجھ سے ناراض ہو کیا؟ وہ اس پر نظریں مرکوز کیے بولا

میں کیوں ہونگی آپ سے ناراض؟ الٹا سوال آیا تھا

ہاں وہی نا میں بھی سوچ رہا ہوں کہ میں نے تو کوئی ایسی حرکت نہیں کی البتہ تمہارے منہ کا میں کچھ نہیں کہ سکتا وہ کسی بھی بات پر بن جاتا ہے! وہ شرارت سے کہتا اس کے زخموں پر نمک لگا چکا تھا

جی بلکل میں ایسی ہی ہوں آپ اسی سے شادی کر لیتے جو پسند تھی مجھ سے کیوں کی اگر میں اتنی بری تھی تو! وہ تنخ کر بولی

دل تو تم پر آگیا تھا نا اب دل کہاں یہ سب چیزیں دیکھتا ہے! وہ اپنے انداز میں کہتا اس بات سے بکل انجان تھا کے اس کی باتیں دوسرے والے پر کیسا آثر چھوڑ رہی ہیں!

اب میں جاؤں؟ اسنے ضبط سے پوچھا جس پر وہ واچ دیکھنے لگا وہ خود بھی لیٹ تھی

ٹھیک ہے جاؤ گڈ لک فیل مت ہونا بس! شرارت سے اس کا ہاتھ لبوں سے لگاتا بولا جس پر ولیہ محض سر جھٹکتی اپنی یونی کی طرف بڑھ گئی

کیا ہوا اتنی مرجھائی ہوئی کیوں ہو نائل بھائی سے پھر جھگڑا ہو گیا کیا؟ پیپر کے بعد حنا نے اس سے پوچھا

ان سے بات ہی نہیں ہوتی جھگڑا تو دور کی بات ہے! اسنے مرے مرے لہجے میں کہا

کیوں؟ ڈونٹ ٹیل می تم اس اٹوپڈ وشمہ کی وجہ سے ان سے بات نہیں کر رہیں؟ حنا حیرانی سے اسے دیکھنے لگی

ایسی بات نہیں ہے مجھے اس وشمہ کی باتوں کا یقین نہیں ہے لیکن کہیں نا کہیں مجھے لگتا ہے کہ وہ غلط نہیں کہ رہی نائل کو احساس ہی نہیں ہوتا میں ان سے بات کر رہی ہوں یا نہیں!

ایسے نہیں ہوتا ولی یقین تو محبت کی طرح ہوتا ہے یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا اس میں شک والی بات نہیں ہوتی اور نائل بھائی تو تمہارے پیپرز کی وجہ سے تمہارے بیہوئیر کو نوٹ نہیں کر رہے ہونگے….حنا نے افسوس سے کہا

تم مجھے چھوڑو اور اپنا بتاؤ سبحان کے ساتھ سب سیٹ؟ ولیہ کے کہنے پر وہ یکدم گلابی ہوئی وہ شروع شروع میں اس رشتے پر ناراض ضرور تھی کیوں کہ اسے یہ سب محض سبحان کی ہمدردی لگ رہا تھا مگر پھر آہستہ اہستہ وہ اس رشتے اور سبحان کو سمجھنے لگی تھی سبحان نے اس سے اظہارے محبت نہیں کیا تھا لیکن اس کے باواجود وہ اس کی محبت اپنے لیے محسوس کر سکتی تھی

اچھے ہیں وہ سب سے بڑھ کر یار پپو بچہ ہے! اس کے انداز پر ولیہ بے ساختہ ہنس دی

پر میرے بندے سے زیادہ نہیں! ولیہ نے شرارت سے کہا جس پر وہ چاہ کر بھی انکار نا کر سکی بے شک نائل مردانہ وجاہت کا پیکر تھا اس پر اس کی سرمئی آنکھیں دیکھنے والے کو اپنی طرف مزید کھینچتی تھیں

اچھا پھر پرسوں چلنا ہے نا شوپنگ پر نائل بھائی نے پلان بنایا ہے میں نے ہامی بھر دی! حنا نے اپنی دھن میں بتایا جبکہ وہ محض اسے دیکھ کر رہے گئی تو وہ سب سے پلان ڈسکس کرنے کے بعد اسے جسٹ انفارم کر رہا تھا؟

دیکھوں گی اگر موڈ ہوا تو چل لوں گی!

