Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 18)

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

ڈاکٹر کیا ہوا ہے انھیں ہوش آیا یا نہیں

ہانی نے فورا آگے بڑھ کر پوچھا

برہان اسامہ ہارون روحا بھی وہی موجود تھے

وہ ہوش میں آگئے ہے

لیکن

لیکن کیا

ہانی نے بےتابی سے پوچھا

لیکن ہوسکتا ہے ان کی یاداشت چلی گی ہوگی

یا ان کا ذہنی توازن بگڑگیا چکا ہوگا

ڈاکٹر نے کنفیوز ہوتے ہوے بتایا

ڈاکٹر کی بات پر سب کو ہی سانپ سونگھ گیا

———————

اسامہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کس منہ سے اس کے سامنے جاو

ہارون نے پریشان ہوتے ہوے کہا

میرے خیال سے اس کے سامنے پہلے حنین کو جانا چاہے

اسامہ نے مشورہ دیا

حنین نہیں آپ دونوں جاو گے پہلے

عمارہ نے اپنا مشورہ دیا

نہیں عمارہ پہلے حنین کو ہی جانا چاہے

روحا نے اپنا مشورہ دیا

سب کی باتوں میں ہانی بالکل خاموش تھی

———————————–

جب برہان ہانی کے پاس آیا وہ پھوٹ پھوٹ کر رورہی تھی

برہان اب کیا ہوگا

وہ مجھے مار دے گا

ان آٹھ مہنوں میں مینے رورو کر اس گناہ کی معافی مانگی ہے جو میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا

اس دن میں نے جان بوجھ کا نہیں دھکا دیا تھا زیان کو میں روز یہ ہی سوچتی رہی وہ ہوش میں آکر میرے ساتھ کیا کرے گا

مجھے نہیں رہنا اس کے ساتھ مجھے بچا لو پلیز

میں نے اس کے ہوش میں آنے کی دن رات دعا کی

تاکہ میں اس سے معافی مانگ سکو اس حالت میں وہ میری وجہ سے ہی تھا

لیکن اب میں چاہتی ہو میں اس انسان کے سامنے نہ آو اس نے بھی تو غلط کیا ہے میرے ساتھ مجھے نہیں آنا اس کے سامنے مجھے دور رہنا ہے اس سے برہان

