Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 12) Part - 2

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

امی یہ لڑکیاں اتنی بری کیوں ہوتی ہے ۔

زیان نے اپنی ماں سے پوچھا ۔۔

بری بات بیٹا

لڑکیاں بری نہیں ہوتی ۔

یہ تو رحمت ہوتی ہے ۔

جو قسمت والوں کو ملتی ہے ۔

زیان کی امی نے اسے سمجھایا ۔۔

امی مجھے زرہ اچھی نہیں لگتی

بہت بری ہوتی ہے سب ۔۔

12سالہ زیان نے اپنی عقل سے بڑی بات کی ۔۔

نہیں بیٹا ۔

جیسے تماری گڑیا تمھارے لیے بہن اور ہمارے لیے بیٹی ہے ویسے ہی سب لڑکیاں کسی کی بہن بیٹی ہوتی ہے ۔

آج کسی کے ساتھ غلط کرو گے کل تمھاری بہن کے ساتھ غلط ہو گا ۔۔

اس لیے میرا بیٹا ہمیشہ یاد رکھنا ۔

لڑکیوں کی عزت کرنی چاہیے ۔۔

تاکہ تمھارا کیا تمھاری بہن کو نہ بھگتنا پرے ۔۔

زیان کی امی نے اسے پیار سے سمجھایا ۔۔

————————————————————

اچانک زیان کے کانوں میں اپنی ماں کی باتیں گونجی ۔اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا ۔

