Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 21)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
مجھے اب کیا کرنا چاہے علیزے ۔
ہانی نے علیزے کو سب بتا دیا تھا ۔
دیکھو ہانی جو ہونا تھا ہو گیا ۔
چھوڑو سب اور اپنی زندگی کی شروعات کرو
اور پلیز اب جلدی سے مجھے بھی خالہ بنا دو ۔۔
علیزے نے ہانی کو تنگ کرنے کے لیے کہا ۔
علیزے کی بات پر ہانی کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔
ہاے چشمش بلش کر رہی ہے۔
مجھے یقین نہیں آرہا ۔
علیزے نے حیران ہو کر کہا ۔
لیکن آنکھوں میں صاف شرارت تھی ۔
یار علیزے میں کیسے مناٶ انھیں ۔
ہانی نے مشورہ مانگا ۔
یہ جو اتنی لمبی لمبی زلفیں ہے ۔
انھیں کھول ریڈ لپ اسٹک لگا ۔
اور بلیک یا ریڈ ساڑھی پہن جا کر زیان بھای کے سامنے کھڑی ہو جا ۔
پھر دیکھنا ناراضگی بھول جاے گا
۔اور تو جلدی ہی مجھے خالہ بننے کی خوشخبری سناۓ گی ۔
علیزے نے آنکھ ونک کرتے ہوے بے شرمی سے کہا ۔۔
تم نے ایسے ہی منایا ہوگا ہے نہ فوجی کو ۔
ہانی نے نہایت سنجیدگی سے کہا ۔
دفعہ ہو کمینی وہ تو مجھ سے ناراض بھی نہیں ہوتے ۔
علیزے نے دکھی ہوتے ہوے کہا ۔۔
ہاں ناراض نہیں ہوتے تبھی آج ایک بچی کی ماں بن گی ہے ۔
ہانی نے علیزے کے گال کھنچتے ہوے کہا ۔
بے شرم لڑکی ۔
علیزے نے کشن مارتے ہوے کہا ۔
تم سے کم ۔
ہانی نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔
اب دونوں پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کو گلے لگا کر قہقیقے لگا رہی تھی ۔
————————————————————
روحا اور ہارون اب لاہور شفٹ ہوگے تھے
۔روحا کے جانے سے پہلے ہانی گھر آی تھی
۔وہ بہت ناراض ہوی تھی روحا سے
لیکن ہارون نے ہانی کو سمجھا لیا تھا ۔
وہ جلد ہی واپس آے گے ۔
اس لیے ہانی جلد ہی راضی ہوگی تھی ۔
————————————————————
السلام و علیکم لالہ
کیسے ہے آپ ۔
عمارہ نے فون اٹھاتے ہی فورًا اسلام کیا ۔
میں ٹھیک گڑیا
تم کیسی ہو اذان کیسا ہے ۔
زیان نے مسکراتے ہوے پوچھا ۔۔
سب ٹھیک ہے بھای آپ سنائیں
ہانی واپس آگی یا نہیں ۔
عمارہ اس کا نام لینا ضروری نہیں ہوتا
ہر کال میں تمہارا یہی سوال ہوتا ہے ۔
جو میرا دماغ خراب کر دیتا ہے ۔
زیان نے سنجیدگی سے کہا ۔
لالہ میں ۔۔
اوۓ بے غیرت انسان
تمیز سے بات کر میری بیوی کے ساتھ ۔
خود کی بیوی تیری سنتی نہیں ہے اور میری بیوی کو ڈائٹ رہا تھا ۔۔
اسامہ کو زیان کا لہجہ پسند نہیں آیا اس لیے تھوڑے غصے میں اسے اتنا کچھ کہہ گیا ۔۔
زیان نے اس کی بات کا کوئ جواب دے بنا کال ہی کاٹ دی ۔
یہ کیا کر دیا
کیوں بھای کو اتنا کچھ کہہ دیا ۔۔
عمارہ نے روتے ہوے کہا۔
یار رویا تو نہ کرو ۔پلیز ۔
اسامہ نے آنسو صاف کرتے ہوے کہا ۔۔
آپ بھی تو باز نہیں آتے اپنی حرکتوں سے اسامہ
وہ کونسا شوق سے دور ہے اپنی بیوی سے
۔آپ کی جب بھی ان سے بات ہوتی بیوی کا طنعہ ضرور دینا ہوتا آپ نے ۔
عمارہ نے روٹھے پن سے کہا ۔
اسے بار بار یاد کرواتا ہو اس کی ایک عدد بیوی ہے وہ اس کے ساتھ مصروف رہ کرے میری بیوی اس کی ٹنشین میں ہلکان ہو مجھے پسند نہیں ۔
اسامہ نے قہیقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔
چلو اب لیٹ جاو مجھے نیند آی ہے
۔اسامہ نے عمارہ کو لٹاتے ہوے کہا
۔مجھے نہیں سونا ابھی
عمارہ نے مصنوعی غصے سے کہا ۔
تمہں اچھے سے معلوم ہے جب تک تم میرے سینے پر اپنا سر نہیں رکھتی مجھے نیند نہیں آتی ۔
اسامہ نے زبردستی عمارہ کو لٹایا اور اس کا سر اپنے سینے پر رکھا ۔۔
اسامہ کی بات پر عمارہ شرماگی (اسے بھی کہاں نیند آتی تھی اسامہ کے بغیر ).
