Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 19)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
عمارہ اسامہ دوبئ چلے گے تھے
جانے سے پہلے وہ ہانی سے ملنے گی تھی
عمارہ نے ہانی کو سمجھایا تھا
اپنے گھر واپس جانے کی تلقین کی تھی
لیکن ہانی اس کی بات پر خاموش رہی
جاتے وقت عمارہ بہت روئی
اسامہ نے اسے سمجھا لیا تھا جلد ہی وہ واپس آے گے
———————————
ہانی پورا مہنہ علیزے کے پاس رہی اس کا خیال رکھ رہی تھی
علیزے نے اپنی بیٹی کا نام حجاب آرشیہ رکھا تھا
اپنی بیٹی کا نام بابر نے ہی سوچا ہوا تھا بابر کی خواہش پر ہی علیزے نے اپنی بیٹی کا نام رکھا تھا
اس ایک مہنے میں ہانی نے سواے برہان کے کسی سے بات نہیں کی تھی
اسے گھر واپس آنے کا بھی کسی نے نہیں کہا تھا سب چاہتے تھے ہانی زیان سے دور رہ کر ہی کوئی بہتر فیصلہ کر لے
————————-
جنت کو اب ہانی کے بغیر عادت ہوگی تھی
روح اب اسے آرام سے سنبھال لیتی تھی
علیزے بہت خوش تھی ہانی کے آنے کی وجہ سے بابر کی طرف اس کی توجہ کم ہوگی تھی
ہانی کی باتیں سن سن کر علیزے کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آنے لگ گی تھی
ہانی بہت خوش تھی علیزے اور حجاب کے ساتھ رہ کر تو وہ بھول ہی چکی تھی
کوئی اس کا انتظار بھی کر رہا ہے
—————————————–
ہارون ہم کہا جارہے ہے
روحا نے سامان پیک کرتے ہوے پوچھا
(ہارون نے روحا کو صرف سامان پیک کرنے کا کہا تھا)
ہم لاہور جا رہے ہے
تحمل سے جواب دیا گیا
لیکن کیوں
روح نے نہ سمجھی سے پوچھا
کیونکہ میں چاہتا ہو ہم وہاں رہے وہی سیٹل ہو جاے
روحا میری ماما لاہور سے تھی
ان کی خواہش تھی کہ وہاں ایک سکول ہو یہاں بچوں کو مفت تعلم ملے ہر طرح کی سہولت موجود ہو
بابا تو یہ خواب پورا کیے بنا چلے گے
آج مجھے اللہ نے اتنی ہمیت دی ہے میں اپنی ماما کا خواب پورا کرسکتا ہو
اس لیے میں نے لاہور جانے کا فیصلہ کیا ہے
لیکن وہاں رہنا ضروری تو نہیں نہ ہارون
ابھی تو میں واپس آئی ہو
مجھے موقع بھی نہیں ملا سب کے ساتھ اچھے سے وقت گزارنے کا
روحا نے کنفیوز ہوتے ہوے کہا
روحا میرا یہاں دل نہیں کرتا رہنے کا
ماما بابا کی یاد آتی ہے
ماموں نے جو کیا وہ سب یاد آجاتا ہے
میں تو اتنے زیادہ لوگوں میں رہنے کا عادی بھی نہیں ہو میں تو چاہتا تھا ہمیشہ امریکہ رہے
لیکن زیان کی وجہ سے آنا پڑا
لاہور سے اسلام آباد آنا مشکل نہیں ہے
جب چاہو آسکتی ہو
مجھے سب سے دور رہنا ہے اب
تم سوچ لو لاہور جاو گی یا امریکہ
ہارون نے پیار سے پوچھا
لاہور ہی چلتے ہے وہاں سب مجھ سے ملنے بھی آسکتے ہے
روحا نے مسکرا کر کہا
مجھے معلوم تھا میری پنک روز مجھے ضرور سمجھے گی
ہارون نے روحا کے لبوں کو چھوتے ہوے کہا
پیچھے ہٹے سامان پیک کرنا ہے میں نے
روح نے ہارون کو دھکا مارتے ہوے کہا
پنک روز
وہاں جاکر مجھے جلدی بیٹا چاہے تاکہ اپنے بچوں کے نام پر ہی سکول نام رکھ سکوں
آج رات ہی اس بارے تسلی سے سوچنا ضرور
ہارون نے نہاہت سنجیدگی سے کہا
لیکن اس کی آنکھوں میں صاف شرارت نظر آرہی تھی
ہاروننننننننننننننن
