Mohabbat Ras Na Ai Humko by Malaika Rafi NovelR50586 Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 03)
Rate this Novel
Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 03)
Mohabbat Ras Na Ai Humko by Malaika Rafi
وہ جیسے ہی کمرے سے نکل کے کوریڈور میں آیا تو اسے دور سے زمرد ڈاکٹر سعد کے ساتھ باتیں کرتی نظر آئی ۔۔۔۔۔۔ وہ کافی ہنس رہی تھی جبکہ سعد بھی کافی دلچسپی سے زمرد کو دیکھ رہا تھا افراسیاب دور سے ہی محسوس کر رہا تھا اس کی نظریں کیسے زمرد کے چہرے کا طواف کر رہی ہے ۔۔۔۔۔اس نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کس طرح سے زمرد کو وہاں سے غائب کروائے ۔۔۔۔۔۔۔ زمرد منہ موڑ کے مسکراتی ہوئی کوریڈور میں آئی تو اسے سامنے افراسیاب نظر آیا جو کڑے تیوروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نظر انداز کرتی گزر کے جانا چاہ رہی تھی جب افراسیاب اچانک اس کے سامنے آ گیا زمرد رک کے اسے دیکھنے لگی وہ سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ” کوئی کام تھا ؟” زمرد کا دل اس کا سپاٹ چہرہ دیکھ کے ہی دھڑکنے لگا تھا پھر بھی ہمت کر کے پوچھنے لگی
” ہاسپٹل میں کچھ سیکھنے آتی ہے آپ یا گپ شپ کرنے ڈاکٹر زمرد ؟” وہ تیز لہجے میں پوچھ رہا تھا زمرد کو اس کی بات پہ غصہ آیا
” آپ سے مطلب ڈاکٹر افراسیاب ؟” زمرد نے بھی اسی لہجے میں اسے بنا ڈرے جواب دیا افراسیاب نے مٹھیاں بھینچ لیں یہ لڑکی ہمیشہ جواب کیوں دیتی ہے اسے ۔۔۔۔۔۔۔ ” میں یہاں جو بھی کروں آپ کو کیا مسلے ہیں مجھ سے ؟ دوپٹہ ٹھیک سے لو ۔۔۔۔۔ زیادہ ہنسو مت ۔۔۔۔۔۔۔ اس سے بات مت کرو ۔۔۔۔۔۔ ادھر ادھر مت دیکھو ۔۔۔۔ کپڑے ڈھنگ کے پہنو ۔۔۔۔۔۔ آپ کو کیا مسلہ مجھ سے یا میں جو کروں ؟ ” وہ اس سے پوچھ رہی تھی جبکہ افراسیاب لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی نیلی سپاٹ آنکھیں زمرد پہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔ زمرد سر جھٹک کے آگے بڑھ گئی جبکہ افراسیاب وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔۔ وہ اسے نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ کیوں ایسا کر رہا ہے ۔۔۔۔ وہ خود بھی بےبس تھا !!!!
~~~~~~~~~~~
” کتنے دن ہو گئے زمرد بچے نہیں آئی یہاں ” سب کھانے پہ موجود تھے جب زریں بیگم نے کہا ۔۔۔۔۔ افراسیاب کا ہاتھ ایک پل کو رکا تھا پھر نارمل ہو کے کھانا کھانے لگا جبکہ نجیبہ بھی پلوشے کو دیکھنے لگی ” بے بے تھوڑا مصروف ہے وہ آج کل ۔۔۔۔۔۔ نائمہ آنٹی اسلام آباد جا رہی ہے اپنے کام کے لیے تو زمرد بھی ان کے ساتھ مصروف ہے ” پلوشے نے انھیں بتایا
” زمرد بھی جا رہی ہے ؟” نجیبہ پوچھنے لگی
” نہیں مما ” پلوشے نے مختصر جواب دیا
” تو زمرد بچے سے کہو یہاں آ کے رہے ہمارے پاس ” زرین بیگم نے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔ اس گھر کا ہر فرد زمرد سے بےلوث محبت کرتا تھا ۔۔۔۔۔ ” بےبے کہہ دوں گی کہ بےبے بہت یاد کرتی ہے تمہیں یہیں آ جاؤ ” پلوشے نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
