Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 26
Rate this Novel
Nabz-al-Qalb Episode 26
Nabz-al-Qalb by Syeda Shah
جسم میں اٹھتی ٹیسوں اور چہرے پر پڑتی روشنی سے وہ بامشکل اپنی آنکھیں کھول سکی جب وہ اسے سامنے صوفے پر بیٹھا موبائیل سینے پر رکھے چہرے پر بازو رکھے بیٹھا نظر آیا صوفے کے ساتھ ہی اس کی ایش ٹرے پڑی تھی جس کا فل ہونا اس کی اندرونی کیفیت کا پتا دے رہا تھا
اس مغرور شہزادے کو اپنی وجہ سے اس حالت میں دیکھ کر اسے بے ساختہ اس پر پیار آیا وہ احتیاط سے سائد ٹیبل سے پانی کا جگ اٹھانے لگی جب گلاس ٹوٹ کر نیچھے گرا بے ساختہ وہ اپنا نیچھلا لب دبا گئی
اور بنو انا کی ماری….آواز لگا دیتی لیٹا ہی ہوا تھا! وہ فوری سے اٹھتا اس پر گہری نظریں مرکوز کیے پوچھنے لگا
مجھے لگا آپ سو رہے ہیں! وہ اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس تھامے بولی
آپ کب سے اتنی مہربان ہونے لگ گئی؟ اسے چھیڑتے ہوۓ وہ اسکی ناک دباتا بولا
ہم گھر کب جائیں گے؟
بس ابھی کچھ فارمیلیٹز ہیں وہ پوری کر دوں پھر چلتے ہیں…اسکا ڈوپٹا اسکے پر ڈالتا وہ باہر نکل گیا
*********************
کاظمی ویلا پہچتے ہی سب بے چینی سے اپنے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں لے آۓ تھے
یہاں کیوں بیٹھ گئیں؟ روم میں چلو….وہ گھر میں داخل ہوتا اسے سب کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر بولا
نہیں مجھے ابھی تائی ماں اور موم کے ساتھ ٹائم گزارنا ہے!.
ہاں نائل بیٹا اسے ابھی یہی رہنے دو….تم جاکر رسٹ کرو پوری رات کے جاگے ہوۓ ہو….سائمہ بیگم محبت سے اس کی پیشانی چومتی بولیں جس طرح وہ ان کی بیٹی کے لیے ڈھال بنا رہتا تھا ان کے سارے خدشے ختم ہو گئے تھے
جی بس میری کافی روم میں بھیج دیں! اس پر ایک بھرپور نگاہ ڈال کر وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گیا
کچھ دیر سب کے ساتھ بیٹھنے کے بعد وفا اور وشمہ اسے اس کے پرانے روم میں لے آۓ تھے
تم ٹھیک ہو نا؟ وفا محبت سے اسکا ہاتھ تھامے بولی جس پر وہ سر کر خم دے گئی جب سے وہ آئی تھی اس طرح ہی گم سم تھی
شکر ہے ورنہ نائل بھائی کے ساتھ ساتھ میری بھی جان نکل گئہ تھی مجھے تو سوچ سوچ کے ڈر لگ رہا تھا نائل بھائی مجھے کیا کہیں گے بٹ تھینک گوڈ انہوں نے مجھے کچھ نہیں کہا! وفا اس کا موڈ اچھا کرنے کو بولی
وفا چائے تو بنا دو!
ٹھیک ہے میں بناتی ہوں اور ساتھ کچھ سنیکز بھی بناتی ہوں اتنے تم اور وشمہ باتیں کروں…
نائل تمہاری غیر موجودگی میں واقعی بہت پریشان ہو گئے تھے… وفا کے جانے کے بعد وشمہ اس سے مخاطب ہوئی جس پر وہ محض سر کو خم دے گئی
ظاہر ہے ان کے لیے یہ ناقابل برداشت ہے پھر بھی میں حیران ہوں وہ تم سے کتنی ہمدردی سے پیش آرہے ہیں..