روحا نے کشن اٹھا کر مارا
ہارون کے قہقہے چاروں طرف گونج رہے تھے
— —————————-
ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہیپی برتھڈے لیٹل بےبی گرل
ہیپی برتھڈے ٹو یو
سامنے لیپ ٹاپ پر ویڈیو کال پر ہانی کو دیکھ کر سب ایک ساتھ وش کررہے تھے
ہانی سب کو دیکھ کر رورہی تھی
پہلی بار وہ اپنے برتھڈے پر سب سے دور تھی
اس کے برتھڈے پر روحا اور برہان جو مستاں کرکے اسے وش کرتے تھے وہ سب یاد کر کے ہانی رورہی تھی
اے موٹی رو نہ
تجھے پتہ نہ مجھے کتنا غصہ آتا ہے جب تو روتی ہے
برہان نے مصنوئی غصے سے کہا
برہان کی بات پر سب مسکرا رہے تھے
دفع ہو لمبو یہ بتا گفٹ تیار ہے نہ میرا
ہانی نے چہکتے ہوے پوچھا
شکل دیکھی ہے اپنی گفٹ دینے کے لائق نہیں ہے
تجھے تو کوئی عقل ڈونیٹ کردے
بس ایسے کسی انسان کی تلاش میں ہو میں
برہان نے تنگ کرنے کے لیے کہا
خود تو جو تیرے پاس تھوڑی سی عقل تھی
اس چڑیل پری کے آنے سے وہ بھی ختم ہوگی
ہانی نے پری کو بھی درمیان میں گھسیٹ لیا
اے چڑیل چشمیش
دونوں اپنی لڑائی میں مجھے نہ لے کر آو
دفعہ ہو لڑومرو دونوں
پری ناراض ہوکر چلی گی
اسے ہارون کے سامنے خود کے لیے لفظ چڑیل سن کر بےعزتی محسوس ہوئی تھی
ہارون اس نوک جوک کو بہت انجواے کررہا تھا
لٹل پرنسیس آپ جلدی واپس آجاو
ہارون نے مسکراتے ہوے کہا
ہارون کی بات پر ہانی خاموش ہوگی
سب سے بات کرنے کے بعد ہانی سونے کے لیے لیٹ گی
علیزے اسامہ عمارہ نے بہت اچھے سے وش کیا تھا
ہانی بہت خوش تھی ————————————
میں صبح گھر چلی جاو گی وہی جاکر برتھڈے سیلبرہٹ کرو گی
ہاے سب سے گفٹ ملے گے
ہارون بھائی نے تو پہلی بار دینا ہے پتہ نہیں کیا دے گے
خیر ہانی تو کیوں سوچ رہی ہے
جو بھی دے گے اچھا ہی دے گے
مجھے تو بس گفٹ چاہے
ہانی سب سوچتے ہوے ہی خوش ہورہی تھی
اور سو گی
ہانی نے ابھی آنکھیں بند کی تھی اسے اپنے اوپر وزن سا محسوس ہوا
ہانی نے جب آنکھیں کھول کر دیکھا
تو حیران پریشان رہ گی
آ”””””
ہانی کے بولنے سے پہلے ہی اسے بےہوش کر دیا گیا
— ———————-
ارے جان برہان
ناراض نہیں ہوتے
میری معصوم سی بہن کی باتوں کا برا نہ مانا کرو تھوڑی جلد بازی میں کچھ بھی کہہ جاتی ہے
لیکن دل کی بری نہیں ہے
برہان نے سنجیدہ ہوکر کہا
اف برہان تم بھی نہ پاگل ہو
میں ناراض نہیں بس مجھے برا لگا تھا
لیکن اب میرا موڈ بالکل ٹھیک ہے
پری نے مسکراتے ہوے کہا
اچھا موڈ ٹھیک ہے تو اپنے شوہر کو آج ایک کس تو دے دو یار وہ بھی میرے ہونٹوں پر
برہان نے پری کو حصار میں لیتے ہوے کہا
شرم کرلے کچھ
پری نے ڈاپٹتے ہوے کہا
لو اس میں کیا شرم
اپنی بیوی سے ہی کہا ہے حق ہے میرا
اور اگر شرم میں ہی رہ جاتا تو دو دو بچوں کی خوشخبری نہیں ملنی تھی
برہان نے آنکھ ونک کرتے ہوے کہا
نہایت ہی بے شرم ہوگے ہو تم
پری نے غصے سے کہا
تمہارے گال اتنے لال ٹماٹر جیسے ہورہے ہے
سمجھ نہیں آرہی غصے سے ہورہے یا شرمانے سے
برہان نے پری کے گالوں کو چھوتے ہوے کہا
برہان آپ
پری کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی برہان نے اپنے لب اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے
تم نے تو کرنی نہیں تھی اس لیے میں نے خود ہی کرلی چلو سو جاو اب رات بہت ہوگی
برہان نے مسکراتے ہوے پری کا سر اپنے سینے پر رکھتے ہوے کہا
برہان کی بات پر پری نے مسکرا کر آنکھیں بند کرلی
———————————
ہانی کو جب ہوش آیا خود کو بیڈ پر لیٹے ہوے پایا
جس کی بیڈ شیٹ ریڈ کلر کی تھی ہر طرف پھول ہی پھول تھے
ہانی نے بیڈ سے اتر کر کمرے کو غور سے دیکھا اس کا حلق تک خشک ہوگیا
ہر طرف ریڈ کلر کے غبارے پھول لایٹز سب دیکھ کر ہانی حیران تھی
سامنے ہی اسے ریڈ باربی میکسی ہینگ کی ہوئی نظر آئی
جس کا اگلا اور پچھلا گلا کافی ڈیپ تھا
اس پر لکھے الفاظ پڑھ کر ہانی کی زبان ہی تالو سے چپک گی
(اگر یہ میکسی نہیں پہنو گی انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی )
ہانی نے الفاظ پر جب غور کیا کپڑے لے کر ڈراسینگ روم چلی گی
ہانی جب تیار ہوکر باہر آئی اپنے سامنے زیان کو دیکھ کر حیران رہ گی
ہانی کو دیکھ کر زیان خود بھی مہبوت رہ گیا
ہانی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑی رہی
ہیپی برتھڈے حنین
زیان نے ہانی کو چشما پہناتے ہوے کہا جس کا فریم ریڈ کلر کا تھا
اس چشمے کے بغیر اچھی نہیں لگتی تم
زیان نے مسکرا کر کہا
ہانی خاموش رہی
چلو آو کیک کاٹتے ہے
زیان نے ہانی کا ہاتھ پکڑ کر کیک کے پاس لاتے ہوے کہا
ہارٹ شیپ ریڈ کیک ہانی کو بہت پسند آیا
ہانی نے بنا کسی آواز کے کیک کاٹا اور خاموشی سے وہی بیٹھ گی
زیان نے کیک کا پیس ہانی کے سامنے کیا
وہ تو پریشان ہی ہو گی
زیان ایسے ری ایکٹ کر رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو
ہانی نے آرام سے کیک کھا لیا
لیکن زیان کو نہ کھلایا
ٰزیان نے ہانی کے ہونٹوں کے اردگرد کیک لگا دیا
ہانی بالکل خاموش کھڑی تھی
اس کی خاموشی زیان کو بالکل پسند نہ آئی
زیان نے ہانی کی پچھلی گردن کو ہاتھوں کی گرفت میں لے کر اپنے ہونٹ اس کے لبوں پر رکھ دیے ہانی تو زیان کے لمس سے ہی تڑپ گی
زیان ہانی کے وجود کی خوشبو سے پاگل ہورہا تھا
اس کی قربت زیان شاہ کو مدہوش کررہی تھی
زیان ہانی کے گداز لبوں کو آزادی دے کر گردن سے نیچے گہرائیوں تک آگیا
ہانی نے زیان کی شرٹ کو زور سے کھنچا
اچانک زیان ہوش میں آیا اور پیچھے ہوگیا
ہانی اپنی حالت کو سنبھال رہی تھی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو کنٹرول کر رہی تھی
جب اچانک زیان نے پھر اس کے ہونٹوں پر حملہ کر دیا اب زیان کے لمس میں شدت تھی جنون تھا تڑپ تھی
زیان کے لمس میں اتنی شدت تھی ہانی کے ہونٹوں سے خون نکل آیا
اپنے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس کرکے زیان نے ہانی کو زور سے دھکا دیا
ہانی بیڈ پر گرگی
ہانی کو سنبھلنے کا موقع دیے بنا ہی زیان اس پر جھک گیا
اور اس کے ایک ایک نقش پر اپنا لمس چھوڑتا گیا
ہانی کی آنکھوں میں آنسو آگے
بس اتنی ہی برداشت ہے تم میں چشمیش
ابھی تو تم نے میری شدت تڑپ جنون کو برداشت کرنا ہے
زرا ہمیت پیدا کرو سب برداشت کرنے کی