ہانی رورو کر اپنے دل کا غبار نکال رہی تھی

وہ تو بالکل ہی ڈرپوک بن گی تھی

برہان بھی ہانی کی باتیں سن کر رورہا تھا

کیسے اس کی بہن کی آنکھوں میں انجانا سا خوف ڈر تھا

رونا بند کرو

بسسس ہانی

اب نہ تم ڈرو گی نہ روگی

اب جو ہونا تھا ہوگیا

اب صرف وہی ہوگا جو تم چاہو گی

میں تمہارے ساتھ ہو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تمہں

برہان نے ہانی کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا

اب گھر چلو تم

جب تک تم زیان بھائی سے ملنا نہیں چاہو گی کوی تب تک تمہں مجبور نہیں کرے گا

اور پھر ہانی بنا زیان سے ملے گھر چلی گی

———————-

زیان چھت کو گھور رہا تھا

اس نے کسی کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا

سب ہی اس کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑے تھے

لالہ

عمارہ نے روتے ہوے پکارا

عمارہ کی تڑپ پر زیان نے اس کی طرف دیکھا

اس کے ہاتھوں میں ایک چھوٹے معصوم سے وجود کو دیکھ کر حیران رہ گیا

اور اٹھ کر بیٹھنے کی کوشیش کرنے لگا

اسامہ ہارون نے آگے بڑھ کر اسے بٹھانے میں مدد کی

زیان نے ان دونوں کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا

یہ میرا اذان ہے نہ

زیان نے اذان کو چومتے ہوے کہا

جی لالہ

حنین نے ہی اس کا نام رکھا ہے

عمارہ نے خوش ہوتے ہوے بتایا

———————

حنین کے نام پر زیان کےچہرے پر ایک سایہ سا چھا گیا جو کسی سے چھپا نہ رہ سکا

اس وقت وہاں سب موجود تھے

اور جس دشمن جاں کو دیکھنے کی خواہش تھی وہ ہی وہاں موجود نہ تھی

ہارون اسامہ نے رو رو کر معافی مانگی زیان سے ان کا رونا برداشت نہ ہوا

وہ تینوں گلے لگ کر بچوں کی طرح رو رہے تھے

روحا عمارہ بھی رونے لگ گی تھی

——————————-

ہارون تم نے اسامہ نے جو کیا وہ بالکل ٹھیک کیا مجھے اپنی غلطی کی سزا ملنی چاہے تھی

مجھے تم دونوں سے کوئی گلہ نہیں

زیان نے مسکراتے ہوے کہا

ہارون یہ تیری بیٹی ہے

زیان نے جنت کی طرف دیکھ کر پوچھا

ہاں تو خالو+چاچو بن گیا ہے

ہارون نے جنت کو زیان کے حوالے کرتے ہوے کہا

زیان لفظ خالو پر ہی اٹک گیا

کیا ہوا زیان بھائی

روحا کے پکارنے پر زیان ہوش میں آیا

جنت کی آنکھوں میں دیکھ کر زیان کو ہانی کی یاد آنے لگی

اور لگاتار اسے پیار کرنے لگا

اسے باربار چوم رہا تھا

اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنی آنکھوں سے لگا رہا تھا

اور اسے پیار کرتے کرتے ہی زیان رونے لگ گیا

اس کو روتے دیکھ سب ہی پریشان ہوگے

کیا ہوا بھائی کیوں رہ رہے ہے آپ

روحا نے پریشان ہوکر پوچھا

جو کچھ میں نے کیا ہے کیا میرا رب مجھے بیٹی جیسی نعمت سے نوازے گا

زیان نے روتے ہوے تڑپ کر کہا

زیان کی بات پر سب ہی تڑپ گے

آپ کیسی باتیں کررہے ہے بھای

ایسا نہیں سوچتے

جو کچھ ہوا اس میں قصور آپکا ضرور تھا

لیکن آپ نے ایسا بھی گناہ نہیں کیا جس کی آپ کو معافی نہ مل سکے

اس رات غصے میں بےقابو ہوکر آپ غلط کرنے جارہے تھے لیکن آپ کو جلد ہی میرے رب نے ہدایت دے دی آپ نے میری بہن کی عزت کا خیال کیا

ا س سے نکاح کیا

کوئی ناجائز عمل نہیں کیا آپ نے

آپ اللہ سے معافی مانگے

وہی معاف کرنے والا ہے

اور بہت جلد آپ کے ہاتھوں میں بھی بیٹی ہوگی

إن شاءالله

روحا نے تحمل سے سمجھایا

روحا کی باتوں پر زیان کو بہت حوصلہ ملا تھا

——————————–

زیان کو گھر آے ایک ہفتہ ہوگیا تھا

ہانی اس سے ملنے نہں آئی تھی

زیان نے خود کو عبادت میں مصروف کرلیا تھا

رورو کر اپنے رب سے اپنے کیے کی معافی مانگ رہا تھا

لیکن اس نے خود ہانی کو معاف نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا

جنت اذان کے ساتھ زیان خوش رہتا تھا

اس کے چہرے پر مسکان دیکھ کر سب ہی بہت خوش تھے

مہر صاحب کو جب سے سچائی کا علم ہوا تھا

انھوں نے ہانی اور زیان کی علیدگی کا فیصلہ کرلیا تھا

————————

زیان میں نے کچھ بات کرنی ہے تم سے

مہر صاحب نے سنجیدگی سے کہا

جی انکل

تحمل سے جواب دیا گیا

دیکھو بیٹا جو ہونا تھا ہوگیا

اب بہتر ہے تم میری بیٹی کو طلاق–

یہ ناممکن یے

مہر صاحب کی بات کاٹتے ہوے زیان نے دوٹوک بات کی

لیکن زیان

انکل اسے تو میں کبھی نہیں چھوڑو گا

چاہے کچھ بھی ہو جاے

وہ میرے پاس میرے گھر آے یا نہ آے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا

لیکن میں اسے طلاق نہیں دے سکتا

زیان نے دو ٹوک بات کی اور کسی کی سنے بنا چلا گیا

میرے خیال سے یہ ان دونوں کا آپس کا معاملا ہے

دونوں کو خود ہی فیصلہ کرنا چاہے

برہان نے تحمل سے کہا

ہانی کی آنکھوں میں ہر وقت ایک ڈر خوف نظر آتا ہے

بہتر یہ ہی ہے وہ الگ ہوجاے

روحا نے سنجیدگی سے کہا

————————-

ہیلو کون

ہانی نے فون اٹھاتے ہی پوچھا

بیٹا میں علیزے کی ساس بات کررہی ہو

اس کی طبعت ٹھیک نہیں ہے

تم کراچی آسکتی ہو

بیٹا مجھے بابر نے کہا تھا جب علیزے مجھ سے نہ سنبھالی جاے تب میں تم سے رابطہ کرو

بیٹا وہ رونا بند نہیں کررہی بار بار بابر کو بلارہی ہے

تم اجاو تم ہی سنبھال سکتی ہو اب اسے

علیزے کی ساس نے روتے ہوے کہا

آپ فکر نہ کرے انٹی

میں شام تک پہنچ جاو گی

ہانی نے انھیں حوصلہ دیا

—————————-

ہانی نے گھر والوں سے بات کی سب نے اسے جانے کی اجازت دے دی

ان دنوں زیان اور ہانی کا کوی سامنا نہ ہوا اور دوبارہ طلاق والی بات بھی نہیں کی گی

ہانی اکیلے ہی کراچی چلی گی

کیونکہ پری کو برہان کی ضرورت تھی

اور روحا ہارون کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی

———————–

ہانی جب کراچی پہنچی

علیزے کو ہسپتال داخل کرلیا گیا تھا کیونکہ وہ گر چکی تھی

آنٹی کیسی ہے علیزے

اچانک ہسپتال کیوں لے آے

سب ٹھیک ہے نہ

ہانی نے پریشان ہوکر پوچھا

بیٹا وہ گرگی ہے اس لیے میں اسے فورا یہاں لے آی اس کی حالت بہت خراب ہے

علیزے کی ساس نے روتے ہوے بتایا

آپ دعا کرے سب بہتر ہوگا

ہانی نے ان کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا

————————————–

آپ پیشنٹ کی کون ہے

ڈاکٹر نے ہانی سے پوچھا

میں اس کی بہن ہو

کیا ہوا ہے اسے وہ ٹھیک ہے نہ

ہانی نے پریشان ہوکر پوچھا

وہ بالکل ٹھیک نہیں ہے گرنے کی وجہ سے ان کے بے بی کی حالت زیادہ خراب ہے

وہ بہت پینک ہورہی ہے

رورہی ہے جس کی وجہ سے ہم بےہوش بھی نہیں کرسکتے

ان کا رونا ان کے لے ٹھیک نہیں ہے

وہ اپنے شوہر کو بلا رہی ہے پلیز انھیں بلادے

اگر انہوں نے رونا نہ بند کیا تو ہمیں ایسا قدم اٹھانا ہوگا جس کی وجہ سے وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکے گی

ڈاکٹر نے تفصیل سے بتایا

ڈاکٹر کی بات سن کر علیزے کی ساس پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گی

ہانی بھی بہت پریشان تھی

( جب سے بابر گیا تھا ایک دن بھی اس نے علیزے سے رابطہ نہ کیا اس کے بارے ہی سوچ سوچ کر علیزے رو رہی تھی)

————————————-

علیزے میری جان

ہانی نے علیزے کے پاس آتے ہی پیار سے پکارا

(علیزے کی چنخیں پورے ہسپتال میں گونج رہی تھی جسے وہ پکار رہی تھی اس کا آنا مشکل تھا)