ویسے عمارہ ۔
۔اذان کی بہن کے بارے کب سوچو گی ۔
مجھے اپنی پرنسیس چاہے
تمہں تو تمھارا شہزاہ مل گیا ۔
اسامہ نے عمارہ کی پشانی کو چومتے ہوے کہا ۔
جب اللہ کو منظور ہو گا آپ کی پرنسیس بھی آجاے گی ۔۔
فلحال ابھی سو جاے
۔عمارہ نے مسکراتے ہوے کہا ۔
مگر میں ابھی سونا نہیں چاہتا میں اپنی بیٹی کے بارے میں بہت کچھ سوچا ہوا ہے ۔
وہ سب شیئر کرنا ہے
۔اسامہ نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔
آپ بتاے میں سن رہی ہو ۔
اور پھر اسامہ اپنی خواہشات کا اظہار کرتا رہا اور عمارہ آرام سے سو رہی تھی
۔جب اسامہ نے عمارہ کی خاموشی محسوس کی اسے غور سے دیکھا تو وہ سو رہی تھی ۔
اسامہ اسے سوتے دیکھ مسکرانے لگا
اور خود بھی اپنی آنکھیں موند لی ۔
————————————————————
اف حجاب نے آج تھکا ہی دیا ہے ۔
علیزے نے اپنے بالوں کو باندھتے ہوے کہا ۔
تو اس تھکاوٹ کو دور کرنے کے لیے آپ کا فوجی حاضر ہے ۔
بابر نے علیزے کا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔
اور اس کے بالوں کی خوشبو محسوس کرنے لگا ۔
علیزے تو جہاں تھی وہی رہ گی
۔اس کی تو بولتی بند ہوگی اپنے سامنے بابر کو دیکھ کر تو وہ شاہد صدمے میں چلی گی تھی ۔۔
کیا ہوا میری جان
میرا آنا برداشت نہیں ہوا ۔
بابر نے علیزے کو اپنے حصار میں لیتے ہوے کہا ۔
باببببببررررررر۔۔
علیزے بابر کا لمس محسوس کرتے ہی بابر کو چتختے ہوے پکارہ ۔
بابر نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لے ۔
حوصلہ پاگل لڑکی
کیا میرے کان کے پردے پھاڑ دینے ہے آج ۔
۔ بابر نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔
بابر آپ میرے سامنے آپ ٹھیک ہے
۔علیزے نے بابر کو گلے لگاتے ہوے پوچھا اور کسی معصوم بچے کی طرح اسے بار بار چوم رہی تھی محسوس کر رہی تھی ۔
بابر مجھے یقین نہیں ہو رہا آپ میرے سامنے ہے ۔
علیزے نے روتے ہوے کہا ۔۔
یقین ہو جاے گا میری جان
آج رات جب تم میرے جنون اور شدت سے واقف ہو گی ۔کیسے میں نے دن گزارے کیسے میں تڑپا ہو
۔وہ سب تم آج محسوس کرو گی
۔بابر نے علیزے کے ہونٹوں کو چھوتے ہوے کہا ۔
اور علیزے کے بولنے سے پہلے اپنے لب اس کے ہونٹوں پر رکھ کر اپنی پیاس بحھانے لگا ۔۔
علیزے کا اپنے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔
شکریہ میری جان ۔
میری زندگی میں آنے کے لیے میری زندگی کو مکمل کرنے کے لیے
۔بابر نے علیزے کے ہونٹوں کو نرمی سے چھوڑتے ہوے کہا ۔۔
علیزے تو بابر کی طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی
۔اس کا گھبرانا شرمانا بابر سمجھ رہا تھا ۔۔
میری حجاب آرشیہ
تو باکل میرے پر چلی گی ہے
۔بابر نے حجاب کو پیار کرتے خوشی سے کہا ۔
۔بیٹیاں باپ پر ہی جاتی ہے
۔علیزے نے بابر کے کندھے پر سر رکھتے ہوے کہا ۔
کوئ بات نہیں ہمارا بیٹا تمہارے جیسا ہو گا
۔اب ہمیں دیر نہیں کرنی چاہے
۔بابر نے بے شرمی سے کہا ۔۔
بابر کی بات کا مطلب سمجھ کر علیزے تو بے ہوش ہوتی رہ گی ۔۔
یہ آپ بے شرم زیادہ نہیں ہوگے
۔علیزے نے حیرانی پریشانی سے پوچھا ۔۔
تم سے دور رہ کر میرا بے شرم ہونا بنتا تھا ۔۔
تمہاری ہر حالت سے واقف ہو میں
مجھے صرف ایک انسان سے رابطے کی اجازت تھی اور میں نے ہانی کے ساتھ رابطہ رکھا ہوا تھا
۔اگر تمہارے ساتھ رابطہ کرتا میرے لے مشکل ہو جاتی مجھ سے اپنا کام نہیں ہونا تھا ۔
امی سے بات کرتا وہ بھی پریشان رہتی اس لیے ہانی سے بات کی ۔
اس نے صیح دوستی نبھای ہے علیزے
بہت ساتھ دیا ہے اس نے میرا
۔جب بھی تمہں یاد کرکے تڑپ رہا تھق رو رہا ہوتا تھا اس نے ہی میری ہمیت بنای مجھے سمجھایا
۔تمھاری حالت سے مجھے آگاہ کرتی رہتی تھی ۔
بابر نے مسکراتے ہوے بتایا ۔۔
علیزے حیران رہ گی بابر کی بات سن کر ۔
وہ پاگل اتنی اچھی ہو سکتی میں نے سوچا بھی نہ تھا ۔علیزے نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔
وہ واقعی اچھی ہے جو کچھ ہوا اس کے ساتھ ہوا ہے
بس دعا ہے سب ٹھیک ہو جاے اسے بھی خوشیاں نصیب ہو۔۔
(آمین).
دونوں نے ایک آواز کہا ۔۔
بابر آپ ٹھیک تھے نہ وہاں سب آپ کو مل رہا تھا کھانا پینا ٹھیک تھا
۔کہیں کوی چوٹ تو نہیں آی
۔علیزے نے بے چینی سے پوچھا ۔۔
سب مل رہا تھا سواۓ تمہارے
تمہاری قربت کی مجھے اتنی عادت ہوگی وہاں میرا رہنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔
آج مجھے صرف سکون چاہے تم سے
اتنے دنوں کا بے سکون ہو یار ۔
بابر نے علیزے کو بیڈ پر لٹاتے ہوے کہا ۔
بابر میں ۔
بس خاموش مجھے یہ لمحے محسوس کرنے دو تمہارے وجود کو محسوس کرنے دو
۔بابر نے علیزے پر جھکتے ہوے کہا ۔
علیزے نے بھی مزاحمت نہ کی
۔اپنا آپ اس کے سپرد کر دیا ۔۔
بابر نے لائٹس بند کر دی ۔
اور دونوں ایک دوسرے میں مصروف ہوگے ۔
————————————————————
اف میں کونسی شرٹ پہنو
۔سب دھونے والی ہے
۔کام والی بھی آج نہیں آی اب کونسی پہنو ۔
زیان شرٹ ڈھونڈتے ہوے مسلسل بول رہا تھا ۔۔
اچانک اسے اپنے سینے پر نرم سا لمس محسوس ہوا
۔اپنے سینے پر دو نرم ہاتھوں کو دیکھ کر زیان حیران رہ گیا ۔۔
اور فورًا موڑا ۔۔
اپنے سامنے ہانی کو دیکھ کر زیان حیران رہ گیا ۔۔