زیان نے ہانی کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا
ہانی بالکل خاموش تھی کچھ نہ بولی
کیسی بیوی ہو تم جس نے آج تک اپنے شوہر ہو سمجھنے کی کوشیش نہیں کی
لڑکی تو سامنے والے کو دیکھ کر سمجھ جاتی ہے کہ اس کی نیت کیسی ہے
ایک تم ہو جو اپنے شوہر کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت نہ دیکھ سکی
وہ شوہر جس نے آج تک تمہں ہاتھ بھی نہیں لگایا پھر بھی اسے تم نفس کا کمزور انسان سمجھتی رہی
میاں بیوی تو ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہے لیکن تم نے ہم دونوں کے رشتے کو ہی بےلباس کردیا سب کے سامنے
زیان نے غصے سے چلاتے ہوے کہا
میں نے برہان کے علاوہ کسی سے کچھ نہیں کہا تھا
ہارون بھائی کی ضد پر میں نے سب بتایا تھا
زیان
ہانی نے زیان کے ہاتھ کو پکڑتے ہوے کہا
ہاتھ مت لگاو
مجھے نفرت ہے تم سے صرف نفرت
ایک وقت تھا جب تمہاری قربت مجھے سکون دیتی تھی آج تمہاری قربت سے مجھے نفرت ہورہی ہے
صرف نفرت
ہانی میں محبت کرنے لگا تھا تم سے
دن رات سوچتا تھا کیسے معافی مانگوں گا تم سے
لیکن تم بےحس لڑکی نکلی
جسے زرا میرا احساس نہ ہوا
میں کچھ بول نہیں سکتا تھا کوئی حرکت نہیں کرسکتا تھا
لیکن میں محسوس سب کر سکتا تھا سب سن سکتا تھا
تم ایک دن بھی نہ آئی مجھ سے ملنے
میں روز تڑپتا تھا دعا کرتا تھا تم بس ایک بار مجھے ملنے آجاو لیکن تم نہ آئی
اس دن سے نفرت ہوگی ہے تم سے صرف نفرت
زیان نے غصے نفرت سے کہا
ہانی تو دنگ رہ گی زیان کے آظہار محبت پر
کیا وہ اتنی انجان بن گی تھی یا انجان بنے کا ڈرامہ کر رہی تھی
ہانی کو خود کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
میں نے تمہارے ساتھ جو کیا سب میرا غصہ تھا
تم میری بیوی ہونے کے باوجود بھی میں نے تمہں اس رات ہاتھ تک نہ لگایا
تمہارے ماں باپ کو کال پر اس لیے دھمکایا تھا تاکہ تمیں کہیں اور رخصیت نہ کردے
اگر میں انھیں نہ دھمکاتا تم فورا انھیں سب بتا دیتی اور وہ تمیں جلد مجھ سے دور کردیتے
میرے کہنے پر انہوں نے برا سلوک کیا تم سے
مجھے پتہ تھا ان کے برے سلوک سے ہی تم مجھ سے شادی پر رضامند ہوگی اگر پیار سے وہ یا میں کہتا تم کبھی راضی نہ ہوتی
زیان کی سب باتیں سن کر ہانی کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے کیا کہے
ہانی تمیں آج ایک راز بتانا چاہتا ہو
جو میں نے ہمیشہ سے سوچا تھا صرف اپنی بیوی کو بتاو گا
اسے ہی بتاو گا آخر مجھے کیوں نفرت ہے لڑکیوں سے اور میرا ماضی کیا ہے
میرا ماضی کوئی نہیں جانتا
ہارون اسامہ بھی نہیں
زیان نے ہانی کو باہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر بٹھاتے ہوے کہا ہانی تمہارے کندھے پر سر رکھ لو
آج میں رونا چاہتا ہو
زیان نے اجازت مانگی
زیان کی بات پر ہانی تڑپ ہی گی
اور اس کے گلے لگ گی
زیان نے ہانی کو لٹایا اور خود اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گیا
ہانی کا ہاتھ زیان کے بالوں میں تھا جس کی وجہ سے زیان کو بہت سکون مل رہا تھا
سکون کی وجہ سے زیان نے آنکھیں موند لی
