Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 8)

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

صبح کی کرنیں کھڑکیوں سے اندر داخل ہوتی بیڈ پر سوئ روحا کے چہرے پر پڑ رہی تھی ۔۔

روحا جو ہارون کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی ۔سورج کی کرنیوں کی وجہ سے اس کی آنکھ کھل گی اور فورا اٹھنے لگی—-

لیکن اس کی یہ کوشیش ناکام رہی–

کیونکہ وہ مکمل ہارون کی سخت گرفت میں قید تھی–

ہارون نے بھی گرفت ایسے سخت کی ہوئی تھی جیسے ابھی چھوڑے گا تو روح اس سے دور چلی جاے گی۔۔

روحا نے جب ہارون کی طرف دیکھا–

اس کے لب خود ہی مسکرانے لگے–

آپ بہت اچھے ہےہارون—

اس بات کا اندازہ مجھے رات ہوگیا مجھ سے ایسے ہی محبت کرتے رہنا کبھی دور نہ ہونا روح نے ہارون کی پیشانی کو چومتے ہوے اپنے دل میں کہا–

روح کے لمس سے ہی ہارون کی آنکھ کھل گی —

روح فورا پیچھے ہوگی —

ہارون روح کی اس حرکت پر مسکرانے لگا

گڈ مارنیگ جان ہارون —

ہارون نے روح کو دوبارہ اپنے اوپر گراتے ہوے کہا —

روح ہارون کی اس حرکت پر کنفیوز ہوگی وہ کیا کرے کیا کہے تبھی اس نے اپنی نظرے نیچی رکھی —

پنک زور تم بھی تو کچھ بولو—

ابھی تو اپنے معصوم شوہر کی نیند کا فائدہ اٹھا کر اسے پیار کر رہی تھی اب بولتی بند ہوگی میری پنک روز کی

ہارون نے زور سے قہقہ لگاتے ہوے کہا–

ہارون کی بات پر روح نے فورا اس کی طرف دیکھا لیکن اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمیت روح میں نہ تھی

آپ بہت بےشرم ہے ہارون —

روح نے اپنی شرمندگی کو ختم کرنے کے لیے سارا الزام ہارون پر لگا دیا–

وہ تو میں پہلے نہیں تھا —

جب سے تم آئی ہو تب سے ہوگیا ہو ہارون نے آنکھ ونک کرتے ہوے کہا–

ہارون کی بات پر روح شرما گی

پنک روز شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے میں بہت خوش ہو روحا —

مجھ سے دور نہ جانا اپنے ہارون پر ہمیشہ یقین کرنا چاہے حالات جیسے بھی ہو

ہارون نے روح کے ماتھے کو چومتے ہوے کہا

ہارون کے لمس سے روح نے خود میں سکون اترتا محسوس کیا–

ہارون کی کسی بات کا وہ جواب دینا نہیں چاہتی تھی —

چلے ہارون اٹھ جاے کافی ٹائم ہوگیا ہے —

مجھے بھوک بھی لگی ہے روح نے ہارون کے اوپر سے اٹھتے ہوے کہا—

ہارون کا جواب سنے بغیر واش روم چلی گی —

پچھے ہارون مسکراتا رہ گیا—

یااللہ میں نے ہمشہ اس بے قصور سے نفرت کی ہے مجھے معاف کردے —

مجھے میری پنک روز سے کبھی الگ نہ کرنا —

ہارون نے آنکھیں بند کر کے دعا کی–

———————————————————–

ایسا کیا بناو جو ہارون کواچھا لگے ۔۔

روحا نے سیڑھیوں سے اترتے کچن کی طرف جاتے ہوے سوچا ۔۔

ہاں آلو کے پراٹھے بنا لیتی ہو”

ہاے ہانی اور برہان کو کتنے پسند ہے پراٹھے پتہ نہیں رات کیسے دونوں سوے ہوگے ماما پاپا کو بھی پتہ نہیں نیند آئی ہوگی یا نہیں