ایسے کیسے موڈ ہوا تو؟ اپنی بیسٹ فرینڈ کی شادی کی کوئی ایکسائٹمنٹ نہیں ہے تمہیں؟ حنا نے خفگی سے کہا جس پر وہ اسے اپنا ساتھ لگا گئی

پاگل ہو مجھ سے زیادہ کون ایکسائٹڈ ہوگا؟ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو رہی ہے تم میری بھابھی بن کر میرے گھر آرہی ہو!

تو پھر تم میری شادی سے پہلے پہلے نائل بھائی کے ساتھ صلح کر لو پھر ہم بیسٹیز گولز بنائیں گے! حنا ایکسائٹڈ سی بولی

ہممم اب تواس بارے میں سوچنا پڑے گا! ولیہ ہنستے ہوۓ کہنے لگی جس پر وہ دونوں ہنس دیں جب اس کی نظر سامنے کھڑے معصب پر گئی

چلو تم جاؤ مجھے لینے آگئے!

اوکے…حنا اس سے ملنے کے بعد موبائیل پر دیکھتی باہر نکل گئی جہاں سبحان اس کا انتظار کر رہا تھا

اسلام و علیکم بھابھی آپ نے بلایا تھا؟

و علیکم السلام جی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی! وہ اس کے ساتھ چلتی بولی

جی ضرور کریں… اب جے معصب نے گاڑی کا فرمٹ ڈور کھولا جس پر وہ بیٹھ اور وہ خود فرنٹ سیٹ پر بیٹھا

جی بھابھی بولیں! کاظمی ویلا کی طرف گاڑی کا رخ کرتا اسنے ایک بار پھر بات شروع کی

معصب بھائی آپ نائل کے ساتھ پچپن سے ہیں تو اس طرح آپ ان کے بارے میں سب جانتے بھی ہونگے! اسنے تہمید باندھی

جی بلکل میرا یار ہے وہ! معصب اس کے ذکر پر مسکرا کر بولا

نائل سی بی آئی آوفیسر ہیں؟ اس کے سوال پوچھتے ہی معصب کی مسکراہٹ تھمی

بہتر ہے بھابھی اس بارے میں آپ خود اس سے ہی پوچھ لیں!

انہوں نے اگر بتانا ہوتا تو میں آپ سے پوچھتی ہی کیوں؟ اسنے ابرو اچکائی

تو پھر میں بھی اس بارے میب آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا! معصب مودب انداز میں بولا

دیکھ لیں رامشہ میری پچپن کی دوست ہے….میرے ایک کہنے پر وہ آپ سے سب کچھ نکلوا سکتی ہے! اس کے دھمکانے پر وہ اش اش کر اٹھا

اب سمجھ آئی نائل میں چینجنگ کی وجہ! وہ مسکرا کر بولا جس پر ولیہ نے گردن اکڑائی

آپ ٹھیک سمجھ رہی ہیں وہ ایک سی بی آئی آوفیسر ہے اور یہ مت سمجھیے گا میں نے رامشہ کی وجہ سے آپ کو بتایا میں نے یہ سب نائل کے لیے بتایا ہے تاکہ آپ اسے غلط نا سمجھیں…..اس کے اقرار پر کیا کچھ نہیں تھا و اس وقت ولیہ کے اندر ٹوٹا تھا

آئی ہیٹ یو نائل کاظمی آئی ہیٹ یو….. وہ دل ہی دل آنسو بہاتی اس سے مخاطب ہوئی

گھر آگیا بھابھی! اس کی آواز پر وہ ہوش میں لوٹی

تھینک یو!

موسٹ ویلکم! معصب مسکرا کر بولا جس پر وہ بھی مسنوئی مسکرا کر اندر کی طرف بڑھ گئی

کیا ہوا ولیہ؟ وشمہ اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ کر پوچھنے لگی کے وہ اس کا کندھا ملتے ہی ضبط کھو گئی

تم ٹھیک تھیں مجھے معاف کر دو میں نے تمہیں غلط سمجھا….وہ اس کے گلے لگے روتے ہوۓ بولی جبکہ وشمہ ہے دل میں ٹھنڈک سی اتری تھی

اچھا بس چپ ہو جاؤ ولیہ میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا….! وہ اسے خود سے لگاۓ مسنوئی ہمدردی سے بولی

میں نائل کو کبھی معاف نہیں کروں گی!