تم یہاں ۔۔
۔تم یہاں کیا کرنے آی ہو ۔
زیان نے ہانی کو خود سے دور کرتے ہوے حیرانی سے کہا ۔۔
بیویاں اپنے شوہر کے گھر کیا کرنے آتی ہے
۔تحمل سے جواب دیا ۔۔
بیوی اور تم جاٶ
جا کر پہلے سکھ کر آو بیوی ہوتی کیا ہے
۔زیان نے طنزیہ مسکرا کر کہا ۔۔۔
پہلے شرٹ پہن لو
یہ سکس پیک دیکھ کر میں بے ہوش ہو جاٶ گی
۔ہانی نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔
کیوں تمہں کیا مسلہ ہے میرے سکس پیک سے اتنی محنت کر کے بناے ہے .میں نے
زیان بیزاریت سے پوچھا ۔۔
ہانی خاموش رہی
ویسے بتانا پسند کرو گی کیوں آی ہو یہاں
زیان نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔
وقت آنے پر پتہ چل جاے گا
تحمل سے جواب دیا گیا ۔۔
پاگل لڑکی میری جان کا عذاب بنے آگی ہے
۔زیان بھڑبھڑاتا ہوا چلا گیا ۔۔
۔ پیچھے ہانی قہقے لگا رہی تھی زیان کی حالت دیکھ کر ۔۔
————————————————————
ہاے سچی
میں پھپھو بن گی ۔
مامامجھے یقین نہیں ہو رہا ۔
ہانی بیڈ پر اچھلتے ہوے چہکتے ہوے پوچھ رہی تھی ۔۔
ہاں تم پھپھو بن گی ۔۔
برہان کا بیٹا بیٹی ہوی ہے
۔تنزیلہ بیگم نے خوش ہوتے ہوے بتایا ۔۔
ماما میں بس آ رہی ہو جلدی پہنچتی ہو ۔
ہانی نے خوشی سے کہا ۔۔۔
او چشمش
جانوروں جیسی حرکیتں باہر دفع ہو کر کرو ۔
میرا قیمتی بیڈ توڑنے کا ارادہ ہے کیا ۔۔
زیان تو بیڈ کی حالت دیکھ صدمے میں ہی آگیا تھا ۔۔
او زرافے
باز آو موڈاچھا ہے میرا
ابھی لڑنے کا کوی ارادہ نہیں ۔
ہانی نے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔۔
آپ پھوپھا بن گے ہے ۔
چلے مجھے مبارک دے
۔ہانی نے زیان کے ہاتھ پکڑتے ہوے خوشی سے کہا ۔۔
پھوپھا میں بنا ہو تو تمہں مبارک میں کیوں دو ۔
زیان نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔
کیونکہ زرافے میں پھوپھو بن گی اور میری وجہ سے آپ پھوپھا ہانی نے چہکتے ہوے کہا ۔۔۔
اوو اچھا مبارک ہو ۔
زیان نے خوشی سے کہا ۔
آپ کو بھی
۔ہانی نے مسکرا کر کہا ۔
اس کا مسکرانا زیان کو بہت اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔
بیٹا یا بیٹی زیان نے خوشی سے پوچھا ۔
دونوں ہی
۔قہقہ لگا کر بتایا ۔۔
او ماشاءالله
چلو تیار ہو چلتے ہے
جاتے ہوے بچوں کے لیے شاپنگ بھی کرنی ہے آجاو جلدی زیان نے جلد بازی سے کہا اور باہر چلا گیا ۔۔
پھوپھو میں بنی ہو
خوشی اس زرافے کو ہو رہی ہے۔
ہانی نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔جوکہ زیان سن چکا تھا ۔۔
————————————————————
تھینک یو پری