روحا نے آنسو صاف کرتے ہوے سوچا—

فون کر لیتی ہو پتہ چل جاے گا–

روح نے فون اٹھاتے ہوے سوچا

———————–

او چشمیش تمہں تو اپنی نیند سے زیادہ کوئی پیارا نہیں کل ساری رات کیسے جاگ کر گزارلی–

برہان نے ہانی کو تنگ کرنے کے لیے کہا–

نیند سے بھی زیادہ میرے لے میری فیملی ضروری ہے مجھے کل زرا سی بھی نیند نہیں آئی میں کیسے رہو گئ آپو کے بنا–

ہانی نے روتے ہوے کہا

پاگل روتے نہیں ہے دعا کرتے ہے اللہ انھیں وہاں خوش رکھے —

برہان نے ہانی کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا

برہان میں ایک بات کہو—

ہانی نے گھبراتے ہوے پوچھا

ہاں میری چشمش کہوں جو کہنا ہے اور گھبراوں نہ پلیز–

ہارون نے سنجیدگی سے کہا اسے ہانی کا گھبرنا بلکل پسند نہ تھا–

برہان مجھے معلوم ہے مجھ سے سب پیار کرتے ہے–

سب مجھے سمجھتے ہے لیکن تمہارے جتنا کوئی نہیں سمجھتا وعدہ کرو اپنی بہن کا ساتھ کھبی نہیں چھوڑو گے ہمیشہ مجھ پر یقین رکھو گے–

ہانی نے سنجیدگی سے کہا-

ایسے کیوں کہہ رہی ہو —

کچھ ہوا ہے کیا —

بتاو مجھے جلدی —

برہان نے پریشان ہوتے ہوے پوچھا–

پتہ نہیں مجھے ایسا لگ رہا میں تم سب سے دور ہوجاو گی–

ہانی نے روتے ہوے کہا–

ظاہر ہے کل کو تمہاری بھی شادی ہوگی ہم سے دور چلی جاو گی وہ دن میرے لے سب سے زیادہ خوشی کا ہو گا کہ تم سے جان چھوٹ گی —

برہان نے ہانی کو تنگ کرنے کے لیے کہا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا–

حنین تم تو جان ہو میری —

مجھے تم سے زیادہ کوئی عزیز نہیں—

میں وعدہ کرتا ہو میں ہر موقعے پر اپنی بہن کا ساتھ دوں گا چاہے جو بھی ہوجاے پہلے اپنی بہن پر یقین کرو گا —

برہان نے ہانی کو گلے لگاتے ہوے کہا —

برہان کی بات پر ہانی خاموش رہی —

ہارون نے جب غور کیا تو دیکھا وہ سو گی تھی–

اسے اپنی زندگی میں نیند سے زیادہ کوئی عزیز ہو ہی نہیں سکتا—

برہان نے افسوس سے سوچا—

اللہ میری بہنوں کو ہمیشہ خوش رکھے —

برہان نے ہانی کو بیڈ پر لیٹاتے ہوے دعا کی–

————————

رہنے دیتی فون کرنے کو—

وہ پریشان ہو جاے گے —

ویسے بھی رات کو مل ہی لینا ہے—

روح نے فون واپس رکھتے ہوے سوچا —

اور کچن میں آکر پراٹھے بنانے کی تیاری کرنے لگی–

————————

کیا بنا رہی ہے میری پنک روز —

ہارون نے روحا کے اردگرد اپنا حصار بنا کر روحا کے کندھے پر تھوڑی رکھتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔

“جہ جی آلو کے پراٹھے ۔

روحا جو پراٹھا بنانے میں مصروف تھی—

ہارون کی حرکت پر خود کی حالت پر قابو پاتے ہوۓ جواب دیا ۔۔۔

کیا یار اتنی محنت کیوں کررہی ہو

آج تمہارا پہلا دن یہاں اور تم کاموں میں لگ گی چھوڑو اسے یہ ملازمہ بنا لے گئ

چلو روم میں چلتے ہے ہم ۔۔

ہارون نے روحا کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوۓ کہا ۔۔

لیکن مجھے اچھا لگتا اگر آپ کے لیے میں ناشتہ بناتی روحا نے سر جھکا کر کہا ۔۔۔

ہاے میں قربان اپنی پنک روز —

پر جو میرے لے ناشتہ بنانا چاہتی ہے

کیوں اتنی پیاری اور اچھی ہو پنک روز تم تو کسی کی بھی جان لے سکتی ہو”