.اس کے لفظ ہمدردی پر وہ مٹھیاں بھینج گئی تھی
مجھے کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے! ولیہ لب بھیجنے بولی
تمہیں نا ہو لیکن وہ تو ضرور ممانی کی خاطر کریں گے نا….وشمہ بظاہر محبت سے اسکا ہاتھ تھامے بولی
کیا مطلب؟ اس کی بات پر وہ ابرو اچکا گئی
مطلب یہ کے میں نے خود رباب ممانی کو نائل سے بات کرتے سنا ہے وہ کہ رہی تھیں کے میری خاطر فلحال چپ رہو… اپنی طرف سے وہ تیر چلا چکی تھی مگر وہ نشان پر لگے یا نہیں یہ اسے معلوم نہیں تھا جبکہ دوسری طرف اس کی باتوں پر وہ گہری سوچ میں پڑ گئی
تو اس لیے آپ نے مجھ سے اتنی محبت سے بات کر رہے تھے؟ وہ دل ہی دل میں اس سے سوال کرتی اٹھی
کہاں جا رہی ہو؟ اسے جاتا دیکھ کر وشمہ ہربڑا کر پوچھنے لگی
اپنا سامان لینے مجھے کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے! سپاٹ انداز میں کہتی وہ اس کے روم کی طرف بڑھ گئی کے پیچھے وشمہ کی آنکھیں خوشی سے چمکی تھیں
********************
بھاؤ…..
وہ سینکس پلیٹ میں نکالتی مڑی جب اپنے پیچھے زارون کی اچانک آمد پر خوفددہ ہوتی بری طرح سے پھسلی اس سے پہلے وہ زمین بوس پوتی زارون اسکا ہاتھ تھام گیا
ارے ارے کیا تم تو بہت ہی کوئی ڈرپوک نکلی……! وہ جو اسے کچن میں اکیلے کھڑا دیکھ کر ڈرانے کی غرض سے آیا تھا اس کے اس قدر ڈرنے پر ہنستے ہوۓ بولا کے اس کی حرکت پر وہ صبر کا گھونٹ پی کر رہے گئی
دل دھلا دیا میرا! وفا دل پر ہاتھ رکھے اسے ایک چٹ رسید کرتی بولی
اوہ تو تمہارا دل دھلتا بھی ہے؟ وہ اس کے فقرے پر شرارت سے بولا کے وفا محض اسے گھور کر چاۓ کپوں میں نکالنے لگی
کام بتاؤ کیا ہے؟
کیا بنا رہی ہو؟ وہ چپس پلیٹ سے اٹھاتا بولا جب وہ اسکے ہاتھ پر تھپڑ مار گئی
ولی کے لیے لے جا رہی ہوں تم پہلے ہی ختم کر دو!
ولی کے لیے؟ وہ کہاں ہے کیسی ہے؟ اسکا نام سنتے ہی وہ سنجیدا ہوکر پوچھنے لگا کے اس کی پریشانی پر وفا بے ساختہ مسکرائی (کتنی محبت تھی ان رشتوں میں!)
ٹھیک نہیں ہے بس خاموش ہے! وہ نفی میں سر ہلاتی بولی
مجھے بس ایک بار پتا لگ جاۓ یہ سب کس نے کیا ہے میں اسے چھوڑوں گا نہیں جس نے ہماری چلبل پانڈے کو اس حال میں پہنچایا ہے!
تم ٹینشن مت لو وہ جلدی ٹھیک ہو جاۓ گی نائل بھائی سنبھال لیں گے! وفا اس کی حالت پر اسکا بازو تھپتھپا کر بولی جس پر وہ سر ہلا گیا
ویسے تم لوگ کب جا رہے ہو؟ وہ چپس منہ میں رکھتا اسکا منہ کھلوا گیا
تم کہتے ہو تو ہم آج ہی چلے جاتے ہیں! وہ منہ بسورے بولی
میں کیوں کہوں گا میرے بس میں ہو تو خوبصورت لڑکیوں کو کبھی جدا ہی نا کرو….شرارت سے آنکھ دبا کر کہتا وہ اس کے گال تک سرخ کرگیا تھا
دافع ہو جاؤ! اس کی بات پر وہ سر جھٹک کر باہر کر ٹرے اٹھاۓ باہر نکل گئی کے وہ شرارت سے بالوں میں ہاتھ پھیرے اسے جاتا دیکھنے لگا نجانے کیوں اس لڑکی سے بات کرنا اب اسے اچھا لگنے لگا تھا
وہ روم میں داخل ہوئی تو نائل اسے بیڈ پر آڑا ترچا لیٹا نظر آیا وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتی اس کے قریب آئی جو اس وقت سوتے بھی اضطراب کی کیفیت میں تھا اسکے بیڈ سے لٹکے بازو کو سیدھا کرتی وہ بے اختیار اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی کے نیند میں بھی اسکا لمس محسوس کرکے وہ پرسکون ہوا جس پر کھل کر مسکرا دی
اس کا ہٹلر شوہر اس وقت اسے کسی بچے سے کم نا لگا.. جب اچانک وشمہ کے الفاظ اس کے ذہن میں گونجے