اتنے پیارے خوبصورت تحفے کے لیے برہان نے پری کے ہاتھوں کو چومتے ہوے کہا ۔۔
پری مسکرا رہی تھی ۔۔
برہان یہ ہمارا بیٹا تو باکل ہی ہانی جیسا ہے اس کی آنکھیں بھی
پری نے خوش ہوتے ہوے بتایا ۔۔
ہاں یار بلکل اس جیسا ہی ہے
۔اور بیٹی باکل تمہارے جیسی ہے ۔
میرے جیسے دونوں ہی نہیں
چلو خیر ابھی نو دس اور رہتے ہے
۔ان میں ہی کوی ضرور میرے جیسا ہوگا ۔۔
برہان نے بے شرمی سے کہا ۔۔
برہان ہم ہسپتال میں ہے میرے ہاتھ میں ڈریپ لگی ہے ورنہ اس بات پر آج تو پکا سر پھاڑ دیتی میں آپکا ۔
پری نے غصے سے کہا ۔۔
جی جان برہان
برہان نے پری کو تنگ کرنے کے لیے کہا
———————————————————-
ہاے برہان تم باپ بن گے
مجھے یقین نہیں ہورہا
ہانی نے برہان سے گلے لگتے ہوے تنگ کرنے کے لیے کہا
کرلو یقین موٹی
بچوں کو دیکھ کر
برہان نے بچوں کی طرف اشارہ کرے ہوے کہا
بچوں کو دیکھ کر ہانی نے خوشی سے چیخینا شروع کردیا
سب نےاپنے کانوں پر ہاتھ ہی رکھ لیے
تم پاگل ہوکیا
کچھ تو شرم کر لو ہسپتال میں ہو تم
پہلی بار تو بچے نہیں دیکھ رہی تم
تنزیلہ نے ڈانٹتے ہوے کہا
ہاے ماما یہاں تو بخش دے مجھے آپ
بچے بہت دیکھے لیکن اپنے بھائی کے تو پہلی بار دیکھ رہی ہو
ہانی نے بچوں کو پیار کرتے ہوے کہا
بےبی بواے تو بالکل تمہارے جیسا ہے تم بالکل ایسی تھی بالکل ایسی آنکھیں ایسی ہی ناک تھی تمہاری
مہر صاحب نے ہانی کے سر پر پیار کرتے ہوے خوشے سے کہا
سب بہت خوش تھے زیان بالکل خاموش کھڑا تھا
زیان بھائی آپ کیوں خاموش کھڑے ہے
زیان نے مسکراتے ہوے پوچھا
میں انتظار کر رہا بچوں کو ان کی پھوپھو کب چھوڑے گی اور کب مجھے پیار کرنے کا موقع ملے گا
زیان نے بچوں کی طرف دیکھتے ہوے کہا
زیان کی بات پر سب مسکرارہے تھے
زیان نے دونوں بچوں کو گود میں اٹھا کر خوب پیار کیا
بیٹے کا نام ہانی رکھے گی
کیونکہ وہ بالکل اس جیسا ہے
بیٹی کا نام میں رکھو گی کیونکہ وہ میری جیسی ہے پری نے خوش ہوتے ہوے کہا
برہان نے بےبی بواے کا نام سوچا ہوا تھا لیکن پری کی بات پر وہ خاموش ہوگیا
اسے پتہ تھا اس کی بہن اس کے بن کہیے ہی سب سمجھ جاتی ہے جو وہ سوچتا ہے وہ پہلے ہی اس کی بہن کی زبان پر آجاتا ہے
بلاج برہان
ہانی نے بےبی کو پیار کرتے ہوے نام بتایا
سب کو نام بہت پسند آیا
برہان خوش تھا آج بھی اس کی بہن بن کہیے سجھ گی تھی
برہان نے بلاج نام ہی سوچا تھا
پلوشہ برہان
پری نے بیٹی کو پیار کرتے ہوے نام بتایا سب کو ہی نام بہت پسند آے تھے
روحا کو سب مس کررہے تھے
روحا برہان کے بچوں کا سن کر بہت خوش تھی جلد ہی اس نے واپس آنے کا وعدہ کیا تھا.