” بہت پیاری بچی ہے زمرد ۔۔۔ اللہ اس کے نصیب اچھے کرے بہت نیک دل کی بچی ہے مجھے تو بہت اچھی لگتی ہے ” زرین بیگم کے لہجے میں محبت تھا ۔۔۔۔۔۔ پلوشے مسکرا رہی تھی اس کی نظر افراسیاب پہ پڑی جو پلیٹ میں موجود چاولوں سے چمچ کے ساتھ بس کھیل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ پھر سر جھٹک کے اپنی ماں اور دادی کو دیکھنے لگی جو ابھی تک زمرد کی تعریفیں کر رہی تھیں ۔۔۔ ” آپ دونوں اس کے سامنے کم تعریفیں کیا کیجئیے اس کی ۔۔۔ ایک تو ویسے بھی اتراتی پھرتی ہے کہ تمہارے گھر والے مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں اب یہ باتیں سنے گی تو بس میرا اللہ ہی حافظ ہے ” پلوشے نے منہ بنا کے کہا تھا ۔۔۔۔۔ ” وہ ہے ہی بہت اچھی ۔۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ ” زرین نے بہت پیار سے کہا ۔۔۔ ” میرا ایک اور پوتا بھی ہوتا تو میں زمرد کی شادی اسی سے کر دیتی ” وہ اپنے آپ میں مگن کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ جبکہ افراسیاب کے ہاتھ سے چمچ چھوٹتے رہ گیا اور پلوشے کو ہنسی آگئی ۔۔۔۔۔ ” بےبے کس نے کہا تھا آپ کو افراسیاب کی منگنی بچپن میں کرنے کو ۔۔۔۔۔۔ ابھی بھائی سے کر دیتی زمرد کی شادی ” پلوشے کے شرارتی لہجے پہ افراسیاب لب بھینچے گھور کے اسے دیکھنے لگا نجیبہ بھی مسکرا پڑی جبکہ زرین نے سرد آہ بھری ” یہ سب نصیب کی باتیں ہیں بچے ۔۔۔۔۔ ” پلوشے نے کن اکھیوں سے افراسیاب کو دیکھا جو کھانا چھوڑ کے اب اٹھ چکا تھا ” افراسیاب بچے کہاں جا رہے ہو ؟” نجیبہ اسے دیکھ کے پوچھنے لگی ” باہر جا رہا ہوں مما ۔۔۔۔ کچھ کام ہیں ” وہ کہہ کے آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔ جبکہ نجیبہ اسکی پلیٹ کو گھورنے لگی اس نے ٹھیک سے کچھ کھایا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~
بہ ظاہر افراسیاب خود کو ظاہر کرتا جیسے اسے کوئی پرواہ نہیں ان باتوں کی یا اسے فرق نہیں پڑتا روشانے سے شادی پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے لئے زمرد ایک عام سی لڑکی ہے لیکن اس کا دماغ زمرد میں ہی اٹکا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ جب سے ہوش سنبھالا تھا اسے یہ شوخ اور منہ پہ جواب دینے والی لڑکی ہمیشہ سے اچھی ہی لگی تھی ۔۔۔۔ بہ ظاہر اس سے لڑتا ۔۔۔۔ اسے ٹوکتا لیکن اندر کہیں دل میں دھیرے دھیرے اس کی محبت پنپ رہی تھی اور جو اب اپنی جڑیں مضبوط کر چکی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ اسے جتلاتا نہیں تھا نہ اسے کوئی آس کوئی امید دلانا چاہتا تھا نہ کھبی اظہار کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس کے پاؤں اپنے خاندان کی روایات کے بیڑیوں میں جکڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔ بچپن میں جب کسی بات کی ۔۔۔ کسی احساس کی خبر تک نہیں ہوتی تب بڑوں نے مل کے روشانے کو اس کے نام سے منسوب کردیا یہ سوچے بنا کہ۔آگے جا کے کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ بھی بنا سوچے بنا سمجھے زمرد پہ اپنا دل ہار بیٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب وہ اس قدر مشکل میں تھا نہ اسے خود سے دور کر سکتا تھا نہ اسے اپنا سکتا تھا ۔۔۔۔ نہ اسے کسی اور کے ساتھ برداشت کر سکتا تھا اور نہ ہی اسے خود سے منسوب کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چپ چاپ ونڈ اسکرین کو دیکھے گیا ۔۔۔۔