میں حیران ہوں وہ تم سے کتنی ہمدردی سے پیش آرہے ہیں…. اس کے بالوں سے اپنا ہاتھ اٹھاتی وہ ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈالے اپنا کچھ ضروری سامان لے کر واپس سے اپنے روم میں آگئی جہاں اب وفا چاۓ اور کچھ سینکس لیے اس کے انتظار میں تھی
اس کی آنکھ کھولی تو گھڑی شام کے چھ بجا رہی تھی بالوں میں ہاتھ پھیر کر وہ فریش ہونے کے لیے واشروم میں گھس گیا
کچھ دیر میں فارمل ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں فریش سا شیشے کے سامنے آتا بال سیٹ کرنے لگا جب ماضی کا منظر اسکے سامنے لہرایا
این کے….میں تجھے چھوڑوں گا نہیں! اس کے الفاظ کانون میں گونجتے ہی وہ ایک جماکے سے ہوش میں آیا تھا
ایس کے…… اگر اس میں تو شامل ہوا تو اس بار میں تیری نسلیں تک تباہ کر دوں گا! تیش سے کہتا وہ اسد کو کال ملا گیا
مجھے آج رات ہی ”ایس کے“ کی ساری ڈیٹلیز چاہیں! ڈائریکٹ مدعے پر آتا وہ دوسری طرف اسد کے ہاتھ پاؤں پھلا چکا تھا کچھ گھٹنوں میں وہ کیسے ایس کے کی ساری انفارمیشن نکال سکتا تھا
بٹ سر رات تک تو مشکل….
مجھے جلد از جلد اپنی بیوی کے مجرم اپنے سامنے چاہیے! وہ سپاٹ انداز میں سڑھیوں سے اترتا سگریٹ لبوں سے لگاۓ غرایا
اوکے سر….رات تک ہو جاۓ گا! دوسری طرف اسد اس کی حالت سمجھ کر بولا
”گڈ“ وہ آس پاس نظر ڈراۓ بولا نظریں دشمن جان کی تلاش میں تھیں جسے گھر آنے کے بعد وہ دیکھ ہی نہیں سکا تھا جب معصب نے اسکا راستہ روکا
کس کی تلاش ہے جناب؟ پاکستان آنے کے بعد معصب سے اسکا سامنا کم ہی ہوا تھا یہی وجہ تھی کے آج اس کے یوں روکنے سے وہ حیران ہوا
کسی کی نہیں گھر نہیں گئے؟ وہ اسے اب تک یہاں موجود دیکھ کر تشویشی انداز میں بولا
نہیں میں نے سنا ہے بھابھی سے ملنے ان کی دوست بھی آۓ گی! وہ بنا لگی لپٹی کے بےشرمی کے سارے لیول کراس کرتا بولا
اور میری بیوی کی دوست سے تمہارا کیا لینا دینا؟ نائل اسے مشکوک انداز میں دیکھتا پوچھنے لگا
اگر تم جیسے کھڑوس کو کسی سے محبت ہو سکتی ہے تو پھر مجھ نا چیز کو بھی ہو ہی سکتی ہے! وہ اس کی گردن میں بازو ڈالے بولا جس پر نائل نے ابرو اچکائی
اور مجھے کس سے محبت ہو گئی؟ وہ انجان بنا
جیسے تجھے تو پتا ہی نہیں؟ یہ مسکراہٹ….یہ کسی کو دیکھنے کی خواہش….اس کے ذکر پر آنکھوں میں چمک یہ سب میرے بھائی محبت کی نشانی ہے جو کہ تجھے بھابھی سے ہو گئی ہے بلکہ عشق کہوں تو زیادہ بہتر ہے! اس کے انداز پر وہ جھرجھرلی لے گیا
ہوگیا؟ یا کچھ بکواس باقی ہے؟ اتنے دنوں سے اپنے دل میں چلتی جنگی کیفیت کو کسی اور سے منہ سے سنتا چاہ کر بھی اقرار نہیں کر پایا تھا
محبت؟ اس جزبے سے تو وہ بلکل ہی ناواقف تھا اسے بھلا محبت کیسے ہو سکتی تھی؟
نا مان مگر میں اچھے سے جانتا ہوں میرا یار بہت برا پھنس چکا ہے…..معصب اسے چڑاتا باہر کی طرف بھاگا تھا کے وہ اس کی پشت گھور کر پھر سے اسے دھونڈنے لگا غیر ارادی توڑ کچن سے ہوتی کٹ پٹ سے وہ اس طرف آیا جب وہ اسے کچن میں کام میں مصروف سی نظر آئی کے اسے کچن میں دیکھتے ہی اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوۓ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا وہ اسے ایک جھٹکے سے خود کے قریب کر گیا
یہاں کیا کر رہی ہو؟ وہ جو فریج سے کوئی چیز نکالنے کے لیے بڑھی تھی اسکے اچانک کھینچنے پر وہ بری طرح سپٹپٹاتی اس سے دو قدم پیچھے ہوئی