———————————————————
ہارون ہارون یہ کیا کر رہے ۔روحا نے گھبراتے ہوے پوچھا ۔۔
ہارون جیسے ہی واش روم سے باہر نکلا ۔روحا کو الماری کے پاس کھڑے پاتے قریب چلا گیا ۔۔
جب روحا کو اپنی کمر پر ہارون کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا ۔تبھی وہ گبھرا گی ۔
کچھ نہیں میری جان اپنی بیوی کو مانا اور رومنیس کر رہا ہو ۔
ہارون نے ہستے ہوے روحا کا رخ اپنی طرف کرتے کہا ۔
ہارونننننن ۔۔
روحا نے جیسے ہی ہارون کی طرف دیکھا ۔ہارون کو شرٹ لیس دیکھ کر چیخ پڑی ۔
پہلے شرٹ پہن کر آے اور میں ناراض نہیں ہو ۔
روحا نے اپنی آنکیھں بند کرتے ہارون سے گھبرا کر کہا ۔۔
کیوں کیا ہوا میری شیرنی کو کل تو سارا دن تم شیرنی بن کر گھوم رہی تھی ۔اب بیگھی بلی بنی ہو ۔
ہارون نے روحا کی حالت انجواۓ کرتے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک میں لے کر دیوار سے پن کرتے ہوے شرارتی انداز سے پوچھا ۔۔
ہارون۔۔
روحا بس اتنا بول پای ویسے بھی ہارون کے کلون اور جسم کی خوشبو روحا کو مدہوش کر رہی تھی ۔۔
جی جانِ ہارون ۔
ہارون نے روحا کے لبوں کو فوکس لے کہا ۔جو آنکیھں بند کیے اس کے ہوئٹ کانپ رہے تھے ۔
کیا ڈھونڈ رہی تھی تم ۔کافی دیر بعد ہارون خودی بولا ۔
روحا بس خاموش کھڑی ہارون کے دل کی ڈھرکن کی آواز سن رہی تھی جو اس کے بے حد پاس کھڑا تھا ۔
ہارون آپ کی ہاٹ بیٹ اتنی تیز کیوں ہے روحا نے اچانک اپنا ہاتھ چھڑوا کر ہارون کے دل کے مقام پر رکھتے ہوے پریشانی سے پوچھا ۔۔۔
وہ پنک روز جب تم ساتھ ہوتی ہو میری ایسی ہی دل کی ہاٹ بیٹ تیز ہوتی ہے ۔
ہارون نے خوش ہوتے روحا کا ہاتھ پکڑتے چوم کر کہا ۔
روحا خاموش رہی ۔
اچھا بتاٶ کیا ڈھونڈ رہی تھی ۔ہارون نے دوبارہ روحا کا ہاتھ دیوار سے پن کرتے پوچھا ۔۔
وہ برہان کے بچوں کا سامان دیکھ کر رکھ رہی تھی کیوں کہ ہم کل جارہے نہ ۔
روحا نے جلدی سے جواب دیا ۔
اوو ہاں سالے صاحب نے ترقی کی ہے ویسے کچھ زیادہ ہی فاسٹ ہے تمھارا بھای دو بچوں کا باپ بن گیا ۔
اور میں صرف ایک بیٹی کا باپ بنا یہ غلط ہے پنک روز ۔
ہارون کے اپنے ایک ہاتھ کی انگیاں روحا کی گردن پر چلاتے ہوے کہا۔۔
ہارون کوئ کہہ سکتا ہے کہ یہ باڈی بلڈر انسان بزنس ٹائیکون اتنا بے شرم ہے ۔
اگر کسی کو پتہ چل جاے تو کبھی آپ سے کوئ ڈیل نہ کرے ۔۔
روحا جس کی اب واقعی ہارون کے پاس کھڑی حالت خراب ہو رہی تھی ۔تبھی اپنی ابتر ہوتی سانسوں کے درمیان کہا ۔۔
اور میرے ہاتھ چھوڑ دے ہارون درد ہو رہا ہے یہ باڈی کہاں سے بنائ ہے کتنے موٹے ہے آپ ۔
روحا نے رونے والی شکل بنا کر ہارون کے مسلز دیکھ کر طنز کیا ۔۔ ہارون کو کوئ ہوش نہیں تھی وہ بس اپنی پنک روز کو دیکھنے میں مصروف تھا۔
جیسے دیکھ کر روحا کی اپنی جان جاتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
ہاہاہا ۔ یہ باڈی تمھارے لیے بنای ہے پنک روز کتنی لڑکیاں مرتی ہے مجھے دیکھ کر ایک تمہں قدر نہیں اور میں تو تب سے بے شرم ہو میری جان جب تم اس دنیا میں آی تبھی میری پنک روز بن چکی تھی ۔۔
