Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah NovelR50399 Nabz-al-Qalb Episode 11

389.2K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nabz-al-Qalb Episode 11

Nabz-al-Qalb by Syeda Shah

ارے یہ پھول یہاں نہیں رکھیں جائیں گے بلکہ اس طرف رکھنے ہیں! سائمہ بیگم مسلسل انہیں ہدایت دیتی پریشان سی بولی

کیا ہوا چچی اتنی پریشان کیوں ہیں آپ؟ زارون جو خود بھی صبح سے کاموں میں مصروف تھا انہیں پریشان دیکھ کر ان کی طرف آیا

یہ دیکھوں نا ان سب کو مجال ہے جو کوئی کام ٹھیک سے کر لیں….

آپ پریشان نا ہوں میں دیکھ لیتا ہوں یہ سب آپ جاکر سب پپو سا تیار ہو جائیں تاکہ چاچو صرف آپ پر پی نظریں رکھیں! زارون شرارت سے کہتا اس ٹینشن میں انہیں مزید پریشان کر گیا

کیا مطلب تم نے انہیں کسی اور کو دیکھتے ہوۓ دیکھا ہے؟ سائمہ بیگم تشویشی انداز میں بولی کے ان کے سوال پر زارون نے بامشکل ہنسی ضبط کی تھی

جی ہاں وہ ہیں نا شمیم آنٹی نکاح والے دن بہت گھور گھور کر دیکھ رہے تھے چاچو انہیں!

سچی؟ سائمہ بیگم حیرتذدہ سی بولی

مچی!

آنے دو تمہارے چچا کو ایسا سبق سیکھاؤں گی یاد رکھیں گے….سائمہ بیگم تیش سے کہتی اندر کی طرف بڑھ گئیں

ارے چچی بات تو سنیں…. پیچھے وہ قہقہ لگاتا ان کو پکاڑ کر جیسے ہی پلٹا کوئی بری طرح سے اس سے ٹکرایا تھا

آئی ایم س… کہتے کہتے سامنے کھڑی وشمہ کو دیکھ کر اسے بریک لگی

دیکھ کر ابھی گرتی میں! وہ اسے دیکھ کر آنکھیں دیکھاتی بولی کے زارون نے نظریں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اسے شرمندگی نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی

سوری مجھے پتا نہیں لگا کے کوئی پیچھے ہے! سر جھٹک سے اس سے کہتا وہ آگے بڑھنے لگا جب اس کی آواز سے قدم تھمے

تمہیں اب میں نظر ہی کب آتی ہوں! وشمہ اس کے نظرانداز کرنے پر تپ کر بولی

”جنہیں کبھی محفلوں میں تلاش کیا ہو وہ نظروں سے گر جائیں تو سامنے موجود ہوکر بھی دیکھائی نہیں دیتے…“ کرب سے کہ کر وہ رکا نہیں جبکہ وشمہ اس کے جمعلے میں کھو سی گئی تھی

******************

ولیہ بیوٹیشن آگئی ہے جلدی سے چینج کر آؤ! وفا اسے لہنگے کی کڑتی پکڑاتی بولی جب اس کی نظر ولیہ کے سفید ملائم ہاتھوں پر گئی جہاں مہندی کا گہرا لال رنگ اسے اپنی طرف متواجہ کر گیا

واؤ اس کا مطلب ہے نائل بھائی اور رباب آنٹی تم سے بہت محبت کرتے ہیں!

بلکل تائی ماں تو مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں!

اور نائل بھائی؟ وفا کے اگلے سوال پر اسکا حلق تک کڑوا ہوا کل کا منظر یکدم ہی اس کے سامنے لہرایا تھا

میں اندر آجاؤ؟ وہ دادا سائیں کے کمرے کے باہر کھڑی اجازت طلب کرنے لگی

ارے میری گڑیا آپ کو ضرورت ہے اجازت ہے؟ آجائیے!

دادا سائیں مجھے ابھی شادی نہیں کرنی…کچھ دیر ادھر ادھر کی بات کرنے کے بعد وہ مدعے پر آئی تھی

کیوں بیٹا؟

کیونکہ میں ابھی ریڈی نہیں ہوں…مجھے کچھ ٹائم چاہیے کم سے کم ایک سال تو ہو! وہ عام سے انداز میں کہتی وہ دادا سائیں کو حیرت میں مبتلا کر گئی

”ایسا ممکن نہیں ہے….کل تک نائل بھی ہم سے یہی کہے ہے تھے لیکن پھر انہوں نے اپنا فیصلہ بدل لیا اور ہمیں بھی انکا فیصلہ درست لگا جس طرح کے حالات ہیں آپ کی شادی ہونا ہی بہتر ہے“ دادا سائیں تحمل سے بولے

کیا کہا کل تک وہ خود آپ سے آگے کرنے کو کہ رہے تھے؟ کسی خیال کے تحت اسنے تصدیق کی جس پر دادا سائیں نے سر کو خم دیا

.