دور رہے کر بھی بات ہو سکتی ہے! اسکے تاثرات دیکھے بغیر وہ دھڑکتے دل پر قابو کرتی بولی
مجھ سے تو ایسے ہی ہوتی ہے! گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اسے پھر سے قریب کرنے لگا جب وہ اس کے ارادے بھانتی اس کے آگے ڈنگیا کرتی فاصلہ قائم کر گئی
مجھ سے دور رہے کر ہی کرئیے گا! اس کا انداز خاصا تلخ تھا جس پر نائل نے انرو سیکڑ کر اسے دیکھا
یہ تمہیں اچانک کونسے کیڑے نے کاٹا ہے؟
آپ نے! جلد بازی میں نکلے گئے الفاظ پر اس کی مسکراہٹ گہری ہوتے دیکھ کر وہ بے ساختہ لب کاٹ گئی
یہ تو سراسر الزام ہے بیگم! ذومعانی انداز میں کہتا وہ اس پر گہری نظریم مرکوز کیے بولا کے اس کی نظروں سے وہ کنفیوز ہوتی اپنا رخ پھیر گئی
یہ چاۓ ملازمہ بھی تو بنا سکتی تھی ناں! وہ اسے چاۓ بناتا دیکھ اسے ہٹاۓ خود سے چاۓ بنانا لگا تھا کے اپنی ان حرکتوں پر وہ اسے شوک پر شوک دے رہا تھا
مجھے آپ کی ہیلپ کی ضرورت نہیں ہے ہٹیں! اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا وشمہ کچن میں آتی اسے چاۓ بناتا دیکھ کر ٹھنکی
.
ولی یار تم کیوں بنانے لگ گئیں مجھے کہ دیتی میں بنا دیتی تمہیں چائے….خود پر ضبط کرکے وہ جبرا مسکرا کر بولی
نہیں ان میڈم کو ایک دم سے ہی کام کرنے کا بھوت سوار ہو گیا ہے….! نائل اسے دیکھتا وشمہ سے مخاطب ہوا
مجھے سمجھ نہیں آرہی آپ لوگ مجھے سمجھ کیا رہے ہیں؟ کیوں مجھے غیروں کی طرح ٹریٹ کر رہے ہیں نہیں چاہیے مجھے آپ لوگوں کی ہمدردی…. اونچی آواز میں کہتی وہ تیزی سے کچن سے نکل گئی کے اس کا یہ روپ اندر ہی اندر نائل کاظمی کو کھا رہا تھا
پاگل ہے یہ لڑکی میں دیکھتا ہوں…وہ اس کی حالت سمجھتا اس کے پیچھے بڑھا جب وشمہ نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا
اسے اسپیس دیں….اسے اس وقت اسپیس کی ضرورت ہے کچھ دنوں میں نارمل ہو جاۓ گی! وہ اسکا ہاتھ تھامے تسلی بخش لہجے میں بولی
آئی نو ہاؤ ٹو ٹریٹ ہر…! اپنا ہاتھ چھڑوا کر سرد لہجے میں کہتا وشمہ اسکے اندر اٹھنے والی ساری امیدیں پر پانی پھیر گیا کے یکدم اسکا فون پھر سے بجا تھا
ہیلو؟ ٹھیک ہے میں آتا ہوں! دوسری طرف کی بات سن کر اسے بعد میں دیکھنے کا سوچ کر وہ رخ باہر کی جانب کر گیا
********************
رات کا ایک بج رہا تھا جہاں کاظمی ویلاز کے تقریبا سب افراد و چکے تھے وہی وہ جاۓ نماز پر بیٹھی اپنے رب سے محو گفتگو تھی آج نجانے کتنے شکواے اس کی آنکھوں میں تھے مگر زبان ہلنے سے انکاری تھی وہ شکواہ کرتی بھی کس سے؟ اس رب سے جس نے اسے ہمیشہ نعمتیں ہی دی تھیں پھر محض ایک آزمائش پر وہ اس سے کیسے شکواہ کر لیتی؟ کھانسنے کی آواز پ نظر سامنے بیڈ پر لیٹی اپنے ماں پر گئی تھی جنہیں وہ آج اپنے ساتھ ہی روک گئی تھی
وہ گھر میں داخل ہوا تو بے اختیار نظر اپنے ہاتھ میں پہنی گھڑی پر ڈالی جو اس وقت رات کے دو بجا رہی تھی اپنی پیشانی مسل کر وہ لیٹ آنے پر اس کا در عمل سوچتا اپنے روم کی طرف بڑھنے لگا جب ٹی وی لاؤنج میں صوفے سے ٹیک لگاۓ کر بیٹھیں رباب بیگم کو دیکھ کر وہ قدم ان کی جانب بڑھا گیا
کیا مسٹر ارسلان سے جھگرا ہو گیا ہے؟ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ بولا کے اس کی آواز سے وہ اسے گھور کر دیکھنے لگیں
یہ وقت ہے آنے کا؟ ملک کے حالات دیکھیں ہیں؟
جی بس کچھ کام تھا موم!