جان ہارون—

ہارون نے روحا کی اٹھتی گرتی پلکیوں کو چھوتے ہوۓ کہا ۔۔۔

(جب جان لے سکتی لفظ پر )روحا کے کان میں گونجے لگا ۔(اس لڑکی کی وجہ سے تمہارے بابا کی جان گئ ۔اس کی وجہ سے سب ہوا ۔۔) نہیں میرا کوئ قصور نہیں میں نے جان نہیں لی یہ کہتے ہی روحا ہارون کی باہوں میں جھول گئ ۔۔۔

————————————————————

روح

,روحا کیا ہوا میری جان

آنکھیں کھولو —

ہارون نے روحا کو ہوش میں لاتے ہوۓ چہرے پر پانی کے کچھ چھیٹے مارتے ہوے کہا

اچانک روح کو ہوش آگیا —

ہارون کی سانس میں سانس ائی–۔۔

پنک روز کیا ہوا تھا میری جان —

میں نے منع کیا تھا—

ناشتہ نہ بناٶ ملازمہ بنا لیتی ہارون نے پریشانی سے روحا کے قریب بیھٹتے ہوےایک ہی سانس میں کہا ۔۔۔

میں ٹھیک ہو ہارون آپ پریشان مت ہو دراصل مجھے بھوک لگی بہت رات سے بھی کچھ نہیں کھایا شاہد اس لے چکر آگیا تھا—

روحا نے اپنے ہوئٹ کاٹتے ہوۓ کہا ۔۔

یہ میری غلطی رات میں تمہیں کھانے کا نہ پوچھا — ہارون نے روحا کا لب دانتوں سے آزاد کرواتے ہوۓ شرمندگی سے کہا ۔۔۔

مجھے تب بلکل بھوک نہیں تھی—

آپ کی کوئی غطی نہیں —

روح نے سنجیدگی سے جواب دیا—

چلو فریش ہو جاٶ —

میں ملازمہ کو ناشتے کا کہہ کر آتا ہو —

ہارون اتنا کہہ کر روم سے چلا گیا–

————————————————————

واہ میم

آپ تو میک اپ کے بنا ہی اتنی پیاری لگ رہی ہے ۔

روحا جو کہ گرے سکن مکیسی پہنے جب ڈارسنگ روم سے باہر آئی تب پالر والی نے دیکھ کر کہا ۔۔۔

———————-

روحا لائٹ میک اپ نفیس جیولری کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔

ماشاءالله میم —-

آپ تو اور زیادہ پیاری لگ رہی ہے —

سر تو آج بلکل بے قابو ہوجاے گے آپ کو دیکھ کر —

پالر والی نے خوش ہوتے ہوے کہا —

یہ سن کر روحا شرما گی ۔

———————————————————–

سکن کلر کی شارٹ شرٹ مہرون کلر کا کیپری بالوں کو سٹریٹ کیے لائٹ میک اپ میں—

پریسہ چہرے پر غصہ اور ڈر لیے کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی ۔

جب فون رنگ ہوا ۔۔

بھابھی کہا تو ہے میں یہ کام نہیں کر سکتی میری بھی مجبوری سمجھے —

میں اپنی دوست کی شادی پر ہو گھر آ کر بات کرتی ہو پریسہ نے سامنے آتی ہانی کو دیکھ کر فون کاٹ دیا ۔۔۔

