Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbat Ras Na Ai Humko (Episode 01)

Mohabbat Ras Na Ai Humko by Malaika Rafi

” رسی کی طرح گلے میں لٹکانے سے بہتر ہے کہ دوپٹہ سر پہ لیا جائے ” افراسیاب کڑے تیوروں سے اپنے سامنے کھڑی زمرد کو دیکھ کے بول رہا تھا جبکہ محترمہ زمرد اس کے غصے کو خاطر میں لائے بنا اس کی آنکھوں میں دیکھ کے مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔ ” یہ جو دو آنکھیں دی ہے اللہ نے آپ کو ۔۔۔۔۔ اس سے مجھے گھورنے کی بجائے نظریں نیچی رکھ کے چلے تو زیادہ بہتر ہے ” وہ دوبدو بولی تھی جبکہ کچھ فاصلے پہ کھڑی پلوشے کے ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے اپنے بھائی کو یوں غصے میں مٹھیاں بھینچتے دیکھ کے ۔۔۔۔۔۔۔۔ زمرد سینے پہ ہاتھ باندھے اسے غور سے اپنی مسکراتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ جتنا پلوشے اپنے بھائی سے ڈرتی تھی اتنا ہی زمرد جو پلوشے کی بچپن کی دوست تھی اور بچپن سے ہی ان کے گھر آنا جانا تھا اس کا ۔۔۔۔۔۔۔ افراسیاب کو غصہ دلا کے اتنا ہی وہ لطف اندوز ہوتی ۔۔۔۔۔ پلوشے نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے آگے بڑھ کے زمرد کا ہاتھ دبوچا ” زمر چل کمرے میں چلتے ہیں “

” رک تیرے بھائی صاحب کو اور بھی کچھ کہنا ہوگا ” وہ افراسیاب کی آنکھوں میں دیکھتی کہہ رہی تھی جبکہ پلوشے اس کا ہاتھ کھینچنے لگی ” چل زمر ۔۔۔۔۔۔ ” زمرد اس کی طرف مڑی ” اچھا ناں ” پھر افراسیاب کو دیکھنے لگی ” سی یو ڈاکٹر افراسیاب ” اور مسکراتی ہوئی پلوشے کے ساتھ منہ موڑ کے گھر کے اندر چلی گئی ۔۔۔۔۔۔ جہاں ان کا سامنا نجیبہ سے ہوا ” اسلام علیکم آنٹی ” وہ ان کے گلے لگ کے بولی تو نجیبہ نے مسکرا کے اسے پیار کیا ” ارے زما بچے وعلیکم السلام ۔۔۔ کیسا ہے تو میرا بچے ” زمرد ان کی آدھی پشتو آدھی اردو لہجے کو انجوائے کرتی مسکرائی ” ایک دم مست ہے ہم ” نجیبہ مسکراتی پلوشے کو دیکھنے لگی ” افراسیاب کدھر ہے ؟” پلوشے اشارے سے بتانے لگی کہ زمرد سے جھگڑا ہوا ہے جبکہ زمرد ہنس رہی تھی ” پارہ چڑھ گیا ہے آپ کے بیٹے کا ” نجیبہ نے اسے پیار سے ٹوکا ” ہمارا بچے کو بہت تنگ کرتی ہے تو ” زمرد نے مصنوعی انداز میں منہ پھلا لیا ” لے لیں سائیڈ آپ بھی ہٹلر کا “

” اچھا زما بچے ناراض مت ہو ۔۔۔۔۔۔ جاؤ پلوشے کے ساتھ میں تم دونوں کے لئے پکوڑہ لاتی ہوں ” نجیبہ نے اسے پیار سے کہا تو وہ دونوں مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ لاونج میں انھیں زرین نظر آئیں تو زمرد ڈور کے ان کے گلے لگی ” ہیلو بےبے ” پلوشے ماتھے پہ ہاتھ مار کے رہ گئی جبکہ زرین بیگم زمرد کی بلائیں لینے لگی ” زما بچے سلام بولو سلام “