اندر جتنا اسے گھٹن کا احساس ہوا تھا یہاں گاڑی میں اسے اور زیادہ گھٹن ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنے لب بھینچ لیے اور گاڑی ڈرائیو وے پہ ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~
” کب آئیں گی واپس مما ؟” نائمہ کے ساتھ پیکنگ میں مدد کرتے ہوئے وہ پوچھ رہی تھی ” پتہ نہیں بیٹا مے بی زیادہ ٹائم لگ جائے ” پھر رک زمرد کو دیکھنے لگی ” تم نجیبہ کے گھر کمفٹیبل تو ہوگی نا ؟”
” یس مما مجھے کوئی مسلہ نہیں وہاں ۔۔۔ بٹ آئی ول مس یو ۔۔۔۔ جلدی آ جائیے گا ” زمرد اداسی سے کہہ رہی تھی نائمہ نے اسے اپنے ساتھ لگایا ” آئی ول میری جان ” تو زمرد بھی مسکرا پڑی
” تم نے اپنی پیکنگ کر لی ؟” بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے نائمہ نے پوچھا
” جی مما ” وہ وہیں بیڈ پہ گرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔۔
” کب جا رہی ہو ادھر ؟” وہ اپنا پرس چیک کر رہی تھی اب
” آپ کے ساتھ ہی نکلوں گی ” وہ لیٹی لیٹی ہی بولی ۔۔۔۔
” ٹھیک ہے ” وہ اپنا بیگ پرس سب سائیڈ پہ رکھنے لگی پھر واشروم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔ انھیں 12 بجے نکلنا تھا یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔ ڈرائیور کو پہلے نائمہ کو ائیرپورٹ پہنچا کے پھر زمرد کو افراسیاب کے گھر اتارنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلوشے اسے دیکھ کے بہت خوش تھی جبکہ زرین اسے اپنے ساتھ لگائے بیٹھی تھی ” روز تمہارا پوچھتی تھی پلوشے سے ۔۔۔۔۔ اتنے دن ہو گئے تھے تمہیں دیکھے ہوئے “
” ارےےے بےبے تو کال کرتی مجھے ۔۔۔ میں یوں پہنچ جاتی اپنی بےبے کے پاس ” زمرد مسکرا کے کہہ رہی تھی ۔۔۔۔
” آئندہ سے یہی کروں گی ۔۔۔۔ جب جب مجھے اپنے بچے کی یاد آئے فون کروں گی ” زرین اسے کہہ کے پھر اپنی ملازمہ کو آواز دینے لگی وہ جلدی سے پہنچ گئی ” بتول آج رات میری بچے کی پسند کا کھانا بناؤ ۔۔۔۔ اتنے دن بعد آئی ہے ” زمرد اتنے پیار پہ مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔ جب پلوشے بھی آگئی ” بےبے میرے حصے کا پیار بھی زمر کو دے رہی ہے آپ ” وہ مصنوعی خفگی سے بولی تو زمرد ہنسنے لگی ” آ جا تیرے لئے بھی جگہ ہے بےبے کی گود میں ” زرین ہنسنے لگی جبکہ پلوشے اور زمرد ان سے لگی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔۔ ” تم دونوں زما بچے ہو ۔۔۔۔۔۔ چھوٹے سے بچے ” وہ پیار سے بولی تھی
” لو جی بےبے ہم ڈاکٹر بن گئی ہیں اب ” زمرد انھیں دیکھتی بولی تھی
” ارے پھر بھی میرے لئے وہی چھوٹے چھوٹے زما بچے ہو ۔۔۔
تم افراسیاب ۔۔۔۔ پلوشے ” افراسیاب کے نام پہ زمرد کا دل زور سے دھڑکا تھا ” چھوٹے تھے تو آپس میں لڑ کے میرے پاس آ جاتے تھے شکایتیں کرنے ” زرین کہہ رہی تھی
” بےبے یہ زمر بھائی کو بہت تنگ کرتی تھی ” پلوشے نے ہنستے ہوئے کہا تو زمرد نے اسے ٹہوکا دیا ” چپ کر پلاؤ “
پلوشے اسے گھورنے لگی ” اور تو زہر ” زریں نے ماتھے پہ ہاتھ مارا جبکہ وہ دونوں دیر تک ہنستی رہی ۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~