کیا ہوا چڑیل پریشان ہو کیا ۔ہانی نے شرارتی انداز سے قریب آ کر پوچھا ۔۔

کچھ نہیں ہوا—

تم نہ اتنا خوش ہو —

ویسے بھی مجھے زہر لگتی ہو خوش ہوتی ہوئی

پری نے منہ بنا کر کہا ۔۔

تم کون سا مجھے چاکلیٹ لگتی ہو

شکر مناٶ آپو کی وجہ سے برداشت کرتی ہو

ورنہ تمھیں کوئی منہ نہ لگاۓ —

ہانی غصہ کرتی ہوئی تن فن کرتی چلی گئ ۔۔

شکر ہے —

جلدی جان چھوڑ دی آج اس نے میری

پری نے ہنستے ہوۓ آس پاس دیکھ کر کہا ۔۔۔

————————————————————

ہاۓ برہان —

تم آج تو کل سے بھی زیادہ ہنڈسم لگ رہے ہو

۔برہان جو کھڑا فون پر بات کر رہا تھا—

اپنے سامنے کھڑی پریسہ کو دیکھ کر آنکھیں جھپکنا بھول گیا ۔۔۔

برہان جو سکن شرٹ اور مہرون جیکٹ پہنے ہلکی داڑھی میں اپنی عمر سے بڑا لگ رہا تھا ۔

جی پری میں “”

یہ کہا کر برہان نے وہاں سے جلدی جانے میں عافیت سمجھی ۔۔

آج اس نے باجی نہیں کہا لگتا کل کی بات اثر کر گئ اس پر——

پری نے خوش ہوتے ہوے سوچا ۔۔

چل پری دیکھ —

تیری دشمن کدھر ہے پری —

نے نظروں کو گھماتے ہوۓ ہانی کی تلاش کی ۔۔

————————————————————

سٹج پر کھڑا نوجوان

بلیک تھری پیس میں مہنگی راسٹ واچ پہنے چہرے پر مسکرائٹ لاے انکھوں میں چمک لیے ہارون خان اپنے قریب کھڑی روحا کو دیکھ رہا تھا ۔۔

پنک روز بہت خوبصورت لگ رہی ہو—

آج مجھ معصوم کی جان لینے کا ارادہ ہے کیا —

ویسے اتنی تعریف کافی ہے—

باقی تعریف میں روم میں جا کر اپنے طریقے سے کرو گا۔–

ہارون نے آنکھ کو ونک کرتے ہوے کہا ۔

جب روحا نے شرما کر سر جھکا لیا ۔۔

————————————————————

ہاۓ وہ والی کتنی پیاری ہے —

اور یہ پاس سے جو گزر کے گی ہاے میرا دل لے گی ۔۔

اسامہ نے آس پاس لڑکیوں کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔

اسامہ شرم کرو کچھ ٹھرکی پن کی بھی حد ہوتی ہے تم ہارون کی ولیمے میں آۓ ہو ۔

زیان نے غصہ سے کہا۔۔

اس کھڑوس انسان کو شرم نہ آی شادی کرتے —

ہاے میری بھی شادی کروا دو —

۔اسامہ نے ہارون کے کندھے پر سر رکھتے ہوۓ کہا ۔۔

چل دفع ہو ٹھرکی میری ایک عدد بیوی ہے کیوں سب کے سامنے مجھے مشکوک کر رہے ہو ۔ہارون نے غصہ سے اسامہ کا سر پیچھے کرتے ہوے کہا۔۔۔

“تو بس کر ٹھرکی چل روحا بھابھی سے مل لیتے ہے

زیان شاہ نے اسامہ کو یاد کروایا وہ کس لیے آیا ہے

۔۔ ابے او بھابھی ہو گئ تیری میری تو”، —

میری بھی بھابھی ہے یار

اسامہ جو کچھ اور کہنے والا تھا اب ہارون کی گھوری سے بات بدل گیا ۔۔

یہ کہتے ہی اسامہ نے سٹچ کی طرف دوڑ لگادی ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا “

اس ٹھرکی کا کچھ نہیں ہو سکتا ۔زیان نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔

————————————————————

بھائ سنیں

آپ کو پتہ میرے لالہ کدھر ہے ۔

اسامہ جو روحا سے ملنے سے پہلے فون سن رہاتھا

اسے جب بھائی جیسے الفاظ سے نوازا گیا —

-اسامہ کو لفظ بھائی پر غصہ آگیا–

کیا “بھا —

اسامہ پیچھے موڑتے ہوۓ حیرت سے کہنے لگا —

لیکن اس کے وہی الفاظ روک گے–

کیونکہ سامنے بلیک مکیسی گاٶن میں حجاب کیے عمارہ کھڑی تھی جس کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھی اسامہ گرے آنکھوں میں کھو سا گیا ۔۔