یہ میں اپنی ضد انا میں کیا کرنے جا رہا تھا۔

مجھے یہ احساس بھی نہیں ہوا

کہ میری گڑیا بھی ہے

زیان نے روم کی طرف جاتے ہوے سوچا ۔۔۔

————————————————————

اس سے پہلے وہ آگے برھتا

زیان نے اسے پیچھے سے پکڑ کر مارنا شروع کر دیا ۔۔

بے غیرت انسان

تجھے کہا تھا

۔بس ڈرانا ہے

۔تو نے اپنی بے غیرتی شروع کردی ۔

۔زیان نے اسے مارتے ہوے غصے سے کہا ۔۔

اور کمرے سے دھکامارکر حوالدار کو پکڑا دیا ۔

اسے جا کر زنجیروں سے باندھ دوں

جب تک میں نہ آجاو اس کو لٹکا کر رکھنا

زیان نے اس نوجوان کو حوالدار کے حوالے کرتے ہوے غصے سے کہا

ہانی یہ سب دیکھ کر ہکابکا رہ گی ۔۔

زیان نے ہانی کی طرف دیکھا

اس کی حالت دیکھ کر اس بہت شرمندگی محسوس ہوی ۔۔

ہانی میری بات سنو

۔زیان نے ہانی کے پاس جاتے ہوے تحمل سے کہا ۔۔

”خبردار۔۔

میرے نزدیک مت آنا

گھٹیا انسان

تمھیں شرم نہ آی

میرے ساتھ یہ سب کرتے ہوے

ہانی نے روتے ہوے کہا ۔۔۔

لفظ گھٹیا پر

زیان کا دماغ پھر گھوم گیا ۔۔

حنین بکواس بند کرو اپنی

بس بہت ہوا ۔

دفع ہو جاو یہاں سے اب ۔

زیان نے غصے سے ہانی کو دھکا مارتے ہوے کہا ۔۔

کہاں جاو میں

کیسے جاو اس حالت میں ۔

جو بھی دیکھے یہ ہی سمجھے گا میں اپنی عزت لوٹا آہی ہو ۔۔

اتنی رات ہو گی ۔

اگلادن شروع ہونے والا ہے

میں یہاں تمھارے گھر

تمھارے پاس ہو ۔

تو کون یقین کرے گا میرا

کہ میری عزت میرے پاس محفوظ ہے جیسے پہلے تھی ۔

بتاو زیان شاہ

چپ کیوں ہو اب

۔ہانی نے زیان کا کالر پکڑتے ہوے غصے نفرت سے کہا ۔۔

ہانی کی بات پر زیان کو بہت شرمندگی ہوی ۔۔

————————————————————

مجھ سے نکاح کر لو ۔۔

زیان نے تحمل سے کہا ۔۔

میں مر جاوگی

یہ کام کبھی نہیں کروگی ۔۔

تم جیسا گھٹیا انسان

مجھے نہیں چاہیے ۔۔

ہانی نے نفرت سے دیکھتے ہوے کہا ۔۔

کیا کہا گھٹیا انسان

پھر گھٹیا کہہ دیا ۔۔۔

زیان نے ہانی کو بالوں سے پکڑتے ہوے کہا ۔۔

ہاں کہا گھٹیا

کیا کرلو گے

ہانی نے طنزیہ مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

اگر تم نے ابھی مجھ سے نکاح نہیں کیا

تو پھر اصلی گھٹیاپن دیکھ لوں گی ۔

زیان نے بھی طنزیہ مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

جس عزت کا تم کہہ رہی ہو کہ ابھی محفوظ ہے تووہ محفوظ نہیں رہے گی ۔

مجھے مجبور نہ کرو

کہ میں تمہں گٹھیا پن دیکھا دوں

تم سے نکاح کرنامیرا شوق نہیں

تمھاری جیسی لڑکی مجھے چاہیے بھی نہیں

جسے خود اپنی عزت کا خیال نہ ہو ۔۔۔

یہ نکاح اس لیے

کہ تم اپنے گھر والوں کے سامنے شرمندہ ہو جاو ان کے سامنے ذلیل ہو جاو پھر مجھے خوشی ہو گی ۔۔۔

دفعہ ہوجاو ذلیل انسان

تم میں شرم لحاظ ہے ہی نہیں

تم سے نکاح سے بہتر ہے میں مر جاو

ہانی نے روتے ہوے زمین پر بیٹھتے ہوے کہا

مر تو تم جاو گی ہی میری بیوی بن کر

زیان نے ہانی کے بالوں کو پیار سے چھوتے ہوے کہا

آخر زیان نے ایک نہ سنی

اور کچھ لمحوں میں ہی حنین مہر سے

حنین زیان شاہ بن چکی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

اتنی دیر سے کچھ نہ کھانے کی وجہ سے ہانی نڈھال چال چلتی بکھرے بال پھٹے کپڑوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوی ۔۔۔

برہان روحا مہرصاحب تنزیلہ بیگم ۔

ہانی کی یہ حالت دیکھ کر سب کے پاٶں تلے سے رمین نکل گی ۔۔

ہانی

برہان بھاگ کر ہانی کے پاس جانے لگا

رک جاو برہان ۔۔

خبردار تم نے اگر اس کو ہاتھ بھی لگایا ۔۔

تنزیلہ بیگم نے برہان کو روکتے ہوے غصے سے کہا ۔۔

ہانی اور برہان نے حیران ہو کر ان کی طرف دیکھا ۔۔

مامایہ اپ کیا کہہ رہی ہے ۔

برہان نے حیران ہو کر پوچھا ۔۔

———————————————————–

چٹاخ ۔

مہر صاحب نے ہانی کے منہ پر تھپر اتنی زور سے مارا ۔

کہ ہانی زمین پر گر گی ۔۔

کیا کمی رہ گی تھی میری پرورش میں

جو تم نے آج مجھے کہیں منہ دیکھانے کے لائق نہیں چھوڑا

تمھاری ماں مجھے کہتی رہی کہ تمھیں زیادہ سر پر نہ چڑھاٶ لیکن میں کہتا بچی ہے سمجھ جاے گی مجھے کیا پتہ تھا ۔

بچی اپنے باپ کی عزت کا اسے کوی خیال نہیں رہے گا ۔۔۔

مہر صاحب نے غصے نفرت سے ہانی کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔

بس بابا۔

۔بہت کہہ لیا اپ نے

۔اس کی حالت دیکھے کتنی خراب ہے

اور اپ ایسی فصول باتیں کر رہے ہے برہان نے ہانی کو اٹھاتے ہوے افسوس سے کہا۔۔۔

اپنی اس حالت کی ذمہ دار یہ خود ہے

۔اپنا منہ خود کالا کرکے ای ہے ہم اسے اس گھر میں زرا برداشت نہیں کرے گے

نکل جاو

دفع ہوجاو

اسی کے پاس جس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے ۔۔۔

تنزیلہ بیگم نے غصے سے ہانی کو دھک کہا ۔۔

(ماں باپ اولاد سے کبھی نفرت نہیں کرتے لیکن کچھ حالات کو دیکھ کر ان کے لیے یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے جب انسان کے دماغ پر غصہ سوار ہو جاے اسے اپنے الفاظ خود سمجھ نہیں آتے) ۔۔۔۔

میری بہن ایسی نہیں ہے

مجھے یقین ہے اس پر

ہانی ایسی حرکت کبھی نہیں کرسکتی ۔

۔برہان نے ہانی کو گلے لگاتے ہوے مان کہا ۔۔۔

روحا خاموش کھڑی رہی ۔

اور روحا کی خاموشی سے ہانی کو سب سے زیادہ تکلیف ہوی ۔۔۔

————————————————————

اس کی شادی اب میں جلد کرو گا ۔۔

وہ بھی زیان شاہ سے

کیونکہ وہ پہلے ہی رشتہ مانگ چکا ہے

۔اب میں اسے ہاں کر دو گا

مہر صاحب نے آنسو صاف کرتے ہوے کہا ۔

مہر صاحب کی بات پر

ہانی پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پرے

۔یہ کیسے ہو سکتا ہے جس انسان نے آج اس کو رسوا ذلیل کیا ۔

اسی کے ساتھ رخصتی کی بات کررہے اس کے بابا ۔۔۔

میں کسی کو اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہو گی ۔

جس نے مجھ پر یقین کرنا ہے کرے نہیں تو نہ کرے ہانی نے خاص روحا کو دیکھ کر آفسوس سے کہا

جس نے اپنی بہن کے لے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا

ہانی کو اس بات پر بہت دکھ ہوا

۔اور بابا آپ

مجھ پر نہیں اپنی تربیت پر انگلی اٹھارہے ہے ۔آ

پ دونوں خود تحمل سے سوچے کیا آپ کی تربیت ایسی تھی جو میں یہ گھٹیا کام کرتی ۔۔

ہانی نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

تربیت تو ہم نے تم تنیوں کی بہت اچھی کی تھی

۔ہمیں مان تھا تم تنیوں پر

کبھی ہمارا سر نہیں جھکاٶ گے ۔

لیکن تم تنیوں نے اس قدر ہمارا سر جھکا دیا ہے کہ ہم سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہے ۔۔

یہ برہان نے ہمیں پریسہ کے سامنے ذلیل کرکے رکھ دیا ہے

۔روحا نے ہارون کے سامنے اور تم نے آج ساری دنیا کے سامنے

مہرصاحب نے ہانی کو غصے اور نفرت سے دیکھ کر کہا ۔۔

ان کی بات پر ہانی روتے ہوے وہاں سے چلی گی ۔۔

————————————————————

ہانی ۔۔

برہان کمرے میں آیا تو ہانی کپڑے بدل کر منہ ہاتھ دھو کر آرام سے بیھٹی تھی ۔۔

برہان کے آنے پر وہ بھاگ کر اس کے گلے لگی

اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔

اس کے رونے پر برہان کی آنکھوں میں آنسو آگے ۔

چپ کرو میری جان

تمیں پتہ ہے تمھارا رونا مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ۔۔ چلو شاباش

اب سچ سچ بتاو کیا ہوا ہے

برہان نے ہانی کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا ۔۔۔

برہان مجھے افسوس ہورہا مامابابا نے مجھ پر یقین نہیں کیا ۔۔

ہانی نے روتے ہوے کہا۔

ہانی تم نے غور نہیں کیا شاہد ان کی آنکھیں

زبان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔

وہ ضررو کوی مجبوری کے تحت اتنا کچھ کہہ گے ہے ۔ورنہ انھیں اپنے بچوں پر پورا یقین ہے ۔

(برہان نے اپنا خدشہ ظاہر کیا ). واقعی برہان میں نے بھی دیکھاتھا بابا کی آنکھوں میں غصہ نفرت نہیں بلکہ کچھ اور ہی تھا ہانی نے روتے ہوے کہا ۔۔

لیکن ایسی بھی کیا مجبوری ان کی کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو ہی غلط سمجھ لیا ۔۔

ہانی نے پریشان ہوتے ہوے کہا ۔۔۔

اچھا چلو چھوڑو ۔

یہ بتاو مجھے تمھارے ساتھ کیا ہوا ۔کہاں تھی تم ۔۔

برہان نے ہانی کے بال ٹھیک کرتے ہو پوچھا۔

پھر ہانی نے روتے ہوے سب بتا دیا ۔۔

اور یہ سب سن کر برہان کے قدموں تلے زمین نکل گی

۔آج اس کی بہن کی عزت داو پر لگنے لگی تھی ۔

وہ اللہ کا شکر گزار تھا اس کی بہن کی عزت بچ گی ۔۔

”ہانی تم ۔۔

ہانی

روحا نے روتے ہوے کمرے میں آکر کہا ۔۔۔

اس سے پہلے برہان کچھ اور کہتا جب روحا کمرے میں آ گی ۔۔

تم آپو کو کچھ نہیں بتاو گی اوکے

برہان نے ہانی کا ماتھا چومتے ہوے کہا اور چلا گیا ۔۔۔

”ہانی میری جان ۔۔۔

روحا بھاگ کر ہانی کے گلے لگنے لگی لیکن ہانی نے منہ موڑلیا ۔۔۔

مت کہے مجھے اپنی جان

کچھ نہیں ہو میں آپکی

۔سمجھی آپ

۔ہانی نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

ایسا نہیں ہے ہانی

روحا نے روتے ہوے کہا ۔۔

”بسسسسسس کرے آپو ۔۔

دیکھ لی آپ کی محبت آپ کی چاہیت اور یقین

۔جب مامابابا اتنا بول رہے تھے آپ باکل خاموش رہی ایک بار بھی آپ نے نہیں کہا کہ ہانی ایسی نہیں ہو سکتی ۔۔

صرف مجھ پر میرے بھای نے یقین کیا

۔کسی نے مجھ پر یقین نہیں کیا آپ نے بھی نہیں

۔آپ کی خاموشی نے مجھے اندر سے مار ڈالا آپو ۔۔

کیا آپ کو یقین ہے اپ کی بہن ایسا کر سکتی ہے ہانی نے روتے ہوے کہا ۔۔

روحا نے پھر کوی جواب نہیں دیا ۔

۔اور ہانی کو پھر وہی تکلیف ہوی

۔چلی جاے آپو یہاں سے

ہانی نے غصے سے کہا ۔۔۔۔

میری خاموشی اس بات کا اشارہ نہیں کہ مجھے تم پر یقین نہیں ہے

مجھے اپنی بےبی گرل پر پورا یقین ہے

مجھے انتظار رہے گا جب تم خود مجھے آکر سب بتاو گی ۔

روحا اتنا کہہ کر روتی ہوی چلی گی ۔۔۔

سچ کہتے ہے لوگ

زیادہ لاڈ پیار جسے ملے جسے اپنے ہر کام فیملی سے کروانے کی عادت ہو

اسے ہی مصیبتوں تکلیفوں کا سامنا کرنا پرتا ہے

یہ ہی سب ہانی کے ساتھ ہوا

————————————————————

مہرصاحب نے زیان کو رشتے کے لیے ہاں کردی تھی

۔اس نے سادگی سے رخصتی سے کہا تھا

۔اس اچانک فیصلے پر سب حیران تھے

۔علیزے کو سب معلوم ہواتو وہ حیران رہ گی اس کی دوست کے ساتھ کیا سے کیا ہو گیا بابر کو ہانی نے منع کردیا تھا جو کچھ اس دن رسٹورنٹ میں ہوا اس بارے وہ کسی کو نہ بتاے ۔۔

ہارون اسامہ حیران تھے اچانک زیان کو کب محبت ہوگی ہانی سے جو رشتہ بھی بھج دیا ۔۔

لیکن وہ دونوں اس بات سے انجان تھے زیان نے محبت سے نہیں نفرت سے شادی کی تھی ۔۔

عمارہ بہت خوش تھی کہ ہانی اس کی بھابھی بن جاے گی ۔۔

جسے ہانی پہلی ہی نظر میں پیاری لگی تھی ۔۔

برہان کے بہت شور مچانے کے باوجود بھی مہر صاحب نہ مانے

۔برہان نے ان کو بہت سمجایا وہ زیان سے شادی نہ کرے لیکن اس کی ایک نہ سنی گی ۔۔

ہانی اس سب کے دوران خاموش رہی جس کی آنکھوں میں ہر وقت شررات رہتی تھی ۔ چہرے پر مسکرائٹ وہاں اب صرف سنجیدگی رہتی تھی ۔۔ اس کی خاموشی سے سارا گھر ویران لگ رہا تھا ۔۔۔

ہانی کی ایسی حالت پر برہان روحا پریسہ اور علیزے خود کو مرتا ہوا محسوس کر رہے تھے

۔کیونکہ ان سب سے ہانی کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں ہو رہے تھے

اس کی خاموشی سب کو مار رہی تھی ۔

لیکن ہانی نے اپنی زبان سے پر شاید تالے لگا لیے تھے

————————————————————

آخر ہانی آنکھوں میں آنسو دل میں نفرت غصہ لے کر زیان کے ساتھ رخصت ہو گی ۔۔۔

اس کی حالت کو عمارہ نے ہارون اسامہ نے بہت اچھے سے نوٹ کیا تھا وہ خود حیران تھے اس کی حالت دیکھ کر ۔۔

رخصتی کے وقت ہانی کسی سے نہیں ملی سواے برہان کے ۔

برہان نے اسے حوصلہ ہمیت دی وہ جلد ہی زیان سے اس کی طلاق کروالے گا۔۔

————————————————————

ہانی کی حالت دیکھ کر زیان کو خوشی ہو رہی تھی

۔وہ اپنی ضد انا میں ہانی کی زندگی برباد کر چکا تھا ۔۔

زیان کمرے میں داخل ہوا اسے ہانی کہیں نظر نہیں آی ۔وہ سمجھ گیا وہ واش روم میں ہے ۔

زیان خود ڈراسنگ روم میں چلا گیا ۔۔

(اسے پتہ تھا ہانی کبھی بھی دوسری دلہنیوں کی طرح تیار بیٹھ کر اس کا انتظار نہیں کرے گی

۔نہ زیان کی ایسی کوی خوایش تھی ۔)

