Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 2)

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

مہر ہاوس میں صبح کا آغاز ہو چکا تھا لیکن سب اپنے ابھی بھی سورہے تھے——–

وجہ یہ کہ آج چھٹی تھی مہر صاحب بھی آج گھر ہی موجود تھے——–

سلمی جاو —

سب کو جگاو اتنا ٹائم ہو گیا ہے —

تنزیلہ بیگم ناشتہ لگاتے ہوۓ کہا—

بیگم بچوں کو سونے دو ہم دونوں ساتھ مل کر ناشتہ کرتے ہے کبھی کبھی تو یہ موقع ملتا ہے —-

مہر صاحب کی بات پر تنزیلہ بیگم نے ان کو مسکرا کر دیکھا —

مہر صاحب ایک بزنس مین ہے—–

ان کی شادی نرم مزاج ملنسار خاتون تنزیلہ بیگم سے ہوئ ——

جو کہ ایک اچھی بیوی کے ساتھ اچھی ماں بھی ثابت ہوئ ——

مہر صاحب کے تین بچے—

بڑی بیٹی روحا—

جو کہ ایم اے کررہی ہے -بہت ہی معصوم اور سلجھی ہوہی لڑکی لیکن نازک دل کی مالک ہے سفید رنگت ڈارک براؤن آنکھیں ڈارک براؤن کمر تک اتے بال —

چھوٹی بیٹی حنین—-

جو کہ انٹر کر رہی ہے–

گوری رنگیت کالی بڑی آنکھیں ان آنکھوں پر لگا چشما اور آنکھوں میں ہر وقت نظر آتی شرارت اس کی آنکھوں کی خوبصورتی کو مزید ظاہر کرتی ہے ——

کمر سے نیچے آتے کالے لمبے بال —–

چھوٹا بیٹا برہان —

جو کہ انٹر کے پہلے سال کا سٹوڈینٹ ہے —-

گندمی رنگیت ڈارک براؤن آنکھیں براؤن بال کلین شیو چہرے پر ہر وقت کی مسکراہٹ —–

– ایک خوشحال فیملی—-

– مہر صاحب کی پوری دنیا اپنے بیوی بچوں تک محدود تھی —

————————–

روحا کے کانوں میں وہ ساری باتیں گونج رہی تھی جو تنزیلہ بیگم نے اسے سمجھائی تھی —–

-آج روحا کا یونی میں پہلا دن تھا—–

روحا نے بہت شور مچایا وہ یونی نہیں جاۓ گی اُس میں اتنی ہمت نہیں کہ سب لوگوں کا سامنا کر سکے —

لیکن جب تنزیلہ بیگم اور ہانی نے سمجایا پھر روحا کو مجبورًا جانا پڑا —

کیونکہ روحا اپنی فیملی کے لیے کچھ بھی کرسکتی تھی ——

————————————–

بلیک ڈریس پر پنک حجاب لیے آنکھیوں میں آنسو اور چہرے پر سنجیدگی لے وہ گلاس روم میں داخل ہوئ —

روح یونی میں کوئ سمینار ہے کیا——

پری نے آس پاس لوگوں کا رش دیکھ کر پوچھا —

ہاں آج کوئ بزنس مین ہارون خان نے آنا ہے —

روح نے کرسی پر بٹھتے ہوۓ کہا –

روح کیا سوچ رہی ہو—

پری نے روحا کی طرف دیکھا جو نوٹ بک پر لکھنے کی بجاۓ کچھ سوچ رہی تھی —

نہیں ویسے ہی روحا نے پری کو ٹالتے ہوۓ کہا—-

روحا اپنے خواب کے بارے سوچ رہی تھی جو اسے روز کی طرح آج بھی آیا تھا ——

******************************************

چلو روح ہم کسی کے ساتھ مزاق کرتے ہے

ویسے بھی ہارون خان کے آنے میں دیر ہے کیوں نہ کوئ ہلہ گلہ ہوجاۓ پری نے بور ہوتے کہا —-

پریسہ خان —-

روحا کی بچپن کی دوست

دو بھائیوں کی بہن —–

شربتی آنکھیں سرخ پھولے ہوے گال سنہری بال سفید رنگیت —-

چنچل سی لڑکی ہر وقت شرارتوں میں مصروف رہتی —

آرام سے بیھٹی رہو ۔پری کی بچی سب کو تنگ کرنا تمھارا فرض ہے کیا روح نے غصے سے پری کو ڈائٹ دیا ۔۔۔

وہ دیکھو آیٹوڈیم کے دروازے سے کوئ بھی انسان انٹر ہوگا تمھیں بس جا کر اُس کا والٹ لینا ہے ۔ پری نے روح کی کسی بات کو سیریس نہ لیتے ہوۓ اپنی بات کو دہرایا ۔۔۔

روح کو اپنی جان فنا ہوتی محسوس ہوئ کیونکہ اُسے پتہ تھا اس سے یہ کام نہیں ہونا ۔۔۔۔اب روح کی نظریں دروازے پر ٹھکی تھی اور لبوں پر ایک ہی دعا تھی کہ جو بھی آۓ لڑکی ہو ۔۔۔۔۔۔