ہانی

پلیز بابر کو بلادوں پلیز ہانی

علیزے رورو کر کہہ رہی تھی

ہانی سے اس کا رونا برداشت نہیں ہورہا تھا

بس کر یار بہت رولیا

اپنا نہں تو بچے کا خیال کرلے

رونا بند کر

ہانی نے ڈاپٹتے ہوے کہا

علیزے فوجی شوق سے نہیں گے ان کی مجبوری کو سمجھو اگر تم یہاں سکون میں نہیں ہو تو سکون میں وہ بھی نہیں ہوگے کچھ خیال کرلو یار

پلیز رونا بند کرو ہانی نے پیار سے سمجھایا

مجھے بابر چاہیے بس

ابھی اور اسی وقت

ورنہ میں مرجاو گی

علیزے نے غصے سے چلاتے ہوے کہا

آج فوجی سب کچھ ہوگے تمہارے لیے

ایک سال کی محبت تین سال کی دوستی محبت پر حاوی ہوگی

میں اپنا گھر چھوڑ کر یہاں ائی تمہارے لے

اور تم ہو کہ بات کو سمجھ ہی نہیں رہی

تمیں میرا بھی خیال نہیں

افسوس علیزے افسوس

ہانی نے مصنوعی غصے سے کہا تاکہ علیزے کا ذہن بھٹک جاے

جب سے علیزے کی شادی ہوئی تھی ہانی علیزے کا (رابطہ ختم نہیں ہوا تھا دونوں اپنے دکھ درد ایک دوسرے ے ہی شیئر کرتی تھی)

تم تو طاقت ہو میری ہانی

بابر سکون ہے میرا

میں تم دونوں سے بہت محبت کرتی ہو

پلیز میری محبت پر شک نہ کرو

علیزے نے دکھی ہوتے ہوے کہا

تو میری جان رونا بند کرو بچے کا سوچو

ہانی نے علیزے کی پشیانی کو چومتے ہوے کہا

ا(اچھے دوست قسمت والوں کو ملتے ہے

جو مصیبت تکلیف میں ساتھ ہوتے ہے

جو ایک دوسرے کی طاقت بنتے ہے

اور ایسے دوست ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتے)

————————————-

بہت تکلیفوں کو برداشت کرکے علیزے نے ایک خوبصورت سی بچی کو جنم دیا

جو بالکل بابر جیسی تھی اس کی آنکھیں علیزے جیسی تھی

اپنی بیٹی کو دیکھ کر علیزے رونے لگ گی اسے بابر کی یاد ستانے لگ گی

ہانی تو علیزے کی بچی کو دیکھ کر بہت خوش تھی

ہانی تو دودو بھانجیوں کو پاکر خوشی سے پھولی نہ سما رہی تھی

اس کے چہرے پر خوشی دیکھ کر علیزے اپنا رونا بھول گی –

———————–

پنک روز کیا سوچ رہی ہو

ہارون جب کمرے میں داخل ہوا روحا کو کسی سوچ میں مصروف پایا جو جنت کو دیکھ کر کچھ سوچ رہی تھی

