Mohabbat Ras Na Ai Humko by Malaika Rafi NovelR50586 Last updated: 25 March 2026
Rate this Novel
Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 01)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 02)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 03)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 04)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 05)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 06)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 07)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 08)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 09)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 10)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 11)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 12)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 13)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 14)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 15)Mohabbat Ras Na Ai Humko (Last Episode)
Mohabbat Ras Na Ai Humko by Malaika Rafi
" ہیلو فاطمہ " زمرد مسکراتی ہوئی اس کے کمرے میں آئی تھی ۔۔۔۔ بیڈ پہ بیٹھی باہر دیکھتی اس کمزور سے وجود نے اسے دیکھا اور اس کی آنکھیں چمکنے لگی ۔۔۔۔۔۔ اسے کینسر تھا اور وہ اپنے آخری دن یہاں گزار رہی تھی ۔۔۔ جب سے وہ یہاں آئی تھی زمرد سے اس کی کافی دوستی ہو گئی تھی " ہیلو زمرد جی" وہ مسکرا کے اس کے پاس بیٹھ گئی " کیسی ہو ؟"
" میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ آپ کیسی ہے " وہ پوچھ رہی تھی زمرد مسکرائی " بڑا ڈورایا آج ڈاکٹر افراسیاب نے " فاطمہ ہنس پڑی " ایک بات کہوں ؟"
" ہاں کہو " وہ فاطمہ کو دیکھنے لگی تو فاطمہ مسکرانے لگی " ڈاکٹر افراسیاب کے ذکر پہ آپ کے چہرے پہ بہت خوبصورت رنگ بکھر جاتے ہیں " زمرد کو ہنسی آ گئی " ہشششششش ڈاکٹر افراسیاب کو پتہ چلا تو سارے رنگوں کو بلیک اینڈ وائٹ کر دے گیں " وہ رازدارانہ انداز میں کہہ رہی تھی فاطمہ مسکرائی " ان کی آنکھوں میں بھی مجھے آپ ہی نظر آتی ہے "
" اچھا وہ کیسے ؟" وہ حیرت سے پوچھنے لگی
" جب آپ دونوں ساتھ میں ہوتے ہیں نا اس کمرے میں ۔۔۔۔ تو میں انھیں دیکھ رہی ہوتی ہوں جب آپ کو پتہ نہیں ہوتا تو وہ آپ کو ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ " وہ مزے سے بتا رہی تھی
" غصے سے ؟" وہ مسکراہٹ دباتی پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ فاطمہ منہ بنانے لگی " نہیں ۔۔۔۔ بہت پیار سے ۔۔۔۔۔ مسکراہٹ سی ہوتی ہے ان کے لبوں پہ آپ کو دیکھتے ہوئے " زمرد کا دل دھڑکا تھا زور سے لیکن وہ بنا کچھ جتائے ادھر ادھر دیکھنے لگی " اچھا مجھے تو نہیں پتہ "
" تبھی تو بتا رہی ہوں آپ کو " فاطمہ ابھی بھی مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ زمرد اس کی مسکراہٹ سے خائف ہو کے کھڑی ہو گئی " چلو میں چلتی ہوں ۔۔۔۔۔ آج ڈیوٹی ہے میری پھر سے آ جائیں گے ہٹلر " فاطمہ مسکرا پڑی " تھینک یو جو آپ یہاں میرے پاس آجاتی ہے " زمرد نے اس کے چہرے کو پیار سے چھوا " اپنا خیال رکھو ۔۔۔۔ " پھر کمرے سے نکل گئی ۔۔۔ اس کی زندگی کے بہت کم دن رہ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔ یہ بات زمرد کو ہمیشہ دکھی کر دیتی ۔۔۔۔ 18 سال کی نازک سی یہ لڑکی زمرد کو بہت اچھی لگتی تھی ۔۔۔۔۔ وہ ہمیشہ زمرد سے اپنی باتیں ۔۔۔۔ اپنے خواب شئیر کرتی اور زمرد بھی سنتی رہتی ۔