” اوہ کم آن بےبے ۔۔۔۔ ڈونٹ بی لائک افراسیاب ” وہ اپنے مخصوص انداز میں بولی تو زرین بیگم ہونق بنی اسے دیکھنے لگی ” کیا بول رہی ہو زمرد بچے ۔۔۔ ” پلوشے آگے بڑھی ” زمر کہہ رہی دادو کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔۔ زمر اٹھ کمرے میں چلتے ہیں ” وہ اسے کھینچتی کمرے میں لے گئی اور کمرے میں ا کے اسے بیڈ پہ پٹخ دیا ” کیوں تنگ کرتی ہو افراسیاب بھائی کو میرے تم ” وہ ہنستی ہوئی بیڈ پہ لیٹ گئی اور پھر چھت کو گھورنے لگی اس کے چہرے پہ بلا کی سنجیدگی تھی ” تمہارا بھائی افراسیاب مجھے تنگ کرتا ہے پلوشے ” پلوشے اس کے لہجے کی سنجیدگی محسوس کر چکی تھی ۔۔۔۔ اس کے پاس آ کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” زمر ” وہ چپ رہی ” زمر ” اب کے وہ اونچا بولی تھی

” ہمممم ” وہ اپنے آنکھ کے کنارے سے آنسو کو اپنی انگلی کی پور سے صاف کرتی بولی تھی پلوشے دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کے اس کے گال چومے ” وہ ہے ہی غصے والا ۔۔۔۔ تو کیوں دل دے بیٹھی ہے انھیں ” وہ مسکرا پڑی

” وہ بھی تو کرتا ہے مجھ سے محبت ۔۔۔ تجھے اس کی آنکھوں میں نظر نہیں آتا کیا ۔۔۔۔۔۔۔ “

” مجھے پتہ ہے لیکن روشانے بچپن سے ان کے نام سے منسوب ہے ” پلوشے نے دکھی لہجے میں کہا

” ایک تو تم لوگوں کے یہ بچپن کے رشتے ۔۔۔۔ ڈیم اٹ ” وہ جھنجھلائی تھی ” کرنا تھا تو مجھے ہی اس کے نام کر دیتے میں تو بچپن سے تم لوگوں کے ساتھ ہوں ” پلوشے کو ہنسی آئی تھی ۔۔۔۔ زمرد اسے گھور کے دیکھنے لگی ” کیا ہے ؟؟ تو بھی تو روشانے کے بھائی کے نام سے منسوب ہے نا ۔۔۔۔ مسٹر اسفندیار خان ” وہ اٹھ کے بیٹھ چکی تھی ۔۔۔۔۔ پلوشے کا منہ بن گیا ” وہ تو اسلام آباد ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیسا ہوگا وہ “

” تیرے بھائی افراسیاب جیسا ہی ہوگا ” زمرد کے کہنے پہ دونوں ہنسنے لگی ۔۔۔۔۔۔

” بٹ دیکھ لینا افراسیاب ایک دن خود مجھ سے کہے گا کہ وہ مجھے چاہتا ہے ” زمرد کھوئی کھوئی سی بولی تھی ” اور روشانے بےچاری ؟” پلوشے شرارتی نظروں سے اسے دیکھتی بولی تھی زمرد کی گھوریاں عروج پہ تھی ” اس کے لئے کوئی سکندر خان ڈھونڈ لیں گے ” پلوشے کی ہنسی بےساختہ تھی ۔۔۔۔۔۔ ” یار بھائی کے سامنے ٹھیک سے دوپٹہ لیا کر تو ۔۔۔ اوپر سے ہاسپٹل میں بھی سب کے ساتھ لگی ہوتی ہے تو کھی کھی کر رہی ہوتی ” پلوشے سنجیدہ تھی تو زمرد رک کے اسے دیکھنے لگی ” تجھے بھی جیلسی نظر آتی ہے نا افراسیاب کی آنکھوں میں ؟” پلوشے مسکرائی تھی ” ہاں …” زمرد پھر سے بیڈ پہ گر گئی ” جا پکوڑے لے کے آ ۔۔۔۔۔ افراسیاب کی آنکھوں میں دیکھ دیکھ کے میری ساری انرجی ختم ہوگئی ہیں ” اس کے انداز پہ پلوشے ہنستی ہوئی اٹھی تھی ۔۔۔۔