لالہ کون–

زیان شاہ —

گڑیا ہو آپ–

اسامہ نے جان بوجھ کر نظریں پھیرتے ہوۓ پوچھا ۔تاکہ عمارہ کو لگے اس نے نہیں پہچانہ —

عمارہ جو خود اسامہ کو دیکھنے میں مصروف تھی اسامہ جو بلیک پینٹ شرٹ میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا —

عمارہ کھو سی گی تھی اسے دیکھ کر —

لیکن اسامہ کے سوال پر عمارہ کو بہت دکھ ہوا کہ وہ اسے پہچان بھی نہ سکا۔

جی ۔ میں گڑیا

عمارہ نے افسوس سے جواب دیا ۔

زیان سٹج پر ہے ۔۔

اسامہ اتنا کہہ کر سٹیج کی طرف چلا گیا عمارہ بھی اس کے پیچھے آگی

———————————————————–

ارے گڑیا تم آگئ شکر ہے

اسامہ تم گڑیا کو ساتھ لے آۓ ۔۔

زیان نے عمارہ اور اسامہ کو دونوں کو مخاطب کیا ۔۔ لیکن دونوں نے ہی جواب نہ دیا

السلام و علیکم ہارون بھائ

عمارہ نے اسلام کیا ۔۔

وعلیکم السلام گڑیا

ہارون نے عمارہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ جواب دیا ۔۔

شادی کی بہت مبارک ہو بھابھی ۔۔

روحا جو کنفیوز سی بیھٹی ہارون کے ساتھ اسامہ اور زیان کی طرف دیکھ رہی تھی —

جب عمارہ کو دیکھا–

جو بلیک مکیسی میں ہاتھوں پر دستانے پہنے جس کی صرف گرے آنکھیں نظر آرہی رہی تھی ۔

۔روح کو عمارہ پہلی نظر میں بہت پیاری لگی

بھابھی آپ کتنی خوبصورت ہے

۔عمارہ نے مسکراتے ہوۓ روحا سے کہا ۔۔

ارے یہ کون ہے جس کی آنکھیں نظر آرہی ہے ۔۔

روح کے کچھ بولنے سے پہلے ہی ہانی نے سٹج پر آتے ہوۓ پوچھا ۔۔

ہانی کو دیکھ کر ایک لمحہ کے لیے زیان حیران رہ گیا ۔۔

ہانی بلیک کلر کا شارٹ ڈریس پہنے ہلکے میک اپ میں جالی دار ڈوپٹہ لیے بے حد خوبصورت لگ رہی تھی —

زیان نے بھی بلیک کلر پہینا ہوا تھا۔۔

لیکن ایک دم چہرے پر ہانی کی بات سن کر ناگواری آئ ۔۔

میں آپ کا چہرا دیکھ سکتی ہو پلیز ۔

ہانی نے عمارہ سے کہا

جب زیان نے غصہ کرتے جواب دیا

۔میری بہن پردہ کرتی ہے وہ سب کے سامنے چہرا نہیں دیکھا سکتی ۔۔

“او ہیلو–

مجھے بھی پتہ ہے زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے

۔میں نے سب کے سامنے چہرہ دیکھانے کو نہیں کہا–

زیان کو ہانی کو جواب پر شرمندگی محسوس ہوئی

روح آپو کیسی ہے آپ —

آپ کو پتہ میں ساری رات نہ سوئی صبح سمجھ نہیں آرہی تھی بال کیسے بناو پھر میں نے بال باندھے ہی نہیں میں نے آپ کو بہت یاد کیا–