دیکھ لو تب سے نظر ہے میری تم پر اور تم کہتی ہو میں رنگ برنگ لڑکیوں کی نظر میں رہتا ہو ۔
ہارون نے جان بوجھ کر روحا کو بات سنائ ۔
نہیں ہارون وہ میں بس ویسے ہی کہا ۔مجھے پتہ ہے آپ بہت اچھے ہے ۔
روحا نے جلدی سے اپنی صفائ دی کہ کہیں ہارون واقعی ناراض نہ ہو جاے ۔۔
ہاہاہا مذاق تھا میری شرنی چلو مجھے کس کرو اچھے والی تاکہ میرا دن اچھا ہو ۔
ہارون نے اپنا چہرہ روحا کے چہرے کے قریب لاتے ہوے کہا ۔۔
لیکن میں کیسے ۔۔
روحا کی یہ بات سنتے ہی حالت خیر ہو چکی تھی ۔
جیسے میں کرتا ہو رکو میں بتاتا ہو ۔
ہارون نے شرارت سے کہا ۔
رکیں انکیھں بند کرے آپ
۔روحا نے جلدی سے گھبرا کر کہا ۔۔
اور جلدی سے ہارون کے ماتھے پر کس کرتی پیچھے ہو گی ۔یہ کیا پنک روز دوسری والی کس چاہے ابھی۔ہارون نے واپس روحا کو اپنے حصار میں لیتے روٹھے پن سے کہا ۔
اف کیسے کرو نہ کی تو ہارون ناراض ہو جاے گے ۔پنک روز کرو ورنہ اب میں کرو گا ۔
ہارون نے روحا کو سوچ میں مبتلا دیکھ کر دمھکی دی ۔
جی ۔۔
روحا نے گھبراتے ہوے اپنے ہوئٹ ہارون کے لبوں کے پاس لے جا کر رک گی ۔۔
پنک روز یہ کام بھی مجھے کرنا پڑے گا ۔تب تک تم سکھ جاو گی ۔
ہارون نے یہ کہتے ہی اچانک روحا کے لبوں پر اپنے ہوئٹ رکھ دے ۔۔
اب روحا مکمل ہارون کی قید میں پچھتا رہی تھی جو روحا کے جسم کی خوشبو میں مدہوش ہوا اپنی پیاس بھجا رہا تھا ۔۔۔
——————————–
زیان زیان
ہانی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوے زیان کو پکارا جو پکار کم چینخ زیادہ رہی تھی
کیا تکلیف ہے کیوں اتنا اونچی بول رہی ہو
ادھر ہی بیٹھا ہو کوئی سرحد کے پار نہیں
جو تمہاری آواز نہ سنائی دے مجھے
زیان نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوے غصے سے کہا
زیان کام میں مصروف تھا ہانی کا شور سن کر وہ ڈسٹریب ہورہا تھا
اس لیپ ٹاپ کو چھوڑے
ہانی نے زبردستی زیان سے لیپ ٹاپ لے کر بیڈ پر رکھا اور خود اس کی تھائی پر بیٹھ گی دونوں طرف ٹانگیے کرکے
زیان تو ہانی کے اس عمل پر حیران رہ گیا
کیا مسلہ ہے اب تمہیں زیان نے بیزاریت سے پوچھا
یہ میں نے کباب بناے ہے آج روحا آپو سے پوچھ کر کھا کر بتاے کیسے بنے ہے ٹیسٹی ہوگے ضرور
آخر میں نے اتنی محنت کی ہے
ہانی نے چہکتے ہوے کہا
کباب کی شکل دیکھ کر زیان کی ہنسی ہی چھوٹ گی
کیوں کہ وہ ٹیسٹی کباب کم جلے ہوے کباب زیادہ لگ رہے تھے
زیان کی ہنسی دیکھ کر ہانی کو غصہ آگیا
ہنس کیوں رہے ہے کباب کھاے نہ
ہانی نے سنجیدگی سے کہا
میں تو نہیں کھاو گا یہ جلے ہوے کباب
زیان نے قہقہ لگا کر کہا
یہ چٹنی دیکھ رہے ہے آپ
یہ ہی گرا دینی ہو آگر نہ کھاے تو
تحمل سے دھمکی دی گی
میں تو نہیں کھاو گا یہ کباب
زیان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا
اور ہانی نے غصے میں زیان کی شرٹ پر چٹنی گرا دی
تم واقعی پاگل ہو
زیان نے اپنی بلیک ٹی شرٹ کو دیکھ کر غصے سے کہا
اور شٹ اتار دی
ہانی تو زیان کو شرٹ کے بغیر دیکھ کر نظریں جھکا گی