رات کے کھانے کے بعد زمرد اور پلوشے باہر لان میں آئی تھیں ۔۔۔۔۔ زمرد جھولے لے رہی تھی جبکہ پلوشے اسے منع کر رہی تھی ” بزرگ کہتے ہیں رات کو جھولے لو تو جن چمٹ جاتے ہیں “
” جن بھی تمہارے بھائی جیسے ہی ہوگیں ” زمرد ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ پلوشے ماتھے پہ ہاتھ مار کے رہ گئی ۔۔۔ ” ویسے تیرے بھائی جیسے ہو جن تو مجھے کوئی مسلہ نہیں شوق سے چمٹ جائے ” وہ ہنسنے لگی تھی جبکہ پلوشے نے اپنا سر نفی میں ہلایا
” انسانوں کی طرح ادھر میرے پاس بیٹھ کے باتیں کرو تم ” پلوشے اسے روکنے میں لگی ہوئی تھی
” اچھا جاؤ میرے لئے کافی بنا کے لاؤ پھر دونوں مل کے بیٹھے ھیں پرامس ” وہ جھولے لیتی بولی
” اچھا لاتی ہوں ” وہ کہہ کے اندر کی طرف بڑھ گئی جبکہ زمرد جھولے لیتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہٹ پہ اسے لگا کہ پلوشے ہے ” پلوشے ا گئی اتنی جلدی تو ۔۔۔۔۔۔سن تیرا کھڑوس بھائی کدھر ہیں ۔۔۔ وہ واک کرنے نہیں آیا لان میں ” وہ اپنی دھن میں بول رہی تھی جواب نہ ملنے پہ وہ منہ بنا کے بولی ” تین چار صحیح سے جھولے دو پرامس اتر جاؤں گی ” پیچھے فاصلے پہ کھڑا افراسیاب اس کی پشت گھورنے لگا پھر کچھ سوچ کے آگے بڑھا اور اسے جھولے دینے لگا زمرد کی ناک سے جانی پہچانی خوشبو ٹکرائی
” یہ تم نے کھڑوس افراسیاب کا پرفیوم لگایا ہے کیا ؟” افراسیاب کے آبرو چڑھ گئے زمرد کو اسکے پرفیوم کا بھی پتہ ہے ۔۔۔۔ ” تو بولتی کیوں نہیں ہے ؟” وہ ایکدم مڑی تھی اور افراسیاب کو دیکھ کے وہ زبان دانتوں تلے دبا کے دوبارہ سے منہ موڑ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جھولا رکا تو وہ نیچے اتری تو افراسیاب سینے پہ ہاتھ باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا ” سیدھی طرح بتا نہیں سکتے تھے کہ یہ آپ ہی ہے ” وہ زمرد ہی کیا جو چپ رہے ۔۔۔۔۔ وہ چپ رہا تو زمرد آگے بڑھ گئی ” پلوشے کہاں رہ گئی ” اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔۔
” سنئیے ” افراسیاب کی بھاری آواز پہ اس کے قدم رک گئے لیکن مڑی نہیں ” نہیں سننا ” وہ تیزی سے بولی تھی
” کیوں ؟” اب کے آواز میں سختی اور حیرت دونوں تھی
” میری مرضی ” وہ مڑے بنا ہی بولی تھی ۔۔۔۔ وہ اس کی پشت پہ بکھرے بالوں کو دیکھنے لگا
” اسٹڈی میں میری بکس کو آپ نے چھیڑا تھا “
زمرد خود کو کوسنے لگی کہ وہ کیوں آج اسٹڈی میں گئی اس کے ۔۔۔۔
” نہیں تو ۔۔۔ میں تو گئی ہی نہیں وہاں ” وہ صاف مکر رہی تھی
” ہاں آپ کا بریسلٹ خود چل کے گیا ہوگا ” وہ طنزیہ بولا تھا زمرد بوکھلا کے اپنی کلائی دیکھنے لگی جہاں بریسلٹ کا نام و نشان بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ مڑی
” ہاں تو اور گئی بھی تھی تو ؟؟؟ کھا تو نہیں لیا ہوگا میں نے کچھ وہاں ۔۔۔۔ بکس پیپرز تو میں کھاتی نہیں ہوں ” وہ مڑتے ہی اسٹارٹ ہوئی تھی ۔۔۔ افراسیاب کی آنکھوں میں پہلے حیرت در آئی پھر سختی ۔۔۔۔ ” بات کرنے کے کچھ طریقے ہوتے ہیں “
” جو آپ کو بلکل نہیں آتے ” بےساختہ زمرد کے منہ سے نکلے الفاظ افراسیاب کو طیش دلا گئے جبکہ زمرد دوبارہ منہ موڑ گئ اور بھاگتی ہوئی اندر چلی گئی جبکہ افراسیاب وہیں کھڑا اپنی مٹھیاں بھینچتا رہا عجیب بدتمیز لڑکی تھی
جاری ہے