ہانی نے روح کو گلے لگاتے ہوے کہا–

میں نے بھی اپنی بےبی ڈول کو بہت یاد کیا —

روح نے ہانی کے ماتھے کو چومتے ہوے کہا–

آپو کتنا گلو کررہی ہے آپ –

کل سے زیادہ پیاری آج لگ رہی ہے آپ

ہانی نے روح کے گالوں کو چھوتے ہوے کہا

ہانی کی بات پر روح اور ہارون مسکرانے لگے

بھائی آپ کیسے ہے خوش ہے نہ میری اتنی پیاری آپو جو مل گی آپ کو —

ہانی نے ہارون کی طرف رخ کرکے پوچھا–

میں ٹھیک بھی ہو—

اور خوش بھی–

ہارون نے روح کی طرف دیکھ کر کہا–

ہانی سوچ رہی تھی زیان نے اسے پہچانہ نہیں ہے تبھی اسے نظرانداز کرکے سب کو مخاطب کررہی تھی زیان کو ہانی کا اتنا بولنا اور اسامہ کا ہانی سے اتنا فری ہونا زرا پسند نہ آیا تبھی وہاں سے چلا گیا

———-

اسامہ تم ہر کسی سے اتنا کیسے فری ہوجاتے ہو تمہیں شرم نہیں آتی اپنے ٹھرکی پن سے

اتنی جان نکلتی ہے تو بغیرتیاں کرنے کی بجاے کسی سے شادی کرلو کل کو تمہاری بھی بیٹی ہوگی دوسری کی بیٹوں کا کچھ خیال کرو —

زیان نے اسامہ پر اپنا غصہ نکالا

زیان کو اچھے سے معلوم تھا اسامہ کیسا ہے لیکن غصے میں اسے پتہ نہ چلا وہ کیا کہہ گیا ہے

بس زیان اس سے زیادہ بکواس نہیں سنو گا میں —

میری بیٹی تک نہ پہینچ ابھی–

میں کوئی بچہ نہیں کہ تیری آنکھوں میں غصہ نفرت نہ دیکھ سکو

تجھے اچھے سے معلوم ہے میں نے کبھی کسی لڑکی کے بارے بری نیت رکھی ہی نہیں–

ارے میرے دل دماغ پر پہلے ہی کسی اور کا قبضہ ہے

کل اور آج جب بھی میں نے ہانی سے بات کی ہے تیری آنکھوں میں غصہ ہی دیکھا ہے میں سمجھ گیا تجھے پسند نہیں آیا وہ سب—

ہانی میرے لیے میری بہنوں جیسی ہے ہارون کی سالی وہ میرے لے قابل احترام ہے وہ –

اج جو بکواس کی ہے تم نے اس سے یہ ہی ثابت ہوا تیری نظر میں —

میں کتنا برا ہو اسامہ نے غصے اور افسوس سے کہا

اس بارے ہارون کو معلوم نہ ہو اور یہ بھی نہ سمجھنا میں تجھ سے لڑ کر جارہا ہو —

کیونکہ مجھے معلوم ہے تو پاگل ہوچکا ہے اتنا کہہ کر اسامہ نے زیان کو گلے لگا لیا—

زیان کو اپنے غصے پر افسوس ہوا ہانی کا غصہ اسامہ پر نکال دیا

سوری یار—

زیان نے شرمندہ ہوتے ہوے کہا اسامہ نے کوئی جواب نہ دیا

جانو اتنا لیٹ کیوں آئی–

ہانی نے علیزے سے پوچھا–علیزے ڑیڈ ٹیل فراک ہلکے میک اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی —

تیار ہوتے وقت کا معلوم نہ ہوا —

علیزے نے شرمندگی سے کہا–

چل کوئی بات نہیں آجاو فوجی سے ملتے ہے

ہانی علیزے کو زبردستی لے گی

بابر جو کب سے آکر علیزے کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا اپنے سامنے اتی علیزے کو دیکھ کر خوش ہوگیا–

بابر نے وائیٹ پینٹ وائیٹ ٹی شرٹ پر بلیو کلر کا کورٹ پہنا ہوا تھا

لیکن اس کے کپڑوں کا رنگ دیکھ کر اس کا موڈ بری طرح خراب ہوا بابر کو ریڈ کلر بلکل پسند نہ تھا