√√√√√√√√√√√√√√√√√

جس ہاسپٹل میں افراسیاب ڈاکٹر تھا وہیں یہ دونوں ہاؤس جاب کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ زمرد کھبی کھبی افراسیاب کو تنگ کرنے کے لئے لیٹ پہنچی ہوتی ہاسپٹل جس کی وجہ سے افراسیاب کا پارہ چڑھا ہوتا ۔۔۔۔ ابھی بھی محترمہ بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ نائمہ نے گھڑی پہ نظر ڈالی پھر اپنی نٹ کھٹ تیار بیٹی پہ جو مزے سے ناشتہ کر رہی تھی ” بیٹا آج لیٹ ہو گئی ہو زیادہ ” زمرد پھر بھی ناشتہ کرتی رہی ۔۔۔۔ اس کے لب مسکرا رہے تھے ” ناشتہ تو کرنے دے اپنی اس معصوم سی بیٹی کو ” وہ معصومیت سے بولی تھی تو نائمہ کچھ نہ بولی ۔۔۔۔میجر وجاہت کی وفات کے بعد انھوں نے بہت لاڈ سے اپنی بیٹی کو پالا تھا اور انھی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ آج ان کی بیٹی ایک ڈاکٹر تھی ۔۔۔۔۔۔ ” اوکے مما میں جارہی ۔۔۔۔ ٹیک کئیر ” زمرد کی آواز پہ نائمہ چونکہ تھی ” اوکے بیٹا ٹیک کئیر ” وہ انھیں اللہ حافظ کہہ کے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ نائمہ ہلکا سا مسکرائی انھیں اپنی اس شرارتی بیٹی مگر ذہین بیٹی پہ ہمیشہ فخر ہی ہوتا ۔۔۔۔

√√√√√√√√√√√√√√√√√√√

وہ جیسے ہی ہاسپٹل پہنچی ۔۔۔۔ اسکا سامنا ہی دشمن جاں سے ہوا ۔۔۔۔۔ افراسیاب نے نظر بھر کے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیمن کلر کی گھٹنوں تک آتی شرٹ ۔۔۔۔ وائٹ ٹراؤزر اور کندھے پہ لیمن ہی دوپٹہ اوڑھے ۔۔۔۔۔ میک اپ سے عاری چہرے کے ساتھ وہ بلا کی حسین اور معصوم لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اوہو صبح صبح اتنے بڑے لوگوں سے سامنا ہو رہا ہے آج تو ” زمرد کی آواز پہ افراسیاب جو اسے دیکھ رہا تھا نظریں پھیر کے سائیڈ پہ دیکھنے لگا ۔۔۔۔ وائٹ شرٹ ۔۔۔۔۔۔ بلیک جینز ۔۔۔۔۔ وائٹ اوور آل پہنے ۔۔۔۔۔۔ سفید دودھیا رنگت ہلکی ہلکی سی شیو میں وہ زمرد کے دل کی دھڑکنیں بےترتیب کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ” لیٹ ہیں آج آپ ۔۔۔۔۔ جانتی بھی ہے کہ آپ کی ڈیوٹی ہے آج ” افراسیاب اسے دیکھے بنا سامنے دیکھتے بولا تھا زمرد اس کی نظروں کے پیچھے دیکھنے لگی پھر افراسیاب کو دیکھا جو اسے ہی سپاٹ نظروں سے دیکھ رہا تھا ” مجھ سے کہا آپ نے ؟”

” تو اور میں کس سے بات کر رہا ؟” وہ اسے جتلاتی نظروں سے دیکھتا بولا

” نہیں ایکچوئیلی آپ مجھے نہیں دیکھ رہے تھے مجھے لگا کسی اور سے کہہ رہے ” زمرد مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی تھی افراسیاب نے آبرو اچکا کے اسے دیکھا ” میں آپ کو کیوں دیکھوں گا ڈاکٹر زمرد ۔۔۔۔۔ “

” اوہ یاد آیا ” وہ سر پہ ہاتھ مار کے بولی ” میں نے ہی تو کہا تھا کہ نظریں نیچے رکھا کرے ۔۔۔ آپ تو سیریس ہی لے گئے ” اس کے شرارتی انداز پہ افراسیاب نے اپنے لب بھینچ لیے ۔۔۔۔ زمرد مسکرا کے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ افراسیاب کو ہمیشہ اس کی مسکراتی آنکھوں میں اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوتا ۔۔۔