ہاں مت کرنا انہیں کیا لگا اگر تمہاری ایج کم ہے تو کیا تمہیں ان سب چیزوں کی خبر نہیں ہوگی؟ وشمہ نے جلتی آگ پر تیل کا کام کیا تھا

چلو اب تم جاؤ آرام کر لو…کافی لمحے اسے ایسے ہی بھرکانے کے بعد وہ بولی جس پر ولیہ سر کو خم دیے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی

رات کا ایک بج چکا تھا کھانے میں بھی اسنے زہر مار کر دو لقمے ہی کھاۓ تھے وہ آج اس سے ڈائریکٹ بات کرکے سب کچھ پوچھنے والی تھی مگر اس کے آنے کا نام نہیں تھا نیند کے باعث آنکھیں بھاری ہو چکی تھیں نجانے کونسے پہر اس کی آنکھ لگی اور وہ روم میں آیا

اسے بیڈ پر آڑا ترچا لیٹے دیکھ کر وہ تیزی سے اس کے پاس آتا اسے سیدھا کیے کمفرٹر اڑا گیا وہ آج کل میر شہزاد کے خلاف ثبوت اکھٹے کر رہا تھا جس کے باعث اسے دن اور رات دونوں میں ہی سونے تک کا موقع نہیں مل رہا تھا

آج بھی وہ بس فریش ہونے گھر آیا تھا رات کے تقریبا تین بج رہے تھے گھڑی پر ایک نظر ڈالے وہ واشروم میں فریش ہونے کے لیے بڑھ گیا کچھ ہی دیر میں وہ فریش سا باہر آیا

آج بھی اس کی بہت سی چیزیں اسے نہیں مل رہی تھیں کیوں کہ ان دنوں ولیہ نے اس کی ساری چیزیں اپنے مطابق سیٹ کی تھیں جس کے باعث اسے آدھا آدھا گھٹنہ تو صرف اپنی چیزیں دھونڈنے میں لگ جاتا تھا اب بھی وہ ایک فائل دھونڈ رہا تھا جو بلا آخر آدھے گھٹنے بعد ملنے پر وہ تشکر کا سانس لیتا ولیہ کے بالوں پر بوسہ دیے پھر سے باہر نکل گیا

************************

آج اس کا آخری پیپر تھا اور کل سے سبحان اور زارون کے فنشن شروع ہونے تھے آج اسے سبحان نے حنا کے ساتھ ڈراپ کیا تھا کیوں کہ سبحان کا کہنا تھا اسے نائل نے اپنی اسے ڈراپ کرنے کا کہا ہے

اپنے ہر عمل سے وہ اسے خود سے بدزن کیے جا رہا تھا

شام کے ساتھ بجے وہ گھر والوں سے فنشن کے بارے میں بات چیت کرکے اپنے روم میں آئی تھی فریش ہوکر ریڈ سوٹ پہنے رونے سے سوجھی آنکھیں لیےشیشے کے سامنے آتی نم بالوں کو سلجانے لگی جب اس کے روم کا دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل.ہوا

سامنے وہ ریڈ سوٹ میں گیلے بالوں میں اس کی طرف پشت کیے کھڑی اس کا دل زور سے دھڑکا گئی وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھا کر اس کے عین پیچھے کھڑا ہوا شیشے میں اب ان کا عکس تھا

جان لینے کے ارادے ہیں کیا؟ اسے پیچھے سے حصار میں لیے کان کے قریب گھمبیر سرگوشی کرتا ایک لمحے کو اسکی جان ہوا کر گیا اس کی قربت میں وہ بے اختیار آنکھیں میچ گئی

لاسٹ پیپر کیسا ہوا؟ اس کی بیئرڈ اب ولیہ کو اپنے کندھے پر محسوس ہوئی

تم روئی ہو کیا؟ کیوں ظلم کرتی ہو ان کے ساتھ ساتھ میرے دل پر؟ اسے سیدھا کرکے باری باری اس کی آنکھوں پر جھکتا وہ محبت سے لبریز لہجے میں بولا کے لمحہ لگا تھا اسے ہوش میں آنے کو آنکھیں کھولتے ہی وہ ایک جھٹکے سے پوری قوت سے اسے دھکا گئی کے اس اچانک اتفاد پر وہ ان بیلنس ہوتا دو قدم پیچھے پوا

خبردار ہو میرے قریب بھی آۓ آپ……!