(تیاری کر لو کیونکہ شادی تو اب اسی ڈیٹ پر ہوگی جس پر رکھی گئی تھی) اس کے الفاظ ذہن میں گونجتے ہی اسے ساری بات سمجھ آئی تھی

*******************

کاظمی ویلا کے باہر پہنچتے ہی اسنے راؤف بابا کو کہ کر اس مامعلے کا ذکر کسی سے بھی کرنے کو منع کر دیا تھا ایک طرہانہ نظر کاظمی ویلا پر ڈال کر وہ گھر کے اندر داخل ہوا جہاں رباب بیگم ماتھے پر بل شاید اسی کے انتظار میں کھڑی تھیں

ٹائم مل گیا ہے تمہیں تشریف لا آنے کا؟ وہ اسے دیکھتی سختی سے مخاطب ہوئی

جی بس کام سے گیا تھا کچھ! نائل اپنی تھوڈی پر ہاتھ پھیڑتا آدب سے بولا

ایسا کونسا کام تھا…ٹائم دیکھا ہے تم نے نوو بجنے کو ہیں مہندی کے فنشن کے لیے باہر لوگ آنا شروع ہو چکے ہیں اور دلہے صاحب اب تک غائب تھے! رباب بیگم ہنوز غصے سے بولی

کم اون موم ٹائم پر آگیا ہوں جسٹ چینج ہی تو کرنا ہے میں کر آتا ہوں ڈونٹ وری…! وہ محبت سے کہتا ان کی پیشانی پر بوسہ دیے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا

پانچ منٹ ہے تمہارے پاس! اب کے رباب بیگم کی محبت بھری آواز گونجی جس پر وہ سر کو خم دے گیا

کچھ ہی دیر میں وہ کالے رنگ کی کمیز شلوار پر بلیک ہی پرنس کورٹ پہنے سر پر کالی پگڑ سجاۓ کسی شہزادے کی طرح چلتا ہوا نیچھے آیا

ماشاءاللہ ماشاءاللہ شہزادہ لگ رہا ہے میرا بیٹا! رباب بیگم اسے آتا دیکھ اسکی سرمائی آنکھیں دیکھ کر نم آنکھوں سے بولی

اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا میڈم قیامت ڈھا رہی ہیں… زارون کی آواز سے وہ دونوں اس کی جانب متواجہ ہوۓ جو خود بھی کالا سوٹ پہنے بے حد پیارا لگ رہا تھا

چلیں خالہ باہر سب انتظار کر رہے ہیں….. سبحان اور معصب ان کے پاس آتے بولے

ہاں بلکل یہ ڈوپٹا چاروں طرف سے پکڑ لو۔۔۔ انہوں نے ایک ڈوپٹا سبحان کو پکڑایا تھا تم لوگ چلو میں ولیہ کو بھی لانے کا کہتی ہوں

جس کے بعد نائل ان چاروں کے گھیرے میں شاہانہ چل چلتا حال میں داخل ہوا تھا

کتنا پیارا ہے نا! ایک لڑکی وشمہ کے ساتھ کھڑی بولی جس پر وہ بھی تلخی سے مسکرا دی دوسری طرف وہ کالے رنگ کا کامدار لہنگا پہنے ساتھ پیلے رنگ کی کڑتی جس ہر نفیس سا بلیک موتیوں کا کام تھا بھوری آنکھوں کو مسکارے سے لبریز کیے لائٹ سے میک اپ اور مہندی سے رنگے ہاتھوں میں پیلی چوڑیں ڈالے بالوں کو چٹیاں میں قید کرکے سر پر بلیک اور پیلے رنگ کے امتزاج کا ڈوپٹا سر پر سجائے وہ کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی

کچھ ہی دیر وہ سرخ ڈوپٹے کے سائے میں چلتی ہال میں داخل ہوئی کے اسے دیکھتے ہی بہت سے لوگوں نے ان کی جوڑی کو رشک کی نگاہ سے دیکھا

آستہ آستہ قدم اٹھاتی وہ اسٹیج پر اسکے ساتھ آکر بیٹھی تھی جو راؤف بابا سے کسی اہم مدعے ہر محوِ گفگتو تھا کسی کو اپنے ساتھ بیٹھتا محسوس کرکے وہ سرعت سے پلٹا کے اپنے ساتھ بیٹھی حسینہ پر نظر پڑتے ہی وہ اپنا رخ بدل گیا کچھ تو تھا اس لڑکی میں جو نائل کاظمی کو ساکن کر دیا کرتا تھا

ویسے ان بیوٹیشنز کا بھی الگ سے ہی حساب ہوگا۔۔۔چڑیلوں کو بھی اپسرا میں تبدیل کر دیتی ہیں! نائل سامنے دیکھ کر سپاٹ انداز میں کہتا اسے آگ لگا گیا

اور افسوس ہم تو پھر کچھ نا کچھ بن جاتے ہیں لیکن آپ جیسے جن تو ایسے کے ایسے ہی رہتے ہیں۔۔۔! جواباً وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والوں میں سے تھی

یو۔۔۔ نائل نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے جب زارون نے ان دونوں کو ٹوکا

اوہو آج کے دن تو آپ دونوں لڑنا بند کریں ہم نے رسم اسٹارٹ کرنی ہے۔۔ پتا نہیں کیا ہوگا آپ دونوں کا! زارون کے کہنے پر وہ دونوں بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر رہے گئے