اس لیے ہانی علیزے کو اپنی طرف اتے دیکھ کر وہاں سے چلا گیا

ہانی علیزے کو بابر کی یہ حرکت ذرہ پسند نہ آئی

————————————————————

تم روحا مہر ہو ۔

روحا جو اکیلی بیھٹی سب کو دیکھ رہی تھی جب یہ آواز سنی ۔۔

جی میں ہی ہو ۔

روحا نے سامنے کھڑی عورت کو دیکھا جو غصے سے گھور رہی تھی ۔۔

ویسی ہی خوبصورت سمارٹ اور منحوس

ساجدہ نے نفرت اور حقیرت سے روحا کی شکل دیکھ کر کہا ۔۔

“جہ جی آپ کیا کہا رہی ۔

روحا نے حیرت زادہ ہو کر پوچھا ۔۔

تم منحوس ہو تمہاری وجہ سے مہران دنیامیں نہیں رہا ۔ہارون نے تم سے شادی بدلہ لینے کے لیے کی وہ شدید نفرت کرتا ہے تم سے ۔

کیا

ہارون خان مہران ماموں کے بیٹے روحا کا یہ سوچتے ہوۓ پسنیے چھوٹ گے ۔

ہانی ہانی ہانی روحا نے روتے ہوۓ ہانی کو آواز دی

کیا ہوا آپو طبعیت ٹھیک ہے آپ کی —

ہانی نے پریشان ہو کر پوچھا ۔۔

میں نے گھر جانا ابھی روحا نے روتے ہوۓ کہا ۔۔

چلے آپو گھر ۔۔

————————————————————

نہیں اسامہ میں نہیں جاسکتا ۔

زیان بھی چلاگیا ۔

۔روحا اکیلی رہ گی ہے تم خودی چلے جاٶ

اسامہ جو ہارون کو اپنے گھر جانے کو کہ رہا تھا ۔۔

ایک منٹ ٫ہارون نے اسامہ کو چپ کروایا جو کچھ کہنے والا تھا ۔۔۔

جب ہارون کا فون رنگ کیا ۔۔

کیا–

تم مجھے اب بتا رہی ہانی–

کیا ہوا روحا کو ہارون نے غصے سےچلاتے ہوۓ ہانی سے پوچھا۔

پتہ نہیں آپو کو کیا ہوا ہم گھر جا رہے ہانی نے پریشان ہوکر کہا

۔ہارون نے غصے سے فون کاٹ دیا ۔۔

ہم پھر ملے گے–

ابھی پنک روز کو میری ضرورت ہے ہارون یہ کہا کر بھاگ گیا ۔۔۔

————————————————————

آپو یہ پانی پی لیں ۔ہانی نے روحا کو گلاس دیا جو کاپنتے ہاتھوں کے ساتھ روحا نے تھام لیا ۔۔

اور ایک ہی سانس میں پی لیا ۔۔

“آپ ٹھیک ،

مجھے اکیلے چھوڑ دو ہانی–

روحا نے غم اور غصہ سے سرخ انگارہ آنکھوں سےہانی کی بات کاٹتے ہوۓ کہا ۔۔

کیوں —

کیوں آخر میرا وہ گناہ یادکروایا گیا جس میں میرا کوئ قصور نہیں ۔

روحا نے ڈاریسنگ ٹیبل کی چیزیں اور بیڈ شیڈ کو پھنکتے ہوۓ کہا ۔۔

ہارون خان میرا کزن

مہران ماموں کا بیٹا مجھ سے بدلہ لنیے کےلیے شادی کی ۔

روحا نے غصے سے اپنا سر پکڑتے زمین پر بیھٹتی چلی گئ ۔۔

————————————————————

دروازے کی کھلنے کی آواز کے ساتھ ہارون کی آواز آی ۔پنک روز کیا ہوا میری جان ہارون کمرے میں داخل ہوتے حیران رہ گیا کمرے کی اتنی بری حالت دیکھ کر جب جلدی سے روحا کوآواز لگائ ۔۔

دور رہے مجھ سے ہارون خان ۔

ہارون جو روحا کے قریب بیٹھ رہا تھا جب روحا ڈھاری ۔۔

مجھ سے شادی بدلہ لینے کے لیے کی تھی کس چیز کا بدلہ جس میں میرا کوئ قصور نہیں تھا ۔۔