————————
ماضی
زیان ایک غریب گھر سے تعلق رکھتا تھا
زیان کے والد غریب انسان تھے
زیان 5سال تھا جب اس کے والد ایک ایکسیڈنٹ میں وفات پاگے
زیان سے بڑی ایک بہن تھی جس کا نام نجمہ تھا جس کی عمر تقریبا چودہ سال سے زیادہ تھی
زیان کی والدہ نے بہت مشکل سے ان کی پرورش کی
لوگوں کے گھروں میں کام کرکے
——————————————-
گڑیا باجی کہا ہے آپ
دس سالہ زیان نے گھر میں داخل ہوتے اپنی بہن کو آواز لگائی
لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر زیان پریشان ہوگیا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا
باجی یہ انکل کون ہے
آپ ان کے ساتھ کیا کررہی ہے
پہلے تو میں نے انھیں کبھی نہیں دیکھا یہاں
زیان نے کمرے میں جاتے ہی ایک ہی سانس میں سب سوال پوچھ لیے
نجمہ جو اپنے کام میں مصروف تھی زیان کو سامنے دیکھ کر پریشان ہوگی
تم یہاں کیا کررہے ہو جاو یہاں سے
نجمہ نے زیان کو ڈاپٹتے ہوے کہا
نہیں جاو گا جب تک آپ مجھے بتاے گی نہیں یہ انکل کون ہے
زیان نے سامنے بیٹے 22سالہ نوجوان کو دیکھ کر پوچھا جو گندی غلیظ نگاہوں سے نجمہ کو دیکھ رہا تھا
اس کا دیکھنا زیان کو بالکل پسند نہ آیا
(بھائی چھوٹے ہو یا بڑے وہ بہنوں کے محافظ ہوتے ہے)
زیان نے گلاس اٹھا کر اس نوجوان کو مارا
اسے اتنا غصہ آیا اس نے زیان کو ریسوں سے باندھ دیا
اور زیان کےسامنے ہی اس کی بہن کے ذریعے اپنی ہوس پوری کرتا رہا
اس معصوم بچے کے سامنے ان دونوں کو شرم نہ آئی اس کے ننھے دماغ پر کیا اثر پڑے گا
نجمہ بھی بھول چکی تھی اس کے سامنے اس کا بھایئ ہے وہ بھی خوشی سے اپنا آپ اس غلیظ انسان کے سامنے پیش کررہی تھی
زیان کا ڈر اس لیے نہیں تھا کیوں کہ وہ سمجھی تھی یہ ابھی بچہ ہے کچھ سمجھ نہیں سکے گا
لیکن وہ چھوٹا بچہ سب سمجھ گیا تھا وہ سب چھوٹی عمر میں ہی اس کے دماغ میں قید ہوگیا تھا
دکھ تو اسے اس بات کا تھا کہ اس کی بہن سب خود اپنی مرضی سے کر رہی ہے
(لڑکے لڑکیوں کی نسبت جلدی ہی میچور ہو جاتے ہے جس عمر میں لڑکیاں ابھی بچن سے باہر نہیں آتی وہی بہت سے لڑکے بچپن میں ہی میچورٹی کا لباس اوڑھ لیتے ہے وجہ ہوتی ہے صرف حالات)
————————–
زیان نے اپنی امی کو کچھ نہ بتایا
اور نجمہ کا وہی حال ہوا جو بےحیا لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنے ماں باپ کی عزت کا خیال نہیں کرتی اپنا آپ شوق سے دوسروں کے سامنے پیش کردیتی ہے
نجمہ کا محبوب اس کی بےحیائی ساری دنیا والوں کے سامنے لے آیا
بدنامی کی وجہ سے نجمہ نے خودکشی کرلی
اور اس کی خودکشی کی وجہ سے لوگ زیان کی ماں کو باتیں سناتے تھے
اس کی ماں یہ صدمہ برداشت نہ کرسکی اور ہارٹ اٹیک سے ان کی وفات ہوگی
زیان اکیلا رہ گیا
عمارہ تب دو سال کی تھی زیان کے اگے پیچھے کوئی رشتے دار نہ تھا
اپنی بہن کے لیے زیان نے مزدوری شروع کر دی
جس عمر میں بچے اپنا بچپن انجواے کررہے تھے اس عمر میں زیان مزدوری کررہا تھا
اچانک زیان کی خالہ آگی
جو کہ زیان کی امی کی کزن تھی اس کی کوئی اولاد نہ تھی شوہر کا انتقال ہوچکا تھا وہ زیان گڑیا کو اپنے ساتھ لے گی