وہ نظریں چرا کے سپاٹ انداز میں بولا ” ڈیوٹی ہے آپ کی ۔۔۔۔ چلئیے “

” آپ کے ساتھ ” وہ مسکرا کے بولی تھی افراسیاب نے ایک نظر اسے دیکھا جبکہ وہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھی تھی افراسیاب اسے دیکھتا سوچنے لگا وہ کیوں بار بار خود کو اس کے سامنے ہارتا محسوس کرتا ہے ۔۔۔

√√√√√√√√√√√√√√√√√√√√√

” ہیلو فاطمہ ” زمرد مسکراتی ہوئی اس کے کمرے میں آئی تھی ۔۔۔۔ بیڈ پہ بیٹھی باہر دیکھتی اس کمزور سے وجود نے اسے دیکھا اور اس کی آنکھیں چمکنے لگی ۔۔۔۔۔۔ اسے کینسر تھا اور وہ اپنے آخری دن یہاں گزار رہی تھی ۔۔۔ جب سے وہ یہاں آئی تھی زمرد سے اس کی کافی دوستی ہو گئی تھی ” ہیلو زمرد جی” وہ مسکرا کے اس کے پاس بیٹھ گئی ” کیسی ہو ؟”

” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ آپ کیسی ہے ” وہ پوچھ رہی تھی زمرد مسکرائی ” بڑا ڈورایا آج ڈاکٹر افراسیاب نے ” فاطمہ ہنس پڑی ” ایک بات کہوں ؟”

” ہاں کہو ” وہ فاطمہ کو دیکھنے لگی تو فاطمہ مسکرانے لگی ” ڈاکٹر افراسیاب کے ذکر پہ آپ کے چہرے پہ بہت خوبصورت رنگ بکھر جاتے ہیں ” زمرد کو ہنسی آ گئی ” ہشششششش ڈاکٹر افراسیاب کو پتہ چلا تو سارے رنگوں کو بلیک اینڈ وائٹ کر دے گیں ” وہ رازدارانہ انداز میں کہہ رہی تھی فاطمہ مسکرائی ” ان کی آنکھوں میں بھی مجھے آپ ہی نظر آتی ہے “

” اچھا وہ کیسے ؟” وہ حیرت سے پوچھنے لگی

” جب آپ دونوں ساتھ میں ہوتے ہیں نا اس کمرے میں ۔۔۔۔ تو میں انھیں دیکھ رہی ہوتی ہوں جب آپ کو پتہ نہیں ہوتا تو وہ آپ کو ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ ” وہ مزے سے بتا رہی تھی

” غصے سے ؟” وہ مسکراہٹ دباتی پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ فاطمہ منہ بنانے لگی ” نہیں ۔۔۔۔ بہت پیار سے ۔۔۔۔۔ مسکراہٹ سی ہوتی ہے ان کے لبوں پہ آپ کو دیکھتے ہوئے ” زمرد کا دل دھڑکا تھا زور سے لیکن وہ بنا کچھ جتائے ادھر ادھر دیکھنے لگی ” اچھا مجھے تو نہیں پتہ “

” تبھی تو بتا رہی ہوں آپ کو ” فاطمہ ابھی بھی مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ زمرد اس کی مسکراہٹ سے خائف ہو کے کھڑی ہو گئی ” چلو میں چلتی ہوں ۔۔۔۔۔ آج ڈیوٹی ہے میری پھر سے آ جائیں گے ہٹلر ” فاطمہ مسکرا پڑی ” تھینک یو جو آپ یہاں میرے پاس آجاتی ہے ” زمرد نے اس کے چہرے کو پیار سے چھوا ” اپنا خیال رکھو ۔۔۔۔ ” پھر کمرے سے نکل گئی ۔۔۔ اس کی زندگی کے بہت کم دن رہ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔ یہ بات زمرد کو ہمیشہ دکھی کر دیتی ۔۔۔۔ 18 سال کی نازک سی یہ لڑکی زمرد کو بہت اچھی لگتی تھی ۔۔۔۔۔ وہ ہمیشہ زمرد سے اپنی باتیں ۔۔۔۔ اپنے خواب شئیر کرتی اور زمرد بھی سنتی رہتی ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *