Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 12) Part - 1

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

پاپا میں نے آپ سے کچھ بات کرنی ہے

۔برہان نے مہر صاحب کے آفس روم میں داخل ہوتے ہوے کہا ۔۔

ہاں بولو بیٹا

مہر صاحب نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔

وہ برہان کی آنکھوں اور چہرے پر پریشانی دیکھ چکے تھے

اور انھیں معلوم تھا ۔برہان کس بارے بات کرنے آیا ہے ۔۔

(کیونکہ جب کل رات برہان خود سے خودکلامی کررہا تھا ۔

یہ سوچ کر کہ سارے سو چکے ہے ۔

تب مہر صاحب نے سب سن لیا تھا ۔۔۔)

پاپا مجھے امریکہ جانا ہے اپنی اسٹڈی کے لیے ۔

برہان نے کنفیوز ہوتے ہوے کہا ۔۔۔

(برہان فیصلہ کرچکا تھا اگر اسے پریسہ سے جان چھڑوانی ہے تو اس کا حل سب سے دور جانا ہی ہے ۔

وہاں جا کر وہ پریسہ کو طلاق دے گا تو کوئ اس سے سوال نہیں کرے گا ۔)

اس بارے میں میں تمیں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔

یہ تو تمھاری ماں اور بہنیں ہی بتایئں گی ۔کہ تم امریکہ جاو گے یا نہیں ۔۔

مہر صاحب نے دو ٹوک جواب دیا ۔۔

لیکن پاپا۔۔

دیکھو برہان میری بات کو سمجھو ۔

مہر صاحب نے برہان کی بات کاٹتے ہوے کہا ۔

پریسہ اچھی لڑکی ہے

ہم سب نے تمھاری آنکھوں میں محبت دیکھی تبھی تو ہم نے ہاں کی نکاح کے لیے

۔اب مجھے نہیں معلوم تم اس بات سے کیوں انکار کررہے ہو

۔لیکن یہ بات یاد رکھنا

اس بچی پر ہم ظلم نہیں ہونے دے گے

تم طلاق کا سوچے بیھٹے ہو ایسا ہر گز نہیں ہو گا ۔۔

مہر صاحب نے وارننگ انداز میں کہا ۔۔

پاپا آپ سب جو سوچ رہے ایسا کچھ نہیں

میں پری سے محبت نہیں کرتا

نہ اسے قبول کرسکتا ہو ۔

۔برہان اتنا کہہ کر غصے سے چلا گیا ۔۔

————————————————————

کیا۔۔۔

تم یہ کیا کہہ رہے ہو

تمیں ہوش بھی ہے کیا کہہ رہے ہو تم۔۔

روحا نے چلاتے ہوے برہان سے کہا ۔۔

جب کہ برہان کی بات پر ہانی خاموشی سے بیھٹی چاکلیٹ کھا رہی تھی ۔

اسے معلوم تھا برہان کو بعد میں سمجھالے گی خود ہی- اب ذرا روحا اپنا شوق پورا کر لے ۔۔

میں ٹھیک کہہ رہا ہو

بہت جلد میں امریکہ چلا جاو گا ۔

برہان نے ہانی سے چاکلیٹ چھنتے ہوے تحمل سے کہا ۔۔

آپو اپ بے فکر رہے یہ نہیں جاے گا کہیں ۔

ہانی نے برہان کے سر پر کشن مارتے ہوے کہا ۔۔

ہانی

تم تو چپ ہی رہو ۔

ہر بات کو مذاق مت سمجھ لیا کرو ۔

روحا نے غصے سے ہانی کو ڈانٹ کر کہا

ہانی سنجیدہ ہو کر بیٹھ گی ۔

برہان کو اس کا سنجیدہ ہونا پسند نہ آیا ۔۔

آپو اسے کیوں ڈائٹ رہی ہے آپ

ایک تو جب دیکھو آپ غصے میں رہتی ہے

ہر کسی پر غصہ کرنا شاہد آپ کا مشغلا بن گیا ہے

۔۔برہان نے تو مذاق میں بات کی تھی

لیکن روحا کو ذرا پسند نہ آیا اس کا مذاق

تبھی ناراض ہوکر ہارون پلیس چلی گی ۔۔۔

————————————————————

آپو برہان کی طرف سے میں سوری کرتی ہو

آپ کو معلوم تو ہے وہ اچانک نکاح ہونے کی وجہ سے پریشان ہے اس نے جو کچھ کہا مذاق میں کہا ہے

اپ فکر نہ کرے

وہ امریکہ نہیں جاے گا ۔

ہانی نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

روحا ناراض ہو کر گھر آ گی تھی

تبھی ہانی کو اس کے پیچھے آنا پڑا

روحا کو منانے کے لے۔

روحا ہانی کی بات پر خاموش ہو گی ۔۔

چلے واپس چلتے ہے

ہانی نے زبردستی لے جاتے ہوے کہا ۔۔

روحا پھر کچھ نہ بولی ۔۔

وہ جب ہارون پلیس آی ۔

اس نے ہارون کو بتایا نہیں تھا

اب واپس جانا ہی اسے بہتر لگا ۔

وہ ہانی کے ساتھ جانے کو تیار ہو گی ۔۔

ہانی تم جاکر گاڑی میں بیٹھو

میں آتی ہو ۔

روحا نے واش روم کر طرف جاتے ہوے کہا ۔۔

اوکے آپو ۔۔

ہانی باہر چلی گی ۔۔۔

————————————————————

زیان جو ہارون سے ملنے کے لیے آرہا تھا

۔اچانک ہانی پر نظر پری تو وہ روک گیا ۔۔۔

کیونکہ وہ فون پر کسی سے بات کر رہی تھی ۔۔۔

او جانو بات سن ۔۔

ہانی نے علیزے کو فون پر کہا ۔۔۔

ہانی کے پیچھے ہی زیان کھڑا اس کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔

جانو آج شام پانج بجے مجھے رسٹٶرنٹ میں مل

میں نے تجھے فوجی سے ملوانا ہے ۔۔

(بابر نے کل رات برہان کے ساتھ علیزے کے بارے سب باتیں شئر کرلی تھی ۔۔

برہان اور ہانی نے یہ پلان بنایا تھا ۔

کہ ان دونوں کی ملاقات کروادی جاے

کیونکہ بابر جلدی شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔)

ارے حنین

کیوں مجھے میرے گھر والوں سے مروانا چاہتی ہو ۔تمھیں پتہ ہے یہ نامکمن ہے ۔

علیزے نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔

اف جانو

اتنی جلدی نہ گھبرایا کرو

تم تو میری جان ہو میں ہو تو کس بات کی ٹینشن ۔

ہانی نے ہنستے ہوے کہا ۔۔

زیان یہ سب سن چکا تھا ۔

اسے ہانی کی باتیں سن کر اندازہ ہوا

کہ وہ کسی لڑکے سے ملنے جارہی ہے ۔

زیان نے ہانی کو افسوس سے دیکھا

اور ایک فیصلہ کرلیا

ہانی کی عقل ٹھکانے لگانے کا ۔۔۔

————————————————————

یہ ہانی ابھی تک آئی کیوں نہیں

۔بابر نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوے کہا ۔

جب سامنے سے ہانی آتی ہوی نظر آئی ۔

بلیک برقعے میں آنکھوں پر چشمشا لگاے علیزے سے بات کرتے ہوے ہانی بابر کی طرف آرہی تھی

(ہانی نے بابر کو بتایا تھا

وہ برقعے میں ہو گی ۔

ہانی روحا دونوں گھر سے باہر یا کالج یونی جاتے ہوے ہمیشہ پردہ کرتی تھی ۔)

السلام و علیکم فوجی ۔

ہانی نے کرسی پر بیٹھتے ہوے کہا ۔

وعلیکم السلام

آپ نے اتنی دیر کردی آنے میں

اور علیزے کہاں ہے

بابر نے علیزے کو تلاش کرتے ہوے پوچھا ۔۔

ارے فوجی صبر کریں وہ آرہی ہے ۔۔

چلو جوس پی لو تب تک ۔

بابر نے ہانی کو جوس کا گلاس پکڑاتے ہوے کہا

جیسے ہی ہانی نے گلاس کو ہاتھ لگایا

وہ بابر کے ہاتھ کے ساتھ ایسے اٹیچ ہوا ۔

جسے دور سے دیکھنے والا کوئی غلط مطلب لے سکتا تھا۔یہ سب زیان دیکھ چکا تھا ۔

۔تبھی ہانی کی طرف غصے سے آیا ۔۔۔

سوری ہانی

بابر نے شرمندہ ہوتے ہوے کہا ۔۔

کوی بات نہیں فوجی ہو جاتا ہے

ہانی نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

————————————————————

آوارہ

بد چلن لڑکی

اپنے یار سے ملنے آگی

بنا ماں باپ کی عزت کا خیال کیے یہاں بیھٹی اس کیمنے کے ساتھ رنگ رالیاں منارہی ہو

تم جیسی لڑکیوں سے نفرت ہے مجھے

جنھیں اپنی عزت کا کوی خیال نہیں

دوسرں کے گلے کا ہار بنتی ہے

کچھ شرم کر لو لڑکی

منہ کالا کرتے وقت اپنے ماں باپ کا تو خیال کرلیتی ۔۔

زیان نے ہانی کو بازو سے پکڑکر

غصہ اور افسوس نفرت سے کہا ۔۔

بابر ہانی زیان کو دیکھ کر حیران ہوے تھے اس سے پہلے وہ دونوں کچھ پوچھتے جب زیان نے اپنا غصے ہانی پر نکالنا شروع کر دیا

اسے خود سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کہہ کیا رہا ۔ہے۔۔

چٹاخ چٹاخ چٹاخ چٹاخ۔۔

ہانی نے بنا کسی بات کے پرواہ کیے زیان کے منہ پر لگاتا تھپر مار دیے ۔۔۔

تمھاری ہمیت کیسے ہوی یہ ساری بکواس کرنے کی سمجھتے کیا ہو تم ہم لڑکیوں کو

۔ہاں بتاو زرا

سب کو ایک جیسا کیوں سمجھ رکھا ہے ۔۔

تم نے

اگر کوئی لڑکا لڑکی ساتھ ہو تم جیسے چھوٹی سوچ کے مالک پاک رشتے کو غلط نام دے دیتے ہو۔

نفرت ہے مجھے ایسے لوگوں سے

خاص کر پولیس والوں سے

خود تو گھٹیا ہوتے ہی ہے

اور دوسرں کو بھی اپنے جیسا سمجھتے ہے۔۔۔

اگر تمہیں

ہم سب لڑکیاں ایک جیسی لگتی ہے

تو اپنی بہن کے بارے میں کیاخیال ہے

وہ بھی پھر دوسروں کی طرح سب کو پنسھاتی ہوگی آوارہ ہو گی بدچلن ہوگی

آخر وہ بھی تو لڑکی ہے ۔۔

ہانی نے زیان کے کالر کو ہاتھ میں زور سے پکڑتے ہوے غصے نفرت سے کہا ۔۔۔

بکواس بند کرو

میری بہن کو اپنے جیسا مت سمجنھا

وہ کسی کی طرف دیکھتی بھی نہیں ۔

۔اور کیا کہا

گھٹیا انسان ۔

گھٹیا پن تو تم نے دیکھا نہیں میرا

تو مس حنین مہر

تیار رہنا میرے بدلے کے لیے

اور گھٹیا پن دیکھنے کے لیے ۔۔

زیان اتنا کہہ کر غصے سے چلا گیا

—————————————–

ہانی کیا ہوا یہاں ۔

علیزے نے آتےہی ہانی سے پریشان ہو کر پوچھا

کیوں کے اس نے زیان کو جاتے ہوے دیکھ لیا تھا

کچھ نہیں علیزے

تم فوجی سے بات کرو ۔

میں باہر تم لوگوں کا ویٹ کرتی ہو

۔ہانی نے سنجیدگی سے کہا۔۔

نہیں ہانی آپ کہیں نہیں جاۓ گی

۔ہمارے ساتھ رہے

بابر نے ہانی کو روکتے ہوےسنجیدگی سے کہا ۔۔

لیکن ہانی علیزے بابر کو اکیلا چھوڑ کر چلی گی ۔۔۔

—————————————————–

علیزے آپ ریلیکس ہو جاے پہلے

میں پھر بات کرتا ہو ۔

بابر نے علیزے کودیکھ کر کہا

جوبہت کنفیوز ہورہی تھی

علیزے نے بابر کی بات کا کوئ جواب نہ دیا ۔۔

علیزے آپ مجھے پہلی نظر میں ہی پسند اگی تھی میں اپ سے شادی کرنا چاہتا ہو ۔

کیا میں اپنے والدین کواپ کے گھر بھیج سکتا ہو

۔بابر نے جلدی سے دوٹوک بات کرنا ہی بہتر سمجھا

کیوں کے اسے گھما کر بات کرنے کی عادت نہ تھی

بابر کی بات پر علیزے گھبرا گی

اور فورًا اس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔

علیزے کافی دیر تک خاموش بیٹھی رہی پھر ہمیت کر کے بولی

بابر اپ گھر رشتہ بھیج تو دے

پر اس میں میرا نام نہیں آنا چاہیے

علیزے نے دو ٹوک بات کی

(علیزے بھی بابر کو پہلی نظر سے پسند کرنے لگی تھی وہ بابر کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی دیکھ چکی تھی ۔)

میں سب سنبھال لو گا اپ فکر نہ کرے

بس اتنا بتاے آپ مجھ سے شادی کرے گی ۔۔

بابر نے گھبراتے ہوے علیزےسے پوچھا ۔۔

کہ کہیں علیزے انکار نہ کر دے ۔۔۔

اگر یہ میرا نصیب ہے

تو مجھے میرا یہ نصیب قبول ہے ۔۔

علیزے نے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔۔

بابر علیزے کے جواب پر بہت خوش ہوا ۔۔

—————————————————–

میں گھر چلی جاتی ہو

ان دونوں کی باتیں لگتا ختم نہیں ہونی آج۔۔

اور ایک یہ میرا دل

پتہ نہیں کیوں آج اتنا گھبرا رہا ہے

۔ہانی نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوے سوچا

اور گھر کی طرف چلی گی ۔۔۔

—————————————————-

ایکسیوزمی

آپ حنین ہے ۔

ایک آدمی نے ہانی کے پاس آکر پوچھا ۔۔

نہیں میں اصغری ہو

۔ہانی نے تحمل سے جواب دیا ۔

کیونکہ وہ سمجھی تھی

فضول میں اس سے یہ سوال کیا گیا ہے

اسے یہ بھی سمجھ نہ آیا

کہ اس آدمی نے اس کا اصلی نام ہی لیا ہے

آدمی ہانی کے جواب پر گھبراگیا

کہ شاید وہ کسی غلط لڑکی کے پاس ا گیا ہے

۔اس لے فورًا چلا گیا ۔۔۔

ہانی نے ابھی قدم اٹھاے ہی تھے

کہ پیچھے سے کچھ لوگوں نے اس کو پکڑ لیا ۔

۔ اور رومال اس کی ناک پر رکھ دیا

ہانی نے بہت ہاتھ پاوں مارے لیکن ان پر کوی اثر نہ ہوا اور جلد ہی ہوش سے بیگانہ ہو گی ۔

—————————————————–

ارے یہ ہانی کدھر چلی گی

وہ کہہ رہی تھی باہر ویٹ کرے گی ۔

بابرنے باہر آتے ہانی کو تلاش کرتے ہوے پوچھا۔۔

وہ ہانی کا میسج ایا تھا وہ گھر چلی گی ہے ۔

عیلزے نے جواب دیا

۔پھر وہ دونوں بھی گھر کی طرف چلے گے۔

—————————————————–

یہ میں کہاں ہو

کس میں اتنی ہمیت ہوی

مجھے باندھنے کی اغواہ کرنے کی

ہانی نے خود کو جب باندھے ہوے دیکھا

تو غصے سے چلانے لگی ۔۔

کمرہ تو خوبصورت ہے

ہاے یہ بیڈکتنا پیارا ہے

دیکھ کر ہی نیند انے لگی ہے ۔۔

ہانی کمرے کو دیکھ کر اتنی خوش ہوی

وہ بھول ہی گی کہ اس وقت وہ کہا ہے

۔(ہانی نے اپنی حرکتوں سے باز نہ انے کی قسم کھای ہوی تھی شاید ).

—————————————————–

تم ۔

۔گھٹیا انسان تم یہاں

میں سمجھ گی

یہ تم نے مجھے اغواہ کیا ہے نہ

۔ہانی نے زیان کو دیکھ کر غصہ سے کہا ۔۔۔

زیان ہانی کی آواز سن کرسمجھ گیا تھا وہ ہوش میں اگی ہے ۔۔

تبھی کمرے میں آگیا

اسے کمرے میں آتا دیکھ کر ہانی سب سمجھ گی تھی۔۔بکواس بند کرو

یہ گھیٹا پن تم اب دیکھو گی

میرا

زیان نے ہانی کی رسیوں کو کھولتے ہوے کہا ۔۔۔

ہانی کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا ۔۔۔

اس کے ماتھے پر پسنیے کے قطرے نمودار ہوے دیکھ کر زیان مسکرانے لگا ۔۔۔

او زرافے

تم نے مجھے اغواہ کیوں کروایا۔۔

کیا تکلیف تمیں گھٹیا انسان ۔۔

چٹاخ ۔۔۔

زیان نے ہانی کے زور سے تھپڑ مارا وہ زمین پر جا گری ۔۔میں نے عورت پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا

آج تم نے مجھے مجبور کردیا اس حرکت پر

۔زیان نے ہانی کے بالوں کو زور سے پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔

(ہانی کی آنکھوں میں آنسو اگے تھے ۔وہ کہاں عادی تھی مار کی اسے آج تک کسی نے اونچی آواز میں نہیں ڈانٹا بھی نہ تھا ).

چھوڑو مجھے گٹھیا آنسان

۔ہانی نے زیان کو دھکا مارتے ہوے کہا ۔۔

اور بھاگنے لگی

۔لیکن اس کا بھاگنا بیکار گیا

کیونکہ دروازہ بند تھا ۔۔۔

رسی جل گی پر بل نہ گیا ۔۔

زیان نے طنزیہ مسکراتے ہوے کہا ۔۔

ہانی کی آنکھوں سے آنسو نکل اے ۔

زیان ان آنسو کو دیکھ کر کچھ دیر کے لیے ان گہری آنکھوں میں ڈوب ساگیا ۔۔۔

مجھے چھوڑ دو ۔

ہانی نے آنسو صاف کرتے ہوے کہا

۔(ہانی کبھی نہ ہار مانتی اگر بات عزت کی نہ ہوتی

۔کوی بھی لڑکی اپنی عزت بچانے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے ۔اس لیے ہانی نے زیان سے التجا کرنا ہی بہتر سمجھا )..

نہ نہ چشمش

۔ابھی تو تم نے میرا گھٹیا پن اور بغیرتی نہیں دیکھی ۔زیان نے کسی کو فون ملاتے ہوے کہا ۔۔

———————————————————–

آجاو ۔۔۔

جب دروازے پر دستک ہوی

زیان نے دروازہ کھولا سامنے کھڑے نوجوان کو دیکھ کر اندر آنے کا کہا ۔۔

ہانی اس لڑکے کو اندر آتے دیکھ کر گھبرا گی اور فورًا سب سمجھ گی ۔۔

زیان میرے ساتھ یہ سب نہ کرو

مجھے معاف کر دو دیکھو میں ہاتھ جورتی ہو تم سے معافی مانگتی ہو بلکہ تم مجھے چاہیے جتنے مرضی تھپر مار لو میں اف بھی نہیں کرو گی

۔لیکن میری عزت کا مان رکھ لو پلیز ۔

ہانی نے زیان کے سامنے ہاتھ جورتے ہوے کہا ۔

زیان پر ہانی کی بات کا کوی اثر نہیں ہوا ۔۔

جب مرد کی انا اور ضد پر بات آجاے تو غصہ دماغ پر سوار ہوجاتا ہے

وہ کسی کی نہیں سنتا پھر

اس وقت زیان بھی ہانی کی کوی بات سنے بغیر چلا گیا ۔۔۔

——————————

جیسا کہا ہے

ویسا کرنا ہے

۔اسے ہاتھ بھی نہیں لگانا صرف ڈرانا ہے

اگر تم نے ہاتھ بھی لگایا

تو زندہ نہیں چھوڑوگا ۔

زیان نے اس نوجوان کو اندر بیجھتے ہوے کہا ۔۔۔

————————————-

ہاے جان

من کتنی خوبصورت ہو تم

۔کون اپنے سامنے اتنا خوبصورت مال دیکھ کر قابو رکھ سکے گا خود پر ۔۔

نوجوان نے ہانی کے پاس آتے غلیظ نگاہوں سے بکواس کی ۔۔

دیکھو بھائی

مجھے چھوڑ دو

پلیز

ہانی التجا

کرنے لگی ۔۔

————————————————————

یہ اتنا ٹائم ہوگیا

ہانی ابھی تک ائی کیوں نہیں

برہان نے پریشان ہوتے ہوے کہا ۔

علیزے نے برہان کو مسج پر بتا دیا تھا

ہانی گھر ا رہی ہے ۔

یااللہ

میری بیٹی کی حفاظت کرنا

جہاں بھی وہ ہو ۔

مہر صاحب نے پریشان ہوتے ہوے دعا کی ۔

ان کا دل بہت گھبرارہا تھا ۔

لیکن انھوں نے اپنی حالت سب پر ظاہر نہ کی ۔۔

آجاے یہ لڑکی اسے میں اج چھورو گی نہیں

کب سدھرے گی یہ

عقل تو ہے ہی نہیں اسے

فون بھی بند ہے

آج آ جاے بس چھورو گی

نہیں

سارا قصور تم تینوں کا ہے

نہ کچھ خود کہتے نہ مجھے کہنے دتیے ہو ۔۔

تنزیلہ نے غصے کرتے ہوے برہان مہر روحا کو سنایا ۔۔۔

مامابس کر دے

ہر وقت اس کے پیچھے پری رہتی ہے آپ

یہاں ہم سب اس کے لیے پریشان ہے

اور اپ کچھ بھی بولی جارہی ہے اسے ۔۔

برہان نے افسوس سے تنزیلہ بیگم کو یکھ کر غصے سے کہا ۔۔

بابا میرا دل پھٹ جاے گا

مجھے سکون نہیں آ رہا

میری بہن کسی مصیبت میں ہے ۔

کچھ کریں بابا

برہان نےپریشانی سنجیدگی سے مہر صاحب کو کہا ۔۔

مہر صاحب برہان کی بات پر اور پریشان ہو گے

کیوں کہ ہانی کو جب بھی کچھ ہوتا تھا کسی بھی مصیبت یا پریشانی میں وہ ہوتی تھی برہان بے سکون ہوجاتا تھا اس کی یہ ہی حالت ہوتی تھی جو اب ہورہی تھی

ہانی کے متعلق برہان کی کہی ہوئی بات کھبی غلط نہیں ثابت ہوئی تھی

اللہ میری بہن کی حفاظت کرنا

برہان نے آنکھیں بند کرتے ہوے دعا کی

————————————————————

میں کہہ رہی ہو

میرے پاس نہیں آنا

پلیز ایسا نہ کرو

تمہیں تمھاری ماں بہن کا واسطہ ۔۔

ہانی نے روتے ہوے ہاتھ جوڑ کر کہا ۔۔

نوجوان پر ہوس سوار تھی

(جب کسی پر ہوس سوار ہوجاے تو اسے کسے اچھے برے کا خیال نہیں رہتا)

۔اس لیے نوجوان پر بھی کسی بات کا اثر نہ ہوا

۔اس نے ہانی کو بازو سے پکڑ کر اس کا برقعہ پھاڑ دیا ۔۔ برقعے کے بعد قمیض کا بازو پھاڑ دیا ۔۔۔

ہانی روتی رہی تھی چلارہی تھی

شاید اس ہوس کے بچاری نے کچھ نہ سنے کی قسم کھا رکھی تھی