یہ میری بیٹی ہوکر بھی میری بیٹی نہیں ہے

روحا نے سنجیدگی سے کہا

کیا مطلب ہارون نے ناسمجھی سے پوچھا

ہانی کو گے ہوے دو دن ہوگے

اس لڑکی نے مجھے دن میں تارے دیکھا دیے اتنی مشکل ہورہی اسے سنبھالنے میں

اسے ہانی کی عادت ہوگی ہے

آپ کے اور ہانی کے علاوہ کسی کے پاس جاتی بھی نہیں ہے

آپ دونوں نے میری بچی کو بگاڑ دیا ہے

روحا نے نروٹھے پن سے کہا

او میری پنک روز اس بات پر پریشان ہے

کوئی بات نہیں ہم جنت کے بھائی کی پلینگ کرلیتے ہے اسے تمہاری عادت ہوجاے گی

ہارون نے بےشرمی سے کہا

ہارون کبھی تو میری بات پر سریس ہوجایا کرے

روحا نے افسوس سے کہا

تو یار میں سریس ہی بات کررہا ہو

ہارون نے روحا کے گالوں کو چھوتے ہوے کہا

روحا کا چہرہ سرخ انگارہ ہوگیا بنا ہارون کی طرف دیکھے وہاں سے بھاگ گی

ایک بچی کی ماں بن گی پتہ نہیں کب شرمانہ جاے گا ہارون نے افسوس سے سوچا

—————————-

اسامہ میں نے لالہ کے پاس جانا ہے اور آج میں وہی رہوگی

عمارہ نے اذان کے کپڑے چینج کرتے ہوے کہا

یار عمارہ ایک تو مجھے تمہارے اس لالہ سے جیلسی ہونے لگ گی ہے

خود تو اس کی بیوی دور ہے اس سے اور جناب کو کوئی فرق نہیں پرتا

اور آے روز میری بیوی کو بلا کر میری راتیں ویران کر دیتا ہے

یار مجھے نیند نہیں آتی تم دونوں کے بغیر

اسامہ نے سنجیدہ ہوکر کہا

ایک تو میں جب بھی جانے کی بات کرتی آپ ایسے ہی اپنا رونا ڈال کر بیٹھ جاتے ہے

عمارہ نے افسوس سے کہا

آپ بھی ساتھ آجاے آپ کو کونسا روکا ہے

عمارہ نے مشورہ دیا

یار میں نے نہیں جانا اس سنجیدہ انسان کے گھر

وہاں جاکر مجھے سنجیدگی کا دورہ پر جاتا ہے

اسامہ نے تنگ کرنے کے لیے کہا

عمارہ نے اسامہ کو گھوری سے نوازا

عمارہ تیاری کرلو بہت جلد ہم دوبئ جانے والے ہے

اسامہ نے سنجیدگی سے کہا

عمارہ خاموش ہوگی

زیان کو بتا دینا

جی بتا دوں گی

سنجیدگی سے جواب دیا گیا

(اسامہ کا بزنس دوبئ میں سٹیل تھا

وہ پاکستان عمارہ کی وجہ سے ہی آیا تھا

عمارہ جانا نہیں چاہتی تھی لیکن مجبور تھی اسامہ کے بغیر وہ رہ بھی نہیں سکتی تھی

اسے زیان کی فکر تھی)

————————–

پری آج میں بہت خوش ہو

شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے

برہان نے پری کے ماتھے پر لب رکھتے ہوے کہا

(پری برہان کی بات پر مسکرا رہی تھی

ڈاکٹر نے پری کو جڑوا بچوں کی پیدائش کا بتایا تھا تب سے ہی برہان بہت خوش تھا)

پری مجھے ان دو بچوں کے بعد دس اور چایے

برہان نے بے شرمی سے کہا

دس بچے پری نے صدمے سے کہا

ہاں کیوں کم ہے چلو بیس کرلے گے

میں شروع سے اکیلا رہا ہو میں اب چاہتا ہو میرے گھر میں رونق لگ جاے

برہان نے آنکھ ونک کرتے ہوے کہا

اگر مزید بچوں کی بات کی تو میں کچھ اٹھا کر مار دوں گی

پری نے غصے سے کہا

ہاے جان برہان اتنا غصہ

یار مذاق کررہ تھا

برہان نے پری کو گلے لگاتے ہوے کہا

اور پری برہان کے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھ گی

ویسے میں ایک اور بات سوچی ہے

برہان نے سنجیدگی سے کہا

وہ کیا پری نے فورا پوچھا

جب ہمارے بچے ہوجاے گے ہم ہنی مون کے لے پیرس جاے گے ابھی تو موقع ملا نہیں تھا ہمیں

باقی دس بچوں کی پلینگ وہاں جاکر کرے گے

برہان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا

برہانننننننننن

پری نے چلاتے ہوے کہا

اور گلدان ہاتھ میں پکڑلیا

پری کے ہاتھ میں گلدان دیکھ کر برہان کمرے سے بھاگ گیا

پیچھے پری دس بچوں کے بارے سوچ کر ہالکان ہورہی تھی