اس کی یہ حرکت زیان سے چھپی نہ رہ سکی
آج تو تم بلش کررہی ہو
اس دن تو بےشرموں کی طرح گلے لگ گی تھی
زیان نے ہانی کے لال ہوتےگالوں کو چھوتے ہوے طنزیہ انداز میں کہا
اس میں کیا بے شرمی اپنے شوہر کے گلے لگی تھی میں کسی غیر کے نہیں
ہانی نے زیان کے دل پر ہاتھ رکھتے ہوے مسکرا کر کہا
ہانی کے ہاتھ کا نرم لمس محسوس کرکے زیان کے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ گی
یہ کیا کررہی ہو زیان نے حیرانی سے پوچھا
وہ ہانی کے عمل پر حیران تھا
اس کی بات کا جواب دیے بنا ہانی نے اپنے دہکتے لب زیان کے دل پر بنے H پر رکھ دیے
ہانی کے لبوں کا لمس محسوس کرتے ہی زیان پاگل ہورہا تھا وہ پیچھے کی طرف گردن کرکے انکھیں موند کر ہانی کے لمس کو محسوس کررہا تھا جو H پر اپنے لب رکھ کر شاید آٹھانا بھول گی تھی
زیان
ہانی نے مسکراتے ہوے پکارا
ہانی کی آواز پر زیان ہوش میں آیا
اور ہانی نے زیان کو بنا موقع دیے اس کے منہ میں کباب رکھ دیا
ایک ساییڈ سے زیان کے منہ میں اور دوسری طرف سے ہانی کی منہ میں
زیان حیران تھا ہانی کے ہر عمل میں
ہانی اپنی طرف سے کھا رہی تھی اور زیان ہانی کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا کھا رہا تھا
کباب ختم ہونے والا تھا اور ہانی کو خود کو گھبراہٹ ہورہی تھی کیونکہ اس نے اپنے جلے ہوے کباب زیان کو کھلانے کے چکر میں یہ سب کیا تھا
لیکن اگلے مرحلے کا سوچ کر ہی اس کع گھبراہٹ ہورہی تھی
ہانی اور زیان کے ہونٹوں میں بہت کم فاصلہ رہ گیا تھا دونوں کو سانس ایک دوسرے کے چہرے کو چھو رہی تھی
ایک دوسرے کی آنکھوں میں دونوں دیکھ رہے تھے
ہانی کو تو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہورہی تھی
اچانک زیان نے ہانی کو اپنے اوپر سے ہٹایا
اور اور اسے صوفے پر لٹا کر اس پر جھک گیا
اس سارے عمل پر ہانی حیران تھی
تم سے نہیں ہو گا چشمیش
یہ سب کرنے کے لیے محبت چاہت کی ضرورت ہوتی ہے جو تم جیسی بے حس لڑکی کے لیے ناممکن ہے
زیان نے ہانی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے افسوس سے کہا
اس دن جیسے مجھے ہگ کیا اور جو کہہ رہی تھی سب روحا بھابھی کی کہنے پر کیا
آج بھی ان کے کہنے پر سب کر رہی تھی
افسوس میں خوش ہورہا تھا کہ تم اپنی مرضی سے سب کر رہی ہو
تمہاری آنکھوں میں سب صاف نظر آجاتا ہے حنین
اور مجھے دکھ اس بات کا ہورہا تمہارے میرے قریب آنے سے میں خوش کیوں ہوگیا
جبکہ مجھے معلوم ہے یہ سب تم خود نہں دوسروں کے کہنے پر کر رہی ہو
گھر بھی دوسروں کے کہنے پر آئی ہو
زیان نے افسوس سے کہا
ایسا نہیں ہے زیان
ہانی نے گھبراتے ہوے کہا
وہ حیران تھی زیان کو کیسے پتا چلا سب
اتنی ہمیت کرکے آئی تھی سب ہی فضول گیا
ہانی نے افسودگی سے سوچا
ابھی بھی جھوٹ کہہ رہی ہو
یار بس کرو اب
زیان نے ہانی کے اوپر سے آٹھتے ہوے کہا
اور کمرے سے چلا گیا
ہانی افسوس کرتی رہ گی
میں نے کیوں روحا اپو کی بات پر عمل کیا
خود سے بھی تو کچھ کر سکتی تھی
ہانی نے دکھی ہوتے ہوے سوچا