وہ بہت امیر تھی زیان کا سکول میں ایڈمیشن کروایا یہاں اسے اسامہ اور ہارون ملے تھے (ہارون امریکہ جانے کی وجہ سے جلد ہی دور ہوگیا تھا زیان اسامہ سے لیکن ان کی دوستی میں کمی نہیں آئی تھی)
زیان نے دن رات ایک کردیا ہر وقت صرف پڑھائی کرتا وہ کم عمر میں ہی سنجیدہ ہوگیا
(ایسے بہت سے لوگ دیکھنے کو ملتے ہے جو ہمیں بالکل خاموش سے سنجیدہ سے غصے والے نظر آتے ہے ایسے لوگوں سے نفرت کرنے کی بجاے انھیں سمجھنا چاہے کیونکہ ایسے لوگ کسی برے حادثے کا شکار ہوتے ہے)
زیان کی خالہ نے ساری جائیداد گڑیا اور زیان کے نام کردی وہ ان دونوں سے بہت پیار کرتی تھی اور جلد ہی وفات پاگی
زیان نے پولیس لائن جوائن کی
ڈی ایس پی کی پوسٹ ملتے ہی وہ بہت خوش ہوا
اس نے سب سے پہلے اپنی بہن کے گنہگار کو سزا دلوائی اور پھر آہستہ آہستہ زیان کے دل دماغ میں لڑکیوں کے لیے نفرت بڑھتی گی
کیونکہ اس کا شعبہ ایسا تھا یہاں وہ آے دن لڑکیوں کے ہی کیس ہینڈل کرتا تھا
اسے ہر لڑکی اپنی ہی بہن جیسی قصوروار لگتی تھی
اس میں زیان کا کوئی قصور نہ تھا
( کم عمری میں ہم جو دیکھے گے سنے گے وہی سب ہمارے دل دماغ میں قید ہوجاتا ہے اور اسی کے مطابق ہماری سوچ بن جاتی ہے )
————————————-
زیان اور ہانی پھوٹ پھوٹ کر رورہے تھے
ہانی کو بہت دکھ ہورہا تھا زیان کا ماضی ایسا ہوسکتا اس نے سوچا بھی نہ تھا
بس زیان رونا بند کرے اب اور نہیں بس
ہانی نے زیان کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا
تم میری زندگی میں آئی مجھے احساس ہوا سب ایک جیسی نہیں ہوسکتی
کیونکہ تم بہت معصوم ہو تم تو اپنے گھر والوں کے لاڈ پیار میں رہی ہو تمیں کیا معلوم باہر کی دنیا کیسی ہے
میں مانتا ہو شروع میں نے تمیں غلط سمجھا
کیونکہ تب تم میرے پاس میرے ساتھ نہیں تھی
لیکن جب تم میرے ساتھ میرے پاس تھی مجھے احساس ہوگیا تھا تم کیسی ہو
ہانی اس لیے تو محبت کرنے لگ گیا تھا
لیکن تم
تم ایک بےحس لڑکی ہو تم سے محبت کرنا محبت کی ہی توہین ہے تم نہیں سمجھ سکتی یہ سب
نفرت ہے مجھے صرف نفرت
زیان نے ہانی کے بازو کو دوبوجتے ہوے کہا
زیان میں
بسسس
تمہیں تمہارا برتھڈے گفٹ تو دیا نہیں میں نے زیان نے گلدان کو آئینے میں مارتے ہوے کہا
ہانی نے زور سے چینخ ماری
اور سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گی
زیان کانچ کا ٹکڑا اپنے دل کی جلد پر گھوما رہا تھا
زیان کیا کررہے ہے چھوڑے اسے
ہانی نے روتے ہوے کہا
زیان نے ہانی کی بات نہ سنی
اور کانچ سے دل پر H لکھ دیا
اس کی جلد سے خون نکل رہا تھا کافی سارا خون بہہ گیا تھا ہانی روکتی رہی لیکن زیان کا ہاتھ نہ روکا
مکمل اچھے طریقے سے H لکھ کر ہی وہ نیچے بیٹھ گیا
مت سمجھنا یہ کہ تمہاری محبت میں کیا یہ سب
صرف نفرت میں
میں نے تمہارے نام کا لفظ اپنے جسم پر لکھا ہے تاکہ مجھے یہ ہی یاد رہے تم صرف میری نفرت ہو صرف نفرت
زیان نے غصے نفرت سے چلاتے ہوے کہا
اور ہانی کی طرف دیکھے بنا وہاں سے چلا گیا
ہانی اسے پکارتی رہی لیکن اس نے ایک نہ سنی