یہ کیا بدتمیزی ہے سوئٹ ہارٹ؟ وہ اس کے غصے کو صبح یونی چھوڑنے نا جانے کی وجہ سمجھتا اس کے قریب ہوا جب وہ ایک بات پھر اسے پیچھے کر گئی

میں نے کہا دور رہیں مجھ سے….نہیں اچھا لگتا مجھے آپ کا قریب آنا آپ کے لمس زہر لگتے ہیں مجھے نفرت ہے مجھے آپ کے لمس سے….نجانے کتنوں پر چھوڑے ہیں آپ نے یہ لمس…مجھے پتا تھا آپ نے کبھی دل سے مجھے تسلیم کیا ہی نہیں تھا ورنہ آپ مجھ سے اتنی بڑی حقیقت نا چھپاتے! وہ زہر خندق ہوئی

رک کیوں گئیں اور کہوں میں بھی تو سنوں کیا کیا زہر بھرا ہے تمہارے اندر میرے لیے! وہ اس کے لفظوں پر بامشکل ضبط کیے بولا

آپ نے مجھ سے چھپایا آپ سی بی آئی آوفیسر ہیں اسی طرح نجانے کیا کیا چھپایا ہوگا آپ نے…..آپ نے مجھے بیوی سمجھا نہیں آپ کو تو صرف میرا موجود چاہیے……

ولیہ! اب کی بار اس کا ہاتھ اٹھا جسے وہ ہوا میں ہی مکا بناتا ڈرسینگ کے شیشے پر مار گیا اس کے دل کی طرح شیشہ بھی کتنے حصوں میں ٹوٹ کر نیچھے گرا

رک کیوں گئے؟ ماریں مجھے….آپ سے اور امید کی بھی کیا جا سکتی ہے آپ جیسا انسان جو کبھی دادا سائیں کہ عزت نا کرتا ہو وہ مجھ پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے! کہتے کہتے کسی خیال کے تحت وہ رکی نظر نائل کے چہرے پر گئی جو ضبط کے مارے سرخ ہوا تھا یکدم اسے اپنے زیادہ بولنے کا احساس ہوا وشمہ کی پڑھائی ایک ایک پٹی وہ بول چکی تھی مگر کیا ایک بیوی کا یقین اتنا ہی ہوتا ہے؟ اس کے اندر سے آواز آئی ہاں شاید ایک نا پسند بیوی کا یقین ایسا ہی ہوتا ہے وہ حلق تر کرکے اس کی سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر بے ساختہ قدم پیچھے کی طرف بڑھا گئی

کے نائل اب ایک ایک قدم اس کی طرف بڑھا رہا تھا وہ خوفذدہ سی پیچھے پیچھے ہوتی دیوار سے لگ گئی جب وہ اس کے قریب پہنچ کر اپنا خون آلود ہاتھ اس کے اطراف میں ٹکا گیا

میرا لمس زہر لگتا ہے نا تمہیں؟ ہاں؟ وہ ڈھارا کے اس کی ڈھار پر وہ بے ساختہ آنکھیں میچ گئی

کیا کہا تم نے مجھے تمہارے موجود سے مطلب تھا؟ میں چاہوں تو ابھی تمہیں محبت اور زبردستی کے مفہوم سے آشنا کر دوں مگر….وہ کہتے کہتے رکا اس کے لہجے میں کیا کچھ نا تھا

ایک شوہر کا لمس باعث سکون ہوتا ہے اور تمہیں میرے لمس سے نفرت ہوتی ہے؟ اب میں تمہیں اپنے لمس ایسے ترساؤں گا کے تم خود میرے پاس آؤ گی لیکن ہر بار میرے دروازے تمہارے لیے کھلے نہیں رہیں گے! اس کے چہرے کے قریب ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتا وہ صیح طریقے سے اسے بے چین کر گیا

خون نکل رہا ہے! وہ اس کے ہاتھ سے بہتا خون دیکھ کر اس کا ہاتھ تھامے بولی کے نائل نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا

ڈونٹ ٹچ میں اگین! سرد لہجے میں کہتا وپ ڈھار سے باتھروم کا دروازہ بند کرتا گھس گیا