میں ساری زندگی اس ڈر اور خوف میں رہی کسی دن میرے ماموں کا بیٹا مجھ سے بدلہ لنیے آۓ گا ۔مجھے کیا پتہ تھا یہ انسان ہی میرا کزن ہو گا جو میرا شوہر ہے ۔۔

“تف ہے مجھ پر جو یہ سمجھی آپ مجھ سے محبت کرتے تبھی شادی کی مجھ سے روحا نے آج اپنے دل کا اتنے سالوں کا غبار نکالا ۔

ہارون خاموش کھڑا سن رہا تھا ۔وہ چاہتا تھا روحا آج دل ہلکا کر لیں ۔۔

مجھے حاصل کرنا تھا کر لیا اب میں ایک منٹ بھی ایسے انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی جس نے اپنے بدلے کے لیے مجھ سے شادی کی ۔۔

روحا نے ہارون کے بے حد قریب آتے ہوے کہا ۔۔

جب ہارون نے ایک نظر روحا کو دیکھ کرفورًا نظریں چرا لی ۔۔

وہ روحا کی ایسی ابتر حالت نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔

پنک روز میں مانتا ہو میں نے تمہیں ان دیکھے نفرت کی پر وہ وقتی تھی ۔آج تم میری زندگئ بن کر میری زندگی میں شامل ہوئ ہو ۔تم میرے لیے وہ زندگئ جس نے مجھے جینا سکھایا ۔۔۔

ہارون نے روحا کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا ۔۔

نہیں ہو میں آپ کی زندگئ مسٹر ہارون خان نفرت ہے مجھے آپ سے سن لیا آپ نے روحا نے ہارون کے ہاتھ جھٹکتے ہوۓ کہا ۔۔

آج سے اور ابھی سے میں آپ سے نفرت کرتی ہو شدید نفرت ۔

منحوس لفظ سنا آپ نے کبھی نہیں نہ میں نے سنے اور محسوس بھی کیے پوری زندگئ یہ الفاظ سن کر میں اپنے اللہ کے سامنے روز روتے ہوۓ معافی مانگتی تھی ۔۔۔

“میہ میں منحوس نہیں ہو کوئ کیوں نہیں جنیے دیتا مجھے ۔یہ کہتے ہی روحا ہارون کی باہوں میں جھول گئ ۔۔۔۔

”پنک روز پنک روز ہوش کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

———————————————————–

ہسپتال کے کویڈور میں کھڑا شخص آنکھوں میں آنسو لیں وہ آئ سی یو کے دوازے پر کھڑا اندر اپنی زندگئ کیلۓ دعا گو تھا ۔۔۔

ہارون کیا ہوا میری بیٹی کو ۔۔

تنزیلہ ہانی برہان مہر نے آتے ہی ہارون سے پوچھا اس سے پہلے ہارون کچھ کہتا جب ڈاکٹر ایا ۔۔۔

کیا ہوا میری بیوی کو ہارون نے جلدی سے ڈاکٹر سے پوچھا ۔۔

مسٹر ہارون آپ کی بیوی کا نروس بریک ڈاٶن ہوا ہے انھیں کوئ شدد قسم کی ٹنشین ملی ہے اگلے چوبیس گھنٹے بہت ضروری ہے ان کے ہوش میں آنے کے ورنہ

ای ایم سوری ڈاکٹر نے افسوس سے ہارون کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا اورچلے گیا۔۔۔

پھپھو جان آپ اپنی بیٹی سے کہے ایسا نہ کرے میں اپنی زندگئ کی بنا کیسے رہو گا ۔مجھے میری غلطی کی اتنی بڑی سزا نہ دے وہ —

جیسے وہ بے قصور ہو ویسے ہی میں بھی بے قصور ہو

ہارون نے روتے ہوۓ تنزیلہ کے قدموں میں بیٹھ کر کہا ۔۔

میں اپنی زندگئ کو کچھ نہیں ہونے دو گا ۔۔۔۔

چاہیے کچھ بھی ہوجاے —

مجھے اپنے اللہ پر یقین ہے وہ میری دعا ضرور سنے گا