بیٹھو میں کھانا لگا دیتی ہوں…..اب کے وہ نرمی سے بولیں جس پر وہ نفی میں سر ہلا گیا
میں کھا کر آیا ہوں موم….خیریت ہے آپ سوئیں نہیں ابھی تک؟
تمہارے انتظار میں جاگ رہی تھی….کچھ بات کرنی تھیں!
جی کہیے!
ولیہ آج تمہارے روم کی بجاۓ سائمہ کے ساتھ اپنے روم میں سو رہی ہے….دیکھو بیٹا میں جانتی ہوں تمہیں یہ بات بری لگے گی مگر اس وقت اس کی کندیشن ایسی ہے اسے کچھ وقت کی ضرورت ہے! وہ جانتی تھیں نائل کو یہ بات ناگوار گزرے گی مگر تحمل سے بولیں کے ان کی بات پر وہ لب بھینج گیا
ٹھیک ہے موم جیسے اس کی مرضی! سپاٹ انداز میں کہتا وہ اپنے روم میں آگیا
تو اب تم مجھ سے چھپا کرو گی؟ ڈھائی بج چکے تھے اور وہ ایسے ہی بے چین سا کروٹیں بدل رہا تھا اس کے بغیر یہ کمرا بھی بے رونق سا تھا مزید دس منٹ اس طرح رہنے کے بعد وہ اضطراب کی کیفیت میں اٹھا
وہ ہنوز اپنے رب سے باتوں میں مشغول تھی جب اسے اپنے پیچھے کسی سی آہٹ کا احساس ہوا پلٹ کر دیکھنے پر وہ کسی جن کی طرح اس کے عین پیچھے کھڑا تھا اس سے پہلے وہ چیختی نائل نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ کر اس کی چینخ کا گلہ گھونٹا تھا
روم میں کیوں نہیں آرہی؟ اسکی پھٹی پھٹی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ سرد لہجے میں بولا کے خواب ناک ماحول میں اس کی بھاری آواز سے اسکا دل ڈوب کر ابھرا
ہاتھ ہٹانے لگا ہں چیخنا مت! سرگوشی نما انداز میں کہتا وہ اس کے لبوں سے اپنا ہاتھ ہٹا گیا
کیوں آۓ ہیں آپ یہاں؟ اس کے ہاتھ ہٹاتے ہی وہ بے بسی سے اسے گھور کر بولی
تمہارے بغیر دل نہیں لگ رہا تھا میرا سو آگیا! وہ اسکی گود میں سر رکھتا ڈھٹائی سے بولا کے اس کی حرکت پر وہ اپنی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں پر با مشکل قابو کر سکی
اٹھیں یہاں سے! پوری قوت سے اسے ہٹانا چاہ تھا مگر وہ ازلی ڈھیٹائی کا ثبوت دیتا ٹس سے مس نا ہوا کے اس کی حرکت پر وہ بے بس سی ہوتی دو تین مکے اس کے سینے پر مار گئی کے اگلے ہی لمحے کو اس کا ہاتھ اپنہ گرفت میں لیتا لبوں سے لگا گیا جبکہ اس کی حرکت پر اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے تھے
شرافت سے سر میں ہاتھ پھیرو ورنہ اس سے بھی زیادہ بے شرم ثابت ہو سکتا ہوں میں! وہ آنکھیں موندے بولا اس کے کہنے پر وہ غصے سے اسے گھورتی اس کے بال مٹھی میں جکر گئی جبکہ اس کی حرکت پر نائل نے بامشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کی تھی