زیان جب ڈراسنگ روم سے باہر نکلا ہانی کو دیکھ کر وہی روک گیا۔۔

ہانی اپنے لمبے بالوں کو برش کر رہی تھی ۔۔

بے بی پنک سلک کے ٹراوزر شرٹ میں وہ ایک کیوٹ سی بچی لگ رہی تھی

۔۔ ہانی نے زیان کو نظراندز کیا ۔

ہانی کے لمبے بال کو دیکھ کر زیان کو خود پر قابو پانا مشکل لگ رہا تھا ۔۔

————————————————————

آج تمھارے بال کون باندھے گا ۔۔

اب تو روحا بھابھی بھی یہاں نہیں ہے

۔زیان نے ہانی کے بالوں کو پکڑتے ہوے

اس کے بالوں کی خوشبو کو محسوس کرتے ہوے طنزیہ مسکرا کر کہا ۔۔

ہانی نے زیان کی آنکھوں میں دیکھا اور زیان ان آنکھوں میں ڈوبتا چلا گیا ۔۔

ہاتھ مت لگاو مجھے

گھٹیا انسان ۔۔

ہانی نے زور سے زیان کو دھکا دیا ۔

تو زیان ہوش میں آیا ۔

میں نے تمیں پہلے ہی کہا ہے

مجھے گھٹیا مت کہا کرو

ورنہ تمھارے لیے بہت برا ہو گا ۔

زیان نے غصے سے کہا ۔۔

اور کتنا برا کرو گے تم ۔۔

جو کچھ تم نے کیا کافی نہیں ہے کیا

۔۔ گھٹیا بیغیرت انسان

۔ہانی نے زور سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

بکواس بند کرو حنین مجھے مجبور مت کرو میں کچھ ایسا کرو کہ بعد میں تمھیں ہی تکلیف ہو ۔۔

زیان نے ہانی کے بازو کو دبوچتے ہوے کہا ۔۔

کیا کرو لو گے تم اب

ہانی نے چلاتے ہوے کہا ۔۔

اگر تم نے اپنی بکواس بند نہ کی تو آج رات صیح میرا گھٹیا پن دیکھو گی ۔جو میں نہیں چاہتا تم ابھی دیکھو ۔

زیان نے ہانی کے ہونٹوں کو ہاتھ سے چھوتے ہوے طنزیہ مسکراتے ہوے کہا ۔۔

زیان کی اس حرکت اور بات پر حنین خاموش ہو گی

زیان کو دھکا دے کر پھر بالوں کو برش کرنے لگی ۔

۔اور ایک بات

آئندہ مجھے تم میرے سامنے کھلے بالوں کے ساتھ نظر نہ آو۔

زیان نے وارننگ کے انداز میں کہا ۔۔

مجھے بال باندھنے نہیں آتے کتنی بار بکواس کرو

۔ہانی نے بیڈ پر جاتے ہوے کہا ۔۔

تو باندھنا سکھ لو

۔زیان نے بیڈ پر لیٹتے ہوے کہا ۔۔

یہ تم بیڈ پر کس خوشی میں لیٹ رہے ہو دفع ہو جاو کہیں اور جاکر مرو ۔

ہانی نے بنا لحاظ کیے بدتمیزی سے کہا

اور ہانی کی بات سن کر زیان کو تو اور تپ چڑھ گی ۔۔

کتنی دفعہ کہو

کہ میرے ساتھ تمیز سے بات کیا کرو

تمھیں ایک بار کہی ہوی بات سمجھ نہیں آتی کیا

کیوں بار بار میرا دماغ خراب کرتی ہو غصہ کرنے پے مجبور کرتی ہو مجھے ۔۔

زیان نے غصے سے ہانی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا ۔۔

اب سچوئیشن یہ تھی کہ زیان ہانی کے اوپر جھکا ہواتھا ۔۔

زیان کو اپنے اوپر دیکھ کر ہانی کی زبان تالو سے ہی چپک گی ۔۔

آج کے بعد مجھے تم

آپ کہوگی اور میرے ساتھ تمیز سے بات کروگی سمجھی ۔

۔زیان نے ہانی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے حکمانہ انداز میں کہا۔۔

ہانی پھر کچھ نہ بولی ۔

مجھے آج تمھارے چہرے پر آنکھوں میں جو درد کرب سنجیدگی نظر آرہی ہے میں یہ ہی سب تماری آنکھوں میں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔

زیان نے ہانی کے اوپر سے اٹھتے ہوے خوشی سے کہا ۔۔۔

ڈرو اس وقت سے زیان شاہ

جب تمھارے ہاتھ میں بیٹی ہو گی ۔

ہانی نے غصہ اور نفرت سے طنزیہ مسکراتے ہوے کہا ۔ہانی کی بات پر زیان کے چہرے پر ہواہیاں چھاگی ۔۔

کافی دیر بعد وہ کچھ نہ بولا باکل خاموش رہا ۔۔

ہانی کو زیان کی خاموشی دیکھ کر سکون ہوا اور تکیہ اٹھا کر صوفے کی طرف گی ۔۔

کچھ شرم کرلو ۔

اپنی ہی اولاد کو بد دعا دے رہی ہو ۔

زیان نے مسکراتے ہوے ہانی کو اپنے حصار میں لیتے ہوے کہا ۔۔۔

زیان کے لمس اور اس کی بات پر ہانی کو زور کا جٹھکا لگا ۔۔۔

تمھاری اولاد پیدا کرنے سے پہلے میں مرنا پسند کرو گی ۔ہانی نے سنجیدگی سے زیان کو پیچھے کرتے ہوے کہا ۔۔

میری اولاد پیدا کر کے مر جانا مجھے کوی مسلہ نہیں میں اور بیوی لے آوگا جو تم سے بہتر ہو گی سلجھی باوقار اور سلیقہ مند ۔

زیان نے طنزیہ مسکراتے ہوے ہانی کے گال کو چھوتے ہوے کہا ۔۔۔

جب تمھاری بیٹی ہو گی

خود احساس ہوگا ایک باپ کے لیے اس کی بیٹی کیا ہوتی ہے

۔آج تمھاری وجہ سے میرے بابا کی آنکھوں میں میرے لیے نفرت ہے صرف تمھاری وجہ سے زیان شاہ ۔ہانی نے زور سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

اور پیچھے رہ کے بات کرو مجھ سے اب مجھے ٹچ کیا تو اچھا نہیں ہوگا ہانی نے صوفے پے لیٹتے ہوے کہا

ٹچ نہ کرنا

یہ تو اب نہ ممکن ہے چشمیش

زیان نے آنکھ ونک کرتے ہوے کہا اور بیڈ کی طرف چلا گیا

————————————————————

سو کیوں نہیں رہی تم

اب کیا تکلیف ہے ۔۔

زیان جو خود سونے کی کوشسش کررہا تھا اسے نیند نہیں آرہی تھی کیو نکہ وہ ہانی کا رونا نوٹ کر چکا تھا اب تنگ ا کر اس سے پوچھا ۔۔۔

مجھے آپو کے بغیر کبھی نیند نہیں آتی

۔ان کی جب سے شادی ہوی ۔ہم فون پر بات کرتی تھی ۔تب مجھے نیند آتی تھی ۔۔

ہانی نے روتے ہوے کہا ۔۔۔

فون کر لو بھابھی کو

۔زیان نے بیزاریت سے مشورہ دیا ۔۔۔

آپ نے مجھے اس لائق چھوڑا ہی کب ہے جو میں کسی سے نظر ملا سکو

۔ہانی نے دکھی ہوتے ہوے کہا ۔۔

زیان لفظ آپ پر ہی اٹک گیا

اسے خوشی ہوی ہانی نے اس سے تمیز سے بلایا

۔۔۔(چلو آو میں تمھیں سلا دتیا ہو ۔زیان نے سنجیدگی سے کہا ۔۔اتنا وہ سمجھ گیا تھا ۔ہانی کو باکل لاڈ پیار سے پالا گیا ہے ۔

اور اسے ابھی بھی لاڈ پیار کی اتنی عادت ہے کہ وہ اپنا کوی کام خود نہیں کرسکتی ).

زیان کی بات پر ہانی نے اسے گھوری سے نوازا اور خاموش ہو کر کمرے سے باہر نکل گی ۔۔۔